منزلوں کی جو اگر خبر نہیں ہوتی ( غزل )

السلام علیکم
میری ایک غزل واہ واہ کلب کے اراکین اور حاضرین کی خدمت میں برائے نقد پیش ہے ۔
غزل
منزلوں کی جو اگر خبر نہیں ہوتی
تو انجان راہ، راہگزر نہیں ہوتی
گھر بنا لیتا جو میں کسی شہر میں
عمر یونہی پھر دربدر نہیں ہوتی
یوں اخلاقیات ناپید ہو گئی ہیں
خود اپنی بھی اکثر خبر نہیں ہوتی
تیرا احسان ہے تم مان رکھتے ہو
ذات میری گرچہ معتبر نہیں ہوتی
عمر پھر سے بن گئی ہے مشکل
کوئی صورت بھی کار گر نہیں ہوتی
پھر سے یہ خبر شہر میں گرداں ہے
بات کوئی بھی ہو، خبر نہیں ہوتی
فاصلے پھر بڑھا دئیے بے سبب
بات کیا ہے جو مان کر، نہیں ہوتی
عشق کے مدعی ہیں اب وہ لوگ
عشق تو ہے دیوانگی مگر نہیں ہوتی
کچھ عجب سا قحط الرجال پڑا ہے
کوئی ہستی بھی نامور نہیں ہوتی
کوئی سمجھتا تو میں بتاتا آصف
زندگی دشت کا سفر نہیں ہوتی
آصف احمد بھٹی

55 thoughts on “منزلوں کی جو اگر خبر نہیں ہوتی ( غزل )”

  1. السلام علیکم
    محترم صفدر ہمدانی صاحب ، ہمت افزائی کا بہت شکریہ ، یقینا میں اتنی جلدی ہارنے والوں میں سے نہیں ہوں مگر اب میں اپنی کوئی بھی شعری تخلیق تب ہی فورم کے اساتزہ کے سامنے پیش کرونگا کہ جب میری شاعری بحر و اوزان کی اغلاط سے کسی حد تک پاک ہوگی ، میں جانتا ہوں کوئی بھی کبھی مکمل نہیں ہوتا مگر بہتر تو ہو سکتا ہے سو جب اپنی شاعری سے خود مطمئن ہو جاؤں گا تب آپ احباب کی خدمت میں بھی پیش کر دونگا ، آپ یوں سمجھ لیں کہ میں اب بھی میدان مین ہی ہوں مگر اب میں نے اپنا انداز بدل لیا ہے ۔ دُعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
    آصف احمد بھٹی

  2. بھائ آصف احمد بھٹی سلامت رھیں منزلوں کی جو اگر خبر نیہں ھوتی ۔۔۔میں تو آپ کو دل کی گہرایئوں سے مبارک باد پیش کرتی ھوں مشق سخن جاری رکھیے۔ ۔ آپکے کلام پر تنقید کرنا نقاد کا کام ھے مگر میں تو اس بات پر بہت خوش ھوں کہ آپ میرے چھوٹے بھائ کی طرح ھیں ۔میرا بہت پیارا بھائ صفدررضا رضوی بھی آپ ھی کا ھم عمر ھے ۔ اس کی طرح آپ بھی بہت باھمت نوچوان ھیں۔ آپ بہت مدلل گفتگو کرتے ھیں۔۔ھم کو چاھیے کہ آپ جیسے نوجوانوں کی ھر طرح سے حوصلہ افزائ کریں اور یہ کام محترم صفدررضا ھمدانی صاحب بڑے احسنت طریقے سے کر رھے ھیں آپ اسی جوش جذتے سے لکھتے رھیے ۔۔ آپ ایک منظم انسان ھیں ،اپنے احساسات کو نظم کرتے رھیں۔انفرادی شعور اور شخصی احساسات اپنے داخلی اور خارجی مشا ھدے کو مسلسل رقم کرتے رھیں۔۔ آ پ پہلے نثر کی طرف توجہ دیں ساتھہ ساتھہ شاعری کی مشق بھی کریں واہ واہ کلب کے زیر اھتمام طرحی مشاعرے کی بنیاد بھی پڑھنی چاھیۓ اور آصف ـبھائ شاعری بھی کریں ۔۔ھم سب بہت خوش نصیب ھین کہ محترم صفدررضا صاحب بھی ھماری ھمت افزائ کرتے ھیںمحترم صفدررضا ھمدانی صاحب آپ کو اس کام کا اجر تو مالک دوجہاں عطا کریگا مدینہ العلم اور باب علم عطا کرینگے ۔عالمی اخبار زندہ باداللہ پاک آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین

  3. صفدر ھمٰدانی صاچب

    اُستاد ایک اور سنجیدہ ہونا چاہئے۔ عالمی اخبار کو استاد بنانے سے بہت سے قارئین کے اُستاد بنجانے کا خطرہ ہے جس سے بھٹی صاحب confuse ہوسکتے ہیں۔ دو ملاؤں کے بیچ مرغی حرام بھی ہوجاتی ہے، جان سے بھی جاتی ہے اور کھانے والے کو مزہ بھی نہیں آتا۔

  4. ظفر بھائی. میرا خیال ہے اگر میں غلط نہیں تو مرغی اور شاعری میں بہت فرق ہے. میں آپ کی تشویش کی تائید ضرور کرتا ہوں لیکن استاد تو ہوتا ہی سنجیدہ ہے اور جو غیر سنجیدہ ہو وہ استاد کہلا تو سکتا ہے استاد ہوتا نہیں. ایک عرض مودبانہ یہ بھی ہے کہ استاد کے لیئے 60 سال سے اوپر کا ہونا بھی ضروری ہے. یقین کریں کہ میں بہت سی چیزیں اپنے بچوں سے سیکھتا ہوں. عالمی اخبار میں ماشااللہ ایسے احباب بھی ہیں جنکا ادبی ذوق بھی کمال کا ہے،عروض سے بھی واقف ہیں اور شعر کہنے اور شعر لکھنے میں بھی فرق جانتے ہیں. یہ دراصل شاعر کی صوابدید ہے کہ وہ جس فرد کو بہت بہتر سمجھتا ہےاسے اسکی ذاتی میل پر بات کر کے اس سے سیکھ لے. عالمی اخبار تو فقط رابطہ ہے خود استاد نہیں. ویسے الحمد اللہ صحافت اور آن لائن صحافت میں کسی استاد سے کم نہیں. ویسے از راہ مزاح عرض کرؤں کہ اب ملاؤں کو حرام سے کوئی اجتناب نہیں بس مرغی ہو نی چاہیئے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *