السلام علیکم
شنید ہے کہ وفاقی وزیر قانون جناب بابر اعوان صاحب کو ستارہِ امتیاز دینے کا اعلان کیا گیا ہے ، آپ سب اِس بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ یہ تو کچھ یونہی ہے کہ !
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کرے ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
آصف احمد بھٹی

اس بلاگ کی تمہید میں میر کا شعر کچھ بے ربط اور بے موقعہ سا معلوم ہوتا ہے۔ “ مختاری کی تہمت “ کس نے مجبوروں پر لگائی ؟ اور “ہم کو عبث بدنام “ کس نے اور کس طرح کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔
اب رہا ستارہ امتیاز کے مستحق اور غیر مستحق ہونے کا سوال تو “ جس کو پیا چاہے وہی سہاگن کا معاملہ ہے “ ۔
۔۔۔۔۔۔۔
اگر اوباما کو صرف اس امید پر امن کا نوبل پرائز دیا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرے گا ۔ تو کیا بابر اعوان کو ستارہ امتیاز اسکے کارناموں پر نہیں بلکہ آنے والے کارناموں کی امید میں نہیں دینا چاہیے ؟
بات تو قاضی صاحب کی درست ہے کہ اگر امن کی امید پر اوباما کو نوبل انعام مل سکتا ہے کہ جس کے لیئے انعام پانے والے کا خود نوبل ہونا بھی ضروری ہے تو راولپنڈی والے اورقانون کی متنازعے ڈاکٹریٹ کی ڈگری والے بابر اعوان کو ستارہ امتیاز کیوں نہیں مل سکتا.
آپ بھائی بہن بھی بھولے بادشاہ ہیں.یہ وہ ستارہ امتیاز نہیں جو ڈاکٹر احمد حسن دانی،احمد ندیم قاسمی،سلیم الزمان صدیقی اور رضی الدین صدیقی جیسی عالم فاضل شخصیتوں کو ملا کرتا تھا.یہ تو وہ ستارہ ہے جو امتیاز برت کر دیا جاتا ہے جو امتیازی سلوک سے ملتا ہے.
ویسے مجھے تو 70 کے عشرے کے اواخر کا وہ بابر اعوان یاد ہے جو اسلام آباد ریڈیو پر میرے پاس پروگرام کیا کرتا تھا اور جسے بولنے کی مشق کرواتے ہوئے مجھ جیسے کہنہ مشق کا بھی سانس پھول جایا کرتا تھا. جو پیپلز پارٹی کا سخت مخالف تھا.پھر برسوں بعد جب 89 میں میں ریڈیو جاپان میں تھا تو اخباری خبروں سے معلوم ہوا کہ بابر اعوان پیپلز پارٹی کی طرف مائل ہے اور پھر ایک دن معلوم ہوا کہ وہ پیپلز پارٹی کی بدعنوانیوں کو حق با حق داد رسید ثابت کرنے کے لیئے انکے مقدمات لڑ رہا ہے اور پھر اس سفر میں اسے وزارت بھی مل گئی اور اب اگر یہ امتیازی ستارہ بھی مل رہا ہے تو ہمیں کیا. سچ تو یہ ہے کہ ہم ہیں شریف لوگ.ہمیں تو یہ ملنا نہیں تھا جو تکلیف ہو،ملنا آصف بھٹی،قاضی منظور.نگہت نسیم،ظفر جعفری اور نادیہ بخاری کو بھی نہپیں تھا. دراصل بابر اعوان نے یہ پڑھا ہوا ہے کہ…
بابر با عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست.
السلام علیکم
صفدر ہمدانی صاحب ، آپ کی بات درست ہے ، یقینا یہ کچھ یوں ہی ہے کہ ’’ لیلی را بہ چشم مجنوں باید دید ‘‘
ماموں کھپے نے جب فاروق ایچ نائیک کو سینیٹ کا چئیرمین بناکریہ پیغام دیا کہ میراجو جی چاہے گا میں کروں گا تو کسی نے اف تک نہ کی ،مشہوریہی ہے کہ ماموں کھپے یاروں کے یارہیں اوریاری خوب نبھاتےہیں اور بلاشک و شبہ یاری نبھارہے ہیں ۔۔۔ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔۔تکلیف ہے تو صرف اتنی کہ موصوف یاری نبھاتے نبھاتے پاکستان سے وفاداری کا سبق بھی فراموش کربیٹھے ہیں ۔۔بجلی ، چینی ، آٹا غائب ہونےپر کسی نے کہا کہ صدر صاحب نوٹس لیں تو جواب ملا یہ میراکام نہیں ہے، بابراعوان کی عزت افزائی سے معلوم ہواان کا اصل کام کیاہے،۔۔۔اصل میں ماموں کھپے اپنی عقل سوچ اور علم کے مطابق فیصلے کررہےہیں ، مودے رنگڑکوبادشاہ بنادیں گے تو وہ اپنے ساتھی جیرے بلیڈ کے لئے ہی سوچے گا، بلیڈ بھی سستے ہوں گے،لوگوں کو کھیسےکی جیبیں کھلی رکھنے کاحکم اور خفیہ جیبوں پر پابندی کی ہدایات جاری ہوں گی،اورپھرحکم ہوگا تھانے کچہرویوں میں جیرے بلیڈ کو الگ کرسی پربٹھایا جائے،آخرکو بلیڈماری بھی توایک فن ہے۔۔اورایسےفنکاروں کے فن کی قدرکرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔جو جس ماحول سے آئے گا اسی طرح سوچےگا، عمل کرےگا۔۔۔
واہ بھی واہ ناصر زیدی۔کمال کر دیا۔ واہ واہ کلب کی طرف سے بہت واہ واہ قبول کرو جی۔ اسی کو تو انشائیہ کہتے ہیں۔ دو پیرا گراف اور ڈالو اور بھیج دو اپنا پہلا انشائیہ عالمی اخبار کے لیئے زرقا مفتی صاحبہ کو یا ڈاکٹر نگہت صاحبہ کو۔۔۔۔کیا خوب کہا ہے۔۔۔۔۔۔اورپھرحکم ہوگا تھانے کچہرویوں میں جیرے بلیڈ کو الگ کرسی پربٹھایا جائے،آخرکو بلیڈماری بھی توایک فن ہے۔۔۔۔۔اسی کو تو کہتے ہیں
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز بہ باز
birds of feather
flock together
ایاز، قدرِ خود بشناخت
یہ جملہ وہاں لکھا جاتا ہے جہاں یہ کہنا مقصود ہو کہ میں اپنی حیثیت کو سمجھتا ہوں. اگر یہ چملہ آپ نے اپنی کم مائیگی کا اظہار کرنے کے لئے خاکساری میں لکھا ہے تو میں کہوںگا گا کہ ارے میرے محمود نما ایاز. کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنی صلاحیتوں کا اندازہ نہیں ہوتا بلکہ دوسروں پر اس کے جوہر کھلتے ہیں. اور اگر آپ کی مراد کسی سیاسی ایاز سے ہے تو بھائی ایاز تو اٹھ گئے اب تو ہر کوئی محمود ہے
السلام علیکم
محمد ناصر زیدی صاحب ، میں آپ کی ہر ہر بات سے اتفاق کرتا ہوں ، یقینا مودا رنگڑ تو جیرے بلیڈ اور پپو ڈھگ کو ہی نوازے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم امین ترمذی صاحب ،
ایاز ، بمرادِ ’’ پاکستانی قوم ‘‘ اور میں اپنی قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ برائے مہربانی اپنی قدر خود پہچانوں ، اور اِن مودے رنگڑوں اور جیرے بلیڈوں سے اپنے قومی اعزازات بچاؤں ورنہ کل ممکن ہے کوئی سچ مچ کا صاحب علم یہ اعزاز لینے سے صرف اِس لیے انکار نہ کر دے کہ وہ جیرے بلیڈوں کی صف میں کھڑا ہونا پسند نہیں کرتا ۔
آصف احمد بھٹی
صفدرہمدانی صاحب، آصف بھٹی صاحب اور دیگر احباب کا لفظوں کو پذیرائی بخشنے کا شکریہ۔۔۔
میں اس پیراگراف میں مزید چندلائنوں کا اضافہ کرکے ابھی ڈاکٹر صاحبہ کو بھیج رہا ہوں ۔۔۔
ویسے جناب بابر اعوان جس خوبی سے بات کو گول مول کرنے کے فن پر قادر ہیں اور حکومتی حلقے کی بد فعلیوں کا جس خوبی سے دفاع کرتے ہیں یہ تو ان کا حق بنتا ہے.