قابل اجمیری مرحوم اردو ادب کا ایک معروف نام ہیں، جنکے بیسیوں اشعار و غزلیں زبان زد عام ہیں۔ انکے فرزند جناب ظفر قابل نے انکی ایک ای بک ( برقی کتاب) جناب منظور قاضی صاحب کو بھجوائی ہے۔ انکی خواہش پر اس کتاب کے کے دو صفحات قارئین کی نظر ہیں۔ موقع ملا تو انشاء اللہ اس کتاب سے مزید کلام بھی پیش خدمت کیا جائے گا۔



شکریہ ظفر قابل صاحب کہ آپ نے اس بلاگ کو اپنے مرحوم والد قابل کی شاعری کا خزانہ بنا دیا .
اس بلاگ کو میں ہمیشہ ہمیشہ اپنے پاس محفوظ رکھونگا اور اس کوپڑھتا رہونگا اور اسکی غزلیات کو سنتا رہونگا.
قابل اجمیری کی شاعری بلند پایہ شعرا کے معیار کی تھی .
اللہ اسے کروٹ کووٹ جنت نصیب کرے اور اس کے بیٹے ظفر قابل کو اپنے مرحوم ماںباپ کی روحوں کو خوش رکھنے کی سعادت عطا کرتا رہے. آمین
آخر میں جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا دلی شکریہ کہ انہوں نے قابل کا یہ بلاگ شایع کیا.
فقط
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
محترم ظفر جعفری کی نذر
غیر مدون کلام
سر جھکاتے نہیں کٹاتے ہیں
حق کا رستہ ہمیں دکھاتے ہیں
یہ ہے احسان آل احمد کا
کہ لہو سے دیے جلاتے ہیں
ایسے مرنے کی. کی ہمیں تلقین
ایسے جینا ہمیں سکھاتے ہیں
لاش اکبر، اکیلے مقتل میں
کتنی ہمت سے شہ اٹھاتے ہیں
کربلا والے پھر ہمیں قابل
اپنی دہلیز پر بلاتے ہیں
………………………..
یہ کربلا ہے یہاں سو رہے ہیں اہل حرم
یہاں نبی کے دلارے قیام کرتے ہیں
یہ سرزمین درخشاں ہے آج بھی قابل
یہاں یہ چاند ستارے قیام کرتے ہیں
میں محترم منظور قاضی صاحب کا ممنون ہوں جن کی ایما پر یہ بلاگ شروع ہوا اور محترم ظفر جعفری صاحب نے نہایت محبت سے اپنے تبصروں اور معلومات سے نوازا محترم مصباح حسین جیلا نی محترم صفدر ہمدانی .محترم امین ترمزی اور محترمہ نگہت نسیم کی شرکت نے اس بلاگ کو مذید معتبر کر دی
.
انٹرنیٹ پر اس سے پہلے بھی مواد تھا مگر اتنا یک جان نہیں ہو سکا تھا میری ایک عرصے سے خواہشش تھی اور میں نے تھوڑا بہت کام کیا بھی تھا فیس بک پر مگر اس بلاگ میں آپ سب کی بدولت ایک قابل نمبر شائع ہو گیا ہے
یہ کربلا ہے یہاں سو رہے ہیں اہل حرم
یہاں نبی کے دلارے قیام کرتے ہیں
یہ سرزمین درخشاں ہے آج بھی قابل
یہاں یہ چاند ستارے قیام کرتے ہیں
واہ واہ واہ.سبحان اللہ.جزاک اللہ.مولائے کائنات مرحوم کو جوار سید الشہدا میں جگہ دیں.آمین
ظفر قابل صاحب : میرے پسندیدہ مرحوم شاعر قابل کے سعادت مند بیٹے ،
یہ عالمی اخبار ( جس کے روح روان صفدر ھمدانی صاحب ہٰں اور جس ک معاونین میں ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اور سید مصباح حسین جیلانی صاحب اور زرقا مفتی صاحبہ اور شیخ امجد صاحب شامل ہیں )، کا طفیل ہے کہ انہوں نے اللہ کی مہربانی سے مجھے اس اخبار میں قابل اجمری اور اسی کے رتبے کی چند شعرا پر بلاگ لکھنے کا موقعہ عطا کیا . (” وگرننہ من کہ اک خاکم کہ ہستم”)
تمھارا شکریہ کہ تم نے اس بلاگ کو کئی ماہ بعد عالمی اخبار کے ذخیرے سے ڈھونڈ نکالا اور اپنےوالد مرحوم کی کتاب اس میں اشاعت کے لیے مجھے روانہ کیا .
اللہ بھلا کرے سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا کہ انہوں نے اپنی محنت اور فنی مہارت سے اس بلاگ کو شروع کیا اور اسکی نطامت کی ذمہ داری لی.
تم ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہو کہ تم نے اس بلاگ کو اپنے والد کے مطبوعہ اور غیر مدون کلام کو اور انکے ساتھ ساتھ ویڈیو پروگراموں کو شامل کرکے اس بلا گ کی افادیت میں اضافہ کیا ..
ایک بات کہنا |ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ بلاگ اس وقت تک نامکمل رہےگا جب تک اس میں قابل اجمیری مرحوم اور ظفر قابل صاحب کی تصاویر نہیں ہونگیں. ( اگر طفر قابل کی تصویر اپنے ماں باپ کے ساتھ ہو تو ہم انکی والدہ مر|حومہ کی تصویر کو بھی دیکھ سکینگے جنھوں نے قابل کی تیمار داری بھی کی اور ہمت افزائی بھی کی ).ا
ااگر قابل اجمیری مرحوم کے مشاعر ے کی بھی کوئی گروپ تصویر اس بلاگ میں شایع ہوجائے تو اس بلاگ کو چار چاند لگ جائینگے.
فقط:
اچھی اردو شاعری کا شیدائی
منظور قاضی
جرمنی سے
اگرچیکہ سید مصباح حسین جیلانی صاحب نے میرے سابقہ بلاگ کی لنک اس بلاگ کے شروع میں شایع کردی ہے مگر تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را کی خاطر میں اس بلاگ کو دوبارہ یہاں پیش کررہا ہوں:
سابقہ بلاگ کے لیئے یہاں کلک کریں۔
اگر یہ کلنک کام نہ کرے تو اسے اس بلاگ کی پہلی ویڈیو کے نیچے دیکھ لیں اور اس پر کلک کریں .وہاں ضرور کھل جائے گی .
فقط
منظور قاضی
جرمنی سے
قارئین سے گذارش ہے کہ میرے اوپر کی لکھی ہوئی لنک دیکھنا ہو تو مندرجہ ذیل لنک کو کلک کریں:
http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=348#comments
شکریہ
منطؤر قاضی
میں اپنے مارچ 2009 کے بلاگ میں یہ لکھا ہوں مگر مجھے اسکی تصدیق ظفر قابل صاحب سے چاہیئے :
سنا جاتا ہے کہ یہ غزل قابل کی آخری غزل ہے:
کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں
زندگی آج ترا قرض چکا دیتے ہیں
تیرے اخلاص کے افسوں ترے وعدوں کے طلسم
ٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزا دیتے ہیں
ہاں یہی خاک بسر سوختہ ساماں اے دوست
تیرے قدموں میں ستاروں کو جھکا دیتے ہیں
سینہ چاکان محبت کو خبر ہے کہ نہیں
شہر خوبا ں کے درو بام صدا دیتے ہیں
ہم نے اس کے لب و رخسار کو چھو کر دیکھا
حوصلے آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں
…….
فقط:
منظور قاضی
از
میونخ جرمنی
اگر یہ غزل قابل مرحوم کی آخری غزل نہیں ہے تو پھر اسکی آخری غزل کون سی تھی؟
آج مجھے جناب توصیف چغتائی صاحب کا مضمون پڑھنے کا موقعہ ملا جس میں انہوں نے بیگم قابل اجمیری سے ملاقات کا حال اور ان سےانٹرویو کا حال بھی لکھا تھا۔ ( یہ انٹرویو جنگ اخبا ر 1967 میں شایع ہوا تھا اور جو “طالبِ علم ڈائجسٹ ۔ قابل نمبر فروری 1970 میں بھی شایع کیا ) ۔
اس مضمون کے اقتباسات پیش کرتا ہوں اس امید کہ ساتھ کہ ظفر قابل صاحب اس پر نظر ثانی کرکے اپنے خیالات کا اظہار کرینگے: ( اقتباسات کو پڑھنے میں آسانی کےلیے میں نے انہہیں چھوٹے چھوٹے پیراگرافوں میں نمبر دے کر لکھا ہے ):
توصیف چغتائی صاحب لکھتےہیں :
بقول بیگم قابل :
1۔ قابل صاحب سے انکی ملاقات کوئٹہ کے ریلوے سینی ٹوریم میں 1960 میں ہوئی تھی۔ او ر جب انہوں نے محسوس کیا کہ شاعر یاس و آس کا شکار ہے اور اسکے حالات نازک ترین ہیں ۔تب انہوں نے شاعر کو موت کے منہ سے بچانے کا پورا عزم کرلیا اور دن رات اسکی صحت یابی کے لیے کوشش کرتی رہیں۔۔
2۔ میں نے محسوس کیا کہ قابل بےحد دکھی انسان ہیں، ایسے دکھی جن کے پاس غم اور فکرِ دوراںکے علاوہ کچھ نہیں ، اسی لیے میں نے سوچا کہ شاید میرا سہارا ان کی مایوس زندگی میں نئے خواب بکھیر دے۔ چنانچہ میں نے ان سے شادی کرلی ۔۔۔۔ اور ہم لوگ کوئٹہ سےحیدرآباد ( سندھ ) چلے آئے ۔۔۔۔۔
3۔ اسی عرصے میں ہمارے یہاں ایک بچہ ہوا جس کا نام قابل صاحب نے روشن ضمیر رکھا جو اب تقریباً چھ سال کا ہے اور حیدرآباد میں زیرِ تعلیم ہے۔۔۔۔۔
4۔ اور اب میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ میرا بچہ جو میرے محبوب شاعر کا بچہ ہے، بڑا ہوکر زندگی کے ان حالات کو شکست دے جنہوں نے اس کے باپ کو شکست دی تھی ۔۔۔ اور بس“
5۔ آپ کو کیا سناوں : مجھے تو ان کا سارا کلام زبانی یاد ہے ۔پھر بھی ان کے یہ شعر مجھے خوبصورت لگتے ہیں:
جنم جنم کے اندھیروں کو دے رہا ہے شکست
وہ اک چراغ کہ ا پنے لہو سے روشن ہے
۔۔۔
اے آفتاب ِ صبحِ بہاراں سلام کر
دیوانے آرہے ہیں شبِ غم گذار کے
۔۔۔
پم بدلتےہیں رُ خ ہواوں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
۔۔۔
نہ گھبراو تم ہجر کی تیرگی سے
سحر بھی نمودار ہوگی اسی سے
۔۔۔۔
6۔ قابل اجمیری کا نام عبد الرحیم تھا ۔ اجمیر شریف میں 1931میں پیدا ہوئے۔ قابل تخلص رکھا اور تپِ دق میں مبتلا رہے۔
7۔ قابل صاحب کو میں نے گھر پر ہی رکھا تھا ۔ اور اب وہ پہلے کی نسبت اچھے ہوتے جارہے تھے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ ہمارے بچے کہ پہلی سالگرہ تھی ۔ میں خوش تھی ، وہ بھی خوش تھے۔ لیکن اچانک انہوں نےخون تھوکا۔ میں گھبرا کر ہسپتال کی جانب دوڑی اور ایمبولنس کے لیے کہ آئی ۔
8۔ لیکن جب گھر پہنچی تو ان کی حالت نازک تھی ۔ میں نے فورا ان کےدوستوں کی مدد سے انہیں اسپتال پہچانا چاہا ۔
9۔ جلدی جلدی میں ہم لوگ انہیں لے کر اسپتال کی جانب بڑھے ۔ لیکن میرا دل بیٹھا جارہا تھا۔ ۔مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے لوگ ضرورت سے زیادہ گھبرائے ہوئے ہیں اور قابل صاحب کہیں ان کےہاتھوں سے گر نہ جائیں۔
10۔ اور چند لمحوں بعد یوں ہی ہوا ۔ قابل ان لوگوں سے سنبھل نہ سکے اور زمین پر آرہے۔ خون کافی مقدار میںپہلے ہی بہ چکا تھا۔
11۔ یہ دیکھ کر میری چیخ نکل گئی ۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور دھیمی آواز میں پکارا۔۔
12ِ اور پھر انکا سر دوسری جانب ڈھلک گیا ۔
13 ۔ یہ شاعر کی موت تھی ، ایک ایسے شاعر کی موت جس نے وطن کے گیت ا لاپے ، حالات سے جہاد کیا، ناکامیوں کو کچلنے کی کوشش کی ، اور ہر لمحہ نئے حوصلے ، نیے جنون سے جینا چاہا ۔
14۔ لیکن حالات کے ہوتھوں فنکار شکست کھا گیا ۔
15 ۔ اور یوں قابل اجمیری جیسا شاعر ہم لوگوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روٹھ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
توصیف چغتائی فرماتے ہیں :
قابل اجمیری کی بیگم کا نام نرگس ہے ۔ وہ پہلے عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی تھیں اور شادی سے پہلے انہوں نے مذہب اسلام اختیار کیا۔ یہ انکی علم دوستی اور انسانی عظمت کی ایک ٹھوس دلیل ہے۔ ادارہ ء یادگار قابل حیدرآباد نے قابل اجمیری کے دو شعری مجموعے “ خونِ رگ جاں“ اور “ دیدہ ء بیدار “ انکی بیگم کے مالی تعاون سے شایع کیے۔
۔۔۔۔۔
توصیف چغتائی صاحب کے اس مضمون میں انکے مزید کچھ تاثرات موجود ہیں ۔
طوالت کے خوف سے میں اپنے اس تبصرےکو یہیں ختم کرتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس تبصرے کے پڑھنے والے اب ظفر قابل صاحب سے ہی انکی اپنی زندگی کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں ۔
مجھےایک ٹیلیفونی بات کے دوران ظفر قابل صاحب نے فرمایا تھا کہ :
انکی والدہ چند سال قبل اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے چلی گئیں
طفر قابل ( روشن ضمیر صاحب ) کی ماشا اللہ ایک بچی ( تقریباً تین سال ) ہے جس کا نام انہوں نے شانزے رکھا ہے
۔۔۔
اب میں ظفر قابل صاحب کے سپرد یہ تبصرہ کرتا ہوں ۔اگر وہ چاہیں تو اس بلاگ میں مزید کچھ لکھیں۔
فقط:
ظفر قابل صاحب کو دلی دعاوں کے ساتھ
منظور قاضی
میونخ جرمنی کی ایک قریبی بستی سے
واہ ظفر قابل صاحب
آپکے والد کا کربلا سے اظہار عقیدت لاجواب ہے ۔ اللہ اُنہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ یہ کلام اب جگہ جگہ مجالسِ عزا میں پڑھا جائیگا۔ آپ کے پاس اور بھی ایسا کلام ہو تو ضرور پیش کریں
زیرِ شمشیرِ ستم میر تڑپنا کیسا
سر بھی تسلیمِ محبت میں ہلایا نہ گیا
یہ شعر میر تقی میر کی ایک غزل کا ہے جو فراوانی کے ساتھ ذاکر مجالس میں پڑھتے ہیں۔ اب قابل کا یہ شعر اور مندرجہء بالا کلام بھی مجالسِ عزا کی زینت بن جائیگا۔
اہل ساحل اس کی گہرائی کا اندازہ کریں
جو سفینہ نذر طوفاں ہو کے طوفاں ہو گیا
جنت مکانی قابل اجمیری صاحب پر ممتاز ارشد صاحب کا مندرجہ بالا مضمون (جو میں نے 4 جون کو لگایا تھا) اس کا لنک کسی فنی خرابی کے سبب سے کام نہیں کر رہا، اس لئے وہ مضمون من و عن یہاں لگا رہا ہوں۔
—————
ممتاز راشد(ممبئی)
قابل اجمیری
فراق گور کھپوری نے اختر الایمان کی شاعری کو خون کی دھار میں ڈوبی ہوئی شاعری کہا ہے۔ فراق کے جس مضمون میں یہ جملہ شامل تھا اُسے میں نے بہت پہلے پڑھا تھا اور اس وقت پورے مضمون کو ہی سر سری طور پر پڑھا تھا کسی خاص جملے کی اہمیت سمجھنے یا اُسے اہمیت دینے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ برسوں کے بعد فراق کے خون کی دھار میں ڈوبی ہوئی شاعری والے جملے کی معنویت مجھ پر آشکار ہوئی۔ ریڈیو نے چند برسوں پہلے ایک ہفت روزہ نشریاتی سلسلہ صدائے رفتگان شروع کیا تھا اس پروگرام میں پاکستان کے مرحوم نامور فنکاروں کی تخلیقات انہیں کی ٹیپ کی ہوئی آواز میں پیش کی جاتی تھیں ایک بار میں صدائے رفتگان سُن رہا تھا۔ اچانک اناوؤنسر نے اعلان کیا کہ اب آپ کے سامنے جدید شعر و ادب کے ایسے ممتاز منفرد شعراءکا کلام انہیں کی آواز میں پیش کیا جائے گا جو اب ہم میں نہیں رہے ہیں۔ یہ فنکار ہیں مرحوم ناصر کاظمی، یوسف ظفر، باقی صدیقی اور مرحوم قابل اجمیری۔
اوّل الذکر تنیوں شعراءکو بہت دلچسپی اور احترام کے ساتھ سنا گیا۔ آخر میں قابل مرحوم کی آواز سنائی دی۔ کلام کے ساتھ قابل کی آواز میں کچھ ایسی جلتی اور سلگتی ہوئی کسک تھی یا پھر ان کے کلام کے ساتھ قابل کی آواز میں ایسی تاثیر تھی کہ اچانک “خون کی دھار میں ڈوبی ہوئی شاعری” کے معنی اپنے تمام ترامکانات کے ساتھ ذہن میں روشن ہوتے چلے گئے۔ قابل کی وہ غزل( جسے اناوؤنسر نے مرحوم کی آخری غزل کہا تھا) اور ان کی آواز آج بھی جیسے ذہن میں گونج رہی ہے۔
کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں
زندگی آج ترا قرض چُکا دیتے ہیں
کوئے محبوب سے چپ چاپ گزرنے والے
عرصہ زیست میں اِک حشر اٹھا دیتے ہیں
تیرے اخلاص کے افسوں تیرے وعدوں کے طلسم
ٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزہ دیتے ہیں
ہم نے اس کے لب و رخسار کو چھو کر دیکھَا
حوصلے آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں
لیکن قابل اجمیری کے فکرو فن سے بہت پہلے متعارف ہوچکا تھا ١٩٥٨ئ کا ذکر ہے۔ ان دنوں میں نویں کلاس کا طالب علم تھا۔ مصرعے موزوں کرنے کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں شریک ہونے کا چسکا پڑ چکا تھا۔ ادبی رسائل ذوق و شوق سے پڑھتا تھا۔ ایک دن پاکستان کے کسی ادبی جریدے میں ایک غزل نظر سے گزری۔ شاعر کا نام تھا قابل اجمیری۔ نام کے ساتھ اجمیری کی نسبت دیکھ کر فوراً غزل پڑھنا شروع کر دی۔
ہونٹوں پہ ہنسی آنکھ میں تاروں کی لڑی ہے
وحشت بڑے دلچسپ دوراہے پہ کھڑی ہے
چاہا بھی اگر ہم نے تیری بزم سے اُٹھنا
محسوس ہوا پاوؤں میں زنجیر پڑی ہے
دل رسم د رہِ شوق سے مانوس تو ہو لے
تکمیلِ تمنّا کے لیے عمر پڑی ہے
کچھ دیر کسی زلف کے سائے میں ٹھہر جائیں
قابل غمِ دوراں کی ابھی دُھوپ کڑی ہے
غزل پڑھنے کے بعد قابل کے لیے ایک تجسّس پیدا ہو گیا۔ یہ کون صاحب ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ اتنے اچھے شاعر ہونے کے باوجود اجمیر کے مشاعروں میں نظر کیوں نہیں آتے؟ وقت کے ساتھ یہ تجسّس بڑھتا رہا۔ اتفاق سے انہیں دنوں محترم احمد ریئس صاحب علی گڑھ سے آ گئے۔ احمد ریئس صاحب قابل اجمیری کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے، ان کے اور کچھ دوسرے معتبر حضرات کے ذریعہ قابل اجمیری کے بارے میں بہت سی باتوں کا علم ہوا۔
قابل اجمیری حیدر آباد (سندھ پاکستان) میں قیام پذیر تھے اور تپ ِدق کے موذی مرض کا شکار تھے۔
قابل اجمیری کا اصلی نام عبدالرحیم تھا۔ سات سال کی عمر میں والدین کے سائے سے محروم ہو گئے تھے۔ قابل کے دادا امیر بخش صاحب نے ان کی پرورش کی۔
قابل کے آباد اجداد پٹھانوں کے دورِ حکومت میں اجمیر آ کر آباد ہوئے تھے۔ اعلیٰ فوجی خدمات کے عوض حکومت وقت نے انھیں بڑی بڑی جاگیریں عطا کیں لیکن اقتدار زمانہ کی وجہ سے قابل کے والدین کے حصّے میں صرف دو مکان آئے تھے (پاکستان میں قابل کو ان میں سے کسی مکان کا معاوضہ نہیں ملا) قابل نے ابتدائی مدرسہ نظامیہ درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی میں حاصل کی۔ اس زمانے میںمدرسے کے اساتذہ ملک کے بلند پایہ اصحاب علم و فضل تھے۔جنھیں نظام دکن ہندوستان کے طول و عرض سے منتخب کرتے تھے۔ قابل کا بچپن اسی علمی و ادبی اور روحانی ماحول میں گذرا۔
چودہ پندرہ سال کی عمر سے قابل شعر موزوں کرنے لگے تھے، پہلے انہوں نے حضرت ارمان اجمیری سے مشورئہ سخن کیا۔ بعد میں قابل مولانا عبد الباری معنی سے رجوع ہوئے۔ مولانا معنی ایک جید عالم دین تفسیر وحدیث اور تاریخ کے بلند پایہ محقق تھے۔ مولانا معنی کے فیضانِ صحبت نے قابل کی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید جلا بخشی مولانا معنی کی معیّت میں قابل نے پہلی بار اجمیر میں منعقد ہونے والے ایک آل انڈیا مشاعرے میں شرکت کی۔ اس وقت کے بعض مشاہیر شعراءشریک مشاعرہ تھے جن میں۔ ساغر نظامی، حفیظ جالندھری، سیماب اکبر آبادی اور جگر مراد آبادی وغیرہ کے اسماءگرامی قابل ذکر ہیں۔
دروغ برگردنِ مخمور سعیدی جگر صاحب کو اگر کسی نئے شاعر کے اشعار پسند آئے تو وہ اس سے یہ ضرور دریافت کرتے کہ میاں ابھی تک کسی کو مرکز تخیّل بھی بنایا ہے نہیں؟ شاعر کا جواب اثبات میں ہوتا تو جگر صاحب اطمینان کا اظہار کرتے بصورت دیگر شاعر کو نصیحت فرماتے “بغیر کسی مرکز تخیّل سچی شاعری ممکن نہیں” وغیرہ وغیرہ۔ پتا نہیں جگر صاحب نے مشاعرے کے بعد قابل سے بھی ان کے مرکزِ تخیّل کے بارے میں دریافت کیا یا نہیں۔ لیکن اس وقت تک قابل ایک “ہستی” کو اپنے تخیّل کا مرکز بنا چکے تھے، ان خاتون کا تعلق ایک خوشحال مذہبی و علمی خاندان سے تھا۔ انھوں نے بھی یقینا قابل سے کسی نہ کسی طرح اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہوگا، “کسی نہ کسی طرح”اس لیے کہ چھوٹے شہروں کے مُسلم معاشرے میں شادی سے قبل جو ان لڑکے لڑکی کا آزادانہ میل جول آج بھی پسند نہیں کیا جاتا۔ آج سے تیس چالیس سال پہلے تو اس طرح ایکٹیویٹیز کا تصّور بھی نا ممکن تھا یہی سوچا جا سکتا ہے کہ اُن خاتون سے قابل کی وابستگی محض دیدار سر راہ جلوئہ پس چلمن یا کبھی کبھی نامہ و پیام تک محدود رہی ہوگی بہر حال ایک دن سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ گھر والوں کے دباوؤ۔ بدنامی کے خوف سے یا کسی اور وجہ سے قابل سے نظریں پھیر لیں۔
کس کڑے وقت میں بدلی ہیں نگاہیں تم نے
جب مجھے حوصلہ ترکِ تمنا بھی نہیں
حوصلہ ترک تمنّا نہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ قابل تپ دق کا شکار ہوگئے ٧٤ کے لگ بھگ قابل کے چھوٹے بھائی محمد شریف بھی اچانک تپ دق کا شکار ہو کر چل بسے۔
ملک تقسیم ہوا۔ مملکت خداداد پاکستان وجود میں آئی۔ کچھ دنوں کے بعد قابل بھی ترکِ وطن کرکے کراچی پہنچ گئے۔ مہاجرین کلیم داخل کر کے مکان دوکانیں، زمینیں اپنے اپنے نام الاٹ کرو ارہے تھے لیکن اس قسم کے مادی فوائد حاصل کرنے کے لیے جس قسم کی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے قابل اُن سے یکسر محروم تھے۔ ماہر القادری مرحوم نے اپنے رسالے “فاران” کے دفتر میں سر چھپانے کی جگہ دیدی اس زمانے میں جگر صاحب کراچی تشریف لائے۔
“فاران” کے دفتر ہی میں ماہرالقادری کے توسط سے قابل کا تعارف جگر صاحب سے ہوا حسبِ معمول جگر صاحب نے شعر سنانے کی فرمائش کی، قابل کے اشعار سن کر جگر صاحب اتنے متاثر ہوئے کہ قابل کو اپنے ہمراہ حیدر آباد سندھ کے مشاعرے میں لے گئے۔ حیدر آباد سندھ میں اجمیر سے ترک وطن کر کے جانے والے مہاجرین کی اکثریت ہے۔ مشاعرے میں قابل کا تعارف خود جگر صاحب نے کروایا۔ جگر صاحب کے شاندار تعارف اور پھر قابل کے کلام نے جسے اہل حیدر آباد سندھ (ساتھ اہل اجمیر) کے دلوں کو تسخیر کر لیا۔
قابل نے حیدر آباد سندھ کو وطن ثانی بنا لیا۔ دن گذرتے رہے۔ ادبی حلقوں میں قابل کی شہرت پھیلتی رہی۔ وفات سے دو سال پہلے قابل کی زندگی میں انتہائی خوشگوار موڑ آیا۔ اس خوشگوار موڑ کے پیچھے ایثارکی انتہائی عظیم الشان مثال ہے ١٩٦٠ میں قابل کوئٹہ (بلوچستان) کے ریلوے سینی ٹوریم میں زیر علاج تھے اسپتال کی ایک اسٹاف نرس قابل کی زندگی میں داخل ہوئیں اور کچھ دنوں کے بعد بیگم نرگس قابل بن گئیں۔ شادی سے پہلے بیگم قابل تمام حالات سے بخوبی واقف تھیں کہ قابل شاعر ہے اور وہ بھی اردو زبان کا، قابل کا مرض جان لیوا ہے۔ قابل کے پاس کوئی سرکاری یا غیر سرکاری عہدہ نہیں، جاگیر نہیں کوئی بینک بیلنس نہیں۔ لیکن اس کے باوجود اُنھوں نے قابل کا ہاتھ تھام لیا۔ اپنی پر خُلوص رفاقت سے قابل کی زندگی میں اجالے بکھیر دیئے، اس میں جینے کا حوصلہ پیدا کیا۔ یہاں تک کہ شاعر ایک بار پھر پُکار اٹھا۔
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
اکتوبر ١٩٦٢ئ کی بات ہے میں اور احمد ریئس صاحب اودے پور میں تھے وہیں ٣ اکتوبر کی شام کسی دوست نے ریڈیو پاکستان کے حوالے سے یہ خبر سنائی کہ قابل اجمیری کا انتقال ہو گیا۔ دوسرے دن انجمن ترقی اُردو اودے پور کیجانب سے ایک تعزیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے میں احمد ریئس نے مضمون پڑھا اور میں نے قابل کی چند غزلیں سنائیں۔
قابل کی پہلی برسی کے موقع پر احمد ریئس نے “یوم قابل” کا اہتمام کیا۔ “یوم قابل” کے مشاعرے میں۔ شہباب جعفری، کمار پاشی اور رفعت سردش وغیرہ شریک ہوئے تھے۔ “بزم مقالات” میں قابل کے فکر و فن میں مضامین پڑھے گئے۔ ان میں سب میں سے اہم مقالہ مشہور جدید نقاد محمود ہاشمی کا تھا۔
قابل کی تخلیقی صلاحیتوں اور منفرد شاعرانہ شخصیت کا اعتراف کرنے والوں میں ہر مکتبہ فکر کے نمائندہ حضرات نظر آتے ہیں لیکن قابل کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب ایک خاص گروہ نے ان کی شاعرانہ شخصیت کو داغدار کرنا چاہا۔ اس گروہ کے سرخیل تھے مشہور ترقی پسند شاعر حمایت علی شاعر، معاصرانہ چشمک اور ادبی تنازعہ کو حمایت علی شاعر اور ان کے حواریوں نے کیا روپ دیا تھا اس کا اندازہ مندرجہ ذیل اقتباسات سے لگا یا جا سکتا ہے۔
“ایک زمانہ میں حمایت علی شاعر سے ان کی اہم عصرانہ چشمک چلی تھی۔ قابل فن کے پر ستار اور ادبی حلقوں میں مقبول۔ حمایت علی شاعر ریڈیو سے وابستہ اور ادبی حلقوں سے باہر بھی عزیز لیکن ظاہر ہے جو شخص دس سال تک موت سے لڑتا رہا ہو وہ حمایت علی شاعر سے کیا ہار مانتا، جیت قابل کی ہوئی۔ اس کی زندگی میں نہ سہی موت کے بعد تو مجموعہ شائع ہوگیا”۔
(“وادی مہران کی تین آوازیں، قمر الزّماں، فروری سن ٧٠ قابل نمبر” طالب علم ڈائجسٹ مطبوعات، حیدر آباد سندھ پاکستان)
“مجھے اچھی طرح یاد ہے مشاعرہ شباب پر تھا اچانک صدر مشاعرہ نے مائک سنبھالا اور ایک رندھی ہوئی آواز نے فضا میں سوگواری کی سی کیفیت پیدا کر دی ” حضرات میری صدارت پر میرے ایک ہم عصر شاعر کو اعتراض ہے اس لیے میں صدارت سے دستبردار ہوتا ہوں” قابل اجمیری اسٹیج سے اُتر کر بھاری قدموں کے ساتھ مشاعرہ گاہ کے دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔ میں نے محسوس کیا جیسے یہ میری توہین ہوئی ہے۔ قریب ہی مرزا عابد عباس بیٹھے تھے میں نے ان کہا” یہ سخت زیادتی ہے قابل صاحب کو روکنا چاہیئے عابد صاحب کی تائید پا کر میں تیزی سے دروازے کی طرف لپکا اورکو شش کر کے قابل صاحب کو اسٹیج پر لے آیا۔ اب میری باری تھی۔ مائک پر آکر میں نے کہا “حضرات یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس ادبی محفل میں سیاست ور آئی ہے لیکن ادبی محفل میں سیاست کا کیا کام میری درخواست ہے کہ قابل صاحب صدارت جاری رکھیں آپ حضرات سے اُمیّد ہے کہ تائید فرمائیں گے مجمع میں جیسے جان پڑ گئی۔ چاروں طرف سے تالیوں کی آواز آنے لگی اور اس طرح مشاعرہ دوبارہ شروع ہوا۔
مجھے یہ بھی یاد ہے کہ ایک رات کوئی گیارہ بجے کا عمل ہوگا، سوسائٹی کے نزدیک قابل صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ قابل صاحب افسردہ لہجے میں بولے اب تو مجھے شاعر ماننے سے انکار کیا جا رہا ہے ” میں نے اِدھر اُدھر کی باتوں میں ان کے ذہن کو الجھا دیا۔ کوئی ایک بجے وہ مجھ سے جُدا ہوئے۔ اور میں دیر تک سوچتا رہا۔ تپِ دق کا مریض یوں بھی حساس ہوتا ہے اگر وہ شاعر ہو تو اور بھی زیادہ حساس ہوتا ہے شاید یہی وجہ تھی کہ قابل صاحب ذرا ذرا سی باتوں کو بھی اہمیت دینے لگے تھے۔
مجھے وہ نشست بھی یاد ہے جہاں حیدر آباد سندھ کے منتخب ادیب شعراءجمع تھے۔ قابل صاحب نے اپنی غزل تنقید کے لیے پیش کی۔ ایک شاعر اور ان کے حمایتیوں نے بے معنی اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی، جوشِ تنقید میں نہیں بلکہ جوشِ تنقیص میں وہ شاعر قابل صاحب کے ایک شعر کو باقی صدیقی کا شعر بتانے لگے۔ حالانکہ بعد میں تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ باقینے اس زمین میں کبھی کوئی شعر نہیں کہا”(چند یادیں ، محسن بھوپالی فروری سن ١٩٧٠ قابل نمبر” طالب علم ڈائجسٹ مطبوعات، حیدر آباد سندھ پاکستان)
مندرجہ بالاواقعات اس وقت بھی میرے ذہن میں تازہ تھے جب برسوں کے بعد مشہورنقاد شمس الرحمن فاروقی صاحب سے میری پہلی ملاقات ہوئی، ڈیڑھ، دوسال پہلے شمس الرحمن فاروقی صاحب اپنی فیملی کے ساتھ اجمیر آئے ہوئے تھے، ان دنوں میں بھی اجمیر میںتھاپیاین ٹی گیسٹ ہاؤس کے کمرے میںفاروقی صاحب سے جدید شاعری اور جدید شعراءپرگفتگو ہورہی تھی گفتگو کے دوران میں اچا نک پوچھ لیا فاروقی صاحب!آپ قابل اجمیری سے بھی واقف ہیں؟
فاروقی صاحب نے بے ساختہ فرمایا آپ بھی کمال کرتے ہیں اردوادب کا ایساکون ساسنجیدہ طالب علم ہوگاجو قابل سے واقفیت نہ رکھتا ہوراجستھان کے شعر و ادب سے بالعموم اور اجمیر کے ادب سے بالخصوص میرا پہلا تعارف ہی قابل اجمیری کے توسط سے ہوا تھا۔میں چٹکی لی “لیکن قابل جدید شاعر تو نہیں تھے”!فاروقی نے کہا “جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں اچھی اور سچی شاعری ہمیشہ جدید رہتی ہے”۔
شمس الرحمٰن فاروقی جیسے کٹر نقاد کی قابل اجمیری کے بارے میں یہ بے لاگ رائے سن کر مجھے یقین ہو گیا کہ اگر شاعر میں واقعی دم خم ہے تو اسکی آواز کو بہت دنوں تک نہیں دبایا جاسکتا۔
قابل کی تحقیقی کاوشیں پہلی بار ایک مختصر سے کتابچے کے زریعہ منظر عام پر آئی تھیں۔ اس مختصر سے کتا بچے کا نام تھا۔ “قابل کے سو اشعار ” جس کے، دیباچے میں جگر مراد آبادی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا ۔
قابل کے کلام سے ان کی انفرادیت نمایاں ہے اور یہی خوبی شاعر کے لیے اہم اور اہم تر ہے خیالات اور جذبات کے ساتھ ساتھ ان کا اسلوب بیان بھی شگفتہ و پاکیزہ اور تغزل کا حامل ہے۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی اپنے مضمون “جوہر قابل” میں رقم طراز ہیں۔ قابل کے یہاں تقلید کا شائبہ تک نہیں ہوتا وہ نئی بات کہتے ہیں اور نئے انداز سے کہتے ہیں۔ غزل کی روایت سے پوری واقفیت رکھنے اور اس سے خاطرِ خواہ استفادہ حاصل کرنے کے باوجود وہ کبھی لکیر کے فقیر نہیں بنے۔ ان کے یہاں خاصا تنوع ہے لیکن اس تنوع کے ہاتھوں ان کی انفرادیت کوٹھیس نہیں لگتی ان کا مخصوص زاویہ نظر اس تنوع میں بھی ایک یک رنگی پیدا کرتا ہے”
جانے کس عالم میں آئیں آنے والے قافلے
سایہ دیوار جاناں جاوداں کرتے چلو
کتنے روشن ہیں وہ عارض کتنے شریں ہیں وہ لب
راستہ کٹ جائے گا ذکر بتاں کرتے چلو
زمانے سے شکایت کیا زمانہ کس کی سنتا ہے
مگر تم تو آواز جنوں پہچان لی ہوتی
رضائے دوست قابل میرا معیار محبت ہے
انھیں بھی بھول سکتا تھا اگر ان کی خوشی ہوتی
ڈاکٹر فرمان نتچوری اپنے مضمون “قابل۔ تجدد کی ایک مثال” میں فرماتے ہیں “قابل اجمیری میں نکتہ سے نکتہ پیدا کر لینے اور روایت میں بلا کی حدّت اور احساس میں غضب کی تازگی و انفرادیت ہے۔ یہی سبب ہے کہ غزل کی بعض حد درجہ فرسودہ اور ناموافق زمینوں میں بھی وہ ایسے آبدار نشر نکال لیتے ہیں کہ خدا کی توفیق یاد آ جاتی ہے”۔
زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھو گے
خدا کرے کہ تمہیں مجھ سے دشمنی ہو جائے
لُطف صبح نشاط مجھ سے پوچھ
میں نے شامِ الم گذاری ہے
دل کی دھڑکن کا اعتبار نہیں
ورنہ آواز تو تمہاری ہے
اپنے لب ہی نہیں سّے ہم نے
آپ کی زلف بھی سنواری ہے
کتنی شمعیں بجھا کے اے قابل
دل میں ایک روشنی اتاری ہے
ہم چراغِ یقین جلاتے رہے
وقت کو راستہ دکھاتے رہے
زندگی کتنی مختلف تھی مگر
ہم ترے ساتھ مسکراتے رہے
ایک پوچھتی پھرے گی حیات
اہلِ دل کس نگر میں رہتے ہیں
لاکھ ہم خانماں خراب سہی
حادثوں کی نظر میں رہتے ہیں
جلوہ گاہ یار سے بھی تشنہ کام آئے ہیں لوگ
جانے امیدیں زیادہ تھیں کہ جلوے کم رہے
کٹ گئے ہجر کے پہاڑ سے دن
وقت کو تیرا انتظار نہ تھا
مرحلے زیست کے بھی کم تو نہیں اے دوست
اور جی لیں گے تیری زلف کے سر ہونے تک
سحر انصاری رقم طراز ہیں:۔
“حسرت موہانی نے تہذیب رسم عاشقی کی جو بنیاد غزل میں رکھی تھی اُسے قابل نے بھی اپنایا ہے۔ تہذیب میں عموماً تصنع کا رنگ آ جاتا ہے۔ لیکن قابل نے تصنع کی اس منفی کیفیت کو اپنے دائرہ احساس سے خارج کر دیا ہے ان اشعار میں آپ کو قابل کے مزاج کی مخصوص ساخت کا اندازہ ہو جائے گا”۔
خود تمہیں چاک گریباں کا شعور آجائے گا
تم وہاں تک آ تو جاؤ ہم جہاں تک آ گئے
حُسنِ ترتیب ہے دلیل چمن
ورنہ صحرا میں کیا بہار نہیں
بے نیازی کو اپنی خو نہ بنا
یہ ادا بھی کسی کو پیاری ہے
ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
مقامات فکر و نظر کون دیکھے
یہاں لوگ نقش قدم رکھتے ہیں
ان کی زندگی میں ایک خاص رکھ رکھاوؤ اور آن بان تھی۔ وہ دریوزہ گر آتش بیگانہ نہیں ہونا چاہتے تھے، دوستی کے پردے میں کسی احسان کو قبول کرنا ان کے لیے سزا سے کم نہیں۔
بے کسی سے بڑی امیدیں ہیں
تم کوئی آسرا نہ دے جانا
کوئی احسان کر کے قابل پر
دوستی کی سزا نہ دے جانا
نامرادی نے کر دیا خوددار
اب سر شوق خم نہیں ہوتا
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
ادارہ سماجی بہبود (لاہور) کی جانب سے قابل اجمیری کی چوتھی برسی منائی گئی تھی۔ اس موقع پرشاہداحمددھلوی نے اپنے تحریری پیغام میں قابل کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہاراس طرح کیا تھا۔
قابل مرحوم بڑے خوداراوروضعدار آدمی تھے ۔انہوں نے اپنی تکلیفوں کاکسی سے ذکر نہیں کیا اور نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلایاخاموشی کے ساتھ سرد چراغاںکی طرح دھڑ دھڑ جلتے رہے اور ایک روزیہ نورافشانی اچانک ختم ہوگئی۔اندھیروں نے اعلان کیا کہ ایک اورجوہرقابل اٹھا لیا گیا۔قابل اجمیری واقعی ایک جوہر قابل تھے ۔گوجوانی میںہی بیماری نے ان پرغلبہ پالیا تھا،بھری جوانی میںنیم جاںجئے اوردیکھتے ہی دیکھتے بے جاں ہوگئے غزل ہماری شاعری کی سب سے محبوب صنف سخن ہے مگر ےہ غزل کہنابظاہر جتنا آسان ہے بباطن اتنا ہی مشکل ہے۔ بلامبالغہ روزانہ ہزاروں غزلیں کہی جاتی ہیں مگر ان میں سے ایک فیصد بھی زندہ نہیں رہتی۔خوش نصیب ہیں وہ شاعرجن کی غزلیںزندہ رہتی ہیں ۔وقت خودبڑا بے رحم نقاد ہے انہیںخوش نصیبوں میں جن کی غزلوں پردست وبردزمانہ کااثرنہ ہوگاقابل اجمیری بھی ہیں۔
ماشا اللہ جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب :
آپ نے ممتاز ارشد کا اتنا سیر حاصل مضمون شایع کرکے اس بلا گ کو یقینی طور پر قابل نمبر بنادیا۔
جزا ک اللہ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
قابل اجمیری اس دنیا میں موجود نہیں مگر ممتاز ارشد صاحب کی طرح چند ایک افراد اس دنیا میں ضرور موجود ہونگے جنھوں نے قابل کو قریب سے دیکھا اور سنا ہوگا۔ کیا ہی اچھا ہو گا اگر ان میں سے کوئی فرد اپنا آنکھوں دیکھا حال اس بلاگ میں شایع کردے۔
۔۔۔۔۔
اگر اس مشاعرہ کی ویڈیو لنک جس میں قابل اجمیری نے شرکت کی ، اس بلاگ میں شامل ہوجائے تو یہ بلا گ ایک یادگار بلا گ بن جاے گا۔
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
آج میں حیدرآباد پہنچ گیا ہوں جہاں مجھے نیٹ کی پوری سہولت ہے اور کراچی سے کافی مواد بھی لے آیا ہوں محترم منظور قاضی صاحب نے آخری غزل کے بارے میں سوال کیا ہے تو
کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں
زندگی آج ترا قرض چکا دیتے ہیں
تیرے اخلاص کے افسوں ترے وعدوں کے طلسم
ٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزا دیتے ہیں
ہمیں دستیاب کلام سے یہی آخری غزل کہلائی جب میں نے اردو پڑھنا سیکھی تو ہم بہت دور بلوچستان میں کوئیٹہ میں آباد تھے اور گھر میں صرف طالب علم ڈائجسٹ کا قابل نمبر ہی بچا تھا دیدہ بیدار اور خون رگ نان میں ایک زمانے بعد صرف دیکھ پایا حاصل نہ کر سکا بہرحال یہ ایک طویل کہانی ہے کہ میں کیسے تمام چیزوں تک پہنچ پایا اور قاضی صاحب کو یہ جان کر یقینا خوشی ہو گی کہ آج آپ مجھ سے اگر کہیں کہ مجھے فلاں غزل ان کے ہاتھ کی تحریر میں چاہیے تو وہ میں مہیا کر دوں گا بات ہو رہی تھی آخری غزل کی تو میرے ریکارڑ کے مطابق بھی اسی غزل کو آخری غزل کیہ سکتے ہیں میرے پاس ٹنڈوآدم کے مشاعرے کا مطبوعہ رپوتاژ بھی موجود ہے یہ مشاعرہ اگست 1962 کے آواخر میں ہوا تھا جس میں انہوں نے یہی غزل پڑھی تھی اور ان کا انتیقال 3 اکتوبر 1962 کو ہوا ٹھیک میری پیلی سالگرہ کے دن
محترم قاضی صاحب نے میری والدہ محترمہ کے ایک انٹرویو سے متعلق میری رائے مانگی ہے مگر میں یہاں کیا بتائوں کہ وہ الفاظ کہاں سے لائوں جو میری ترجمانی کر سکیں میرا اور انکا ساتھ 40 سال کا تھا اس موضوع پر میں لکھ نہیں پائوں گا آپ اس سے انداذہ کر لیں کہ انہوں نے انتقال سے ایک ماہ پہلے مجھے زندگی کا پہلا اور آخری خط حیدرآباد سے سکھر لکھا تو وہ خط دیکھ کر حیدرآباد پہنچ گیا تھا آج تک وہ لفافہ بند رکھا ہے
محترم ظفر جعفری صاحب سے عرض ہے کہ ابھی مذید کلام باقی ہے جس میں سلام اور منقبتی کلام شامل ہے اور باقیات قابل میں شامل ہو گا اس وقت اس لئے نیہں پیش کر رہا ہوں کہ ابھی ایک اور بار پروف ریڈیگ ہونی ہے
۔عشق انسان کی ضرورت ہے
ادیب سہیل
قابل اجمیری چاہے جانے والے فرد کی شخصیت کے حامل تھے۔ کتاب کی پشت پر ان کی تصویر یہی کچھ بتاتی ہے۔ ورنہ تپ دق جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوکر جب قابل اجمیری کوئٹہ کے اسپتال میں زیر علاج تھے تو ان کی تیماردار نرس نرگس یہ سب بھول کر کہ قابل موذی مرض میں مبتلا ہیں اور زندگی کا کوئی بھروسا نہیں، یہ چراغ کسی وقت بھی گل ہوسکتا ہے، وہ ہمیشہ کے لئے ان کی ہور ہیں۔ یہ جذبہ سرشاری اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں۔
قابل صاحب کی شاعری اچھی تھی، شعر و ادب کے حلقے میں پسند کی جاتی تھی ورنہ پسندیدگی کی یہ دھمک سابق مشرقی پاکستان میں رہنے والے ہم جیسے لوگوں تک کیسے پہنچ سکتی تھی۔ قابل پر ’’شعلہ مستعجل‘‘ کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کم لکھ کر ﴿بہت لکھنے کا موقع ہی ان کی زندگی نہ دیا﴾ جتنی مقبولیت حاصل کی۔ بہت سے عمر بھر کاروبار شعر کرکے اس قابل نہ ہوسکے۔
۔قابل صاحب کے باب میں یہ بات سچ کہی گئی ہے کہ ان کی شاعری سچی اور دل سے نکلی ہوئی آواز تھی اور سچی آواز آفاق گیر اور ہمہ جہت ہوتی ہے۔ قابل کے ہاں غم دوراں اور غم ذات ایک سکے کے دو رخ معلوم ہوتے ہیں، آپس میں ایسے گھلے ملے کہ دوائی کا اشتباہ بھی نہیں ہوتا۔ مثلاً
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
خود تمہیں چاک گریباں کا شعور آجائے گا
تم وہاں تک آتو جائو، ہم جہاں تک آگئے
اے گردش دوراں آ تجھ کو بھی اماں بخشیں
ہم نے غم جاناں کو سینے سے لگایا ہے
iہم بدلتے ہیں رُخ ہوائوں کے
آئے دنیا ، ہمارے ساتھ چلے
محسن بھوپالی کی یہ بات مبنی برصداقت ہے کہ قابل کے شعری دیوان میں ایسے اشعار خاصے ہیں جن میں ضرب المثل بننے کی صلاحیت ہے۔ قابل صاحب کا یہ شعر بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
۔ضرب المثل کے حوالے سے قابل اجمیری کا یہ شعر آدمی کو لمحہ بھر کے لئے بے پناہ کردیتا ہے، معنویت کا ایک اژدہام اپنے پیچھے لئے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔ قابل صاحب کے زیر بحث شعری مجموعہ کا نام ان کے اس شعر کا دوسرا مصرع ہے۔
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
بولتا ہوا مصرع ہے، ایک فلسفیانہ آہنگ رکھتا ہے۔ یہ کہنا بڑا دشوار ہے کہ عشق انسان کی ضرورت ہے، یا انسان عشق کی ضرورت! انسان اور عشق ایسے لازم و ملزوم ہیں کہ کہنا پڑتا ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ جس طرح آدمی کو انسان تک رسائی کے لئے بہت سے مدارج درکار ہوتے ہیں اسی طرح دلی تعلق کو عشق کے بہت سے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس دل میں عشق نہیں وہ خالی برتن ہے۔ مسلک صوفیا میں طریقت سے حقیقت عظمیٰ تک کی راہِ عشق طے کراتا ہے۔
کتاب کا انتساب بیگم نرگس قابل ﴿مرحومہ﴾ کے نام ہے جو کتاب کے مرتب ظفر قابل کا مستحسن اقدام ہے۔ اس کے دیباچہ کا فرض ممبئی کے ممتاز راشد صاحب کا مقالہ انجام دے رہا ہے، بہت ہمہ رخ ہے۔ صاحب کتاب کے بارے میں بھرپور Know How پیش کرتا ہے۔
ذائقہ بدلنے کے لئے کتاب میں قابل صاحب کی نظمیں نقش حیات 1857ئ کی جنگ آزادی کی یاد میں ، مہاجر کے نام اور عید کے دن شامل کرلی گئی ہیں۔کتاب دیدہ زیب چھاپی گئی ہے۔
تبصرہ : ماہنامہ ’’قومی زبان‘‘ مارچ5 200
نسان کے تجربات یکجا ہوکر یا تو نثری شکل اختیار کرتے ہیں یا نظم کی شکل۔ شاعری انسانی تجربات اور احساسات کے بیان کا لطیف ذریعہ ہے اس احساس میں کبھی کبھی کڑواہٹ محسوس ہوتی ہے اور کبھی کبھی جام شیریں کے گھونٹ پیتا ہے۔ سالہا سال سے اردو شاعری انسانی احساسات کو اجاگر کرنے کا ایک ایسا ذریعہ فطری ہے جس کا ادراک کم و بیش ہر دور کے شاعروں کو رہا۔ قابل اجمیری بھی ایسے چند شعرائ میں سے ہیں جو انسانی حس کی نزاکتوں‘ ان کے المیہ اور طربیہ کیفیات کو اجاگر اور واضح کرنے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں ان کے کہے ہوئے اشعار میں سچائی فطرت کے بہت قریب محسوس ہوتے ہیں وہ جو کبھی انسان کو حوصلہ زیست بھی بخشتے ہیں شاید اس لئے انہوں نے کہا:
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
میرا تعارف قابل اجمیری سے مرحوم سلیم جعفری نے کروایا تھا اور شعر و ادب کی دنیا میں اگر قابل اجمیری کو نہ پڑھ پاتا تو یہ میری بدقسمتی ہوتی مجھے قابل اجمیری شاید ازبر نہ ہوں لیکن ان کے ڈھیر سارے اشعار اب بھی یاد ہیں اور میں وقتاً فوقتاً انہیں پڑھتا رہتا ہوں۔ اگر کبھی کسی آٹوگراف بک پر میرے ہاتھ سے لکھا ہوا یہ شعر
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
۔عشق انسان کی ضرورت ہے
آپ کی نظر سے گزرے تو سمجھ لیجئے گا کہ وہ قابل اجمیری کے حضور ہدیہ عقیدت ہے۔ ظفر قابل مبارک باد کے مستحق ہیں جو اپنے والد محترم کے شعری انتخاب ’’عشق انسان کی ضرورت ہے‘‘ کی رونمائی فرمارہے ہیں۔ میری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں خدا کرے زور ادب اور زیادہ
معین اختر
گاندھی نے کہا تھا وہ عبادت ہی کیا جس میں قربانی نہ ہو۔ میں نے ایثار اور قربانیوں کی کہانیاں اور قصے تو بہت سنے ہیں لیکن آج میں جو کچھ بیگم قابل کے بارے پڑھ رہا ہوں یہ محبت ایثار قربانی اور انسانیت کی ایک زندہء جاوید مثال ہے۔ سب سے زیادہ خوشی مجھے اس بات کی ہے کہ ظفر قابل صاحب اپنی زندگی میں پھل پھول رہے ہیں اور وہ سارے کام پورے کررہے ہیں جو قابل اجمیری کی ناگہانی موت کی وجہ سے اَدھورے رہ گئے تھے۔ قابل کے تقابل میں حمایت علی شاعر کا نام لینا نا مناسب ہے۔
قابل نے تو دس بارہ برس ہی میں جگر اور سیماب جیسے اساتذہ کو اپنی شاعری کا مداح بنالیا تھا۔
ظفر قابل صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے اپنے والد مرحوم کی آخری غزل کی تصدیق کردی ۔
۔۔۔۔۔
اب جب کہ وہ کراچی سے حیدرآباد آگئے ہیں اور انہیں انٹرنیٹ کی سہولت بھی ہے تو ضرور اپنی معلومات سے اس بلاگ کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ کرتے جائیے۔
اللہ آپ کو اس نیک کام کی نیک جزا دے اور آپ کو تمام امراض اور آفات اور بلاوں سے محفو ظ رکھکر طویل عمر عطا کرے۔ اور آپ کو اور آپ کی بیوی کو اپنی بچی کی خوشیاںدیکھنا نصیب کرے ۔ آمین
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
جوں جوں بات آگے بڑھ رہی ہے، قابل اجمیری صاحب کا تعارف ہم پر مزید عیاں ہوتا جارہا ہے اور انکی شخصیت کی رعنائی یہاں چاندنی بکھیرتی جا رہی ہے۔ بیگم قابل اجمیری کا ذکر کسی تصوراتی کردار سے کم نہیں، اور ایسے عظیم افراد کو یقینا خراج عقیدت پیش کرنا بنتا ہے۔ قابل اجمیری کے ہاتھ سے شاید زندگی کا تار بہت پہلے چھوٹ چکا ہوتا اگر انکی رفاقت کی کٹھن ذمہ داری نرگس اجمیری نہ اٹھاتیں۔ یہ اس خاتون کی محض انسان پروری ہی نہیں، بلکہ ادب پروری بھی تھی، جس کا ثبوت آج ظفر قابل کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ ظفر صاحب کو جسطرح انہوں نے باپ کے نقوش ہائے قدم ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان پر قائم کیا اور رکھا، وہ انکی اپنے شوہر سے وفاداری اور ادب سے محبت کی دلیل ہیں۔ خدا انکے درجات بلند فرمائے۔
—————-
محترم ظفر قابل صاحب سے گزارش ہے کہ ان کے پاس اگر ان کے والد جناب قابل اجمیری کی کوئی ویڈیو موجود ہے تو نا چیز سے رابطہ کریں تا کہ اسے انٹر نیٹ پر ڈالنے کی سعی کی جا سکے۔ مزید برآں اگر انکے پاس کوئی بھی کلام یونی کوڈ کے علاوہ کسی اور شکل میں ہے جسے وہ یہاں لگانا چاہیں تو فدوی کو بھجوا دیں، اسے میں یونی کوڈ میں لگا دوں گا۔
قابل اجمیری.میں جو اس بلاگ میں لکھ نہیں رہا تو صرف اسکی وجہ اپنے قد کاٹھ سے اگاہی ہے. اس بار طے کیا ہے کہ صرف پڑھ کر اسے جذب کرؤں گا اور پھر لطف لوں گا اس جاذبیت سے. قابل اجمیری کے قابل فرزند ظفر قابل کو سلام کہ انہوں نے اپنے والد کی تحریری حیات کو محفوظ رکھا ہوا ہے اسے عالمی اخبار کے صفحات کے حوالے کر رہے ہیں. ہم طالب علموں کو سیکھنے کے لیئے کیا کچھ نہیں مل رہا.
حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آگئے
ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آگئے
نامرادی اپنی قسمت ، گمرہی اپنا نصیب
کارواں کی خیر ہو ، ہم کارواں تک آگئے
انکی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
قصہء غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آگئے
اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے
تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے ہم فغاں تک آگئے
زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا
آپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آگئے
رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبِ خاموشیءِ عشق
وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آگئے
خود تمہیں چاکِ گریباں کا شعور آجائے گا
تم وہاں تک آتو جاوء ، ہم جہاں تک آگئے
آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے
اہلِ دل اندیشہء سود و زیاں تک آگئے
خیالِ سود نہ اندیشہ زیاں ہے ابھی
چلے چلو کہ مذاقِ سفر جواں ہے ابھی
رکا رکا سا تبسم، جھکی جھکی سی نظر
تمہیں سلیقہ بے گانگی کہاں ہے ابھی
سکونِ دل کی تمنا سے فائدہ قابل
نفس نفس غمِ جاناں کی داستاں ہے ابھی
رہبر جو ہمیں ٹھوکریں کھانے نہیں دیتا
ڈرتا ہے کہیں راستہ ہموار نہ ہو جائے
میخانہ بھی اک کارگہِ شیشہ گری ہے
پیمانہ کہیں ٹوٹ کے تلوار نہ ہو جائے
قابل اجمیری کے چند متفرق اشعار
نہیں اب تیرے ملنے کا گماں بھی
قیامت ناگہاں ہو جائے گی کیا
اک جھومتے بادل نے چپکے سے کہا قابل
ہنگامِ گل آیا ہے، ساقی نے بلایا ہے
حرم کی آبرو لٹتی رہے گی
یہاں بھی غزنوی آتے رہے ہیں
ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
اس بلاگ کو اگر قابل نمبر کا درجہ دینا ہے اور اسکا وقار قائم رکھنا ہے تو میرا مشورہ ہے کہ اس کے تبصروں میں سے حمایت علی شاعر کے متعلق تمام باتیں (جن کے متعلق اللہ ہی کو معلوم ہے کہ ان میں راوی کی دروغ گوئی کتنی ہے) حذف کردی جائیں۔
اور اگر یہ باتیں حذف نہ کی گئیں تو کم از کم حمایت علی شاعر سے (جو شاید اس دنیا میں ابھی موجود ہے) ہی پوچھ لیا جائے کے ان باتوں میں سچ کتنا ہے اورقابل اجمیری کے دوست نما دشمنوں کی شرارت اور فتنہ انگیزی کا عنصر کتنا ہے ۔
اس تحقیق کا ذمہ ان پر ہے جو حمایت علی شاعر کا نام اس بلاگ میں رکھنا ضروری سمجھتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
اچانک usb کی خرابی کی وجہ سے تعطل آ گیا ہے میں خاصے مضامین لے کر آیا تھا بہرحال اب آہندہ جمعے تک ممکن ہو گا فی الحال کوشش کروں گا کہ مذید مواد پیش کر سکوں
ممبئی کی جواں نسل کے مقبول شاعر اور معروف ادبی پرچہ‘اردو چینل کے مدیر جناب قمر صدیقی نے ابھی ابھی عالمی اخبار کا بلاگ پڑہ کر فیس بک پر گوشہ قابل شائع کرنے کا مندرجہ ذیل اعلان کیا ھے
قابل صاحب کی فن اور شخصیت پر جو بھی مضامین لکھے گئے ہیں برائے مہربانی ارسال کریں۔ اردو چینل اُن پر ایک خصوصی گوشہ شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انتخابِ کلام ارسال کرنے کے یے ممنون ہوں۔ تصویر آپ کی ویب سائٹ سے حاصل کرلی ہے۔ اگر کوئی دوسری تصویر بھی ہو توارسال کریں۔ مہربانی ہوگی۔
قابل صاحب پر گوشہ نکالنے کی میری خواہش بہت پرانی ہے۔ اب انشاءاللہ یہ کام پائے تکمیل کو پہنچے گا۔ آپ حضرات کا تعاون درکار ہے۔ خاص طور پر مضامین کے سلسلے میں۔ ظفر قابل صاحب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ قابل صاحب پر لکھی ہوئی تحریریں مہیا کرائیں گے۔ اگر آب لوگوں کے پاس بھی کچھ مواد ہو تو ارسال کریں میرا ای میل آئی ڈی qamarsiddiqui@rediffmail.com
محترم منظور قاضی صاحب کی نذر کہ ایسے لوگ جو ان کے قریب رہے ہوں ان کی تحریر
یہ مضمون اس اہمیت کے باعث شریکِ اشاعت ہے کہ یہ قابل اجمیری کی زندگی میں ان کے سو شعر کے مجموعہ میں ’تعارف‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے اور اس مضمون میں قابل اجمیری کے حالاتِ زندگی کی وہ تفصیلات ہیں جو کسی اور مضمون میں نہیں ہیں۔البتہ مضمون کا وہ حصہ جو قابل اجمیری کی شاعری سے تعلق رکھتا ہے طوالت کی وجہ سے حدف کر دیا ہے
ظفر قابل
۔تعارف
پروفیسر ارشد رضا
اپنے کمرے کی کھڑکی سے جب باہر دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو میری نظریں اور نٹیل کالج کے پائیں باغ کو طے کرتی ہوئی ایک دریچے سے ٹکرانے لگتی ہیں، جس کو میں نے ہمیشہ چشمِ عاشق کی طرح وا دیکھا۔ اندر صرف تاریکی کا احساس ہوتا ہے، جس میں کبھی کبھی ایک سایہ سا متحرک نظر آ جاتا ہے۔ یہ ہے وہ تنگ و تاریک گوشہ جن میں وادی مہران کا درّثمین، ایک عظیم فن کار عبد الرحیم قابل ۔ تنہائی اور عسرت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ یہ نوجوان شاعر، جس کا رنگ گندمی، چہرے پر افسردگی کے آثار اور جسم نحیف و نزار ہے۔ لیکن آنکھوں میں بے پناہ کشش آج سے اٹھائیس سال قبل 27 اگست۱1931کو اجمیر سے چوبیس میل دور ایک قصبہ جو “چرلی” کے نام سے مشہور ہے، متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس زمانہ میں قابل کے والد عبدا لکریم صاحب اجمیر میں ٹھیکیداری کا کام کرتے تھے۔ ابھی قابل کی عمر صرف ساڑھے چھ سال کی تھی والدہ نے اس دار فانی سے انتقال کیا۔ چھ ماہ گذرنے نہ پائے تھے کہ باپ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ دادا زندہ تھے۔ اس لئے تربیت انہی کے زیر سایہ ہوئی دارالعلوم معنییہ عثمانیہ اجمیر میں علوم مشرقی کی تعلم پائی۔ لیکن حصولِ معاش کے سبب سے تعلیم کو نا مکمل چھوڑنا پڑا۔
۔یوں تو بچپن ہی سے قابل کو شعر و سخن سے دلچسپی تھی۔ لیکن پندرہ سال کی عمر سے شعر کہنا شروع کیا۔ اس وقت ہر طرف علم و ادب کا چرچا تھا۔ شاعری کا شوق ان کو عبدالرحیم ارمان اجمیری کے پاس لے گیا اور ان سے اصلاح سخن لینے لگے۔ اسی زمانے میں مولانا عبدالباری معنی اجمیری مہتمم دارالعلوم مغیثیہ عثمانیہ کے مکان پر شعرا اور اہل قلم حضرات کی نشست رہتی تھی اور یہی وہ جگہ تھی جو منبع فیوض تصور کی جاتی تھی پھر قابل اس محفل کی طرف رجوع ہوئے وہیں کی صحبت کا فیض ہے کہ ان میں صحیح شعری ذوق و شعور پیدا ہوا۔
1947 کے فسادات میں دوسرے تمام مسلمانوں کی طرح ان کو بھی ترکِ وطن کرنا پڑا۔ پاکستان آ کر حیدر آباد میں سکونت اختیار کی 1948 میں ڈاکٹر نامی اور مخدوم محمد یوسف مرحوم کی مدد سے ایک ہفت روز “شاہین” جاری کیا۔ 1949 کے اواخر میں وق کا موذی مرض حملہ آور ہوا۔ بیماری کے شروع میں پَس انداز کیا ہوا پیسہ پیسہ دوا اور ڈاکٹروں کے نذر ہو گیا۔ چونکہ مستقل کوئی ذریعہ معاش نہ تھا اس لئے علاج بھی باقاعدگی سے نہ ہو سکادن یوں ہی گذرتے رہے اور فن کار کے سینے کے زخم مہکتے رہے۔ قدرت کی ستم طریفی کہ سمندِ ناز پر ایک اور تاز یانہ پڑا۔ قابل کا آخری سہارا صرف دو سال چھوٹا قوتِ بازو بھی بیمار ہو گیا اور وہ بھی 1951 میں ساتھ چھوڑ گیا۔ آج بھی اپنے بھائی کی موت کا ذکر کرتے ہوئے، میں ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کو لرزتا دیکھا ہے اور شاید یہ حسرت اور یہ غم ان کو زندگی بھر ستائے گا کہ مفلسی اس منزل پر پہونچ چکی تھی کہ اس کی ایک آخری فرمائش بھی پوری نہ کر سکے۔
۔1951 میں جب ایک شاعر کی حیثیت سے ان کی شہرت عام ہوئی تو عوام نے ذاتی صورت میں دلچسپی لینی شروع کی اور جب
گوں نے اس فن کار کی غربت اور بیماری کو دیکھا تو صرف یہی نہیں کہ صاحبِ اقتدار حضرات کو توجہ دلانے کی کوشش کی بلکہ اخبارات کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایک شاعر گمنامی کے عالم میں ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ لہذا وزارتِ صحت اس کے علاج کا کوئی معقول اِنتظام کرے۔ کراچی اور سندھ کے اخبارات مسلسل لکھتے رہے۔ اداریے لکھے جانے لگے اور اپلیں چھپتی رہیں، یہاں تک کہ ان پیہم اخباری مطالبات سے مجبور ہو کر پیرزادہ عبدالستار کی وزارت کے زمانہ میں جب پیر علی محمد راشد وزیرِ صحت تھے، حکومتِ سندھ نے سولہ ہزار روپے ان کے علاج پر خرچ کرنے کی منظوری دیدی اور علاج کے لئے اٹلی بھیجنے کا اعلان کیا۔ اس کے چند روز بعد ہی پیرزادہ وزارت ختم ہو گئی اور محمد ایوب کھوڑو کو وزارت بنانے ی دعوت دی گئی۔ عوام نے اس حکومت سے بھی مطالبہ کیا۔ کھوڑو صاحب کے زمانے میں دوبارہ یہ مسئلہ یبنٹ میں پیش ہوا اور پھر ایک بار حکومت نے لبنان کے سینی ٹوریم میں علاج کے لئے بھیجنے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے کی کاروائی تقریباً مکمل
ہوچکی تھی کہ ون یونٹ بن گیا۔ وزارتیں بنتی رہیں اور ٹوٹتی رہیں شاعر چیختا رہا
تمہیں خبر بھی ہے یارو کہ دشتِ غربت میں
ہم آپ اپنا جنازہ اٹھائے پھرتے ہیں
ون یونٹ کے قیام کے بعد حیدر آباد میں گور مانی صاحب گورنر مغربی پاکستان کی صدارت میں ایک مشاعرہ انجمن ترقی اردو کی طرف سے منعقد ہوا جس میں گور مانی صاحب نے وعدہ کیا کہ اس کام کو مغربی پاکستان کی حکومت پورا کرے گی۔ لیکن وہ وعدہ بھی کہیں فضاؤں میں تحلیل ہو گیا۔
یہ شاعر، آج پھر زندگی کی ایسی منزل پر واپس آ گیا ہے، جس کے آگے ہر راہ مسدو داور منتظر تاریک ہے لیکن اس غم کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے فکر و فن کی شاہ راہ پر مسلسل گامزن ہے۔ ان حالات میں زندہ رہنا اور اپنے فن کو زندہ رکھنا کتنا مشکل کام ہے۔ لیکن کبھی تاریکی میں ایسے شعلے بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو دل کی دنیا کو پر نور بنا دیتے ہیں اور ہمارے جذبات و احساسات کا ہر تار جھنجھنا اٹھتا ہے اور یہی وہ منزل
ہے، جہاں پہونچکر ایک فن کار عام لوگوں سے بلند تر نظر آتا ہے اور اس کی انفرادیت اپنے کو منور کر دیتی ہے۔
قابل حادثاتِ زمانہ سے دو چار رہے ہیں کہ اب ہر سہارے سے ڈرتے ہیں اور ان کی امیدیں صرف بیکسی سے وابستہ ہیں۔ اس عالمِ یاس میں بھی قنوطیت کا رنگ نہیں۔
ضبط غم کا صلہ نہ دے جانا
زندگی کی دعا نہ دے جانا
بیکسی سے بڑی امیدیں ہیں
تم کو کوئی آسرا نہ دے جانا
۔قابل کی شاعری میں زندگی کی تلخیاں اور نفسیات کی باریکیاں ایسی سموئی ہوئی ہیں جس طرح ایک کامل مصوّر مختلف زنگوں کے
مزاج اور خطوط کی کشید سے ایک ایسی تصویر بناتا ہے کہ دیکھنے والوں پر سحر کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔
ضضشش
جناب سید مصباح حسین جیلانی صاحب آپ کا ایک بار پھر شکریہ کہ آپ اتنی محبت سے اس بلاگ میں دلچسبی لے رہے ہیں اور بہن نگہت نسیم بھی اپنا حصہ بٹا رہیں ہیں
ویڈیو کا تو وہ زمانہ تھا ہی نہیں البتہ کچھ یادگار تصاویر میں جلد ہی ضرور پیش کروں گا
جناب ظفر قابل صاحب کا دلی شکریہ کہ انہوں نے پروفیسر ارشد رضا صاحب کے مضمون کا وہ حصہ اس بلاگ میں شایع کیا جس میں قابل اجمیری کے ساتھ پاکستانی اربابِ اقتدار کی بد عہدی کی داستان شامل ہے۔ :
افسوس صد افسوس کہ پاکستان نے اس خدا داد نعمت کی حفاظت نہیں کی اور بالاخر اسے وقت سے قبل ضایع کردیا ۔
اس کے باوجود قابل نے اپنے اشعار میں صبح شادمانی کو رقص کرتے ہوئے پیش کیا:
گذاری نزع کے عالم میں تونے عمر اے قابل
ترے شعروں پہ صبح شادمانی رقص کرتی ہے
قابل احمیری نے اپنی زندگی دوزخ میں گذاردی مگر اب وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں جگہ پاچکا ہے اور اسکا مقام اردو شاعری میں قیامت تک زندہ رہے گا۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
۔سیَّدفَضْلُ المَّینْ راجستان کے معروف محقق ہیں راجستان اردو اکیڈمی کی جانب سے سہ ماہی نخلستان کا قابل نمبر اور اکیڈمی ہی جانب سے انتخاب قابل شائع کروا چکے ہیں قابل اجمیری پر گہری تحقیق رکھتے ہیں پیکر واسطی کے ایک مَضمُونْ پر انکے تبصرے آپ سب کی نذر
۔پَیکروَاسْطِی کا مَضمُونْ
قابل کا ذھنی اِرتقَا
3 اکتُبوبَر1962کی وہ بھیانک رات آج بھی دل ودماغ میں ایک طوفانِ گردوبد کی طرح زندہ ہے ۔ جب قابل اجمیری کو سپر دلحد کر کے آخری دیدار کروایا جارہا تھا، اس کی آنکھ ، کان ، ناک اور مُنہ پر روئی کے بڑے بڑے پھائے رکھے ہوئے تھے، مگر خون تھا کہ مرنے کے بعد بھی اس کے جسم سے رس رس کر بہہ رہا تھا ۔ تمام کفن تربہ تر تھا۔ آخر کسی سے یہ جگر خراش منظر نہ دیکھا گیا ۔ قبر بند کی گئی۔ دعا پڑھی گئی اور جنازے میں شریک سینکڑوں سوگوار اپنے اپنے گھروں کو چل دیے۔
خوش ورخشید ولے شعلہ مستعجل بود
۔پَیْکروَسطیْ
راقم الحروف کی پیدائش خواجہ غریب نواز(رح) کے آستانے کے سامنے ہوئی اور تقریباً عمِر عزیز کے25سال آستانے پر حاضری میں گزرے ، میرا اور قابل اجمیری کا مکان جھالرے کے نزدیک تھا۔ بچپن میں ہم حکیم محمد جمیل دہلوی سے قرآن ، عربی ، فارسی ، کا درس لیا کرتے تھے۔ حکیم صاحب کے جلال کے آگے میَں اور قابل صاحب دم نہ مارتے تھے، حکیم صاحب کا بیدہروقت آنکھوں کے سامنے رہتا تھا ۔
__پَیْکروَسطیْ
قابل کا مکان ترپولیہ گیٹ کی پولیس چوکی کے روبروتھا۔ جہاں آجکل یاد گار سگیسٹ ہاؤس تعمیر ہوچکا ہے۔ اگر پیکرو اسطی نے ان کے قول کے مطابق اپنی عمرِ عزیز کے 25 سال اجمیر میں گزارے ہیں ۔ اور تقسیم ملک کے بعد وہ47 ئ یا48 میں پاکستان منتقل ہوئے ۔ اس لحاظ سے ان کی تاریخ پیدائش 1922 قرار پائے گی اور اس طرح وہ قابل کی تاریخ پیدائش 1931 کی روشنی میں قابل سے ۸۔۹ سال عمر میں بڑے قرار پاتے ہیں اور اس طرح ان کا قابل کا ہمدرس ہونا محل نظر ہے۔ اور حکیم محمد جمیل دہلوی کا ذکر قابل کے کسی تذکرہ نگار نے نہیں کیا ہے۔ میں بھی ان کے متعلق کوئی علم وآگاہی نہیں رکھتا ہوں۔
۔سیَّدفَضْلُ المَّینْ
… عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم کے بعد مَیں جونیر کیمبرج اسکول میں چلا گیا لیکن قابل اجمیری نے دوسری راہ تلاش کی۔ فکر ِ معاش سے آزاد انھوں نے درگاہ بازار کے تنگ وتار یک ہوٹلوں میں راتیں گزارنی شروع کردیں۔ یہ ہوٹل تمام رات کھلے رہتے تھے اور شہر کے بے فکر ے شاعروں کا آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ ان ہوٹلوں کی پیداوار شعرا میں جناب نشاط اجمیری، نازی اجمیری ، پریمی ، اختر الحامدی ، وقار صدیقی اور سینکڑوں شعرا تھے۔
۔پَیْکروَسطیْ
ہوسکتا ہے قابل کا بچپن ان ہوٹلوں میں گزرا ہو۔ لیکن ان کی شاعری کا اور ان کا تعلّق متذکرہ شعرا سے ظاہر کرنا غلط بیانی ہ متذکرہ شعرا وقطعاً معاصر
نہیں ہیں۔
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ
ان سب لوگوں کا محبوب شاعر فانی بدایونی تھا۔ قابل کی ابتدائی شاعری درگاہ بازار کے ہوٹلوں میں پروان چڑھی ، فانی کی پیروی اور جگر کی زبان دانی اور روزمرّہ کو اپنا طرّئہ امتیاز بنایا اور رات رات بھر شاعروں کے ساتھ ہوٹلوں میں فکر انگیزیاں جاری رہنے لگی۔﴿کذا﴾
__پَیْکروَسطیْ
قابل کا کلام ہمارے سامنے ا وہ فانی اور جگر کی شاعری کے متعلق سے کہی گئی رائے کی تردید کرنے کے لیے کافی ہے۔
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ
فانی کی شاعری کے اثرات نے ہر نوجوان شاعر پر ایک قنوطیت اور ریاست کی فضا طاری کردی تھی اور وہ درگاہ بازار رکے گھٹے ہوئے ہوٹلوں سے ہٹ لر ماحول کو دیکھنا بھی نہیں جانتے تھے۔ قابل کی ابتدائی شاعری جو غیر مطبوعہ ہے۔ انھیں تفکّرات اور خیالات کی آئینہ دار تھی۔ دماغ میں ان کی ابتدائی شاعری کے ﴿جو درگاہ بازار کی پیداوار تھی﴾ زاویے کچھ مندرجہ ذیل تھے:
۔فقط مِری موت تک ہے قائم یہ رنگِ رخ یہ حجاب تیرا
ادھر تو بندِ کفن بندھیں گے اُدھر اُٹھے گا نقاب تیر
جہاں کو ند کر مسکراتی ہے بجلی
وہیں گھر بنانے کو جی چاہتا ہے
جتایا ہے احسان وہ نا خُدا نے
کہ اب ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے
وہی لچک وہی نرمی وہی تڑپ صیّاد
تری کلائی ہے یا شاخ آشیانے کی
یہ کہ دو ان سے ہم بھی نگاہ رکھتے ہیں
نقاب رُخ سے ضرورت نہیں اٹھانے کی
یہ قابل کی ابتدائی شاعری کے چند نقوش تھے جب وہ صوفی ارمان اجمیری سے اصلاح لیا کرتے تھے۔
__پَیْکروَسطیْ
۔قابل کی ابتدائی شاعری جو غیر مطبوعہ ہے ، کہہ کو جو اشعار قابل کے ظاہر کیے گئے ہیں ان کے مآخذ حوالہ ضروری تھا۔ کیا یہ قابل کی بیاضِ شعر سے لیے گئے ہیں یا صرف پیکرواسطی کے اپنے دماغ کی دین ہیں۔ قابل کا کلام جوان کے مجموعوں میں شامل نہیں ہے اور اجمیر کے اخبارات میں نظر سے گزرا ہے ان میں متذکرہ بالا اشعار کی زمینوں میں کہے گئے اشعار نہیں ملتے ہیں اگر یہ واقعی قابل کے اشعار ہیں تو اس کے ابتدائی نمونہ کلام کے سلسلے میں نہایت اہم ہیں۔
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ
صوفی ارمان صاحب ، لوکوورکشاپ میں ہیڈ کلرک تھے۔ دن کو نوکری کیا کرتے تھے، اور رات کو شب بیداری اور عبادت ۔ قابل روزانہ دس بارہ غزلیں کہتے اور صوفی ارمان صاحب کی خدمت میں سرِ شام حاضر ہوجاتے ، صوفی صاحب کی عیادت گزاری میں خلل پڑنے لگا اور انھوں نے اصلاح سے معذوری ظاہر کی۔
__پَیْکروَسطیْ
ارمان کو صوفی کہنے، شب بیداری اور عبادت کا ذکر کرنے اور عبادت میں خلل پڑنے کے باعث اصلاح سے ان کی معذوری ظاہر کرنے والا یہ تمام بیان مبالغہ اور خوشی فہمی پر مبنی ہے۔ ارمان نہ ایسے صوفی تھے نہ ایسے عبادت گزار کہ اصلاحِ سخن باعثِ خلل ہوتی، ان کے تلامذہ کا کثیر حلقہ تھا۔ یہ برابران کی اصلاحِ سخن کا کام انجام دیتے تھے۔ خود شعر کہتے تھے اور برابر مشاعروں میں شرکت کرتے تھے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے تصّوف پر ان کی شاعری حاوی تھی اور یہ صوفی نہیں شاعر تھے۔ قابل کے ترکِ تلمذّ کا باعث ارمان کی عبادت نہیں۔ ارمان کی استاد انہ مہارت اور شعر گوئی کی عدم صلاحیت تھی۔وہ اور ان کے تلامذہ اس قسم کی شاعری کرتے رہے تھے۔ جسے قافیہ پیمائی اور تک بندی کا نام دیا جاسکتا ہے۔
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ
قابل کے تلمذّ سخن کے سلسلہ میں پَیکرواسطی کا کہنا ہے …”کچھ دن ابراحسنی گنوّری مرحوم سے بھی رابط اصلاح رہا …”
۔اس بیان کے لیے ثبوت کوئی نہیں ہے۔ابرا حسنی کی آمدِ اجمیر اور قیام ِ اجمیر سے بہت پہلے قابل مولٰنا خواجہ معنی اجمیری (رح) کے حلقہ ئ تلامذہ میں آچکے تھے اور ابراحسنی کے بہت ہی قریبی تعلّق مولٰنا خواجہ معنی اجمیری سے تھے اور وہ ان کے علم و فضل کے نہ صرف قائل تھے بلکہ ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ اس لیے اس کا امکان ہی نہیں کہ وہ مولٰنا خواجہ معنی اجمیری (رح) کی موجودگی میں ان کے کسی تلمیذ کی اصلاحِ سخن کا ذمّہ داری قبول کرتے۔
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ
… لیکن ایک دن میں ان کو مولٰنا عبدالباری معنی کے دیوان خانے میں لے گیا ۔ وہ کسی کو اپنا شاگرد نہیں بناتے تھے۔ لیکن میرے کہنے پر مولٰنا اصلاح کے لیے راضی ہوگئے اور اب قابل کے لیے فن کی نئی راہیں کھل گئیں۔اب وہ قنوطیت یاسیت کے دائرے سے بھی نکل آئے اور طمانیت کی کھلی فضائیں سانس لینے لگے ۔مولٰنا عبدالباری معنی کا کتب خانہ جس میں تقریباً دس ہزار کتابیں تھیں ، قابل کے بہت کا م آیا۔
پیکر واسطی
۔اس بیان کے سلسلہ میں حالات کے ذیل میں ہیَں اپنی رائے کا اظہار کرچکا ہوں ، ملاخط ہو:
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ
میونسپل لائبریری میں تمام ہندوستان کے رسائل اور میگزین آتے تھے اور اب وہ پہلی مرتبہ ترقی پَسند شعرا کے کلام کے مطالعے سے محفوظ ہوئے۔ لیکن افسوس کہ درگاہ بازار کے تاریک ہوٹلوں کی بھیٹک انھوں نے رات رات بھر اب بھی نہ چھوڑی اور دن رات زہریلی اور کڑوی چائے پی پی کر ان کی صحت پر بُرا اثر ہوا اور ان کا مورتی مرض تپِ دق پہلی مرتبہَ ۲۴۹۱ئ میں ظاہر ہوا ۔جب وکٹوریہ اسپتال میں ان کا پہلا ایکسرے ہوا ۔ ماں باپ بھائی سب مرچکے تھے ۔محبوبہ دوسرے گھر کی زینت بن چکی تھی اور اس پر یہ تاثر کہ میرے جسم میں موت کے جراثیم موجود ہیں۔ ان کو زندہ درگو کرنے کے لیے کافی تھا۔ لیکن انھوں نے خوش آیند مستقبل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور نگارِ غزل کی زلفوں کی تراش خراش میں دن رات مصروف رہتے تھے۔
اس زمانے میں جگر اور عبدالحمید عدم ان کے محبوب شاعر تھے اور ان کا رنگِ کلام قنوطیت کے ساتھ ساتھ ایک اور جائیت کا پہلو بھی لیے ہوئے تھا۔
__پَیْکروَسطیْ
۔درگاہ بازار کے تاریک ہوٹلوں میں بھٹیک کا ذکر ، محتاجِ ثبوت ہے ۔قابل وہاں کبھی نظر نہیں آئے ۔تپِ دق کے مرض کو موروثی قرار دینا اور ماں، باپ، بھائی سب کا اسی باعث انتقال کرجانا ۔ ہماری معلومات میں اضافہ کرتا ہے۔ اس مرض کا پہلی مرتبہ 1942 میں قابل پر حملہ کرنا صحیح ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ان کی عمر اس وقت صرف ۱۱سال تھی۔اور اس کی روشنی میں پیکرواسطی کا قابل اور ان کی شاعری کے سلسلہ میں ہر ایک بیان مشتبہہ قرار پاتا ہے۔چونکہ ۱۱سال کی عمر میں قابل کے شعر کہنے کی بات کسی نے بھی نہیں کہی ہے۔ اس طرح درگاہ بازار کے ہوٹلوں میں قابل کی نشست ان کی شاعری کاہر قصّہ جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ہوٹلوں کی نشست ان کی شاعری سے پہلے کم عمری میں تھی۔
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ
. . . ۶۴۹۱ئ کے چند غیر مطبوعہ اشعار اب بھی ذہن میں تازہ ہیں :
۔….
میری دُنیا ایک کنول
کتنی سہانی ، کتنی سجل
ایک ہی رستہ ایک ہی پگ
کوثر و زمزم ، گنگا جل !
ان کی خوشی پہ جان دوں میری خوشی خوشی نہیں
جیسے وہی تو ہیں خدا ، میں کوئی چیز ہی نہیں
ہونہ سکا جہان میں کوئی حریفِ روئے یار
چاند میں رنگ و بو نہیں پھول میں روشنی نہیں ۔
__پَیْکروَسطیْ
چونکہ ان اشعار کو غیر مطبوعہ کہا گیا ہے۔ اور اپنے ذہن کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس لیے اعتماد کرنا مشکل ہے۔ اور آخری شعر، جسے قابل کا کہا گیا ہے۔ دراصل مولٰنا خواجہ معنی اجمیری کا شعر ہے۔
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ ….
قابل کی شاعری کا تیسرا دَور 1947 کے بعد کا ہے۔ 1948 میں دو روزنامہ “جاوید”حیدرآباد سے بحیثیت قطعہ نگار منسلک تھے۔ اور ان کا تازہ کلام “جاوید”اور” آفتاب”میں نا چیز بحیثیت چیف ایڈیٹر روزانہ بلانا غہ سپردِ قرطاس کرتا تھا۔ اس زمانے میں قنوطیت یاسیت کے ساتھ ساتھ ماحول کی عکّاسی اور روز مرّہ زندگی کے نفسیاتی پہلوان کے کلام کا جزوِ لانیفک بن گئے۔ اب وہ فیض احمد فیض سے بہت متاثر تھے اور فیض کا تاثر 1952کے بعد اور گہرا ہوگیا تھا۔
۔
جنونِ بے سرد ساماں کون کرے
جو تم ملو تو گلستان کی بات کون کرے
کسی کی زلف پریشان کسی کا دامن چاک
جنوں کو لوگ تماشا بنائے پھرتے ہیں ۔
غرض روز مرّہ نفسیات کی عکاسی 1953 کے بعد ان کے کلام میں فیض کا پَر تو لیے ہوئے ہے۔
__پَیْکروَسطیْ
مناسب تھا کہ جاوید اور آفتاب میں مطبوعہ کلام کو نمونہ کلام کے طور پر دیا جاتا ۔ اور جہاں تک فیض کے اثرات کا تعلق ہے اور نمونہ کے طور پر دیے گئے دو اشعار کی بات ہے۔ اس سے ظاہر ہے فیض کا اثر قابل نے کہاں تک قبول کیا ہے۔ فیض اور قابل کے کلام میں یکسانیت کی بات کہنا یا اثرات کا اظہار کرنا ، آسان نہیں مشکل ہے۔ بعض اشعار کی روشنی میں کسی بھی شاعر کو کسی کے بھی زیرِاثر کہا جاسکتا ہے۔
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ
. . . ان کے دو مجموعہ کلام منظرِ عام پر آچکے ہیں جس کے مطالعے سے ان کی ماحول کی عکاّسی کا حتمی ثبوت مِل سکتا ہے۔ یہاں غرض ان کے غیر مطبوعہ کلام سے ہے جس کی چند جھلکیاں پیشِ خدمت ہیں:
پھر شامِ خیال ڈس رہی ہے
آنکھوں سے افق برس رہی ہے
ہم ہیں کہ ہمارے ساتھ اب تک
تقدیر بھی ہم قفس رہی ہے
ہر پھول کے پہلو میں چبھویا کیے کانٹے
خاروں سے کسی اور کو دیکھا نہ گیا خوش
ہاں دل کا جو عالم ہے ، چھپایا نہیں جاتا
درِ زنداں سے ٹکراتے ہیں یادوں کے حیس جگنو
ٹپکتے ہیں وہاں آنسو ، لزرتے ہیں یہاں نالے
کیا کیا بنا بنا کے ہیولے مٹائے ہیں
یہ روشنی یہ موجِ رنگ
__پَیْکروَسطیْ
مندرجہ بالا اشعار کو غیر مطبوعہ کلا م کہا گیا ہے۔ یہ اشعار بھی بلا حوالہ نقل کیے گئے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے پیکرواسطی نے اپنی یاداشت سے تحریر کیے ہیں۔
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ
مندرجہ بالا مضمونُ قابل کا ذہنی ارتقا ‘ ہفت روزہ و فکر وعمل ‘ حیدرآباد کے قابل نمبر ‘ 30 ستمبر 1977 میں شائع ہوا ہے ۔ اس مضمون میں قابل اجمیری اور قابل کے اجداد کے تعلّق سے ایسی باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ جن کوئی اصل و حقیقت نہیں ہے۔ کوئی سند اور مآخذ نہیں ہے۔ اس لیے ان کو نظرانداز کر کے اس مضمون کے وہ حصّہ نقل کیے گئے ہیںجو قابل کی ذات حیات اور شاعری سے متعلّق ہیں۔
پیکرو واسطی کے مضمون پر تفصیلی بحث اس لیے کی گئی ہے کہ اس طرح قابل کے حالاتِ زندگی کے ایک راوی کی غلط بیانی سامنے آئے۔قابل کی وفات کے بعدبہت سے ایسے افراد سامنے آئے اور انھوں نے قابل سے اپنے تعلّق کا اظہار کیا۔ اور اس پر مضامین لکھے ۔جن کا قابل سے کوئی تعلّق تھا نہ وہ اس سے اچھی طرح واقف تھے۔ضروری ہے کہ قابل کے سلسلہ میں کہی گئی ہر غلط بات کی تردید کی جائے۔ورنہ آئندہ قابل کے سوانخ نگار کے لیے ایسے مسائل پیدا ہوجائیں گے جن کا دور کرنا مشکلات کا سبب ہوگا۔
__سیَّدفَضْلُ المَّینْ
پیکرو اسطی نے قابل اجمیری پر جس انداز سے مضمون لکھا ہے وہ تحریر قابل اور پیکر کے تعلّق پر کچھ اور روشنی ڈالتی ہے لیکن حقیقت حال کیا ہے وہ مندرجہ ذیل عبارت سے ظاہر ہوتی ہے؟
سیَّدُبنیَاد حُسَیْن زَیدی__پَیْکروَسطیْ
. . . ادبی ذوق فظری تھا، حضرت قابل اجمیری کی رہنمائی میں شاہراہِ ادب پر گامزن ہوگئے، حالانکہ ان کے نانا قمر جلالوی تلمیذ حضرت امیر منیائی خود ایک لمستند شاعر تھے۔ مگر جناب اجمیری کی اَدبی صلاحیتوں سے اس درجہ متاثر رہے کہ ان کی زندگی میں کسی اور طرف متوجہ نہ ہوئے اور اب ابھی انہیں کے تلاندہ میں شمار کیے جاتے ہیں
صَفْحَہ ۷۵، تَذکَرہ شُعْرَائے اُردو۔حَیْدرآباد
مَطبوُ عَہ جَنوریْ 1970
ث
اگر ہم قابل اجمیری کی زندگی کا ذکر کریں گے تو میرے خیال میں محترم حمایت علی شاعر اور محترم محسن بھوبالی کا ذکر بھی ضرور آئے گا کیونکہ وہ تمام تذکرہ نگار جو ان کے قریب رہے ان سب نے ہی ان سب کا تذکرہ ایک تثلیث کی صورت میں کیا ہے بلکہ یہ موضوع کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکا ہے اس سلسلے میں میں نے جو تحقیق کی ہے وہ آئیندہ مکمل کلیات قابل میں شامل کر رہا ہوں
قابل اجمیری اور جگر مراد آبادی دونوں میرے پسندیدہ شاعر ہیں اور انکا کافی کلام مجھے زبانی یاد ہے ۔ میں سخن ہونے کا دعویٰٰٰ تو نہیں کرسکتا لیکن یہ ضرور کہونگا کہ مجھے قابل جگر یا فانی میں کوئ مماثلت نظر نہیں آتی۔ قابل کا منفرد اسلوب اور اس ہی طرح منفرد آہنگ تھا۔ قابل نے ایسی جدید غزل کہی ہے جس میں خیال، الفاظ کی بندش اور شیریں بیانی لاجواب ہے۔
ظفر قابل صاحب نے اپنے 11 جون کے تبصرے میں مجھ سے مخاطب ہوکر یہ فرمایا تھا کہ:
“محترم قاضی صاحب نے میری والدہ محترمہ کے ایک انٹرویو سے متعلق میری رائے مانگی ہے مگر میں یہاں کیا بتائوں کہ وہ الفاظ کہاں سے لائوں جو میری ترجمانی کر سکیں میرا اور انکا ساتھ 40 سال کا تھا اس موضوع پر میں لکھ نہیں پائوں گا آپ اس سے انداذہ کر لیں کہ انہوں نے انتقال سے ایک ماہ پہلے مجھے زندگی کا پہلا اور آخری خط حیدرآباد سے سکھر لکھا تو وہ خط دیکھ کر حیدرآباد پہنچ گیا تھا آج تک وہ لفافہ بند رکھا ہے“
میں ظفر قابل صاحب کی اس تبصرے کو بار بار پڑھتا جاتا ہوں اور انکی اپنی ماں مرحومہ سے عقیدت کی انتہا کا اندازہ لگا نے کی کوشش کر اہوں کہ انہون نے اپنی ماں کے بھجوائے لفافے کو ( جس میں زندگی کا پہلا اور آخری خط موجود تھا ) اپنے جذبات کی شدت کے باعث اب تک نہیں کھولا اور اسکی مشمولات ابھی تک نہیں پڑھی۔
ظفر قابل صاحب سے یہی عرض ہے کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے ، مگر میں ان سے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ۔ اللہ انکو ہزاروں سال صحت و تندرستی کے ساتھ اس دنیا میں سلامت رکھے ،
مگر یہ حقیقت ہے کہ اس فانی دنیا میں کوئی بھی کسی وقت اِس دنیا سےاُس دنیا کو کوچ کرسکتا ہے ۔
ممکن ہے کہ انکی ماں نے اپنے مرنے سےپہلے انکو کوئی وصیت کی ہو گی اور اس کی تعمیل کی ہدایت بھی کی ہوگی او راسکے علاوہ اور بھی کئی تاریخی باتیں بھی اس خط میں لکھی ہونگی جن کا تعلق قابل کی زندگی سے ہوگا ۔
اس لیے اپنے لیے نہیں تو اپنی ماں اور باپ کی روحوں کی تسکین کے لیے وہ اس لفافے کو ضرور کھول کر اسکی مشمولات کو پڑھ لیں ( یہ انکے لیے ہیں اس لیے انکا تذکرہ اس بلاگ میں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں) ۔
ویسے انکی اپنی مرضی ۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
ظفر قابل صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے مجھ سے مخاطب ہوکر یہ فرمایا کہ :
“اگر ہم قابل اجمیری کی زندگی کا ذکر کریں گے تو میرے خیال میں محترم حمایت علی شاعر اور محترم محسن بھوبالی کا ذکر بھی ضرور آئے گا کیونکہ وہ تمام تذکرہ نگار جو ان کے قریب رہے ان سب نے ہی ان سب کا تذکرہ ایک تثلیث کی صورت میں کیا ہے بلکہ یہ موضوع کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکا ہے اس سلسلے میں میں نے جو تحقیق کی ہے وہ آئیندہ مکمل کلیات قابل میں شامل کر رہا ہوں“ ۔
اس سلسلے میں میں ظفر قابل صاحب سے یہ ہی کہونگا کہ وہ اپنی تحقیق کے نتائج “ آئیندہ مکمل کلیات ِ قابل “ میں ضرور شایع کریں مگر“ اس بلاگ“ میں شامل کرنے سےپہلے وہ “ محترم “ حمایت علی شاعر سے ( جو ابھی تک اس دنیا میں موجود ہے ) سے بھی پوچھ گچھ کرلیں کہ آیا جو جو کچھ تذکرہ نگاروں نے اسکی “ قابل دشمنی“ کے متعلق لکھا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
محترم منظور قاضی منظور صاحب سے گزارش ہے کہ جیسا کہ اس بلاگ کا عنوان ۔’’عشق انسان کی ضرورت ہے‘‘ رکھا گیا تھا تو میں اسی موضوع پر چلنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسی کتاب سے متعلق مواد شامل کروں جیسا میری مندرجہ بالا تحریروں سے دیکھا جا سکتا ہے میں نے اس کتاب میں چھپنے والا مضموں اور اس کتاب پر جو تبصرے ہوئے وہ ہی شامل کیے البتہ کچھ غلط باتوں کی تردید کے لئے ایک مضمون ماہر قابللیات جناب فضل المتین کا شامل کیا جس میں اس موضوع سے متعلق کوئی بات نہیں ہے
جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ جب ان کی زندگی کا ذکر آئے گا تو یہ تذکرہ بھی آئے گا وہ اسی لئے کہا ہے کہ جتنے بھی لوگ ان کی زندگی میں ان کے ساتھ رہے ہیں ان سب نے ان باتوں کا تزکرہ کیا ہے اب رہی یہ بات کہ محترم حمایت علی شاعر صاحب سے وضاحت لی جائے تو گزارش ہے کہ وہ ان تمام باتوں کی وضاحت کر چکے ہیں روزنامہ قومی اخبار نے انہیں پورا موقع فراہم کیا تھا اور انہوں نے چھ قسطوں پر اپنا موقف دیا نیز جب میری ترتیب دی گئی کلیات قابل 1994 میں شائع ہوئی تھی تو میں نے محترم حمایت علی شاعر صاحب کا موقف بھی اس میں من وعن شائع کیا تھا اس کے بعد ان کی جانب سے اس موضوع پر ایک کتاب احوال واقعی کے نام شائع ہوئی جو پوری دنیا میں تقسیم ہوئی میری ان سے 24 اگست 1995 کو انکے دولدکدے پر پانچ گھنٹوں پر محیط ملاقات بھی ہوئی جس کا موضوع یہی رہا
میرا اس بلاگ میں اس موضوع پر کوئی تبصرہ یا پہلے سے شائع مواد شامل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ممتاز راشد صاحب کا مضمون کتاب عشق انسان کی ضرورت ہے کے دیپاچے کے طور پر شائع ہوا تھا اس لئے میں نے اسے یہاں شامل کیا۔اس مضمون کی افادیت کا بھی سبھی اعتراف کر چکے ہیں اب میرے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ میں اپنے والد کی کتابوں میں محترم حمایت علی شاعر کی اجازت اور تائید سے مضامین شامل کروں
اس موضوع پر میرا موقف اور تحقیق کیا ہے وہ میں ضبط تحریر میں لا چکا ہوں اور وہ کلیات قابل کے آئیندہ ایڈیشن کا حصہ بنے گا میں محترم سید فضل المتین کی اس بات سے صد فی صد اتفاق کرتا ہوں کہ
ضروری ہے کہ قابل کے سلسلہ میں کہی گئی ہر غلط بات کی تردید کی جائے۔ورنہ آئندہ قابل کے سوانخ نگار کے لیے ایسے مسائل پیدا ہوجائیں گے جن کا دور کرنا مشکلات کا سبب ہوگا۔
ظفر قابل صاحب سے عرض ہے کہ میرےپاس نہ کلیات ِ قابل قابل موجود ہے اور نہ وہ تمام کتابیں جن میں قابل کےسوانح نگاروں کے چھوٹے سچے تذکرے موجود ہیں۔
میں صرف اس موجودہ قابل اجمیری کی کتاب “ عشق انسان کی ضرورت ہے “ کے عنوان والے بلاگ کے وقار کے بارےمیں اب تک جو کچھ لکھا ہوں اسی پر قائم ہوں ۔
میں ایسا نہ کہتا اگر ممتاز راشد کے( اوپر شایع کیے گئے) ایک مقالے میں کسی کا یک طرفہ تذکرہ حمایت علی شاعر کے بارے میں شامل نہ ہوتا ۔
۔۔۔۔۔۔
میں بھی ظفر قابل صاحب کی طرح :
“ محترم سید فضل المتین کی اس بات سے صد فی صد اتفاق کرتا ہوں کہ
ضروری ہے کہ قابل کے سلسلہ میں کہی گئی ہر غلط بات کی تردید کی جائے۔ورنہ آئندہ قابل کے سوانخ نگار کے لیے ایسے مسائل پیدا ہوجائیں گے جن کا دور کرنا مشکلات کا سبب ہوگا۔“
۔۔۔۔۔۔۔
ظفر قابل صاحب سے یہی عرض ہے کہ و ہ اپنے والد کے نام اور کلام اور انکی سوانح عمری کے سلسلے میں جو کچھ اس بلاگ میں شایع کرنا چاہتے ہیں ، کرتےرہیں۔
۔۔۔
میری دلی تمنائیں اور دعائیں ظفر قابل صاحب کے ساتھ ہیں۔
فقط
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
امین ترمذی صاحب نے اپنے 4 جون کے تبصرے میں یہ اطلا ع شامل کی تھی :
“یک اہم بات تمام سامعین کو یہ بتانا چاہتا ہو کہ انشااللہ بیس جون کو ظفر صاحب کا لائیو پروگرام اپنے ریڈیو سے پیش کروں گا گو کہ میں اس سے قبل بھی قابل اجمیری صاحب پر پروگرام کر چکا ہوں لیکن یہ پروگرام یقیناً سننے کے قابل ہوگا جس کی تفصیل آئندہ جلد بتاؤں”
……
امین ترمذی صاحب سےدرخواست ہے کہ وہ اس پروگرام کی تفصیل بتادیں اس لیےکہ بیس جون قریب آگئی ہے.
…
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
چند مذید مضامین جمع کیے ہیں مگر جمعے کو حیدرآباد پہنچ کر پوسٹ کر پائوں گا
آپ سب کی دعائوں کا طالب
ظفر قابل
مجھے ہر شاعر کی غزلوں کے مقطع کے اشعار پڑھنے کی خواہش اس لیے ہوتی ہے کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس نے اپنے تخلص کو کس طرح استعمال کیا ہے ۔ اور کیا مقطع کےاشعار زبان زدِ خاص و عام بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔
غالب اور میر اور تقریباً تمام اساتذہ کی تقریبا تمام غزلوں کےمقطع کے اشعار قبولیت عوام اور حیاتِ دوام حاصل کرچکےہیں۔
یہی خصوصیت اور خوبی حالیہ دور کے چند ایک سخنور ( جن میں قابل اجمیری سرِ فہرست ہیں ) کی غزلوں کے مقطع کے اشعار میں پاتا ہوں ۔ ( یہی بات قمر جلالوی کی غزلوں کے مقطع کےاشعار میں ہے۔)۔
آج میں ظفر قابل صاحب کی بھجوائی ہوئی انکے والد مرحوم قابل اجمیری کی کتاب “ عشق انسان کی ضرورت ہے“ سے قابل اجمیری کی غزلوں کے مقطع کے اشعار پیش کرتا ہوں جو میرے خیال میں حیاتِ دوام حاصل کرچکےہیں۔ ( یہ خوبی قابل اجمیری کے ہم عصر شعرا کی غزلوں کے مقطع کے اشعار میں نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو صرف گنی چنی غزلوں کے مقطع کے اشعار میں ہے ) ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب میں قابل اجمیری کی بہت ساری غزلوں کے مقطع کے اشعار پیش کرتا ہوں ۔
1۔ قابلِ درد آشنا کےلیے
اک مسیحا رہی ہے تیری یاد
2۔ اُس کے طرزِ کلام سے قابل
کتنے وحشی ادیب ہوتے ہیں
3۔ وہ اپنی جفا پر پشیماں ہے قابل
محبت کو اب آسرا کون دے گا
4۔ پھول توپھول ہیں اس دورِ ہوس میں قابل
لوگ کانٹوں کو بھی چُن لیتے ہیں ویرانےسے
5۔ قابل مری نگاہ کے چرچے ہیں دور دور
آتا ہے بت کدے میں مسلماں کبھی کبھی
( نوٹ : اس غزل کا یہ شعر بھی خوب ہے کہ :
کیسا شراب خانہ ، کہاں کا صنم کدہ
کعبے میںلٹ گیا ہے مسلماں کبھی کبھی )
اتفاق کی بات ہے کہ دو سال قبل ڈلس امریکہ میں ، ایک مشاعرہ مصحفی کی غزل کے ایک طرحی مصرعے پر منعقد ہوا تھا جس میں ایک ہندو شاعر راجیو چکرورتی نے اپنا یہ شعر پڑھا تھا کہ :
تعلق دیر سے ، رشتہ حرم سے ہے تو بس اتنا
مسلسل لوٹا جاتا ہے انہی کے درمیاں مجھ کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہر کیف : قابل اجمیر ی کی غزلوں کے مقطع کے چند ایک اشعار پیش کرتا ہوں:
6۔ روش روش پر میں زخمِ دل کا لہو چھڑکنا بھی جانتا ہوں
مرے چمن کا فروغ قابل بہار پر منحصر نہیں ہے
7۔ ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو ، بگڑ کے قابل سےجارہے ہو
مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کروگے
8۔ ہوس کے دور میں قابل سے عظمتِ فن ہے
غزل سرا بھی رہا ذکرِیار بھی نہ کیا
9۔ اجل کی گود میں قابل ہوئی ہے عمر تمام
عجب نہیں کہ مری موت زندگی ہوجائے
10۔فراقِ دوست سلامت کہ اہلِ دل قابل
نفس نفس کو زمانہ بنائے پھرتے ہیں
11۔ خوشبوئے انتظار سے مہکی ہوئی ہے رات
قابل نہ جانے کس کو بلاتی ہے چاندنی
12 ِہمیں پر منحصر ہے رونقِ بزمِ جہاں قابل
کوئی نغمہ ہو اپنا ہی رہینِ ساز ہوتا ہے
13۔ منزل ِ شب میں یہی رخت ِ سفر ہے قابل
درد کی خیر مناتا ہوں سحر ہونے تک
14۔ کون ہوتا ہے جفاوں پہ پشیماں قابل
کوئی بیداد بعنوانِ وفا باقی ہے
15۔ خنداں نہیں! مہک نہیں، رعنائیاں نہیں
قابل یہ پھول ہیں کہ جنازے بہار کے
16 قابل وہ میرے ساتھ رہے ہیں تمام عمر
مجھ کو مری نگاہ سے پنہاں کئے ہوئے
17۔ ہم سفر مل جائیںگے درد آشنا مل جائینگے
قابل اپنی داستانِ غم بیا ں کرتے چلو
18۔ کچھ نئی بات تو نہیں قابل
ہجرمیں بے کلی ہی رہتی ہے
19۔ یہ اور بات کہ تقد یر سوگئی قابل
وگرنہ دیدہ ء بیدار ہم بھی رکھتےہیں
20 ۔ رضائے دوست قابل میرا معیارِ محبت ہے
انہیں بھی بھول سکتا تھا اگر اُ ن کی خوشی ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی آئندہ پھر کبھی :
کمپوزنگ کی غلطیوںکی معافی چاہتے ہوئے :
منظور قاضی
جرمنی سے
قابل کی چند اور غزلوں کے مقطع کے اشعار پیش کرنے سےپہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں جب ساحر لدھیانوی کی شاعری پر بلاگ لکھرہا تھا اس وقت یہ کوشش کی کہ ساحر کی غزلوں کے مقطع کےاشعار پیش کرون مگر مجھے ناکامی اس لیے ہوئی کہ ساحر کی کسی بھی غزل میں اس کا تخلص نظر نہیں آیا۔ وہ بغیر مقطع کی غزلیں کہنے کے باوجود انتہائی کامیاب شاعر تھا !!!
۔۔۔۔
21۔ رخصتِ دوست پہ قابل دلِ مایوس کو دیکھ
اک سفینہ ہے کہ ساحل سے جُدا ہوتا ہے
22۔اک جھومتے بادل نے چپکے سے کہا قاتل
ہنگامِ گل آیا ہے ساقی نے بُلایا ہے
23۔ گذاری نزع کے عالم میں تونے عمر اے قابل
ترے شعروں میں لیکن زندگانی رقص کرتی ہے
24۔ دل میںمچل رہی ہے مسیحا کی آرزو
قابل نشاطِ درد ابھی معتبر ابھی
25۔ مجھے کیوں ہو غمِ انجام قابل
خرابِ عشرتِ آغاز ہوں میں
26۔ راستہ کٹ ہی جائے گا قابل
شوقِ منزل اگر سلامت ہے
27۔ بصد رشک قابل کی آوارگی کو
غزالانِ دیر و حرم دیکھتے ہیں
28۔ آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے
اہلِ دل اندیشہ ء سود و زیاں تک آگئے
29۔ بڑھتی جاتی ہے تشنگی قابل
آگہی کی شراب تو دیکھو
30۔قابل دلِ صد چاک ہے سوغات جنوں کی
جی بھر کے اِسے پیار کرو موسمِ گل ہے
31۔ قابل فراقِ دوست میں دل بجھ کے رہ گیا
جینے کے حوصلے بھی فروزاں نہ کرسکے
32۔زمانہ دیکھ لے گا اور تھوڑی دیر باقی ہے
ہمیں نیند آگئی قابل کے طو فانوں کو نیند آئی
33۔کتنی شمعیں بجھا کے اے قابل
دل میں اک روشنی اُتاری ہے
34۔مرے خلوص کا عالم نہ پوچھئے قابل
شکستِ جام سے آوازِ زندگی آئی
35۔ قابل اُن کی بے نیازی کا کرشمہ دیکھیے
اپنی جانب ہوگیا ہے سارے افسانوں کا رُ خ
36۔ کوئی احسان کرکے قابل پر
دوستی کی سزا نہ دے جانا
37۔ کس توقع پہ اہلِ دل قابل
زندگی سے نباہ کر بیٹھے
38۔ اضطرابِ دل سے قابل وہ نگاہ ِ بے نیاز
بے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں
39۔ قابل کشاکشِ سحر وشام کی قسم
مرنے میں ہے نجا ت مگر جی رہے ہیں ہم
40۔ہم محبت میں مٹ گئے قابل
اب کوئی غمگسار سا کیوں ہے
41۔صاحبِ درد ہو کے ہم قابل
کوچہ ء چارہ گر میں رہتے ہیں
42 بہ طرزِ فکر یہ رنگ سخن کہاں قابل
ترے کلام سے پہلے ترے کلام کے بعد
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یہ سلسلہ ختم کرنےسے پہلے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر میں اس کی کسی غزل کا مقطع ان دو تبصروں میں پییش نہ کرسکا یا قابل کے کسی اشعار کی کمپوزنگ میں کوئی غلطی کی ہو تو براہ کرم اس کی تصحیح کردیجئے ۔
۔۔۔۔۔۔
فقط:
قابل کی شاعرانہ عظمت کا معتقد
منظور قاضی
جرمنی سے
تصحیح :
اوپر کےلکھے ہوئے 22 نمبر کےشعر میں قاتل کی بجائے قابل پڑھیے ۔ شکریہ
محترم قاضی صاحب اسلام علیکم
آج ہی ظفر قابل صاحب کا کراچی سے فون آیااور انہوں نے مجھے بتایا کہ منظور قاضی صاحب نے پروگرام کی تفصیل کے لئے دریافت کیا ہے میں منظور قاضی صاحب مصباح حسین صاحب اور دیگر محبانِ عالمی اخبار کا بے حد ممنون ہوں کہ انہوں اس بھولے بسرے لیکن ایک انتہائی اہم شاعر کے بلاگ میں اس قدر دلچسپی لی کہ بہت عرصے بعد ایک بلاگ اپنی سنچری مکمل کرنے کے قریب ہے انظامیہ بھی یقیناً اس اردو ادب دوستی پر قابل تحسین ہے
آپ نے ظفر قابل صاحب کے انٹرویو کے لئے دریافت کیا ہے جو آپ کی قابل اجمیری سے لگاؤ کا اظہار ہے میں نے اس پروگرام میں تھوڑی سی تاخیر کا ارادہ کیا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ ماہ اگست میں قابل اجمیری مرحوم کی پیدائش کا موقع ہے. عموماً میں صاحبِ پروگرام کی ان تاریخوں کا خیال رکھتا ہوں لیکن آج ظفر قابل صاحب سے گفتگو کے بعد پروگرام کی حتمی تاریخ 11 جولائی طے ہوئی ہے یقیناً اس تاریخ سے قبل ایک بار پھر یاد دہانی کرادیجائے گی اور صفدر ہمدانی صاحب کے انٹرویو کی طرح اس کی صوتی کاپی بھی عالمی اخبار کے ہمسفر احباب کو روانہ کردیجائے گی انشااللہ ……….آپ سب کی محبتوں کا امین
امین ترمذی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے قابل مرحوم کے فرزند ظفر قابل صاحب سے انٹرویو کے اگلے مہنینے ( جولائی )کی گیارہ تاریخ ( اتوار کی شام ) کے ہونے کی اطلاع دی اور یہ بھی خوش خبری دی کہ اس پروگرام کی صوتی ریکارڈ عالمی اخبار کے پڑھنےوالوں کو دی جائے گی ۔ ( اگر امین ترمذی صاحب اس بلاگ میں ہی وہ لنک چسپاں کردیں تو بہتر رہےگا ) ۔
امین ترمذی صاحب نےقابل اجمیری کے بارے میں “بھولے بسرے لیکن انتہائی اہم شاعر “ کے خطابات استعمال کیے ۔ حالانکہ عالمی اخبار کے بلاگ شاہد ہیں کہ ان میں بار بار یہ لکھا گیا ہے کہ قابل اجمیری انتہائ اہم شاعر تو تھا مگر اس کو “ بھولا بسرا “ نہیں کہا جاسکتا اس لیے کہ اس کی شاعری اسے حیاتِ دوام اور قبولیت عوام عطا کرچکی ہے۔
فقط؛
ظفر قابل صاحب اور امین ترمذی صاحب کو شکریہ کے ساتھ ۔
منظور قاضی
جرمنی سے
محترم منظور قاضی صاحب کا شکریہ کہ میری غیر موجودگی میں بھی بلاگ کو چلاتے رہے بلکہ ایک نئی تحقیق کی راہ بھی کھول دی میری مراد غزلوں کے مقطع کے اشعار سے ہے واقعی انہوں نے بڑی محنت کے بعد یہ کیا ہو گا
۔ان کے کلام سے ان کی انفرادیت نمایاں ہے اور یہی بنیادی خصوصیت شاعر کے لئے اہم اور اہم تر ہے۔ میں نے پہلی بار جب ان کا کلام خود انہیں کی زبانی سنا تو حقیقتاً بہت متاثر ہوا۔ خیالات اور جذبات کے ساتھ ساتھ اسلوب بیان بھی شگفتہ و پاکیزہ اور تغزل کا حامل ہے۔
جگر مراد آبادی
٭٭٭
انہوں نے ایک مخصوص انداز پیدا کیا ہے وہ غزل کی روایت سے پوری واقفیت رکھتے ہیں اور اس روایت سے انہوں نے خاطر خواہ استفادہ کیا ہے۔ اس روایت کا رچائو جگہ جگہ ان کے کلام میں ملتا ہے لیکن اس روایت کے علاوہ بھی ان کے یہاں بہت کچھ ملتا ہے وہ لکیر کے فقیر نہیں ہیں۔ ان کے یہاں تقلید کا شائبہ بھی نہیں ہوتا وہ نئی باتیں کہتے ہیں اور نئے انداز میں کہتے ہیں وہ نئے رجحانات سے آشنا ہیں ان رجحانات کی اہمیت کا احساس ہے وہ غزل کی صنعت کو وسیع کرنے کے بھی قائل نظر آتے ہیں۔ اسی لئے ان کے کلام میں وسعت اور پھیلائو کا احساس ہوتا ہے۔
جدت اور اپچ نظر آتی ہے بدلتی ہوئی زندگی سے مطابقت پیدا کرنے کے میلانات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر رجائی ہے۔ اسی لئے ان کے کلام میں عمل اور افادیت کے تصورات جگہ جگہ ابھرتے ہیں لیکن ان کی شاعری میں ہنگامہ پسندی نہیں ہے۔ برخلاف اس کے خاصی مہذب اور ستھری فضا کا احساس ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی
۔نذر قابل
منصور ملتانی
جناب قابل اجمیری کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے میں جن عجیب کیفیات سے گزر رہا ہوں‘ امید ہے میری اس گفتگو کے اختتام تک آپ اپنے آپ کو ان کیفیات سے شناسا محسوس کریں گے۔ میرے سامنے پہلا کٹھن مرحلہ تو ہے کہ بات شروع کہاں سے کی جائے کیونکہ قابل اجمیری سے میری شناسائی کو تو وقت کی قید میںلایا ہی نہیں جاسکتا۔ میں نہ جانے کتنی صدیوں سے قابل آشنا ہوں حالانکہ وہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی سرزمین اجمیر شریف میں اس عالم فانی میں وارد ہوئے اور میںنے غوث بہائو الدین ذکریا ملتانی کے زیر سایہ ملتان شریف میں آنکھ کھولی۔ مگر شاید ان دونوں جگہوں کی مٹی میں اولیائ کی موجودگی کے سبب سے کچھ ایسی خاصیت ضروری ہے کہ جب میں نے قابل اجمیری کا پہلا شعر پڑھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میںان سے صدیوں سے واقف ہوں۔ یہ ساٹھ کی دہائی کے وسط یا آخر کی بات ہے کہ مجھے کہیں سے 1963میں شائع ہونے والا اردو ڈائجسٹ ہاتھ لگا۔ جس میں قابل اجمیری کے مختصر تعارف اور انتقال کے ذکر کے ساتھ ان کا مجموعہ کلام ’’دیدہ بیدار‘‘ سے انتخاب چھاپا گیا تھا۔ جسے پہلی بار ’’مجلس یادگار قابل‘‘ حیدر آباد نے شائع کیا تھا۔ پھر اس وقت تک تاریخی کتب کے حوالوں کے سبب حیدر آباد دکن سے حیدرآباد سندھ کی نسبت زیادہ واقف تھا۔ سو میں نے انہیں حیدر آباد دکن میں مقیم کیا۔ چونکہ اس ڈائجسٹ میں وفات کی اطلاع بھی تھی اس لئے بالمشافہ ملاقات تو ممکن نہ تھی لیکن ہ دن اور آج کا دن میں نے اپنے آپ کو ہمیشہ ادبی حوالوں سے قابل اجمیری کے سامنے دوزانو پایا۔ اور ان کا جو پہلا شعر میرا ہمسفر بنا وہ یہ تھا کہ
خیال خاطر احباب اور کیا کرتے
جگر پہ زخم بھی کھائے شمار بھی نہ کیا
میری اپنی شاعری اس وقت کالج کی فضائوں سے نکلتی ہوئی سنجیدگی سے میری زندگی کا حصہ بننے جارہی تھی۔ سو قابل اجمیری نے اپنے کلام کے روپ میں میرے ہاتھ میں ایسا چراغ روشن کر دیاکہ مجھے آج تک کہیں اور سے رہنمائی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور مین اپنے ذہنی رہنما کی آوازوں پر کان لگائے سلامت روی سے شاہراہ ادب پر رواں ہوں۔
قابل اجمیری نے اپنے فن کی عظمت کے اہم ترین پہلو کا ذکر اپنے ایک قطعے میں کیا تھا۔
ہوس کے دور میں قابل سے عظمت فن ہے
غزل سرا بھی رہا ذکر یار بھی نہ کیا
یہی وہ مسلک ہے طور ہے عقیدہ ہے‘ مزاج ہے‘ تہذیبی رویہ ہے‘ جس نے نہ صرف ہر دور میں غزل کو زندہ رکھا ہے بلکہ اس کی آبرو بڑھائی ہے میں ایک بات پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ قابل کے ہاں خیال و فکر کی پاکیزگی مثالی حیثیت کی حامل ہے۔ آج کے دور میں اور خاص طور پر اس وقت جب قابل کا شعری سفر ابھی جاری تھا۔ ترقی پسند تحریک کے زیر اثر غزل میں ’’طبیعاتی رجحان‘‘ پوری شدت سے داخل ہو گیا تھا۔ اور شاعر محبوب کے جسم اور بدن کے تفصیلی ذکر کو معیوب سمجھنے کی حد سے باہر آچکے تھے۔ اور ایسے ماحول میں بھی تغزل کو برقرار رکھتے ہوئے الفاظ کو نئے التزام سے برتنا کہ ان کا مفہوم لَو دینے لگے صرف قابل اجمیری ہی کا کارنامہ ہے۔
خلش بڑھ کر فغان ہو جائے گی کیا
محبت داستاں ہو جائے گی کیا
اڑا جاتا ہے قابل ذرہ ذرہ
زمیں بھی آسماں ہو جائے کیا
۔…
لاکھ وہ بے نیاز ہو جائیں
حسن میں دلکشی ہی رہتی ہے
حسن کرتا ہے مہر و ماہ سے چھیڑ
آنکھ لیکن جھکی ہی رہتی ہے
یہ پاکیزگی یہ حیا کیسی خوبصورت تصویریں سننے والوں کے سامنے کھینچی ہیں دوسرا اہم ترین پہلو جس کا ذکر کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں وہ قابل اجمیری میں رجائیت ہے۔ زندگی سے وابستگی اور زندہ دلی کا رویہ قابل کی شاعری کا وہ روحانی اجالا ہے جو کہیں بھی اسے اپنے اشعار کی شاعری میں سفر کرتے ہوئے مایوسی اندھیرے میں نہیں جانے دیتا۔ وہ ہر حال میں بھرپور زندگی کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ آپ اس شخص کے مزاج کا اندازہ کیجئے کہ ٹی بی جیسے آہستہ آہستہ ختم کر دینے والے مرض کی انتہا کے قریب پہنچنے اور اپنے بارے میں طبیوں سے مایوس کن باتیں سن کر بھی وہ زندگی سے دست کشی پر تیار نہیں تھا۔
ہجر کی رات ہو کہ صبح نشاط
زندگی زندگی ہی رہتی ہے
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے
یہ دل کے زخم نہیں یہ جگر کے داغ نہیں
رہِ حیات میں شمعیں جلا رہا ہے کوئی
اس موقع پر میں اپنے عہد کے ایک بڑے شاعر کا ایک شعر یہاں پڑھنا ضروری سمجھتاہوں اور اس کے بعد اسی مضمون پر قابل کا شعر تاکہ مزاجوں میں فرق کی وضاحت ہو سکے۔ بڑا مشہور شعر ہے۔
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے
اس شعر کے مزاج کو مدنظر رکھئے گا دونوں شعرا کے مقابلے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس موضوع پر قابل کہتے ہیں۔
اے آفتاب صبح بہاراں سلام کر
دیوانے آ رہے ہیں شب غم گزار کے
رویے اور لہجے نے قابل کے شعر کو کہاں پہنچا دیا ہے۔ اس کا اندازہ آپ کو بخوبی ہوگیا ہوگا۔ آخر مین اس دعا کے ساتھ داجازت چاہوں گا کہ خدا کرے ہم قابل اجمیری کو اپنے عہد کے شعرائ مین وہ مقام دے سکیں جس کے وہ حقدار ہیں۔
’’تم نہ مانو مگر حقیقت ہے‘‘
محمد امین الدین
سوچتا ہوں آج قابل زندہ ہوتے تو کیا ہوتے۔ کتنے بڑے شاعر ہوتے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں کو وہ کس طرح دیکھتے۔ جدیدیت سائنس اور ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے رجحانات کا جس طرح آج کی زندگی پر اچھا اور برا دونوں طرح کا اثرا پڑا ہے اور جس کے نتیجے میں شاعر کے ذہن اور فکر نے نئے خیالات باندھے ہیں قابل اس کو کس طرح برتتے۔ ﴿70﴾ کی دہائی میں اردو کا علاقائی زبانوں سے ٹکرائو 80 کی دہائی میں قومیتوں کا تصادم اور سیاست کا بدلتا ہوا رخ اور پھر 90 نوے کی دہائی میں چھوٹے شہروں سے بڑے شہروں کی طرف مراجعت یہ سب کچھ اور ایسا بہت کچھ جسے دیکھ کر کوئی شاعر خاموش نہیں رہ سکتا اور نہ رہ سکا۔ بھلا قابل اجمیری جیسا حساس شاعر کیسے خاموش رہ سکتا۔
مانا کہ موت برحق ہے اور جس ہستی کی جتنی حیات لکھی ہے اتنی ہی گزارنی ہے نہ کم نہ زیادہ تو پھر یہ سوال کہ اگر یوں ہوتا تو کیا ہوتا اور یوں نہ ہوتا تو کیا ہوجاتا وغیرہ بے معنی ہوجاتے ہیں۔ مگر ہم جس شخص کی بات کررہے ہیں اس نے اپنی زندگی کے صرف31. برس ہی گزارے تھے۔ حال ہی میں انتقال کرجانے والے مصروف شاعر جناب تابش دہلوی صاحب کا سن ولادت قابل کے آس پاس کا ہی ہے بلکہ شاید قابل سے عمر میں کچھ سینئر ہی تھے۔چلئے ہم یوں کہہ لیتے ہیں کہ قابل اگر کچھ اور جی جاتے اور عمومی اوسطاً عمر تک بھی حیات رہتے تو کیا کچھ کہہ گئے ہوتے۔ کیسے کیسے خیال قافیے اور ردیف باندھ چکے ہوتے۔ معاصرین میں ان کا کیا درجہ ہوتا۔ یہ اور اس طرح کے بہت سے سوال جب میرے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ وہ پاکستان کے بڑے بڑے اعزازات سے نوازے جاچکے ہوتے۔ تمغہ امتیاز‘ صدارتی تمغہ حسن کارکردگی وغیرہ۔ پاکستان کے ہر بڑے شاعر ﴿حیات و مرحوم﴾ سے بڑے شاعر ہوتے۔ یعنی فیض و فراز سے بہت آگے بہت ہی آگے۔ اب باقی کیا رہ جاتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ ان ناموں سے محبت و عقیدت رکھنے والے میری اس رائے کو رد کردیں کہ میاں کیا بکواس کرتے ہو اور پھر تمہارا شاعری سے کیا تعلق۔ ابھی تو تم افسانہ نگاری میں بھی کوئی تیر نہیں مارسکے اور چلے ہو اس عہد کے ان عظیم اور بڑے شعرائ کو قابل سے چھوٹا شاعر ثابت کرنے۔ مگر کیا کروں وہ سچ تو سچ ہے۔ نصف صدی پہلے یعنی پچاس برس قبل یہ آہنگ خیال اور شاعری کا یہ اسلوب اور جدید طرز احساس گذشتہ صدی کے اختتام تک آتے آتے قیامت نہں ڈھاتا تو اور کیا کرتا۔ اپنی محدود شاعرانہ زندگی میں جو شخص ایسا شاندار سرمایہ چھوڑ جائے یا ایسی منفرد دنیا تخلیق کرجائے اور فکر کے ایسے حیرت انگیز سوتے جگا جائے اسے ہم باکمال نہ کہیں تو کیا کہیں۔ اس کا کلام پڑھ کر معترف نہ ہوں تو کیا کریں اور پاکستان بھر کے تمام شعرائ کی عمر اور ان کے تخلیقی سرمائے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور نہ ہوجائیں کہ قابل بھی اگر اتنی عمر پاتے جتنی ان شعرائ نے پائی تو قابل ان سب سے آگے ہوتے۔ بلاشبہ قابل اجمیری جیسے شاعر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔
قابل اجمیری کی یہ خوبی ہے کہ ان کے اشعار آپ کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ وہ پڑھنے والے کی بھرپور توجہ حاصل کرلیتے ہیں۔ ان کے اشعار میں روانی‘ سلاست‘ بے ساختہ پن اور جو ایک لہر ہے وہ قاری کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہے۔
خود تمہیں چاک گریباںکا شعور آجائے گا
تم وہاں تک آتو جائو ہم جہاں تک آگئے
٭٭
کبھی تم نے بھی آواز شکستِ دل سنی ہوتی
یہ وہ نغمہ ہے جس پہ زندگانی رقص کرتی ہے
٭٭
احباب کے فریب مسلسل کے باوجود
کھنچنا ہے دل خلوص کی آواز پر ابھی
٭٭
ان کے اشعار میں زندگی جابجا دکھائی دیتی ہے حالانکہ تخلیق کار کو پوری طرح یہ احساس تھا کہ وہ مختصر زندگی لکھوا کر لایا ہے گوکہ تپ دق کا مرض آج کے دور میں لاعلاج نہیں رہا بلکہ اب تو خاص پریشانی میں مبتلا بھی نہیں کرتا کیونکہ اس سے بچائو کے بے شمار طریقے موجود ہیں۔ مگر جس طرح تاحال ایڈز کا مرض لاعلاج ہے اور جب تک اس مرض کا علاج دریافت نہیں ہوجاتا لوگ اس سنگین بیماری سے نہ صرف خوفزدہ رہیں گے بلکہ اس کے ہاتھوں لمحہ بہ لمحہ موت سے ہم کنار بھی ہوتے رہیں گے۔ یہی حال آج سے نصف صدی پہلے دپ دق کے مریضوں کا بھی تھا۔
اور پھر اگر مریض حساسیت کا مارا باشعور ذہین اور باکمال شاعر ہو تو یہ آگ ایسے ایسے جلوئوں میں رونما ہوسکتی ہے کہ اپنے ارد گرد کی پوری فضا کو جلا کر خاکستر کردے مگر حیرت انگیز طور پر قابل کی حساسیت آگ نہیں لگاتی بلکہ زندگی سے ہماری محبت اور بڑھادیتی ہے۔ قابل کی شاعری میں زندگی کا شعور جگہ جگہ پھیلا ہوا ہے وہ اپنے قاری کو کبھی کبھی اداس تو کرتے ہیں تاہم مایوس نہیں کرتے۔
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
زندگی کو میری ضرورت ہے
برہم ہے کائنات مگر جی رہے ہیں ہم
مشکل سہی حیات مگر جی رہے ہیں ہم
کتنا جواں ہے شوق مگر صبح دور ہے
کتنی گراں ہے رات مگر جی رہے ہیں ہم
قابل اجمیری کا لہجہ مخصوص اور منفرد ہے۔ وہ اپنے ہم عصر شعرائ میں الگ پہچان رکھتے ہیں۔ ان کی لفظیات جدا ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے بے شمار اشعار زبان زدعام ہیں اور بعض ضرب المثل کا درجہ بھی اختیار کرگئے ہیں۔ یہ اعزاز بہت کم شعرائ کو حاصل ہے۔
تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
میں رو رہا ہوں تم ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے
مجھی پہ اتنی توجہ مجھی سے اتنا گریز
مرے سلام سے پہلے مرے سلام کے بعد
٭٭
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے
کہتے ہیں ہر بڑے آدمی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے اور اپنی خصوصیات کی بنا پر اور منفرد ہونے کی وجہ سے اعلیٰ درجے کا حق رکھتا ہے لہٰذا وہ اپنے کمٹمنٹ سے جڑا رہتا ہے۔ وہ جو نظریہ اختیار کرتا ہے اس پر قائم رہتا ہے وہ کسی کے نقش قدم پر نہیں چلتا بلکہ اپنے لئے نئی راہ بناتا ہے جس پر بعد میں آنے والے چلتے ہیں۔ قابل اجمیری کو اپنے منفرد اور حساس ہونے کا پورا پورا احساس تھا۔ واہ اپنے اشعار میں اس کا برملا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
درد خود آگہی نہ ہو جب تک
کائنات اجنبی ہی رہتی ہے
یہ طرز فکر یہ رنگ سخن کہاں قابل
تیرے کلام سے پہلے تیرے کلام کے بعد
ابھی مشکل سے سمجھے گا زمانہ
نیا نغمہ نئی آواز ہوں میں
یہ اور بات کہ تقدیر سو گئی قابل
وگرنہ دیدۂ بیدار ہم بھی رکھتے ہیں
حیدرآباد سے تعلق رکھنے کی نسبت قابل اجمیری سے میرا تعلق عجیب سا ہے۔ وہ جن برسوں میں سفر آخرت کی تیاری کررہے تھے میں دنیا میں آنے کے لئے پرتول رہا تھا۔ میں نے قابل اجمیری کی رہلت کے اربع صدی کے بعد پہلی بار انہیں دیدہ بیدار میں توجہ سے پڑھا تھا اور ہم قریہ ہونے کے احساس‘ رشتے اور سرشاری سے دوچار ہوا تھا۔ یہ احساس‘ رشتہ اور سرشاری ابھی قائم ہے۔ قابل اجمیری کے صاحبزادے ظفر قابل ﴿جو میرے ہم عمر ہیں﴾ اپنے والد کے تخلیقی سرمائے کو اردو ادب کے قاری تک جس طرح پہنچارہے ہیں وہ کوششیں قابل ستائش ہیں۔ قابل اجمیری کی غزلوں کا انتخاب ’’عشق انسان کی ضرورت ہے‘‘ ظفر قابل کی بہت ہی خوبصورت کاوش ہے۔ میں انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ماشااللہ ظفر قابل صاحب :آپ نے مندرجہ بالا تبصرے اس بلاگ میں شایع کرکے اس بلاگ کو ایک تاریخی حیثیت عطا کردی۔
اس بلاگ کی مشمولات ہمیشہ کے لیے محفو ظ رکھکر بار بار پڑھنے کے قابل ہیں:
جزا ک اللہ:
فقط:
دعا گو:
منظور قاضی
جرمنی سے