السلام علیکم
کیسے ہیں آپ سب لوگ ؟ آپ سب کی محفل میں پہلا بلاگ لکھا تھا اور وہی کچھ محترمین کو دُکھی کر گیا، اور یہ یقینا میری کم علمی اور ناتجربہ کاری کے سبب ہوا ، مگر میرا مقصد صرف یہ تھا کہ میں اِس موضوع پر اپنی رائے سامنے رکھو اور آپ احباب کے رائے سنو ،
میں اپنی بات کو کبھی حتمی نہیں سمجھتا مگر جب تک کوئی مناسب دلیل نہ ملے میں اپنے موقف پر قائم رہتا ہوں اور اگر کوئی صاحب علم مجھے میری بات کے برعکس دلیل دیدے تو میں اپنے رائے سے رجوع کا حوصلہ بھی رکھتا ہوں ، مگر محض کسی کو کم عمر اور ناتجربہ کار سمجھ کر اُس کی باتوں کو حقیر جاننا بھی شاید کچھ مناسب رویہ نہ ہوگا ۔ میں اُن تمام محترم احباب سے جو یہ سمجھتے ہین کہ میں نے حدِ ادب کا پاس نہیں رکھا یا جن کو میری کسی بھی بات سے تکلیف پہنچی ہو سے معافی چاہتا ہوں مگر یہ التجا بھی کرونگا کہ برائے مہربانی میری باتوں پر غور کیجئے اور میری غلطیوں پر میری راہنمائی بھی کیجئے ۔
آصف احمد بھٹی

آصف بھائی میں ایک دفعہ ایک مریضہ کو دیکھنے اس کے گھر گئی کیونکہ وہ Multiple Sclerosis کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتی تھی اور ویل چئر پر تھی ،اس کاجوان بیٹا ہارٹ اٹیک سے مر گیا تھا اور اسے جس طرح سے یہ خبر ملی تھی وہ اسے ساکت کر گئی تھی ۔۔ اس کو ہوسپٹل رکھا گیا ۔۔ پھر وہ گھر آ گئی اور اب مجھے اس کی دیکھ بھال کرنا تھی ۔۔ میں اس کے گھر پہنچی تو اس کے صاف ستھرے گھر میں ایک گھر کی سی فضا تھی ۔۔ جبکہ وہاں صرف وہ اپنے میاں کے ساتھ رہتی تھی ۔۔
ابتدائی بات چیت کے بعد اس نے مجھے یہ کہہ کرحیران کر دیا کہ وہ فائن آرتس پر دسترس رکھتی ہے ۔۔ اس نے مجھے اپنے ہاتھ سے وہ شہکار کارڈز دکھائے جو میں نے کبھی دوکانوں پر بھی نہیں دیکھے تھے ۔۔۔ میں نے اس سے کہا کہ جو بیماری تمہیں ہے اس میں تودماغ اتنا انٹلیکچل کام نہیں کر سکتا ۔۔ تم کتنی خوش نصیب ہو ۔۔ اس نے ھنستے ہوئے اپنے دماغ کیی طرف اشارا کیا اور کہا
Doc if u will not use it
you will loose it
یہ بھی سچ ہے کہ ہم اپنے پوری زندگی میں اپنے دماغ کا صرف ایک چوتھائی حصہ ہی استعمال کر پاتے ہیں ۔۔۔ اللہ کریم کی دماغ جیسی نعمت کا احساس کرنا ھو تو فقط ایک گھنٹہ کسی دماغی مریض کے ساتھ گزاریں ۔۔ پھر یہ عمر سیکھنے اور جاننے کے لیئے بہت کم لگے گی ۔۔۔ بھلا آپ سے کون خفا ہو سکے گا ۔۔ یہ اختلاف رائے کا حسن ہے کہ سب اپنے نکتہ نظر کو واضح کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں ۔۔ کبھی کبھی میں خود بھی ایسا کر جاتی ہوں سو اس بلاگ کے بہانے اگر میری کوئی بات کسی کی بھی دلشکنی کا باعث رہی ہو مجھے معاف کر دیجئے گا ۔۔
آصف بھٹی صاحب۔کہ عشق آساں نمود اول، ولے اُفتاد و مشکل ہا! نہیں برادرم ایسا مرحلہ ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ صورت تو یہ ہے کہ۔۔۔۔
جلوہ کاروان ما نیست بہ نالہ جرس
عشق تو راہ می برد ، شوق تو زاد میدہد
مجھے آپ سے اتفاق ہے کہ ۔۔۔۔محض کسی کو کم عمر اور ناتجربہ کار سمجھ کر اُس کی باتوں کو حقیر جاننا بھی شاید کچھ مناسب رویہ نہ ہوگا۔۔۔ دراصل بات وہی ہے کہ بزرگی عمر سے نہیں فکر سے ہے اور فکری تحریروں کا یہی خاصہ ہے کہ ان میں دوسرے صاحبان فکر ایسے ایسے گوشے نکالتے ہیں کہ خود صاحب تحریر کو بھی ان جہات کا علم نہیں ہوتا۔
ایسی مثالیں تو شایدمعدودے چند ہی ہوں کہ کوئی ماں کے پیٹ سے لکھتا ہوا آیا ہو۔مجھے سمیت لاکھوں ایسے لکھنے والے ہیں جنہوں نے محنت،تجربے،مطالعے ۔ماحول اور تنقید سے سیکھا ہے جو کچھ سیکھا ہے۔ اور یہ جو سیکھا ہے سچ پوچھیں تو کچھ بھی نہیں،ابھی بھی لکھنا نہیں آتا۔ شاید وہ احباب جنہیں یہ یقین ہے کہ وہ لکھنے میں اب ید طولیٰ رکھتے ہیں وہ اپنی جگہ درست ہی ہوں لیکن میں کسی کسر نفسی کے بغیر کہہ رہا ہوں کہ میں آج بھی آپ دوستوں سے سیکھتا ہوں۔ویسے ہمارے پاس ایسی مثالیں بھی ہیں کچھ خواتین وحضرات کی جنہوں نے اپنا پہلا جملہ اور پہلا مصرعہ یہیں ہمارے پاس لکھا اور جب چڑیا کے بچے کے پر نکل آئے اور اس نے اڑنا شروع کیا تو سب سے پہلے اپنی ماں سے کہا کہ تم کچھ ٹیڑھا اڑتی ہو۔
آصف بھٹی میں نہیں سمجھتا کہ آپ کہیں بھی بقول آپکے” حد ادب ” سے بڑھے ہیں۔ اور دوستوں کے درمیان جہاں سب فکری اسلحے سے لیس ہوں ایسی صورت حال پیدا ہونا فطری امر ہے۔
دلیل کے بغیر تو بات ایسے ہی ہے نا جیسے فوجی اسلحے کے بنا میدان جنگ میں چلا جائے۔ لیکن شکر ہے کہ یہاں ایسا نہیں ہے۔ہاں دلیل کا پیل کرنا بھی ایک رخ ہے۔
مجھے آپ سے صرف یہ کہنا ہے کہ آپ میں لکھنے کی کمال صلاحیت ہے اسے جاری رکھیں۔ میرے یہاں سب دوست جانتےہیں کہ میں بے جا کسی کی تعریف نہیں کرتا اور نہ تنقید۔ میرا ہمیشہ کا فلسفہ یہ ہے کہ اختلاف کے ساتھ زندہ رہنا ہی تو زندگی ہے۔ آپ لکھتے رہیئے جیسے سب لکھنے والے ایک جیسے نہیں اسی طرح مبصرین بھی تو ایک گلدستے کے مختلف رنگ اور مختلف النوع خوشبوئیں ہیں۔
السلام علیکم
نگہت آپی یہ درست ہے کہ یہ بلاگ لکھنے سے پہلے مجھے یہی لگا تھا کہ !
کہ عشق آساں نمود اول، ولے اُفتاد مشکل ہا ( عشق آغاز میں تو بہت آسان لگا تھا مگر پھر مشکل ہوتا چلا گیا ) اِسی سبب میں اِس بلاگ کے زریعے تمام احباب سے معزرت چاہتا ہوں ، اور پھر آپ اور محترم صفدر ہمدانی صاحب کی باتیں دل کو لگی ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
کیا اس بلاگ کا موضوع بلاگ نگار کی “ کم عمری “ اور “ ناتجربہ کاری “ پر تبصرے اور تاویلات ہیں ؟
بلا گ نگار نے معافی بھی مانگ لی اور اپنی غلطیوں پر رہنمائی کی درخواست بھی کرڈالی ۔
اگر یہی ہے تو اس بلاگ کا مقصد پورا ہوگیا ۔
قاضی صاحب قبلہ.جی ہاں اس بلاگ کا نفس مضمون یہی ہے.عالمی اخبار کی بلاگ فیملی کے ایک فرد نے اگر کوئی بات محسوس کی ہے اور اسے لکھا ہے اور پھر آپ جیسے بزرگوں سے کسی بھی وجہ سے معزرت طلب کی ہے تو ہمیں بھی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا ہے. ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ بلاگوں کی اس بے مہا دنیا میں کسی کو کیا عذاب ہے کہ وہ عالمی اخبار کے بلاگ پر ہی لکھے.ہر کوئی آزاد ہے سوائے مجھ جیسے افراد کے کہ انہیں تو یہ بلاگ چلانا ہے.کوئی بھی نو وارد اس بلاگ فیملی میں کسی بھی پیشگی اطلاع کے بغیر کسی وقت بھی چھوڑ کر جا سکتا ہے. مجھے یا اخبار کے کرتا دھرتا افراد کو اپنے بارے میں کوئی زعم نہیں. بس ہم سب کا مقصد اپنے اپنے خیال اور فکر کا اظہار ہے. قافلے کے ہر فرد کو ساتھ لیکر چلنا ایک مشکل کام ہے اور ہم نے اس مشکل امتحان میں خود کو ڈالا ہوا ہے اور آپ جیسے کرم فرماؤں کی بدولت ابھی تک کامیاب ہیں. کسی کو جماعت سے فرار پر مجبور کرنا بہت آسان ہے لیکن خیالات و نظریات میں اختلاف کے باوجود ساتھ رہنے پر مجبور کرنا اتنا آسان نہیں. مجھے تو سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ اس بلاگ خاندان میں جہاں قاضی صاحب آپ جیسے اور امین ترمزی جیسے بزرگ اور جہاندیدہ احباب شامل ہیں وہاں نادیہ بخاری اور ناصر زیدی جیسے نوجوان اذہان کے دوست بھی شامل ہیں جنکی ہمیں رہنمائی بھی کرنی ہے اور انکے لیئے مثال بھی بننا ہے اور یہ ایک بہت بڑی ذمیداری ہے جس سے آپ اور ہم جیسوں کو سبکدوش ہونا ہے.

آپ نے دیکھا کہ اس قافلے میں کتنے لوگ آئے اور چلے گئے.یا تو وہ ہمارے ساتھ نہیں رہ پائے یا پھر ہم انہیں نہیں روک سکے.وجہ جو بھی ہو ہم نے تو اپنی اس قلمی زندگی میں یہی دیکھا ہے کہ سب سے زیادہ مشکل اور صبر طلب کسی فکری جماعت کا مل کر چلنا ہے.
آصف بھٹی قلم کار نئے نہیں اس بلاگ خاندان کے فرد نئے ہیں اور ہمیں سبکو انکو ساتھ لے کر چلنا ہے، اب تک وہ بھی خاصے دوستوں کے مزاج سے بھی آشنا ہو چکے ہوں گے.
آئیے اشتراک کی اس شمع کو روشن رکھیں۔
صفدر ھمدانی صاحب کے تمام ارشادات درست ہیں۔
ہم سب خوش نصیب ہیں کہ انکی رہنمائی میں ہم سب کچھ لکھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ انہی کی ہمت اور محنت کا طفیل ہے کہ عالمی اخبار اب ساری دنیا میں مشہور اور مقبول ہے ۔
صفدر ھمدانی صاحب نے صحیح فرما یا کہ اس سفر میں کئی رہرو آئے اور چلے گئے مگر یہ کارواں ماشا اللہ سے چلتا ہی رہا اور انشا اللہ چلتا رہے گا۔
کسی کا کہنا ہے کہ پیاسا کنویں کے پاس جاتا ہے کنواں پیاسے کے پاس نہیں جاتا ۔ جس کو اپنے علم کے چشمے کی تلاش ہے وہ ضرور اس عالمی اخبار کے چشمے سے اپنی پیاس بجھا ئے گا ورنہ یہ چشمہ سوکھ نہیں جائےگا ۔ یہ ہر پیاسے کی پیاس بجھاتا رہے گا۔ انشا اللہ ۔
جہاں تک میرا مشاہدہ ہے عالمی اخبار میں ہمیشہ کوالیٹی ( معیاری خوبی ) کو ترجیح دی گئ اور کوانٹٹی ( بھرتی کی تعداد ) سے اسکے معیار کو دھچکا ہی لگا ہے ۔
عالمی اخبار بے لوثی کے ساتھ سب کی مدد کررہا ہے ۔ نہ اسے کسی کو کچھ مالی معاوضہ دینا ہے اور نہ لینا ہے ۔ اس کے لیے تو جوآئے اسکا بھلا جو نہ آئے اس کا بھی بھلا کا معاملہ ہے ۔ اگر بلاگ نگاروں کی تعداد کم ہوجائے تو کیا پرواہ، بقول غالب:
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جام ِ سفال اچھا ہے
ہاں مگر ڈاکٹر پنہاں جیسی بلاگ نگار شاعر ہ کسی وجہ سے عالمی اخبار سے رابطہ نہ رکھے تو اس کی کمی کو کوئی پورا نہیں کرسکتا۔ جس کا افسو س ہے۔ ( انکے علاوہ اور بھی چند نام ذہن میں آرہے ہیں جو عالمی اخبار سے دور ہوگئے ہیں جس کا افسوس ہے مگر عالمی اخبار انشااللہ روشنی پھیلاتا رہے گا۔ )
۔۔۔
بلاگ نگاری ایک فن ہے جسے ہم سب اس عالمی اخبار کے طفیل سیکھ رہے ہیں ۔میرے خیال میں بلاگ نگاری کالم نگاری سے زیادہ مشکل کام ہے اس لیے کہ بلاگ نگاری میں فوری فیڈ بیک یعنی جوابی تبصرے نمودار ہوجاتے ہیں ں اور بقو ل صفدر ھمدانی صاحب یہ لندن کے ہائیڈ پارک کارنر کی طرح چوپالی کیفیت ا پیدا ہوجاتی ہے ۔
اس کےبرعکس ، کالم میں کالم نگار فرد اپنا کالم لکھکر جوابی تبصروں کی مشکل سے بے نیا ز ہوجاتا ہے۔ اس میں پڑھنا ہے تو پڑھو ورنہ اسکو ردی کی ٹوکری میں پھینک دو کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔
اس لیے بلاگ نگار کو اپنے ہر ہر لفظ کا جواب دینا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی اپنے بلاگ کے نتائج سے جان بچانے کی کوشش کرے ۔
۔۔۔
میں پاکستان کے محکمہ ء تعلیم کو یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اپنے طالب علموں کو بلاگ نگاری کا درس دیا کر ے تاکہ ان میں لکھنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ ورنہ بڑھاپے تک یہ طالب علم لکھنے کے معاملے میں پیدل ہی رہینگے اور اس کے بعد ان کا جو حشر ہوگا اس کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
۔۔۔۔
میں بھی عالمی اخبار کی اس شمعِ علم کو روشن دیکھنا چاہتا ہوں ۔ خدا کرے کہ اس کی روشنی سے جہالت کا اندھیرا دور ہو ۔ آمین
سلیم کوثر کے شعر پر یہ تبصرہ ختم کرتا ہوں کہ :
ترے انتظار کے سلسلے ہیں میانِ دستک و در کہیں
یہی آس ہے تو بندھی رہے یہ چراغ ہے تو جلا رہے
۔۔۔۔۔۔
اگرچیکہ میرے اس تبصرے کا بلاگ کے موضوع سے کوئی تعلق نہیں ، صرف صفدر ھمدانی صاحب نے مجھ سے جو خطاب کیا تھا اسکا جواب دلی شکریہ کے ساتھ لکھدیا ہوں ۔
۔۔۔۔
روئے سخن بلاگ نگار کی طرف ہرگز نہیں۔
ماشاللہ قاضی صاحب بہت خوب. یہ بہت خوب اخبار یا میری تعریف کے لیئے نہیں بلکہ آپکی معاملہ فہمی اور ہم جیسوں کی رہنمائی کے لیئے.
بس اس کارواں کو اسی طرح رواں دواں رکھیں. اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو.آمین
میری ڈاکٹر پنہاں سے فون پر بات ہوتی رہتی ہے ۔۔ وہ اپنی صحت اور کچھ نجی مصروفیت کی وجہ سے شامل نہیں ہو پا رہی ۔۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ جیسے ہی وہ فرصت پا لینگی ضرور آ یئنگی ۔۔ اور یہ بھی کہ ہماری طرح انہیں بھی ہماری کمی محسوس ہوتی ہے اور انہوں نے فردا فردا سب کو سلام بھجوایا ہے ۔۔۔
زرقا میری بہت ہی پیاری سی بہن جیسی دوست کی کل ہی ای میل آئی تھی کہ ان کے گھر بیرون ملک سے مہمان آئے ہوئے ہیں اور کچھ کراچی کے حالات سے دل برداشتہ بھی ہیں ۔۔ یہی وہ کیفیت ہے جب لکھنے والا اپنے دل پر ساری کیفیات لکھ کر رہا ہوتا ہے اور جب سیاہی چوس کی طرح بھر جاتا ہے تو پھر وہ کچھ لکھتا ہے جو پہلے کسی نے شائد کبھی لکھا نہ ہو ۔۔ آپ دیکھئے گا زرقا کے قلم کی شعلہ بیانیاں ۔۔۔
ہماری سب کی لاڈلی ماریہ علی آج کل پاکستان میں ہے اور بجلی کی آنکھ مچولی کی نظر ہوئی ہیں ۔۔ ان کے والد کے لئے دعائے صحت آپ سب ضرور کیجئے گا ۔۔ میری سائیں جی سے بات ہوےئی تھی وہ بتا رہے تھے کہ ماریہ بہت جلد ڈنمارک واپس آرہی ہیں ۔۔
میری بہت ہی عزیز دوست شاہین رضوی نئے سال میں دفتری مصروفیات کی وجہ سے کم آ رہی ہیں ۔ لیکن وہ جانتی ہیں کہ میں کسی بھی وقت ان کی غیر حاضری کی رسید مانگ سکتی ہوں ۔۔
۔ ایسی ہی کچھ روبینہ فیصل کی کہانی ہے ۔۔ اس کے دفتری کام اور بچوں کی مصروفیات صرف کالم ہی لکھوا پاتی ہے ۔۔۔
ہمیں فخر ہے کہ ہمارے تمام ساتھی ماسوائے جنہوں نے جانا مناسب جانا سب ہمارے ساتھ ہیں ۔۔۔
ارے آپا سعیدہ کا بتانا بھول گئی ۔۔ ان کاحل صرف بابا کے پاس ہے کہ ان کا اردو ایڈیٹڑ خراب ہوا ہے ۔۔
اور ایک خوشخبری بھی دیتی جاؤں کہ نوٹنگھم میں بروسوں سے آباد مشہور شاعرہ اور افسانہ نگار فرخندہ رضوی نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمارے بلاگ کے فورم پر جلد آ ئیگی ۔۔ آج کل ان کی والدہ جو برسوں سے ان کے پاس ہی ہیں کینسر جیسے موضی مرض میں مبتلا ہیں ۔۔ اور آج کل شدید علیل ہیں ۔۔ آپ سب سے ان کے لئے دعائے صحت کی اپیل ہے ۔۔
اب اگر میں اپنے عزیز اور محترم بھائیوں کی تفصیل لکھونگی تو مجھے شام ہو جائے گی ۔۔
اتناکچھ لکھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ عالمی اخبار کا بلگ سیکشن ایک فیملی کی طرح ہے ۔۔ جن سے ہمارے روابط رہتے ہیں ۔۔
آپ سب کی کمی ہمیں ہر صورت ہر وقت رہتی ہے ۔۔۔کنواں بھی پیاسا رہتا ہے منظور بھائی جب کوئی پانی ہی بھرنے نہ آئے توکنوئیں کو بھی اپنی کم مائیگی کا احساس جاگ پڑتا ہے ۔۔
سو ہمیں دنیا میں بھی اور مرنے کے بعد بھی دونوں صورتوں میں دوستوں کی دعائیں سرمائے کی طرح چاھئے ہوتی ہیں ۔۔
اللہ پاک آپ سب کو شاد و آباد رکھے ۔۔ آمین
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے لیے :
میری عقیدت کا گلدستہ: ۔ :
چمن کی نکہتِ بادِ بہار تم ہی ہو
نسیمِ صبح ،گلوں کا نکھار تم ہی ہو
سلیقہ مند سلیقہ شعار تم ہی ہو
مریضِ نفس کی تیمار دار تم ہی ہو
وہ جن کی دید کی خاطر تمام دیوانے
چلے ہی آتے ہیں دیوانہ وار تم ہی ہو
ماشااللہ قاضی صاحب.واقعی ڈاکٹر صاحبہ آپکے ان اشعار کی مستحق ہیں.عالمی اخبار کے لیئے انکی بلامفاد خدمات پر ہم سب انکے ممنون احسان ہیں. اچھا کیا آپ نے ہم سب کی نمائیندگی کر دی. شکریہ
السلام علیکم
محترم منظور قاضی صاحب ، کہیے کیسے مزاج ہیں ؟ شکر ہے آپ کا دل کسی حد تک میری طرف سے صاف ہوا ہے کہ !
دلِ بدست آور کہ حج ِ اکبر است
امید ہے آپ آئیندہ بھی میری تحریروں پر یونہی گرفت رکھینگے اور میری راہنمائی فرماتے رہینگے ۔
آصف احمد بھٹی
میرا مزا ج پوچھنے والوں کو اللہ صحت مند “ مزاج “ عطا کرے : آمین
میں ٹھیک ہی ہوں اور خداوند کریم سے سب کا “ مزاج “ بھی ٹھیک ہی چاہتا ہوں۔
بلاگ نگار صاحب نے صحیح اندازہ لگا یا کہ میرا دل “ کسی حد تک “ بلاگ نگار صاحب کی طرف سے “ صاف ہوا ہے “ اور اللہ کا شکر ہے کہ مجھے “ حج اکبر “ کا ثواب مل گیا ہے ۔
میں بلاگ نگار صاحب کی “ راہنمائی “ کیسے کرسکتا ہوں اس لیے کہ انکی تحریریں “ میری گرفت “ سے باہر ہی رہتی ہیں۔
آپ کی فارسی ماشااللہ بہت اچھی ہے تو بس : من ترا بھٹی بگویم تو مرا قاضی بگو
السلام علیکم
ارے منظور قاضی صاحب ، کہاں ، یہ حسرت ہی رہی کہ کبھی کوئی اُستاد مل جائے ، یہ کچھ محاورے یاد کر رکھے ہیں جنہیں موقع بر محل استعمال کر لیتا ہوں ورنہ تو ’’ من آنم کہ من دانم ‘‘ والا معاملہ ہے
آصف احمد بھٹی
بالکل یہی اشعارایک بارمیری طرف سے بھی آپی نگہت نسیم کے نام ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ چمن کی نکہتِ بادِ بہار تم ہی ہو نسیمِ صبح ،گلوں کا نکھار تم ہی ہو سلیقہ مند سلیقہ شعار تم ہی ہو مریضِ نفس کی تیمار دار تم ہی ہو وہ جن کی دید کی خاطر تمام دیوانے چلے ہی آتے ہیں دیوانہ وار تم ہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منظورقاضی صاحب۔۔کا یہ جملہ لطف دے گیا۔۔۔ من ترا بھٹی بگویم تو مرا قاضی بگو کیا برجستہ فقرہ تحریرکیاہے انہوں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باباآپ نے درست فرمایا۔۔ہم نوجوان لوگ عالمی اخبارکے ان صاحبان نقدونظرسے بہت کچھ سیکھتے ہیں ،اندازہ کیجئے بھرپوربلاگ لکھے کئی روز بیت گئے ہیں لیکن جونہی لوڈ شیڈنگ سے ایک ادھ گھنٹہ فرصت ملتی ہے فوراً عالمی اخبار کی طرف بھاگتےہیں ۔۔اور آپ لوگوں کے لکھے ہوئے کو سچ مچ جی بھربھرکر پڑھتےہیں ، نہ اردواچھی ہماری نہ فارسی پڑھ سکے اس صورتحال میں آپ لوگوں کی خوبصورت علمی وادبی گفتگو ہم جیسے تشنہ علم نوجوانوں کی پیاس بجھانے کا کام کرتی ہے۔۔۔سیکھتے بھی ہیں اور خوبصورت اردوکی لشکر سازی سے لطف اندوز بھی ہوتےہیں ۔۔۔کئی بار ایسی سنجیدہ گفتگوہورہی ہوتی ہے کہ کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے اور سمجھ نہیں آتی یہاں ہم کیاکہیں اورکیا رائے دیں ،اتنی معلومات ہیں ، نہ ہی مطالعہ ، محبتیں البتہ ڈھیرساری مل گئی ہیں آپ جیسے بزرگ نوجوانوں سے، اوربس اسی کے سہارے بیچ میں ٹانگ اڑابیٹھتےہیں کبھی کبھار۔۔۔ اوربابا۔۔۔عالمی اخبارکے ادنیٰ بلاگر کی حیثیت سے یہاں لکھنا، حاضری دینا اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہوں بس کچھ گھریلو اور دفتری مصروفیات کچھ دیگر مسائل کی وجہ سے زہنی یکسوئی ان دنوں ناپید ہے اس لئے آناجاناسا لگ گیاہے ۔۔میں نے کب کہاآپ لوگ فارغ ہیں ۔۔۔(بحوالہ گزشتہ بلاگ۔۔ناصر زیدی جی،یہ کیا بات ہوئی جناب.آئے بھی اور ایسے کہ جیسے آئے ہی نہ تھے. بھائی جان آپ لوگ تو مصروف لوگ ہیں اور ہم ٹھہرے فارغ. ہم نے تو جو گلے میں ڈھول ڈالا ہے اس کو بجانا ہی ہے. آپ لوگ ہیں شاہ. آئیں یا نہ آئیں. یا پھر لمحے بھر کو چکر لگا لیں. آپ کا اس طرح بھی آنا سر آنکھوں پر.)باباناراض مت ہوں انشاءاللہ اب حاضری یقینی رہےگی۔۔۔بے شک مختصر ہی کیوں نہ ہو۔۔ابھی تو میں نے آپی نگہت کا ادھاربھی چکاناہے(کالم لکھنے کا حکم دیا تھا انہوں نے مجھے یاد ہے ذرا۔۔ذرا۔۔) ۔۔۔۔ آصف بھٹی صاحب۔۔۔خوش آمدید۔۔آپ کی تحریروں سےبھی یقیناً میں اور نادیہ بخاری اوردیھر نوجوان باش بہت کچھ سیکھ سکیں گے۔۔۔
السلام علیکم
بہت شکریہ ناصر زیدی صاحب ، اور یقینا میں بھی آپ لوگوں سے بہت کچھ سیکھونگا ، اور ہاں مجھے بھی نوجوانوں مین ہی شامل رکھئے اگر چہ میری عمر اکتیس سال ہو چکی ہے ۔
آصف احمد بھٹی
آصف صاحب آپ اکتیس کے ہیں تو میں تیس کابانکا سجیلا نوجوان ( واہ واہ کلب کی طرف سےدادکا طلب گارہوں اس خوش فہمی پر)ہماری عمروں میں اتنا فرق تو نہیں لیکن یقناً علم ، مطالعے اور تحریرکے معاملےمیں ابھی میں طفل مکتب ہوں اوربزرگوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے جو کہ عالمی اخبارکی شان وشوکت بڑھا رہے ہیں لیکن ان بزرگوں کو بھی میں نوجوان بزرگ کہوں گا جو یقینًاکئی معاملات میں ہم نوجوانوں سے زیادہ چست اورجدیدہیں ۔۔یہ تو ان کی محبتیں ہیں جو ہمارے لئے دیدہ دل فراش کئے رہتےہیں۔۔۔
واہ واہ کلب کی خیرہونوجوان بزرگوں کی یہ نئی اختراع اس بات کا ثبوت ہے کہ سنجیدہ بحث مباحثہ کرنےوالے ان احباب کو حس مزاح بھی شاندارہے۔۔۔
السلام علیکم
محمد ناصر زیدی صاحب ، یہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں کہ آپ گھبرو بھی ہیں کہ نہیں ؟ یہ معلوم ہونے کے بعد ہی واہ واہ کلب سے ( کم از کم آپ کا یہ بھائی ) آپ کے لیے خوب ساری واہ واہ کرے گا ۔ بزرگوں کے بارے میں آپ نے بلکل درست فرمایا ہے ۔
آصف احمد بھٹی