ایک خبر اور ایک تصویرآپ کی نذرکرناچاہوں گا۔۔
۔اآپ اندازہ کرسکیں گے بات چھپانے، مکو ٹھپنے، ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے اور بیماری کا علاج کرنےکی بجائے بیمارکو کونےکھدرےمیں ڈالنے کے فن میں ہماراکوئی ثانی نہیں ۔۔
۔پڑھیے ، دیکھئے اور تبصرے کیجئے۔۔۔۔۔اورساتھ دعابھی ۔۔۔اللہ ہمیں محفوظ رکھے

لگے ہاتھوں خبر بھی پڑھ لیں


پاکستان بھی تو باسٹھ سال سے اسی طرح “ اللہ کے توکل “ پر چل رہا ہے ۔
قاضی صاحب بالکل درست فرمایا
ناصر زیدی. تاخیر سے حاضری می معذرت. بھائی اسکی وجہ کوئی سستی کاہلی نہیں بلکہ فن لینڈ کا سفر تھا. اللہ. منفی 15 درجہ حرارت.
خیر بات آپکی ایک ہزار فیصڈ درست ہے کہ ….ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے اور بیماری کا علاج کرنےکی بجائے بیمارکو کونےکھدرےمیں ڈالنے کے فن میں ہماراکوئی ثانی نہیں ۔۔
سچ تو یہ ہے یہی وہ شعبہ ہے جس میں ہماری ترقی کا کوئی ثانی نہیں.یہاں تک کہ مائی باپ امریکہ بھی نہیں.اسی لیئے کسی گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ ”عجیب ملک ہے کہ جس میں کسی قسم کا کوئی نظام موجود نہیں لیکن ناظم مقرر کر دیئے گئے ہیں.
”عجیب ملک ہے کہ جس میں کسی قسم کا کوئی نظام موجود نہیں لیکن ناظم مقرر کر دیئے گئے ہیں”
ہاہاہاہا۔۔۔۔کیا خوب فرمایاآپ نے
محمدناصر زیدی صا حب جتنا ظلم کراچی میں ہو چکا ہے اس کے بعد بھی اگر یہ حالت ہے تو نہایت افسوس ناک ہے