میں اس نئے بلا گ کا افتتاح عرشی صاحبہ کی دو نعتیہ نظموں سے کررہا ہوں۔
چونکہ میں بلاگ لکھنے کی فانٹ سے ناواقف ہوں اس لیے انہی الفاظ پر یہ تبصرہ ختم کرتا ہوں۔ ۔
باقی آئیندہ۔:
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
میں اس نئے بلا گ کا افتتاح عرشی صاحبہ کی دو نعتیہ نظموں سے کررہا ہوں۔
چونکہ میں بلاگ لکھنے کی فانٹ سے ناواقف ہوں اس لیے انہی الفاظ پر یہ تبصرہ ختم کرتا ہوں۔ ۔
باقی آئیندہ۔:
فقط:
منظور قاضی
از جرمنی
مرے آغاز کو آساں بنا یا آپ نے آقا (ص)
مرا انجام بھی آساں بنادو یا رسول اللہ ( ص)
سبحان اللہ منظور بھائی ۔۔ اللہ پاک قبول فرمائیں اور آپ کایہ ھدیہ حضور کی خدمت میں تمام تر محبتوں کے ساتھ پہنچے ۔۔آمین
ہر بار گواہی میں ترا نام ہے شامل
یوں ذکر ترا ضامن تہلیل بنایا
واہ واہ سبحان اللہ حسنی بھائی ۔۔ جیتے ریئے کچھ اور عطا ہو ۔۔ آپ کے پاس ت وخزانے ہیں ۔۔ اور ہم سمیٹنے والوں میں ۔۔ اور کلام عطا ہو ۔۔
مرے نبی (ص) میں کمال سارے، جمال سارے ، جلال سارے
اس ایک مصرعے میں ہی ایک ایساوجد ہے کہ مجھے آگے بڑھنے ہی نہیں دے رہا ۔۔ سبحان اللہ کیا اپنائیت اور ملکیت ہے واہ واہ آپا ۔۔ کمال کر دیا ۔۔ سبحان اللہ مرے نبی (ص) میں کمال سارے، جمال سارے ، جلال سارے ۔۔ سبحان اللہ
شاہین میری پیاری بہن اس نعت شریف کا ترجمہ بھی کر دیتی تو دل شاد باغ ہو جاتا .. سنو ہو سکے تو کر بھیجو .. اور بے شمار دعائیں لو ہم سب کی .. جو ویسے بھی تمہارے لیئے ہر وقت رہتی ہیں ..
میں ان تمام کرم فرماوں کا مشکو ر ہوں کہ انہوں نے میری ہمت افزائی کی اور اپنی نیک تمناوں اور نیک دعاوں میں مجھے شامل کیا۔
اللہ سب کو خوش و خوشحال رکھے اور نیک مقاصد میں کامیاب کرتا رہے اور کسی کو کسی کا محتاج نہ کرے : آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فانی نے کہا تھا کہ :
یارب تری رحمت سے مایوس نہیں فانی
لیکن تری رحمت کی تاخیر کو کیا کہیے
۔۔۔۔
مجھے اس کا بالکل علم نہیں تھا کہ میری عمر کے اس آخری حصہ میں اللہ کی رحمت کی بارش اتنی زور دار ہوگی کہ میں اپنی چاک دامانی اور بے سروسامانی اور احساسِ ناتمامی کے بوجھ کو شائد برداشت نہ کرسکوں گا۔
ابھی ابھی مجھے عرشی صاحبہ نے یہ ای میل بھجوایا ہے :
‘
“—– Original Message —–
From: Arshi Malik
To: safdar.hamadani@gmail.com ; Dr.Nighat Nasim ; Manzoor Quazi
Sent: Sunday, February 14, 2010 11:54 AM
Subject: رحمتِ خداوندی کی پکار
محترم منظور قاضی صاحب
السلام علیکم
میری ہمت تو نہیں پڑ رہی تھی کہ آپ کو ایک اور طویل نظم ارسال کروں لیکن’’ مزید کچھ عطا ہو‘‘ کے الفاظ نےمجھے جرات عطا کر دی۔
آپ کا شروع کردہ بلاگ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک علمی درسگاہ بن گیا ہے اور بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے
اس علمی باغ میں کہیں نعتوں کے سایہ دار پیڑ لہلہا رہے ہیں تو کہیں علمی نکات کے نئے نئے شگوفے کھل رہے ہیں۔
بڑے بڑے اہلِ علم اس باغ کو سینچنے میں مشغول ہیں۔
حمد ،نعت اور با مقصد شاعری کا ماحول بن گیا ہے۔
تو جی چاہ رہا ہے کہ ایسی ہی شاعری پیش کی جائے۔یہ نظم ’’رحمتِ خداوندی کی پکار‘‘ بھی
ایک ایسی ہی نظم ہے۔جس کا محرک قرآن کریم کی سورہ زمرکی آیت نمبر۵۳ ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔’’تُو کہہ دے اے میرے بندو!۔
جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاو،یقیناً اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے،واقعی وہ
بڑی بخشش والا اور بڑی رحمت والا ہے‘‘۔
والسلام
عرشیؔ ملک “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماشااللہ، سبحان اللہ یہ طویل نظم بھی ہم سب کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے جسے میں اپنی اولین فرصت میں ان پیج سے یونی کوڈ میں تبدیل کردونگا۔ ( انشااللہ ) ۔
( میں اس وقت جرمنی میں ہوں : ابھی بھی خبر آئی ہے کہ میری چھوٹی بہن بلقیس مجھے اپنی دعاوں سے ہمیشہ کے لیے محروم کرکے اللہ کے پاس چلی گئی ۔ میں اس کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو اور انکے بچوں کو تسلی دلاسہ دینے کی کوشش کررہاہوں ۔ لندن تو نہ جاسکونگا مگر میری دعائے مغفرت اس بہن کے ساتھ رہے گی۔ یہ ایک برسبیلِ تذکرہ بات تھی جسے میں اس بلاگ میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا مگر مجھے اس بات کا احسا س ہے کہ جب بھی اپنوں اور پرایوں کے دکھ درد کی خبر عالمی اخبار میں شایع ہوتی ہے تو سب کے سب مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ اپنے دل ہی دل میں ( اس بلاگ میں نہیں )میری مرحوم بہن بلقیس کے لیے دعائے مغرفت کر سکیں تو کریں ۔ اللہ سب کا آغاز اور خاتمہ بخیر کرے ۔ آمین )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہین رضوی صاحبہ کی تحریر اس بلاگ میں پڑھکر میری فکر دور ہوگئی ۔ اللہ انہیں ہمیشہ خوش رکھے ۔ انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ وہ اس بلاگ کی نظامت کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہیں ۔۔اسی لیے شاہین رضوی صاحبہ سے درخواست ہے کہ وہ اس بلاگ کی نظامت کے لیے تیار ہوجائیں اس لیے کہ تین دن کے بعد میں تین ہفتوں کےلیے جرمنی سے اسپین یہ کہکر چلا جاونگا کہ :
سپردم بہ تو مائہ خویش را
تو دانی حسابِ کم و بیش را
اللہ شاہین رضوی صاحبہ کے علم سے ہم سب کو فائدہ اٹھانے کی سعادت عطا کرتا رہے۔
وہ براہ راست عرشی صاحبہ سے ای میل کے ذریعہ رابطہ قائم کرلیں تو دونوں کے لیے اچھا ہی ہوگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فی الوقت آپ سب میرے نعتیہ بلا گ کی اس لنک پر کلک کرکے اس کی مشمولات سے لطف اندوز ہوتے رہیے ۔؛
یہی بلاگ ہیں میرے پاس ، ان کے علاوہ میری عاقبت کو سنوارنے کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے :
http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=694#comments
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
منظور بھائی آپ کی بہن بلقیس صاحبہ کی رحلت کا سن کر بہت دکھ ہوا .. بھائی یہ ایسا صدمہ ہے جس کا کوئی مداوہ نہیں .. اللہ پاک آپ کو صبرو جمیل عطا فرمائے اور بہن بلقیس کے آخرت کے سارے سفر آسان کرے .. آمین .. اللہ کریم سے دعا ہے کہ ان کے پیچھے رہ جانے والے ان کے بچوں کو وہ اپنی پناہ میں رکھے اور صبر جیسی دولت عطا کرے … آمین .. ہم سب آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں .. بھائی مسعود قاضی کو بھی ہم سب کی طرف دے پرسہ دے دیجئے گا .. اللہ پاک آپ سب کے ساتھ ساتھ ہم سب کا بھی حامی و ناصر ہو .. شاہیں کو اس بلاگ کو چلانے کے لیئے کسی مدد کی ضرورت ہوئی تو میں اس کے ساتھ رہونگی .. آپ بے فکر ہو کر جایئے اور خیر خریت سے واپس آیئے .. انشاللہ ہم سب کو آپ کی واپسی کا انتظار رہے گا .. ڈھیروں دعائیں ..
جناب منظور قاضی صاحب۔۔۔ لندن میں مقیم آپکی بہن کی رحلت کا سن کر بہت دکھہ ھوا آپکی ھمشیرہ بلقیس کو اللہ پاک حنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرماۓ۔۔۔خاص کر انکے بچوں کو اس غم کو برداشت کرنے کی طاقت عطا فرماۓ۔۔۔ھم سب مرحومہ بلقیس کی مغفرت کی دعا کر تے ھیں۔۔۔ مجھے احساس ھے جب پردیس میں کسی بہت قریبی ھستی کا انتقال ھوتا ھے تو انسان پر کیا گزرتی ھے،،صبر اور ضبط کے کن مشکل مرحلے سے دوچار ھونا پڑتا ھے،، قاضی صاحب اللہ پاک اپ سب کو صبر عطا کرے۔۔۔جناب منظور قاضی صاحب میرا عرشی آپا سے براہ راست رابطہ بھی ھے اور میری مدد کے لیے میری بہت اچھی دوست ڈاکٹر نگہت بھی ھیں،،، میں پوری کوشش کرونگی کہ اپکی غیرموجودگی میں اس بلاگ کو اسی طرح جاری رکھو۔۔ میں عزیري عرشی آپا سے بھی درخواست کرونگی کہ مجھے اپنی نظم ارسال کردیں۔۔۔انشااللہ آپ بہت جلد واپس آکر اپنے علم سے ھم سب کو قیضیاب کرینگے۔۔۔اللہ پاک آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اللہ اپ کو اور آپکی ھمشیرہ کے اھل خانہ کو صبر عطا فرماۓ۔۔۔امین
محترم قاضی صاحب
السلام علیکم
میں ابھی ابھی باہر سے گھر واپس آئی ہوں اور آپ کی بہن بلقیس کی وفات کے بارے میں پتہ چلا۔
بہت افسوس ہوا ،اب عالمی اخبار کی وساطت سے آپ کے ساتھ ایک فیملی ممبر جیسا رشتہ محسوس ہوتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اور مرحومہ کے بچوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔اور مرحومہ کو اپنے قربِ خاص میں جگہ دے آمین ثم آمین
یہ دنیا سرائے فانی ہے اس میں ہر گھڑی آنا جانا لگا رہتا ہے
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
زندگی کی ٹرین میں ہم سب مسافروں کی طرح بیٹھے ہیں اور اپنا اپنا اسٹیشن آنے پر ہمیں اترنا پڑتا ہے۔
دنیا میں آنے کا صرف ایک راستہ ہے اور دنیا سے جانے کے ہزاروں راستے ہیں
زندگی کی زیادتی کی کوئی نہ کوئی حد مقرر ہے لیکن کمِی حیات کی کوئی حد مقرر نہیں۔
ہر اک بندہ،بشر چھوٹا برا ہے موت کی زد میں
کوئی لیٹا ہے بیٹھا یا کھڑا ہے، موت کی زد میں
یہ شہ زوری جوانی طنطنہ ہے موت کی زد میں
چمکتے گال اور دستِ حنا ہے موت کی زد میں
نہ اس سے بھاگ پایا ہے کوئی نہ بھاگ پائے گا
گلا ہر ایک کا جکڑا ہوا ہے موت کی زد میں
بچھونے نرم پہلو سے یکا یک کھنچ گئے عرشی
بدن اب خاک پر تنہا پڑا ہے موت کی زد میں
بس باقی رہے نام اللہ کا
اللہ کرے آپ بخیر و عافیت اسپین جائیں اور بخیر و عافیت واپس تشریف لائیں آمین
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ، شاہین رضوی صاحبہ اور عرشی صاحبہ کی باتوں سے دل کو سکون ملا۔
میرے پاس اتنے الفاظ نہیں کہ میں ان سب کا شکریہ ادا کرسکوں۔ جزا ک اللہ : اللہ ان سب معصوموں کی نیک دعا ئیں قبول فرمائے اور انکی دعاوں کے طفیل میری مرحوم بیوہ بہن کوکروٹ کروٹ جنت میں جگہ پا جائے: آمین
اگر میں نثر نگاری کا فن جانتا تو اس بہن پر ایک کتاب لکھ ڈالتا۔ اس وقت بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ :
“ خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والی میں“
۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہین رضوی صاحبہ کی عنایت کہ انہوں نے اپنی گونا گوں مصروفیات کے باوجود اس بلاگ کو جاری رکھنے کی حامی بھرلی: شکریہ صد ہزار بار شکریہ ( ایک با ت کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کاتب کی طاقت عرشی صاحبہ کے کلام کی روانی کا مقابلہ نہ کرپائےگی )
۔۔۔۔
فی الوقت میں عرشی صاحبہ کی بتیس 32 اشعار پر مشتمل نظم بعنوان : رحمتِ خداوندی کی پکار“ جو ہر لحاظ سے ایک ادبی شہ پارہ ہے ۔ میں اپنے آنے والے تبصرے میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ اللہ میری اور میرے کمپیوٹر کی مدد کرے اور اس نیک کام کے پورا کرنے کی سعات عطا فرمائے ؛ آمین
۔۔۔۔۔۔
اس نظم ک بعد میں ایک اور طویل نظم جسے عرشی صاحبہ نے صرف مجھے ایک تحفہ کے طور پر روانہ کی ہے اسےبھی عرشی صاحب کی اجازت کے ساتھ اس بلاگ میں اپنی اسپین کے لیے روانگی سے قبل انشا اللہ اس بلاگ میں پیش کردونگا ۔ ( میں نہیں چاہتا کہ ایسے ایسے ادبی شہ پارے صرف میری ای میل میں ہمیشہ کے لیے بند ہوکر سب کی نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں)
فقط:
منظور قاضی
فقط
منظور قاضی از جرمنی
میرے اس جملہ کو :
“ اورانکی دعاوں کے طفیل میری مرحوم بیوہ بہن کوکروٹ کروٹ جنت میں جگہ پا جائے: آمین“
یوں پڑھیے :
اور انکی دعاوں کے طفیل میرے مرحومہ بہن بلقیس جنت میں جگہ پا جائے: آمین“
۔۔۔۔۔
شکریہ
“ رحمتِ خدا وندی کی پکار “
از : ارشاد عرشی ملک ۔ اسلام آباد پاکستان
arshimalik50@hotmail.com
گرچہ ہے گناہوں میں گرفتار چلا آ
آ پاس مرے میرے خطا کار چلا آ
بخشش مری ہر سمت تجھے ڈھونڈ رہی ہے
کیوں مجھ سے گریزا ں ہے مرےیار چلا آ
سو بار بجہ توبپ لو اگر توڑ چکا ہے
رحمت مری کہتی ہے کہ سو بار چلا آ
مایوس نہ ہو گر مرے وعدوں پہ یقیں ہے
وعدے کا میں سچا ہوں،ستم گار چلا آ
ڈھک لے گی ترے عیب مری رحمتِ جاری
مت بھول مرا نام ہے ستار چلا آ
دو اشکِ ندامت ترے دوزخ کو بُجھادیں
آنکھوں میں لیے اشک کی منجدھار چلا آ
میں کون ہوں کیا ہوں تجھے ادراک نہیں ہے
دیکھا ہی نہیں تونے رُخِ یار چلا آ
دوزخ سے نہ ڈر چھوڑ دے جنت کی طمع کو
آ دیکھ مجھے طالبِ دیدار چلا آ
راہ دیکھ رہا ہے ترا خالق ترا مالک
مسجودِ ملائک ، مرے شہکار چلا آ
بندہ ہے تو بندے کے لیے عجزہے زیبا
سر پر نہ سجا کبر کی دستار چلا آ
آجا کہ کُھلے ہیں ابھی توبہ کے دریچے
قبل اس کے کہ ہوجائے تو لاچار چلا آ
مجبوری و مختاری کی بحثوں کو بھلا دے
بے کا ر نہ کر حُجت و تکرار چلا آ
مٹی ہے تری خیر کا اور شر کا مرکب
تُو خیر کو لے شر سے ہو بے زار چلا آ
اوجھل نہیں تُو مجھ سے بھٹکتے ہوئے راہی
پھرتا ہے کہاں ہوکے یونہی خوار چلا آ
ہاں دیر اگر ہے بھی تو اندھیر نہیں ہے
مجھ سا نہ ملے گا کوئی غم خوار چلا آ
میلے سے جہاں کے ترا دل ہی نہیں بھرتا
گھر میں ترے چیزوں کے ہیں انبار چلا آ
تاجر ہے اگر تُو تو رضا میری کمالے
ہوجائے گا کل بند یہ بازار چلا آ
اب چھوڑ بھی دے دنیائے فانی کے مزوں کو
آ چکھ تو سہی لذتِ دیدار چلا آ
تُو موت کے قدموں کی بھی آہٹ نہیں سنتا
کرتا ہے تجھے وقت خبردار چلا آ
پیارا ہے مجھے بندہِ تواب و مطہر
قُرآن کو پڑھ عجز میں سرشار چلا آ
کردیتی ہے معدوم یہ فی لافور گنا ہ کو
تو بہ میں نہاں ہیں عجب اسرار چلا آ
اب چھوڑ بھی دے ظلم و جفا کا یہ وطیرہ
یا ں عجز فقط عجز ہے درکار چلا آ
یہ دل پہ جما زنگ اسی وقت کُھرچ دے
ہو جائے گا کل کام یہ دشوار چلا آ
گردن میں تری طوق ہیں پیروں میں سلاسل
اس پر ہے عجب شوخیِ رفتار چلا آ
یہ کام ہے جلدی کا اسے ٹال نہ کل پر
کل آئے نہ آئے دلِ بیمار چلا آ
آدم (ع) نے بھی توبہ میں ہی ڈھونڈی تھیں پناہیں
آدم (ع) کے قدم پر ہی قدم مار چلا آ
مہلت جو میسّر ہے تو کچھ فیض کما لے
کافی ہیں جو لکھ ڈالے ہیں اشعار چلا آ
کج رو کی نہیں ہے مرے کوچے میں رسائی
درگاہِ مقدس ہے یہ ہموار چلا آ
بہروپ نہ بھر عابد و زاہد کا نکمّے
رگ رگ سے میں واقف ہوں ریا کار چلا آ
ہونے کوہے اب ختم تری عمر کی نقدی
ڈھلنے کو ہے اب شامِ خریدار چلا آ
مہلت جو میسّر ہے تو کچھ فیض کما لے
کافی ہیں جو لکھ ڈالے ہیں اشعار چلا آ
خود تیری انا راہ کی دیوار ہے عرشی
دیوار گرا بھول کے پندا ر چلا آ
+++++++++++++++
تمام شد:
۔۔۔۔
کاتب کے الفاظ:
ماشا اللہ ، سبحان اللہ ، مرحبا عرشی صاحبہ : آپ تو اشعار کا ثوابِ جاریہ ثابت ہورہی ہیں۔ اللہ آپ کے اشعار کی روانی برقرار رکھے اور ہم سب کو آپ کے اشعار سمجھنے اور انکواپنے دلوں میں اتار نےاور انکے پیغامات پر عمل کرنے کی توفیق اور سعادت عطا فرماتا رہے : آمین
فقط:
خادم
منظور قاضی
جرمنی سے
سبحان اللہ، کیا بات ہے، اس رخ سے حمد باری تعالٰی میں نے پہلے کبھی نہیں پڑھی، اجرکم من اللہ،
عرشی بہن ! نہ صرف آپ کی شاعری کمال درجہ کی ہے بلکہ آپ کا عقیدہ اور ایمان بھی اِس شدت کا ہے کہ اس کی گرمی ہم سب کی روحوں کو تڑپا اور دلوں کو گرما رہی ہے، ماشاء اللہ۔
قاضی صاحب محترم ! مندرجہ ذیل اشعار یا تو میں سمجھ نہیں سکا یا شاید سہواً ٹائیپنگ میں کچھ فرق پڑا ہے ذرا دیکھیے تو
سو بار بجہ توبپ لو اگر توڑ چکا ہے
رحمت مری کہتی ہے کہ سو بار چلا آ
مایوں نہ گر مرے وعدوں پہ یقیں ہے
وعدے کا میں سچّا ہوں ستم گار چلا آ
مناف بھائی. محترمہ و معظمہ عرشی صاحبہ نے ان اشعار کو دروست کر کے بھیجا تھا اب اصل جگہ پر بھی درست لگ چکے ہیں.
درست اس طرح ہیں.
سو بار بھی توبہ کو اگر توڑ چکا ہے
رحمت مری کہتی ہے کہ سو بار چلا آ
مایوس نہ ہو گر مرے وعدوں پہ یقیں ہے
وعدے کا میں سچا ہوں،ستم گار چلا آ
عرشی صاحبہ سے معافی چاہتا ہوں کہ انکی اتنی اچھی حمد میں کمپوزنگ کی غلطی کرگیا۔ اسی لیے تو میں اپنے اس شعر میں اسکا اعتراف کرتا ہوں کہ :
رحمت لکھا تو رے پہ بھی نقطہ لگا دیا
رحمت کو ایک نقطہ سے زحمت بنا دیا
۔۔
میں عبدالمناف غلزئی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ عرشی صاحبہ کی تحریر پر اور میری کمپوزنگ پر نظر رکھتے ہیں۔
جناب صفدر ھمدانی صاحب نے بر وقت میری ان دونوں غلطیوں کی تصحیح کردی : شکریہ
خادم
منظور قاضی
جرمنی سے
عرشی آپا کی ایک اور بہت خوبصورت تخلیق اپ سب کے ذوق سلیم کی نذر
کچھہ رولیا۔کچھہ لکھہ لیا
درد کی دولت مجھے پل پل ملی وافر ملی
ھر مصبت اپنی واقف تھی گلے لگ کر ملی
محفلوں میں جب ملی عرشی بہت ھنس کر ملی
رات کے پچھلے پہر اکثر بہ چشم تر ملی
بس میں اپنے کچھہ نہ تھا کچھہ رولیا کچھہ لکھہ لیا
مجھ سے کب بولا گیا، کچھ رو لیا کچھ لکھ لیا
میرے شہر دل میں اکثر غم کی ارزانی رھی
لب رھے خاموش اشکوں کی فراوانی رھی
اس طرف خوشیاں نہ آیئں یہ نگہبانی رھی
ھا ۓ کیا کیا اپنے پیاروں کی مہربانی رھی
میں تھی تنکا وہ ھوا کچھہ رولیا کچھہ لکھہ لیا
مجھ سے کب بولا گیا، کچھ رو لیا کچھ لکھ لیا
جسم آسودہ سہی پر دل میرا گم سم رھا
زندگی شام غریباں ھرگھڑی ماتم رھا
میرے چاروں اورپھیلا درد کا قلزم رھا
تو نے خود تھاما مجھے مجھہ میں کہاں کا دم رھا
زندگی ایک سانحہ کچھہ رولیا کچھہ لکھہ لیا
مجھ سے کب بولا گیا، کچھ رو لیا کچھ لکھ لیا
کانچ کی پوشاک تھی اپنی یہ کیسا قہر تھا
سنگ ھاتھوں میں لیے کل شام سارا شہر تھا
ایک جانب میں اکیلی ایک جانب دھر تھا
میرے لہجے میں بھی شیرنیی کہاں تھی زھر تھا
زخم جب تازہ لگا کچھہ رولیا کچھہ لکھہ لیا
مجھ سے کب بولا گیا، کچھ رو لیا کچھ لکھ لیا
چاھت دنیا کی کاٹیں میں نے کتنی بیڑیاں
اس شجر پر روزاگ آتی ھیں تازہ پتیاں
چیختی اوردھاڑتی یہ نفس کی منہ زوریاں
جس طرح سے شام کے اخبار کی ھوں سرخیاں
میں ھوں حرف بے نواکچھہ رولیا کچھہ لکھہ لیا
مجھ سے کب بولا گیا، کچھ رو لیا کچھ لکھ لیا
میں کسی غمگیں کہانی کا کوئ کردار ھوں
بوچھہ سے اپنے جو گرجاۓ میں وہ دیوارھوں
ناتراشیدہ ھوں بے قیمت ھوں میں بیکار ھوں
میرا مصرف کیا ھے گزرے کل کا میں اخبار ھوں
سچ مگر کل بھی کہاکچھہ رولیا کچھہ لکھہ لیا
مجھ سے کب بولا گیا، کچھ رو لیا کچھ لکھ لیا
سربہت پھوٹے ھیں جب چھیڑا گیا مضراب کو
تاب اب عم کی کہاں میرے دل بےتاب کو
شعر کہتی ھوں کہ کچھہ ٹھنڈک ملے اعصاب کو
اور لطف شاعری ملتا رھے احباب کو
درد جب حد سے بڑھا کچھہ رولیا کچھہ لکھہ لیا
مجھ سے کب بولا گیا، کچھ رو لیا کچھ لکھ لیا
مجھے بہت خوشی ھے کہ عزیزی عرشی آپا نے مجھہ پر اعتماد کرتے ھوۓاپنا کلام ‘‘ جس کو تو نہ ملا ‘‘عنایت کیا ھے اور میں کمپوزنگ کرتے ھوۓ دعاکر رھی ھوں کہ کوئ کوتاھی نہ ھوجاۓ۔۔۔۔آپ سب لوگوں سے میں پیشگی معافی کی طلبگار ھوں۔۔۔
جستجوۓ رب میں وہ جو ابتدا بھی وہ جو انتہا بھی وہ جو ابد سے ازل تک وہ جس کی حکمت و عظمت کائنات کے ذرے ذرے سے عیاں،،وہ جو ایک سربستہ راز اور اسکی جستجو اسکی تلاش ابدی نعمتوں کا لامحدود سمندر۔۔۔
‘
محترمہ ارشاد عرشی صاحبہ کی ایک اور حکمت آمیز نظم،
جس کو تو نہ ملا۔۔
اس کو کیا علم کیا شۓ ھے عیش بقا ، جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
زندگی ایسے انسان کی بے ذائقہ ،جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
تول روزحساب اس کا ھلکا ھوا ، جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
اس کا مقسوم ھے اک بڑھکتی چتا ،جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
اس کے پیش نظر دینوی لذتیں ، جس کا مقصود ھے صرف جاہ وحشم
دور تک ایسے انساں کے اندر خلا۔۔جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
گرچہ طاقت میں وہ مثل فرعون ھو ،اور دولت میں شداد وفرعون ھو
چشم بینا میں لیکن ھے بے دست وپا ،جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
عارفوں کی تو وردی ھے کرب وبلا ،شوق سے اسکو لیتے ھیں تن پر سجا
اس مزے سے وہ ناداں ھے نا آشنا ،جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
دنیا داری کی لذت میں جو مست ھے ، جس کی نظروں میں ذکر خدا پست ھے
ایسے بیمار کاھے مرض لا دوا،جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
یہ گزرتا ھوا وقت بیکار ھے، ایک سر درد ھے ایک آزار ھے
روزو شب کا سفر اس کا بے فائدہ ،جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
عیش دنیا سے عرشی جو مانوس ھے،کاش سمجھے یہ کاغذ کا ملبوس ھے
اس کی عریانیوں کی نیہں انتہا ،جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
میں کمپوزنگ کرتے ھوۓ دعاکر رھی ھوں کہ کوئ کوتاھی نہ ھوجاۓ۔۔۔۔آپ سب لوگوں سے میں پیشگی معافی کی طلبگار ھوں۔۔۔
اللہ شاہین رضوی صاحبہ کو ہمیشہ خوش رکھے۔ بہت ہی اچھے طریقہ سےعرشی صاحبہ کا کلام ان پیج سے یونی کوڈ میں منتقل کرکے اس بلاگ میں شایع کررہی ہیں۔ ماشا اللہ ، عرشی صاحبہ کے کلام پر شاہین رضوی صاحبہ کی کمپوزنگ، سونےپر سہاگہ کا کام کر رہی ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ اب شاہین رضوی صاحبہ کی وجہ سے عرشی صاحبہ کا کلام عالمی اخبار میں شایع ہورہا ہے ۔
عرشی صاحبہ نے حال ہی میں مجھے ایک 118 اشعار کی طویل نظم تحفہ کے طور پر عنایت کی ہے اور یہ بھی کہدیا ہے جسے میں جرمنی میں اپنے گھر چھوڑ کر تین ہفتوں کے لیے ملک سے باہر چلا جاونگا۔ اگرعرشی صاحبہ اجازت دیں تو میں اس نظم کو شاہین رضوی صاحبہ کو ای میل کے ذریعہ بھجواسکتا ہوں ۔ ورنہ اسپین سے واپسی پر پوری کی پوری نظم اپنی اولین فرصت میں عالمی اخبار میں پیش کردونگا۔ اس نظم کے حصوں کو عرشی صاحبہ نے مختلف عنوانات کے تحت ترتیب دیا ہے ۔ فی الوقت میں صرف عنوانات اور انکے تحت ایک دو اشعار لکھدیتا ہوں کہ پڑھنے والے عرشی صاحبہ کے کمالِ شعر گوئی کا اندازہ لگالیں:
عنوان: نفسِ امّارہ کو موت سے ڈرانا
شعر:
مجھے کچھ نفسِ امّارہ سے کھل کر بات کرنی ہے
اور اس بدبخت پر اس کی بیاں اوقات کرنی ہے
یہ حصہ چو بیس 24 اشعار پر مشتمل ہے
دوسرا حصہ :
عنوان :
نفسِ امّارہ کو حساب کتاب سے ڈرانا
شعر:
اگر ایمان ہے تیرا جہنم اور جنت پر
خدا کی عظمت و طاقت پہ اس کی بادشاہت پر
یہ حصہ اٹھارہ 18 اشعار پر مشتمل ہے
تیسرا حصہ :
عنوان :
نفس امّارہ کو دلیل دے کر سمجھانا
شعر:
اب اس دانش کا نکتہ ہے سو اس کو غور سے سن لے
پھر اس کے بعد جو اچھا لگے وہ راستہ چن لے
اس حصہ میں سولہ 16 اشعار ہیں
چوتھا حصہ :
عنوان : نفسِ امّارہ کو لذتِ دنیا سے بچنے کی ترغیب دینا
شعر؛
رسولِ پاک(ص) نے اُ مت سے کھل کر کہ دیا یہ بھی
کہ جبرائیل نے یہ بات میرے دل میں ہے پھونکی
اس حصہ میں : انیس 19 اشعار ہیں
پانچواں حصہ:
عنوان : نفس امّارہ کو جاہ کی طلب سے روکنا
شعر:
تری آنکھوں میں شاید چھاگئی ہے جاہ کی چربی
بھلا یہ جاہ کیا ہے ؟ کچھ دلوں کا میل ہے وقتی
اس حصہ میں آٹھ 8 اشعار ہیں
چھٹا حصہ:
عنوان :
لذ
میرا کمپیوٹر کا نفسِ امارہ بھی عرشی صاحبہ کی تادیبی نظم کےبوجھ کی تاب نہ لاکر مجھ سے آنکھ مچولی کھیل رہا ہے:
بہرکیف:
چھٹا حصہ:
لذّاتِ نفس کے مضبوط ہونے سے ڈرانا
شعر؛
اگر تو اپنی لذ ت چھوڑنے سے آج قاصر ہے
تو کل یہ اور بھی طاقت پکڑ جائے گی ظاہر ہے
اس حصہ میں نو 9 اشعا ر ہیں
۔۔۔
ساتواں حصہ :
عنوا ن: عبادت پر مغرور ہونے سے روکنا
شعر:
عبادت کی ہے گر توفیق ، اس پر پھولتا کیوں ہے؟
بلعم با عور بھی عابد تھا اس کو بھولتا کیوں ہے ؟
( معافی چاہتا ہوں : بلعم باعور کی تلمیح سے میں ناواقف ہوں)
اس حصہ میں : نو 9 اشعار ہیں
۔۔۔۔
آٹھواں حصہ :
عنوان : دل کی سختی کا علاج بتانا
شعر:
اگر حائل ترے رستے میں تیرے دل کی سختی ہے
تو اتنا جان لے بدبخت، دوزخ تجھ کو چکھتی ہے
اس حصہ میں: پندرہ15 اشعار ہیں
۔۔۔۔
اس طرح یہ 118 اشعار پر مشتمل نظم مہربانی فرما کر مجھے عرشی صاحبہ نےعطا کی ہے۔ جزا ک اللہ عرشی صاحبہ : شکریہ ۔
۔۔
یقینی طور پر اس قدر زود گو اور بسیار گو اور قادرالکلام شاعرہ کی تصنیفات بھی اب تک کا فی سے زیادہ ہونگی۔ اگر ہیں تو عرشی صاحبہ ا نکی فہرست ضرور اس بلاگ میں لکھدیں ، مہربانی ہوگی ۔
گوگل اورویکی پیڈیا میں عرشی صاحبہ کے متعلق صرف اور صرف صفدرھمدانی صاحب کے یو ٹیوب پر عرشی صاحبہ کی بہت ہی اچھی نظم تحت الفظ پڑھتے ہوئے موجود ہے مگر اس کے علاوہ ان کے متعلق اور انکے کلام کے متعلق ان میں کوئی بات نہیں لکھی گئی ۔
تعجب ہے کہ اردو کے اچھے اچھے نقاد دوسرے معروف اور غیر معروف شعرا اور شاعرات پر کتابوں پر کتابیں لکھ رہے ہیں مگر ابھی تک وہ عرشی صاحبہ کے کلام پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔
جوبھی کچھ ہو ؛ ہم سب خوش قسمت ہیں کہ عرشی صاحبہ ہم کو اپنا سمجھ رہی ہیں اور اپنےکلام سے نواز رہی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخرمیں محترمہ شاہین رضوی صاحبہ سے دست بستہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ وہ پھر سے عرشی صاحبہ کا یہ شعر پڑھیں جو یوں کمپوز ہوا ہے :
اس کے پیش نظر دینوی لذتیں ، جس کا مقصود ھے صرف جاہ وحشم
دور تک ایسے انساں کے اندر خلا۔۔جس کو تو نہ ملا جس کو تو نہ ملا
۔۔۔
میر ا خیال ہے کہ ا س کے پہلے مصرعہ میں دُنیوی لذتیں ہو گا ۔
۔۔۔۔
اللہ عرشی صاحبہ اور شاہین رضوی صاحبہ کو ہمیشہ ہمیشہ خوش رکھے۔ آمین
فقط:
خادم
منظور قاضی
از جرمنی
محترم قاضی صاحب
قرآن کریم کی سورت ال اعراف کی آیت نمبر ۱۷۵ اور ۱۷۶ میں ایک شخص کا ذکر ہے۔
اس کے بارے میں بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کا ایک عالم اور عابد شخص تھا ،
لیکن اپنے علم و عبادت پر نازاں ہونے کی وجہ سے وہ اللہ پاک کی نظر سے گر گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے کتے سے تشبیہ دی۔
یہی مجھ عاجز اور کم علم کو پتہ ہے اور اسی تلمیع کو میں نے شعر میں استعمال کیا ہے۔
عبادت کی ہے گر توفیق اس پر پھولتا کیوں ہے
بلعم باعور بھی عابد تھا اس کو بھولتا کیوں ہے
اگر کوئی اہل ِعلم اس بارے میں مزید کچھ ارشاد فرمائیں تو میں ممنون ہوں گی
عرشیؔ ملک
میں عرشی صاحبہ کا دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے میری رہنمائی کی اور بلعم باعور کی تلمیح کی تشریح کی۔
عرشی صاحبہ جیسی بلند پایہ سخنور اور دانشور سے اچھی اچھی باتیں سن کر دل اور روح اور دماغ روشن ہوجاتےہیں ۔
میں عرشی صاحبہ کے لیے اللہ سے دعا مانگتا ہوں کہ اللہ انہیں ہمیشہ صحت و تندرستی سے رکھکر اسی طرح دنیا میں علم و دانش کی روشنی پھیلانے کی استطاعت اور توفیق عطا فرماتارہے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسوس کےساتھ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ فی الوقت یہ میرا آخری تبصرہ ہے۔
اللہ عرشی صاحبہ اور شاہین صاحبہ کی محبت قائم و دائم رکھے اور ان دونوں کی محنت اور محبت سے اس بلاگ کو چلانے یا پھر نئے بلاگ شروع کرنےکے مواقع عطا کر تا رہے ۔ آمین
۔۔۔
اسپین ( اندلوسیا ) کے جس مقام پر ہم ( میں اور بیوی ) تین ہفتوں کے لیے جارہے ہیں وہا ں پر کمپیوٹر کی اتنی سہولت نہیں جو جرمنی میں ہے اس لیے مواقع ملنے پر کبھی کبھی ان بلاگوں میں حاضری لگاتا جاونگا۔
فی الوقت یہ ہی کہنا ہے کہ:
لو ح و قرطاس پہ حسرت کی نظر کرتے ہیں
خوش رہو اہلِ قلم ہم تو سفر کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
“پھر ملینگے اگر خدا لایا“
۔۔۔۔۔
طالبِ دعا
منظور قاضی
فی الوقت جرمنی سے
منظور بھائی عالمی اخبار کی ساری انتظامیہ،بلاگرز،قلم کار اور قارئین آپکی صحت کے لیئے دعا گو ہیں اور اللہ پاک سے ملتمس ہیں کہ آپکا سفر بخیر ہو. سلامت روی و باز آئی….. اس بار اندلسیہ سے واپسی پر اس تاریخی شہر کے بارے میں ضرور کچھ لکھیئے گا. سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے. اور ہاں ذرا یہ بلعم باعور اور انکی بیگم صاحبہ کا قصہ بھی پڑھتے چلیئے….اچھی بیوی بھی تو نعمت ہوتی ہے نا…لیکن یہاں معاملہ الگ ہے….
بلعم باعور کى بيوى کا ذکر
يہ شخص بڑا عابد زاہد تھا شام کے ملک ميں رہتا تھا جب حضرت موسى کى امت کے مسلمان خدائے تعالى کے حکم سے حضرت يوشع عليہ السلام کے ساتھ ملک شام ميں بيت المقدس کو کافروں کے ہاتھ سے چھڑانے گئے وہاں کے لوگ اس کے پاس آئے اور کہا کہ تم ان مسلمانوں کے ليے بددعا کر دو کہ يہ ہار جائيں
اس نے انکار کيا اور کہا کہ پيغمبر کے ليے اور جو پيغمبر کے ساتھ ہوں ان کے ليے بددعا کرنى بڑى سخت بات ہے ميں ہرگز ايسا نہ کروں گا
لوگوں نے اس کى بيوى کو بہت سا مال و زر دے کر کہا کہ تو کسى ڈھب سے اپنے میاں کو بہکا
اس نے لالچ ميں آکر اس طرح مياں کو پٹى پڑھائى کہ وہ بددعا کرنے کو تيار ہو گيا اور جب بددعا شروع کرنے کا ارادہ کيا اسى وقت ايمان تو جاتا ہى رہا زبان بھى چھاتى پر لٹکى اور جب مسلمانوں کو فتح ہوئى بلعم باعور کو بھى قتل کر ديا گيا۔
محترم صفدررضا صاحب۔۔۔ اسلام علیکم۔ ۔مولا آپکے علم سے ھم سب کو استفادہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔۔۔مجھہ جیسے تشنگان کی تشفی ھوتی ھے۔۔۔۔جزاک اللہ ، ھم بھی جناب منظور قاضی صاحب کی درازی عمر اور خوشگوار چھٹیوں کے لیے دعاگو ھیں
ارشاد عرشی مللک صا حبہ کی ایک اور خوبصورت کاوش ۔۔
کردار سے جھلکے۔
کبھی افکار سے جھلکے کبھی گفتار سے جھلکے
کبھی اطوار سے جھلکے کبھی کردار سے جھلکے
محبت گر خدا کی دل میں ھو تو چھپ نیہں سکتی۔
یہ جس بھی دل میں ھو اس کے سبھی آثار سے جھلکے
غرض یہ مشک ھے اور مشک مٹھی میں نیہں رھتی
آگر محتاط ھو عاشق نگاہ یار سے جھلکے
نہ دن کو چین لینے دے نہ یہ راتوں کو سونے دے
سحر دم عاشقوں کے دیدہ بیدار سے جھلکے
کبھی چھپتا نیہں ھے نوردروازوں کو ڈھونے سے
یہ ایسی شے ھے جوھر روزن دیوار سے جھلکے
کسی موضوع پہ بھی لکھوں ترا ذکر آھی جاتا ھے
میں نہ چاھوں بھی تو یہ تذکرہ اشعار سے جھلکے
آگرچہ رنگ و روغن خوب کرتی ھوں بشاشت کا
مگر پھر بھی اداسی سی میری چہکار سے جھلکے
یہاں جو شہر تھا اباد خود میں نے آجاڑا ھے
یہ منظر ھر گھڑی میرے دل مسمار سے جھلکے
وہ میری شوخی رفتار اب قصہ ھے ماضی کا
تھکاوٹ ھی تھکاوٹ اب میری رفتار سے جھلکے
میرے لہجے میں اب وہ تمکنت نہ قطعیت عرشی
تذبذب سا میرے الفاظ سے اظہار سے جھلکے
میں عرشی آپا سے دست بدستا معافی کی خواستگار ھوں دوران کتابت میں ھونے والی نادانستہ غلطیوں کی ۔۔۔
عرشی آپا کی احساس کے تاروں کو چھولینے والی ایک مختصر نظم جس کا عنوان ھے انا
انا
میں نے پو پوجھا کہ اے میرے مالک
میرے دو نوں جہان کے خا لق
کیسے دنیا میں اپ کو پاؤ ں
آپ کے پا س کس طرح أؤں
میری سب لغزشیں بھلا دیجیے
ر اہ آسا ن سی بتا دیجیے
بے تکلف جواب یہ آیا
مختصر راستہ اگر چاھو
پیر رکھہ کر ‘‘ا نا ‘‘ پہ آجا ؤ
اسلام آباد کے سرسبز کہساروں کے دامن میں مقیم عرشی آپا کی ایک حمدیہ نظم جس کا عنوان ھے
أجال تؤ
دل مضطرب بہت ھے مجھے آ سنبھال تؤ
جھولی میں میری لطف کی کجھہ بھیک ڈال تؤ
اس لوح دل پہ صرف ترا نام ھے کھدا
اس دل کو ٹھوکروں سے نہ کر پائمال تؤ
میں تیرے آب عشق کی مچھلی ھوں جان جاں
خشکی پہ مت فراق کی مجھکو آچھال تؤ
تجھکو پکارتا ھے میرا ڈوبتا بدن
دلدل سے اس جہان کی مجھکو نکال تؤ
کر پاک مجھکو قرب کے قابل بنا مجھے
سب گند میرے دور ھوں مجھکو آچھال تؤ
قیوم تو ھے تجھہ سے ھر اک چیز کو قیام
برسوں سے کر رھا ھے میری دیکھہ بھال تؤ
اپنے وجود کو تیرے قدموں میں رکھہ دیا
اس بے کمال چیز کو دیدے کمال تؤ
تکتی ھوں ھر گھڑی تیرے جلوے نئے نئے
میری خوشی بھی تجھہ سے ھے میرا ملال تؤ
اک پل کو تو جراح تو اک پل طبیب ھے
تو میرے دل کا زخم میرا اندمال تؤ
مانا کہ میں فقیر ھوں مفلس ھوں بے نوا
تجھہ سے تجھی کو مانگا ھے میرا سوال تؤ
مجھکو فنا کا شوق ھے کر عشق میں فنا
آب حیات دے کے نہ عرشی کو ٹال تؤ
میں صفدر ھمدانی صاحب اور عالمی اخبار کی انتظامیہ کا مشکور ہوں کہ مجھے اپنی نیک دعاوں میں شریک کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہین رضوی صاحبہ جس خوش اسلوبی کے ساتھ عرشی صا حبہ کا کلام پیش کررہی ہیں اس کے لیے وہ تمام پڑھنے والوں کے شکریہ کی مستحق ہیں۔ جز اک اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عرشی صاِحبہ تو علم کا خزانہ ہیں ۔ ہم سب انتہائی خوش نصیب ہیں کہ وہ یہ خزانہ ہم سب پر فراخ دلی کے ساتھ نچھاور کررہی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسو س کی تبصروں کے نہ ہونے سے یہ اندازہ ہورہا ہے کہ کوئی اس بلاگ کو شائد پڑھتا ہی نہیں یا پڑھتا ہے تو سمجھتا نہیں۔۔
عرشی صاَحبہ اور شاہین رضوی صاحبہ دونوِں بلا کسی ستائش کی تمنا کیے ہوئے اپنی دھن میں لگی ہوئی ہیں ۔
اسی پر میں یہ کہ چکا ہوِں کہ یہ بلاگ ایک زعفران زار¨ خواہ اس کی کوئی قدر جانے یا نہ جانے یہ ہمیشہ لہلہاتا رہے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر ھمدانی صاحب نے بلعم باعور اور اسکی فتنہ پرور بیوی کی جیسی تلمیحات کی تشریح کی ۔ علم میں اَضافہ ضرور ہوا مگر یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اگر بلعم باعور کی چار بیویاں ہوتیں تو کم ااز کم کسی ایک بیوی کے صحیح مشورے سے وہ صحیح فیصلہ کرسکتا تھا ۔۔
شروع سے یہ چلا آیا ہے کہ مرد تو غلط کام اور غلط فیصلہ کرتا ہے مگر بیوی پر سارا الزام ڈال دیتا ہے ۔
یہی بات آدم اور حوا کے ساتھ ہوئی :
کسی خاتون شاعرہ نے کہا تھا کہ:
اپنی آوارہ مزاجی کو نیا نام نہ دو
مجھ کو جنت سے نکلوانے کا الزام نہ دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فی الوقت میں اور میری بیوی جس جگہ پر ہیں وہ قرطبہ اور سیویلیہ سے کچھ زیادہ دور نہیں ۔ کبھی کبھی ہم ان دونوں شہرو ں کی سیر ضرور کرتے ہیں مگر سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
وہ تو آبا تھے ہمارے ہی مگر ہم کیا ہیں
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہیں
( اقبا ل سے معذرت کے ساتھ )
۔۔۔۔۔۔
پھر ملینگےاگر ِخدا لایا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
عرشی صاحبہ اور شاہین رضوی صاحبہ کو بہت بہت سلام و دعا کے ساتھ :
منظور قاضی
فی الوقت اسپین اند لوسیا سے
جناب منظور قاضی صاحب۔۔۔اسلام علیکم ۔۔ امید ھے کہ آپ ان دنوں اسپین کے خوبصورت اور تاریخی شہروں کے سحر میں گم ھونگےجہاں مسلمانوں کے درخشاں ماضی کی تصویریں اور تحریریں۔ جا بجا نظر آتی ھیں۔۔۔۔ منظورقاضی صاحب مجھے بہت خوشی اور فخر ھے کہ عالمی اخبار میں اسلام آباد میں مقیم ارود کی اتنی قادرالکلام شاعرہ رھتی ھیں ان کو نام و نمود کی بھی خواھش نیہں ھے۔۔۔ جیسے جیسے عرشی آپا ھم لوگوں کو اپنے کلام سے نوازتی رھینگیں ھم سب اس کو ان پیچ سے ان کے بلاگ میں رقم کر تے رھینگے،،،اللہ پاک اردو سے محبت کرنے والوں کو سلامت رکھے اور آپ سب کے ناموں کو سینکڑوں سال تک زندہ رکھے آمین
آپکی باخیر واپسی کے لیے اور آپکی اور آپکے اھل خانہ کی خوشیوں کے لیے دعاگو
شاھین رضوی
کویت
میں شاہین رضوی صاحبہ کا مشکور ہوں کہ وہ مجھے اور میری بیوی کو اپنی نیک دعاوں میں شا مل رکھتی ہیں۔ جزا ک اللہ
عرشی صاَحبہ اور شاہین رضوی صاِحبہ دونوں نام و نمود کی خواہش کیے بغیر جس طرح اس بلاگ کو اپنے کلام سے اور اپنی محتتوِں سے سرفراز کررہی ہیں اسے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔
وہ دونوں اسی بلاگ کو جاری رکھ سکتی ہیں یا پھر ایک نیا بلاگ شروع کرکے عرشی صاَحبہ کے ارشادات کا نیا سلسلہ شروع کرسکتی ہیں ۔ میری دلی دعا ہے کہ عرشی صاَحبہ عالمی اَخبار کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ منسلک رہیں ۔ ایسی نعمتیں دنیا میں بہت ہی کم نصیب ہوتی ہیں ۔
افسو س کہ وہ تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سایل ہی نہیں ہے کا معاملہ نظر آرہا ہے۔
بہر حال: یہ شمع ہیے تو روشن رہے اور یہ چراغ ہے تو جلا رہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسوس کہ میں بہت ساری مجبوریوں کی وجہ سے عالمی اخبار سے دور رہونگا مگر وہ میرے دل کے قریب ہی رہے گا ۔
میری دعائیں اور نیک تمنائیں تما م عالمی اَخبار کے پڑھنےوالوں اور اس کے ارباب اَختیار کے ساتھ ہیں ۔
فقط۔
منظور قاضی
اسپین سے