ھا ھا ھا کیا جرات بائی ھے، اس کو کہتے ہیں طاقت کے آگے دماغ کا استٰعمال اور دماغ تو جانور کے پاس بھی ہے اور ہاں بندر کے پاس تو 2 دماغ ھوتے ہیں-
اس تصویر پر ایک شعر کہ “جو دھن ھو کر گررنے کی، تو پھر سوچا نہیں کرتے ” ھا ھا ھا
واہ بھئی واہ ثنا لاجواب شعر اور برمحل
کبھی بھولے سے بھی بندر کی باتوں میں نہیں آنا
سنو بچو کبھی کتے کو یوں چھیڑا نہیں کرتے
میں اس کارٹون کو کئی بار دیکھ چکی ھوں اور جب دیکھتی ھوں بندر کی شرارت اور جرات پر حیرت کے ساتھ ایک حوصلہ بھی پاتی ھوں ۔ کاش کہ ھماری گورمنٹ اس طرح کی شرارت امریکہ اور انڈیا کے ساتھ بھی کر ے ۔۔ چاھے ایک بار ھی سہی ۔۔ حسرت تو نہیں رھے گی کہ کاش ھم لوگ بھی جرات میں بندر سے آگے نہ سہی تو کم از کم اس جیسے تو ھوتے ۔۔ ویسے بھی ثنا نے کہا ھے کہ بندر کے پاس دو دماغ ھوتے ھیں ۔۔ ارے سنو کہی ایک ھماری حکومت کا تو نہیں اُڑا لیا بندر نے ۔۔ دیکھا پتہ چل گیا نہ کہ کیوں پاکستانی حکومت بزدل ھے ۔ تھینکس تو ثنا ۔۔
ویلکم نگہت جی 🙂 ویسے کیا بات کرتی ھیں آپ اگر حکومت کے باس دماغ ھوتا تو آج ھمارے ملک کئ یہ حالت ھوتی ، چلیں اب بندر سے پوچھنا پڑے گا کہ بھلا کیوں چرایا اس نے ھمارئ حکومت کا دماغ، لیکن اچھا ھئ ھے بندر چرا کر بھئ اس کو استعمال تو کر رہا ھے اور وہ بھئ بڑئ طاقت کے سامنے، پر اگر بندر کے بجائے ھمارے حکومت کے پاس ھوتا، وہ تو ڈر کے پیچھے سے ھی بھاگ جاتے ،کم از کم بندر نے جرات تو دکھایئ ۔۔ ھا ھا ھا
“کائنات اپنے اصل کی جانب لوٹ رھی ھے-ھم جو کہتے ھیں وہ سچ نہں ھے—-جو سوچتے ھیں وھی سچ ھے۔۔۔۔۔۔۔اور یہ اج ۔۔۔۔۔ دور حاضر کی سچائی بھی ھے۔۔۔۔
بندر آخر بندر ہی ہوتا ہے،
کب گرجا مندر ہوتا ہے
ہاں بندر،بندر ہوتا ہے
۔۔۔۔۔
جو جتنا باہر لگتا ہے
وہ اُتنا اندر ہوتا ہے
۔۔۔۔۔
دل میں جھانک کے دیکھو تو
ہر شخص قلندر ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔
یہ کارٹون لفظ پنگا کی بڑی خوبی کے ساتھ توضیح کرتا ہے۔
وہی پنگا جو ستمبر دو ہزار ایک کے بندروں نے امریکہ سے لیا اور ساری دنیا کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل ڈالی۔
وہی پنگا صدام نے امریکہ سے لیا اور کووں کو دعوت دے دی۔
وہی پنگا حال ہی میں دس افراد نے بھارت سے لے لیا ( وہ کون ہیں اور کس ملک کے ہیں وہ تحقیق طلب ہے مگر اس پنگے نے پاکستان کا بیڑا غرق کرنے کی کوشش کی )۔ اسی پنگے نے اب بھارت کو پاکستان کی ہوای فضا میں آنے کی جرا ء ت دی ۔
وہی پنگا فاٹا کے لوگوں نے پاکستان دشمن عناصر کو اپنے مہمان بنا کر امریکہ سے لے لیا ۔ اب وہاں بار بار امریکہ ڈرون ہوای جہاز ( پاکستانی حکومت کی مرضی کے بغیر ) تباہی مچاتے ہیں۔
کتا ابھی تک بندر کے پنگے کو مذاق سمجھ کر ٹال رہاہے مگر ایک نہ ایک دن بندر اس دیوانے کتے کا شکار ہوجاےگا۔
واہ واہ واہ
منظور بھائی کیا کہنے۔اب کتا بھی سوچ رہا ہو گا کہ یہ ہوا کیا ہے
سر ورق پر خبر پڑھئ کہ اتنئ جرات سے” بش ” پے اس صحافئ نے جوتے مارے ، میں سوچ رہی تھئ کہ کہیں اس عراقی صحافی منتظر الذیدی نے ھمارا یہ بلاگ تو نہیں دیکھ لیا 🙂 ، اس تصویر پے اس نے بھئ نا کلک کر دیا ھو۔ ھا ھا ھا ھا اور اس سے انسپار ھو کر اتنئ جرات دکھا دئ ۔آپ لوگوں کا کیا خیال ھے ؟ اللہ اس صحافئ کئ اب خیر کرے 🙂
واقعی ثنا میں تو یہ سوچ رھی ھوں کہ اب اس صحافی کو چاھے پھانسی لگ جائے جو کام مولا نے لینا تھا وہ اس سے لے لیا ۔اب جو ھو سو ھو ۔۔ جو اتنا سوچتےھیں وہ ایسا کام کر ھی نہیں سکتے ۔میری دعایئں اس بہادر کے لیئے ھمیشہ رھیں گی ۔
جی بگہت جی بےشک اس صحافی نے تو بہادری دکھا دئ،دعایئں اس بہادر کے لیئے ھمیشہ رھیں گی ،
پر اب سوچیں اس کے اثرات کیا ھوں گے شاید اب پریس کانفرنس سے پہلے صحافیوں سے جوتے اتروا لئے جایا کریں گے 🙂 اور کیوں کے اب امریکہ کے بش پے جوتے کا حملہ ھوا ھے اور ان کو آگے کہیں ممکن ہے کہ نا صرف صحافیوں کے لیے بلکہ تمام مسلموں کے لیے جوتا پہننا ممنوع ہو جائے، میں سوچ رہی ھوں پھر مسلمان پاوؤں میں کیا پہنیں گے اگر جوتوں پے پابندی لگ گئی- بس اب سب 10 نمبر کے جوتے والے اپنئ خیر منائیں 🙂 گڈ لک !!
سگدات کہیں بہتر اُن یاروں سے خصلت میں
آنکھیں جو چراتے ہیں اوقاتِ ضرورت میں
ظفرجعفری
کتے کا یوں بندر سے منہ پھیرنا اچھا نہیں۔ورنہ بیرونی امداد کے حصول میں شدید مشکل پیش آسکتی ہے۔کراچی کے قدیم علاقے لیاری مین تشریف لے جائیے تو معلوم ہوگا ک مقامی زبان میں کتا اور بندر کس کو کہتے ہیں اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو ہم بلا معاوضہ آپ کو پڑھانے کے لیئے تیار ہیں
تجھے اٹھکھیلیاں سوجی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ھا ھا ھا کیا جرات بائی ھے، اس کو کہتے ہیں طاقت کے آگے دماغ کا استٰعمال اور دماغ تو جانور کے پاس بھی ہے اور ہاں بندر کے پاس تو 2 دماغ ھوتے ہیں-
اس تصویر پر ایک شعر کہ “جو دھن ھو کر گررنے کی، تو پھر سوچا نہیں کرتے ” ھا ھا ھا
واہ بھئی واہ ثنا لاجواب شعر اور برمحل
کبھی بھولے سے بھی بندر کی باتوں میں نہیں آنا
سنو بچو کبھی کتے کو یوں چھیڑا نہیں کرتے
میں اس کارٹون کو کئی بار دیکھ چکی ھوں اور جب دیکھتی ھوں بندر کی شرارت اور جرات پر حیرت کے ساتھ ایک حوصلہ بھی پاتی ھوں ۔ کاش کہ ھماری گورمنٹ اس طرح کی شرارت امریکہ اور انڈیا کے ساتھ بھی کر ے ۔۔ چاھے ایک بار ھی سہی ۔۔ حسرت تو نہیں رھے گی کہ کاش ھم لوگ بھی جرات میں بندر سے آگے نہ سہی تو کم از کم اس جیسے تو ھوتے ۔۔ ویسے بھی ثنا نے کہا ھے کہ بندر کے پاس دو دماغ ھوتے ھیں ۔۔ ارے سنو کہی ایک ھماری حکومت کا تو نہیں اُڑا لیا بندر نے ۔۔ دیکھا پتہ چل گیا نہ کہ کیوں پاکستانی حکومت بزدل ھے ۔ تھینکس تو ثنا ۔۔
ویلکم نگہت جی 🙂 ویسے کیا بات کرتی ھیں آپ اگر حکومت کے باس دماغ ھوتا تو آج ھمارے ملک کئ یہ حالت ھوتی ، چلیں اب بندر سے پوچھنا پڑے گا کہ بھلا کیوں چرایا اس نے ھمارئ حکومت کا دماغ، لیکن اچھا ھئ ھے بندر چرا کر بھئ اس کو استعمال تو کر رہا ھے اور وہ بھئ بڑئ طاقت کے سامنے، پر اگر بندر کے بجائے ھمارے حکومت کے پاس ھوتا، وہ تو ڈر کے پیچھے سے ھی بھاگ جاتے ،کم از کم بندر نے جرات تو دکھایئ ۔۔ ھا ھا ھا
“کائنات اپنے اصل کی جانب لوٹ رھی ھے-ھم جو کہتے ھیں وہ سچ نہں ھے—-جو سوچتے ھیں وھی سچ ھے۔۔۔۔۔۔۔اور یہ اج ۔۔۔۔۔ دور حاضر کی سچائی بھی ھے۔۔۔۔
بندر آخر بندر ہی ہوتا ہے،
کب گرجا مندر ہوتا ہے
ہاں بندر،بندر ہوتا ہے
۔۔۔۔۔
جو جتنا باہر لگتا ہے
وہ اُتنا اندر ہوتا ہے
۔۔۔۔۔
دل میں جھانک کے دیکھو تو
ہر شخص قلندر ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔
یہ کارٹون لفظ پنگا کی بڑی خوبی کے ساتھ توضیح کرتا ہے۔
وہی پنگا جو ستمبر دو ہزار ایک کے بندروں نے امریکہ سے لیا اور ساری دنیا کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل ڈالی۔
وہی پنگا صدام نے امریکہ سے لیا اور کووں کو دعوت دے دی۔
وہی پنگا حال ہی میں دس افراد نے بھارت سے لے لیا ( وہ کون ہیں اور کس ملک کے ہیں وہ تحقیق طلب ہے مگر اس پنگے نے پاکستان کا بیڑا غرق کرنے کی کوشش کی )۔ اسی پنگے نے اب بھارت کو پاکستان کی ہوای فضا میں آنے کی جرا ء ت دی ۔
وہی پنگا فاٹا کے لوگوں نے پاکستان دشمن عناصر کو اپنے مہمان بنا کر امریکہ سے لے لیا ۔ اب وہاں بار بار امریکہ ڈرون ہوای جہاز ( پاکستانی حکومت کی مرضی کے بغیر ) تباہی مچاتے ہیں۔
کتا ابھی تک بندر کے پنگے کو مذاق سمجھ کر ٹال رہاہے مگر ایک نہ ایک دن بندر اس دیوانے کتے کا شکار ہوجاےگا۔
واہ واہ واہ
منظور بھائی کیا کہنے۔اب کتا بھی سوچ رہا ہو گا کہ یہ ہوا کیا ہے
سر ورق پر خبر پڑھئ کہ اتنئ جرات سے” بش ” پے اس صحافئ نے جوتے مارے ، میں سوچ رہی تھئ کہ کہیں اس عراقی صحافی منتظر الذیدی نے ھمارا یہ بلاگ تو نہیں دیکھ لیا 🙂 ، اس تصویر پے اس نے بھئ نا کلک کر دیا ھو۔ ھا ھا ھا ھا اور اس سے انسپار ھو کر اتنئ جرات دکھا دئ ۔آپ لوگوں کا کیا خیال ھے ؟ اللہ اس صحافئ کئ اب خیر کرے 🙂
واقعی ثنا میں تو یہ سوچ رھی ھوں کہ اب اس صحافی کو چاھے پھانسی لگ جائے جو کام مولا نے لینا تھا وہ اس سے لے لیا ۔اب جو ھو سو ھو ۔۔ جو اتنا سوچتےھیں وہ ایسا کام کر ھی نہیں سکتے ۔میری دعایئں اس بہادر کے لیئے ھمیشہ رھیں گی ۔
جی بگہت جی بےشک اس صحافی نے تو بہادری دکھا دئ،دعایئں اس بہادر کے لیئے ھمیشہ رھیں گی ،
پر اب سوچیں اس کے اثرات کیا ھوں گے شاید اب پریس کانفرنس سے پہلے صحافیوں سے جوتے اتروا لئے جایا کریں گے 🙂 اور کیوں کے اب امریکہ کے بش پے جوتے کا حملہ ھوا ھے اور ان کو آگے کہیں ممکن ہے کہ نا صرف صحافیوں کے لیے بلکہ تمام مسلموں کے لیے جوتا پہننا ممنوع ہو جائے، میں سوچ رہی ھوں پھر مسلمان پاوؤں میں کیا پہنیں گے اگر جوتوں پے پابندی لگ گئی- بس اب سب 10 نمبر کے جوتے والے اپنئ خیر منائیں 🙂 گڈ لک !!
سگدات کہیں بہتر اُن یاروں سے خصلت میں
آنکھیں جو چراتے ہیں اوقاتِ ضرورت میں
ظفرجعفری
کتے کا یوں بندر سے منہ پھیرنا اچھا نہیں۔ورنہ بیرونی امداد کے حصول میں شدید مشکل پیش آسکتی ہے۔کراچی کے قدیم علاقے لیاری مین تشریف لے جائیے تو معلوم ہوگا ک مقامی زبان میں کتا اور بندر کس کو کہتے ہیں اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو ہم بلا معاوضہ آپ کو پڑھانے کے لیئے تیار ہیں
تجھے اٹھکھیلیاں سوجی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،