تنہائی میں بھی تنہا نہیں رھتی ھوں

منظور بھائی آپ کے حکم پر اپنی نظم حاضر ھے جو دہ دن پہلے عالمی اخبار کے ادبی صفحے پر شائع ھوئی تھی ۔۔آپ سب کو بھی شامل کرتے ھوئے بزم ادب میں انتہائی ادب کے ساتھ کہ جانتی ھوں یہاں سب اہل علم و ادب کے ساتھ ساتھ اہل زوق بھی ھیں ۔
small_123.gif
نظم کا عنوان ھے “تنہائی میں بھی تنہا نہیں رھتی ھوں ”
میرے ساحر
تیرے خیال نے
جس دن
میرے احساس پر اپنے لبوں سے پیار لکھا تھا
یوں لگا تھا
جیسے
میری خواہشوں کے پر وں پہ تم نے انتظار لکھا تھا
اُس دن سے
میں
ھر پل تمھارے حصار میں رھتی ھوں
اپنے ھی خیال کی بستی میں بستی ھوں
جیسے
بابٍ تمنا میں
رات دن تیرا انتظار لکھتی ھوں
اپنے گماں اور یقین کے اٍس سفر میں
اکثر یہی سوچتی ھوں
دیکھنے میں جتنی سلجھی تمہیں دکھتی ھوں
خود سے اُتنی ھی الجھی رھتی ھوں
سمٹے رھنے کے جتن میں اپنے اندر اُتنی ھی بکھری رھتی ھوں
کیا بتاؤں
پھر بھی
خود کو کتنا خوش نصیب سمجھتی ھوں
کہ
تنہائی میں بھی تنہا نہیں رھتی ھوں

9 thoughts on “تنہائی میں بھی تنہا نہیں رھتی ھوں”

  1. میری خواہشوں کے پروں پہ تم نے انتظار لکھا تھا، واہ، واہ کیا بات ہے، سلامت رہیں۔

  2. واہ نگہت جی بہت خوب انداز ھے آپ کا !!

    کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسواء کیا گیا
    غیروں کا نام میرے لہو سے لکھا گیا
    کیوں آج اس کا ذکر مجھے خوش نہ کر سکا
    کیوں آج اس کا نام میرا دل دکھا گیا

  3. جیسے
    بابٍ تمنا میں
    رات دن تیرا انتظار لکھتی ھوں
    ۔۔۔۔بابِ تمنا میں انتظار لکھنا۔۔۔ایک منفرد اور نئی سی بات ہے۔ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی نظموں میں ایسی چونکا دینے والی لفطٰیات کوئی شعوری نہیں بلکہ لاشعوری کوشش ہیں۔ جیسے انکی ایک نظم ہے”میرے ساحر کیا مجھے یاد کیا تھا ؟” اسمیں یہ سطور دیکھیں۔
    اپنے رنگدار پروں پہ اپنی ایک ایک خواہش لکھ دوں
    اور
    ھر خواہش میں ایک دعا رکھ دوں
    کہ
    جب بھی میرا ساحر میری کتابٍ عمر کا بابٍ عشق کھولے
    ایک اور نظم ہے ”رفاقت کی پہلی رات” یہ نظم اپنے عنوان سے تو شاید کسی اور تاثر کی حامل لگے لیکن اس عنوان کو انہوں نے ایک نئے لفظیات میں برتا ہے ,نسوانی جزبات کا ایسا مطہر لیکن واشگاف اظہاراور یہی جدید نظم گو شعرا میں ڈاکٹر نگہت نسیم کا اختصاص ہے
    سیندوری شب مہک رہی تھی
    چوڑیاں اور پائلیں بج رہی تھیں
    شوخ ادا اور مغرور ہو رہی تھی
    سرتا پا سرخ پوش ہو رہی تھی
    اُس کے خسروی محبوب نے
    کیسی سر گوشی کا صور پھونکا تھا

  4. نگت آپا اداب،،
    ہمدانی صاحب نے سچ کہا آپ کی لفظیات میں یہ برجستگی اور چونکا دینے والی غیر شعوری تحریک بہت خوبصور انگ رکھتی ہے۔
    شعوری کوششوں سے فن تخلیق ہوتا تو فنکار کی کوئی متعین تعریف ضرور ہوتی۔ شعوری طور پر فن تخلیق نہیں ہوتا، سچی بات تو یہ ہے کہ شعری طور پر آج تک کچھ بھی تخلیق نہیں ہوا، ہاں شعوری طور پر ہم تخلیق شدہ کو فقط مرتب کر سکتے ہیں، ترتیب دے سکتے ہیں، اگر کوئی مجھ سے یہ کہے کہ اہرام مصر شعوری کاوش تھی تو شاید میں ماننے سے گریز کروں اور مان بھی جاؤں تو بحرحال یہ نقطہ اپنی جگہ قائم رہے گا۔ کہ پہلا اہرام یقینا غیر شعوری خیال کا نتیجہ ہوگا۔ لیونارڈو ڈوینچی کو کب پتہ تھا کہ اس کی تخلیق مونا لیزا ہو گی، پکاسو کب جانتا تھا کہ وِیپنگ چائلڈ (روتا پچہ) اور لاسٹ سپر (آخری کھانا) کس جہت میں لئے جائیں گی۔ سو جو آپ تخلیق کر رہی ہیں ہیں وہ واقعی خونصورت ہے۔ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا آپ سے کہ آپ کی نظمیں پڑھنے کی نہیں دیکھنے کی ہوتی ہیں،، میں اس نظم کو پڑھ رہا تو لفظوں کی بجائے تصاویر دکھ رہی تھیں۔۔ نگہت آپا ہمیشہ خوش رہیے، آپ سے تقویت ملتی ہے۔ اور ہمدانی صاحب آپ کی نظر کتنی گہری ہے ،، ہمیں ہمیشہ آپ ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے۔ آپ موجود ہیں تو ہمارا وجود برقرار رہے گا۔
    جیتے رہیئے ہمیشہ

  5. میری ڈاکٹر بہن : میں‌کتنا خوش نصیب ہوں کہ آپ نے میری اس التجا پر کہ آپ کی وہ نظم جو عالمی اخبار کے صفح اول پر شایع ہوی ہے اس کو نمایاں طور پر شایع کریں ( اس لیے کہ وہ س صفحہ پر صاف طور پر پڑھی نہیں گئی ) ۔

    آپ کی شاعری اور آپ کی نظم ’ تنہای میں بھی تنہا نہیں رہتی ہوں ‘ آپ کے احساسات اور جذبا ت کی بڑے خوبصورت انداز میں ترجمانی کرتی ہے۔ آپ کی اس نظم پر عمران صاحب نے اور ثنا ء شاہ صاحبہ اور پھر صفدر ھمدانی صاحب نے اور عا طف توقیر صاحب نے بے حد موثر انداز میں تبصرے کیے ہیں ۔ میرے پاس اتنے الفاظ اور اتنے خیالات کا ذخیرہ نہیں‌ہے کہ جو کچھ کہ اوپر لکھا جا چکا ہے اس کے بعد کچھ اور لکھ سکوں۔

    آپ شاعری کی جس صنف میں مہارت رکھتی ہیں وہ بظاہر تو بہت آسان نظر آتی ہے مگر اس کے لیے دن رات کی مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سارے شاعر جو عروض کی قید میں لکھتے ہیں ان کے لیے آزاد نظم لکھنا یا نثری شاعری کرنا بے حد مشکل کام ہوتا ہے ۔ وہ تتلی کی طرح ایک پھول سے اڑ کر دوسرے پھول پر جا نہیں سکتے۔ انکےدل و دماغ ایک حصار میں مقید رہتے ہیں۔

    میں شاعری کے معاملہ میں‌ایک کم علم انسان ہوں مگر اچھی شاعری کو سمجھنے اور پڑھنے کا شوق ہے۔

    آپ خوش نصیب ہیں کہ آ پ اپنی یادوں کے سہارے اور اپنے ساحر کے تصور کو اپنے ساتھ رکھتے ہوے تنہای میں بھی اپنے آپ کو تنہا نہیں سمجھتیں۔
    اللہ آپ کا زور سخن اور زیادہ کرے اور آپ کی شاعری کو عمر دوام بخشے۔
    ان موقعوں پر پھر میں اپنے اشعار آپ کی نذر کرتا ہوں :
    چمن کی نکہت باد بہار تم ہی ہو
    نسیم سحر گلوں کا نکھار تم ہی ہو
    سلیقہ مند سلیقہ شعار تم ہی ہو
    جہان علم کا اعلی وقار تم ہی ہو
    مریض نفس کی تیمار دار تم ہی ہو
    دکھی مریضوں کے دل کا قرار تم ہی ہو
    وہ جن کی دید کی خاطر تمام دیوانے
    چلے ہی آتے ہیں دیوانہ وار تم ہی‌ہو
    ۔۔۔۔
    اللہ آپ کو ہمیشہ صحت سے رکھے اور آپ کو ہم سب کے لیے باعث رحمت بناے رکھے۔
    آپ کا منظور بھای

  6. آپ سب احباب کا بہت شکریہ جو مجھے اس قابل جانتے ھیں ۔ مجھے دعاؤں میں یا د رکھئے گا ۔

  7. بہت خوب ڈاکٹر نگہت صاحبہ، بہت خوب، بس سلسلہ چلتا رہا تو ہم بھی کبھی شاعر بن جائینگے، بن جائینگے اسلئے کہا کہ ہوجایئنگے تو اپنی بس کی بات نہیں ہاں بن جائینگے۔
    خیر مذاق اپنی جگہ، لیکن بہت خوب بہت خوب بہت خوبگ
    طارق ہاشمی

  8. طارق بھائی مجھے آپ کے تبصرے میں چھپا مشورہ مل گیا ھے ۔ بہت شکریہ ۔ ھم سب نئے لکھنے والوں کو آپ جیسا کہنے والوں کی سرپرستی ھی تو چاھیئے ۔ ایک دفعہ پھر توجہ کابہت شکریہ ۔

  9. محترمہ ڈاکڑ صاحبہ
    بھئ جواب نہیں آپ کی ہر نظم کی طرح اس نظم کا بھی ۔۔۔۔۔۔
    دیکھنے میں جتنی سلجھی تمہیں دکھتی ھوں
    خود سے اُتنی ھی الجھی رھتی ھوں
    سمٹے رھنے کے جتن میں اپنے اندر اُتنی ھی بکھری رھتی ھوں
    کیا بتاؤں
    پھر بھی
    خود کو کتنا خوش نصیب سمجھتی ھوں
    کہ
    تنہائی میں بھی تنہا نہیں رھتی ھوں

    واہ واہ، بہت خوب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *