اقبال کا خواب ادھورا ہے

اقبال کا خواب ادھورا ہے،
آج ہم سترھواں (70) ٰیومِ قرار دادِ پاکستان منانے جا رہے ہیں ، مگر ادھورا کیوں کہ ابھی تک نہ تو علامہ اقبال کا خواب پورا ہوا ہے ، اور نہ مُحمد علی جناح کا مقصد ، آج کا دن ہمیں اپنا وہ مقصد یاد دلاتا ہے جس کیلے پاکستان معرضِ وجود مین لایا گیا تھا، جس کیلے ہزاروں لاکھوں ماوں نے اپنے بیتے قُربان کیئے تھے ، ہزاروں بہنوں نے اپنے بھائی وطن کی آ ذادی کیلئے قُربان کر دیئے تھے ، ہزاروں نھنے مُنھے بچوں کو ماوں کی آغوش سے چھین کر کرپانوں نیزوں اور تلواروں کی نوک پر اُچھالا گیا ، اتنا کُچھ ہونے ک باوجود ،،،، اقبال کا خواب ادھورا ہے،

آزادی کے 63 سال دیکھنے کے بعد بھی ، ایسا کیوں ؟ کون جواب دے گا ، آزادی کے بعد چار نسلوں میں سے ہمارے پاس کوئی ایک ایسا حکمران آیا ک جس نے صرف پاکستانی بنکر پاکستان کا سوچا ہو، اُن لُٹے ہے گھروں کا سوچا ہو جو قُربانیاں دے کر یہ وطن معرضِ وجود میں لائے تھے ،

کوئی ہے جو اِن میں سے پاکستان کے دولخت ہونے کی زمے داری قبول کرے ،ہم نے تو اقبال ک ا خواب پُورا کرنے کی بجاے اُسکو چکنا چُور کر کے رکھ دیا ، اور چل دیئے 23 مارچ اور 14 اگست ک و مزارِ اقبال پر اور مزارِ قائد پر حاضری دینے کیلے، کوئی ہے جو سُوچے کہ آج بھی ……. اقبال کا خواب ادھورا ہے ،

اے پاک وطن آزاد وطن
ہم لوگ بُۃت شرمندہ ہیں
آن بہینوں سے …. اُن ماوں سے
جو اپنا سب کُچھ ہار گیئں،……
آن چیخوں سے … اُن آہوں سے ….
جو دور فلک کے پار گئیں

ہم لوگ بُہت شرمندہ ہیں

یہ خلقت تیرے شہروں کی
خوں روتی اور رولاتی ہے
ائے دیس تیرے اِن پُھلوں سے
بارود کی بُو کیوں آتی ہے

شرمندہ روحِ قائد سے
اقبال تیرے اُن خوابوں سے
اِن نھنے مُنھے بچوں سے
اُن آنے والی ن سلوں سے
اُں خون میں ڈوبی ل اشوں سے
جب خواب یہ پُورا دیکھا تھا
تعبیر ادھوری کیوں نکلی…….

ہم لوگ بُہت شرمندہ ہیں

باعث ہیں ہم بربادی کے
ہم نے یہ گُل آزادی کے
کُچھ رون د دیے ہیں پیروں میں
کُچھ بانٹ دیے ہیں غیروں میں

ہم لوگ بُہت شرمندہ ہیں……. اقبال کا خواب ادھورا ہے

اے صاحبانِ اقتدار خُدارا یہ تو سوچو کہ تم ُملک کو کس طرف لیکر جارہے ہو ، ہمارے لیے نا سہی آنے والی نسلوں کیلے ہی کُچھ کر جاو ، کل تمھارے جانے کے بعد تمھاری روحیں تو ان نسلوں سے شرمندہ نہ ہوں ،کُچھ ذاتی مُفاد سے ہٹ کر مُلکی مُفاد کا بھی خیال کرو ، زرا سوچو کل یہی آنے والی نسل تمکو کہیں … میر جعفر ..اور میر صادق کے نام سے یاد نہ کرے ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ایسا طوفان اُٹھے کہ تمھں اور تمھارا سب کُچھ بہا کر لے جائے ، اور تمھارے ان بچوں کے ہاتھ تمھارے گریبانوں پر ہوں ، اور ہاد رکھنا عوامی احتساب سب کُچھ چھین لے گا ، اور جب نہ تمھیں یہ زمین پناہ دے گی اور نہ آسمان ، یس سے پہلے ک وقت ہاتھ سےنکل جائے کُچھ سوچو اور عمل کرو ، ورنہ

ہو نا بُنیاد تو دیوار کہاں رکھو گے
اپنی تہزیب کے آثار کہاں رکھو گے
عظمتیں ہیں ہمیں اِس پاک وطن سے حاصل
سر نہ ہو گا تو یہ دستار کہاں رکھو گے

9 thoughts on “اقبال کا خواب ادھورا ہے”

  1. عسکری صاحب، جب بھی 23 مارچ یا 14 اگست آتا ہے نجانے ہم جیسوں کے زخم پھر کیوں ہرے ہو جاتے ہیں۔ یہی سوالات جو آپ بھی پوچھ رہے ہیں ان کے جواب دینے اگلے 63 سال بھی کوئی نہیں ملے گا، فقط دعا کریں جو آدھا بچ گیا ہے وہی سلامت رہے کیونکہ 63 میں سے 30 سال تو یہ ان کے قبضے میں رہا جنھوں نے اس کی حفاظت کی قسم کھائی مگر جغرافیہ سکڑتا رہا اور یہ ٹس سے مس ہی نہ ہوئے، کوئی اسلام کی روشنی پھیلانے کے نام پر قابض رہا تو کسی نے ’ سب سے پہلے پاکستان ‘ کا نعرہ لگا کر بے وقوف بنایا۔

    ( اپنے پورے جذبات اپنی ایک پرانی نظم کی صورت میں پیش کرتا ہوں جو’’ سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے جواب میں لکھی تھی)

    سب سے پہلے پاکستان
    پیارے قائد پہ قربان ، ہم پہ کیا جو احسان
    سوہنا دیس یہ پیاری دھرتی ، ارض وطن یہ پاکستان
    کیا تیرا مقصود تھا لیکن کیسے پائے مہربان
    قابض ہوئے ایوانوں پر ڈنڈے والے پاسبان، وردی والے حکمران
    سب سے پہلے پاکستان
    اقبال نے جو خواب تھا دیکھا ، رحمت علی کو نام جو سوجھا
    بنگال کا ہمیں کانٹا کھٹکا ، آدھا کیا جو باقی بچا
    کشمیر کا ہے رونا کیا ، ’ بڑے بھائی ‘ سے لینا کیا
    لہُو لہُو باقی پھر بھی بلوچستان وزیرستان
    سب سے پہلے پاکستان
    دھرتی پہ یہ ملک نرالا بے آئین و لادستور
    مارشل لا کے سائے تلے بے بس و لا چار جمہور
    غلامی کا ہیں طوق سجائے ، کشکول اٹھانے پہ مجبور
    آمریت کو کندھا دیں ، بے ضمیر سیاستدان
    سب سے پہلے پاکستان
    حاکم کھائیں موج اڑائیں ، جنتا دے بھوکوں پہرے
    ڈاکو لُوٹیں سرِ بازار ، نیلام ہو عزت دن دیہاڑے
    قانون پہ ہیں ماتم خواں ، مہنگا جینا موت آساں
    گلی گلی ہے مقتل گاہ ، چپے چپے قبرستان
    سب سے پہلے پاکستان
    راج کریں وزیر مشیر یا پھر کریں بے ضمیر
    انصاف کو ڈھونڈے ہر بشر کیا امیر کیا فقیر
    یہ ناظم ایم پی سینیٹر بچارے تخت و تاج کے اسیر ہیں سارے
    ’ سرکار کے در پہ سجدہ ریز ، یہی تو عزت دار انسان‘
    سب سے پہلے پاکستان
    یہ عالم فاضل مُلا سارے ، دقیانوسی ذہن کے مارے
    آزادئی نسواں کا ہے دور پھینکو حجاب یہ بُرقعے سارے
    روشن خیالوں کا یہ سپنا ، جاہلوں کا جو ملک ہے اپنا
    بنا کے چھوڑیں گے اس کو امریکہ یا پھر انگلستان
    سب سے پہلے پاکستان
    ٹیرر کا تو بس بہانہ تہذیبوں کی ہے جنگ
    خونِ مسلم کی ارزانی جس کو کہدو شرپسند
    دہشت گرد کا ٹھپہ اُس پہ جو بارِیش انسان
    بُش ، بلیئر ، اور بن لادِن ، کھیل ہے ان کا ہم میدان
    سب سے پہلے پاکستان
    کیسا غازی کون مُجاہد ، کیسا نعرہ سربلند
    پرانا درس یہ رٹ کے آگئے آج کے دور میں شرپسند
    پکڑو جھکڑو بیچو ان کو ڈالر کا ہے ریٹ بلند
    الٹی کھال اتارو سب کی راج کے دشمن یہ شیطان
    سب سے پہلے پاکستان
    ایٹم بم بنایا ہم نے دشمن کو دھمکایا ہم نے
    خُونی اشک پلا کر ’ اُس کو ‘ کینسر تک پہنچایا ہم نے
    اب ایٹم بم ستائے ہم کو رات کو نیند نہ آئے ہم کو
    مغرب کی چھترول کیا کم تھی جو آنکھ دکھائے افغانستان
    سب سے پہلے پاکستان
    اصولوں پہ جو لات ہے ماری
    پھر کیوں نہ مانے دنیا ساری
    سیاچین سے فرار ، کرگل سے بھی غداری
    اسی میں پنہاں راج اپنا اسی میں راضی ہندوستان
    سب سے پہلے پاکستان
    ’’ ہم کلمہ گو منافق لوگ ، ہم وطن فروش و باطل لوگ
    ہم کُرسی کے رکھوالے لوگ یا ڈالر کے متوالے لوگ
    بے شعور لوگ ہم زندگی کا روگ ہم‘‘
    کریں ڈنڈے کو سلام یہی تو وردی کی ہے شان
    سب سے پہلے پاکستان
    ڈنڈے والا پاکستان ، وردی والا پاکستان
    زندہ باد پاکستان ، پائندہ باد پاکستان
    جاگو وطن کے رکھوالو ، خطرے میں ہے پاکستان
    جیوے جیوے پاکستان ، تیرا اللـہ نگہبان
    سب سے پہلے پاکستان
    اور موجودہ حالات میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔’’ کھپے کھپے پاکستان‘‘

    اور باقی کمی کھپے کھپے سے پوری ہو رہی ہے۔جاوید اقبال کیانی

  2. عسکری بھائی میری تمام تر ہمدردیاں آپ سمیت پورے پاکستان کے ساتھ ہیں ۔ اتنا دکھی دل بلاگ آپ نے لکھا ہے کے اس میں میرے خیال میں لکھنے کی کچھ گنجائش ہی نہیں ہے آپ نے اتنا مکمل بلاگ لکھ دیا کے سمجھ ہی نہیں آ رہا کے بات کو آگے کیسے بڑہاوں ؟میرے پاس اشعار تو ہیں نہیں جو لکھ کر چار چاند لگا دوں بس آپکی ایک بات دل کو چھو گئی سوچااسی پر کچھ لکھ لوں؟
    آپ نے لکھا ۔۔۔ ہمارے لیے نا سہی آنے والی نسلوں کیلے ہی کُچھ کر جاو ۔۔۔ تو بھائی اگر کوئی مکان بنانا شروع کریں تو کیا اس کی بنیاد اہمیت رکھتی ہے اس کی تعمیر میں ؟
    اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو پوری عمارت کیسی ہوگی ؟
    عسکری بھائی میری بات کو پاکستان دشمنی تصور مت کیجئے گا اور نا ہی وکلا یا ملا برادری کی طرح میرے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑ جائیے گا کے مجھے بھی اقبال کی طرح شکوہ لکھ کر ڈر کے جواب شکوہ لکھنا پڑ جائے ۔اگر میری اصلاح کر سکیں تو ضرور کجیئے گا
    سب سے پہے تو اقبال کا خواب ؟ بھائی یہ اقبال کا خواب اصل میں ہے کیا ؟ ترانہ ہندوستان کا خواب پاکستان کا ٹھیک ہے وہ مسلمان شاعر تھے برصغیر کے بہت بڑے شاعر تھے مگر بھائی انکو پاکستان سے منصوب کرنے کی وجہ کیا ہے ؟کیا ان معصوم جانوں سے ذیادہ انکے خواب کی اہمیت ہے جو جانیں آزادی کی تحریک میں ضائع ہوئیں؟میری تو کچھ سمجھ نہیں آتا ۔ کیا ایسا تو نہیں کے ہم نے ذبردستی اقبال کو گود لے لیا ہو ایک خواب کو بنیاد بنا کر صرف اس وجہ سے کے وہ پاکستان کی حدود میں دفن ہیں ؟(معزرت اس سب کو ذاتی مت لیجئے گا )
    دوسری بات جب پاکستان بنا تو بھائی اس وقت کون سے رہنماوں کی قدر کی گئی یا پھر یہ کہہ لیں کے اس وقت کیا جناح صاحب کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا تھا؟لیاقت علی خان صاحب کے ساتھ جو ہوا اس کے پیچھے ایسی کیا سازش تھی کے انکے قاتل کو ذندہ گرفتار کرنے کے بجائے اسی وقت گولی مار دی گئی فاطمہ جناح کے ساتھ کیا کیا ہوا ؟ایسے بہت سے واقعات ہیں بھائی
    آج ان حکمرانوں کو جو ورثہ میں ملا وہ وہی کر رہے ہیں ۔کون سی انوکھی بات ہے یہ ؟بس دعا کریں بھائی کے آگے آنے والا کوئی مخلص آ جائے ۔موجودہ حکومت تک تو سب اپنے پچھلے جانے والوں کی پیروکاری میں مصروف ہیں۔ ویسے تو میری بھی دل سے یہی دعا ہے کے کوئی مخلص پاکستانی آئے جو انقلاب لائے اور پر پاکستان کو سمبھال لے ۔ویسے تو شریف برادران پلاننگ کر چکے ہیں کے اس ٹرن میں انکو کھانے دو اگلے میں ہماری باری۔۔ ۔ہوتا یہی آ رہا ہے بھائی ۔منتخب بھی پاکستانی عوام کرتی ہے ووٹ بھی یہی ڈالتے ہیں اور رونا بھی ڈالتے ہیں ۔خیر بھائی میرا اپنا تو یہی خیال ہے معجزے اور انقلاب کی دعا کرنی چاہیے اگر میں غلط ہوں تو میں غلط ہی سہی ہوں)

  3. بھائیو مجھے تو اس لفظ ”خواب” سے ہی اختلاف ہے۔ نہ جانے کون سا سرکاری دانشور تھا جس نے قائد اعظم اور اقبال کے فلسفے اور نظریے کو خواب کہہ دیا تھا اور آج تک ہم سب سوچے سمجھے بغیر” سنت جہالت” ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ باکل اسی طرح ہے جیسے میں نے کوئی دس برس قبل یہ تحریک شروع کی تھی کہ بیرونی ممالک میں کئی کئی برس سے مقیم لوگ بھی جس ملک میں رہتے ہیں اسے پردیس کہتے ہیں۔ اس کے لیئے پہلی بار میں نے ڈنمارک کی ایک تقریب میں ”وطن ثانی” کی اصطلاح کا استعمال کیا تھا جسے بہت سے دوستوں نے اپنایا اور اسے اپنے بولنے اور لکھنے میں استعمال کیا۔ اللہ کے لیئے اس خواب کی دنیا سے نکلیں اور حقیقت کی دنیا میں رہیں۔
    زوار قمر لو اسی مضمون کی ایک میری نظم بھی سنوجو شائع بھی ہو چکی ہے اور یو ٹیوب میں بھی ہے

    اے ارض وطن شرمندہ ہیں! صفدر ھمدانی
    01.12.2009, 12:22am , منگل (GMT)
    صفدر ہمدانی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم پاک وطن کی گلیوں سے بازاروں سے شرمندہ ہیں
    رونے والی ماؤں سے غمخواروں سے شرمندہ ہیں
    خون کے چھینٹے جن پر ان دیواروں سے شرمندہ ہیں
    اے ارض وطن سچ پوچھ ترے معماروں سے شرمندہ ہیں
    شرمندہ ہیں اپنے وطن کی بیٹیوں،بہنوں ماؤں سے
    شرمندہ ہیں شہروں،گلیوں،بازاروں سے گاؤں سے
    شرمندہ ہم ہرے بھرے اشجار سے انکی چھاؤں سے
    شرمندہ ہم روح سے اپنی،جسم سے،سر سے پاؤں سے
    شرمندہ ہم آس،امید سے خون بھری آشاؤں سے
    اے ارض وطن شرمندہ ہیں ہم تیرے گلوں سے گلشن سے
    شرمندہ ہیں سرو و سمن سے کوہساروں کے دامن سے
    شرمندہ ہیں گھر سے گھر کی چھت سے گھر کے آنگن سے
    اے پاک وطن شرمندہ ہیں ہم بادل،بارش ساون سے
    اے ارض وطن شرمندہ ہیں
    اے پاک وطن شرمندہ ہیں
    شرمندہ ہم خوشبو سے ہیں شرمندہ ہم پھول سے ہیں
    مندر و مسجد سے شرمندہ ،شرمندہ اسکول سے ہیں
    شرمندہ مٹی سے تیری سڑکوں کی اس دھول سے ہیں
    لعنت تیرے ہر قاتل پر شرمندہ مقتول سے ہیں
    یہ خود کش کس مٹی سے نکلے
    کس بستی سے آئے ہیں
    کس نے انکی فصل اگائی
    کون انہیں یاں لائے ہیں
    کون خدا کے بندوں کے ان قاتلوں کا رکھوالا ہے
    کون ان خون رنگے ہاتھوں پہ بیعت کرنے والا ہے
    کس نے میرے گھر آنگن میں ربا خون اچھالا ہے
    کس نے ان سانپوں کو سائیں دودھ پلا کے پالا ہے
    یہ کیسے ظالم قاتل ہیں
    جو خود کو کلمہ گو کہتے ہیں،کلمہ گو کو مارتے ہیں
    دن میں سو سو بار یہ اپنے سامنے خود ہی ہارتے ہیں
    کس ظالم نے ہنستے بستے شہر مرے برباد کیئے
    کس نے ہر اک شہر کے اجڑے قبرستاں آباد کیئے
    کس نے پھول سے چہرے خون کے غازے سے ناشاد کیئے
    کس نے یہ انسان کے دشمن خود کش سب آزاد کیئے
    کس نے اپنی آگ ہمارے گھر میں آن لگائی ہے
    کس نے خون کے دیئے جلا کر اپنی شام سجائی ہے
    کس نے میرے دروازے پر موت کی شکل بنائی ہے
    کس نے گل رخ بچوں کے دامن کو آگ دکھائی ہے
    کس نے یہ بارود کی بارش دن دیوے برسائی ہے
    کملی والے مدد کو آؤ حسن حسین دہائی ہے
    اے ارض وطن شرمندہ ہیں
    اے پاک وطن شرمندہ ہیں
    شرمندہ ہیں ان سے جن کے گھر میں ماتم داری ہیں
    شرمندہ ہیں ان سے جن کی گلیوں میں بیزاری ہے
    شرمندہ ہر شخص سے جس نے جان کی بازی ہاری ہے
    شرمندہ اس باپ سے جس نے اپنے کڑیل بیٹے کی
    قبر میں لاش اتاری ہے
    شرمندہ اس ماں سے جس کی آنکھوں سے خوں جاری ہے
    شرمندہ بیٹے سے جس پر سانس بھی لینا بھاری ہے
    شرمندہ اس بہن سے جسکی قسمت میں غمخواری ہے
    شرمندہ اس بیٹی سے جو باپ سے کٹ کر زندہ ہے
    شرمندہ اس قوم سے جو فرقوں میں بٹ کر زندہ ہے
    شرمندہ ملت سے جو مرکز سے ہٹ کر زندہ ہے
    شرمندہ ہیں پاک وطن ہم آنے والی نسلوں سے
    شرمندہ ہیں کھیتوں سے کھلیانوں سےاور فصلوں سے
    اے ارض وطن اب مجھ جیسے سب دیوانے
    یہ سوچنے پر مجبور ہوئے
    اس پاک وطن کے معماروں نے
    جب خواب اک سچا دیکھا تھا
    پھر ان ظالم جابر حاکموں نے
    اس خواب کو کیوں تعبیر نہ دی
    کیوں مفلس آج بھی مفلس ہے
    کیوں اہلِ ہُنر غربت میں ہیں
    کیوں صاحبِ عزت گُم سُم ہیں
    کیوں دین فروش سکون میں ہیں
    کیوں عالم پہ تنگ دستی ہے
    کیونکر ہے جاہل تخت تشیں
    کیوں راہنما سب ڈاکو ہیں
    کیوں نفس کا مارا منصف ہے
    کیوں عدل سے عاری عدالت ہے
    کیوں قتل کے حق میں وکالت ہے
    قرآن ہے کیوں پھر نیزے پر
    دربار میں پھر سادات ہیں کیوں
    اک بار میں پھر یہ پوچھتا ہوں
    کس نے میرے دروازے پر موت کی شکل بنائی ہے
    کس نے گل رخ بچوں کے دامن کو آگ دکھائی ہے
    کس نے یہ بارود کی بارش دن دیوے برسائی ہے
    کملی والے مدد کو آؤ حسن حسین دہائی ہے
    اے ارض وطن شرمندہ ہیں
    اے پاک وطن شرمندہ ہیں
    ہم بیٹے بیٹیاں تیرے تجھ سے باندھ کے ہاتھ یہ پوچھتے ہیں
    کس نے تیرے چاندی جیسے جسم پہ زخم لگائے ہیں
    کس نے تیرے چاند ستارے مٹی میں دفنائے ہیں
    کس نے تیرے معصوموں پرخود کُش تیر چلائے ہیں
    کس نے آگ میں نفرت کی ترے روشن شہر جلائے ہیں
    کس نے تیری عزت غیرت بیچ کے ظلم کمائے ہیں
    کس نے تیرے پانی میں نفرت کا زہر ملایا ہے
    کس نے تیری گلیوں میں بارود کا مینہہ برسایا ہے
    کس نے تیری دھرتی کے سینے میں درد اگایا ہے
    اے ارض وطن ہم مجرم ہیں
    ہم تیری حفاظت کر نہ سکے
    زندہ تو رہے ترے نام پہ ہم،ترے نام پہ لیکن مر نہ سکے
    اے ارض وطن شرمندہ ہیں!
    ہم پاک وطن کی گلیوں سے بازاروں سے شرمندہ ہیں

  4. بابا (جناب صفدر ھمدانی ) کی ایک خوبصورت نظم مجھے یاد آرہی ہے جو انہوں نے دوہزار نو میں آسٹریلیا (سڈنی) کے قیام کے دوران ، آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا کے پاکستانی ہائی کمیشن میں چودہ اگست کے روز پرچم کشائی کے موقع پر مہمان خصوصی کی حثیت سے شرکت کی تھی ۔ بابا نے یہ نظم پاکستان کے پرچم کے سائے تلے بڑی محبت سے سنائی تھی جسے اس وقت حاضرین نے خوب سراہا تھا ۔

    اس نظم کا موضوع تھا‘‘ یہی وہ دن تھا‘‘
    یہی دن تھا کہ جب
    سورج نئے انداز سے دھرتی پہ اُبھرا تھا
    یہی دن تھا کہ میرے قائد اعظم نے اپنی فکر سے
    کاٹی تھیں زنجیریں غلامی کی
    یہی دن تھا کہ ماہ و سال کی تقویم نے رنگ گلستان ایسے بدلا تھا
    کہ اس گلشن کے کانٹوں میں گلوں نے سر نکالا تھا
    ہمارے شہروں میں ہر سو اجالا ہی اجالا تھا
    یہی دن تھا کہ اس دھرتی کی مٹی میں فلک سے نور اُترا تھا
    یہی دن تھا کہ جب ہر گھر کی چھت پر جھوم اٹھا تھا
    یہ پرچم چاند تارے کا
    اسی اک دن کی خاطر ماؤں نے بیٹے دیئے تھے اور بہنوں نے دیئے تھے خوبرو بھائی
    اسی اک دن کی خاطریاد ہے کتنے سہاگ اجڑے تھے دھرتی پر
    چلوکہ آج ہم اک بار پھر سے
    خود اپنے آپ سے،اس چاند تارے واے پرچم سے
    ہم اپنے قائد اعظم کی مرقد سے
    ہم اپنی پاک دھرتی کی شفق رنگ پاک مٹی سے
    ہم اپنے شہر کی گلیوں سے،بازاروں پہاڑوں سے
    مچلتی وادیوں سے،مسکراتی جھیلوں،جھرنوں سے
    ہواؤں سے،ہوا کے دوش پر رقصاں گلابوں سے
    یہ وعدہ کر کے کہتے ہیں
    قسم ہے ہم کو اس دھرتی پہ روشن چاند سورج کی
    قسم ہے ہم کو خوشبو کی صبا کی گُل کی گلشن کی
    ہم اس دھرتی کو تا با حشر مثلِ نور رکھیں گے
    اس دھرتی سے ظالم آمریت دور رکھیں گے
    ہم اس دھرتی کا بس جمہوریت منشور رکھیں گے

  5. گو کہ اپنے رہبروں کی سیاہ کاریوں پہ شرمندہ ہیں
    تجھ پہ آنچ نہ آنے دینگے اے وطن جب تک کہ ہم زندہ ہیں
    محترم ہمدانی صاحب، جب سے آپ اور آپ کی زندہ دل ٹیم کی تحریریں پڑھی ہیں یہ پختہ یقین ہو چلا ہے ’ پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘۔ اس کارواں میں جب تک آپ جیسے سرفروش موجود ہیں جنھوں نے قوم کا ضمیر جنجھوڑنے کی قسم کھا رکھی ہے بخدا انک دن یہ ضرور خواب غفلت سے بیدار ہوگی اور کاخِ امراء کے در و دیوار ہلا کر دم لے گی۔انشاء اللـہ

  6. مُحترمہ ماریہ علی صاحنہ
    پہلے تو بُہت شُکریہ کہ آپ نے مصمون میں میرا ہی نہیں پُوری قوم کے چُھپے ہوے درد کو محسوس کیا ، اور دوسری بات کہ اختلافِ رائے اور تنقید کا حق سب کو حاصل ہے ، میں نے یہ بات کل بھی ایک مصمون میں تحریر کی تھی ، کہ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہئے تنقید برائے تنقید نہیں ،ہر انسان کو اپنے نقطہ نظ ر سے سوچنے کا پورا حق حاصل ہے، کوئی اُسکی سوچ سے مُتفق ہ و یہ لازمی نہیں ، آپ میرے لکھے ہوے پر کُھل کر اپنی رائے کا اظہار کر سکتی ہیں،

    دوسرا آپ نے کہا کہ …اگر کوئی مکان بنانا شروع کریں تو کیا اس کی بنیاد اہمیت رکھتی ہے اس کی تعمیر میں ؟ اگر بنیاد ہی کمزور ہ و تو پوری عمارت کیسی ہو گی ؟ سہی کہا آپ نے ،،،، مگر بُنیاد تو موجود ہے …اور بۃت مصبوط ہے … اسکی بُنیاد میں لاکھوں شہیدوں کا لہو شامل ہے بُنیادیں کمزور نہیں ، شکوہ و شکایت تو اسکے معماروں سے ہے ، جو اِس کی تعمیر میں کوتاہی برت رہے ہیں ، اور مقصد سے ہٹ رہے ہیں، شکوہ ہے اِس کھوکھلے نظام سے ،

    اور بات رہی علامہ اقبال کی تو اقبال نے اُس دور میں اور ماحول میں جتنی شاعری کی مُسلمان اُمت کو بیدار کرنی کیلے کی ، اور اس بیداری کا مقصد ، کیا تھا ، اقبال کا نظریہ کیا تھا ، وہ اقبال نے 23 مارچ 1940 کو قرار دادِ پاکستان کی صورت ، پوری مُسلمان قوم کے سامنے رکھدیا ، او ر میرے خیال میں آپکو اقبال کی شاعری سے تو کوئی اختلاف نہیں ہو گا ، اور جسکو آپ نے ہندوستان کا قومی ترانہ کہا ، وہ اُنکا قومی ترانہ ہنیں ہے، اُمکا ترانہ …جے ہند ہے ، بھارت بھگت ویداتا ،

    اور وہ جو اقبال کی نظم ، سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا …. تو اگر آپ غور کریں تو آپکو سمجھ میں آجائے گا کہ وہ بھی ایک ہندو چال ہے …یہ ثابت کرنے کیلئے کہ اقبال ….دو قومی نظرئے کے حامی ہی نہیں تھے ، اقبال کی شاعری تو ایران میں بیحد مقبول ہے اور وہاں کے نصاب میں شامل ہے اُسکے بارے میں کیا کھیں ، اقبال اِنسان کی عظمت کے قائل ہیں اقبال کے ہاں انسان کائینات کا ایک ایسا جزو ہے جو اپنے کُل سے برتر ہے،

    وہ مُسلمان شاعر تے کوئی شک نہیں ،،،، مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ تحریکِ پاکستان کا حصہ رہے ہیں ، ہی سوچنا ک ہم اُنہں پاکستان سے منسوب کرنےکی کوشش کر رہے ہیں تو یہ غلط ہے ، کیوں ک وہ دو قومی نظریئے کے خالق ہیں ،

    اور دوسرا کہ ہماارے رہنماوں یے قائد اعظم ، فاطمہ جناح ، لیاقت علی خان. اور دوسرے تحریکِ پاکستان کہ مُخلص رہنماؤن کے ساتھ کیا کیا تو … ہم بھی یہ ہی سوچتے اور روتے ہیں ….اور آپکی طرح دُعا کرتے ہیں،

  7. مُحترم آغا صفدرھمدانی ،
    بُہت خوبصورت انداز میں نطًًم تخلیق کی ہے ، آنکھیں نم ہو گیئں ، پروردیگار آپکی حُب الوطنی کو ہمیشہ ایسے ہی قائم و دائم رکھے ، صفدر بھیائی ،میں نے بھی اُسی خواب کی ذکر کیا ہے . جو نظریہء پاکستان ہے ، کیا آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی وہ نظریہ پورا ہوا ، کہ ابی ایک خواب ہے ، میں یے اُسی خواب کو اپنا نُقطہ نظر رکھا ہے جسکو آپ نے اپین نظم میں تحریر کیا ہے، جسکا حوالہ آپکی
    اے ارض وطن اب مجھ جیسے سب دیوانے
    یہ سوچنے پر مجبور ہوئے
    اس پاک وطن کے معماروں نے
    جب خواب اک سچا دیکھا تھا
    پھر ان ظالم جابر حاکموں نے
    اس خواب کو کیوں تعبیر نہ دی
    کیوں مفلس آج بھی مفلس ہے
    کیوں اہلِ ہُنر غربت میں ہیں
    کیوں صاحبِ عزت گُم سُم ہیں
    کیوں دین فروش سکون میں ہیں
    کیوں عالم پہ تنگ دستی ہے
    کیونکر ہے جاہل تخت تشیں
    کیوں راہنما سب ڈاکو ہیں
    کیوں نفس کا مارا منصف ہے
    کیوں عدل سے عاری عدالت ہے
    کیوں قتل کے حق میں وکالت ہے
    قرآن ہے کیوں پھر نیزے پر
    دربار میں پھر سادات ہیں کیوں
    اک بار میں پھر یہ پوچھتا ہوں

    آپ یے وطن ثانی” کی اصطلاح کا استعمال کیا، بجا بلکُل بجا ، مگر یہ وطنِ ثانی کیا ہے ، نظریہ ، اوریہ نظریہ ایک خواب نہیں اجس دور میں ، سب مُسلمان ٹُکڑوں اور ٹولیوں میں بٹے ہوے تھے ، اُن حالات میں کیا یہنظریہ ایک خواب نہیں تھا ، برائے مہر بانی اس مُعاملے میں میری رہنمائی فرمایئں…. مُحتاجِ دُعا

  8. ماشاء اللہ بہت خوبصورت شیئرنگ ہے

    ایک میری طرف سے بھی ……….. کل لکھی تھی
    اہل فن سے رہنمائی کی خصوصی درخواست ہے..

    اک وقت تھا جب یہ پاک وطن امن و سکوں کا گہوارا تھا
    دکھ سکھ سارے سانجھے تھے اور ہر انسان پیارا تھا
    ایثار مروت تھے عام یہاں ہر سمت وفا کے چرچے تھے
    نفرت تھی ناپید یہاں اور بغض پے ہر سو پہرے تھے
    بازار یہاں کے پر رونق ہر مسجد تھی آباد یہاں
    ہر شئی کی ارزانی تھی اور لالچ تھی جنس نایاب یہاں
    پھر نہ جانے میرے وطن کو کس کی نظر بد لگی
    جو پیار وفا کے سب جذبوں کو گھن کی صورت کھانے لگی
    بازار ہوئے سب بے رونق اور ہر مسجد ویران ہوئی
    اخلاص محبت عنقا ئے نفرت و کدورت عام ہوئی
    عفت ، عصمت، پیار اور چاہت بکنے لگے بازاروں میں
    انسان یہاں پر پیدل ہیں اور کتے بلے کاروں میں
    یہ وقت تقاضا کرتا ہے کہ اہل وطن اب ہوش کریں
    اسلاف کی راہ کو اپنائیں اور مستقبل کی کچھ سوچ کریں
    اے خالق و مالک ارض و سما، اکرام کی ہے بس ایک دعا
    یہ ارض وطن آباد رہے اور گونجے ہر سو حق کی صدا

  9. مُحترم راجہ اکرام،
    ماشااللہ بُہت اچھی کاوش ہے ، ہماری دُعا ہے کہ اِسی طرح با مقصد خُوب سے خُوب تر لکھتے رہیں،،،،، آمیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *