پاکستان اور تصور قائد اعظم ۔ اوباما زرداری مشترکہ فکر

سوچیئے کیا قائد اعظم نے مسلمانوں کے الگ وطن کا مطالبہ اس لیئے کیا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا پاکستان امریکہ کی کالونی بن جائے گا؟
کیا پاکستان کے عوام کی پچانوے فیصد سے زیادہ تعداد غریب پیدا ہو گی اور غریب ہی مر جائے گی؟
کیا پاکستان کے حکمرانوں کا ملک کی دولت لوٹنا آئینی حق ہو گا؟
کیا عوام صاف پانی، بنیادی طبی سہولتوں اور صاف ہوا سے محروم رہیں گے؟
کیا پاکستان میں اقتصادی ویژن نام کی کوئی چیز نہیں ہو گی؟
کیا ووٹ دینے والا بھوکا سوئے گا اور ووٹ لینے والا پجیرو میں سفر کرے گا اور اسکے گھوڑے کتے بھی پیٹ بھر کے کھائیں گے؟
کیا پارلیمان جاہلوں، ضمیر فروشوں ،عوام دشمنوں اور مفاد پرستوں کی جائے حفاظت بنی رہے گی؟
مزید پڑھنے کے لیئے یہاٍ کلک کریں

5 thoughts on “پاکستان اور تصور قائد اعظم ۔ اوباما زرداری مشترکہ فکر”

  1. اسلام علیکم

    سر ہمدانی صاحب نے نےاپنے اس کالم میں بہیت سے سوال کیے ہیں ان کا جواب کیس کے پاس ہے ؟؟؟ کسی باہر والے کے پاس نہیں ہے کوئی آکر ہماری یہ مشکل حل نہیں کرنے والا یہ تمام سوالات پر ایک پالستانی کہ خود سے کرنے پوں گے آزادی کی ایک تحریک کے نتیجےمیں 1947ء پاکستان وجود میں آیا تھا اب ایک بار پھر اس نئی نسل کہو اپنے مستقبل کے لیے ایک خطرناک جنگ لڑنی پڑے گی ۔

    سر ہمدانی صاحب یہ سوال ہیمں حل کرنے ہیں یہ وطن ہمارا ہے اور اس کہ چلانا بھی ہم کہ ہی ہے۔شکریہ خدا آپ جیسے قلم کاروں اور سچ کا راستہ دیکھانے والے رہنماوں کا سایہ تا دیر ہم پر بناےّ رکھیں (آمین)

  2. مُحترم صفدر ھمدانی آغا ،
    پرور دگار عالم آپ جیسے مُحبِ وطن لوگوں کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے ، آغا اتنے اچھے انداز میں اتنا کُچھ کہہ ڈالا کہ یقین کریں کوئی 10 بار مضمون کو پڑھا، اتنا مُکمل مضمون ہے کہ اِس مضمون کے بارے میں لکھتے ہوے سو بار سوچنا پڑ رہا ہے

    آغا جن اعزازات کا ذکر کیا گیا ، میں تو اُنکو اعزازات نہیں ،،،، چند بےضمیر لوگوں پر عنایات کہوں گا ، جن لوگوں پر یہ عنایات ہوئی ہیں اُنکی آستینوں کو نچوڑ کر دیکھیں کتنے معصوموں کا خون نکلے گا ان اعزازات حاصل کرنے والوں کو مُحسنِ پاکستان کا خطاب لیتے ہوے زرا شرم نہیں آئی ، ایک بار بھی اپنے گِریبان میں جھانک کر نہیں دیکھا ، کہ آیا وہ اُسکے حقددار بھی ہیں کہ نہیں،
    اور جوش صاحب والی بات کا حوالہ خوب رہا ، اور اگر علامہ اقبال کے اس شعر کا دوسرا مصرع بھی اگر آپ تحریر کردیتے تو وہ بھی صادر آتا ہے انِ حالات پر ……..ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز …… کیوں کہ آ ج زرداری صاحب اور اوباما ایک ہی صف میں نظر آرہے ہیں ایک تقریر ایک بیان پتا نہیں یہ زرداری ہے کہ ……. زرد … آری …… جو میرے وطن کی شاخوں کو بے دردی سے کاٹ رہی ہے

    میرے وطن کا مُستقبل سڑکوں پر ہاتھوں میں ڈگریاں لیے مارا مارا پھر رہا ہے، کوئی نہیں جو اُنکو اُنکے خواب کی تعبیر دے، بدامنی اسقدر کہ گھر سے نکلنے والے کو یہ معلوم نہیں کہ وہ زندہ واپس گھر لوٹے گا بھی کہ نہیں ، اولاد پڑھ لکھکر جوان ہو جائے تو ماں اُنکے لیے دُعائیں چُنتی ہے ، اُنکا مُستقبل چُنتی ہے ، مگر یہاں تو ہر ماں کو اپنے جگر گوشوں کی لاشوں کے ٹُکڑے چُننے پر لگا دیا گیا ہے ،

    اور آپ کا کہنا بلکُل بجا ہے ، حناب محترم جناب قبلہ گاہی باراک حیسن اوباما کی تقریر کہیں ایک ہی تقریر نگار نے لکھی یا پھر یا زرداری صاحب کی تقریر بھی اس موقع پر وائٹ ہاؤس سے لکھی آئی ہے ، آغا جی آپ کے سارے سوالوں کا جواب آپ کی اِس بات میں موجود ہے

    صفدر بھائی آپ نے جتنے سوال لکھے ہیں ، اُنکا جواب حُکمران طبقے میں تو کسی کے پاس نہیں ، اور اگر کسی مُحبِ وطن اور مُخلص شہری سے آپ یہ سوال کریں گے تو ہر سوال پر آپکو جواب میں ایک ایسی کرب ناک چیخ سُنائی دے گی ، جو شایئد کانوں کے پردے پھاڑ دے. ان تمام سوالوں کا جواب وہ ہی پالیسی میکرز دے سکتے ہیں جو پاکستان کیلے پالسیاں بناتے ہیں ، یا بنواتے ہیں ، جوہمارا اور ہمارے خون سے ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کے مُقدر لکھتے ہیں ، یا یہ بے ضمیر جن کہ بقول آپکے،، ہلالہ پاکستان ،، مُجھے اپنے دوست شاعر حبیب صدیقی کے چند اشعار یاد آگئے کہ،

    یہاں ہر آنکھ ہے نمناک اِسکے بعد کیا ہو گا
    کسی کو بھی نہیں ادراک اِسکے بعد کیا ہو گا

    خِرد بھی ہے گریباں چاک اسکے بعد کیا ہو گا
    بتا ائے گردشِ افلاک اِسکے بعد کیا ہو گا

    ابھی کابل کو روئے تھے اور اب بغداد کو روئیں
    خُدایا میرے مُنہ میں خاک اِسکے بعد کیا ہو گا

    ہمار ا دُشمن ہمارے سر پر تلوار لیے کھڑا ہے، وہ ہمیں للکار رہا ہے ، اور ایوانِ بالا سے آواز آ رہی ہے سب اچھا ہے ، ڈرو مت میں ابھی اوپر بات کرتا ہوں ، ائے ایونِ اقتدار خُدارا ڈرو اُس دن سے اُسوقت سے جب یہ بھوکی ننگی عوام تمھارے گریبانوں پر ہاتھ ڈالے ، اور تمھیں اِس ارضِ وطن کی گلیوں میں برہنہ گلے میں رسی ڈال کر کھینچے ، ڈرو اُس حال سے جوکہ شاہِ ایران کا ہوا ، وقت کے بدلتے ہوئے تیور کو سمجھو، نکل آو ا.س خیال و خواب کی دُنیا سے باہر کیوں کہ بقولِ زاہد فخری :-

    خیال و خواب کی دُنیا میں کُچھ نہیں رکھا
    بھنور میں ناوگھری ہے بھنور کی بات کرو

  3. زوار بھائی بہت ہی عمدہ لکھا آپ نے ۔۔ خاص طور پر زاہد فخری کا حسب حال شعر
    خیال و خواب کی دُنیا میں کُچھ نہیں رکھا
    بھنور میں ناوگھری ہے بھنور کی بات کرو

    نئے بھنور کا عنوان ہے اسٹیریجک ڈایئلاگ ۔۔ دیکھئے اب کون کون ڈوبتا ہے سحر ہونے تک ۔۔۔

  4. تم اسکو دیکھ نہ پاؤ گے اسکے بعد جو ہو گا
    خود اپنی لاش پر آؤ گے اسکے بعد جو ہو گا
    ……..
    سروں سے چھین لے گی وقت کی رفتار ہر دستار
    کسے پھر چہرہ دکھلاؤ گے اسکے بعد جو ہوگا
    ………
    ہر اک چہرے پہ لکھا ہو گا اپنے درد کا قصہ
    بھلا کیا خود کو سمجھاؤ گے اسکے بعد جو ہوگا
    ……..
    کوئی سیلِ بلارستہ نہیں دے گا تمہیں سوچو
    تم اپنے آپ رک جاؤ گے اسکے بعد جو ہوگا
    ……..
    ہوائیں جسم سے کپڑے اتاریں گی غریبوں کے
    یہ دکھ کیا تم اٹھا پاؤ گے اسکے بعد جو ہوگا
    ……
    نہیں صفدر مجھے یارا کہ اب میں اور کیا لکھوں
    تم اب کیا اور لکھواؤ گے اسکے بعد جو ہوگا
    …………………………

  5. مُحترمہ نگہت نسیم بہنا ،
    بُہت شُکریہ کہ آپ کو تبصرہ پسند آیا ، صفدر بھائی کا کالم اتنا مُکمل ہے، اور سوالات ایسے ہیں کہ جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ، اسلیے اتنے کم تبصرے ہوے، اور سچائی پر تبصرہ کریں گے بھی کیا ہم میرے وطن میں تو ہر مسئلہ ایک بھنور ہے ، ہم ایک دوراہے پر بے بس بغیر میرِ کارواں کھڑے ہیں ھر آنکھ میں ایک نہیں ہزاروں سوال ، اور وہ یہ ہی سوال جو صفدر بھائی نے لکھے ہیں ،
    کون آئے گا ہماری مدد کو کس کو جا کر کہیں کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں وہ مسیحا ، جو میری دھرتی پر پلنے والے ناسُروں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکے ، کہاں سے لائیں ڈوبتی ہوی نبضوں ، دم توڑتی سانسوں ، کمزور دل کی دھڑکن کو دوبارہ تقویت دے ، کہاں سے وہ مائیں جو مُحب. وطن سپوت رہبر پید ا کریں، بُہت کُچھ ہے ایسا لکھنے کو جو انشااللھ لکھتا رہوں گا ، ایک بار پھر شُکریہ
    مُحتاجِ دُعا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *