یہ تو اس خالق و مالک کی مرضی ہے کہ وہ چاہے تو بوٹ کھانے والے سے زیادہ عزت اور شہرت اس بوٹ کو دیدے جو وقت کے کسی بہت بڑے جمہوریت کا راگ الاپنے والے آمر کو مارا جائے۔
ذرا دیکھیں تو دنیا بھر کے ٹی وی،اخبار،انٹرنیٹ کہ ان میں بش کی تصاویر کم اور اس بوٹ کی زیادہ ہیں جو بش کا الوادعی بوسہ لیتے لیتے رہ گیا۔
مزید پڑھنے کے لیئے اس لنک پر کلک کیجئے

صفدر صاحب،
آپ کا مضمون پڑھا، دیکھئے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس صحافی کو “آزادی اظہار” اور آزادی رائے کا پورا حق تھا۔ مضرب کو میرے خیال میں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہمیں قوانین سب کے لئے ایک جیسے بنانے ہوں گے۔
القاعدہ دہشت گردوں کی تنظیم ہے مگرمیں یہ سمجھنے سے اب تک قاصر ہوں کہ امریکہ کیوں بھول جاتا ہے کہ یہ اسی کا دیا ہوا تحفہ ہے جسے آج ہم بھگت رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ سویت یونین کے خلاف امریکہ نے ان لوگوں کو استعمال کیا۔ اور جنگ کے خاتمے کے بعد ان لوگوں کو استعمال شدہ ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا گیا۔ وہاں کوئی اسکول نہیں کوئی تعلیم گاہ نہیں ۔ وہاں کچھ بھی نہیں
میں آپ کا ایک بات بتاؤں یہ تمام پڑھے لکھوں والی باتیں، مذاکرات، ٹیبل ٹاک یہ اس شخص کے لئے بڑی مشکل ہوتی ہے جس کے گھر کا کوئی فرد بے قصور مار دیا جائے۔ مسلسل میزائیل حملے، آپریشن اور پتہ نہیں کیا کیا گزشتہ بیس سال سے یہ لوگ بھگت رہے ہیں، ایک پوری نسل ماری جا چکی ہے۔
میں صرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ کتنے ہی پڑھے لکھے کیوں نہ ہو جائیں آگر آپ کے گھر کے کسی فرد کو مار دیا جائے بغیر کسی جرم اور گناہ کے تو شاید آپ کے لئے زندہ رہنے کی وجہ بھی ختم ہو جائے۔ کئی صورتوں میں ایسا ہوتا ہے۔
خدا میرے ملک کے لوگوں پر رحم کرے اور انہیں سوچ کی دولت دے تاکہ وہ جان پائیں۔ اور کاش مغرب میں لوگ یہ جان پائیں کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کا جو طریقہ انہوں نے اپنا رکھا ہے اس کے نتیجے میں مذید خون بکھرے گا۔
آپ کا یہ خوبصورت مضمون، ایک مستند دستاویر ہے
خوش رہیئے ہمیشہ
“ا” سے ایک کڑور ڈالر اس “ب” سے بش پر مارے جانے والے جوتے کئ قیمت لگ گئی واہ کیا بات ھے 10نمبر جوتے کی 🙂 سرورق پے خبر پڑھی کے ایک سعودی باشندے حسن محمد مخافہ نے جوتوں کو خریدنے کے لئے ایک کروڑ ڈالر کی پیشکش کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان جوتوں کو خریدنے کے انہیں اپنی تمام جائیداد فروخت کرنا پڑی تو وہ بھی کریں گے۔
بےشک اس صحافی نے تو بہادری دکھا دئ،دعایئں اس بہادر کے لیئے ھمیشہ رھیں گی ،
پر اب سوچیں اس کے اثرات کیا ھوں گے شاید اب پریس کانفرنس سے پہلے صحافیوں سے جوتے اتروا لئے جایا کریں گے اور کیوں کے اب امریکہ کے بش پے جوتے کا حملہ ھوا ھے اور ان کو آگے کہیں ممکن ہے کہ نا صرف صحافیوں کے لیے بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے جوتا پہننا ممنوع ہو جائے، میں سوچ رہی ھوں پھر مسلمان پاوؤں میں کیا پہنیں گے اگر جوتوں پے پابندی لگ گئی- بس اب سب 10 نمبر کے جوتے والے اپنئ خیر منائیں 🙂
ثنا تمھاری بات انتہائی غور طلب ھے ۔اب پارٹیوں اور کانفرنسوں میں ڈریس کوڈ کی بجائے جوتا کوڈ ھوا کرے گا ۔