طارق ہاشمی صاحب کے استاد سید نعیم حامد علی الحامد کی غزل

محترم طارق ہاشمی صاحب نے اپنے استاد محترم کی جو غزل میرے ختم شدہ بلا گ میں پیش کی ہے اس کے چند اشعار سے یہ بلاگ کی ابتدا کررہا ہوں ۔ باقی کے اشعار طارق ہاشمی صاحب اس بلاگ میں لکھ سکتے ہیں اور اپنے استاد محترم کا تعارف بھی پیش کرسکتے ہیں ۔ اتنے اچھے اشعار لکھنے والے شاعر کی کوی کتاب چھپی ہوتو اسکا بھی تذکرہ کرسکتے ہیں اور اپنے استاد کے وہ منتخبہ اشعار لکھ سکتے ہیں جو انھیں خاص طور پر پسند ہیں:
سید نعیم حامد الحامد کی غزل کے چند اشعار:
اگرچہ پامال ہوگئے ہیں غم فراواں سے لوگ ساقی
اٹھیں گے محشر بدوش اک دن یہی پریشا ں سے لوگ ساقی
کوی انہیں رایگاں نہ سمجھے انہی سے رونق ہے گلستاں کی
یہ غنچہ ہاے بدن دریدہ یہ چاک داماں سے لوگ ساقی
اگر یہی قد ر آدمی ہے اگر یہی طرز بے رخی ہے
مجھے یہ ڈر ہے الجھ نہ جایں امیر دوراں سے لوگ ساقی
۔۔۔۔۔۔
باقی کے اشعار طارق ہاشمی صاحب لکھ دیں تو مہربانی ہوگی۔
یہ سوال ہے کہ حامد صاحب کس امیر دوراں کی بات کہ رہے ہیں ؟
ایک آمر امیر دوراں مشرف تو چلا گیا اب پاکستان کے امیر دوراں زرداری صاحب ہیں۔
جمھوریت میں لوگ امیر دورا ں کو منتخب کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔ اگر زرداری کو جمھور نے امیر دوراں کی حیثیت سے منتخب کیا ہے تو پھر اس سے الجھنے سے کیا فایدہ ہوگا ؟ اسے تو راے دہی کے ذریعہ ہی بدلنا ہوگا۔
فقط:
منظور قاضی از جرمنی

49 thoughts on “طارق ہاشمی صاحب کے استاد سید نعیم حامد علی الحامد کی غزل”

  1. منظور بھائی شکریہ
    در حقیقت ایک ہی موضوع سے طبعیت اکتانے سی لگی تھی، اس بنا پر میں نے ہر اس بلاگ پر جہاں جہاں میں گیا تھا یہ غزل چسپاں کردی، کئی مرتبہ خیرباد کہنے کا ارادہ کیا پھر تبدیل کرنا پڑا۔ میرے استادِ محترم شہرت سے بہت بھاگتے ہیں بلکہ اگر انہیں پتہ چل جائے کہ میں نے اس طرح ان کی غزل ویب سائٹ پر چسپاں کی ہے تو یقین مانیں میری بہت پٹائی ہوگی۔
    طاارق ہاشمی

  2. طارق بھای: بلاگ تو بد ل گیا اوو اس کے ساتھ موضوع بھی بدل گیا۔ یہی تو خوبی ہے عالمی اخبار کے بلاگوں کی کہ ایک موضوع پر طبیعت اکتانے لگے تو اس بلاگ کو ختم کرکے دوسرے بلاگ پر اس وقت تک لکھتے رہیں جب تک کہ اس کے موضوع پر سیر حاصل تبصرے نہ ہوجایں۔

    آپ کے استاد محترم کو تو آپ پر ناز ہونا چاہیے کہ آپ نے انکا تعارف دنیا بھر سے کروایا ۔ اسلیے اب انکی سوانح حیات اور انکی تصانیف اور انکے وہ اشعار جو آپ کو پسند ہیں ان سب کو اگر آپ اس بلاگ میں لکھدیں تو پڑھنے والوں کےعلم میں‌اضافہ ہوگا۔

    اگر آپ اس ویب سایٹ کو خیر باد کہدیں تو میرے علاوہ اور بھی پڑھنے والے آپ کے علم کی اور آپ کی حس مزاح کی کمی ضرور محسو س کرینگے ۔
    خیر اندیش: منظور قاضی از جرمنی

  3. طارق بھائی۔آپ کے استاد ہمارے بھی استاد ہوئے کہ ہم جیسے مبتدی تو پڑھ پڑھ کر ہی استفادہ کرنے والوں میں سے ہیں۔لیکن تمام تر ادب و آداب کے ساتھ ذاتی طور پر اس بات سے اختلاف کرتا ہوں کہ آپ کے استاد محترم ہرت سے بہت بھاگتے ہیں۔ عزت کی طرح شہرت بھی اس خالق لوح و قلم کی عطا اور عنایت خاص ہے جو اپنے چنیدہ بندوں کو ہی عطا کرتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں یہاں لفظ”شہرت” کسی عام شہرت کے معنی میں استعمال نہیں کر رہا۔ یہ حادثہ بھی ایسے ہی بزرگوں کے اس رویے کی وجہ سے ہوا ہے کہ ایسے لوگ اپنے کام میں کسی طمع و لالچ کے بغیر منہمک رہے اور لوگ ان کے کام سے اپنانام اور پیسے بناتے رہے۔ میں بھی ایک زمانے تک اسی رویے کا شکار تھا لیکن جب اپنا اور والد مرحوم کا نشریاتی اور ادبی سرمایہ چوری ہوتے،ڈاکہ پڑتے اور لٹتے دیکھا تو اس رویے کو بدلنا پڑا۔ یہ عہد ایسے لوگوں کا ہے جنہوں نے تعلقات کے عامہ کی بیساکھیوں کے سہارے اپنے بونے قد” بلند” کر لیئے ہیں اور صاحبان علم و فن عزتیں بچائے کنج قفس میں ہیں۔
    گلی گلی جو یہ پھر رہے ہیں عجیب حیراں سے لوگ ساقی
    فلک زمیں پر اتار لائیں گے یہ پریشاں سے لوگ ساقی
    ۔۔۔۔۔
    کسی بھی ظالم کے سامنے میں جھکا نہیں ہوں قسم خدا کی
    مجھے بھی تکتے ہیں محفلوں میں بڑے ہی ارماں سے لوگ ساقی
    ۔۔۔۔۔
    امیرِ شہرِ جنوں نے اپنا ضمیر بیچا ہے کتنا سستا
    وگرنہ دیکھے ہیں خوف کھاتے فقیر دوراں سے لوگ ساقی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اسے جو مجھے سے کوئی گلہ ہے تو جانِ جاناں عجب نہیں ہے
    وگرنہ کرتے ہیں روز شکوے ہزار یزداں سے لوگ ساقی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر ہیں ایمان پر جو قائم تو یہ بھی صفدر عطا ہے اس کی
    بہت سے دیکھے ہیں پھرتے ہم نےجہاں میں ایماں سے لوگ ساقی

  4. شکریہ قاضی صاحب، اور شکریہ حمدانی صاحب ، چلیے ایک اور خوبصورت غزل پڑھنے کو ملی، کیا کہنے ہیں،
    حمدانی صاحب یہ سب کچھ مجھے بھی استاد سے ورثے میں ملا ہے اور ربع صدی سے زیادہ ہوگئی شعر کہتے ہوئے لیکن کبھی اس کی تمنا نہیں کی کہ شہرت ملے، اسکے علاوہ ایک وقت وہ ضرور آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی غواص پیدا فرمادیتا ہے جو ڈھونڈ کے تہہ سے بھی نکال لاتا ہے، میرے استادِ محترم کا بھی یہی حال ہے، البتہ ان کے بارے میں بات کرنا ہے تو پھر پروفیسر طلہ رضوی برق، پیزاد قاسم، مشتاق یوسفی، پروفیسر عنایت علی خان سے بات ہو تو پھر بتائیں گے کہ ان کا کیا مقام ہے، میں وقت ملنے پر ان کا کلام حاضر کرونگا۔
    طارق ہاشمی

  5. ہمدانی صاحب نے بڑی اچھی بات کہی کہ دنشور جب اپنی انکساری اور بڑے پن کی وجہ سے شہرت سے چشم پوشی کرتے ہیں تو اُنکا کام جالی لوگوں کے ہاتھ لگ جاتا ہے ۔ اور پھر بلبلوں کے گیت زاغ و زغن سے سنّے پڑتے ہیں۔ شمالی امریکہ کے مشاعرے اسکی بہترین مثال ہیں۔

    ایک اور سوال میں سب سے پوچھنا چاہتا ہوں اپنی لا علمی کی وجہ سے کہ استاد قمر جلالوی کا نام ادبی تبصروں میں کیوں نہیں ہوتا ۔

  6. ارے بھئی کیا کہنے ہیں، محفل میں ڈاکٹر ظفر جعفری بھی آپہنچے، خوب اور بہت خوب، پھر کیوں نہ نعیم حامد علی صاحب کی ایک اور غزل پیش کروں

    دشمنِ جبر و تیرگی شاعر، چراغ اور قلم
    پکیرِ علم و روشنی شاعر، چراغ اور قلم
    ظلت و جہل و قہر پر ظلمِ خفی و جہر پر
    ہوں گے نہ متفق کبھی شاعر، چراغ اور قلم
    آمر و شیخ اور خطیب ظلمت و جہل کے نقیب
    داعی نور و آگہی شاعر، چراغ اور قلم
    رونقِ کائنات ہیں تاجِ سرِ حیات ہیں
    اِن سے وقارِ زندگی شاعر، چراغ اور قلم
    تیرا کرم ہے اے خدا کیا کیا ہمیں عطا کیا
    علم و شعورو سر خوشی شاعر، چراغ اور قلم

    طارق ہاشمی

  7. ماشا اللہ کیا مرصع غزل ہے۔ ایک ایک شعر اس امر کی سچی دلیل ہے کہ شاعر کا قلم چراغ ہی تو ہوتا ہے ایسا چراغ جسکی نہایت مدھم روشنی میں منزل بہت واضع نظر آتی ہے۔ مسلہ صرف اور صرف عمل کا ہے۔ میں نے ابھی اپنے کسی تازہ کالم میں لکھا تھا کہ مسلم امہ کے نوے فیصد سے زائد مسائل کا حل یہ ہے کہ اسکے قلم کار اور علمائے دین اگر باعمل ہو جائیں تو مسلم معاشرہ تبدیل ہو کر رہ جائے۔

  8. حمدانی صاحب ۔ ہمارے ساتھ رہیں گے تو ایسے ہی مزے کرینگے، ارے بھائی میں مذاق کر رہاہوں، خدا کے لئے کچھ اور نہ سمجھ لیجئے گا،
    ہاں الحمدہ للہ بہت پیاری اور مرصع غزل ہے اور پھر زمین بھ طبع زاد، در حقیقت کچھ اشعار خواص کے لئے ہوتے ہیں۔ ہم تو دعا گو ہیں کہ عالمی اخبار کی محفل میں رونق رہے۔
    طارق ہاشمی

  9. بھائی طارق ہاشمی۔ مزاح۔مذاق اور سنجیدگی کا فرق جانتے ہیں جی۔ فکر ناٹ

  10. میں پہلے اردو کے ایسے بلاگز سے لا علم تھا ۔ طارق ہشمی صاحب کا شکریہ کہ اُنہوں نے نشان دہی کی۔ میں سمھتا ہوں کہ اپنی اصلاح کیلئے ایک اچھے استاد کے بعد یہ بہترین جگہ ہے ۔

    نعیم صاحب مقام کا اندازہ تو طارق ھاشمی کی شاعری اور انکے استاد کی شان میں کلمات سے ہوگیا تھا۔ لیکن انکی شاعری سے لطف اندوز ہونے کا موقع اب ملا ہے۔ طارق ھاشمی صاحب نے اُس کام کی ابتدا کردی ہے جو حالی نے اپنے استاد کیلئے کیا تھا ۔

  11. طارق بھای نے یقینی طور پر اپنے استادسید نعیم حامد الحامد صاحب کی شاگردی کا حق ادا کردیا۔ ہمیں انکے استاد کے بارے میں اردو ادب کی مشہور ہستیوں سے باتیں کرنے کی ضرورت نہیں‌ اس لیے کہ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ ۔ اور پھر طارق بھای کی باتو ں پر ہم سب کو یقین ہے۔ انکے استاد صاحب کی دو غزلیں پڑھنے کے بعد مزید مزید کے الفاظ زبان پر آتے ہیں۔ اور پھر استاد صاحب کی زندگی اور تصنیفات کی فہرست پڑھنے کی بھی خواہش ہے۔ میں اس لیے کہ رہا ہوں کہ میونخ جرمنی میں اردو کا دارلمطالعہ نہیں ہے جس کے ذریعہ اس قسم کی معلومات حاصل کرسکوں۔

    کاش کہ گوگل اور ویکی پیڈیا کی طرح اردو زبان اور ادب اور شاعری پر کوی ویب سایٹ تیار ہوجاے کہ کسی موضوع یا کسی شاعر کا نام اسکے سرچ انجن میں لکھدینےپر ضروری معلومات حا صل ہوجایں۔ ( انگریزی میں یہ سہولت موجود ہے مگر اردو میں نہیں ) : شایدپاکستان کی اردو یونیورسٹی اس علم پر کچھ تحقیق کرے اور اس ضرورت کو پورا کرے۔

    طارق بھای سے ایک التجا ہے کہ وہ اپنے استاد کی غزل کے مطلع کے دوسرے مصرع میں لفظ ” پکیر” اور دوسرے شعر کے پہلے لفظ ” ظلت ” کی تشریح کریں ۔ اگر یہ لفظ ” ظلمت ” ہے تو اس کی مزید تشریح کرنے کی ضرورت نہیں۔مگر ” پکیر ” کی معنی مجھے نہیں معلوم ۔میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوے یہ سوال کررہا ہوںِ۔
    صفدر ہمدانی صاحب نے جو اپنی غزل کہی ہے وہ انکی اپنی زندگی اور انکی حق گوی و بے باکی کی آینہ دار ہے ۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے انکو (‌اپنے تصور کی دنیا میں ) قریب سے دیکھنے کا مو قعہ مل رہا ہے ۔ وہ عالم با عمل ہیں اور یہ کہنے میں حق بجانب ہیں‌کہ:
    کسی بھی ظالم کے سامنےمیں جھکا نہیں ہوں قسم خدا کی
    مجھے بھی تکتے ہیں محفلوں میں بڑے ہی ارماں سے لوگ ساقی
    ۔۔۔
    کسی شاعر کے شعرکا پہلا مصرعہ ہے: ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ” اسکی مثال ہم کو صفدر ھمدانی صاحب کی شخصیت میں یہاں پر مل جاتی ہے۔
    ۔۔۔۔
    طارق بھای اور صفدر بھای کی باتوں سے اس بلاگ میں جان پڑگئی۔۔

    اب ظفر جعفری صاحب نے قمر جلالوی کو یاد کرکے ہمیں اس قلندر نما شاعر جو روایتی انداز میں بہت کچھ کہ گیا اس پر تبصرہ کرنے کے لیے ایک نیا بلاگ چاہیے۔ اسکے دو اشعار ہیں:
    یہ مانا برق کے شعلےمرا گھر پھونک کر جاتے
    مگر کچھ حادثے پھولوں کے اوپر بھی گذر جاتے

    مرےکہنے سے گر اے ہم قفس خاموش ہوجاتا
    نہ تیرے بال وپر جاتے نہ میرے بال و پر جاتے
    قمر جلالوی میرے بہت ہی محبوب شاعر تھے ( ہیں ) ۔ ظفر جعفری صاحب کا سوال درست ہے کہ قمر جلالوی کا نام ادبی تبصروں میں کیو ں نہیں آتا؟
    میں تو پاکستان سے کئ عرصے سے دور ہوں مگر مجھے یقین ہے کہ قمر جلالوی پر کئی ایک کتا بیں لکھی جاچکی ہیں اور انکی شاعری کو پی ایچ ڈی کا موضوع بھی بنایا گیا ہوگا ۔

    اس طرح میں سیف الدین سیف جیسے عظیم شاعر پر تبصروں کی بھی کمی محسو س کرتا ہوں ۔ ( انکی شاعری بھی کسی بلاگ کا موضوع بن سکتی ہے )

    ایک اور موضوع جس پر ایک بلاگ کی ضرورت ہے وہ جلال الدین رومی کی شاعری اور انکی شخصیت اور انکے فلسفے اورمثنوی پر ہے۔ اور ان پر شمس تبریز کی قربت اور جدای کے اثرات پر تبصرے کی بھی ضرورت ہے۔ آجکل مغرب میں اور خاص طور پر امریکیوں میں “رومی ” کا نام لینا اور اس کے فلسفے کے بارے میں کچھ نہ کچھ کہنا ایک فیشن سا بن گیا ہے۔ ( اقبا ل نے تو جلال ایدن رومی کو اپنا پیر سمجھ کر کیی اشعار کہے ہیں )
    تو عبدالقادر بیدل کی طرح اس عطیم ترین شخصیت پر بھی تبصروں کی ضرورت ہے۔ صرف دانشور وں کی توجہ اور تحقیق چاہیے ۔
    یہاں پر میں زرقا مفتی صاحبہ سے بھی التجا کرونگا کہ وہ جلال الدین رومی پر بلاگ لکھیں اس لیے کہ انہوں نےایک مرتبہ خلیفہ عبدالحکیم کا نام اپنے ایک تبصرےمیں خودی کی تشریح کے سللسلےمیں لکھکر مجھ کو یہ سمجھنے پر مجبور کردیا کہ انکا مطالعہ جلال الدین رومی پر بھی کافی وسیع ہوگا ۔
    ( زرقا مفتی صاحبہ نے فیض پر بھی ایک طویل مقالہ لکھا ہے جو عالمی اخبار کے خزانےمیں موجود ہے )

    موقعہ ملا تو ان بلاگوں کے علاوہ ایک اور موضوع بھی غور طلب ہے وہ یہ کہ اگر فیض، جالب اور فراز پاکستان کی بجاے ہندوستان میں پیدا ہوتے تو وہ کس قسم کی انقلابی ، احتجاجی اور مزاحمتی شاعری کرتے؟ کیا ان شعرا کو انقلابی ، احتجاجی اور مزاحمتی شاعر بنانے میں آمروں کا ہاتھ ہے ؟ کیا ہندوستان میں کوی ایسا آمر نہیں جو وہا ں کے شعرا کو انقلابی ۔ احتجاجی اور مزاحمتی شعر لکھنے پر اکساے۔ مخدوم اور کیفی اور ساحر بھی اپنی آخری عمروں میں اپنا بانکپن کھو چکے۔ کیا اب وہا ں پر کوی فیض ، جالب اور فراز جیسے شعرا پیدا ہوسکتے ہیں؟ اس بلاگ کے لیے ہندوستان کے دانشوروں اور سخنوروں کی مدد کی ضرورت ہوگی۔

    باقی پھر کبھی :
    کمپوزنگ کی کوتاہیوں کی معافی کے ساتھ۔
    علم کا طالب : منظور قاضی از جرمنی

  12. قمر جلالوی پر کتاپ تو کجا مجھے ایک مضمون یا تبصرہ بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ جبکہ اُنکی کم از کم چار کتابیں اُنکے شاگرد شائع کرواچکے ہیں جنکے نام غمِ جاوداں۔ عقیدتِ جاوداں ۔ رشکِ قمر اور اوجِ قمر ہیں ۔ انکی غزلیں گائ بھی جارہی ہیں۔

    منظور صاحب آپ قمر جلالوی پر نیا بلاگ ضرور شروع کریں۔ اور مجھے بھی بتادیں کہ نیا پلاگ کیسے شروع کرتے ہیں ۔

    آپ بھی تو آدمی ہیں کام کے

    شمشیر پھینکئے اور شروع ہوجائے۔ آپ ہم سبکے محبوب اور ہمارے لوں کی دھڑکن ہیں۔ اللہ آپکا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے ۔۔۔آمین

  13. مجھے نجم آفندی کا یہ مصرع بہت پسند ہے
    استفادہ کرہا ہوں موت کی تاخیر سے

    اگر اس مصرع طرح پر کچھ غزلیں اور اُن پر کچھ تبصے ہوجائیں تو لطف آجائے گا ۔ منظور بھائ اگر آپ اسکا الگ بلاگ بنادیں تو زیادہ مزہ آئیگا ۔ اپنے بھائ کو بھی دعوت دیں ۔

  14. میرے محترم ظفر جعفری صاحب آپ کی عنایت کہ آپ نے اس دور افتادہ دعا گو کو اپنے دل کے قریب سمجھا اوو تصور کی دنیا میں آپ سے گلے ملنے کا شرف عطا کیا۔ آپ کو شاید پتہ ہوگا کہ میں ویسے بھی دل کا مریض ہوں اور اپنے دل کے آپریشن کے بعد اللہ کی دی ہوی بقیہ زندگی کے لمحات اس دعا کے ساتھ جی رہا ہوں کہ اللہ خاتمہ بخیر کرے اور عاقبت بھی بخیر کرے۔

    شمشیر تو اپنے بھای مسعو د قاضی کے شعر کے دفاع میں اٹھای تھی ۔ یہ کوی جارحانہ اقدام نہیں تھا اس لیے کہ میں ایک امن پسند انسان ہوں مگر اقبال کے اس شعر کو بھی اپنے پیش نظر رکھتا ہوں :
    گذرجا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے
    گلستاں راہ میں آے تو جوے نغمہ خوں بن جا
    مجھے علم ہے کہ مسعود قاضی تما م شعرا کی طرح اپنی بساط کے مطابق اردو کی خدمت کررہا ہے۔ اس لیے اس کی ہمت افزای ہم سب کا فرض ہے ۔

    میں اس با ت پر شرمندہ ہوں کہ آپ کی نیک نیتی کو سمجھنے میں مجھ سے غلطی ہوی جس کے لیےمیں نے آپ سے معافی بھی چاہا ہوں۔

    اب رہا قمر جلالوی پر نئے بلاگ کا تعلق تو اس کے لیے میرے پاس اتنا مواد ( ذخیرہ ) نہیں ہے کہ کو ی ڈھنگ کی بات کروں ۔ صرف وہ سنی سنای غزلیں میرے ذہن میں موجود ہیں جنھیں تمام دنیا نے بار بار سنا ہے۔ ان کی زندگی پر اور انکے کلام پر تو ایک مقالہ کی ضرورت ہے جو شاید آپ جیسا شاعر ہی لکھ سکتا ہے جس کے پاس ( میرے خیال میں ) قمر جلالوی کی چاروں کتابیں موجود ہیں۔

    آپ نے مجھ سے یہ کہا ہے کہ میں آپ کو بلاگ لکھنے کا طریقہ بتا دوں ۔ بھا ی اس کا اختیار مجھ کو نہیں ہے۔ آپ کو تو معلوم ہے کہ اس ویب سایٹ کی روح رواں جناب صفدر ھمدانی صاحب ہیں اور انکی نایب مدیر ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ہیں ۔ یہ ان کی مرض ہے جسے چاہیں اس کو نواز دیں ۔ ویسے میرا خیال ہے کہ وہ ان بلاگوں پر تعمیری تبصر ے کرنے والوں کو اپنے ذہن میں رکھتے ہیںاور تخریبی تبصرے کرنے والوں پر بھی کڑی نظر رکھتے ہیں اور اس اعتماد کے بعد کہ انکی نظر میں وہ تعمیری تبصرہ نگار اس عالمی اخبار ویب سایٹ کے اعلی معیار کو برقرار رکھے گا ( رکھے گی ) تو پھر وہ اس امتحان میں کامیاب ہستی کو بلا گ لکھنے کی اجازت دیتے ہیں ۔ یہ سب انکے ہاتھ میں ہے ۔ میں اپنی طرف سے پوری کوشش کررہا ہوں کہ انکے معیار پر پورا اتروں۔

    آپ کو شاید معلوم ہے کہ اسی سال نومبر کے مہینے میں صفدر ھمدانی صاحب اور انکے قریبی رفقا جن میں شیخ امجد اور زرقامفتی صاحبہ اور نگہت نسیم صاحبہ شامل ہیں اس ویب سایٹ کو تیا ر کیا ۔ اس کے پہلے کئی سال تک انہی جانبازوں نے القمر آن لاین کی نظامت اور ادارت کی مگر جب اس کے ارباب اختیار نے انکے بے لوث اور بلا معاوضہ کاموں کو سراہنے کی بچاے اپنی بد دیانتی کی باعث دل شکنی کی تو ان سب نے اس ویب سایٹ کو خیر باد کرکے یہ نئی ویب سایٹ اس طریقہ سے بنای کی دنیا اس کی شیدا ی بنتی جارہی ہے۔ اس کی خوبیوں کو اس کے پڑھنے والے بخوبی جانتے ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ اردو کی خدمت کررہی ہے اور ہر انسان کی ہمت افزای کررہی ہے جو اردو کا شیدای ہے۔

    اپنی صحت کا خیا ل رکھیے ۔ آپ طارق ہاشمی صاحب کے شاگرد بھی ہیں اور قمر نقوی نقشبندی صاحب کے بھی شاگرد ہیں‌اور ساتھ ہی ساتھ مسعود قاضی کو بھی اپنا دوست سمجھتے ہیں اس لیے میں آپ کو ان بلاگوں کے تبصروں میں شرکت پر خوش آمدید کہتا ہوں۔
    آپ کی نیک دعاوں کا طالب:
    صحت کےساتھ چیتے رہیے اور سب کا دل خوش کرتے رہیے ۔
    اللہ ہم سب کو نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی سرخرو رکھے۔ آمین
    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی

  15. بھای ظفر جعفری صاحب اگر آپ نے اس مصرعہ پر کوی غزل لکھی ہے تو بے شک ا س بلاگ میں یا کسی اور کے بلاگ میں لکھدیجیے۔ شاید آپ کی غز ل دوسروں کو بھی اس طرح پر لکھنے پر مایل کرسکے۔
    چونکہ آپ مسعود قاضی سے ملتےجلتے رہتے ہیں اس لیے آپ ہی اس کو اس سلسلےمیں کچھ مشورے دے سکتے ہیں۔
    میری تجویز یہ ہے کہ آپ نجم آفندی صاحب کی پوری غزل ہی لکھ ڈالیے۔پھر دیکھیے کہ پڑھنے والے کیا کہتےہیں ۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  16. نجم آفندی مرحوم کا ایک شہ پارہ
    اب کیا مرے گناہ رہیں گے حساب میں
    گھل مل گیا ہوں خاکِ درِ بوتراب میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کتنی ہی صورتیں ہیں خدا کی کتاب میں
    لاؤ کوئی شبیہ نبی کے جواب میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بندے جنہیں کلام ہے عترت کے باب میں
    اصلاح دے رہے ہیں خدا کی کتاب میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گزری ہے عمر بندگی ء بوتراب میں
    میں بھی شریک ہوں شرفِ آفتاب میں
    ۔۔۔۔۔
    یہ اپنی جان دے کے بچاتے نہ کس طرح
    اسلام کمسنی میں تھا اکبر شباب میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تا شام روندتے ہوئے عابد چلے گئے
    کانٹے تھے پھول ولولہ ء انقلاب میں
    ۔۔۔۔۔
    پروردہ ء غدیر کی اللہ رے مستیاں
    کوثر ڈبو دیا ہے ولا کی شراب میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اقرارِ باللسان کر اے بندہء خدا
    رکھتا ہے الفتِ شہِ مرداں حجاب میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک شہسوارِ راہِ تولاّ کو ہوش کیا
    سنتا ہوں آسمان و زمیں ہیں رکاب میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصغر بڑے بڑوں سے کچھ آگے نکل گئے
    کیا گھٹنیوں چلے ہیں یہ راہِ ثواب میں
    ۔۔۔۔۔
    تحقیق کا جنون ہے فکرِ عمل نہیں
    کیا ڈھونڈتے ہو کرب و بلا کی کتاب میں
    ۔۔۔۔۔۔
    رفعت مرے کلام کی عرش آشنا ہے نجم
    کھیلی ہے فکر دامنِ برق و سحاب میں

  17. استاد قمر جلالوی

    کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
    غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

    اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
    جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

    جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے
    دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں

    بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے ان کو شبِ فرقت والوں سے
    وہ رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں

    پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینئ حسن کو بڑھنے دو
    سنتے ہیں‌کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

    کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں، ہے بھی تو فقط رسوائی کا
    تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے، ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں

    تاروں کی بہاروں میں ‌بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
    پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارہ کرتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔

    ایک اور تحفہ
    تم نےکیا پیدائشِ حیدر سےبھی جانا نہیں
    اےبتوں اللہ کا گھر ہےیہ بت خانہ نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خونِ مرحب سےُکھلےکیا قصّہ ءضربِ علی
    یہ تو افسانےکی اک سرخی ہےافسانہ نہیں
    ۔۔۔۔۔
    میکشی میں دیکھنا ساقی مرا ظرفِ شراب
    چودہ میخانےنہ آجائیں تو پیمانہ نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حشر میں ممکن ہےیہ کہہ کر نصیری چھوٹ جائیں
    ہم تو انساں ہیں فرشتوں نےبھی پہچانا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ساقی ء کوثر خدا رکھّےتری دریا دلی
    اتنی مےبھر دی کہ جتنا میرا پیمانہ نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب فرشتوں نےاٹھایا قبر میں بولےعلی
    ہم تری بالیں پہ ہیں موجود گھبرانا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اشکِ مجلس سےہےتر رضواں مرا دامن تو دیکھ
    اور پھر کیا ہےجو یہ ّجنت کا پروانہ نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جس قدر پینی ہو سامّرہ میں پی لو اےقمر
    اب یہاں سےاور آگےکوئی میخانہ نہیں

  18. واہ واہ واہ، حمدانی صاحب کیا خوبصورت تحائف ہیں، اللہ مبارک کرے، اس کا سہرا برادم ظفر جعفری کے سر ہے کہ انہوں نے بہت عمدہ موضوع چھیڑا
    کیا کہنے ہیں۔
    طارق ہاشمی

  19. منظور بھائی معاف کیجئے گا میر اردو ٹائپنگ بھی بس ایسی ہی ہے، آپ نے ٹھیک سوال کیا مطلع میں لفظ
    ’’پیکر‘‘
    اور دوسرا جیسا کہ آپ نے فرمایا ’’ظلمت‘‘
    نشاندہی کا شکریہ
    طارق ہاشمی

  20. قاضی بھائی لیجئے، ٹائپنگ میں غلطی کی سزا اپنے لئے خود تجویز کرتا ہوں اور استادِ محترم سید نعیم حامد علی الحامد کی ایک غزل اور حاضر کرتا ہوں

    یہ دل کہ روزِ ازل سے امینِ درد ہوا
    امینِ درد ہی شائستگی میں فرد ہوا
    تلاشِ لیلیٰ معنی میں سر بہ زانو رہا
    میں رفتہ رفتہ یوں ہی اندروں نورد ہوا
    علوِ شان میں کوئی کمی نہیں آئی
    ہوا تو خاک مگر آسماں نورد ہوا
    چمن میں پھول اسے حیرتوں سے دیکھتے ہیں
    شگفتگی میں وہ چہر حریفِ ورد ہوا
    نعیم کیا کوئی میرا مقام سمجھے گا
    کہ آفتاب مرے راستے کی گرد ہوا

    اس غزل سے متعلق ایک واقعہ بھی عرض کرتا چلوں، یہ مشاعرہ مکہ مکرمہ میں مولانا سید ابوالعباس ندوی صاحب کے دولت خانے پر تھا، میں نے در حقیقت اسی زمین میں ایک غزل کہی تھی، میرے استادِ محترم نے اعلانیہ کہا کہ طارق نے زمین بہت اچھی نکالی ہے اور میں نے بھی اس میں غزل کہی ہے، پھر انہوں نے وہاں اپنی یہ غزل پڑھی، دنیائے اردو ادب کا ایک بڑا نام (یہاں میں لکھنا نہیں چاہتا( وہ بھی وہاں موجود تھے اور جو بھی وجوہات رہی ہوں محفل میں بہت بجھے بجھے ، طنزآ میرے استادِ محترم سے وہ صاحب بولے کہ ’’ جناب آپ بہت ہی فرمابردار استاد ہی کہ شاگر کی زمین میں غزل کہی ہے ورنہ شاگر استاد کی زمین میں غزل کہتا ہے، اس پر نعیم صاحب نے جو جواب دیا وہ تحریر کرنے میں خود ستائی کا پہلو نکلتا ہے، بہر حال اس غزل سے متعلق واقعہ درج کرنا مقصود تھا۔
    طارق ہاشمی

  21. نجم آفندی صاحب کا جو مصرع میں نے طرح کیلئے دیا ہے وہ اُنکے ایک نوحہ کے مطلع کا مصرع ء ثانی ہے۔ پہلے مصرع کے قافیہ اور ردیف ماتمِ شبّیر سے ہیں ۔ میں نہیں چاہتا کہ اُردو غزل طارق ھاشمی اور ہمدانی صاحب کے ہوتے ہوئے اتنے فصیح اور مصرع سے مستفیض نہ ہو ۔ نوحوں مرثیوں اور اور سلاموں میں بلا مبالغہ لاکھوں ایسے مصرع ملجائیں گے جن پر لاکھوں غزلیں کہی جاسکتی ہیں صف بسم اللہ کی دیر ہے ۔
    استفادہ کرہا ہوں موت کی تاخیر سے
    میرا مطلب فصیح و بلیغ تھا

    قمر جلالوی چاروں کتابیں میرے ہیں ۔ میری دلچسپی انکے اشعار سے زیادہ ان پر تبصروں اور تنقید میں ہے تاکہ اردو سے محروم نہ رہ جائیں جو وہ ابھی تک ہیں ۔ اگر آپکی رہی تو میں انکا کلام پیش کرتا رہوں گا۔ انگلیاں جلدی تھک جاتی ہیں ۔

  22. منظور صاحب۔ میں نے اس مصرع پر کوئ غزل نہیں کہی۔ اگر کبھی کہی تو اس بلاگ ڈالدونگا۔ میں بہت کم کہتا لیکن مطالع کا کافی شوق ہے ۔

  23. بھای طارق ہاشمی صاحب نے اپنے استاد نعیم حامد علی الحامد صاحب کی غزل لکھکر یہ ثابت کردیا کہ وہ اساتذہ کی صف کے شاعر ہیں۔ انکے اس شعر سے انکی انا کی عظمت اور انکی خود اعتمادی کا بخوبی اندازہ ہوجات ہے کہ:
    نعیم کیا کوی میرا مقام سمجھے گا
    کہ آفتاب مرے راستے کی گرد ہوا
    طارق بھای نےجو باتیں اپنے استاد محترم کے بارے میں‌لکھی ہیں‌ان باتوں نے انکی زندگی اور انکی شاعری کے مختلف پہلووں پر تبصرے سننے کی تشنگی اور بڑھادی ہے۔ اتنا تو معلوم ہوا کہ وہ شہرت پسند نہیں ہیں اور اسکے علاوہ اپنے شا گرد رشید کی غزل کی زمین میں غزل بھی کہ لیتے ہیں‌مگر وہ کہا ں رہتے ہیں اور انکی ابتدای عمر کہا ں گذر ی اور کیا انہوں نے بھی کسی استاد سے شاعری سیکھی اور اگر ان کی کو ی تصانیف ہیں تو انکا کیا نام ہے۔ اگر طارق بھای ان تمام باتوں کا تذکرہ کریں تو سب کے علم میں اضافہ ہوگا۔

    قبل اسکےکہ یہ بلاگ اس کے اصل موضوع سے ہٹ کر تمام ثانوی موضوعات کا شکار ہوجاے ( اور کوی کہے کہ بس اس موضوع سے طبیعت اکتاگئی ہے ) میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے موضوع پر سیر حاصل تبصرے ہوجایں ۔ اسکے بعد جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہو ں کہ دوسرے موضوعات پر بھی نئے نئے بلاگ کھلتے رہینگے ۔ شکر ہے کہ یہ خلای دنیا تنگ نہیں ہے اس میں وسعت کی کافی گنجایش ہے۔

    قمر جلالوی کا کلام اور پھر نجم آفندی مرحوم کا کلام ہم سب کی توجہ چاہتا ہے۔ جناب صفدر ھمدانی صاحب نے ان دونوں شعرا کے کلام کی مثالیں تو اتنی موثر انداز میں دی ہیں کہ اب ان پر الگ الگ بلاگ بھی لکھے جانے چاہیں۔

    طفر جعفری کے پاس تو قمر جلالوی کی تما م تصانیف موجود ہیں، ان سے یہ التجا ہے کہ وہ ایک مقالہ تیار کریں جس میں قمر جلالوی کے منتخبہ اشعار پر اور قمر جلالوی کی زندگی پر اسی طرح تبصرے ہوں جس طرح اس بلاگ کے موضوع پر ہورہے ہیں۔

    ظفر جعفری صاحب کی دوسری خو اہشات بھی انشااللہ پوری ہوجاینگی اور نجم آفندی کے اس مصرع : استفادہ کررہا ہوں موت کی تاخیر سے ۔ پر بھی تما م سخنور کچھ نہ کچھ لکھ سکیننگے۔ اس کے لیے ایک نیے بلاگ کی ضرورت ہے مگر میں پھر ظفر جعفری صاحب سے عرض کرونگا کہ وہ نجم آفندی مرحوم کی اس غزل کو یہاں تحریر کر ہی دیں تاکہ سب پڑھنے والے یہ محسوس کرسکیں کہ استاد شعرا اپنی غزل ( یا نوحہ ) کیسے لکھتے ہیں ۔
    علم کا طالب :
    کمپوزنگ کی غلطیوںکی معافی کے ساتھ
    منظور قاضی از جرمنی

  24. منظور صاحب

    میں اوپر وضاحت کرچکا ہوں کہ یہ مصرع نجم آفندی کے نوحہ کا ہے۔ اب میری آپ سے مودبانا درخواست ہے کہ آپ معین صاحب کو واپس بلائیں ۔ یہ آپکی ذمہ داری ہے ۔ ایک بات اور آپ سمجھ لیں کہ میں مسعود یا آپ اس مقام پر نہیں ہیں کہ کسی کو ہم سے حسد ہو ۔ کسی نقاد نے یہ فتو ہ نہیں دیا کہ یگانہ کو غالب سے حسد تھا یا اکبر الہ آبادی سر سیّد سے۔صفدر ہمدانی صاحب اور نسیم نگہت صاحبہ کی درخواست کے باوجود وہ کچھ سرد پڑگئے ہیں۔

    ہر چیز میں کمی ہے کسی شئے کی انِ دنوں
    کیا ہے معین کوئ کسی اعتبار سے

    ظفر جعفری

  25. غلطی سے میں یہ سب کچھ ختم شدہ بلاگ پر لکھ آیا تھا، دوبارہ یہاں حاضر کر رہاہوں
    منظور قاضی صاحب، سید نعیم حامد علی الحامد پچھلے 55 سال سے سعودی عرب میں مقیم ہیں، انکے والدین ہجرت کے فورآ بعد ہی سعودی عرب چلے گئے تھے نعیم صاحب کی عمر اس وقت آٹھ برس کی رہی ہوگی، مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، سعودی عرب کی تاریخ میں پہلا اردو شعری مجموعہ بنام ’’پیکرِ نغمہ‘‘ نعیم صاحب کا شائع ہوا جسے نعیم صاحب نے سعودی شہزارے اور مدینہ منورہ کے گورنر امیر عبدالمجید بن عبدالعزیز کے نام کیا، اکے بعد نعیم صاحب کا مجموعہ ’’عکاظِ‘‘ غزل، بیدل پر سات سو صفحات کا تحقیقی مقالہ ’’بہار ایجادی بیدل‘‘، ’’نگار خانہء نعیم‘‘، مکاتیبِ نعیم‘‘ ’’صریرِ خامہ‘‘ وغیرہ وغیرہ، نعیم صاحب کے استاد یعنی میرے دادا استاد کا اسمِ گرام ’’احمد جمال صادق ‘‘ ہے وہ بھی سعودی عرب میں پچھلے 65 سال سے مقیم ہیں، اور وہ ہمیشہ نام و نمود اور شہرت سے بھاگتے رہے اسلئے نعیم صاحب کی طرح انہیں بھی کوئی نہیں جانتا، نہیں جانتا تو اچھا ہی ہے ورنہ آج کے دور میں ان کی شاعری کتنے لوگ سمجھیں گے، دو اشعار حاضر کیئے دیتا ہوں
    مرتعش کیا نہ ہوئی ہوگی فضآئے طوبیٰ
    راگ دیپک کا کبھی ہم نے جو گایا ہوگا
    پھر جمال آج ملا حمد بہ لب مشک نفس
    پی کے میخانہء الہام سے آیا ہوگا
    باقی پھر
    طارق ہاشمی

  26. جناب ظفر جعفری صاحب ۔ بات ہورہی تھی اس بلاگ کےموضوع کی ۔ اس موضوع کو بدل کر ہم کو کسی اور موضوع پر لکھنا اس بلاگ کے موضوع کے ساتھ اور خاص طور پر انجم حامد علی الحامد ( جو طارق ہاشمی صاحب کے استاد ہیں ) کے ساتھ نا انصافی ہو گی ۔

    آپ نو جو اس موضوع سے ہٹ کر باتیں کی ہیں ان کا اختتام تو سابقہ بلاگ میں معافی تلافی کے ساتھ ختم ہوگیا تھا۔
    آپ کو یہ علم ہے کہ جناب صفدرھمدانی صاحب اور محترمہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ اس ویب سایت کے مدیر اعلی اور نایب مدیر ہ ہیں ۔ میں تو خود انکی مرضی اور اجازت سے ان بلاگوں میں حصہ لے رہا ہوں ۔
    اب رہا اد ب میں کس کا کیا مقام ہے اس معاملہ کو تو صرف اور صرف اردو کی تاریخ کے مورخین پر چھوڑ دیجیے ۔یہ آپ کے اور میرے بس کی بات نہیں۔

    اب میں قمر جلالوی پر ایک بلاگ لکھنے کی کوشش کررونگا ۔ اس میں آپ اس عظیم شاعر کے متعلق اپنی تحقیقات سے سب پڑھنےوالوں کی معلومات میں اضافہ کیجیے۔

    میں پھر طارق ہاشمی صاحب سے گذارش کرونگا کہ وہ اپنے استاد کے متعلق اور انکی زندگی کے حالات اور ان کی تصنیفات اور موجودہ ادبی سرگرمیوں کے مبارے میں لکھیں تاکہ یہ بلاگ مکمل ہوکر اختتام کو پہنچے۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  27. نعیم الحامد صاحب کا ہر شعر آنکھوں سے لگانے والا ہے ۔ یہ ایسے اشعار ہیں کہ جنہیں سو دفعہ سنے کے بعد ہزار دفعہ سنے کو دل چاہتا ہے ۔

  28. طارق ہاشمی صاحب نے اپنے استاد کے بارے میں تفصیلات بتا کر اس بلاگ کا مقصد پورا کردیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے دادا استاد جناب احمد جمال صادق صاحب کا بھی اس طرح ذکر کیا کہ انکو بھی نعیم صاحب کی طرح کوی نہیں جانتا ۔ اسکے بعد انہوں نے جو یہ بات کہی ہے کہ نہیں جانتا تو اچھا ہی ہے ” ورنہ آج کے دور میں انکی شاعری کتنے لوگ سمجھیں گے” ۔ اس طرح کی بات لکھنا اس بلاگ کے پڑھنے والوں کی” سمجھ ” کا امتحان لینا ہے۔ (جو عجیب سی بات ہے۔ ( طارق ہاشمی صاحب سے معافی کے ساتھ یہ بات لکھرہا ہوں )
    بہر حال ۔
    طارق ہاشمی صاحب نے جس عقیدت کے ساتھ اپنے استاد کا تذکرہ کیا اور انکی تصانیف کی بات کی اس کو پڑھکر شبنم رومانی کے رسالہ اقدار کی یاد آگئی جو انہوں نے اپنے استاد دل شاہجہاں پوری کے لیے”شمارہ ء دل ” کے نام سے چند سال قبل شایع کیا تھا۔ یہ رسالہ تین سو صفحات پر مشتمل تھا اور اس میں دل شاہجہاں پوری کی زندگی اور اس کے کلام پر بڑی تفصیل سے مضامین لکھے گیے تھے اور انکے اس شعر پر کافی اچھے تبصرے شامل تھے:
    نہ وہ آرام جاں آیا نہ موت آی شب وعدہ
    اسی دھن میں ہم اٹھ اٹھ کر ہزاروں بار بیٹھے ہیں
    ۔۔۔۔۔
    میں طارق ہاشمی صاحب کو مبارکباد دیتاہوں کہ انہوں نے اپنی شاگردی کا حق ادا کردیا۔
    ۔
    اگر کوی اور دانشور اس ” موضوع” پر تبصرہ کرتے رہیں تو چشم ما روشن دل ما شاد۔۔ خیال رہے کہ موضوع سے ہٹ کر اس بلاگ کی وہی شکل ہوجاے گی جو میرے اس بلاگ کی جس کو میں نے میرے بھای مسعود قاضی کے اس شعر کےموضوع پر لکھا تھا:
    دو آنگنوں کے درختوں کی طرح ہیں ہم لوگ
    ہمارے سایے تو ملتےہیں ہم نہیں ملتے
    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی
    نوٹ : اب میں ایک بلاگ میرے پسندیدہ شاعر قمر جلالوی پر لکھنے والا ہوں ۔ امید کہ تما م سخنور اور دانشور قمر جلالوی کی خاطر اس بلاگ میں شریک ہونگے۔

  29. منظور قاضی صاحب، عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مورخ تاریخ لکھتا ہے مقام کا تعین نہیں کرتا، یہ کام نقاد کا ہوتا، دوسری بات یہ کہ ہر شخص خود اپنا نقاد ہوتا ہے اور ہر شخص اپنے بارے میں جانتا ہے کہ وہ کس مقام پر ہے۔
    طارق ہاشمی

  30. طارق ہاشمی صاحب میں آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں ۔ میں بھی کئی با ر کہ چکا ہوں کہ میں خود اپنا نقاد بھی ہوں اور استاد بھی ۔
    تاریخ ہی نے عالب اور ذوق اور آتش اور سودا اور انیس و دبیر جیسے عظیم شعرا کا ادب میں مقام انکے کلام کی سلاست اوو ندرت اور جدت کے مطا بق کیا ۔
    میں نہیں چاہتا کہ اس بلاگ کے مقدس موضوع سے ہٹ کر ایک ایسی بحث میں الجھوں جس سے پڑھنے والے کوی فایدہ نہ اٹھا سکیں ۔
    آپ کو اپنے استاد کا اتنے اچھے انداز میں تعارف کروانے پر مبارکباد ۔

    خیر اندیش :
    منظور قاضی از جرمنی

  31. قاضی صاحب یہ آپ نے بجا فرمایا کہ موضوع کو گَڈ مڈ نہ کیا جائے تو بہتر ہے، جعفری صاحب نے نعیم حامد کے سلسلے میں لکھے جانے والے بلاگ میں قمر جلالوی اور نہ جانے کس کس کا موضوع چھیڑ دیا، ایک نئے قاری کو سمجھ میں نہیں آئے گا کہ بات کس بابت ہورہی تھی اور یہ اس قاری کے ساتھ زیادتی ہوگی، یہاں تو بالکل کھچڑی پک گئی ہے جو کسی طور مناسب نہیں۔
    طارق ہاشمی

  32. ہاشمی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے اتنی اچھی بات کہدی کہ” یہا ں تو کھچڑی پک گئی ہے جو کسی طور مناسب نہیں ” ۔ میں نے ظفر جعفری صاحب سے بار بار عرض کیا کہ وہ اصل موضوع پر ہی توجہ دیں مگر انہوں نے قمر جلالوی اور پھر نجم آفندی کے مصرعہ پر طرحی مشاعرہ کروانے کی اور پھر نجانے کن کن غیر متعلقہ باتیں کرکے اس مقدس ترین موضوعپر اس بلاگ کو ” گڈ مڈ ” کردیا۔

    اب جبکہ میں انکی تجویز کے مطابق قمر جلالوی پر بلاگ شروع کردیا ہوں تو ظفر جعفری نے اپنے محترم دوست کے ہمراہ اپنی توجہات مسعود قاضی کی غزل کے بلاگ پر لگا دیا۔ اور قمر جلالوی کے بلاگ میں اب تک اپنی تحقیقات کا نچوڑ پیش ہی نہیں کیا ۔ (خیر کیا کیا جاے ۔( مجھے ان سے اس لیے بھی عقیدت ہے کہ وہ میرے بھای مسعود قاضی کے دوست ہیں اور اسکی کتاب کی رونمای پر اتنی اچھی تقریب منعقد کرواکر اتنی اچھی نظم لکھ چکے ہیں )

    اگر آپ کی خواہش ہے کہ موجودہ بلاگ آپ کے استاد کے بارے میں چلتا رہے تو پھر آپ ہی کو اسے آگے بڑھانا ہوگا۔ اس لیے کہ آپ کے علاوہ کوی فرد نعیم حامد علی الحامد صاحب قبلہ کو اورانکی شاعری کےمحرکات کو سمجھ نہیں سکتا۔ آپ اور وہ اس مقدس ترین مقام (مکہ مکرمہ ) میں ساتھ ساتھ رہ چکے ہیں جہاں آب زم زم سے اپنی روحوں کو دھویا جاتا ہے ۔ اور اس پاکیزگی نفس کے باعث ہر مسلمان جہا ں بھی جاتا ہے دنیا کو فیض ہی پہنچاتاہے نقصان نہیں۔
    اگر آپ اس بلاگ کو آگے بڑھانا نہیں چاہتے تو میں انتظامیہ سے درخواست کرونگا کہ وہ اس بلاگ کو ختم کردیں۔
    خیر اندیش ۔
    منظور قاضی از جرمنی

  33. ظفر جعفری صاحب، ازراہِ کرم ایک ہی موضوع پر عبارت لکھکر ہر بلاگ پر چسپاں نہ کریں ورنہ بلاگ میں کھچڑی پک جائے گی اور نئے قاری کو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آئے گا۔
    شکرہہ
    طارق ہاشمی

  34. میں آپ سب احباب کی خدمت میں نعیم حامد علی الحامد صاحب کی ایک اور غزل حاضر کرنے والا ہوں
    طارق ہاشمی

  35. لیجئے برادرانِ کرام کلامِ نعیم حامد الحامد

    یہ نہیں کہتا کہ لکھتا ہوں انوکھے الفاظ
    دعوتِ فکر مگر دیتے ہیں میرے الفاظ
    باوجودے کہ نظر آتے ہیں کالے الفاظ
    ظلمتِ جہل میں کرتے ہیں اجالے الفاظ
    قطعہ
    کشورِ فکر و معانی کے خزینے الفاظ
    خاتمِ نظق میں ہیرے کے نگینے الفاظ
    قصرِ اِبلاغ کی قائم ہے انہی پر بنیاد
    بامِ تفہیم کے بن جاتے ہین زینے الفاظ
    ۔۔۔۔۔
    مختلف روپ ہیں ابجد کے جگر پاروں کے
    کبھی شبنم کے مماثل کبھی شعلے الفاظ
    کہنے والا نہ رہے لفظ مگر رہتے ہیں
    فنا ہوجاتے ہیں انساں نہیں مرتے الفاظ
    یہ تو ممکن ہے کہ افکار میں جدت نہ رہے
    معجزہ ہے کہ نہیں ہوتے پرانے الفاظ
    بن کے مرہم دلِ مجروح کا کرتے ہیں علاج
    اور کبھی زخم لگاتے ہیں کٹیلے الفاظ
    میں نے سینچا ہے انہیں خونِ جگر سے اپنے
    یہ مرے نورِ نظر ناز کے پالے الفاظ
    کتنے چنچل ہیں یہ حرفوں کے بنے ہیں گویا
    میرے قابو میں نہیں آتے تمھارے الفاظ
    اس تمنا میں انہیں فخرِ نگارش بخشوں
    باندھ کر ہاتھ کھڑے رہتے ہیں سارے الفاظ
    بات اتنی ہے برتنے کا ہنر آتا ہو
    ورنہ اے خامہء فن تیرے نہ میرے الفاظ
    ناز ہے مجھ کو کسی ظالم و خود بیں کے لئے
    للہ الحمد ستائش کے نہ لکھے الفاظ
    قطعہ
    آیتِ ’’والشعراء‘‘ کے ہیں مخاطب وہ لوگ
    جن کے اشعار کی زینت نہیں سچے الفاظ
    مجھ سے بے حرمتیِ لفظ نہ دیکھی جائے
    میرے معبود زمانے سے اٹھالے الفاظ
    حادثہ کیا کوئی گزرا ہے نیا تجھ پہ نعیم
    زہر میں آج بجھے لگتے ہیں تیرے الفاظ
    (سید نعیم حامد علی الحامد

    طارق ہاشمی

  36. خدا کا شکر ہے کہ میرا یہ بلاگ جس محترم ہستی کے لیے میں‌نے لکھا تھا وہ پھر سے اپنے مرکز اور محور پر آگیا ہے ورنہ یہ بلاگ میر ے قابو سے باہر ہوتا جارہا تھا۔ ( اب اس افرا تفری کا ذمہ دار کون تھا اس پر بحث سے کو ی فایدہ نہیں ہوگا ۔)
    ماشا اللہ ، سبحان اللہ اور مرحبا ، حضرت تعیم حامد علی الحامد کی نظم کا ہر ہر لفظ ایک ستارے کیطرح ہے جو اردو کی دنیا کو جگمگا رہا ہے۔ انہوں نے الفاظ کے نگینوں سے اپنے کلا م کو آفتاب کی طرح روشن کردیا ۔
    میرے پاس اتنے ” الفاظ ” نہیں ہیں کہ انکی اس نظم کی تعریف کا حق ادا کرسکوں ۔
    جناب طارق ہاشمی صاحب انتہای خوش قسمت ہیں کہ وہ اس عظیم استاد کے شاگردہیں جنھیں پارس کو سونا بنانے کا فن آتاہے۔
    طارق ہاشمی صاحب نے اپنے استاد گرامی کی یہ نظم لکھکر اردو کے شیدایوں کو ضرور ایک قیمتی تحفہ دیا ہے۔
    نعیم حامد علی الحامد صاحب کا یہ شعر بھی اور اشعار کی طرح خوب ہے کہ:
    یہ تو ممکن ہے کہ افکار میں جدت نہ رہے
    معجزہ ہے کہ نہیں ہوتے پرانے الفاظ
    اور یہ بھی شعر کہ :
    بات اتنی ہے برتنے کا ہنر آتا ہو
    ورنہ اے خامہء فن تیرے نہ میرے الفاظ
    انکی اس نظم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انکو الفاظ برتنے کافن آتا ہے ۔
    مگر ان کی نظم کا یہ آخری شعر انکی انتہای مشفقانہ طبیعت کے بالکل خلاف معلوم ہوتا ہے :
    حادثہ کیا کوئی گذرا ہے نیا تجھ پہ نعیم
    زہر میں آج بجھے لگتے ہیں تیرے الفاظ؟

    انکی باقی کی نظم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چاہے کوی بھی حادثہ ہوجاے انکی فراخدلی اور وسیع القلبی کے با عث انکے الفاظ زہر میں کبھی نہیں بجھ سکتے

    مجھے انکی محبت بھرٰ ی شخصیت سے غایبانہ عقیدت ہو گئی ہے اسی لیے یہ بات لکھ گیا ہوں۔۔
    اگر وہ یہ بلاگ پڑھرہے ہیں تو دلی آداب اور سلام اورمیرے اور میرے بھای مسعود قاضی کے لیے نیک دعا کے درخواست۔
    ایک عقیدت مند :
    منظور قاضی از جرمنی

  37. اوپرکے تبصرے میں میری تحریر یو ں پڑھی جاے کہ طارق ہاشمی صاحب کے استاد پارس ہیں جسے چھولیں وہ سونا بن جاے۔

    فقط :
    منظور قاضی از جرمنی

  38. منظور بھائی، میں بے حد ممنون ہوں کہ میرے استادِ محترم کے بارے میں آپ نے جن خیالات کا اظہار فرمایا، بلاشبہ نعیم حامد علی صاحب کا یہ حق ہے اور آپ حق گو ہیں، میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنی کتاب میں بھی کرچکا ہوں کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں وہ سب ربِ کریم کا احسان اور میرے استادِ محترم کی محنت کا ثمر ہے، ان کی درازیء عمر اور صحت و سلامتی کے لئے دعا کرتاہوں اور یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں نعیم حامد علی الحامد صاحب کا شاگرد ہوں، اس سلسلے میں ایک واقعہ یاد آرہا ہے جس سے میرے استادِ محترم کے مقام کا پتہ چلتا ہے، ہوا یوں کہ میں کراچی کے ایک بین الاقوامی مشاعرے میں شرکت کے لئے گیا (یہ کوئی آج سے پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے، یقینی بات ہے کہ اس وقت میرا شمار لڑکوں میں یا یوں کہئے کہ نوجوانوں میں ہوتا تھا، مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے بڑ‌ے بڑے شعرا اور ادبا پنڈال میں بیٹھے تھے، جن میں تابش دہلوی مرحوم، ڈاکٹر پروفیسر ابوالخیر کشفی مرحوم، اللہ سلامت رکھے ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، سرشارصدیقی صاحب ،سحر انصاری صاحب وغیرہ وغیرہ، میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں ان قدآور شخصیات سےاپنے تعارف کے لئے الفاظ کا انتخاب کیسے کروں، میرے منھ سے بے ساختہ نکل گیا ’’میرا نام طارق ہاشمی ہے اور میں سید نعیم حامد علی الحامد کا شاگرد ہوں، آپ یقین کیجئے کہ ان میں سے اکثر شخصیات نے بہ یک آواز کہا کہ ، آپکا اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ آپ سید نعیم حامد علی صاحب کے شاگرد ہیں اب مزید تعارف کی کوئی ضرورت نہیں‌، آئیے صاحبزادے تشریف رکھئے، مجھے یہ سن کر ایسی خوشی ہوئی کہ گویا کسی نے میرے والدِ مرحوم کی تعریف کی ہو، تو خیر یہاں تحدیثِ نعمت کے طور پر یہ واقعہ بتاکر آپکی ہاں میں ہاں ملانا اور اپنے استادِ محترم کے حوالے سے بات کرنا مقصود تھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے ۔ آمین۔
    طارق ہاشمی

  39. طارق بھای : میری حق گوی و بے باکی ہی میرے بزرگوں کی ایک نشانی ہے جسے میں مرتے دم تک ضایع نہیں ہونے دونگا۔
    آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو اتنا بلند مرتبہ استاد ملا۔
    یقینی طور پر آپکے استاد صاحب کا مقام ادبی دنیا کے خاص خاص حلقوں میں مقبول و معروف ہوگا مگر انکو دنیاے اردو ادب میں مشہور کرنا انکے شاگردوں اور انکے شیدائیو ں کا کام ہے ۔ ورنہ وہ استاد قمر جلالوی مرحوم کی طرح ہوجاینگے جن کی شاعری کو انکے شاگردوں اور شیدایوں نے انکی زندگی میں چھاپا تک نہیں ۔
    یہ مانا کہ آپ کے استاد شہرت پسند نہیں ہیں مگر خوشبو کو عطر کی شیشی میں ہی بند نہیں رکھنا چاہیے اسکی خوشبو کو دنیا میں پھیلانا انکے شاگردوں اور شیدایوں کا کام ہے ۔ انکی زندگی ہی میں انکی قدر دانی ہونی چاہیے اور انکا جشن منا نا چاہیے ۔ اور ان سے فیض حاصل کرنا چاہیے۔ انکے جانے کے بعد تو پھر پچھتا وے کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔
    مجھے یہ جان کر خوشی ہوی کہ آپ کے استاد نے بیدل پر سات سو صفحات کا مقالہ لکھا ، جو آپ کے استاد کے فارسی پر عبور کا عکاس ہے۔ سعودی عرب کے غیر فارسی ماحول میں انہوں نے اپنی فارسی کو محفو ظ رکھکر اتنا گرانقدر کارنامہ انجام دیا یہ انتہای قابل قدر کام ہے۔ حال ہی میں‌ کسی بلاگ میں عبدالقادر بیدل ( جسے غالب نے سراہا اور اقبال نے اپنا مرشد کامل مانا ) پر کچھ تبصرے ہوے ہیں۔ اور مجھے بید ل کے کلام کو سمجھنے کی خواہش ہے ۔ زندگی باقی رہی تو آپ کے توسط سے آپ کے استاد کا مقالہ حاصل کرونگا (چاہے جو بھی قیمت ہو ) تاکہ میں اس مرشد کامل بیدل کے کلام کو جس کو فراز نے بھی بے حد پسند کیا ، سمجھ سکوں ۔ اگر آپ اس مقالہ کو حاصل کرنے کا طریقہ اس بلاگ میں لکھدیں تو شاید دنیا بھر میں پھیلے ہوے عاشقان بیدل بھی اس مقالے کو خرید کر پڑھ سکیں۔
    اسی طرح آپ اپنے استاد کے فیض کو دنیا ے اردو ادب میں پھیلا سکتے ہیں ۔

    جزاک اللہ :
    خیر اندیش :
    کمپوزنگ کی کوتاہیوں کی معافی کے ساتھ
    منظور قاضی از جرمنی

  40. منظور قاضی صاحب، سلام و رحمت۔
    استادِ محترم سید نعیم حامد علی الحامد کی بیدل پر تحقیق محترم مشتاق احمد یوسفی صاحب کی خواہش کے مطابق طباعت کے مراحل طے کر رہی ہے، میرا خیال ہے کہ چند دنوں کی بات اور ہے، نعیم حامد صاحب نے اس تحقیق پر بے تحاشہ پیسہ صرف کیا ہے، یوں سمجھئے کہ دنیا میں بالخصوص ایران، افغانستان، ترکی، انڈیا، پاکستان، تاجکستان اور اس علاقے کی دوسری ریاستیں یعنی جہاں کہیں سے بھی پتہ چلا کہ وہاں بیدل کا دیوان یا ان پر کسی قسم کا کوئی کام ہوا ہے اسے ہر قیمت پر حاصل کیا اور بیس سال تک محنت کرکے ان میں سے حقائق نکالے، بیدل کے بے تحاشہ اشعار کا اردو میں منظوم اور نثری ترجمہ کیا دنیا میں معروف فارسی شعرا سے اس کام پر ان کی رائے طلب کی اور اب یہ طباعت کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ آپ نے اچھا یاد دلایا کہ بیدل فراز کا بھی پسندیدہ شاعر ہے، اس سلسے میں بھی ایک واقعہ سن لیجئے، یہ غالبآ 1992 کی بات ہےاحمد فراز سعودی عرب ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے، مشاعرے کے بعد وہاں سے جب ہوٹل واپس پہنچے تو احمد فراز کہنے لگے کہ بھئی آپ لو گ یہاں تک آئے ہیں تو بیٹھیں اور چائے پی کر جائیں، اس چائے پینے کے دوران نعیم صاحب نے احمد فراز سے کہا کہ فراز صاحب میں بیدل کے اشعار کا اردو میں منظوم ترجمہ کررہا ہوں اور بیدل پر تحقیق بھی، فراز صاحب نے فورآ جواب دیا کہ نعیم صاحب بیدل پر کوشش نہ کیجئے گا، یہ بیری کا پیڑ ہے ہاتھ صرف زخمی ہونگے اور ہاتھ پھر بھی کچھ نہیں آئے گا
    (یہ بتانا ضروری ہے کہ احمد فراز کی مادری زبان فارسی تھی، انکے والد فارسی کے بہت بڑے شاعر تھے، اور ویسے بھی فراز کا مقام کیا کہنے، ( نعیم صاحب نے جواب دیا کہ فراز صاحب اب تو جو بھی ہو میں نے ابتدا کردی ہے اور اللہ تعالیٰ مدد کرنے والا ہے فراز ابھی چند برس پہلے حکومت پاکستان کی طرف سے ایران گئے تھے بیدل کانفرنس میں شرکت کرنے، اس وقت تک نعیم صاحب جس حد تک کام کرچکے تھے فراز صاحب اسکی فوٹو کاپی بنواکر
    لے گئے تھے ایران، اور واپسی پر انہوں نے بتایا کہ اہلِ ایران نے اس کام کو بہت پسند کیا ہے۔
    نعیم صاحب کے حوالے سے جو آپ نے ان کی فارسی زبان پر دسترس کا ذکر کیا ہے تو یہ بتاتا چلوں کہ نعیم صاحب لڑکپن میں ہی یعنی تقریبا آج سے 55 برس پہلے اپنے والدین کے ساتھ سعودی عرب چلے گئے تھے اور پھر تمام عمر وہاں گزاری اور آج بھی وہیں مقیم ہیں، تو فارسی تو انہوں نے اپنے شوق سے وہاں خود ہی کتابوں سے سیکھی یا پھر اپنے استادِ محترم سے۔ فارسی تو درکنار نعیم صاحب نے تو اردو بھی اپنے شوق سے سیکھی ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ نعیم صاحب کبھی کسی مدرسے نہیں گئے، مرحوم ضمیر جعفری نے نعیم صاحب کے پہلے مجموعہ کلام ’’پیکرِ نغمہ‘‘ پر ایک مضمون بعنوان ’’لالہ صحرائی‘‘ لکھا ہے جس میں مرحوم ضمیر جعفری صاحب لکھتے ہیں کہ
    ’’نعیم حامد علی کبھی مدرسے نہیں گئے لیکن اپنے خون میں سینکڑوں مدرسے حل کئے بیٹھے ہیں‘‘
    میرے علم کے مطابق ان تمام عرب ممالک میں کسی ایک پاکستانی کی ذاتی لائبریری اس بڑی اور ایسی مرتب نہیں ہوگی جیسی نعیم صاحب کی لائیبریری ہے، اس میں کم و بیش 14000 سے زیادہ کتابیں ہیں جن میں بے تحاشا نادر مخطوطے اور قلمی نسخے بھی ہیں۔
    باقی آیندہ
    طارق ہاشمی

  41. مماشا اللہ : اس سلسلہ کو جاری رکھیے طارق ہاشمی صاحب؛ میرے خیال میں بہت سارے پڑھنے والے آپ کے استاد محترم کے ادبی کارناموں کے متعلق سب ہی کچھ جاننے کے لیے بے تاب ہیں۔
    جب بیدل پر انکی کتاب چھپ جاے تو اسکے ملنے کا پتہ اور اسکی قیمت بھی لکھدیجیے۔ میں اس کتاب کا بے تابی کے ساتھ انتظار کررہا ہوں ۔
    یقینی طور پر مدینہ کے مسافر اپنے وہاں پر قیام کےووران انکی لایبریری سے استفادہ کرتے ہونگے۔
    فقط:
    منظور قاضی از جرمنی

  42. قاضی صاحب، انشااللہ عزیز، کتاب مجھ تک پہنچنے کی صورت میں آپکو ایک نسخہ ضرور ارسال کرونگا، اگر ایک ہی نسخہ پہنچا تو بے شک فوٹو کاپی ہی ارسال کردونگا۔
    جی ہاں آپ نے بجا فرمایا کہ کم و بیش تمام معروف ادبی شخصیات جن کی ایک طویل فہرست ہے، جب بھی مدینہ منورہ پہنچتی ہیں تو نعیم حامد صاحب سے ملاقات بھی کرتی ہیں اور ان کی لائبریری سے استفادہ بھی، اس سلسلے میں نعیم صاحب نے ایک بے انتہا دیدہ زیب دفتر تیار کیا ہے جس میں یہ تمام اکابرین لائبریری سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتے ہیں اور اس خیالات کے صفحے کے دوسری جانب نعیم صاحب اس شخصیت کا مکمل تعارف بھی تحریر کرتے ہیں۔ میں نے اپنے استادِ محترم کی شان میں ایک قصیدہ میمیہ کہا تھا وہ حاضر کرتا ہوں، یہ قصیدہ میرے مجموعہ کلام میں بھی شامل ہے

    نذرانہ خلوص بخدمت گرامی قدر استاذی سید نعیم حامد علی الحامد

    یدِ بیضا نفسِ حضرتِ عیسیٰ کی قسم
    زہدِ یوسف کی قسم دستِ زلیخا کی قسم
    رخِ سلمیٰ کی قسم طرہء لیلیٰ کی قسم
    لالہ و یاسمن و نرگس و شہلا کی قسم

    وطنِ پاک کی عظمت پہ گواہی ہے نعیم
    وطنِ پاک پہ انعامِ الٰہی ہے نعیم

    بزمِ امکان کے ہر اک دانی و شاھق کی قسم
    عرصہ زیست میں ہر باقی و زاھق کی قسم
    جوشِ الفت کی قسم جذبہء صادق کی قسم
    بزمِ ایجاد کے ہر سابق و لاحق کی قسم

    سرزمینِ عرب و پاک کا سنگم ہے نعیم
    یعنی اک رابطہِ مخلص و محکم ہے نعیم

    حسنِ اخلاق کا رخشندہ صحیفہ ہے نعیم
    صرف اچھا ہی نہیں اچھو ں میں اچھا ہے نعیم
    غالب و حسرت و اقبال پہ شیدا ہے نعیم
    حاملِ پرچمِ اردوئے معلیٰ ہے نعیم

    محرمِ لفظ و بیاں طاہرِ ثانی ہے نعیم
    اپنے اسلاف کی تابندہ نشانی ہے نعیم

    نغزگوئی میں کوئی اس کا مقابل نہ سہیم
    محرمِ رازِ غزل ہم سرِ عرفی و کلیم
    اثرِ خندہ جبینی سے عیاں لطفِ عمیم
    ایسی ہستی کی بھلا کیوں نہ کریں ہم تعظیم

    تربیت یافتہء مکہ مدینہ ہے نعیم
    ساحلِ جدہ پہ’’ اردو‘‘ کا سفینہ ہے نعیم

    طارق پاشمی

  43. ماشااللہ طارق ہاشمی صاحب : آپ نے اپنی شاگردی کا حق ادا کردیا۔ وہ جتنا آپ پر ناز کریں وہ کم ہے۔ اللہ ایسے سعادت مند شاگرد ہر استاد کو دے اور ہر ایک شاگرد کو ایسا عظیم الشان استاد دے ۔ آمین
    شبنم رومانی نے بھی اپنے استاد حضرت ضمیر حسن خان صاحب دل شاہجہا ں پوری پر اقدار رسالے کا ” دل نمبر ” شایع کیا تھا جو تین سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل تھا ۔ اسی طرح جناب تعیم حامد علی الحامد کے شاگرد ( جن میں طارق ہاشمی صاحب بھی شامل ہیں) ایک رسالہ یا شمارہ ترتیب کرسکتے ہیں ۔ اگر یہ کام انکی زندگی ہی میں‌ہوجاے تو وہ اس میں اپنی ہدایات بھی شامل کرسکتے ہیں۔

    میں طارق ہاشمی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے اپنےاستاد کی کتاب جو بیدل کی شاعری اور اسکی زندگی پر لکھی گئی ہے ، کو مجھے بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ فوٹو کاپی کی تکلیف نہ کریں ۔ بس میں اسکی چاہے کوی قیمت ہو اسے ادا کرکے کسی کتاب گھر سے خرید لونگا۔ اس کتاب کے شایع ہونے پر بس یہ ہی لکھدیں کہ اس کو کس کتاب گھر سے خریدا جاسکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بیدل کی شاعری اور آپ کے استاد کی تحریر کے شیدای بھی اس کتاب کو خرید سکینگے۔
    جزاک اللہ ؛
    منظور قاضی از جرمنی

  44. منظورقاضی صاحب، یہ وضاحت کرتا چلوں کہ میں ’’ نعیم صاحب کے شاگردوں میں سے نہیں ہوں‘‘ بلکہ ان کا اکلوتا شاگرد ہوں، میرے سعودی عرب میں قیام کے دوران کچھ لوگوں نے نعیم صاحب سے درخواست کی کہ وہ انہیں شاگرد بنالیں، تو نعیم صاحب نے جواب دیا کہ ’’ بھائی مجھے معاف کرو، میرا ایک سر پھرا شاگرد کافی ہے، کیونکہ میرے پاس اتنا دماغ نہیں کہ طارق کی طرح کوئی اور شاگرد مل جائے تو میں اسے شاعری کے رموز و نکات بھی سکھائوں اور وہ مجھ سے ایک ایک لفظ پر گھنٹوں جھگڑے بھی، خیر ان کے اس جملے میں بھی انکی محبت جھلکتی نظر آتی ہے، نعیم صاحب اپنی کتابوں کو اتنا عزیز رکھتےہیں کہ شخص کو اپنی لائبریری میں کبھی تنہا نہیں چھوڑتے، لیکن مجھ یہ شرف حاصل تھا کہ جب بھی مدینہ منورہ جانا ہوا تو انکے گھر تو قیام کیا ہی بلکہ ہمیشہ رات بھی انکی لائبریری میں گزاری، یقینا اس سے میرا وقت بھی اچھا گزرتا تھا اور فیض بھی حاصل ہوتا تھا، آج جو کچھ ہوں وہ اللہ رب العزت کا کرم اور استادِ محترم کی عطا ہے اور جو کچھ نہیں ہوں وہ میری اپنی نالائقی ہے۔
    طارق ہاشمی

  45. طارق ہاشمی صاحب ۔ اگر آپ ہی اپنے استاد گرامی کے اکلوتے ( بقول انکے ) “سرپھرےشاگرد ” ہیں تو پھر آپ کے کاندھوں پر انہوں نے ایک بہت ہی بڑا بوجھ ڈالدیا ہے کہ ان کی علم کی روشنی کو دنیا میں پھیلا نے کی ذمہ داری آپ پر ہی ڈالدی ہے۔

    جیسا کہ میں نے دل شاہجہاں پوری کے حوالے سے بات کی تھی ، ان کے کئی شاگرد تھے ۔ ان میں شبنم رومانی بھی شامل تھے ۔ ان سب شاگردوں نے مل کر اعتبار الملک دل شاہجہاں‌پوری کے فن کو اردو کی دنیا میں پھیلا یا۔ یہ دل شاہجہاں پوری کی فیاضی تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو ایک ہی ” سر پھرے ” شاگرد کی حد تک محدود نہیں رکھا ۔ نتیجتہ انکے مرنے کے بعد انکے شاگردوں نے اپنے استاد کے علم و فن کے پیاسوں کی پیاس بجھانے کی کوشش کی۔

    میرے کہنے کا مقصد نیک ہے۔ اب آپ جانیں اور آپ کے استاد محترم جانیں۔

    یہی غنیمت ہے کہ کم از کم آپ نے اپنےاستاد کا تعارف اتنے عمدہ انداز میں عالمی اخبار کے پڑھنے والے ” عوام ” سے کروادیا۔ ویسے تو وہ :”خواص ” میں مشہور و معروف تو ہیں ہی مگر شاید عوام ان سے اب تک واقف نہیںتھے۔
    اگر آپ یا آپ کے محترم استاد اپنا کوی پیغام اس بلاگ میں لکھنا چاہیں تو پڑھنے والے مستفید ہونگے ورنہ یہ بلاگ آہستہ آہستہ اختتام کو پہنچ رہا ہے۔
    خیر اندیش :منظور قاضی از جرمنی

  46. منظوربھائ

    مجھے افسوس ہے اس بات کا میں نے ایک سنجیدہ بلاگ کی کھچڑی بنادی۔ لیکن یہ میرا پہلا تجرپہ تھا کسی بلاگ پر آنے کا۔ امّید ہے آپ میری نالائقی کو معاف کردیں گے۔

  47. ظفر حعفری بھای۔ میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے منظور بھای کہا۔ آپ کی فراخدلی اور وسیع القلبی میرے لیے ایک نعمت ہے۔
    ہم سب اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنے تجربات اور مشاہدات سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہی رہینگے ۔
    اب آیے طارق ہاشمی صاحب کو اس بلاگ کے موضوع پر آخری ارشادات کے کہنے کا موقعہ دیں تاکہ یہ بلاگ خوشی خوشی سے اختتام کو پہنچے۔

  48. چونکہ اس بلاگ کا مقصد پورا ہوگیا ، میں میرے اس بلاگ کو ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
    میں 14 جنوری کو تین ہفتوں کے لیے اسپین جار ہا ہوں اس لیے اس تاریخ کے بعد میں اس بلاگ کی نطامت نہیں کرسکونگاا ور اگر کوی تبصر ے ہوے تو میں ان پر تبصرہ نہیں کرسکونگا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *