108 thoughts on “چاند نکلا ہے محرم کا”

  1. ذرا غور کریں !!
    1- اسلامی سال کا آخری مہینہ( ذلحجہ) بھی قربانی ۔۔ اور پہلا (محرم) بھی قربانی-
    2- وہ بھی دس ( ذلحجہ) کو ۔۔ یہ بھی دس (محرم) کو-
    3- ان پے بھی درود (درود ابراھیمی) ۔۔ ان پے بھی درود (درود محمد و آلِ محمد)-
    4- وہ بھی نبی (ص) کے لال ۔۔ یہ بھی بنی(ص) کے لال-
    5- انکی یاد بھی مناتے ھیں ۔۔ انکی یاد بھی مناتے ہیں۔
    6- وہ ذبیح عظیم ۔۔ یہ شھیدِ عظیم۔
    7- ان کی یاد منانا سنت ھے ۔۔ ان پے رونا سنت ھے۔
    8- انہوں نے خواب نبھایا ۔۔ انہوں نے وعدہ طفلی نبھایا۔
    9- وہ صبر کی ابتداء ۔۔ یہ صبر کی انتہا-
    10- وہ کعبہ کے بنانے والے ۔۔ یہ کعبہ کو بچانے والے۔۔ ۔۔
    اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد ۔۔ ۔۔ سلام یا حسین (ع)

  2. سلام یا حسین علیہ السلام

    سلام ساکنِ کربلا پر
    سلام آلودہ خاک و خون پر
    سلام شہیدوں میں سب سے بڑے شہید پر
    سلام اس پر جس پر آسمان کے فرشتے روئے
    سلام ان گریبانوں پر جو خون سے بھرے ہوئے تھے
    سلام ان ہونٹوں پر جو پیاس سے سوکھے ہوئے تھے
    سلام ان پر جنہیں قتل کے فوراََ بعد لوٹ لیا گیا
    سلام نیزوں پر اُٹھائے جانے والے سروں پر

  3. بہت اچھے ثناء اپنی پڑھائی میں سے اتنا وقت نکال کر اتنی ، معلومات ھم سب تک پہنچا رہی ہو ۔ دعاء گو ھیں ۔کہ اللہ پاک تم کو اس کا آجر عطا فرمایے ۔آمین ۔ اور میرا ایمان ھے کہ جو نیک کام کیا جاتا ھے نیک نیتی سے تو وہ کام راہگاں نہیں جاتا ۔

  4. بہت خوب ثناء صاحبہ اور عمران چوہدری صاحب

    یہ معلومات کاغذ پر آنے کے بعد ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوجائیں گی۔ عقیدہ وہ واحد دولت ہے جو نسل درنسل چلی آرھی ہے اور پشت در پشت جاری رہے گی۔

  5. حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی بیٹی یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نواسی تھیں۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کرنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ جب وہ سات سال کی تھیں تو ان کے نانا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انتقال ہو گیا
    جناب زینب (ع) کو ام المصائب جیسا لقب ملا ۔ دین اسلام کی بقا اور تحفظ کے سلسلے میں اپنے مانجاۓ حسین (ع) کا شانے سے شانہ ملا کر ہر منزل پر ساتھ دیا ۔ شہزادی زینب کو شریکۃ الحسین (ع) بھی کہا جاتا ہے، زینب (ع) امام حسین (ع) کے ہمراہ ہر منزل پر نظر آئیں، اس طرح مدینہ سے لیکر کربلا تک ہر منزل پر بہن نے بھائی کو سہارا دیا ۔ یقینا واقعہ کربلا ہمیشہ امام مظلوم کی شہادت اور شہزادی زینب کے مصائب اور صبر وتحمل کی یاد دلاتا ہے۔
    حضرت امام حسین علیہ السلام کے پیغامات کی نشر و اشاعت میں جناب زینب علیہا السلام کی خطابت کا ایک اہم رول ہے اور یہ جناب زینب (‏ع) کی خطابت ہی تھی کہ کوفہ و شام کے مخالف ماحول کو بدل دیا اور تماشائیوں کو رونے پر محبور کردیا اور یزید اور ابن زیاد کے دربار میں ہلچل برپا کردی ۔ جناب زینب نے اپنے وقت کے ظالم و سفاک ترین افراد کے سامنے پوری دلیری کے ساتھ اسیری کی پروا کئے بغیر مظلوموں کے حقوق کا دفاع کیاہے اور اسلام و قرآن کی حقانیت کا پرچم بلند کیا، حضرت زینب (ع) نے لوگوں کو سچائی سے آگاہ کیا۔ آپ کے خطبات کے سبب ایک انقلاب برپا ہوگيا جو بنی امیہ کی حکومت کے خاتمے کے ابتدا تھی
    جناب زينب کے آتشيں خطبوں اور ان کي مظلومانہ فرياد نے چند دونوں ميں ھي حقيقت کھول کر رکھ دي او راھل شام کو يزيد کي کرتوتوں کا پتہ چل گيا، کہ خليفة المسليمن بن کر وہ باغيوں کے قتل کا مرتکب ھوا ھے وہ کوئي خارجي نھيں بلکہ ان کے رسول کا نواسہ اور ان کي پارہ جگر فاطمہ زھرہ کا بيٹا ھے، اور يہ قيدي خود آنحضرت کے بچے ھيں جن کے ساتھ اس نے يہ بدسلوکي کي ھے۔ شام کي بدلتي ھوئي فضا نے يزيد کو مجبور کرديا کہ وہ جلد از جلد اھل حرم کو رھا کردے او ريہ جناب زينب کي سب سے پھلي کاميابي تھي کہ آپ نے رھائي کے فوراً بعد خود يزيد کے گھر يعني شام ميں اپنے بھائي کي صف عزا بچھائي، اور وہ اربعين کا دن تھا۔
    حضرت زینب (س) اپنے بھائی امام حسین (ع) کی شہادت کے تقریبا” ڈیڑھ سال بعد 15 رجب المرجب 62 ہجری کو درجہ شہادت پر فائز ہوئیں ۔ ان کا روضہ اقدس شام کے دارالحکومت دمشق میں ہے، جہاں لاکھوں لوگ ھر سال ان کو ان کے مظلوم بھائی کا پرسہ دینے جاتے ہیں۔

  6. شہادت چار سالہ بی بی سکینہ بنت الحسین :-

    زنداں ميں جبکہ دخترِ شبير مرگئی
    دنيا سے دفعتا سفرِ خلد کرگئی
    کنبےکےدل پہ داغ جدائی کا دھرگئی
    غل پڑگيا حسين کی عاشق گزرگئی
    جنت بسائی ديکھ کہ دنيا کے باغ کو
    تازہ کيا ہے پھر علی اصغر کے داغ کو

    بازو ہلا کے بانوِ ناشاد نے کہا
    بي بی پدر کے سر سے اٹھاؤ تو سر ذرا
    باتيں ابھی تو کرتی تھيں آنسو بہا بہا
    ساکت ہے نبص ہائے غضب سرد دست و پا
    منہ ديکھتے ہی زيست کا نقشہ بدل گيا
    کس وقت سانس رکھ گئی کب دم نکل گيا

    بچی يہ ماں تجھے کدھر اب ڈھونڈنے کو جائے
    اے غم رسيدہ تو نے قيامت کے دکھ اٹھائے
    چھٹ کر پدر سے گھڑکياں کھائيں طمانچے کھائے
    بی بی رسن بندھی تری گردن ميں ہائے ہائے
    جو سختياں فلک نے دکھائيں وہ سہہ گئيں
    بندے جو چھن گئے مرا منہ تک کے رہ گئيں

    قربان جاؤں قيدی دامِ بلا ہے ماں
    آفت ميں بعدِ سبطِ نبی مبتلا ہے ماں

    مجبور ہے غريب ہے بےدست وپا ہے ماں
    بی بی کو دے کہاں سے کفن بےردا ہے ماں
    پہلے سے خاک ميں ہے بدن سب اٹا ہوا
    لے جاؤ قبر ميں يہی کرتا پھٹا ہوا

  7. احساس کربلا تجھے بھی ہو جائے گا ایک دن
    تنہا کسی عزیز کی میت اٹھا کے دیکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *