عراق سے باعزت واپسی

ستمبر میں بی بی سی کی عالمی سروس کے ایک پول کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ دُنیا کی دو تہائی آبادی عراق سے امریکی افواج کا انخلا چاہتی ہے ۔
اس سے قبل جنوری میں بی بی سی عالمی سروس کے پول میں ممالک کے ہزار لوگوں کی رائے سے معلوم ہوا کہ دنیا کی فیصد آبادی عراقی جنگ میں مریکی ہتھکنڈوں کی حمایت نہیں کرتی۔
انگلینڈ اور کینیڈا میں اکثریت عراق پر فوج کشی کو ناجائز سمجھتی ہے ۔ امریکہ کی عراق جنگ کی حمایت کرنے پر برطانوی عوام اپنی حکومت سے نالاں ہیں۔
میںعرب امریکن انسٹیٹیوٹ کے منعقد کردہ پولز کے نتائج سے معلوم ہوا کہ
فیصد مصری عراق میں امریکی کردار کو منفی گردانتے ہیں۔ فیصد سعودی عوام عراق جنگ کے مخالف ہیں۔اردن کی فیصد آبادی عراق جنگ کی مخالف ہے۔متحدہ عرب امارات کے فیصد اور لبنان کے فیصد عوام عراق جنگ کے مخالف ہیں۔
کے ایک عالمی جائزے کے مطابق چین ، جرمنی، فرانس ، ہالینڈ،مراکو، سپین ،انڈونیشیا ، ترکی ، پاکستان، اردن اور لبنان میں اکثریت کا خیال ہے کہ امریکہ کے عراق پر حملے سے پہلے دُنیا زیادہ محفوظ اور پُر امن تھی۔جبکہ امریکہ اور بھارت میں اکثریت سمجھتی ہے کہ صدام حسین کی برطرفی کے بعد دُنیا زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔

میںایک امریکی نشریاتی ادارے یو ایس اے ٹوڈے کے گیلپ سروے کے نتائج میں بتایا گیا کہ دو تہائی عراقی عوام یہ سمجھتی ہے کہ اتحادی افواج کی عراق میں موجودگی ان کے ملک کے لئے نقصان دہ ہے اور اتحادی افواج کو عراق سے جلد از جلد نکل جانا چاہیئے۔ میں فیصد سے زاید عراقی عوام نے امریکی تسلط کو غاصبانہ قرار دیا فیصد عراقی امریکی افواج سے جنگ کے حامی نکلے۔ امریکی تسلط کے بعد عراقی تیل کے حوالے سے پاس کئے گئے بل پر بھی عراقی عوام نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ لگ بھگ فیصد عراقی عوام سمجھتے ہیں کہ اتحادی افواج کی موجودگی عراق میں حالات کو بہتر کی بجائے بدتر بنا رہی ہے۔

رہی سہی کسر منتظر زیدی کے جوتوں نے پوری کر دی
مگرامریکہ عراق میں 2012 تک رہنا چاہتا ہے
عراقی پارلیمنٹ نے اتحادی افواج کے مزید قیام کے بل کو مسترد کر دیا ہے
اب تو اتحا دیوں کو عراق سے نکل جانا چاہیئے

3 thoughts on “عراق سے باعزت واپسی”

  1. زرقا صاحبہ۔ خوش آمدید۔ ایک عرصہ دراز کے بعد آپکا بلاگ دیکھا۔ بہت دیر آید اور بہت درست آید۔ آپکا موضوع ہے تو توجہ طلب لیکن یقین کریں کہ ایسے سروے یا پول کی حقیقت سے ہم جیسے طالب علم بخوبی اگاہ ہیں۔ لیکن معاملہ جو بھی ہے یہ ساری نورا کشتی ہے۔جنہوں نے اتحادی افواج کے مزید قیام کے بل کو مسترد کر دیا ہے کل وہی اسے دوبارہ پیش کروا کے منظور بھی کروا لیں گے۔

  2. زرقا صاحبہ۔ آپ قطعی طور پر یہ نہ سوچیں کہ آخر اس قسم کے بلاگ پر کوئی تبصرہ کیوں نہیں ہوتا؟ دراصل اکثر احباب حالات حاضرہ سے بے خبر رہتے ہیں کہ اچھی صحت کا ایک فارمولہ یہ بھی ہے۔پھر ایک بڑی اکثریت ایسے موضوعات پر لکھ ہی نہیں سکتی اور ویسے بھی سنجیدہ موضوعات پر لکھے گئے بلاگ اسی طرح سنسان رہتے ہیں۔ ابھی آپ جگجیت یا چترا کی کوئی غزل لکھیں اور پھر دیکھیں کیا تبصروں کی بھر مار ہوتی ہے۔

  3. محترم ہمدانی صاحب
    آپ کے تبصرے کے لئے ممنون ہوں
    آپ نے بجا فرمایا بی بی سی پر پڑھا تھا کہ عراق غیر امریکی افواج کے مزید قیام کا بل پیش کیا جائے گا
    مناسب ہوم ورک یا ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت خریدنے کے بعد
    اس قسم کے بلاگ پر تبصرہ شاید اس لئے نہیں ہوتا کہ ہم سب اپنے انفرادی مسائل میں اُلجھے ہوئے ہیں
    اجتماعیت کا فقدان ہے اسی لئے مسلمان ممالک کا استحصال ہو رہا ہے
    والسلام
    زرقا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *