بہنو اور بھائیو ! اس رسالہ کی اشاعت کا بحمد للہ یہ چھٹا سال ہے،
بنیّتِ قربتاً الی اللہ، بالکل مفت تقسیم کیا جاتا ہے
جو قارئین حاصل کرنے کے خواہشند ہیں، برائے مہربانی اپنا ڈاک کا پتا درج ذیل ای میل پر جلد از جلد ارسال فرمائیں
رسالہ روانہ کر دیا جائے گا، انشاء اللہ
munafghilzey@gmx.net


مناف بھائی آپ کی غیر حاضری بتارہی تھی کہ آپ “پیغام نجات“ میں مصروف ہیں ۔۔ آپ کو اپنے مشن کی کامیابی کا ایک اور قدم بہت بہت مبارک ہو ۔۔ اس دفعہ مصباح بھائی کا مضون “ ایصال ثواب و شفاعت: بدعت یا حقیقت “ کے لئے میں سفارش کروں گی کہ آپ اس مضمون کو اپنے آنے والے شمارے میں ضرور شامل اشاعت کریں ۔۔ مصباح بھائی نے اتنی تحقیق اور محبت سے تحریر کیا ہے کہ میری گزارش ہے کہ آپ سب اس تحریر کو مسلکی اختلافات کی عینک اتار کر پڑھیں ۔۔۔ اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کیا قران اور سنت کو بھول کر ہم دنیا و آخرت کی خوشیاں پا سکتے ہیں ۔۔ ؟
مناف بھائی میری نجات کا کوئی راستہ ضرور کیجئے گا یعنی پیغام دیجئے گا ۔۔ سلامت رہیں ۔۔ ڈھیروں دعائیں آپ کی دین و دنیا کی کامیابی کے لئے ۔۔
جزاک اللہ۔ اجرکم اللہ احسن الجزاء فی الدارین بجاہ محمد و عترتہ المعصومین۔
اسلام و علیکم
عبدالمناف سر کو بہت مُبارک ہو کے اُنہوں نے ایک اور قدم جانبِ رب اُٹھا لیا کامیابی کے ساتھ خُدا آپ کی یہ محنت قبول فرمائے اوراپ کو دونوں جہان میں اس کے لیے خیرِ کثر عطا فرمائے (الہی آمین)
دین کی اشاعت اور لوگوں کی رہنُمائی سے بڑھ کر کیا اجر کا کام ہو گا ایک دوسرے کو دین سمجھنے میں مدد دینا میری نظر میں ایک ایساعمل ِ خیر ہے جس سے انسان کو دونوں جہان میں نفع ہے میں بھی بس ابھی ہی سر مصباح کا کالم پڑھا یقین کریں کے سر کے لیے دل سے دُعا نکل رہی ہے میں نے اپنی زندگی میں بے شُمار ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کا یہ یی عقیدہ ہے کے مرنے والا مر گیا اب کویی دُعا اُس کے کام نہیں آنی جو کے نہیایت افسوس کا مُقام ہے – خُدا اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا پھر کیا دُنیا اور کیا آخرت ایک حدیث ہم سب نے ہی نجانے کتنی بار پڑھی سُنی بولی کے نیک اُولادایسا صدقہ کا جس کا اجر انسان کو مرنے کے بعد بھی ملتا ہے تواگر کسی کا مرنے کے بعد دنیا کے ہر عمل سے رابطہ ختم ہو جاتاہے تو پھر کیوں کر مُمکن ہے کہ اُس کی نیک اولاد کے اچھے اعمال اُس کے لیے صدقہ بن جانیں اور صدقہ کیا ہے یہ ہی نہ جو بلاوں کو رد کرتا ہے اس کاصاف مطلب ہوا کہ ایک انسان مرتے ہوئے نیک اولاد چھوڑ گیا اب وہ بیٹا یا بیٹی جب اچھا علم کرتا ہے تو اُس کااجر اُس مرنے والے کو پہنچ رہا ہے کیوں کہ صدقہ ہے اس لیے مرنے والا جہان ہے وہاں اُس کی بلاوں کو کم کر رہا ہے مگر افسوس کے لوگ سوچتے نہیں ورنہ توخُدا کا دین کیا ہے سوا ہمارے بھلے کے –
لوگ بھول جاتے ہیں کے قُرآن کیا ہے ایک دُعا پورا قرآن ہی ایک ایسی دُعا ہے کے جس پر عمل کر کے ہم اپنی دُنیا اور آخرت سنوار سکتے ہیں قرآن کی تو ابتدا ہی دُعا سے ہے اور انتہا بھی دُعا پر ہے یہ لوگ یہ نہیں سوچتے کے جو خُدا اور اُس کے رسول(ص) لوگوں کو ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ مُحبت اور احسان کرنے کا حُکم دیتے ہیں کیوں کر مُمکن ہے کہ وہ اُسی انسان کے مرنے کے بعد جو ایک مومن مُسلمان ہے اُس کی بخشش کی دُعا کا حُکم نہ دیں قرآن ایک ہی جہان کے لیے نہیں یہ دونوں جہانوں میں ہماری رہنُمائی اور مدد کے لیے ہے –
اور اسی بلاگ سے مستفید ہوتے ہوئے میں سر مصباح کو اتنا شاندار کالم لکھنے پر بہیت مُبارک باد دیتی ہوں اُن کی اس کوشش سے ایک کوئی ایک انسان بھی اپنی اصلاح کر سکا تو اُس کا اجر ہمارے شُمار سے باہر ہے لوگ قرآن کو بس مولوی کی زبان سے سُنتے اور سمجھتے ہیں اگرایسا ہی حُکم ہوتا تو الله اپنی اس کتابِ مُبین میں کبھی بھی بار بار غور و فکر کرنے کا حُکم نا دیتا اس کتاب میں بے شُمار نشانیاں ہیں مگر عقل اور فہم رکھنے والوں کے لیے قرآن بہترین رہنما ہے مگر اُن کے لیے جواس سے رہنہمائی کے طالب ہیں ہمارے یہاں بس یہ رواج ہے کے جُمعہ کے جُمعہ مسجد میں جاوُ اور جو امام مسجد خطبے میں فرما دے وہ ہی حرفِ آخر سمجھ لو پھر خُود خُدا کیا فرما رہا ہے اس کی زحمت کرنے کے فرصت ہی کس کو ہے اور یہ ہی بات خرابی پیدا کرنے کی اصل وجہ ہے کہ ہم ناصرف قرآن سے بلکہ اپنے رب اوراُس کے رسول (ص)سے بھی دور ہو چُکے ہیں ورنہ کسی مُومن مُسلمان کے مرنے کے بعد اُسکی مغفرت کی دُعا کی جانی جاہے ہا نہیں جیسی چھوٹی بات پر بحث نا کر رہے ہوتے –
میرا سلام ہو پر اُس مومن پر کے جو لوگوں کو خُدا کے اصل دین کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے جزاک اللہ۔ —
خُدا ہم کودین سمجھنے کی اور اُس پر عمل کرنے کو توفیق عطا فرمائے الہی آمین)
عزیز بھائ عبدالمناف سلامت رھیں ”پیغام نجات “ جیسے بامقصد اور معیاری رسالہ کی مسلسل اشاعت ھی اس کی کامیابی کی دلیل ھے میری دعا ھے کہ اللہ کرے دنیا کے ھر مللک میں اس رسالے کے بہت سارے قاری ھوں امین ثم آمین میں نے بھی اپنے کتب خانے میں ” پیغام نجات “ کی ایک کاپی بطور تبرک رکھی ھے ۔ جزاک اللہ
جباب سید مصباح حسین صاحب کے سابقہ مضامین کی طرح یہ مضمون ۔قران پاک کی سورتوں سے مزین ۔ ”ایصال ثواب شفاعت :بدعت یا حقیقت بھی بہت خوب ھے ۔ اللہ پاک آپ سب کو اجر کثیر عطا فرماۓ آمین
میں نے یہ بلاگ چونکہ ذرا جلدی میں لکھا اس لیے درست نہیں لکھا مجھے چاہیز تھا کہ لکھتا کہ :
جن قارئین کے پتے میرے پاس نہیں ہیں اور وہ یہ رسالہ حاصل کرنے کے خواہشند ہیں، برائے مہربانی اپنا ڈاک کا پتا درج ذیل ای میل پر جلد از جلد ارسال فرمائیں تاکہ رسالہ روانہ کر دیا جائے، انشاء اللہ
بہن نگہت صاحبہ، بہن شاہین رضوی صاحبہ، سیّد مصباح حسین صاحب، کے پتے میرے پاس محفوظ ہیں ےور آپ کو تو ہر حال میں رسالہ بھیجنا ہی تھا، میری پیشکش “عالمی اخبار” کے تمام دیگر قارئین کے لیے بھی ہے، لیکن براہء کرم ذرا جلدی کیجیے-
بہن نگہت صاحبہ ! دُعاؤں کا شکریہ، یقین کیجیے کہ میں نے ابھی تک مصباح شاہ صاحب کا مضمون نہیں پڑھا لیکن سرورق پر صرف مضمون کا عنوان اور مضمون نگار کا نام پڑھ کر ہی فیصلہ کر چکا تھا کہ یہ مضمون آئندہ شمارے میں شاملِ اشاعت ہوگا انشاء اللہ
ـــــــــــــــــ
بہن ثمرین بخاری صاحبہ ! آپ کی بھی دُعاؤں کا شکریہ، کتنی اچھی باتیں کی ہیں آپ نے، کتنا اثر ہے مصباح بھائی کے قلم میں کہ آپ جیسی پاکیزہ دل ہستیوں کی دُعائیں سمیٹ رہے ہیں، انہوں نے تو مضمون لکھا، دنیا و مافیہا کے خیر سمیٹ لیے لیکن آپ نے جو لکھا، اچھے کو اچھے کہا، اچھا کرنے والے کی حوصلہ افزائی کی، دُعائیں دئیں، اللہ یہ سب بھی قبول فرمائے اور آپ کو دنیا و آخرت کی خوشیاں کو کامیابیاں نصیب فرمائے
ــــــــــــــــــ
مصباح بھائی ! دُعا کا بہت شکریہ، مزید کی طلب ہے-
ـــــــــــــــــــ
بہن شاہین رضوی صاحبہ ! رسالہ پسند کرنے کا بہت شکریہ، بہن جی یہ آپ بہنوں بھائیوں کی دُعائیں ہی ہیں کہ مجھ جیسا کم مایہ بھی
ایک واسطہ بن گیا ہے لکھنے والوں کا لکھا پڑھنے والوں تک پہنچانے کا، اصل ثواب کے حقدار تو وہ ہیں جو علم پھیلاتے ہیں اور جو علم حاصل کرتے ہیں، میں تو اس ثواب میں سے تھوڑا سا اپنا حصہ حآصل کرنے کی کوشش میں لگا ہوں.
دُعاؤں میں ہرگز نہ بھولئیے
سر جی میرا پتہ بھی کیا ہے آپ سرکار کے پاس؟
قبلہ آغا ہمدانی صاحب !
یہ بات چیت تو شاگردوں کی آپس میں ہو رہی ہے،
استاد تو نگران ہوتے ہیں،
وہ شاید ایک محاورہ بھی ہے (اور اگر نہیں تو آج بنا لیتے ہیں) کہ :
“جب چھوٹے آپس میں بات کر رہے ہوں تو بڑوں کو صرف نگرانی ہی کرنی چاہیے” :ـ)
میں مریدوں کی فہرست میں مرشد کا نام لکھتا ہوا اچھا لگوں گا کیا ؟؟
پھر اور یہ عرض بھی کر چکا ہوں کہ:
“میری پیشکش “عالمی اخبار” کے تمام دیگر قارئین کے لیے ہے”
یعنی
“عالمی اخبار” کے مدیرِاعلٰی تو اس زمرے میں آتے ہی نہیں :ـ)
السلام علیکم
محترم عبدالمناف صاحب ، ’’ راہ نجات ‘‘ کے نئے شمارے کی اشاعت پر مبارک باد اور شکریہ ایک ساتھ قبول کیجئے ۔
آصف احمد بھٹی
برادرِ محترم جناب آصف احمد بھٹی صاحب!
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ،
پیغامِ نجات کی اشاعت پر ہمت افزائی اور مبارک باد پر مشکور ہوں لیکن . . .
شکریہ کس بات کا ؟؟
شاید آپ نے پیشگی شکریہ کہا، اس یقین پر کہ آپ کو رسالہ ضرور ارسال کروں گا ! !
لیکن اس کے لیے تو مجھے آپ کا ڈاک کا پتا چاہیے
میرا ای میل کا پتا اوپر درج ہے