از : ارشاد عرشی ملک
arshimalik50@hotmail.com
مرے عہدِ زبوں کے شاعرو ! نغمہ گرو ! جاگو
اُٹھو ! جس دور میں جیتے ہو اس کا حال بھی لکھو
ذرا آنکھیں تو کھولو، صورتِ احوال بھی لکھو
نئے لہجے میں بولو اور نئی امثال بھی لکھو
………………………………
سنا ہے شاعری، پیغمبری کا جزو ہوتی ہے
یہ اک پختہ گواہی ہے ضمیرِ آدمیت کی
جبھی تو کشف اور الہام کے پایہ کا موتی ہے
………………………………
نہیں تم دیکھتے سب کو دکھائی دے رہا ہے جو؟
نہیں تم نے سنا سب کو سنائی دے رہا ہے جو؟
کوئی آسیب ہے پیہم دہائی دے رہا ہے جو
…………………………..
یہ دروازے شکستہ ہیں، نہ سہہ پائیں گے جھٹکا بھی
دہل دل جاتے ہیں دل ماؤں کے سن کر ایک کھٹکا بھی
صلیبِ دہشت و ذلت پہ ہے مصلوب کُل خلقت
عجب نا مردمی ہے خود سے ہے محجوب کُل خلقت
شکنجے میں ستم رانوں کے ہے مغلوب کُل خلقت
………………………………….
دھکیلے جا چکے ہیں لوگ اب دیوار کی حد تک
وہ تنگ بجنگ آمد ہیں اب بےزار کی حد تک
نہیں ہیں تلخیاں محدود اب گفتار کی حد تک
بہت سے آچکے ہیں اب فرازِ دار کی حد تک
یہ طوفاں جب اٹھا، سب کچھ بہا لے جائے گا اب کے
جو اندازے ہیں یہ ان سے سوا، لے جائے گا اب کے
کوئی امید اب زندہ ، نہ کوئی آس باقی ہے
مسلسل ذلتوں کا ہر گھڑی احساس باقی ہے
شکم میں بھوک باقی ہے، لبوں پر پیاس باقی ہے
………………………………….
بہت جب بھوک بڑھ جائے تو پھر بس میں نہیں رہتی
سلگ اُٹھتی ہے جب تیلی تو ماچس میں نہیں رہتی
وضع داری کے رسمی بندھنوں کو کاٹ دیتی ہے
یہ انسانی لہو کا ذائقہ تک چاٹ لیتی ہے
……………………………………..
مرے نغمہ گرو ! جاگو ! حقائق کا بیاں لکھو
خدارا مصلحت کا، اب ترازو ہاتھ سے رکھ دو
قلم کا پاس رکھو جو عیاں ہے یا نہاں لکھو
اجاڑے جو بھی گلشن کو اسے مت باغباں لکھو
لٹیروں ، راہزنوں کو اب نہ میرِ کارواں لکھو
لکھو کانٹوں کو تم کانٹے ، نہ پھولوں کی دُکاں لکھو
سُرابوں کو نہ اب بھولے سے بھی آبِ رواں لکھو
جگالی چھوڑ دو برتے ہوئے الفاظ کی پیارو
تم ان بے ذائقہ لفظوں کو اب کتنا چباؤ گے؟
کتابی علم کے دلدل میں کب تک کلبلاؤگے؟
……………………………………..

ماشااللہ ،سبحان اللہ : عرشی صاحبہ نے شاعرو، نغمہ گرو کو انتہائی پر اثر انداز میں جھنجھوڑ کر انکو خواب سے جاگنے کے لیے کہا۔
بے شک آج کل کے پاکستانی شاعر اور سخنور اسی قسم کی نصیحت سننے کے مستحق ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں عرشی صاحبہ کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی اس نظم کی کاپی مجھے بھی بھجوائی ۔ ( جزاک اللہ : عبدالمناف غلزئی صاحب نے اس نظم کو اپنے اس بلاگ میں شایع کردیا )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف ایک گذارش ہے وہ یہ کہ عرشی صاحبہ کی توجہ اس مصرعہ کی طرف دلانا چاہتا ہوں( ،جسےعبدالمناف غلزئی صاحب نے جوں کا توں ان پیج سے یونی کوڈ میں منتقل کیا ہے: )
“دہل دل جاتے ہیں دل ماؤں کے سن کر ایک کھٹکا بھی“
کیا یہ مصرعہ یوں ہے کہ :
دہل جاتے ہیں دل ماوں کے سن کر ایک کھٹکا بھی ؟
۔۔۔۔۔۔
فقط:
علم کا خواہان
منظور قاضی
جرمنی سے
مجھے برائے مہربانی ابھی کچھ دیر اور سونے دیا جائے
یہ کون جگا رہا ہے بار بار
ساری نیند خراب کر رہا ہے
کٹی ہے رات تو ہنگامہ گستری میں مری
سحر قریب ہے آخر اب تو سونے دے ساقی
مناف بھائی ! آپ جھوٹ موٹ کے سوتے نہ بنئے،آپ در حقیقت جاگ رہے ہیں اور پوری طرح چوکنے ہیں۔
جبھی تو آپ نے اتنی جلدی اس نئی نظم کے حوالے سے بلاگ شروع کر دیا
اور ہاں منظور قاضی صاحب
مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ نثر میں تو پاکستان کے آجکل کے حالات پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے
لیکن شاعری میں کچھ کم ہی مجھ ناچیز کی نظروں سے گذرا۔
شائد لکھا جا رہا ہو لیکن میری نظر سے نہ گزرا ہو۔
مناف بھائی نے وہ مصرع بالکل درست ٹائپ کیا ہے اس کے آگے سوالیہ نشان نہیں ہے
اسلام علیکم ۔
عرشی صاحبہ بہت خوب ۔وقت جاگنے ہی کا ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اور آپ جگانے والے ڈھول پیٹتے رہیں وہاں کانوں میں ایسا ثقل ہے کہ صرف اپنے فائدے کی بات سنتا ہے ۔لیکن جس دن یہ ثقل دور ہوا آپ کی آواز ان کے کانوں کے پردے ضرور پھاڑ دے گی ۔
اور وہ ہی دن ہم سب کی آزادی کا دن ہوگا۔مناف بھائی کا خیال ہے کہابھی کچھ دیر اور سونے دیا جائے اور مناف بھائی نیند بھی خوب گہری ہونے دی جائے تاکہ جب اُٹھیں تو پتہ ہی نہ چلے کہ
معزرت کے ساتھ ‘دیکھو لکھاری چال قیامت کی چل گئے ‘
مرے نغمہ گرو ! جاگو ! حقائق کا بیاں لکھو
خدارا مصلحت کا، اب ترازو ہاتھ سے رکھ دو
قلم کا پاس رکھو جو عیاں ہے یا نہاں لکھو
اجاڑے جو بھی گلشن کو اسے مت باغباں لکھو
لٹیروں ، راہزنوں کو اب نہ میرِ کارواں لکھو
لکھو کانٹوں کو تم کانٹے ، نہ پھولوں کی دُکاں لکھو
سُرابوں کو نہ اب بھولے سے بھی آبِ رواں لکھو
جگالی چھوڑ دو برتے ہوئے الفاظ کی پیارو
تم ان بے ذائقہ لفظوں کو اب کتنا چباؤ گے؟
کتابی علم کے دلدل میں کب تک کلبلاؤگے؟
ماشاء اللہ، بہت ہی خوب، محترمہ
اے مرے وطن کے شاعرو، کس مصلحت کا شکار ہو، کیوں نیند کی گولیاں کھا رکھی ہیں سب نے۔ کیا ایک اکیلی عورت ہی رہ گئی ہے سب کے ضمیر جھنجھوڑنے اور انہیں خواب غفلت سے بیدار کرنے ؟ یاد رکھو، وقت بہت کم ہے اگر اب بھی نہ بیدار ہوئے تو ’ ہماری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں ‘
کاش شاعری کے رموز سے کچھ آگاہی ہوتی تو اس ’ عرشی کلام ‘ کے ہمراہ اپنی آواز بھی شامل کرتا۔
سب سے معزرت کے ساتھ ایک تک بندی حاضر ہے
بند دروں پر دستک نہ دو
ہاتھ تمہارے زخمی ہونگے
ان محلوں میں رہنے والے
سخت دل ہیں وہ سوتے ہونگے
چین و سکوں سے رہتے ہیں وہ
اُونچی دیواریں قلعہ بند ہونگے
زرے ہم ہو سورج ہیں وہ
ہم جیسوں کو کوستے ہونگے
اُن کا سکوں ہے لوٹا ہم نے
ہم کو نہ وہ جینے دینگے
ان کا مقصد عیش دنیا
ہم کو کیسے رستہ دین گے
شکر کرو نہیں سانس کے مالک
ورنہ ہوا بھی بند کر دیں گے
کھا نا پینا رہنا سب کچھ
ان کے پاس ہے ہمیں نہیں دین گے
ہم تو ہیں بس ان کا مہرہ
جب چاہے وہ پٹوا دیں گے
چالیں ان کی ہم کیا سمجھیں
ہم کو تو وہ ہروا دیں گے
میں تو جانوں ہوں بس اتنا
ہم خود کو اب ٹکرا دیں گے
بند دروازے توڑ کر اب
نیند سے ان کو چونکا دیں گے
ہم نے جانا ہے اب اتنا
اپنا حق ہم چھین ہی لیں گے
وہ دن پھر آزادی کا ہوگا
بچے اسکول جاتے ہوں گے
گھر میں جلیں گے چولھے سب کے
دال روٹی سب کھاتے ہوں گے
ہمت کرو بے ایمانی روکو
پھر کیسے سب بھوکے ہوں گے
جو پہچانے اپنا منصب
وہ ہی تو اب آگے ہوں گے
اپنی قسمت خود ہی بنائو
پھر کیوں ہم ان کے تابع ہوں گے
جب جب خود کو بدلیں گے ہم
ملک وملت طاقتور ہوں گے
جن کے ہیں کردار فولادی
وہ ہی تو اب رستہ لیں گے
عالم آرا تم ہی سوچو
کیا یہ سب ہم کر بھی سکیں گے ؟
اللہ ہم سب کا حامی و ناسر ہو
ڈئیر عالم آرا ! کوئی جاگے یا نہ جاگے ہمیں تو اپنے حصے کا کام کرنا ہے
غالباً احمد فراز نے کہا تھا
شب کی تاریکی کے شکوے سے کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے ۔۔۔۔!
۔
سو میں ناچیز بھی اپنے حصے کا دیا جلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔
اپنے الفاظ کیا اپنے جذبات کیا، عرشیِ بے نوا تیری اوقات کیا
پھر بھی اپنی گواہی قلم بند کر، آنے والے نئے منصفوں کے لئے
عرشی صاحبہ سے عرض ہے کہ و ہ سوالیہ نشان میرے سوال کی طرف اشارہ کررہا تھا جسےمیں غلطی سے انکے مصرعہ کے آخر میں ٹائپ کیا ۔
عرشی صاحبہ کا یہ مصرعہ کہ :
““دہل دل جاتے ہیں دل ماؤں کے سن کر ایک کھٹکا بھی“
کیا یہ مصرعہ یوں ہے ؟ کہ :
دہل جاتے ہیں دل ماوں کے سن کر ایک کھٹکا بھی
عرشی صاحبہ سے عرض ہے کہ مجھ کم علم کے خیال کےمطابق انکے مصرعہ میں پہلا “دل“ غیز ضروری معلوم ہوتا ہے ۔
اگر وہ اپنی نظر ثانی کےباوجود اپنے مصرعہ کی ٹایپنگ کو درست کہتی ہیں تو انکا ارشاد سر انکھوو ںپر ۔
فقط:
عرشی صاحبہ کی قوت شعر گوئی کا قائل اور انکے کلام کا دلدادہ
منظور قاضی
جرمنی سے
منظور قاضی صاحب
اآپ درست فرماتے ہیں۔بالکل درست۔۔۔۔
توجہ دلانے کا شکریہ
عرشی ملک
اسلام ولیکم عرشی صاحبہ
بالکل بجا فرمایا بس جگاتے رہنا ہی کام ہے ہک سب کا چاہے ڈھول پیٹ کر ہو یا سوئی چبھا کر
بس ایک ہی خواہش ہے کہ کاش جنہیں ہم جگا رہے ہیں کسی صورت تو اُن کی نیند ٹوٹے
ہمارا اور آپ کا کام تو کوشش کرتے رہنا ہے اور یہ ہر طور جاری رہنی چاہئے
جزاک اللہ
میں نے صبح گیارہ جبے کا الارم لگا دیا ہے
تب تک کے لیے مجھے کوئی نہ جگائے
شب بخیر
آسلام علیکم مناف بھائی
چلیں شکر ہے کہ آپ نے الارم لگا لیا تو انشائاللہ امید ہے کہ آپ گیارہ نجے اُٹھ جائینگے ۔
ہمیں تو شکوہ اُن سے ہے جن کے الارم بھی انہین نہیں جگا پاتے ۔
اصل مسئلہ اُن ہی کا ہے آپ آرام سے تھکن اُتاریں اجازت ہے ۔
جیتے رہئے اور چٹکلے سناتے رہئے
اللہ آپ کو خوش رکھے
عالم آرا
وینکور
بہن عالم آرا ! السلام و علیکم و صبح بخیر
میں نے رات ایک خواب دیکھا
ایسا خواب میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا
بڑا عجیب خواب تھا
خواب تو میں نہیں سناؤں گا
لیکن یہ بتائیے کہ مجھے جگایا کس نے
الارم تو میں نے الف صبح گیارہ بجے کا لگایاتھا
مجھے دس پچپن پر کس نے جگا دیا
مناف بھائی میں آپ کو آوازیں دے رہی تھی .. میری گھڑی میں گیارہ بج کر پچپن ہو رہے تھے .. اور پھر جب ہم سب جاگ رہے ہیں تو آپ کیوں سوئیں جی … ایویں .. میں نے جگایا تھا آپ کو ..
برادر جی عرشی آپا نے سب کو جاگنے کی ہدایت کی ہے .. کوئی صرف شاعروں کو تھوڑا سونے سے منع کیا ہے .. یہ اپنے علامہ اقبال بھی ایسے ہی تھے .. اٹھو میرے وطن کے شاہینوں کو جگا دو .. لو جی انہوں نے تو کہہ دیا پرجب سے ہماری سہیلی شاہین نے پڑھا تو مجال ہے جو دو گھنٹے سے زیادہ سو جائے .. ڈیریشن کی مریضہ بن گئی لیکن اقبال کو غلط نہ کیا .. آخر کو شاعر مشرق اور پاکستان کے پیدائشی شاعر جو ہیں .. سو اس دفعہ عرشی آپا نے پھر سوئے ہوئے لوگو کو جگا دیا ہے .. دیکھئے اب کتنے لوگ ڈپریشن میں جاتے ہیں … یعنی کتنے لوگ میرے مریض بنتے ہیں …
بس مناف بھائی اسی خیر خواہی نے آپ کو اٹھایا ہے کہ اگر ہم جاگے تو سب جگ کیوں سوئے …. اٹھیں شاباش کچھ کچھ گھر بار کا آر پار بھی کریں .. آپ کو ہماری بھابھی کی آوازیں نہیں آرہی ہیں جو کچن سے براہراست لسٹ لکھوا رہی ہیں ..
صبح بخیر مناف بھائی
جیسا کہ نگہت بہن نے کہا کہ وہ آپ کو جگا رہی تھیں تو کام تو واقعئی ہم سب کا ایک دوسرے کو جگاتے رہنا ہے ۔
میرا خیال ہے بھائی کہ یہ پانچ منٹ بہت ہی قیمتی ہون گے کہ جو وقت سے پہلے جاگ جائے وہ ہی شہسوار ہے ۔
اللہ آپ کو بہت خوبصورت خواب بہت ہی حسین تعبیروں کے ساتھ دکھائے
آپ سب کا اللہ حامی ہو
’قوم تو سوئی ہوئی ہے جو کہ ااُتھتی ہی نہیں
تم جگاتی تو رہی ہو عالم آرا اب تلک
جیسا کہ اس نظم کے عنوان سے ظاپر ہے : جاگنے کے لیے صرف اس عہد ِ زبوں کے شاعرو اور نغمہ گرو کو کہا گیا ہے ۔
باقی سب مزے سے سوتےرہیں ۔ اور سنہرے خواب دیکھتے رہیں ۔
“مرے عہدِ زبوں کے شاعرو ! نغمہ گرو ! جاگو“
۔۔۔۔۔۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ :
یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محوِ نالہ ء جرسِ کارواں رہے
دیکھا آپ سب نے
محترم منظور قاضی صاحب نے بات واضح کردی، میں ممنون ہوں، کہ صرف انہیں جگایا گیا ہے جو شاعر ہیں،
اور جو نہیں، وہ بے شک لمبی تان کر سوتے رہیں،
اگرچہ میں نے زندگی بھر میں کوئی 313 اشعارتو کہے ہی ہوں گے
لیکن چونکہ شاعر پھر بھی نہیں کہلواتا یا کہلاتا اس لیے مجھے نہیں جگایا جانا چاہیے تھا
لیکن کیا کیا جائے ؟ اب تو میں جاگ ہی چکا ہوں
اور اس کام کی ذمہ داری بہن نگہت صاحبہ قبول فرما چکی ہیں
جس کا آغاز پہلے علامہ اقبال اور پھر بہن عرشی صاحبہ اور بہن عالم آرا صاحبہ نے کیا تھا
علامہ صاحب تو پوری قوم کو نہیں تو چند فی صد کو تو جگا ہی گئے، جس کے نتیجہ میں ملک آزاد ہوا
لیکن قوم گھوڑے بیچ کر پھر سو گئی
اب عرشی بہن نے شاعروں کو جگانا شروع کیا ہے
تاکہ پہلے یہ جاگئیں اور جاگ کر باقی ماندہ قوم کو جگائیں
اب وہ جو شاعر کہلواتے کہلاتے ہیں پہلے وہ جاگئیں
میں نے کہا کہ ” شاعرو ! نغمہ گرو ! جاگو ۔ ۔ ۔ ”
عرشی بہن آپ کو جگا رہی ہیں
کہ قوم کو جگانا ہے
اور عالم آرا بہن بھی آواے دے رہی ہیں
قوم تو سوئی ہوئی ہے جو کہ اُٹھتی ہی نہیں
تم جگاتی تو رہی ہو عالم آرا اب تلک
اب ہر وہ شاعر جو اس بلاگ میں قوم کو جگانے والے اپنے اشعار تحریر کرے گا
سمجھ لیا جائے گا کہ وہ جاگ رہا ہے ورنہ
اسے جگانا پڑے گا
شاید ٹھنڈے پانی کی بالٹی کام دے جائے
آج کل پاکستان کے بہت سے سخنور ( شاعر اورنغمہ گر ) اصحابِ کہف کی سی نیند سورہےہیں اس لیے انکو جگانے کےلیے عرشی صاحبہ کی یہ نظم کافی کار آمد ثابت ہونی چاہیے
……
مگر عالم آرا صاحبہ نے ڈھول پیٹ کر یا سوئی چبھو کر جگانے کی موثر ترین ترکیب اپنے ا س جملے مییں پیش کی کۃ:
“بالکل بجا فرمایا بس جگاتے رہنا ہی کام ہے ہک سب کا چاہے ڈھول پیٹ کر ہو یا سوئی چبھا کر
بس ایک ہی خواہش ہے کہ کاش جنہیں ہم جگا رہے ہیں کسی صورت تو اُن کی نیند ٹوٹے
ہمارا اور آپ کا کام تو کوشش کرتے رہنا ہے اور یہ ہر طور جاری رہنی چاہئے”
ڈھول بجانا ، سوئی جبھونا یا پانی کا چھڑکا و کرنا یہ سب طریقے موثر ثابت ہوتے ہیں مگر اقبال بھی کسی کے خیال کو یوں کہ چکےہیں کہ :
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
………
ارے جاگنے والو !
کہاں ہو
قوم کو جگاؤ
کچھ تو بولو
اب بھی کوئی نہ بولا
تو میں چلا پھر سے سونے
دیکھ لیجیے بہنو اور بھائیو
کوئی نہ بولا
سب شاعر یا شاعرہ خاموش ہیں
شاید سو رہے ہیں
بس ایک عالم آرا بہن اور
عرشی بہن ہی رہ گیں ہیں جگانے والی
شاعروں کو بھی اور قوم کو بھی
ملاحظہ ہو . . .
گرم لہو کے چھینٹے
از : ارشاد عرشی ملک اسلام آباد
arshimalik50@hotmail.com
نیند میں غافل ،سویا بندہ
ٹھنڈے پانی کے چھینٹوں سے جاگ اٹھتا ہے
پر صدیوں سے سوئی قومیں
ٹھنڈے پانی کے چھینٹوں سے، کب اٹھتی ہیں
گرم لہو کے چھینٹے عرشی انہیں جگایا کرتے ہیں
ہوش میں لایا کرتے ہیں
گرم لہو کے چھینٹے
عرشی ملک
نیند میں غافل سویا بندہ
ٹھنڈے پانی کے چھینٹوں سے جاگ اٹھتا ہے
پر صدیوں سے سوئی قومیں
ٹھنڈے پانی کے چھینٹوں سے کب اٹھتی ہیں
گرم لہو کے چھینٹے عرشیؔ انہیں جگایا کرتے ہیں
ہوش میں لایا کرتے ہیں