ارشاد عرشی ملک
arshimalik50@hotmail.com
میں گونج ہوں عصرِ حاضر کی پھر بِس کو دوا کیا لِکھوں
جب دیکھوں ہر سُو کذب و ریا پھر صدق و صفا کیا لِکھوں
محسوس کیا جو لکھ ڈالا میں سچ کے سوا کیا لِکھوں
دِل چیر کے کاغذ پر رکھا، اب اور بتا کیا لِکھوں
اک عمر ہوئی لکھتے لکھتے ہر موضوع پر لکھ ڈالا
پھر آج تری فرمائش پر اے جان نیا کیا لِکھوں
کچھ میں ورق پر لکھا ہے کچھ اَن لکھی تحریریں
جو زیرک ہیں وہ پڑھ لیں گے میں کھُل کے بھلا کیا لِکھوں
جو بیت رہا ہے آج یہاں پہلے بھی یہی کچھ بیتا
کہنے کو نیا کچھ بھی تو نہیں اوروں کا لکھا کیا لِکھوں
جو غم کا مداوا کرنہ سکا، زخموں پر مرہم دھر نہ سکا
اُس ہاتھ کی کیا تعریف کروں اور دستِ شفا کیا لِکھوں
ہیں پاﺅں شل اور پیشِ نظر اک اور مسافت لمبی
اور عزمِ سفر بھی اپنا ہے کچھ یونہی سا، کیا لِکھوں
ہاں دِل پر یاس کے غلبے سے آواز میں تلخی آئی
مٹی سے اٹا ہے صحن چمن آندھی کو گھٹا کیا لِکھوں
اک عمر سے ساون بھادوں کی رُت آنکھوں میں آ ٹھہری
اب اس کے سوا شہرِ دِل کی میں آب و ہوا کیا لِکھوں
آسان نہیں تھی راہِ وفا مجھ ناداں کو معلوم نہ تھا
ہر گام پہ ٹھوکر کھائی ہے، اک لغرشِ پا کیا لِکھوں
جو طالب ہیں جو سالک ہیں خود راہ پہ چل کر دیکھیں
یاں درد میں مخفی لذت ہے لذت کا مزہ کیا لِکھوں
جینے کی تمنا ہے جس کو مرنا ہی پڑے گا اُس کو
صدیوں سے یہی اک نسخہ ہے، سامانِ بقا کیا لِکھوں
کامل ہے اگرچہ شوق مرا، اظہار اپاہج ناقص
مستور جو لاکھوں پردوں میں وہ روپ بھلا کیا لِکھوں
تو فضل سے اپنے جب چاہے اور جو چاہے لکھوائے
میں بندہ ہوں میں نوکر ہوں بے اذن بھلا کیا لِکھوں
آواز نہیں جو دہراﺅں الفاظ نہیں جو بولوں
جو اشکوں میں ڈھل جاتا ہے وہ حرفِ دُعا کیا لِکھوں
کہتی ہیں مری سکھیاں عرشی خوشیوں کے بھی نغمے لکھو
جس کو چے میں دِل برسوں سے آیا نہ گیا کیا لِکھوں
…………………………………………………..

میں عرشی صاحبہ کی وسیع القلبی اور اعلی ظرفی کی دل سے قدر کرتا ہوں کہ انہوں نےمجھ کم علم کو اتنا بڑا اعزاز دیا کہ میرے ذاتی تبصرے کا جواب اس قدر خوبی سے دیا کہ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں انکا کس طرح شکریہ ادا کروں ۔
انہوں نےمیرے ذاتی خط کا جو جواب دیا ہے اسے پورا کا پورا اس بلاگ میں شایع کرنا میرے بس کی بات نہیں اس لیے کہ انہوں نے اپنے جواب میں میرے علم کی تعریف میری بساط سے زیادہ کی ہے ۔ ( انکی اسی بات پر سعدی کا شعر یاد آتا ہے کہ جمال ہم نشیں در من اثر کرد ۔ وگرنہ من کہ اک خاکم کہ ہستم ) ۔
میں انکی اجازت سے میرے ذاتی خط اور انکے جواب کے اقتباسات پیش کررہاہوں :
—– Original Message —–
From: Arshi Malik
To: Manzoor Quazi
Sent: Tuesday, July 20, 2010 10:34 PM
Subject: RE: اب اور بتا کیا لکھوں ۔۔۔؟ عرشی ملک
محترم قاضی صاحب آپ کی باریک بینی اور سخن شناسی کی تو میں ہمیشہ سے قائل ہوں ،اور
آپ کا تبصرہ ہمیشہ ہی میرےلئے کسی نہ کسی حوالے سے علم میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
میں ادب کی ایک ادنیٰ سی طالب علم ہوں اورجہاں سے بھی کچھ سیکھ سکوں سیکھنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتی ہوں
اور کسی کے اس شعر پر عمل کرتی ہوں کہ
لو جان بیچ کر بھی جو علم و ہنر ملے
جس سے ملے جہاں سے ملے جس قدر ملے
آپ نے درست فرمایا
وہ مصرع اسی طرح ہے کہ ’’کچھ میں نے ورق پر لکھا ہے،کچھ ان لکھی تحریریں ‘‘۔
آپ نے بہت سے مصروں کی نشاندہی کی ہے جہاں آپ کو وزن کی ہم آہنگی محسوس نہیں ہو رہی۔
اس غزل میں لفظ ’’لکھوّں ‘‘ کو میں نے تشدید کے ساتھ باندھا ہے۔
میری دلی خواہش ہے کہ استادِ محترم ہمدانی صاحب اسے بنظر غور دیکھ کر اصلاح فرمائیں
اور میری غلطیوں کی مذید نشاندہی کریں۔
میں بہت ممنون ہوں گی اور منظور قاضی صاحب کی بھی بہت ممنون ہوں کہ انہوں نے توجہ دلائی اور میری اصلاح میں پہل کی
جزاکم اللہ و احسن الجزا
قاضی صاحب براہِ کرم یہ دونوں تبصرے بلاگ پر لگا دیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
> Date: Tue, 20 Jul 2010 21:45:47 +0200
> Subject: Re: اب اور بتا کیا لکھوں ۔۔۔؟ عرشی ملک
> From: manzoorquazi@gmail.com
> To: arshimalik50@hotmail.com
>
> عرشی صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نےمجھے بھی اس غزل کی کاپی بھجوائی ۔
>
> ماشا اللہ ، سبحان اللہ ،جزاک اللہ ، مرحبا ، بہت اچھے ، بہت خوب :
> عرشی صاحبہ کیا کہنے ہیں!!!
>
> عرشی صاحبہ قادر الکلام شاعرہ ہیں ۔
> انکے اشعار اور ان میں انکے خیالات کی ترجمانی کرنےوالے الفاظ
> پڑھنےکے قابل ہیں ۔
> انہوں نے بِس کا لفظ استعمال کیا ۔ ( کوئی مبتدی قسم کا شاعر شائد
> بس کی بجائے سم کا لفظ استعمال کرے گا ۔)
> ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
> اس شعر کےپہلے مصرعہ کو پڑھنے میں مجھے دقت محسوس ہورہی ہے:
> ”کچھ میں ورق پر لکھا ہے ، کچھ ان لکھی تحریریں“
> جو زیرک ہیں وہ پڑھ لیں گے میں کھل کے بھلا کیا لکھوں “
>
> کیا پہلے مصرعہ میں کچھ “میں نے“ ورق پر لکھا ہے ، ہونا چاہیے تھا ؟
>
> ۔۔۔۔۔۔۔
>
> مجھے اس غزل کے چند اشعار کے پہلےمصرعوں کا وزن دوسرے مصرعوں کےوزن
> سےہم آہنگ محسو س نہیں ہورہا ہے۔
>
>
>
>
> میں اس تبصرے کو عرشی صاحبہ کی خدمت میں بذریعہ ای میل پیش کررہا ہوں
> ۔ وہ چاہیں تو اس کا جواب مجھے میرے ای میل کےپتہ پر دیں یا پھر اپنی
> اس غزل کے بلاگ میں لکھ دیں ۔
> خیر اندیش
> منظور قاضی از جرمنی
>
>> > ________________________________
> .
عرشی جی۔ سلامت رہیں۔ آپ نے مجھے ”استاد محترم” لکھ کر جیسے اور بھی چھوٹا کر دیا۔ میں تو پہلے ہی پانچ فٹ 6 انچ کا آدمی ہوں اور اپنے اس قد کے علاوہ اصل قد کاٹھ سے بھی واقف ہی نہیں بخوبی و1قف ہوں۔ میری اور آپکی نسل کے لوگ جن معنوں میں استاد کا اعزازی لفظ استعمال کرتے ہیں وہ میں قطعی نہیں اور خود ابھی تک اصلاح طلب ہوں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ عملی اور ادبی دونوں معانی میں آپ سے بہت کم ہوں اور یہ بات کسرِ نفسی نہیں اظہار حقیقت ہے۔ میں تو پہلے بھی تُک بند تھا اور آج بھی اس سے آگے نہیں بڑھ پایا۔
اب مزید خوف یہ ہے کہ محترم قاضی صاحب کی علمی ادبی بحث میں یہ فقیر بہت کم شامل ہوتا ہے اس لیئے میں اس مقام پر ہوں ہی نہیں جہاں خاکم بدہن قاضی صاحب سے اختلاف تو کیا لفظِ اختلاف لکھنے کی بھی کوشش کرؤں کیونکہ میرا علم نامکمل بھی ہے اور جوہری بھی نہیں جبکہ قاضی صاحب نرم گرم چشیدہ اور جہاں دیدہ شخص ہیں اور ہر بات مثال کے ساتھ کرتے ہیں۔
میں تو وہ فقیر ہوں جسے عزت بچانے کا بھی فن نہیں آتا اس سے خوف زدہ اپنی سٹڈی میں مقید رہتا ہوں۔
آپ کا فرمانا ہے کہ ۔۔۔۔اس غزل میں لفظ ’’لکھوّں ‘‘ کو میں نے تشدید کے ساتھ باندھا ہے۔۔۔۔۔ میں آپ سے متفق ہوں۔لیکن کیا کریں اس عہد کا کہ آج اگر میں جِسم لکھتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ جِسَم ہونا چاہیئے۔ یہ بیڑہ غرق بھارتی گانوں نے بھی کیا ہے کہ گلزار جیسے شاعر نے بھی ایسی اغلاط کی ہیں۔
اب کیا بڑے بڑے لوگوں کے نام لوں کہ صدر کو زبر کے ساتھ صدَر پڑھتے ہیں۔سجھایا بھی کہ ”صدر ہر جا کہ نشیند صدر است” لیکن پلے نہیں پڑتا۔ اب ایسے میں ہم غلط ہیں تو کیا کریں۔ بس ایسے ہی ہیں
میں صفدر ھمدانی صاحب کی فی البدیہ شعر گوئی اور قادر الکلامی کے ساتھ ساتھ انکی عظیم شخصیت کا اسی دن سے قائل ہوگیا ہوں جس دن سے انہوں نے میرے ہاتھ میں قلم دے کر عالمی اخبار میں تبصرے اور بلاگ لکھنا سکھایا۔
اس لحاظ سے میں نے ان سے اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ انکے معاونین جن میں زرقا مفتی صاحبہ اور سید مصباح حسین جیلانی صاحب سے بھی بہت کچھ فیض حاصل کیا ہے۔
اللہ ان سب کو اپنے اپنے نیک مقاصد میں کامیاب فرماتا رہے۔ آمین
عرشی صاحبہ اور ڈاکٹر پنہاں صاحبہ جیسی شاعرات کے سامنے کچھ کہتے ہوئے میں ہمیشہ ڈرتا رہتا ہوں کہ خدا نخواستہ انکی دل شکنی نہ ہوجائے ۔ پھر بھی یہ سمجھ کر کہ یہ ہستیاں اس قدر وسیع القلب اور اعلیٰ ظرف ہیں کہ وہ مجھ جیسے کم علم کے سوالوں کا ہرگز برا نہیں منائینگی اس لیے ان کےسامنے اپنے خیالات کا اظہار کردیا کرتا ہوں ۔۔
عرشی صاحبہ سے جو مراسلت میں نے کی وہ ایک ذاتی نوعیت کی تھی مگر انہوں نے ہی مجھے اجازت دی کہ ان کے جواب کےساتھ میرے سوالات کو بھی اس بلاگ میں شایع کردوں۔
عرشی صاحبہ نے صفدر ھمدانی صاحب سے جو بات کہی اور صفدر ھمدانی صاحب نے انہیں جو جواب دیا وہ تو سب پڑھ چکے ہیں۔
میں عرشی صاحبہ کی اس غزل کے بارے میں کوئی مزید سوال کرنا نہیں چاہتا اسلیے کہ مجھے احساس ہورہا ہے کہ یہ غزل ہر لحاظ سے مکمل ہے ۔ صرف میرے پڑھنے میں کوئی خامی ہے ۔
اس لیے میں اس سلسلے میں عرشی صاحبہ سے معذرت کا خواہاں ہوں ۔
فقط:
ایک کم علم قاری
منظور قاضی
جرمنی سے
محترم صفدر ہمدانی جی
آپ کی جاندار ۔شُستہ ،چُست اور باذوق تحریریں ہمیشہ ہی مجھے مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
ہمیشہ ہی تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح خوشگوار محسوس ہوتی ہیں۔
میری بھی مجال نہیں کہ قاضی صاحب سے اختلاف کر سکوں۔ میں تو خود میدانِ شعر و سخن میں ایک خود رو پودا ہوں
جس کی کبھی کانٹ چھانٹ نہیں کی گئی۔اگر کوئی کرے تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
قاضی صاحب کی جراتِ رندانہ بقائمی ہوش و حواس ہوتی ہے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
میں مناف بھائی کی بھی شکر گذار ہوں جو بڑی چستی اور چابک دستی سےمجھ ناچیز کے ٹوٹے پھوٹے کلام کو بلاگ کی زینت بنا دیتے ہیں۔
لیکن اتنا تو بتائیے کہ اگر واقعی اتنی ساری غلطیاں ہیں تو پھر کیا کیا جائے؟
لگتا ہے کہ آج مجھے اپنی چستی اور چابک دستی کا راز فاش کرنا ہی پڑے کا
بہت دن مزے لوٹ لیے، اپنی اس صفت کی تعریف کے، جو مجھ میں بہت ہی قلیل مقدار میں شاید کہیں چھپی ہو
لیکن اب چونکہ بہن عرشی صاحبہ کی شاعری زیرِ غور آچکی ہے، اس لیے میرا خاموش رہنا دوبھر ہے
تو عرض ہے میری بہنو اور بھائیو !
مجھے قبلہ آغا ہمدانی صاحب نے اپنے برلین کے قیام کے دوران ایک پروگرام عنایت فرمایا تھا
میں اس پروگرام سے اردو کی ” اِن پیج ” کی فائیلز سیکنڈوں میں ” یونی کوڈ ” میں تبدیل کرلیتا ہوں اور
اس کے برعکس بھی . . .
ہوا یہ کہ محترمہ بہن عرشی صاحبہ نے اس حقیر کو اس قابل سمجھا کہ اپنا کلام ارسال فرمایا
میں نے پڑھا، چونکہ شاعری کی باریکیوں سے نابلد ہوں اس لیے مطالب ہی زیرِ غور رہے
فرطِ جوش کے سبب بلاگ میں چسپاں کرنے میں تامل کیا نہ تاخیر
کلام میں ٹائیپ کی چند ایک غلطیاں رہ گئیں تھیں (جس سے دنیا کا کائی شخص بھی مستثنٰی نہیں)
غلطی میری ہے کہ میں نے جوں کا توں (اِن پیج کو یونی کوڈ میں تبدیل کرنے کے بعد) بلاگ میں لگا دیا
میرا خیال تھا کہ کتابت کی اصلاح کا حق صرف شاعریا شاعرہ ہی کو حاصل ہے، اور
شاعری کی اصلاح ان استادوں کا کام ہے جن سے شاعر یا شاعرہ اس سلسلہ میں ملتمس ہوں
میں چونکہ کم علم سا بندہ ہوں اسی لیے اس غلطی کا مرتکب ہوا
تو فضل سے اپنے جب چاہے اور جو چاہے لکھوائے
میں بندہ ہوں میں نوکر ہوں بے اذن بھلا کیا لِکھوں
ویسے اللہ کا شکر ہے کہ “عالمی اخبار” کو محترم منظور قاضی صاحب جیسے شفیق اور
بزرگ ہستی کی سرپرستی حاصل ہے، جو کام ہم جیسے کم علموں سے نہیں ہوتے قاضی صاحب
وہاں خلا پُر کردیتے ہیں، یہی فائدہ ہے بلاگز کا کہ
اگر ایک طرف مجھ جیسے تیزی سے ان پیج کو یونی کوڈ میں تبدیل کرنے والے موجود ہیں (خواہ
آغا ہمدانی صاحب کے عنایت کردہ پروگرام ہی سے سہی)
تو دوسری طرف آغا ہمدانی صاحب اور منظور قاضی صاحب جیسے استاد شعرا بھی ہیں جن
سے نہ صرف شاعر مستفید ہوتے ہیں بلکہ میرے جیسے بھی حسبِ ظرف
سلام و علیکم
اسی ادبی اور با زوق محفل میں میں کیا اور میری سوچ کیا بس اتنا کے بہت خوب عرشی صاحبہ ۔ خدا آپ کے قلم کو اسی فرح سے سچ لکھنے کو توفیق عطا کرے –
مُجھے وداع کر
اے میری ذات پھر وداع کر
وہ لوگ کیا کہیں گے ، اے میری ذات
لوگ جو ہزار سے
میرے کلام کو ترس گئے
مُجھے وداع کر
میں تیرے ساتھ اپنے آپ کے سیاہ غار میں
بہت بناہ لے چُکا
میں اپنے ھاتھ پاوّں، اپنے دل کی آگ میں
تپا چُکا
مُجھے وداع کر —
خدا حافظ و ناصر
سلام و علیکم آپ سب بہت اچھا لکتھے ھیں سر ھمدانئ صاحب تو کوئ ثا نی ھی نھھیں رکھتے
محترمہ عرشی ملک صاحبہ،
آواز نہیں جو دہراﺅں الفاظ نہیں جو بولوں
جو اشکوں میں ڈھل جاتا ہے وہ حرفِ دُعا کیا لِکھوں
دیر سے آنے کی شرمندگی اور معذرت ۔ وجہ ! بالکل آپ ہی کے شعر میں پوشیدہ ہے۔ آپ کے کلام پہ کٹ اینڈ پیسٹ اور واہ واہ سے ایک واجبی سا تبصرہ تو شامل کیا جاسکتا ہے لیکن اسے دلی تسلی نہیں ہوتی اور دل کی تسلی کے لئے آپ کی انقلابی شاعری پہ تبصرہ لکھنے سے پہلے الفاظ ڈھونڈنے پڑھتے ہیں ، اسی لئے بسا اوقات غیر حاضر رہ کر گستاخی کر بیٹھتا ہوں۔
’ آپ کا سوال کہ اب اور کیا لکھوں ‘ ، مجھے اس نا امیدی نے مایوس کردیا۔ محترمہ ، ہمارے مسائل کون سے کم ہو گئے، ہم میں کون سی بیداری آگئی ، ہمارے کون سے خواب پورے ہوگئے جو آپ کے لکھنے کو کچھ نہیں رہا۔ آپ کو بھیس بدل بدل کر اور الفاظ بدل بدل کر اپنی صدا اور پکار کو جاری رکھنا ہے ، اس وقت تک جب تک کہ ایک بھی آدمی خواب غفلت میں مدہوش ہے کہ یہی فریضہ سونپا گیا ہے ان دانشوروں کو جن کے دماغ میں روشن خیالی، جن کی سوچ میں پاکیزگی اور جن کے قلم میں طاقت ہے۔ اور کسی قوم کی تقدیر بدلنے کو ایسے دماغ، ایسی سوچ اور ایسے قلم ہی درکار ہوتے ہیں۔کون جانےقوم کی تقدیر بدلنے کی ذمہ داری ایسے باضمیر اور روشن خیال دانشوروں کو ہی مل جائے۔
اللہ آپ کے کلام پہ عمل کرنے والے لوگ پیدا ہو جائیں۔
جناب مناف صاحب، ’عرشی کلام ‘ ہم تک پہنچانے کا بے حد شکریہ۔
Subject: RE: Aur Kia Likhoon
Date: Sun, 25 Jul 2010 18:45:35 +0600
محترم جاوید کیانی صاحب
السلام علیکم
مدت کے بعد آپ کی میل دیکھی بہت اچھا لگا۔ آپ کے بے لاگ تبصرے کی خوشی بھی ہوئی
کہ آپ نے میری شاعری کو بہت سنجیدگی سے لیا۔’’اب اور بتا کیا لکھّوں؟ ‘‘ کا مطلب قطعاً مایوسی اور نا امیدی نہیں ہے۔
یہ ایک خاص کیفیت۔وقت اور موڈ کا بیان ہے اور کوئی بھی ایک کیفیت کھینچ کھانچ کر پوری زندگی پر اوڑھائی نہیں جا سکتی۔
کوئی سچا شاعر یا تخلیق کار،تخلیق کے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ آگ اس کی رگ رگ میں رچی ہوئی ہوتی ہے جو اسے کبھی بھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔
شائد اس کے ہاتھ قلم کر دئیے جائیں تو وہ پاوں کی انگلیوں سے لکھنے لگے۔
یہ اس کی مجبوری ہوتی ہے۔اس لئے آپ اس طرف سے تو بے فکر رہیں کہ گویا میں نے شاعری سے ریٹائیر مینٹ کا کوئی اعلان کر دیا ہے۔
شعر کہنا مری ضرورت ہے، جیسے مچھلی کا آب میں رہنا
کوکنا جس طرح ہو کوئل کا اور عاشق کا حالِ دل کہنا
جس طرح سے ہواوں کا چلنا،جیسے دریا کے واسطے بہنا
جس طرح دھوپ میں تمازت ہو،جس طرح اہلِ دل کا دکھ سہنا
دکھ بھی ایسا جو چیر دے دل کو ،چوٹ بھی اوپری نہیں اچھی
میرے جیسے شکستہ لوگوں سے یہ تری دل لگی نہیں اچھی
۔(یہ میری ایک پرانی نظم کا بند ہے)۔
والسلام
عرشیؔ ملک
محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ،
’’ کوئی سچا شاعر یا تخلیق کار،تخلیق کے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ آگ اس کی رگ رگ میں رچی ہوئی ہوتی ہے جو اسے کبھی بھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتی ‘‘
محترمہ ، اللہ کرے آپ جیسے قومی سرمائے کی تخلیق کے ساتھ ساتھ ایسی مخلوق بھی پیدا ہو جائے جو ایسی نایاب تخلیق پہ عمل کرے اور اسے مستفید ہو اور جو آگ آپ جیسے دانشوروں کی رگ رگ میں رچی ہوئی ہے اس کی تپش فریزر میں پڑی سوسائیٹی کے دلوں کو گرما دے، آمین۔
کیانی صاھب ہم تو اپنے حصے کا کام ہی کر سکتے ہیں
شب کی تاریکی کے شکوے سے کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کا کوئی دیپ جلاتے جاتے
احمد فراز
1
محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ،
شب کی تاریکی کے شکوے سے کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کا کوئی دیپ جلاتے جاتے
بہت ہی خوب ، یہی تو ہے مثبت سوچ اور زندگی کا روشن پہلو ۔ بے شک آپ اپنے حصے کا کام نہایت ہی احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں ۔ اللہ رب العزت آپ کو اس نیکی اور جہاد کا پورا پورا اجر دے اور اس پیغام کو قریہ قریہ پھیلاتے ہوئے اس کی تعبیر کے اسباب پیدا کرے، آمین۔