میں اس بلاگ کو جناب جاوید اقبال کیانی صاحب کے انتہائی مخلصانہ مشورے سے متاثر ہوکر شروع کررہاہوں :
میں اس بلاگ کا ابتدائی حصہ جناب صفدر ھمدانی صاحب کے بلاگ ‘ لتا حیا“ سے متعلق شایع کرچکا تھا مگرجناب جاوید اقبال کیانی صاحب کے تبصرے کے بعد میرا دل اس موضوع یعنی محترمہ عرشی صاحبہ کی نظم : کوکھ میں قتل “ سے متعلق ایک نیا بلاگ شروع کرنے پر مجبور ہوگیا۔ اس لیے کہ یہ مسئلہ صرف ایک ملک یا قوم کا مسئلہ نہیں ، یہ دنیا بھر کی بیٹیوں کا مسئلہ ہے جنھیں زندہ ہونے سے پہلے ہی ضایع ( قتل ) کردیا جاتا ہے اور اگر وہ زندہ پید ا ہو بھی جائیں تو انہیں زندگی پر ایک بوجھ سمجھ کر زندہ درگور کردیا جاتا ہے :
اب میں اس بلاگ کو عرشی صاحبہ کی نظم “کوکھ میں قتل “ کے ساتھ شروع کرتا ہوں:
منظور قاضی نے کہا ہے:
August 13, 2010 بوقت 11:38 pm
ہندوستان کو لتا حیا جیسی شاعرہ پر فخر کرنا چاہیے کہ اس نے اردو کو اور اسلام کو اپنے دل میں جگہ دی ہے ۔
مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کے بعض ماں باپ لڑکیوں کو بوجھ سمجھ کر ان کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے کوکھ میں قتل کردیا کرتے ہیں ۔ اس افسوسناک بات سے متاثر ہوکر محترمہ عرشی صاحبہ نے ایک انتہائی متاثر کن نظم لکھی ہے جسے انہوں نےمجھے ای میل کے ذریعہ روانہ کی تھی۔
میں اس نظم کو اس بلاگ میں صرف اس لیے چسپاں کررہا ہوں کہ اسے پڑھکر سارے پڑھنےوالے دعا کریں کہ ہندوستان سے یہ وبا دور ہو تاکہ لتا حیا جیسی اچھی اچھی لڑکیاں پیدا ہونے سے پہلے ہی قتل نہ کردیے جائیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دعا کرتے رہیں کہ خدا نخواستہ اس قسم کی وبا پاکستان میں بھی نہ پھیل جائے :
Gender Murder in India: 50 million girls and women killed before and after birth
Posted on August 3, 2009 by The Editors
نطم
کوکھ میں قتل
ارشاد عرشی ملک ،اسلام آباد پاکستان
arshimalik50@hotmail.com
ابھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں
مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں
میں ماں کی کوکھ کے اندر بھی ڈرتی رہتی ہوں
سہم سہم کے میں، بے موت مرتی رہتی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔
سنا ہے میں نے کہ سائنس کی یہ ترقی بھی
ہمارے واسطے لائی ہے اک نئی افتاد
سنا ہے ایسی مشینیں بھی ہو گئیں ایجاد
جو ماں کی کوکھ کے اندر کے سب مناظر کو
چمکتی،جاگتی سکرین پر دکھاتی ہیں
جو نسل و جنس کا پورا پتہ لگاتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنا ہے مائیں بھی اب بیٹیوں کی دشمن ہیں
جب اپنے پیٹ میں بیٹی کا جان لیتی ہیں
تو اس کے قتل کی پھر دل میں ٹھان لیتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی تھی رسم ہمیں زندہ گاڑ دینے کی
تو قبر بنتی تھی آنسو بہائے جاتے تھے
جو ساتھ باپ کے ، ہم قتل گاہ جاتے تھے
نئے لباس میں ہم بھی سجائے جاتے تھے
ہمارے سر پہ ربن بھی لگائے جاتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پر ایسا ظلم تو دیکھا سنا نہ دنیا میں
بہت سی ہیں میری بہنیں کہ جن کو مل نہ سکا
کفن کے نام پہ کپڑا کوئی نیا عرشی
کہ جن کا کوئی جنازہ اٹھا نہ ارتھی ہی
زمیں پہ ایک دو بالشت بھی جگہ نہ ملی
ہمیں تو ماوں کے پیٹوں میں بھی پنہ نہ ملی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سی ہیں مری بہنیں جو ماوں کے ہاتھوں
انہیں کی کوکھ کے اندر مٹائی جاتی ہیں
خوشی کے ساتھ گٹر میں بہائی جا تی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں
مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں
میں ماں کی کوکھ کے اندر بھی ڈرتی رہتی ہوں
سہم سہم کے میں، بے موت مرتی رہتی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقط:
مبصر :
منظور قاضی
جرمنی سے
جاوید اقبال کیانی نے کہا ہے:
August 14, 2010 بوقت 4:54 am
جناب منظور قاضی صاحب،
آپ نے بہت احسان فرمایا جو محترمہ عرشی ملک کی اس مایہ ناز نظم کو اس بلاگ میں اپنے تبصرے کی زینت بنایا۔ محترمہ کا یہ بڑا پُن ہے جو انہوں نے مجھے بھی اپنے میلنگ ایڈریس میں جگہ دے رکھی ہے اور اپنے تازہ کلام سے نوازتی رہتی ہیں۔ کچھ میری کوتاہی، کچھ وقت کی کمی لیکن سب سے بڑھ کے ان پیج کو یونی کوڈ میں تبدیل کرنے کی سہولت کے نہ ہونے کی وجہ سے چاہتے ہوئے بھی میں ان کا کلام آگے نہیں پہنچا سکتا اور اکثر میری لائیبریری میں جمع ہوتا رہتا ہے۔ یہ نظم بہت ہی جذباتی اور انسانیت کے ایک بڑے اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔
’’ مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کے بعض ماں باپ لڑکیوں کو بوجھ سمجھ کر ان کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کے کوکھ میں قتل کردیا کرتے ہیں‘‘
قبلہ قاضی صاحب یہ وبا صرف ہندو معاشرے میں ہی نہیں بلکہ ہمارے اسلامی معاشرے میں بھی موجود ہے ۔ بہت دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ جس مذہب نے بیٹیوں کے زندہ دفن کرنے پہ پابندی لگائی ، ستی جیسی رسم ختم کی اور عورت کو معاشرے میں باعزت مقام دیا آج اسی مذہب کے پیروکار وں کے لئے بیٹی بوجھ بن رہی ہے۔جب سے سائینس نے سکیننگ ایجاد کی ہے بیٹی کی خبر ملتے ہی غریب ماں کی زندگی جہنم بننا شروع ہوجاتی ہے۔ اسے گھر میں منحوس سمجھنا یا خاوند کا دوسری شادی کا فیصلہ کر لینا اب کوئی انوکھی بات نہیں رہی۔ اور اکثر ماں کی کوکھ میں پلنے والی معصوم روح بغیر کفن ، بغیر جنازے ، بغیر قبر کے بڑی مظلومیت سے ’گٹر میں بہا دی جاتی ہے‘ اور محترمہ نے اس روداد کا بڑا ہی صحیح اور دردناک نقشہ کھینچا ہے ۔
محترمہ عرشی صاحبہ نے تو بیٹیوں سے متعلق جہالت کا صرف ایک پہلو دکھایا ہے جو اکثر سامنے نہیں آتا ( جبکہ رونگٹے کھڑے کرنے والی حقیقت کسی بھی زچہ بچہ سینٹر سے مل سکتی ہے ) لیکن دو یا تین بیٹیوں کی پیدائیش کی بعد ہماری سوسائیٹی میں اس بدنصیب ماں کوبات بات پہ طعنے ، سوئی ہوئی بیٹیوں کو کبھی اکیلے میں اور کبھی ماں سمیت ذبح کر دینا ، جہیز کی لعنت اور سسرال کے طعنے ، جائیداد کی خاطر بیٹیوں کی درختوں حتاکہ قرآن پاک سے شادی ، کاروکاری کی بیہودہ رسم ، بہو کے آنے کے بعد گھروں میں چولہے پھٹنے اور کتنی معاشرتی برائیاں ہیں جو بیٹیوں کے گرد گھومتی ہیں اور ہمارے اسی اسلامی معاشرے میں ۔ بیٹی کتنی مظلومیت کی زندگی گذار رہی ہےاس کو ذہن میں لاتے ہی پاگل پن کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔
کاش آپ یہ نظم علحٰدہ سے بلاگ میں لگاتے تاکہ محترمہ کی اس انتہائی جذباتی اور متاثر کن نظم پہ میرے علاوہ ( ویسے بھی میں نے ان سے اس نظم پہ اپنی تفصیلی رائے کا وعدہ کیا تھا جو کہ آج تک محض وعدہ ہی رہا ) اور بھی قیمتی آراء آتیں۔ لیکن امید کرتا ہوں کہ قارئین اسی بلاگ میں اس انتہائی اہم سماجی یا معاشرتی مسئلے پہ اپنی رائے کا ضرور اظہار کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔
اللہ عرشی صاحبہ کی شاعری کو بقائے دوام عطا کرے : آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تمام بیٹیوں کو نیک نصیب عطا کرے : آمین
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے

محترم جناب قاضی صاحب،
آپ نے میری رائے کو اتنی اہمیت دی، آپ کا بے حد شکریہ۔ بیٹی کے مقام ، اسکی حرمت اور گھر میں زینت سے متعلق اسلامی تعلیمات، روایات اور تاریخ بھری پڑی ہے جو ہم سب کے لئے مشعلِ راہ ہے ۔
دنیا بھر کی بیٹیوں سے متعلق آپ کے اس انتہائی اہمیت کے حامل بلاگ کو یہ مقام بھی ہے کہ یہ آج ایک تاریخی دن یعنی 14۔اگست کو شروع ہورہا ہے اور یہ وہ دن ہے جس کے لئے ہماری مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں نے اپنے سہاگ ، بیٹے اور بھائی قربان کئے اور اپنے دوپٹے تار تار کرکے ایک نئے اسلامی ملک کی سرحد کے اندر قدم رکھا ، اس آرزو میں کہ یہاں بیٹی کو اس کا اصلی مقام ملے گا جو پورے عالم کے لئے ایک مثال ہوگا لیکن وائے قسمت کہ دیکھنے اور سننے کو وہی کچھ مل رہا ہے جس کا رونا محترمہ عرشی صاحبہ نے اپنی اس غمناک نظم میں بیان کیا ہے۔
Gender Murder in India: 50 million girls and women killed before and after birth
Posted on August 3, 2009 by The Editors
1 Votes
What is is about Hinduism that compels rich and poor Hindus to kill their daughters? Why is it that Muslims and Christians in India are not as susceptible to the same practices? Some argue that it is the Hindu scriptures that direct such practices.
•“Killing of a woman, a Shudra or an atheist is not sinful. Woman is an embodiment of the worst desires, hatred, deceit, jealousy and bad character. Women should never be given freedom.” Bhagvad Gita (Manu IX. 17 and V. 47, 147)”
•Similarly another holy script of Hindu religious book preaches looking down upon women by terming a woman equal to a dog, crow and shudra (a low cast poor Hindu who has no rights in Hindu society).
•“And whilst not coming into contact with Sudras and remains of food; for this Gharma is he that shines yonder, and he is excellence, truth, and light; but woman, the Sudra, the dog, and the black bird (the crow), are untruth: he should not look at these, lest he should mingle excellence and sin, light and darkness, truth and untruth.” – Satapatha Brahmana 14:1:1:31
محترم منظور قاضی صاحب یہ بلاگ شروع کر کے آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔
اور جاوید کیانی صاحب نے آپ کو اس پر آمادہ کر کے بہت اچھا کام کیا ہے۔
ظلم دنیا میں جہاں بھی ہو اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔یہ بھیانک ظلم انڈیا میں بہت عام ہو گیا ہے۔
مجھے انٹر نیٹ سے ہی اس بارے میں تفاصیل ملی تھیں
اس موضوع پر وہاں بہت کچھ ہے ،میں نے نمونے کے طور پر کچھ یہاں پیش کیا ہے۔
جاوید اقبال کیانی صا حب نے اتنے پر اثر انداز میں پاکستان کی بیٹیوں کی حالتِ زار کا ذکر کیا۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اس وقت اس قدر گھمبیر مصائب میں گھرا ہو ا ہے کہ پاکستان کی بیٹیوں کے بارے میں کسی کو سوچنے کی مہلت نہیں ۔
پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے لاکھوں خاندان بے گھر اور بے در ہوگئے۔
جو کسی محفوظ جگہ پر بہنچ بھی گئے ہیں انہیں روٹی ، کپڑا اور سر چھپانے کی جگہ کی سہولت نہیں ۔
پاکستان میں اناج کی قلت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ہرایک دوکاندار زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی سوچ رہا ہے۔
پاکستان می صاف پانی پینے کے لیے ہر ایک فرد ترس رہا ہے ۔
ہزاروں اور لاکھوں افراد بھوک سے تڑپ رہے ہیں اور رمضان کے روزے کے لیے سہری کھانے سے محروم ہیں ۔
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت ہونے والی ہے اور اسکی وجہ سے ان اشیا کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے ۔
پاکستان کو ہیضہ اور ملیریا اور طرح طرح کی موذی بیماریوں کا سامنا ہے ۔
پاکستان میں بے روزگاری کا حد سے زیادہ طور پر بڑھ جانے کا امکان ہے۔
پاکستان کی بیٹیوں اور ماوں کو اپنی اپنی عزت اور عصمت محفوظ رکھنے کی فکر لگی ہوئی ہے۔
اس وقت چودہ اگست 1947 کا سا منظر نظر آرہا ہے جب کہ لاکھوں افراد ہندوستان سے پاکستان کی طرف سب کچھ لٹاکر کوچ کررہےتھے ۔ اس وقت تو پاکستان کے خشک علاقوں میں سر چھپانے کے لیے اکثر مہاجروں کو جگہ مل گئی تھی مگر اس وقت خشک علاقو ں پر تو قبضہ گروپوں کا قبضہ ہے ۔ اور کراچی جیسے شہر میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کے رہنما اس وقت اپنے اپنے مفاد کی حفاظت کی کوشش کررہے ہیں ۔
بین الاقوامی برادری نے بھی پاکستان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے ۔
پاکستان اس وقت ایک مشکل قسم کے امتحان سے گذر رہاہے۔
۔۔۔۔۔۔
ایسے حالات میں عرشی صاحبہ کی نظم کے اس بلاگ کو اسکےاپنےحال پرچھوڑ دینا ہی بہتر ہے ۔ اس طرح یہ بلاگ آہستہ آہستہ سب کی نظروں سے اوجھل ہوجائےگا۔اور پاکستان کی بیٹیوں کے مسائل وہی رہینگے جن کا تذکرہ اس نظم میں اور جاوید اقبال کیانی صاحب کے مندرجہ بالا تبصروں میں موجود ہے۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
اللہ سے حضرت موسٰی علیہ السّلام نے پوچھا کہ، اے اللہ جب آپ خوش ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں ، اللہ نے فرمایا کہ جب میں خوش ہوتا ہوں تو بارش برساتا ہوں ۔
حضرت موسٰی نے پھر پوچھا کہ، اے اللہ جب آپ اس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں، تو اللہ تعالٰی نے جواباً فرمایا کہ پھر میں بیٹیاں پیدا کرتا ہوں ۔
حضرت موسٰی کلیم اللہ نے تیسری مرتبہ پھر پوچھا کہ، اے اللہ جب آپ سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں، تو اللہ تعالٰی جواب میں فرماتے ہیں کہ جب میں سب سے زیادہ خوش ہوتا ہوں تو مہمان بھیجتا ہوں ۔ سبحان اللہ ۔
بیٹی کے معاملے میں آپ نے دیکھا کہ اللہ کی خوشی بھی بیٹی پیدا کرنے پر ہے ۔ جبکہ تیسرے سوال کے جواب میں مہمان کی عظمت ظاہر کی گئی ہے، اللہ نے مہمان کے اکرام اور پرخلوص خدمت میں انسان کیلئے بڑے انعام رکھے ہیں، اسی وجہ سے کچھ روز تک مہمان نہ آنے پر اکثر حضرت علی شیر خدا اور صحابہ کرام غمگین ہو جایا کرتے تھے ۔
اور اسی طرح مہمان کے معاملے میں مذید غور کریں تو ایک اور قابل غور نقطہ ہمارے سامنے آئے گا کہ بیٹی بھی پیدا ہونے والے گھر کی مہمان ہی تو ہوتی ہے کہ آخر ایک نہ ایک دن اس نے اس گھر، ماں باپ، بہن بھائیوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے پیا گھر چلے جانا ہے ۔
آج ہم اللہ کی ان مذکورہ تینوں خوشیوں سے رو گردانی کے مرتکب ہو کر دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ۔
مرد یا عورت نے آج تک یہ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ہم بھی تو کسی خاتون ہی کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں، اور وہ بھی اس خاتون کے پیٹ سے، جو کل کسی کے گھر بیٹی بن کر پیدا ہوئی تھی ۔
حسب سابق محترمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی طرف سے بیٹی کے موضوع پر نظم ” کوکھ میں قتل ” نے بہت متاثر کیا ، اللہ ان کے قلم میں اور نکھار پیدا کرے ۔
محترمہ عرشی صاحبہ نے اپنی نظم میں اور اس کے بعد انکے تبصرہ میں ہندو معاشرہ کے اس رخ کی عکاسی کی جس میں عورت کو حقیر ترین مخلوق کا درجہ دے کر اسے پیدا ہونے سے پہلے ہی قتل کرنے کا فیصلہ یا اس کی پیدائش کے بعد اسکو حقیر ترین مخلوق سمجنھے کے رواج اور رسم کا ذکر کیا۔۔
مگر جاوید اقبال کیانی صاحب نے اپنے تبصرے میں پاکستان کی عورت کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے اس کا ان الفاظ میں ذکر کیا:
“ محترمہ عرشی صاحبہ نے تو بیٹیوں سے متعلق جہالت کا صرف ایک پہلو دکھایا ہے جو اکثر سامنے نہیں آتا ( جبکہ رونگٹے کھڑے کرنے والی حقیقت کسی بھی زچہ بچہ سینٹر سے مل سکتی ہے ) لیکن دو یا تین بیٹیوں کی پیدائیش کی بعد ہماری سوسائیٹی میں اس بدنصیب ماں کوبات بات پہ طعنے ، سوئی ہوئی بیٹیوں کو کبھی اکیلے میں اور کبھی ماں سمیت ذبح کر دینا ، جہیز کی لعنت اور سسرال کے طعنے ، جائیداد کی خاطر بیٹیوں کی درختوں حتاکہ قرآن پاک سے شادی ، کاروکاری کی بیہودہ رسم ، بہو کے آنے کے بعد گھروں میں چولہے پھٹنے اور کتنی معاشرتی برائیاں ہیں جو بیٹیوں کے گرد گھومتی ہیں اور ہمارے اسی اسلامی معاشرے میں ۔ بیٹی کتنی مظلومیت کی زندگی گذار رہی ہےاس کو ذہن میں لاتے ہی پاگل پن کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔“
۔۔۔۔۔۔
جاوید اقبال کیانی صاحب کے مندرجہ بالا تذکرے کے روشنی میں ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ عرشی صاحبہ کی نظم کا اطلاق نہ صرف ہندو معاشرے پر بلکہ اسلامی معاشر ے پر بھی ہوتا ہے جس میں عورت پر طرح طرح کے مظالم کیے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں محمد علی خاں صاحب کے تبصرے سے اتفاق کرتا ہوں کہ بیٹی کو خدا کی نعمت کے ساتھ ساتھ یہ سمجھنا چاہیے کہ “
“ بیٹی بھی پیدا ہونے والے گھر کی مہمان ہی تو ہوتی ہے کہ آخر ایک نہ ایک دن اس نے اس گھر، ماں باپ، بہن بھائیوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے پیا گھر چلے جانا ہے ۔“
میں بھی محمد علی خان صاحب کی اس با ت سے اتفاق کرتا ہوں کہ:
“ مرد یا عورت نے آج تک یہ سوچنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ہم بھی تو کسی خاتون ہی کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں، اور وہ بھی اس خاتون کے پیٹ سے، جو کل کسی کے گھر بیٹی بن کر پیدا ہوئی تھی “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس بلاگ میں عرشی صاحبہ کے علاوہ کسی خاتون نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں عطا کیا ۔۔
پاکستانی خواتین سے یہی عرض ہے کہ وہ اس موضوع پر بلا کسی خوف کے لکھ سکتی ہیں ۔
یاد رہے کہ یہ عرشی صاحبہ کی نظم کا بلاگ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
قبلہ جناب قاضی صاحب ،
” میں یہ سمجھتا ہوں کہ عرشی صاحبہ کی نظم کا اطلاق نہ صرف ہندو معاشرے پر بلکہ اسلامی معاشر ے پر بھی ہوتا ہے جس میں عورت پر طرح طرح کے مظالم کیے جاتے ہیں “
عرض یہ ہے کہ محترمہ عرشی صاحبہ نے یہ پُر اثر نظم ایک رپورٹ ، Gender Murder in India، سے متاثر ہوکر لکھی اور میرا نہیں خیال کہ ظلم کے خلاف اس احتجاج کو انہوں نے محض ایک معاشرے تک محدود رکھا۔ اس ظلم کے خلاف اُن پہ جو نزول ہوا اسے انہوں نے فوراّ ایک زبان دے دی جو دنیا کی ہر اس سوسائیٹی پہ لاگو ہے جہاں ایسا بھیانک ظلم ہورہا ہے۔
آپ کے پہلے تبصرے ، ” مشکل یہ ہے کہ ہندوستان کے بعض ماں باپ لڑکیوں کو بوجھ سمجھ کر ان کو پیدا ہونے سے پہلے ہی ماں کی کوکھ میں قتل کردیا کرتے ہیں “ کو محض ہندو معاشرے تک محدود سمجھتے ہوئے مجھے اپنے اسلامی معاشرے میں بھی پھیلی اس برائی کی طرف توجہ دلانے کو یہ لکھنا پڑا تھا کہ :
” محترمہ عرشی صاحبہ نے تو بیٹیوں سے متعلق جہالت کا صرف ایک پہلو دکھایا ہے جو اکثر سامنے نہیں آتا ( جبکہ رونگٹے کھڑے کرنے والی حقیقت کسی بھی زچہ بچہ سینٹر سے مل سکتی ہے ) لیکن دو یا تین بیٹیوں کی پیدائیش کی بعد ہماری سوسائیٹی میں اس بدنصیب ماں کوبات بات پہ طعنے ، سوئی ہوئی بیٹیوں کو کبھی اکیلے میں اور کبھی ماں سمیت ذبح کر دینا ، جہیز کی لعنت اور سسرال کے طعنے ، جائیداد کی خاطر بیٹیوں کی درختوں حتاکہ قرآن پاک سے شادی ، کاروکاری کی بیہودہ رسم ، بہو کے آنے کے بعد گھروں میں چولہے پھٹنے اور کتنی معاشرتی برائیاں ہیں جو بیٹیوں کے گرد گھومتی ہیں اور ہمارے اسی اسلامی معاشرے میں ۔ بیٹی کتنی مظلومیت کی زندگی گذار رہی ہےاس کو ذہن میں لاتے ہی پاگل پن کے دورے پڑنے لگتے ہیں“
اب آپ کے اس ارشاد ، ” میں یہ سمجھتا ہوں کہ عرشی صاحبہ کی نظم کا اطلاق نہ صرف ہندو معاشرے پر بلکہ اسلامی معاشر ے پر بھی ہوتا ہے جس میں عورت پر طرح طرح کے مظالم کیے جاتے ہیں “ کے بعد میں اور آپ یکسانیت سے اس ظلم کے خلاف ہم آواز ہیں۔
محترمہ عرشی صاحبہ نے اتہائی مہارت سے زندگی کے کچھ چھپے پہلوئوں سے پردہ اٹھایا ہے ۔ سب سے پہلے انہوں آج کی اس سائینسی ایجاد ، جسے سکیننگ کہا جاتا ہے ، کی طرف توجہ دلائی۔ یہ ایجاد مذہبی لحاظ سے تو قابل اعتراض ہے ہی کہ رحم مادر کے اندر سائینس میں کون سا جادو ہے جو کسی نومولود کے اندھا، بہرا، گونگا یا اپاہج ہونے کا پتہ دے سکے یا اس کی کسی بیماری کا کھوج لگا کر وہیں اس کا علاج کرسکے یا اس کی جنس کی سو فیصد گرنٹی دے سکے ، جبکہ دنیا کے تقریبا ہر ملک میں اکثر اوقات سکیننگ رپورٹ اور حقیقت میں تضاد پیش آیا لیکن سائینس نے خود بھی اس ایجاد کی مخالفت کردی ۔ایک تو اس لئے کہ سکیننگ کے دوران ’ ریڈی ایشن ‘ کے نومولود کے دل و دماغ یا جسم کے دوسرے حصوں پہ بُرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اور دوسری وجہ جو پہلے بھی بیان کی گئی کہ سکیننگ کی رپورٹ اور حقیقت میں ، دنیا کے تقریبا ہر ملک میں ، ایک سے زیادہ دفعہ تضاد پایا گیا تیسرے خود سائینس کی ریسرچ کے مطابق سکیننگ کی بنا پہ زچہ ڈیپریشن کا شکار ہوئی ۔
اب بیٹی پہ ظلم کی داستان کا آغاز ہوتا ہے۔ دینا میں ہر جگہ انسان بیٹے کی پیدائیش کی ہی خواہش رکھتا ہے۔ مغرب جیسی مہذب اور روشن خیال سوسائیٹی میں بھی باپ بیٹے کا متمنی ہے جسے وہ فٹ بالر، کرکٹر یا باکسر بنوائے جو خوب دولت کمائے۔ مشرق میں بھی ایک چرواہا ایک بیٹا ہی مانگتا ہے جو اس کی بکریاں چرائے، ایک کسان بھی بیٹا ہی مانگتا ہے جو اس کی کھیتی باڑی سنبھالے ، ایک بزنس مین بھی بیٹا ہی مانگتا ہے جو اس کا کاروبار سنبھالے ۔ غرض زندگی کے ہر شعبے سے وابسطہ فرد کی خواہش بیٹے کی ہی ہوتی ہے جو بیٹی کے نام پہ پہلا وار ہے۔
سکیننگ میں بیٹی کی آمد کی خبر ماں کے لئے دوزخ کا باعث تو بنتی ہی ہے مگر ساتھ ہی abortion جیسے بھیانک ظلم کا بیان ہے جو کہ اس انٹرنیشنل رپورٹ کی روشنی میں سب سے زیادہ انڈیا میں ہے لیکن ہماری سوسائیٹی بھی کم نہیں۔ اور اکثر ماں کی کوکھ میں پلنے والی معصوم روح بغیر کفن ، جنازے ، اور قبر کے بڑی مظلومیت سے ’گٹر میں بہا دی جاتی ہے‘ اور محترمہ نے اس روداد کا بڑا ہی صحیح اور دردناک نقشہ کھینچا ہے ۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ abortion سے بچنے کے بعد کئی بیٹیاں لپیٹ کر گندگی کے ڈھیر پہ پھینک دی جاتی ہیں اور جب سے ایک درد دل رکھنے والے انسان، مولانا عبد الستار ایدھی، نے لاوارث بچیوں کے سینٹر کھولے ہیں یہ بچیاں وہاں رکھ دی جاتی ہیں۔
جہاں بیٹے کی خواہش رکھنے والے باپ کو وارث نہ ملا ، اس شقی القلب نے بیٹیوں کو ماں سمیت یا اکیلے میں سوتے میں ذبح کرنے سے بھی دریغ نہ کیا اور اکثر اوقات ایسا بھی ہوا کہ خود بیٹیوں نے ماں باپ کی مجبوری کے ہاتھوں پھندے کو اپنا مقدر بنا لیا۔
بیٹی جوانی میں قدم رکھنے کے بعد اگر ذرا سا بھی لڑکھڑائی تو عزت کے نام پہ ذبح کر دی گئ یا کاروکاری کی نظر ہوگئی، بیٹا ایسا جرم خواہ ہزار بار بھی کرے وہ مرد کا بچہ کہلائے گا؟
اگر کسی نے بیٹیوں کو کسی طرح پال پوس لیا تو ان کی شادی اس کے لئے عذاب بن گئی کہ ان کے لئے جہیز کہاں سے لائے جو ان کے سسرال کی ڈیمانڈ ہے ، نہیں تو سسرال کے گھر پھٹنے والا چُولہا ان کا منتظر ہوتا ہے۔ اور کئی لالچی وڈیرے تو بیٹیوں کی شادی ہی نہیں کرتے یا پھر قرآن یا کسی درخت سے کر دیتے ہیں کہ کہیں ان کی جائیداد تقسیم نہ ہو جائے۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا کہ جہالت کا صرف ایک پہلو ہی محترمہ عرشی صاحبہ کی نظم کا محور ہے۔ میں نے دوسرے پہلوئوں کا سرسری سا ذکر کیا تھا کہ شاید کہیں اور سے بھی کوئی آواز اٹھے گی مگر جب چار خاموشی دیکھی تو پھر اپنے ہی نقاط کوقدرے تفصیلا لکھنا پڑا کہ یہی اس نظم سے انصاف اور حق کی آواز کے ساتھ ہم آواز ہونے کا تقاضہ کرتا ہے۔
بہت دنوں پہلے کی بات ہے کہ علامہ راشدالخیری ہندوستان سے عصمت نامی ایک اردو رسالہ شایع کیا کرتے تھے۔ جس میں وہ عورت کی دکھ بھری داستان بڑے ہی پرسوز اور پر اثر انداز میں لکھا کرتے تھے۔ اس لیے علامہ راشد الخیری کو مصورِ غم کے نام سے پکارا جاتا تھا۔
اب اس بلاگ میں عرشی صاحبہ کی نظم اور اس پر جاوید اقبال کیانی صاحب اور محمد علی خان صاحب کے حقیقت پر مبنی دردناک تبصروں نے مصورِ غم کی تحاریر کی یاد تازہ کردی۔
ان دونوں مبصروں نے حقیقت بیانی سے کام لیا ہے۔
اب اس بلاگ میں خواتین کے تبصروں کے پڑھنے کی خوہش ہے ۔
اگراس بلاگ میں مرد ہی عورتوں کی حمایت میں مزید کچھ لکھتے رہیں تو مدعی سست و گواہ چست کا طعنہ سننا پڑے گا ۔
کہنے کو صحن وقت مین تبدیلیاں ہوئیں
لیکن فضائیں اور شقادت فشاں ہوئں
اکمل سید صاحب کو اس بلاگ میں اپنا شعر شایع کرنے پر خوش آمدید اور شکریہ؛
امید کہ وہ اسی طرح نہ صرف اس بلاگ میں بلکہ عالمی اخبار کے دوسرے تمام بلاگوں میں تشریف لاتےرہینگے.
اکمل سید صاحب سے یہ پوچھنا ہے کہ ان کے شعر کے دوسرے مصرعہ میں جو لفظ شقادت ( ش ق ا د ت ) ہے ، اسکا مطلب کیا ہے؟
کیا یہ لفظ شقاوت تو نہیں ہے ؟ جس کا معنیٰ بد بختی ، بد نصیبی ، بد معاشی اور سنگد لی ہے
بہر کیف:
کسی فلم کا شعر ہے کہ :
اس انجمن میں آپ کو آنا ہے بار بار
دیوار و در کو غور سے پہچان لیجئے
فقط:
اس بلاگ کا ناظم
منظور قاضی
جرمنی سے
salam Qazi Sahab My urdu version is not working i am trying to correct but i am not able to do the reason i do not know the correction which mad is 100% correct and meaining u also mention in your para thanks for correction it is typing mistake
اکمل سید صاحب کو سلام و دعا کے بعد عرض ہے کہ وہ مایوس نہ ہوں اور اگر انٹر نیٹ ایکسپلورر سے ، یونی کوڈ اردو میں ٹایپ کرنے میں مشکل ہورہی تو کسی دوست سے کہیں کہ وہ آپ کے کمپیوٹر میں فائر فوکس مزولہ کا براوزر ڈاون لوڈ کرے۔
میں فنی معاملہ میں بالکل پید ل ہوں اس لیے آپ کی اس سے زیادہ مدد نہیں کر سکتا ۔
ویسے آپ اس وقت جہاں پر بھی ہیں خوش رہیں اور اپنے پاکستانی سیلاب زدہ بھائیوں اور بہنوں کی فکر کریں اور ہوسکےتوا نکی مدد کریں ۔
آپ کے اس شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اچھی خاصی شاعری کرتے ہیں ۔
کہنے کو صحن وقت مین تبدیلیاں ہوئیں
لیکن فضائیں اور شقاوت فشاں ہوئیں
یہ شعر پاکستان کی اور خاص طور پر سیالکوٹ کی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب آپ اردو یونی کوڈ مین لکھنے کے قابل ہوجائیں تو عالمی اخبار کے بلاگوں میں آتے رہیے۔
فقط :
خیر اندیش
منظور قاضی
از جرمنی