یہ ھے انگریزی کا حال !! 🙂 اور ھمارے ذہین کی طاقت، آزمائش شرط ھے !
Thought you might like to see this one, just proves how good some peoples spelling really is
This is weird, but interesting!
fi yuo cna raed tihs, yuo hvae a sgtrane mnid too
Cna yuo raed tihs? Olny 55 plepoe out of 100 can.
i cdnuolt blveiee taht I cluod aulaclty uesdnatnrd waht I was rdanieg. The phaonmneal pweor of the hmuan mnid, aoccdrnig to a rscheearch at Cmabrigde Uinervtisy, it dseno’t mtaetr in waht oerdr the ltteres in a wrod are, the olny iproamtnt tihng is taht the frsit and lsat ltteer be in the rghit pclae. The rset can be a taotl mses and you can sitll raed it whotuit a pboerlm. Tihs is bcuseae the huamn mnid deos not raed ervey lteter by istlef, but the wrod as a wlohe. Azanmig huh? yaeh and I awlyas tghuhot slpeling was ipmorantt 🙂

OMG –Me Helpless
Hm taht is gaert, ifonmtaivte,
It ralley ipmerscie
waoo MashALLAH nighat ji and brother shoaib means u both have great minds 🙂 and you are one of those 55 out of 100 people who can read it ! great !
yes that is called !! Brain Power. “we only use 10% of our brain consciously, Apparently the unused 90% is hidden below the surface, out of sight and almost out of mind.
Allah has made us so magnificant and with so much power, that if we think of it its amazing !!
but we should use these powers in right direction always 🙂 ”
اللہ تعالیٰ نے انسان کا دماغ بہت ہی اعلیٰ معیار کا بنایا ہے۔ اور اسکی ہر تخلیق کے پیچھے حکمت ہے۔ اُس کی دانائی ہماری ادنیٰ عقل سے ماورا ہے۔
“تمہارا مالک اللہ ہے، وہ دن کو رات سے ڈھانپتا ہے جو اس کے پیچھے لپکی چلی آتی ہے، اور سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم میں بندھے ہیں۔ سنو! بنانا اور حکم دینا اُسی کا کام ہے۔ کیا برکت والا ہے اللہ سارے جہاں کا مالک ! ” (سورہ اعراف: 45)
مسلہ تو فہم اور فکر کا ہے۔آیات کی صداقت سے کس کو انکار ہے مگر یہ آیات خود اسوقت تک فعال نہیں ہوتی جب تک ان پر عمل کرنے والا خود فعال نہ ہو۔ہمیں دماغ اور ذہن کے درمیان فرق کو بھی محل نظر رکھنا ہو گا کیونکہ ذہن اس سارے عمل کا جوہر ہے اور جوہر ہی وہ عنصر ہے جس سے ایٹم بم تک تخلیق پا جاتا ہے۔
کسی کی تحریر( مجھے اصل تخلیق کار کا نام معلوم نہیں، کیونکہ مجھے یہ اقتباس کسی دوست نے بھجوایاتھا) میں سے ایک اقتباس:
The English Language
Have you ever wondered why foreigners have trouble with the English Language?
Let’s face it
English is a stupid language.
There is no egg in the eggplant
No ham in the hamburger
And neither pine nor apple in the pineapple.
English muffins were not invented in England
French fries were not invented in France.
We sometimes take English for granted
But if we examine its paradoxes we find that
Quicksand takes you down slowly
Boxing rings are square
And a guinea pig is neither from Guinea nor is it a pig.
If writers write, how come fingers don’t fing.
If the plural of tooth is teeth
Shouldn’t the plural of phone booth be phone beeth
If the teacher taught,
Why didn’t the preacher praught.
If a vegetarian eats vegetables
What the heck does a humanitarian eat!?
Why do people recite at a play
Yet play at a recital?
Park on driveways and
Drive on parkways
You have to marvel at the unique lunacy
Of a language where a house can burn up as
It burns down
And in which you fill in a form
By filling it out
And a bell is only heard once it goes!
English was invented by people, not computers
And it reflects the creativity of the human race
(Which of course isn’t a race at all)
That is why
When the stars are out they are visible
But when the lights are out they are invisible
And why it is that when I wind up my watch
It starts
But when I wind up this observation,
It ends.
بھئی واہ مصباح بھائی نے کیا انگریزی کا پوسٹ مارٹم کیا ھے ۔۔ جی خوش ھو گیا ھم انگریزی کے ماروں کا ۔۔۔
مگر ہم جیسے اردو میڈیم کیا کریں کہ جنہیں انگریزی آتی ہی نہیں۔
بابا پلیز آپ سڈنی آ کر سییکھ لیں ۔۔ یہ لندن تو بلکل بیکار جگہ ھے ۔۔ میرے بھائی بھی انگریزی کے ساتھ یہی سلوک کرتے ھیں ۔۔
ھا ھا کیا بات ھے !! بیچاری انگریزئ
If a vegetarian eats vegetables
What the heck does a humanitarian eat؟ ھا ھا ھا
اور If the plural of tooth is teeth
Shouldn’t the plural of phone booth be phone beeth
ویسے مصباح بھائی زبردست تحریر ھے، ھماری اردو زندہ باد 🙂
سیکھنے کے لیئے سڈنی آنا کیوں ضروری ہے اور جس نے ”فرنگستان” میں رہ کر نہیں سیکھی وہ بھلا کینگروؤں کے دیس میں کہاں سے سیکھے گا جی۔
ھمدانی صاحب آپ کو تو انگریزی آتی ھے ، میں نے خود سنا تھا ایک دفعہ ، مجھے پورا یقین ھے وہ آپ انگریزی ھی بول رہیے تھے
!! !! 🙂
ھمدانی صاحب یہ بتایہں کہ کیا آپ سے پڑھا گیا اوپر کا بلاگ ، کیا آپ بھی ان 55 / 100 لوگوں میں آتے ہیں
اور نگہت جی یہ سڈنی میں بھی یہی بولی جاتی ھے ، یا کوئی اور زبان ؟
لیجیے اور سنیئے ۔۔بابا مصباح بھائی والی انگریزی صرف کینگرؤں کے دیس میں ھوتی ھے ۔۔ سڈنی زندہ باد ۔۔ اردو زندہ باد ۔۔ثنا تمھارے بیلجیم میں بھی ایسا کچھ نہیں ھوتا ھو گا ۔۔بابا کے ساتھ ھی آ جانا ۔۔ ۔
اردو کی حمایت کا وقت آن پہنچا۔ جرمنی سے بھائی منظور قاضی کی مدد درکار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ سن رہے ہیں قاضی صاحب ۔
اف او !! نگہت جیییییییی میرا بیلجیم نہیں ھے میں برمنگھم میں ھوں !!
اف بابا یہ کن کو آواز دے دی آپ نے ۔۔ میرے خدا منظور بھائی تو آجکل اردو کو سمندر سے بھی نکال لانے کے چکر میں ھیں ۔۔ ابھی آسمان تک گئے تھے وہاں سے کچھ نایاب بلاگرز کے لنک اور ویب سائٹس لائے تھے ۔۔ پلیز منظور بھائی جلدی آیئں اور اردو کہ بچا لیں ۔۔ سمندر بعد میں دیکھ لیجیئے گا ۔۔
توبہ ثنا ۔۔ سارا یورپ ایک ھی جیسا لگتا ھے ۔۔ ایک ایک گھنٹھے میں ملک بدل جاتا ھے ۔۔ چلو نا برمنگھم کر لیتے ھیں ۔۔ بیلجیم واپس ۔۔ اصل میں میرے ابا جی وہاں گئے ھوئے ھیں ، ان سے رات دن بات ھوتی ھے تو بس بیلجیم زہن میں جیسے ھر ملک کا نام ھو گیا ھے ۔۔ اچھا ثنا یہ بتاؤ آ کب رھی ھو ۔۔
جی شکریہ 🙂 کوئی بات نہیں !صحیح کہا پورا یورپ ایک سا ھے ؛
ویسے آپ سڈنی آنے کا پوچھ رہی ہیں نا، تو میرے خیال سے عالمی اخبار کی کوئی تقریب رکھیں اس میں سب آہیں کتنا مزہ آئے گا سب سے ملاقات بھی ھو جائے گی !
آئیڈیاز تو ختم ھے ثنا پر ۔۔ بات تو بہت ھی مزے دار سی ھے ۔۔ یقینا بہت ھی مزا آیئگا ۔۔ واقعی مل کر سوچتے ھیں ایسا کچھ ۔۔
یہ ثنا بھی ہر روز کوئی نا کوئی نئی کھوتا کہانی پیش کر دیتی ہے- ثنا نیا شوشہ چھوڑ دیتی ہے اور لوگوں کو لڑوا مروا کے خوش ہوتی ہے- آپ مانیں نا مانیں آغا جی مجھے تو یہ کوئی عالمی اخبار کے خلاف عالمی سازش لگتی ہے- اب دیکھیں کہ اس انگریزی کا کیا تک تھا ؟ ثنا کو سندھی میں کچھ لکھنا چاہئے تھا – اور اب ایسا حملہ کیا ہے کہ آپ کو قاضی صاحب کی مدد کی ضرورت پڑ گئی – آغا جی ذرا غور اور فکر کریں-
یہ کس نے ہمارے دیس کا نام لیا ہے جناب، کون ہے جس نے ابھی تک بہلجیئم نہیں دیکھا، ایک بتاؤں کہ ’’ جِنے بہلجیئم نیئں تکیا جمیا ای نہیں‘‘ ایتھے نپولین مریا، جمیا نہیں،ایتھے یورپی یونین وسدی اے، ایتھے ناٹو شاٹو لگدی اے، ایتھے یونیسیف وی رجدی اے، تے یو این او وی گجدی اے، اے یلجئیم اے اے بہلجئیم اے۔۔۔۔ ویسے بھی اسلامک کونسل یورپ کا سیکریٹری جنرل ہونے کی وجہ سے ادھر میٹنگز ہوتی ہتی ہیں اور اچھی بات ہوگی۔ کہ اخبار کی اجرائی تقریب منعقد کی جائے، جس میں آسٹریلیا، امریکہ، یورپ اور پاکستان سے پریمی صاحب جو کہ پھر ایک بار غائب ہیں انکو بھی بلایا جائے، اور قاضی صاحب کو بلانا ہی پڑے گا نہیں تو اردو انکو اور انکی اردو ہم کو لے بیٹھے گی۔
ah ah ah sey i nac daer siht
لو جی آئیڈیا اچھا ہے۔عمران ہی اس پر کام شروع کر سکتا ہے کیونکہ اسے فنڈ ریزنگ آتی ہے۔ بیچارہ عالمی اخبار جس کے پاس ایک ڈالر کا اشتہار تک تو ہے نہیں اپنے اجرا کی تقریب کہاں سے کرے گا۔ خاکم بدہن اللہ نہ کرے کہیں اخبار بند کرنے کی تقریب نہ کرنا پڑے۔ سکہ رائج الوقت دھوکہ دہی اور محسن کُشی نہ ہمارا مزاج ہے اور نہ ہمارا دین و مسلک۔ اس لیئے بس اسی طرح جیتے رہیں گے جب تک آپ سب ساتھ ہیں اور اس مالک و خالق کا کرم شام حال ہے جس کے ہاتھ میں زندگی،موت اور رزق ہے۔
عرض ھن ریت آھی تہ سائین رحمت صاحب ! السلامُ عليڪم؛ سائين توهان جو ڪهڙُوحال آهي؟
توھان جی وڏی مھربانی
باتیں کرنا) ، اھو کم سولو آہے 🙂 مونکھے تنھنجی انھن گالھین تے ڈاڈھی کِھلَ اچے تھی)
ڈاڈھو سُٹھو سائیں ،
منهن توھان جو شاگرد سندھی
اب آپ خوش ہیں، آپکی سندھی میں بھی لکھ دیا ! اب وہ عالمی سازش کا الزام اتنا بڑا الزام میرے سر نہ لگایہں !
بہت خوب۔اچھی بات ہے،میں تو ایک زمانے سے اس بات کا حامی ہوں کہ ہم فرنچ،جاپانی،چینی،ہیپانوی یا ایسی ہی کوئی غیر ملکی زبان سیکھنے یا بولنے میں فخر محسوس کرتےہیں تو سندھی،پنجابی،بلوچی یا پشتو بولنے یا لکھنے میں کیوں فخر نہیں کرتے۔ عالمی اخبار اس امر کا نقیب بننا چاہتا ہے کہ اگر کوئی اپنی مادری زبان میں لکھنا چاہے تو ضرور لکھے کہ اس طرح ہم جیسے طالب علم بھی ملکی مقامی زبانیں سیکھ سکتے ہیں۔
عمران صاحب آپکے فارمولے کے مطابق تو میں پیدا ہو چکا ہوں کیونکہ ایک سال بلجئیم میں رہا ہوں۔
ویسے یہ 55 فیصد والی بات گپ ہی ہے۔ تقریبا ہر بندہ ہی یہ تحریر پڑھ سکتا ہے اگر انگریزی آتی ہے تو۔
ھا نا فیصل بھائی مطلب ھی یہ ھے کہ 55 فیصد کو صرف انگریزی آتی ھے !! ان میں سے ایک آپ بھی ہیں ! 🙂
ثنا شل خوش ھجو! بہت اچھا کیا کہ سندھی میں لکھا۔ میں تو اسے ایک اچھی کاوش کھ سکتا ھوں۔ میں نے ایک سائٹ دیکھی ہے جہاں سے سندھی الفا بیٹ ڈاون لوڈ کئے جا سکتے ہیں- بابا جی اجازت کے ساتھ کبھی سندھی میں بھی لکھوں گا- کتنی بد قسمتی ہے کہ ہم اپنے ملک کی زبانیں بھی نہیں جانتے- کاش کہ مجھے پشتو اور بلوچی بھی آتی- ویسے ثنا یہ آپس کی بات ہے یہ تحریر کس سے لکھوائی تھی؟ میں کسی کی نہیں بتائوں گا-
توھان جی ودی مھربانی !
میں نے یہ کسی سے نہیں لکھوائی ، خود لکھی ھے ساہیں جی ! کیا صرف آپ کو ھی سندھی آتی ھے ، اب پشتو اور بلوچی کی بھی کوشش کروں گی !! 🙂
ثنا مجھے لگتا ہے کہ آپ کا اور جعفر بھائی کا استاد ایک ہی ہے- چلو اچھا اگر آپ کو سندھی آتی ہے تو اس شعر کا ترجمعہ حوالے کے ساتھ کریں-
مانھون سبھ نہ سھنان پکھی سبھ نہ ھنج
پر کنھن کنھن مانھون منجھ اچی بوئ بھار جی
آ پتر اب ھوگا آپ کا امتحان
انگریزی پر ایک اور کسی نا معلوم لکھاری کی تحریر آپ سب کی نظر:
The European Commission has just announced an agreement whereby English will be the official language of the EU rather than German which was the other possibility.
As part of the negotiations, Her Majesty’s Government conceded that English spelling had some room for improvement and has accepted a five year phase-in plan that would be known as “Euro-English”.
In the first year, “s” will replace the soft “c”. Sertainly, this will make the sivil servants jump with joy. The hard “c” will be dropped in favour of the “k”. This should klear up konfusion and keyboards kan have 1 less letter.
There will be growing publik enthusiasm in the sekond year, when the troublesome “ph” will be replaced with “f”. This will make words like “fotograf” 20% shorter.
In the 3rd year, publik akseptanse of the new spelling kan be ekspekted to reach the stage where more komplikated changes are possible. Governments will enkorage the removal of double letters, which have always ben a deterent to akurate speling. Also, al wil agre that the horible mes of the silent “e”s in the language is disgraseful, and they should go away.
By the fourth year, peopl wil be reseptiv to steps such as replasing “th” with “z” and “w” with “v”. During ze fifz year, ze unesesary “o” kan be dropd from vords kontaining “ou” and similar changes vud of kors be aplid to ozer kombinations of leters.
After zis fifz yer, ve vil hav a reli sensibl riten styl. Zer vil be no mor trubl or difikultis and evrivun vil find it ezi to understand ech ozer. Ze drem vil finali kum tru! And zen world
ys dat is hw ppl wrtin thes dayz,itz so funy bt stll thy use it 2 mke it shrtr !but thy r hppy wd it 🙂
واہ بہن خوب تشریح کی ہے۔ زندہ باد
ASLAMO ALEKOM Ji lo je ae nwan bkhera pa leya ji asan de te angreze ch campt ai geye se metrak ch es leye koye tbsra bnda hee nahein wese acha sughal heee Dil ke behlane ko Sukreya Tahir Malik Germany
And I always blame my dyslexia for my poor spelling. But now I know that I am one of the 55 with great mind.
اسلام علیکم جناب صفدرہمدانی صاحپ سے شرف ملاقات کے بعد تقریباً دو دن سے عالمی اخبار کا مطالعہ کر رہا ہوں ۔ تمام تر معلومات کے ساتھ ایک اچھا اخبار پایا- انگریزی پر عبور حاصل نہیں – لیکن اردو کو اپنی ایندہ نسل میں منتقل کرنے کی خواہش رکھتا ہوں- انشاءاللہ عالمی اخبار کے زرئعے رابطہ برقرار رہے گا- شکریہ؛ واسلام نیاز مند – ظہور احمد برلن
واہ جناب اصلی اور خالص انگرہزی تو اب پٹرھی ہے۔ ہم تو آج سے پہلے چیچوں کی ملیاں میں رہتے تھے۔
nice postmartm of Ng-LiSh