لیجئے ذرا یہ خبر بھی پڑھ لیجئے۔
کراچی پولیس نے ایک غریب دکاندار کے آپریشن کے دوران گردہ چوری کرنے کے الزام میں ڈاکٹر کو گرفتار کرلیا ہے۔گلستان جوہر کے رہائشی محمد کاشف کو کچھ عرصے سے پیٹ میں تکلیف تھی۔ میڈیکل رپورٹوں میں معلوم ہوا کہ اسے پتے میں پتھری ہے۔محمد کاشف کے بھائی ثاقب نے بتایا کہ اس کے بھائی کو میڈی کامپلیکس کے ڈاکٹر کاشف متین نے بتایا تھا کہ پتے کا آپریشن کیا جائے گا جس کے بعد یہ تکلیف ختم ہوجائے گی۔
اقب نے بتایا ’کاشف کا میڈی کامپلیکس میں آپریشن کیا گیا جو نوے منٹ تک جاری رہا ڈاکٹر نے انہیں پانچ دن ہسپتال میں رکھا اور پھر فارغ کردیا
کچھ دن کے بعد پھر سے درد شروع شروع ہوگیا۔ ہم نے ڈاکٹر سے رجو ع کیا انہوں نے دوائی دے دی اور کہا کہ اس سے درد ختم ہوجائے گا‘۔
ثاقب کے مطابق ڈاکٹر کی دوائی جاری رہی مگر تکلیف کی شدت میں کوئی کمی نہ ہوئی، ’جس کے بعد کچھ لوگوں کے مشورے پر ہم نے دوسرے ڈاکٹر سے معائنہ کروایا۔ الٹرا ساؤنڈ سے پتہ چلا کہ دائیں طرف کا گردہ موجود ہی نہیں ہے جبکہ پتہ اپنی جگہ پر موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم ڈاکٹر کاشف متین سے ملنے کی کوشش کرتے رہے مگر وہ نہ ملے جس کے بعد ہم نے ان کے خلاف گردے کی چوری کا مقدمہ دائر کروایا ہے۔
میرا نام غریب ہے اور میری ذات غربت- روز مرنا اور روز جینا میرا پیشا ہے- مجھے مارنے کی بسیار کو ششیں کی گئی ہیں مگر میں مرتا بھی نہیں- میں نے خو د بھی کئی دفع خود کشی کی ہے مگر میں مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جاتا ہوں- اسی وجہ سے یہ میرا پیشا بن گیا ہے- میں صبح اٹھ کر مزدوری کی تلاش میں نکلتا ہوں- اگر مزدوری نا ملے تو میں اپنے جسم کا کوئی حصہ بیچنے کی کو شش کرتا ہوں کیوںکہ گھر میں میرے بہت سے ہمنام غریب میرے ہاتھوں میں آٹا دیکھنے کے منتظر ہوتے ہیں- لیکن دنیا کو اس پہ بھی اعتراض ہے- میرے جسم پہ حق تصرف مجھے ہے کسی اور کو نہیں-
میں نے کئی دفعہ خود کشی کی لیکن یہ مالدار بھی عجیب لوگ ہیں کہ مجھے دوبارہ زندہ کر دیتے ہیں- اگر میں مر گیا تو ان کی نوکری کون کرے گا؟ شاید یہ سوچ کر یہ لوگ مجھے زندہ رکھنے پہ مجبور ہیں- میں نے کئی مرتبہ اپنے بچے بھی فروخت کئے اور کافی بچوں کو اپنے ھاتھ سے بھی ذبح کر ڈالا تا کہ وطن عزیز میں اگر غربت ختم نہیں ہوتی تو کم ہی یو جائے- میں تو ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہوں مگر میری ذات اتنی ڈھیٹ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی-
صاحبان دولت جب مجھے نفرت اور حقارت سے دیکھتے ہیں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے – اگر میں نہ رہا تو یہ شاہان وقت کس سے نفرت کریں گے؟ میں کسی کے کام تو آتا ہوں- میری زندگی کا کوئی خاص مقصد نہیں مگر میں تو زندہ بھی اوروں کے لئے ہوں-
اے فراعین وقت! جتنا آپ زکوات اور خیرات کے نام پہ خرچ کرتے ہیں اگر اتنی رقم کا کوئی زود اثر زہر سب غریبوں کو کھلا دیں تو میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ غربت سے میرا وطن پاک ہو جائے گا-
رحمت بھائی شاید آپکو لکھتے ہوئے شعوری طور پر یہ احساس ہی نہ ہوا ہو کہ لکھی تو آپ نے حقیقت ہے لیکن ادبی تکنیک کے اعتبار سے یہ مکمل ”مختصر افسانہ” ہے جس کے موجدوں میں سے پاکستان میں ایک اسلم خان جدون تھے اور ظفر خان نیازی کی کتاب چوکور پہیئے بھی اسی تکنیک پر تھی۔اس مختصر افسانے کو اہل ادب نے ”افسانچے” کا نام دیا ہے۔ گویا آپ نے پہلا افسانچہ تحریر فرما دیا۔
ساہیں جی مبارک پہلے افسانچے پر ، اب مٹھائی کب کھلائیں گے !!
ویسے حقیقت میں کافی اچھا لکھتے ہیں آپ ماشااللہ! خدا آپ کی توفیقات میں مزید اضافہ کرے امین
آغا جی اور ثنا جی مئجھے نہیں پتہ کہ میں نے شعور یا لا شعور میں لکھا اتنا ضرور پتہ ہے کہ میں نے غصہ میں لکھا- بحرحال میری قلمی کاوش کا کریڈٹ آغا صاحب کو اور دیگر سب حوصلہ افضائی کرنے والوں کہ جاتا ہے- آغا صاحب کی حوصلہ افزائی نے قلمکار بنا دیا اور جعفر بھائی کی حوصلہ افزائی نے ثنا خوان اہلیبیت سے ذاکر اہلیبیت بنا دیا- آپ سب کی دعائوں کا نتیجہ ہے-
ثنا ، آغا جی ، نگیت جی اور جعفر بھائی مولا پاک سلامات رکھین-
ثنا سے کہتی ھوں کی ھاں ابھی لکھتی ھوں اس موضوع پر ۔۔ پر کیا لکھوں ۔۔ میں تو ابھی تک سایئں جی کے لکھے درد میں الجھی ھوئی ھوں ۔۔ غربت افلاس نے ھم سب کے اخلاقیات کا بھی دیوالا نکال دیا ھے ۔۔ یہ سب کیسے لکھ دوں ۔۔ سوچ رھی ھوں ۔۔
واہ ایک تصویر کے یچھے پوری کہانی۔ ماشااللہ ثنا بہن جیتی رہو
Aslamo Alekom ji sayn ji ka Afsncha to bilkol hqeqat hee aur ap sab ke tbsree bhe ye tswer to kudha he ek hqeqe afsana beyan kar rahee he sayn ji nen us ko tfsel se beyan keya aur koob keya hee ALLHA karein zore Qalam aur zeydha Sukreya Tahir Malik Germany
طاھر ملک صاحب حوصلہ افزائی کا شکریہ- اس فیلڈ میں قبلہ ھمدانی صاحب کے ساتھ ساتھ آپ اور قمر مسعود صاحب سینئر ہیں- آپ سے بس گوتھن برگ میں ملاقات ہوئی تھی اس کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ریا- اب آپ کا نام عالمی اخبار میں دیکھا تو بیت خشی ہوئی- جہاں تک لکھنے لکھانے کا کا کام ہے آپ اس کو بہتر سمجھتے ہیں- آغا صاحب کی شفقت اور آپ جیسے بھایوں کی حوصلہ افزائی ہے ورنہ میرے جیسا انگوٹھا چھاپ انسان کس شمار مین- دعاوں میں یاد رکھیں-
بہت دردمندانہ اپیل ہے، کہ اپنے جسم کا حصہ غربت کی وہ سے بیچا جا رہا ہے، پورا جسم بِکتا ہے، اور سوچ بکتی ہے، فن بکتا ہے، قلم بکتا ہے، قلمکار بکتا ہے، زمین بِکتی ہے، چھت بِک جاتی ہے، کبھی کبھی تو پوری کی پوری قوم بِک جاتی ہے۔ گردے سے لیکر قوم تک بیچنے والا بھی انسان ہی ہوتا ہے اور خریدنے والا بھی انسان، بیچنے والا بھی ضرورت مند اور خریدنے والا بھی ضرورت مند، کوئی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیئے خود کو بیچ رہا ہے اور کوئی کسی کا چولہا بجھانے کے لیئے کچھ خرید رہا ہے، اس قسم کی خرید و فروخت جاری رہے گی جب تک وسائل کی تقسیم میں انصاف نہیں ہوتا، اور یہ حکمران کا کام ہے، اور اتفاق ایسا ہے کہ اکثر حکومتیں ان افراد کے ہاتھ میں ہیں جو خود سب سے بڑے ظالم ہیں۔ ثناء صاحبہ ہم آپکے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
ASLAMO ALEKOM sayn ji aj he hamdani ji se apü ka pucha ta aur ap ka no bhee manga mujhe yad hee ke85 ya 86 main gotanbarg main ap se mulkat hoye ji aur ap kese hein INSHALLHA ab bat chet rahee geye SU/KREYA TAHIR MALIK GERMANY
سلام آپ سب کی خدمت میں !!!
رحمت سا ئیں میں اس بلاگ میں کم و بیش جب سے ھی آ رھی ھوں جب سے میں نے یے سائیٹ جوائن کی ھے ۔۔جتنی دفعہ بھی آئی فقط آپکا لکھا پڑھنے ھی آئی ۔۔آپکا لکھا ایسا ھے کے میری آنکھیں نم ھو جاتی ھیں پڑھ کر ۔۔ آپ نے جو تصویر کشی کی ھے شاید ہی وہ حقیقت ھے جو آج تک ھم سب سمجھ تو رہے تھے مگر وہ الفاظ نہیں مل رہے تھے کے ھم بیان کر سکیں مگر آپ نے روانی میں بیان کر دیا سب کچھ ۔۔ میری اپنی یے رائے ھے کے یے آپ نے لکھا تو ھے مگر یے آپکے الفاط نہیں ھیں آپ سے لکھوایا گیا ھے یے سب ۔۔ ھم پر جب بھی بی بی پاک(ص)کی عطا ھوتی ھے تو ھاتھ ھمارے استعمال ھوتے ھیں مگر لکھواتیبی بی(ص) ھیں ۔۔ جب بھی ھم کسی مجلس و محفل میں پڑھنے بیٹھتے ھیں تو آواز ھماری ھوتی ھے مگر ھم سے پڑھواتی وہ ھستیاں ھیں جن کا ھم زکر کرنے بیٹھتے ھیں ۔۔ بیشک یے بھی ایک عطا ھے ان معصوم غریبوں مسکینوں کی جو اپنی غریبی میں مفلسی میں اپنے اور اپنے بچوں کے لیئے 2 وقت کی روٹی کے انتظام میں چل بسے ۔۔ سائیں یے ان ھی کی عطا ھے جو یہاں سے تو مفلسی میں چل بسے مگر پروردگار و بی بیپاک(ص) کے محبوب بن گئے
جب سے میں آپکا لکھا پڑھ رھی ھوں میرے پاس قسم سے الفاط ھی نہیں تھے کے میں آپ کے لکھے پر کیا لکھوں ۔۔۔ آج بہت ھمت کر کے ایک کوشش کر رہی ھوں کے بی بی (ص)مجھے اتنے الفاظ تو عطا کر دیں کے میں کم سے کم آپ کے لکھے ھوئے کے لیئے ھی کچھ لکھ دوں ۔۔ورنہ اس تصویر کیلیے لکھنا میرے بس کی بات نہیں جو آپ نے لکھ دیا اس کے بعد کچھ باقی ھی نہیں رہا کے میں کچھ لکھوں بس میری دل سے یہی دعا ھے کے آپ پر اسی طرح بی بی(ص) کا کرم رہے اور جو جو وہ (ص) آپکو عطا کریں آپ لکھتے رہیں آمین
جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم !
کوئی آس نہیں ، احساس نہیں
دریا بھی ملا ، بجھی پیاس نہیں
اک ہم ہی نہیں جسے دیکھو یہاں
وہی آنکھ ہے نم !! !!
جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم؟
http://www.youtube.com/watch?v=hme1ACXH-lg&feature=related
لیجئے ذرا یہ خبر بھی پڑھ لیجئے۔
کراچی پولیس نے ایک غریب دکاندار کے آپریشن کے دوران گردہ چوری کرنے کے الزام میں ڈاکٹر کو گرفتار کرلیا ہے۔گلستان جوہر کے رہائشی محمد کاشف کو کچھ عرصے سے پیٹ میں تکلیف تھی۔ میڈیکل رپورٹوں میں معلوم ہوا کہ اسے پتے میں پتھری ہے۔محمد کاشف کے بھائی ثاقب نے بتایا کہ اس کے بھائی کو میڈی کامپلیکس کے ڈاکٹر کاشف متین نے بتایا تھا کہ پتے کا آپریشن کیا جائے گا جس کے بعد یہ تکلیف ختم ہوجائے گی۔
اقب نے بتایا ’کاشف کا میڈی کامپلیکس میں آپریشن کیا گیا جو نوے منٹ تک جاری رہا ڈاکٹر نے انہیں پانچ دن ہسپتال میں رکھا اور پھر فارغ کردیا
کچھ دن کے بعد پھر سے درد شروع شروع ہوگیا۔ ہم نے ڈاکٹر سے رجو ع کیا انہوں نے دوائی دے دی اور کہا کہ اس سے درد ختم ہوجائے گا‘۔
ثاقب کے مطابق ڈاکٹر کی دوائی جاری رہی مگر تکلیف کی شدت میں کوئی کمی نہ ہوئی، ’جس کے بعد کچھ لوگوں کے مشورے پر ہم نے دوسرے ڈاکٹر سے معائنہ کروایا۔ الٹرا ساؤنڈ سے پتہ چلا کہ دائیں طرف کا گردہ موجود ہی نہیں ہے جبکہ پتہ اپنی جگہ پر موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم ڈاکٹر کاشف متین سے ملنے کی کوشش کرتے رہے مگر وہ نہ ملے جس کے بعد ہم نے ان کے خلاف گردے کی چوری کا مقدمہ دائر کروایا ہے۔
میرا نام غریب ہے اور میری ذات غربت- روز مرنا اور روز جینا میرا پیشا ہے- مجھے مارنے کی بسیار کو ششیں کی گئی ہیں مگر میں مرتا بھی نہیں- میں نے خو د بھی کئی دفع خود کشی کی ہے مگر میں مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جاتا ہوں- اسی وجہ سے یہ میرا پیشا بن گیا ہے- میں صبح اٹھ کر مزدوری کی تلاش میں نکلتا ہوں- اگر مزدوری نا ملے تو میں اپنے جسم کا کوئی حصہ بیچنے کی کو شش کرتا ہوں کیوںکہ گھر میں میرے بہت سے ہمنام غریب میرے ہاتھوں میں آٹا دیکھنے کے منتظر ہوتے ہیں- لیکن دنیا کو اس پہ بھی اعتراض ہے- میرے جسم پہ حق تصرف مجھے ہے کسی اور کو نہیں-
میں نے کئی دفعہ خود کشی کی لیکن یہ مالدار بھی عجیب لوگ ہیں کہ مجھے دوبارہ زندہ کر دیتے ہیں- اگر میں مر گیا تو ان کی نوکری کون کرے گا؟ شاید یہ سوچ کر یہ لوگ مجھے زندہ رکھنے پہ مجبور ہیں- میں نے کئی مرتبہ اپنے بچے بھی فروخت کئے اور کافی بچوں کو اپنے ھاتھ سے بھی ذبح کر ڈالا تا کہ وطن عزیز میں اگر غربت ختم نہیں ہوتی تو کم ہی یو جائے- میں تو ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہوں مگر میری ذات اتنی ڈھیٹ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی-
صاحبان دولت جب مجھے نفرت اور حقارت سے دیکھتے ہیں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے – اگر میں نہ رہا تو یہ شاہان وقت کس سے نفرت کریں گے؟ میں کسی کے کام تو آتا ہوں- میری زندگی کا کوئی خاص مقصد نہیں مگر میں تو زندہ بھی اوروں کے لئے ہوں-
اے فراعین وقت! جتنا آپ زکوات اور خیرات کے نام پہ خرچ کرتے ہیں اگر اتنی رقم کا کوئی زود اثر زہر سب غریبوں کو کھلا دیں تو میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ غربت سے میرا وطن پاک ہو جائے گا-
رحمت بھائی شاید آپکو لکھتے ہوئے شعوری طور پر یہ احساس ہی نہ ہوا ہو کہ لکھی تو آپ نے حقیقت ہے لیکن ادبی تکنیک کے اعتبار سے یہ مکمل ”مختصر افسانہ” ہے جس کے موجدوں میں سے پاکستان میں ایک اسلم خان جدون تھے اور ظفر خان نیازی کی کتاب چوکور پہیئے بھی اسی تکنیک پر تھی۔اس مختصر افسانے کو اہل ادب نے ”افسانچے” کا نام دیا ہے۔ گویا آپ نے پہلا افسانچہ تحریر فرما دیا۔
ساہیں جی مبارک پہلے افسانچے پر ، اب مٹھائی کب کھلائیں گے !!
ویسے حقیقت میں کافی اچھا لکھتے ہیں آپ ماشااللہ! خدا آپ کی توفیقات میں مزید اضافہ کرے امین
آغا جی اور ثنا جی مئجھے نہیں پتہ کہ میں نے شعور یا لا شعور میں لکھا اتنا ضرور پتہ ہے کہ میں نے غصہ میں لکھا- بحرحال میری قلمی کاوش کا کریڈٹ آغا صاحب کو اور دیگر سب حوصلہ افضائی کرنے والوں کہ جاتا ہے- آغا صاحب کی حوصلہ افزائی نے قلمکار بنا دیا اور جعفر بھائی کی حوصلہ افزائی نے ثنا خوان اہلیبیت سے ذاکر اہلیبیت بنا دیا- آپ سب کی دعائوں کا نتیجہ ہے-
ثنا ، آغا جی ، نگیت جی اور جعفر بھائی مولا پاک سلامات رکھین-
ثنا سے کہتی ھوں کی ھاں ابھی لکھتی ھوں اس موضوع پر ۔۔ پر کیا لکھوں ۔۔ میں تو ابھی تک سایئں جی کے لکھے درد میں الجھی ھوئی ھوں ۔۔ غربت افلاس نے ھم سب کے اخلاقیات کا بھی دیوالا نکال دیا ھے ۔۔ یہ سب کیسے لکھ دوں ۔۔ سوچ رھی ھوں ۔۔
واہ ایک تصویر کے یچھے پوری کہانی۔ ماشااللہ ثنا بہن جیتی رہو
Aslamo Alekom ji sayn ji ka Afsncha to bilkol hqeqat hee aur ap sab ke tbsree bhe ye tswer to kudha he ek hqeqe afsana beyan kar rahee he sayn ji nen us ko tfsel se beyan keya aur koob keya hee ALLHA karein zore Qalam aur zeydha Sukreya Tahir Malik Germany
طاھر ملک صاحب حوصلہ افزائی کا شکریہ- اس فیلڈ میں قبلہ ھمدانی صاحب کے ساتھ ساتھ آپ اور قمر مسعود صاحب سینئر ہیں- آپ سے بس گوتھن برگ میں ملاقات ہوئی تھی اس کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں ریا- اب آپ کا نام عالمی اخبار میں دیکھا تو بیت خشی ہوئی- جہاں تک لکھنے لکھانے کا کا کام ہے آپ اس کو بہتر سمجھتے ہیں- آغا صاحب کی شفقت اور آپ جیسے بھایوں کی حوصلہ افزائی ہے ورنہ میرے جیسا انگوٹھا چھاپ انسان کس شمار مین- دعاوں میں یاد رکھیں-
بہت دردمندانہ اپیل ہے، کہ اپنے جسم کا حصہ غربت کی وہ سے بیچا جا رہا ہے، پورا جسم بِکتا ہے، اور سوچ بکتی ہے، فن بکتا ہے، قلم بکتا ہے، قلمکار بکتا ہے، زمین بِکتی ہے، چھت بِک جاتی ہے، کبھی کبھی تو پوری کی پوری قوم بِک جاتی ہے۔ گردے سے لیکر قوم تک بیچنے والا بھی انسان ہی ہوتا ہے اور خریدنے والا بھی انسان، بیچنے والا بھی ضرورت مند اور خریدنے والا بھی ضرورت مند، کوئی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیئے خود کو بیچ رہا ہے اور کوئی کسی کا چولہا بجھانے کے لیئے کچھ خرید رہا ہے، اس قسم کی خرید و فروخت جاری رہے گی جب تک وسائل کی تقسیم میں انصاف نہیں ہوتا، اور یہ حکمران کا کام ہے، اور اتفاق ایسا ہے کہ اکثر حکومتیں ان افراد کے ہاتھ میں ہیں جو خود سب سے بڑے ظالم ہیں۔ ثناء صاحبہ ہم آپکے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
ASLAMO ALEKOM sayn ji aj he hamdani ji se apü ka pucha ta aur ap ka no bhee manga mujhe yad hee ke85 ya 86 main gotanbarg main ap se mulkat hoye ji aur ap kese hein INSHALLHA ab bat chet rahee geye SU/KREYA TAHIR MALIK GERMANY
سلام آپ سب کی خدمت میں !!!
رحمت سا ئیں میں اس بلاگ میں کم و بیش جب سے ھی آ رھی ھوں جب سے میں نے یے سائیٹ جوائن کی ھے ۔۔جتنی دفعہ بھی آئی فقط آپکا لکھا پڑھنے ھی آئی ۔۔آپکا لکھا ایسا ھے کے میری آنکھیں نم ھو جاتی ھیں پڑھ کر ۔۔ آپ نے جو تصویر کشی کی ھے شاید ہی وہ حقیقت ھے جو آج تک ھم سب سمجھ تو رہے تھے مگر وہ الفاظ نہیں مل رہے تھے کے ھم بیان کر سکیں مگر آپ نے روانی میں بیان کر دیا سب کچھ ۔۔ میری اپنی یے رائے ھے کے یے آپ نے لکھا تو ھے مگر یے آپکے الفاط نہیں ھیں آپ سے لکھوایا گیا ھے یے سب ۔۔ ھم پر جب بھی بی بی پاک(ص)کی عطا ھوتی ھے تو ھاتھ ھمارے استعمال ھوتے ھیں مگر لکھواتیبی بی(ص) ھیں ۔۔ جب بھی ھم کسی مجلس و محفل میں پڑھنے بیٹھتے ھیں تو آواز ھماری ھوتی ھے مگر ھم سے پڑھواتی وہ ھستیاں ھیں جن کا ھم زکر کرنے بیٹھتے ھیں ۔۔ بیشک یے بھی ایک عطا ھے ان معصوم غریبوں مسکینوں کی جو اپنی غریبی میں مفلسی میں اپنے اور اپنے بچوں کے لیئے 2 وقت کی روٹی کے انتظام میں چل بسے ۔۔ سائیں یے ان ھی کی عطا ھے جو یہاں سے تو مفلسی میں چل بسے مگر پروردگار و بی بیپاک(ص) کے محبوب بن گئے
جب سے میں آپکا لکھا پڑھ رھی ھوں میرے پاس قسم سے الفاط ھی نہیں تھے کے میں آپ کے لکھے پر کیا لکھوں ۔۔۔ آج بہت ھمت کر کے ایک کوشش کر رہی ھوں کے بی بی (ص)مجھے اتنے الفاظ تو عطا کر دیں کے میں کم سے کم آپ کے لکھے ھوئے کے لیئے ھی کچھ لکھ دوں ۔۔ورنہ اس تصویر کیلیے لکھنا میرے بس کی بات نہیں جو آپ نے لکھ دیا اس کے بعد کچھ باقی ھی نہیں رہا کے میں کچھ لکھوں بس میری دل سے یہی دعا ھے کے آپ پر اسی طرح بی بی(ص) کا کرم رہے اور جو جو وہ (ص) آپکو عطا کریں آپ لکھتے رہیں آمین
ماریہ علی