الفاظ کے جھوٹے بندھن میں…
اغراض کے گہرے پردوں میں…
ھر شخص محبّت کرتا ھے…
حالانکہ محبّت کچھ بھی نہیں…
سب جھوٹے رشتے ناطے ہیں…
سب دل رکھنے کی باتیں ہیں…
کب کون کسی کا ہوتا ھے…؟؟
سب اصلی روپ چھپاتے ہیں…
احساس سے خالی لوگ یہاں…
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں…
اک بار نظر میں آ کے وہ…
پھر ساری عمر رولاتے ہیں…
یہ عشق و محبّت، مھر و وفا…
سب رسمی رسمی باتیں ہیں…
ھر شخص خودی کی مستی میں…
بس اپنی خاطر جیتا ھے !! !! !! !!

منزل پر پہنچ کر بھی احساس سفر رکھنا
مشکل ھو کڑی کتنی بھی امید سفر رکھنا
نظم متاثر کرنے والی ہے۔ پسند آئی۔ شکریہ و داد قبول کیجئے
اگر ہر شخص ” خودی” کی مستی میں جیتا تو خدا بھی اپنے فیصلوں سے اس سے پوچھتا کہ ” بتا تیری رضا کیا ہے؟ ”
افسو س کہ ہر فرد صرف اور صرف اپنی ” انا ” کی مستی میں اپنی ہی خاطر جی رہا ہے۔
۔۔۔۔
محترمہ سیدہ ثنا ء نقوی صاحبہ کو اللہ طویل عمر عطا کرے وہ بھی سے اس نتیجہ پر پہنچ گئی ہیں کہ”
” یہ عشق و محبت ، مہر و وفا ۔ سب رسمی رسمی باتیں ہیں ”
۔۔۔۔
مرحبا ، بہت اچھ ی تخلیق ہے ۔ اللہ کرے فکر و نظر اور زیادہ ۔
ارے ثنا یہ نظم تم نے لکھی ھے ۔۔ بتایا کیوں نہیں ۔۔ واہ بہت عمدہ لکھی ھے ۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔۔
ثنا جی۔بہت اچھی نظم۔اسی طرح لکھتی رہیں،
گر عشق نہیں تو کچھ بھی نہیں
اس حُسن کے اُس خالق کی قسم
جُگ جُگ کے مالک کی قسم
جو ساری شکتی رکھتا ہے
اُس ہر شے پر قادر کی قسم
گر عشق نہیں تز کچھ بھی نہیں
کیا اُس مخلوق. اول کی تخلیق میں پنہاں عشق نہیں؟
کیاکیا نیلے گگن کی گہرائی میں ہر اک سایہ عشق نہیں؟
کیا مست فضا اور باد صبا کا جھونکا جھونکا عشق نہیں؟
چندا کی چمک میں عشق نہیں تاروں کی جھلمل عشق نہیں؟
گھنگور گھٹا بجلی کی چمک بارش کا برسنا عشق نہیں؟
اُس ہر شئے پر قادر کی قسم
گر عشق نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ ہوک.غزالاں لوح و قلم،گر عشق نہیں تو پھر کیا ہے
یہ لکھنا پڑہنا میں اور تم ،گر عشق نہیں تو پھر کیا ہے
یہ روح و بدن کا رشتہ بھی گر عشق نہیں تو پھر کیا ہے
انکار.محبت کرنا بھی گر عشق نہیں تو پھر کیا ہے
اُس ہر شئے پر قادر کی قسم
گر عشق نہیں تو کچھ بھی نہیں
میرا ایک قطعہ :
آپ قسمیں نہ کھائیے صاحب
آپ پر اعتبار ہے سب کو
عشق تو د و دلوں کا رشتہ ہے
درمیاں میں نہ لایئے رب کو
۔۔۔۔
فقط:
منظور قاضی از جرمنی
نگہت جی یہ چوری کا مال ہے
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا ( فانی )
جی سلام نگہت جی یہ میں نے ںہیں لکھی ! پڑھی تھی کہیں اچھی لگی بلاگ میں لکھ دی !! آپ لوگوں کو پسند آئی ،شکریہ ! انشااللہ میں بھی کسی دن لکھنے کے قابل ھو جاووں گی آپ سب کی دعا چاہیے !
مئجھے پہلے پتہ تھا کہ یہ ثنا کی نظم نہیں- مئجھے سب پتہ ہے –
ہر نفس عمر گذ شتہ کی ہے میت فانی ۔ زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا ۔ ( فانی )
خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم ۔ انیس ٹھیس نہ لگ جاے آبگینوں میں ( انیس )
۔۔۔۔۔
اگر وہ نظم ثناء صاحبہ کی نہیں تھی تو پھر کس کی تھی؟
صرف یہ لکھدینا کہ یہ “نظم چوری کی ہے ” یا یہ کہ ” مجھے پتہ تھا کہ یہ ثنا کی نظم نہیں ہے ” کافی نہیں جب تک اس کے حقیقی خالق کا نام بھی نہ لکھدیا جاے۔ ( یہ ایک سنجیدہ قسم کا الزام ہے اس لیے اس کو سنجیدگی اور معاملہ فہمی سے ہی سلجھا یا جاے تو بہتر ہے ۔)
مجھے یہ ڈر ہے کہ یہ بلاگ بھی زرقا مفتی صاحبہ کے انتہای سنجیدہ اور مقدس بلاگ کی طرح موضوع سے ہٹ کر تنزل کا شکار ہو جاے گا۔ اور پھر “صدائے احتجاج ” پر ختم ہوگا۔
بہر حال جس کسی کی تھی اس نے ” خودی ” کا لفظ اپنی نظم میں غلط معنوں میں استعمال کیا ہے ۔ اس لیے کہ اگر کوی فرد اپنی خودی کی مستی میں سرشار ہوجاے تو پھر اسکی تقدیر سے پہلے ( بقول اقبال ) خدا اس فرد سے یہ پوچھ لے گا کہ ” بتا تیری رضا کیا ہے ”
اس لیے میرا خیال ہے کہ “خودی ” کی بجاے اس نظم میں ” انا ” کا لفظ استعمال ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے کہ ہر فرد انا کی مستی میں اور انا پرستی کے نشہ میں خود غرض ، مفاد پرست ، فریبی شیطان بنجا تا ہے ۔ نہ اس کے قول پر کسی کو اعتبار ہوتا ہے نہ اسکے فعل پر ۔
بہر حال :
ایک قاری :
منظور قاضی از جرمنی
قابل صد احترام قاضی صاحب- مجھے ثنا کے تبصرہ کا انتظار تھا- بحرحال اس نظم کے خالق کا نام لکھ کر آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے- شکریہ-
محترم سائیں رحمت علی صاحب کے اوپر لکھے ہوے تبصرہ کا شکریہ ۔ مگر میں ان سے عرض کرتا ہوں کہ میں اس نظم کو شروع ہی سے سیدہ ثناء شاہ نقوی ہی کی نظم سمجھ رہا تھا اس لیے کہ انہوں نے اس نظم کے شروع یا آخر میں کسی اور خالق کا نام نہیں لکھا ۔
آپ کا یہ کہنا کہ میں نے ” اس نظم کے خالق کا نام لکھکر بہت اچھا کام کیا ” مجھے تعجب میں ڈال دیا ہے اس لیے کہ میں نے اپنے تبصرہ میں اس نظم کے خالق کا نام نہیں لکھا اسکی وجہ یہی ہے کہ مجھے اس نظم کے خالق کا اب تک علم نہیں ۔
اب اگر آپ کو اس نظم کے اصلی خالق کا نام معلوم ہو تو اس بلاگ میں لکھدین تاکہ سب کے علم میں اضافہ ہو۔
مجھے انتظار ہے۔
جناب قاضی صاحب! میں نے بھی غلطی سے یہی سمجھ لیا کہ یہ نظم فانی کی ہے- معلوم تو مجھے بھی نہیں بحرحال اگر کوئی میری بات آپ کی رنجش یا ناچاکی کی باعث بنی ہو تو نہایت معذرت خواہ ہوں
سائیں رحمت علی صاحب سے انتہای ادب سے عرض کررہا ہوں کہ اگر انکو ” معلوم نہیں ” کہ وہ نظم جسے محترمہ ثناء شاہ نقوی صاحبہ اس بلاگ کے شروع میں لکھا ، اس کا خالق کون ہے ، تو پھر یہ کہنا کہ وہ ” چوری کا مال ہے ” اور وہ ” ثناء کی نہیں ہے ” کہاں تک صحیح ہے؟
سائیںرحمت علی صاحب کو مجھ سے معذرت چاہنے کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے کہ یہ میرا اور انکا معاملہ نہیں ہے ،
یہ ثناء شاہ صاحبہ کا اور سائیں رحمت علی صاحب کا معاملہ ہے اس لیے کہ چوری کا الزام بلاگ نگار ( سیدہ ثناء شاہ صاحبہ ) پر لگا کر یہ بھی نہیں کہا گیا کہ وہ نظم اصل میں کس خالق کی ہے۔اگر وہ الزام غلط ہے تو ان سے معافی مانگنے سے یہ معاملہ سلجھ سکتا ہے۔
میں سائیں رحمت علی صاحب کی مزاح نگاری اور طنز نگاری کو عالمی اخبار کا ایک بہت قیمتی سرمایہ سمجھتا ہوں ۔ اس لیے میں ان کا احترام کرتا ہوں۔
فقط :
علم کا طالب :
منظور قاضی از جرمنی
ارے میرے بھایئوں کس بات پر بحث ھے ۔۔ کیاضروری ھے کہ ھم سب ھر وقت کسی نہ کسی کلاس روم میں ھی رھیں ۔۔۔ کبھی کبھی ھلکی پھلکی گفتگو بھی کر لیا کریں ۔۔ ھر وقت نہ ایک دوسرے کی تاک میں رھا کریں کہ کب کوئی غلطی کرے اور ھم سب اس کے پیچھے پڑے ۔۔اور اچھے بچوں۔۔آپ سب لکھتے وقت بزم سخن کا دھیان ضرور رکھا کریں ۔۔ویسے ھمیں چاھیئے کہ جب بھی کسی کا کلام یا تحریر لگائیں تو لکھنے والے کا نام بھی لکھ دیا کریں تو لکھنے والے کو اپنا حق بھی مل جائے گا اور اس طرح کی بدمزگی سے بچا بھی جا سکتا ھے ۔
امید کہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کے تبصرے کی اختتامی نصیحت پر سب عمل کرینگے ورنہ چوری کا الزام لگا نے والے ہلکی پھلکی گفتگو کو بدمزگی میں بد ل دینگے۔
یہ تبصرہ من کہ مسمی صفدر ھمدانی برلین سے بھائی مناف کے اکاؤنٹ سے لکھ رہا ہے کہ بوجوہ میرا اکاؤنٹ یہاں کھل نہیں پا رہا۔
برلین میں بیٹھ کر دلی کے مزے۔کیا خوب نوک جھونک ہے۔ ہر بات کو ویسے سنجیدہ نہیں بنا دینا چاہیئے ورنہ مجھ جیسے تو وقت سے بہت پہلے گزر جائیں گے۔ ویسے ہنسنے ہنسانے میں کوئی حرج نہیں۔عرض صرف اتنی ہے کہ جب کوئی نظم یا غزل لکھیں تط یہ بھی لکھ دیں کہ یہ کلام آپکا ہے یا کسی اور کا۔ جیسے قبلہ قاضی صاحب عام طور پر شاعر کا نام لکھ دیتے ہیں۔اس سے غلطفہمی نہیں ہوتی۔
” گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں ” ( اقبال )
صفدر ھمدانی صاحب کے ( مناف صاحب کے اکاونٹ سے ) تبصرہ سے دل کو ڈھارس بندھ گئی ہے ورنہ اس ” بزم سخن ” میں تنہائی سی محسوس ہونے لگی تھی ۔
میں کچھ اور لکھنا چاہتا تھا لیکن موضوع تبدیل ہو گیا جو کہ نہین ہونا چاہیئے تھا، اچھی بات تھی اگر ہوتی رہتی تو، قاضی صاحب کی نصیحتوں سے سبق ہی لینا چاہیئے،
ویسے جو میں نے لکھا میرا ہی کلام تھا اور فی البدیہ تھا، میں تو کافی لمبا موضوع سمجھ رہا تھا لیکن رخ تبدیل ہو جائے تو دریا سیرابی کی بجائے تباہی مچا دیتے ہیں۔ اس لیئے بند ہی باندھ لیتے ہیں۔
ماشا اللہ چوہدری عمران صاحب کیا خوب کہا ہے آپ نے :
” یہ روح و بدن کا رشتہ بھی گر عشق نہیں تو پھر کیا ہے ”
بے شک بقول آپ کے:
‘ اس ہر شئے پر قاد ر کی قسم ۔ گر عشق نہیں تو کچھ بھی نہیں ”
۔۔۔۔
آپ اپنے علم کے دریا کو بہتے رہنے دیجیے ، اقبا ل کی نصیحت کے مطابق : :
گذر جا بن کے سیل تند رو کو ہ بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں بن جا
ASLAMO ALEKOM Wah ji Wah keya mulkrha heee bhi bat ye hee ke nazm bohat achee he QASMEIN WADHE PEYAR WAFA SAB BATEIN HEIN BATOON KA KEYA aur USTAD DAMAN nein kha hee KE RESHTE NATE MAAN ETHE HEE DOLAT RAM REHMAN ETHE Tahir Malik Germany
#اپنی_راٸے_ضرور_دینا۔۔۔
ایک چھوٹی سی کاوش آپ احباب کی نظر۔۔۔
انا کی پشت پہ جب غرور تک جاتا ہے۔،
حضرتِ انساں پھر ناسور تک جاتا ہے۔۔
خود کو جو مکمل سمجھتا ہو بن امیر۔،
وہ ناقص ذہین فتور در فتور تک جاتا ہے۔۔
جوایماں گھر سے مسجد تک لے جا نہیں سکتا۔،
فتوٶں کی آڑ میں وہ بڑی دور تک جاتا ہے۔۔۔
ہوس کے پجاری، مطلوبِ بہشت ہیں فقط۔،
قصٸہ جب جنت کا، حور تک جاتا ہے۔۔۔
بیت کرنی ہی پڑتی ہے کسی کامل کے ہاتھ۔،
معاملہ جب شعور و لاشعور تک جاتا ہے۔۔۔
زنگ آلود ہوتی ہے تلوار اس حاکم کی۔۔،
جو طاٶس رباب ساز سرور تک جاتا ہے۔۔۔
صحرا بھی پھر سمندر دیکھاٸی دیتا ہے۔،
ہجر جب جام، شراب انگور تک جاتا ہے۔۔۔
محبت بھی مخلص، ہے عقیدت بھی لازم۔،
تب خدا ملتا ہے، تب منصور تک جاتا ہے۔۔۔
کہ محبت سکھا دیتی ہے تہذیب بھی۔۔،
تم سے آپ جناب حضور تک جاتا ہے۔۔۔
بکری کا بچہ بھی پھر معتبر ہوتا ہے طارق۔۔،
ہاں عشق جب جب طور تک جاتا ہے۔۔۔
دل سے۔۔۔
#ذوق_سلامت_راٸے_مطلوب۔۔۔
ادنیٰ سی کاوش احباب کی نظر۔۔
ارے میاں__! کبھی تو اپنے پیاروں کی بات کر۔،
آ پاس بیٹھ___!! کچھ اپنے یاروں کی بات کر۔۔۔
یہ کیا___؟؟ ہر وقت بس گلہ شکوہ ہے زباں پر۔،
کبھی تو ہنس ہنس کر چاند تاروں کی بات کر۔۔
پت جھڑ میں تو سبھی جڑجاتے،اجڑجاتے ہیں۔۔،
کرسکے تو اگر_! خزاں میں بہاروں کی بات کر۔۔۔
یاد ہے____کشتی ڈوب جاتی تھی بچپن میں۔۔؟
اب نہ مجھ سے__تنکے کے سہاروں کی بات کر۔۔
بات کرتا ہے جب بھی____عشق کی ہی کرتا ہے۔۔،
عشق نہیں راس_تو اس سے کناروں کی بات کر۔۔۔
ہر وقت کا تیرا رونا اے آٸینے میں کھڑے شخص۔،
کس پہ تیرا الہام__؟ زرا ان کرداروں کی بات کر۔۔
مطلب؟ سماج؟ مجبوری؟ ہوس؟ قاتل تھا تراکون؟
فقط ایک کو نہ دے الزام____چاروں کی بات کر۔۔
جہاں بہرے ہوں اپنے_____جہاں شور ہو رواج کا۔،
ایسے گونگے زمانے میں کیوں اشاروں کی بات کر۔۔
فقط محبت ہی تو نہیں سبھی کچھ زندگی میں۔،
سُنا کوٸی شوخی، نہ اِس کےبیماروں کی بات کر۔۔
سناچاہتاہوں اب__محبت کا انجام محبت طارق۔،
مجھ سے__آج نہ کوٸی عشق ماروں کی بات کر۔۔
#دل_سے۔۔۔
ایک نظم۔۔ احباب کی نظر۔۔
راٸےمطلوب۔۔۔
#چلو_گر_ساتھ_چلنا_ہے
کہتا ہے ساتھ رہنا ہے
تمہی سے یہ کہنا ہے
تمہارے بن دل نہیں لگتا
جی بھی نہ یہ کہیں لگتا
سب لالچی یہاں سب جھوٹ ہے
ہر دل میں بہت کھوٹ ہے
سب دھوکہ ہے سب مطلبی
بنا مقصد نہیں ملتے کبھی
تم جہاں بھی جانا مجھے ساتھ رکھنا
بات میری بس تم یہ یاد رکھنا
کہ مجھے اتنا ہی سمجھ آیا ہے
یہاں سب عارضی سب مایا ہے
کہا میں! پھر نہیں بدلنا ہے
چلو گر ساتھ چلنا ہے
راستہ نیک و بدی ہے
مگر یہ سفر ابدی ہے
منزل اس کی دو شاخہ
گر داٸیں ہاتھ سے ہو بلاوا
تو منزل پا لینگے ہم
گر باٸیں ہاتھ کا ہوا اشارہ
تو منزل ہم کو پا لے گی
ہاں گر تم یہ کہو
اس کی خبر کب دی تھی؟
یاد ہوگا نہ کان میں آزاں جب دی تھی
چلو مان لیتے ہیں
معصوم ہم جان لیتے ہیں
سوال تمہارا حق ہے لیکن
سوال تمہارا بے جا ہوگا
بے جا ہوگا کیونکہ
جہاں جو تمہیں پسند نہیں
جس جہاں سکوں تمہیں میسر نہیں
اور یہاں کے باسیوں سے بھی گلہ ہے
ہر دکھ درد یہاں بقول تمہیں ملا ہے
وفا کا یہاں بس نام لیوا ہیں
جینا یہاں جان لیوا ہے
کیا کب کہا تھا کسی نے؟
زندگی وفا کرتی ہے؟
ہر چاہت ادا کرتی ہے؟
یہ تو خود صدا کرتی ہے
کہ اسکی تو بس موت دوا کرتی ہے
تب راحت ملتی ہے
اور یہ حقیقت کھلتی ہے
کہ یہ سفر ابدی ہے
چلو گر ساتھ چلنا ہے
دور یہاں سے نکلنا ہے
تو سنو جاناں
وہ جو آزاں ہوٸی تھی نا
میں اور تم نے سنی تھی نا
اس کی نماز قاضا نہیں ہوتی
وقت سے پہلے بھی مگر ادا نہیں ہوتی
بس اک جماعت کا اہتمام ہونے دو
سانسیں انجام ہونے دو
زندگی کی بس شام ہونے دو
پھر لوٹ جاٸینگے
ہمیشہ ساتھ نبھاٸینگے
بس فیصلہ یہ کرنا ہے
داٸیں ہاتھ جانا ہے
باٸیں ہاتھ جانا ہے
پھر ساتھ رہنگے ہم
پھر ساتھ نبھانا ہے
#دل_سے
(بقلمِ خود)
سبحان اللہ۔۔۔۔ میں خود اس نظم کے خالق کا نام ڈھونڈتا یہاں پہنچا ہوں گوگل رحمہ اللہ علیہ کی بدولت
آپ سب کے تبصرے پڑھ کر لگا دور مغلیہ کے کسی مشاعرے میں بیٹھا ہوں۔۔
ویسے 2009 کے تبصرے ہیں کیسے ہیں اور کہاں ہیں سب احباب