عالمی اخبار کے قارئین کے لیئے برلین سے یہ میرا پہلا بلاگ ہے۔ اگرچہ یہ تعارفی بلاگ ہے لیکن اسوقت اس تحریر کا مقصد فی الحال اپنا تعارف کروانا نہیں اور یہ تعارف اگلے بلاگ تک اٹھا رکھنا چاہتا ہوں۔ اس وقت صرف یہ لکھنا چاہ رہا ہوں کہ میں اس قلم قبیلے میں عالمی اخبار کے بلاگ خاندان میں شامل ہو کر خوشی محسوس کرتا ہوں اور پوری کوشش کرؤں گا کہ خالق لوح قلم نے جتنی فکر مجھے عنایت کی ہے اسے آپ کے ساتھ مختلف موضوعات اور رُخ سے تقسیم کرؤں۔

بلاگنگ کی دنیا میں خوش آمدید
امید ہے آپ ایک اچھا اضافہ ثابت ہوں گے
بحیثیت اردو بلاگر، میں آپ کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اردو بلاگنگ کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا اور قافلہ بڑھتا جائے گا۔۔۔!
عبد المناف غلزئی صاحب کا برلن میں ایک ادبی تقریب کے موضوع پر ایک مضمون مجھے ابھی ابھی ای میل کے ذریعہ ملا۔ اس ای میل کے مضمون میں بھی کچھ اس ہی قسم کا تعارف موجود ہے اس لئے مجھے یقین ہے کہ یہ بلاگ بھی انہی کا ہے جس میں وہ اپنا نام لکھنا بھول گئے۔
میں اپنی طرف سے عبدالمناف غلزئی صاحب کو بلاگ برادری میں تشریف لانے پر خوش آمدید کہتا ہوں۔
جیسا کہ وہ جانتےہیں، یہ عالمی اخبار صفدر ھمدانی صاحب اور انکے ساتھیوں نے بڑی بے لوث مستعدی اور جانفشانی سے نومبر 2008 سے شروع کیا ہے اور اسے ابھی تک تو ایک اعلی معیار کے ساتھ جاری رکھا ہے ۔ اس اعلی معیار کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری عالمی اخبار کی انتظامیہ اور اس کے کالم نگاروں اور بلاگ نگاروں اور مبصروں پر ہے ۔
انکی تعارفی تحریر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انکی آنے والی تحریریں بھی اردو علم وا دب کی روشنی دنیا میں پھیلاتی رہینگی ۔
اے آمدنت باعث آبادی ما۔
فقط :
منظور قاضی از جرمنی
امید کر تے ھیں۔کہ آپ اچھے اچھے موضوعات کے ساتھ اس بلاگ کی رونق میں اضافہ کریں گے۔
ارے واہ یہاں تو رونق لگی ھوئی ھے ۔ آپ سب کو عالمی اخبار کے بلاگ کی محفل میں خوش آمدید ۔۔ انشاللہ آپ سب ملاقاتیں اب ھوتی رھیں گی ۔
عبدل مناف صاحب خوش آمدید! میری ایک گزارش ہے- آجکل بلاگ پہ کھوتا کہانی برڑے زور شور سے چل رہی ہے لہٰذا آپ بھی اس میں حصہ ڈال کے ثواب دارین حاصل کریں- آغا صفدر صاحب آجکل آپ کے پاس ہیں کہانی کے نشیب و فراز اچھی طرح وہ سمجھا دیں گے۔
جناب آپ کو عالمی بلاگ کی اور اردو بلاگرز کی دنیا میں خوش آمدید!
اسلام علیکم ! آپ کو عالمی بلاگ کی دنیا میں خوش آمدید ! 🙂 انشا اللہ آپ کی تحریروں سے مزید مستفید ھوں گے !!
برادرم مناف
اسلام علیکم
لیجئے ابھی ہم برلین میں آپ کی میزبانی کے لطف اٹھا کر لندن واپس آئے ہیں اور ابھی آپ سے مخاطب ہیں۔عالمی اخبار کے بلاگ میں خوش آمدید۔مجھے یقین ہے کہ سب احباب آپکے منتظر رہیں گے اور آپ اپنی راست فکر ان تک بھی پہنچائیں گے۔
ASLAMO ALEKOM MANF ji jee aeyan noon KUSHAMDEED umed hee ke qemte keylat se agahe hote rahe ge Tahir Malik Germany
جی آیاں نو جی
پہلی هی پوسٹ پر اتنے تبصرے جی مبارکاں
جب هم نے لکھنا شروع کیا تھا تو جی ایک سال تو جی همارے سوا کوئی اور بھی بلاگ دیکھتا ہے اس کا سوچابھی نهیں تھا
ایک سال کچھ مہینے بعد جا كرایک تبصرھ هوا تھا
اور کرنے والے تھے که اپنے اردو سیارھ والے زکریا صاحب کے والد محترم جناب اجمل صاحب
باقی جی لکھتے رهیں
که نئے خیالات ملیں گے جی هم جیسوں کو بھی اپ جیسے پڑھے لکھوں کی ٹیم سے
کیا اتفاق ہے، میں نے بھی اپنا بلاگ برلن سے ہی لکھنا شروع کیا تھا۔
786 سلام”علیکم، جس گرم جوشی کے ساتھ خیر مقدم ہوا اس کا اندازہ نہیں تھا، سب کا بہت بہت شکریہ، شروع ہی میں عرض کردوں کہ بعد میں کسی کو مایوسی نہ ہو کہ میں لکھنے سے زیادہ پڑھنے کا خواہاں ہوں، آپ بہنوں بھائیوں سے کچھ سیکھنے کا متمنی ہوں اور یہاں سے مجھے ملے گا بھی انشاء اللہ بہت، اس کا اندازہ مجھز جناب مبشر سعید صاحب کی کہی غزل پر آپ حضرات کےتبصروں سے ہو چکا ہے، خوشی ہوئی کہ جناب ہمدانی صاحب جیسے استاد کے ساتھ ساتھ جناب منظور قاضی صاحب کی معلوماتی گفتگو سے بھی مستفید ہوا۔
بھائی فیصل سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ اب بھی برلین ہی میں رہائش پذیر ہیں کیا؟
استادِ محترم جناب صفدر ہمدانی صاحب، برادرانِ بزرگ جناب سائیں رحمت، چوہدری عمران ثاقب و دیگر تمام حضرات اور بہن ڈاکٹر نکہت صاحبہ و دیگر خواتین کی خدمت میں سلام
مناف غلزئی بھائی کا شکریہ کہ اس غریب کو اپنے تبصرے میں یاد کیا ۔ مجھے بھی آپ سے اور سائیں رحمت علی صاحب سے بہت کچھ سیکھنا ہے۔
آپ کے بلاگ کی ابتدا بتا رہی ہے کہ آنے والے بلاگ بھی کافی معلوماتی ہونگے۔
آپ نے اپنے اوپر کے تبصرہ کی ابتدا 786 سے کی ہے جو میری کار کی لایسنس پلیٹ پر بھی بڑی عقیدت کے ساتھ موجود ہے ۔ مگر کسی صاحبہ نے میرے ایک بلاگ میں یہ کہکر مجھے ڈرا دیا کہ ” ہری کرشنا ” کے نمبر بھی 786 بنتے ہیں جو نمبر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بھی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ نومبر دسمبر 2008 میں عالمی اخبار میں میں نے اسی نمبر پر اور 92 پر ایک بلاگ لکھا تھا جس پر سیر حاصل تبصرے ہوئے اور یہ طئے پایا کہ ان نمبروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ( مگر میں نے اپنی کار کا نمبر ابھی تک نہیں بدلا ) ۔ ممکن ہے اس بلاگ کی آرکائیو میں وہ بلاگ ابھی تک موجود ہے ۔
والسلام