کراچی ، عروس البلاد ، روشنیوں کا شہر ، اس کو اندھیرے کھا گئے ، بہت عرصہ پہلے ، بجلی کے عذاب پر یہ کالم لکھا تھا ، آج کراچی کا کالم پڑھکر یہ یاد آگیا ، آپکی خدمت میں پیش ہے ، آپکو اس کالم میں منی پاکستان نظرآئے گا ، شاید مسکراہٹ بھی آئے ، اور آنکھوں میں آنسو بھی ۔۔ ۔ ۔ اگر کسی کے دل کو چھو گیا تو میں سمجھوں گا کہ ہاں اب بھی ہم میں سچا پاکستانی زندہ ہے ۔۔
—————————————-
رات ایک طویل قوالی والا خواب دیکھا ۔۔ ۔ جسکی کچھ جھلک ادھر پیش خدمت ہے
ہمارے کراچی کے بہت سارے لوگ بجلی آنے جانے پر کیا گا رہے ہیں ملاحذہ فرمائیے
آئے بجلی اور جائے بجلی
پاگل سب کو بنائے بجلی
روشنیوں کا شہر کراچی
اندھیروں سے سجائے بجلی
بولیں سارے مل جُل کے
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی
دیکھا تو اپنے مًنا پہلوان جی صرف لنگوٹ کًس کر بھنگڑا ڈال رہے تھے
او باری برسی کھٹن گیا تے
کھٹ کے لیاندا اے سی
اے سی کیا چل سی
جدوں بجلی نہ ہو سی
میں کوئی جھوٹ بولیا ۔ ۔
(سب ملکر) کوئی ناں
میں کوئی کفر تولیا
(سب ملکر) کوئی نا
کوئی ناں بھئی کوئ ناں
ایک دم سے بجلی آ گئی جیسے سبکو چُپ لگ گئی صرف سانسوں کی اور پنکھوں کے چلنے کی آوازیں آ رہیں تھیں کہ پھر بجلی چلی گئی اور ایک شور سا اٹھا
بھوکے ننگوں کو نچائے بجلی
آئے بجلی جائے بجلی
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی
اپنے واجہ بھائی کو بہت غصہ آیا
اڑے اس بجلی کمپنی کو بم سے اڑا دو ڑے ، ہماڑا تو اب دم ختم ہو گیا ہے ۔ ۔ پھر خود ہی گانا شروع کر دیا، اور سب انکے ساتھ ناچ رہے تھے
بجلی ہم کو دیو ڑے ۔ ۔۔ وشملے
بجلی سے یہ کہو ڑے ۔ ۔ ۔ وشملے
گرمی سے مر گیا ، سارا شہر ڈر گیا
گرمی سے مرو ڑے ۔ ۔ ۔ وشملے ۔ ۔
اب کیا تھا وشملے وشملے ۔ ۔۔ ۔ پھر ایک دم سے جیسے بجلی کو ہچکہ لگی ۔ ۔ بلب آن ہوئے ۔ ۔ پنکھوں نے کھٹ کھٹ کی اور بجلی پھر غائب ۔ ۔ ۔ ۔ مولوی صاحب جو آج گرمی کی وجہ سے اپنی جناح کیپ کے بغیر ہی تھے اٹھے اور کہنے لگے
اب اللہ سے ہی کہو برسائے بجلی
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی ۔ ۔ ۔
سب کے چہرے پر جیسے اداسی چھا گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اپنے سائیں مہربان علی ۔ ۔ ۔ کھڑے ہوئے جو اپنی اجرک کو کندھوں پر ڈالا اور زور کا نعرہ لگا ۔ ۔ ۔ ہے جمالو ۔۔ ۔۔ اور بجلی آ گئی ۔ ۔۔ سب خوشی سے جھوم اٹھے
بجلی آگئی ہے شہر میں ۔ ۔ ہے جمالو
بجلی چھا گئی ہے شہر میں ۔ ۔ ہے جمالو
ہے جمالو ۔ ۔ واہ واہ جمالو ۔ ۔جمالو
بجلی آ گئی ہے شہر میں ۔ ۔ ہے جمالو ۔ ۔
اور پھر بجلی چلی گئی ۔ ۔ ۔۔ سائیں مہربان علی کو بہت غصہ آیا ۔ ۔
گھوڑا ڑے ۔ ۔ کیوں ہم کو تڑپائے بجلی
(سب لوگ سینے پر ہاتھ مار مار کر کہنے لگے)
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی ۔ ۔ ۔
ایک شور سا تھا ۔ ۔ اور پھر بجلی آ گئی ۔ ۔ ۔اور پھر خاموشی چھا گئی ایسے جیسے کسی نے کچھ بولا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ فاروق بھائی کے گھر سے دادی اماں کی آواز آئی ۔ ۔ ۔ ارے او مُنے ۔ ۔ (وہ ابھی تک فاروق بھائی کو مُنا کہتیں ہیں ، جبکہ فاروق بھائی کے ماشااللہ سے اپنے پانچ مُنے اور مُنیاں ہو چکے ہیں ) ارے او مُنے ۔ ۔ میرا سروتا کہاں ہے ۔ ۔ ۔بجلی آئی ہے جلدی سے تلاش کر ۔ ۔ اور مسز فاروق کی آواز سنائی دی ۔ ۔ ۔
سروتا کہاں بھول آئیں ۔ ۔ ۔ مُنے کی اماں
سروتا کہاں بھول آئیں ۔ ۔ مُنے کی اماں
اور پھر بجلی چلی گئ ۔ ۔ ۔ دادی اماں کی آواز سنائی دی ۔ ۔
چھالیا ہوتو ہر کوئی چبائے بجلی
ہائے بجلی ۔ ۔۔ ہائے ہائے بجلی ۔ ۔ ۔
اتنے میں گُل خان اپنی سائکل پر گلی میں داخل ہوا ۔ ۔ اوے خوچہ بچو بچو ۔ ۔ بچو بچو ۔ ۔ اوے خانہ خراب امارا بریک نہیں ہ ۔ ۔ فاروق بھائی کے مُنے نے کہا ۔۔ جسکا کل پیپر تھا اور وہ بجلی کی وجہ سے کچھ نہ پڑھ پا رہا تھا ۔ ۔ ۔ گُل چاچا ۔ ۔ آپ کا بریک نہیں تو سائیکل کا بریک لگاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر گُل خان کی سائکل نہ رکی ۔ ۔ اور حسب معمول کھمبے سے جا ٹکرائی اور بجلی آ گئی ۔ ۔ ۔ اور گُل خان سب بھول کر کھڑا ہوا اور آواز لگائی ۔ ۔
او یا قربان ۔ ۔ ۔۔ بجلی خان ۔ ۔۔امارا جانان
او تو آیا تو جانا ناں ۔ ۔ وئی ۔ ۔
مگر بجلی کس کی سنتی ہے ۔ ۔ ۔ پھر چلی گئی ۔ ۔
اور اس بار سب نے ملکر یہ گایا ۔ ۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کہ تمنا میری
ایک بار آئے تو نہ جاے کبھی بجلی
ہو مرا کام کے ایس سی سے شکایت کرنا
بجلی کے آنے جانے کی خرابی کی مرمت کرنا
میرا اللہ ہر گدائی سے بچانا مجھکو
بجلی جاتی نہ ہو جہاں دینا وہ ٹھکانہ مجھکو
پچھلے ایک گھنٹے سے بجلی موجود ہے ۔۔ ۔ مگر پھر بھی سب جاگ رہے ہیں ۔۔ کہ کب کس وقت چلی جائے ۔ ۔۔ دادی اماں بھی دعا کر رہی ہیں ۔ ۔
سوہنی بجلی ، اللہ رکھے ، قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے ۔ ۔
قدم قدم آباد ۔ ۔ ۔ ۔۔
اور منا پہلوان بھی لنگوٹ کو ڈھیلا کر کہ سوچ رہا ہے ۔ ۔ ۔کہ شاعر نے سچ ہی کہا تھا
چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ چاند پر تو بجلی نہیں ہے نا ، اور پھول کو بھی بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی
ادھر سائیں مہرباں مچھروں سے بچنے کے لئے اپنی رلی پر سونے کی کوشش کر رہا تھا اور پنے بچوں پر پڑی اجرک دیکھ رہا تھا جسکا نیلا اور سرخ رنگ جیسے ۔ ۔ مکس ہو کر کہ رہا تھا
رنگ برنگے پھولوں کا گل دستہ ۔ ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ یہ گلدستہ ۔ ۔ ۔ کتنا مرجھا جاتا ہے جب بجلی نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔
واجہ بھائی ۔۔ ۔ کو دو دن بعد نیند آئی تھی ۔ ۔ ۔ مگر خواب وہ بھی دیکھ رہے تھے ۔ ۔۔۔
آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی ۔ ۔ ۔
بجلی کی ویرانی ہے حکومت زردارسستان کی ۔ ۔
بجلی آئے زندہ باد ، بجلی جائے زندہ باد ۔ ۔ ۔
گُل خان نےدروازہ کھول کر چارپائی بچھائی تھی اور سوچ رہا تھا کہ کل وہ سائیکل کا بریک ضرور ٹھیک کروائے گا ۔ ۔ کیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کئی بار کھلے گٹروں سے ٹکرا چکا تھا ۔ ۔ ۔ اسے اپنا گاؤں بہت یاد آ رہا تھا جہاں وہ آنکھیں بند کر کہ بھی چل سکتا تھا ۔ ۔ مگر وہ سوچ رہا تھا
وہ بھی پاکستان ہے ، یہ بھی پاکستان ہے
وہ بھی میری جان ہے ، یہ بھی میری جان ہے
مگر فرق صرف بجلی کا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
اور دور کہیں ۔ ۔ ۔ بجلی کی تلخیوں سے آزاد اظہر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور دل سے دعا کر رہا تھا ، اپنے روشن روشن پاکستان کے لئے ۔ ۔
جیوے جیوے ، جیوے پاکستان
پاکستان ، پاکستان ۔ ۔ ۔ جیوے پاکستان ۔ ۔ ۔
اور میری آنکھ ۔ ۔ ۔ کُھل گئی ۔۔ ۔۔

السلام علیکم
زبر دست اظہر بھائی ، بہت خوبصورت مگر ساری تحریر کا حاصل آخری چند جملے تھے ۔
اور دور کہیں ۔ ۔ ۔ بجلی کی تلخیوں سے آزاد اظہر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور دل سے دعا کر رہا تھا ، اپنے روشن روشن پاکستان کے لئے ۔ ۔
جیوے جیوے ، جیوے پاکستان
پاکستان ، پاکستان ۔ ۔ ۔ جیوے پاکستان ۔ ۔ ۔
جی ہاں ، جیوے پاکستان ، یہی اُمیدیں ، ہمارا مستقبل ہیں ، اگر وہ دن نہیں رہے تو یقینا یہ دن بھی نہیں رہینگے ۔ اُمید کا دامن کبھی مت چھوڑیئے گا ، بجلی انشاء اللہ آئے گی ، سب کچھ تبدیل ضرور ہوگا اگر ہمیں بس ایک بات کا خیال کرنا آجائے اور وہ بھی بس پانچ سال میں صرف ایک بار ، اگر ہم اپنا ووٹ دیتے وقت سوچ سمجھ کر ، لسانیت اور ذات برادری کو ایک طرف رکھتے ہوئے بہترین امیدوار کو منتخب کریں ( کہ یہ اُس کا حق بھی ہے ) ہم میں سے بہت سے لوگ محض اِس لیے ووٹ نہیں ڈالتے کہ اُن کے ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا ، یا جس امیدوار کو وہ پسند کرتے ہیں یا بہتر سمجھتے ہیں اُس کے کامیاب ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں ، اور یہی نادانی ہے جس نے اب تک ہمیں اندھیروں میں رکھا ہوا ہے ، چاہے بہتر اُمیدوار ناکام بھی ہو جائے مگر ہمارا ضمیر تو مطمئن ہو گا کہ ہم نے کوشش ضرور کی ۔
مجھے یقین ہے کہ اب لوگ کسی حد تک سوچنے لگے ہیں سو اب تبدیلی کی کسی حد تک اُمید ہے ۔ باقی رہے نام اللہ کا ۔
آصف احمد بھٹی
اظہر بھائی
سبحان اللہ کیا منظر کشی کی ہے واقعی آپ نے پورے پاکستان کی سیر کرادی
اور اس دعا کا تو جاب نہیں
لب پہ آتی ہے دعا بن کہ تمنا میری
ایک بار آئے تو نہ جاے کبھی بجلی
ہو مرا کام کے ایس سی سے شکایت کرنا
بجلی کے آنے جانے کی خرابی کی مرمت کرنا
میرا اللہ ہر گدائی سے بچانا مجھکو
بجلی جاتی نہ ہو جہاں دینا وہ ٹھکانہ مجھکو
—————————————————
ایک اضافہ کے ساتھہ
کسی زر دار ، شریفوں سے یہ پوچھا جائے
بجلی نہ آنے پہ بھی بل کیسے بھرا جائے
جناب اظہر صاحب،
بہت خوب ، بلکہ بہت ہی خوب ۔ ماشاء اللہ۔
آپ نے بچاری بجلی کا تو پورا چالیسواں کر ڈالا مگر ’ راجہ بجلی ‘ کو بالکل ہی چھوڑ دیا ؟
نہ بجلی پانی گیس یہاں
نہ کھانے کو اناج ہے
کیا یومِ آزادی آج ہے
کیسا یومِ آزادی آج ہے
۔۔۔۔۔۔
’ ہیر زرداری سے اقتباس‘
لائینیں لگ کے ماریاں ہموطناں چِیکاں
ہاڑا کھا چلے بابلا کھا چلے
تیل ڈیزل تے پٹرول لبھدے
گیس بجلی وی سانوں رُلا چلے
روٹی کپڑا تے مکان منگدے
جو پلے سی اوہ وی لُٹا چلے
واہ واہ .. ارے یہاں تو زبردست مشاعرہ ہو رہا ہے .. لو جی میں ہوں نا ایک سامع .. مکرر مکرر .. سبحان اللہ … کیا کہنے .. واہ واہ
– کراچی میں بجلی کے ا کتر غاءب ہونے کے بارے میں پڑھ کر اد آئا 1976مں جب سو یڈن آنے کے لیے کر ا چی کےہوائ اڈا پہ جا رہی تھی – تو دور کہیں کہہں روشنی دھکای دتی تھی ۔ سوچنے لگی، کھ اسی شہر کے لیےمہدی حسن نے گاءا ے—-اے ر و شنیں کے شر بتا ۔۔۔۔ اب ک ھالات سئن ک پڑھ کردکھ ھوتا ھے۔اور اس ملک کے بہتز ی کے یے دعا ہی کر سکتے ہں-ے۔ دسمبر کا ماہ تھا۔ سویڈن کی روشناں دیکھ کر ——– کیا سوچا اس کا آپ اند از ہ لگا سکتے ہن-
اچھے بھائ اظہر الحق سلامت رھو۔
ہائے بجلی ہائے ہاے بجلی ۔ ۔ ۔ کراچی کبھی ایسا بھی تھا
پاکستان کی محبت سے سرشار پر امید دل کو یقین ھے کہ
اسکی کھوئ ھوئ رونقیں بحال ھوجا ئينگی انشا اللہ
کراچی میرے خوابوں کا شہر۔ مجھے دنیا کا سب سے اچھا شہر لگتا ھے
میں سندھ میں پیدا ھوئ اور کراچی کے قبرستان پاپوش نگر میں والد مر حوم ومغفور کے قدموں میں میرا مدفن بنے گا
یہ عروس البلاد کراچی ،،، روشنی اور محبتوں کا شہر
جہاں خوابوں کو تعبیر ملتی تھی
جہاں کوئ بھوکا نیہں سوتا تھا
جہاں امن واماں تھا
جہاں خوشی اور بے فکری تھی
جہاں فٹ پاتھہ پر بھی لوگ بے فکر ھوکر سوتے تھے
مللک کے طول وعرض سے یہاں لوگ رزق کی تلاش میں آتے تھے
جہاں سب کو روزگار ملتا تھا
جہاں قدم قدم پر ستارے جگمگاتے تھے۔
نجانے کس کی نظر لگ گی
ھرچیز سیاست کی نذر ھوگی
سیاست دانوں نے اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے اس شہر بے مثال کو دھشت گردوں کے حوالے کردیا
تعمیر و ترقی کا کام رک گیا۔ شہر پر دھشت گردوں ۔ لینڈ مافیا کا قضبہ ھے
سیاسی بجلی کا بحراں پیدا کیا گیا
اس کے پچھجے بھی بڑی سیاسی کہانی ھے
لوڈ شیڈنگ کا عذاب 8 سے 10 گھنٹوں تک جاری رھتا ھے
لوڈشیڈنگ کے باعث عام لوگوں کو کس قدرپریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ھے۔
ھماری بے حس حکمران چین سے کم قمیت بجلی کیوں نیہں لے رھے ھیں
ھمارا دوست چین جو دنیا میں ھوا سے بجلی پیدا کرنے والا دینا کا تیسرا مللک بن چکا ھے
ھم اس سے سستی بجلی خرید کر بجلی کے مصنوعی بحران کو ختم کر سکتے ھیں
مگر کیوں ،،، اس طرح کرپٹ حکمرانوں کو عوام کےخون چوسنے کا موقعہ کہاں ملے گا
لوڈ شیڈنگ سے کراچی کے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ھے
کبھی کبھی میں سوچتی ھوں
اٹیمی پاور کے لیے پانی سے بجلی پیدا کرنا کیا مشکل کام ھے؟؎
دن کو بجلی کے فریادی ھاتھوں میں پنکھا لیے واپڈا اور بجلی کے محکموں کو گالیاں دیتے ھیں جو موم بتی اور گیس لائٹ جلانے کا بھی بل بنا کر بھیج دیتے ھیں
کراچی کے بعض گھروں میں تو صرف اتنی دیر بجلی استمعال کی جاتی ھے تاکہ موم کو ڈھونڈ کر گھر میں پھلی وحشت کو کم کیا جاسکے
بجلی کی کمیابی کے باوجود بجلی کا ماھانہ بل مسلسل اتنا آتا ھے جیسے آپ نے سارا مہینہ اپنا گھر بجلی کے قمقموں سے سجایا گیا ھو میرے بھائ کہتے ھیں کہ وزیروں ومشیروں کا جنریٹروں کا کاروبار چل جاۓ اس لیے لوڈشیڈنگ کی جاتی تھی
میں اکثر مقامی روزنامے میں قطعات
لکھتی تھی اب تو چند مہنوں سے کویت سے شائع ھونا والا اردو کا اخبار بھی بند ھوچکا ھے
واللہ اخبار میرے قطعات کی وجہ سے ھرگز بند نیہں ھوا
===================================
ھاۓ بجلی ھاۓ ھاۓ بجلی =====
=========================
جنت نظیر مللک ھمیں دے گۓ جناح
ھم لوگ مللک و قوم کو کچھہ بھی نہ دے سکے
علم وھنر و انڈسٹری کی بات چھوڑیئے
63 برس میں قوم کو بجلی نہ دے سکے
آپکی صحت و تندرستی کے لیے دعاگو
بیٹا اظہر جب انسانو ں کے اعمال خرا ب ہو چا تے ہین تب اللہ ان کو پکڑ کر کچھ تنبیہ ضرور کرتا ھے قرا ن کریم میں عزا ب کے تز کروں مین یہ بھی تز کرہ ھے کہ ھم نے ان پر جوؤں کا عزا ب بھیجا ھم نے ان کوبا ر بار زلزلے سے جھنجھو ڑا ،تو یہ عزا ب ہماری بد اعمالیو ن کا ہی نتیجہ ہین آ ؤ ہم سب مل کر اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم کو سنبھلنے کی تو فیق عطا کرے آ مین
زائرہ عابدی ایڈ منٹن
بیٹا اظہر جب انسانو ں کے اعمال خرا ب ہو چا تے ہین تب اللہ ان کو پکڑ کر کچھ تنبیہ ضرور کرتا ھے قرا ن کریم میں عزا ب کے تز کروں مین یہ بھی تز کرہ ھے کہ ھم نے ان پر جوؤں کا عزا ب بھیجا ھم نے ان کوبا ر بار زلزلے سے جھنجھو ڑا ،تو یہ عزا ب ہماری بد اعمالیو ن کا ہی نتیجہ ہین آ ؤ ہم سب مل کر اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم کو سنبھلنے کی تو فیق عطا کرے آ مین
زائرہ عابدی ایڈ منٹن
السلام علیکم
محترمہ سیدہ زائر عابدی صاحبہ ، آپ کے محبت بھرے تبصرے بہت حوصلہ بڑھاتے ہیں ، اظہر بھائی کے اِس بلاگ پر بھی آپ کے تبصرے نے چار چاند لگا دئیے ہیں ، نہایت ہی احترام کے ساتھ آپ کے موجودہ تبصرے میں ایک بات سے اختلاف کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اُمید ہے آپ اَس پر بھی شفقت فرمائینگی ، سیدہ صاحبہ ، قرآن پاک میں جن جن قوموں پر عزاب کا ذکر ہے بل آخر وہ قومیں صفحہ ہستی سے مٹ گئی مگر آپ کے اور تمام سادات کے جد امجد اور ہم غلاموں کے آقا جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعث کے بعد اب قیامت تک کسی قوم پر عزاب نازل نہیں ہوگا بلکہ اب اللہ ہمیں ہمارے آقا صلاۃ السلام کے صدقے ( ہماری بد اعمالیوں کی سزا کے طور پر ) محض آزمائشوں میں مبتلا رکھینگے کہ آپ صلاۃ السلام کو صرف ہم مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ کل عالم کے لیے معبوث کیا گیا تھا ، ورنہ قوم لوط علیہ السلام ، قوم شعیب علیہ السلام ، قوم ہود علیہ السلام اور قوم صالح علیہ السلام سمیت متعدد انبیاء کی قوموں کو جن بد اعمالیوں کے لیے عزاب سے دوچار کیا گیا اور وہ صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئی وہ تمام کی تمام جملہ حالتوں میں ہم میں موجود ہیں مگر اِس کے باوجود ہم لوگ ابھی تک دُنیا میں موجود ہیں ، یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ابھی ہم سے مایوس نہیں ہوا ، یہ آزمائشیں آتی رہینگی ، ہاں یہ درست ہے کہ ہمیں اپنی بد اعمالیوں پر اجتماعی طور پر توبہ کرنی چاہیے کہ اِسی قرآن میں سیدنا یونس علیہ السلام کی قوم کا واقعہ بھی مرقوم ہے ۔
اپنی دُعاؤں میں خصوصی طور پر یاد رکھئے گا ۔
غلامِ اہل بیت ۔ آصف احمد بھٹی
و علیکم و السّلام بھیّا ، شکریہ اور نوا زش کہ آ پ نے میرے تبصرے کو پسند کیا ،،مجھے خو د بھی آ پ کے تبصرے بہت پسند ہیں بلکہ ہمارے سب ہی لکھاری ماشا للہ اور سبحا ن اللہ ہیں ،، سو ائے میرے کہ میں ت ابھی پاؤں پاؤ ں چلنے کی کو شش کر رہی ہو ں ،،
آ پ کا اختیا رکرد ہ لقب بے حد پسند آ یا کہ جس نے اس در کی غلامی کی تمنّا کی اس کو اللہ کے دربار سے دنیا اور عقبیٰ کے بڑے مرتبے مل گئے
بھیّا آ پ ٹھیک کہ رہے ہیں کہ وہ تما م برائیّا ن جو مٹ جانے والی قو مون مین تھین ھم میں مو جو د ہین ،، کاش ہم کو اللہ پاک نیک اور سیدھی راہ دیکھنے کی تو فیق عطا کر دے
ہمیں ایسا بنا دے جیسا وہ ہم کو دیکھنا چا ہتا ھے کا ش،، کا ش !!!!!
جہا ن تک اختلا ف رائے کا معا ملہ ھے تو میرے سر آنکھو ن پر ،،یہ تو ا صلاح کا بہترین زریعہ ہے
آ پ نے با لکل بجا کہا کون سی بر ائ ھے جو آ ج ہم میں نہیں ھے ،،گھوٹکی سندھ کا ایک شہر جہا ں ملک عزیز کی بیٹیا ں ا غوا کر کے لائ جاتی ھیں اور ان کی با قاعدہ منڈی لگتی ھے ،،کرا چی بنگلہ دیش کی اسمگل شدہ عور تو ن کی بہت بڑی منڈی بن چکا ھے
نو زا ئیدہ بچّو ن کو ما ؤ ن کی گو د اجا ڑ کر ہا سپٹل سے ھی اغوا کر کے دام کھرے کیے جاتے ہیں،،،، معصو م غریب لو گوں کو باہر لے جانے کا جھانسہ دیکر ان کی جمع پونجی لو ٹ کر موت کا تحفہ دیا جاتا ھے یا جیل میں ڈلوا دیا جاتا ھے
محض 30،000 رو پئے کے عو ض 16 برس کا معصو م بیٹا سر دار کے ہاتھ بیچ دیا جاتا ھے بیچنے والا کوئ اور نہیں لڑکے کا باپ ہو تا ھے اور پھر اس لڑ کے سے سردار دھو م دھام سے شادی رچاتا ھے اس شا دی کی خبر دن کو 3 بجے جیو سے اور اگلی صبح بی بی سی کی اردو سروس سے پو ری دنیا مین نشر کی جاتی ھے ،،رمضان کے آ خری دنو ن مین ہو نے والی اس شادی کے بعد عید آ نے سے پہلے آ سمان سے قہر الٰہی نازل ہوکر ا ور بس شا ئد 5 سیکنڈ کے زلزلے سے پاکستان کا 25 فیصد حصّہ مع اپنی آ باد ی کے ہولناک طریقے سے زمین بو س کر تا ھے
یہ واقعہ پاکستان کے شمالی علاقے بالا کوٹ کا ھے جو اس طر ح بر باد ہو ا کہ اس کو رہنے کے لیے نا قابل قرا ر دیا گیا اور اس وقت کے صدر مشرّ ف نے 3 ارب رو پئے سے نیا بالاکوٹ بسا نے کا اعلان کیا جو ہنو ز اج بھی اعلان ھی ھے
یہ وہ وطن ھے جو اسلام کے نام پر معر ض وجود میں آ یا ،،اس میرے پیارے وطن میں کو ن سی نعمت ھے جو نہیں ھے مگر جب تک ہمارے دنیا وی پیشو ا یہو د و نصا ریٰ کی دوستی کا دم بھرین گے تب تک اللہ تعا لیٰ ہم پر کس طر ح مہر با ن ہو ن گے ،آ یئے دعا کا دامن تھام لین کہ اس کا فر مان ھے تم مانگو گے تو مین ضرور دو نگا
حا لات کی کڑ واہٹ نے تحریر کو بھی کڑ وا کر دیا ھے ،،معا ف کیجئے گا
کنیز اہلبیت
آ پ کی بجّو
یہ بلاگ میرے پاکستانی ان ہم وطن لو گو ں کے لئے ھے جو ابھی و ہا ں بس رھے ہیں ،، میں یہاں ھوں ،، ویسے تو یہاں کی عید کیا اور بقر عید کیا ،،، ابھی سے مو سم 20ـــــپر چلا گیا ہے
لیکن حقیقت تو یہ ھے کہ میں جب سے یہاں آئ ھو ں ہر اھم تہوار پر میری روح پا کستان اپنے پیارون سے ملنے چلی جاتی ،،، مگر اس با ر میری روح نے کہین جانے کے بجائے بھٹکتے رہنے کا فیصلہ کر لیا ھے میری آ ج عید گز ری ھے میں تم لو گو ں کو پیشگی مبا رکباد بھی اس لئے نہیں دے سکی کہ حضرت اما م محمّد باقر علیہ ا لسّلام کی اور سفیر اما م حضرت مسلم بن عقیل کی شہا د ت کی تا ریخیں لگا تا ر تھین یعنی یا شب غم تھی یا صبح غم تھی
یقین کرو میرے ہم وطنو ں میں نے تما م دن بے حد اداس گزارا ھے اور اب میری روح پاکستان میں ھے ،،سب سے پہلے میں ایک نو بیا ہتا دلہن کے گھر کے دروا زے پر پہنچی ھو ن ،، اندر کو ئ آ واز نہیں ھے لگتا ھے سب گھر چھو ڑ کر چلے گئے ہیں ،،،
مگر ایک دم سے ایک لڑ کی کی آ واز آ ئ ارے دیکھو ابّا با ہر نا نکل جا یئں ،،،اور پھر مردانہ آواز آئ دیکھو میری دلہن بیٹی اسلام اباد سے واپس آ گئ ،،،اور پھر ایک چیخ بلند ہو ئ اے خدا میری دلہن بیٹی واپس کر دے اس چیخ نے میری روح کو اس طر ح دہلا دیا کہ میں اندر جانے کی ہمّت نہیں کر سکی ،،م
مجھ کو بتانے والو ں نے بتا یا کہ اسلام آ باد کے طیّا ر ے کے حا د ثے کو د و د ن کی بیا ھی لڑ کی کے با پ نے تسلیم کرنے سے انکار کر د یا ھے وہ ابھی بھی ہر آ ہٹ پر سمجھتے ہیں کہ ان کی بیٹی اپنے نئے نو یلے سجیلے دو لہا کے ساتھ واپس آتی ہو گی
اس قدرتی سا نحے کا شکار ھو نے والے گھر سے نکل کر میںا یک د و لہا کے گھر پہنچی ،، د و لہا کے گھر سو گ کا سما ں تھا اور گھر کا ہر فرد غمزدہ تھا
دولہا دلہن کا حجلہ عرو سی جو ں کا تو ں سجا ھو اتھا ،،میں نے کہا جب دو لہا دلہن نہین ھیں تو حجلہ کیو ں سجایا ھوا ھے دو لہا کے بھائ نے جو اب دیا امّا ں کہتی ہیں میرے مرنے کے بعد کمر ہ خا لی کرنا
مین سسکتے ھو ئے دل کے ساتھ دو نو ں دو لہا دلہنو ں کے گھر گئ مگرایسی دلد و ز مرگ نا گہا نی پر ان کو پرسہ نہین دے سکی
پھر میں کبا ڑی مار کیٹ کے بے خطا مقتو لین کے گھر گئ ایک گھر میں دولہا کی بری تیّار تھی دلہن لانے کے انتظا مات مکمّل تھے کہ بھتّہ نا دینے کے جرم میں اس گھر کو جوا ن موت کا تحفہ بھیج د یا گیا
ایک گھر سے کئ جنا زے اٹھے تھے ،،و ہا ں کوئ بھی رو نھین رہا تھا صر ف پتھرا ئ ھو ئ آ نکھو ں سے گھر کی لڑ کیا ن مجھے پھٹی پھٹی آنکھو ں سے دیکھ رھی تھیں کیو نکہ گھر کے سارے مرد مارے گئے تھے جرم تھا بھتہ نہین دے سکے تھے
میں وہاں رکنے کی ہمّت نہیں کر سکی ،، اس لئے رکشہ چلانے والے معزور چو بیس برس کے نوجوا ن کے گھر پہنچی جو معزور ہو کر بھی اپنی کمائ سے تمام گھر والو ں کے کپڑے بنا رہا تھا اور اب اپنے باپ سے محبّت بھرے لہجے مین پو چھ رہا تھا بتا ؤ ابّا کس رنگ کے کپڑے بناؤ ں
اور پھر ٹار گٹ کلر نے گھر کا چرا غ گل کر دیا