یہ چند تصاویر سو سال پرانی ایک کتاب کی ہیں ، جو میری امی کے دادا نے لکھی تھی ، وہ ایک عالم بھی تھے ، انکا یہ درود شریف بہت حسین ہیں ، پوری کتاب درود شریف پر مشتمل ہے ، چند صفحات آپ سب کی نزر رہا ہوں تا کہ سب دوست اس سے مستفید ہو سکیں ، میں جلد یہ پوری کتاب سکین کر دوں گا
ربیع الاول کی مناسبت سے ابھی کے لیے یہ چندصفحات کی سعادت ہے
طالب دعا
اظہر الحق

Continue reading درود شریف پر مشتمل سو سال پرانی کتاب
Author: اظہر الحق
نگہت باجی کو سالگرہ مبارک
آج یعنی 22 ستمبر کو باجی نگہت کی سالگرہ ہے ، آپ سب سے گذارش ہے کہ کیک کی تصویرپر ہپنی برتھ ڈے نگہت باجی لکھ کر اسک کو اپنے پرنٹر سے پرنٹ کر کہ کھا جائیں . . .. اگر کیک کا مزہ نہ آئے تو . . .. سمجھ لیں کہ آپ کا کیک صحیح پرنٹ نہیں ہوا . .. اور اگر بار بار پرنٹ کرنے پر بھی . .. کیک کا ذائقہ نہ آئے تو . . . یار کیا ضرورت ہے اتنے پیج پرنٹ کرنے کی ، بازار جائیں کیک لائیں اور کھائیں .. . مگر ساتھ میں ہپی برتھ ڈے ٹو نگہت باجی کہنا نہیں بھولیے گا . . . ورنہ اس کیک کا ذائقہ بھی پرنٹڈ کیک سے زیادہ اچھا نہیں ہو گا . . . .
کالا انصاف
پاکستانی عوام شاید دنیا کی سب سے بڑی بے وقوف قوم ہے ، جو جذباتی تو ہے ہی ، مگر عقل سے بالکل پیدال ہے ، ججوں کو بحال کرانے کے لیے سارا پاکستان سڑکوں پر نکل آیا ، اور پھر ایسا لگا کہ جسٹس چوہدری کے بحال ہوتے ہی انصاف کا دور دورہ ہونا شروع ہو جائے گا ، مگر ہوا کیا ، ادھر عوامی عدلیہ بحال ہوئی ، ادھر جج بک گئے ، شاید میری بھلکڑ قوم کو یہ بھی یاد نہ ہو کہ بحالی کے چند دن بعد ہی ججوں کی تنخواہوں میں تاریخی اضافہ کیا گیا ، اور خاص کر اعلٰی عدلیہ کے عملے کی تنخواہیں دو گنا بڑھا دی گئیں ، کیوں ۔ ۔ ۔ اسلیے کہ سب کو پتہ ہے کہ جب وکیل نہ بکے گواہ نہ بکے تو جج کو خرید لینا چاہیے ، سو جج بک گئے ، اب جب جج بکے تو ماتحت ججوں نے تو بکنا ہی تھا ، کونسی بھوکی ننگی عوام ، ان محلوں میں بیٹھ کہ نظر آتی ہے ، سب جج اور ہمارے حکمران تو وہاں رہتے ہیں ، جہاں پر جانے والوں کے پر جلتے ہیں ۔ ۔ Continue reading کالا انصاف
اے وطن کے رنگیلے جوانوں ۔ ۔ ۔۔
میں نے اپنی فوج کے افسران کی محافل میں شراب کباب اور شباب کو مچلتے دیکھا ہے ، نشے میں دھت یہ جنرل جب اپنی اپنی میسوں میں ناچتے ہیں اور اپنی ہی قوم کو گالیاں دیتے ہیں تو کیا کہوں کیا کیا دل کرتا ہے کہنے کو ، میں نے بہت عرصہ پہلے لکھا تھا اس پر ، ایک بہت ہی پرانی کہاوت ہے ہماری افواج کے بارے میں بلکہ ایک انڈین جنرل نے یہ کہا تھا کہ ، اگر میرے پاس پاکستانی سپاہی ہوں اور انڈین افسر تو میں ساری دنیا پر حکمرانی کر سکتا ہوں Continue reading اے وطن کے رنگیلے جوانوں ۔ ۔ ۔۔
ہم امریکہ کا نہیں کھاتے
ایک سوال اور جواب بار بار دیا جاتا ہے کہ ہم امریکہ کا دیا ہوا کھاتے ہیں تو اسکی مرضی ہے وہ ہم سے جو مرضی ہے سلوک کرے ، اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ ہم امریکہ کا نہیں کھاتے ، یاد رہے یہاں ہم سے مراد عوام ہے ، امریکہ اگر کچھ دیتا ہے اور لیتا ہے وہ صرف حکمرانوں سے اسکی ڈیل ہے ، عوام کو امریکہ سے ایک پیسہ نہیں ملتا ، امریکہ سے جو بھی پیسہ آتا ہے وہ صرف دو فیصد کے پاس جاتا ہے اور نہ صرف وہ پیسہ جو باہر سے آتا وہ ہمارے حکمران اور دو فیصد طبقہ کھاتا ہے بلکہ جو پیسہ ہم ٹیکس کی شکل میں دیتے ہیں وہ بھی حکمرانوں کی جیبوں میں ہی جاتا ہے اور اسکا ایک فیصد بھی عوام کو نہیں ملتا اور نہ ہی لگتا ۔ Continue reading ہم امریکہ کا نہیں کھاتے
زبان ناپاک ہوتی ہے
انکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ریوڑ کی شکل میں رہتے ہیں ، اور انکا ایک لیڈر ہوتا ہے ، جو اپنی تھوتھنی اٹھا کر ان سب کی رہبری کرتا ہے ، مگر انکی ایک اور بھی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ہر کوئی خود کو لیڈر سمجھتا ہے ، اور چاہے کتنی کھلی جگہ پر یہ ہوں ایک دوسرے کو رگڑتے رہتے ہیں ، یہ عجیب جانور ہے جسے گندگی پسند ہے ، جب کچھ بھی نہ ملے تو اپنا فضلہ بھی کھا لیتا ہے ، جس جگہ رہتا ہے اسے گندا کرتا ہے ، Continue reading زبان ناپاک ہوتی ہے
انقلاب کی بے یقینی
!٢٣ مارچ ، یوم پاکستان کا دن، مگر کیا کہوں یہ پاکستان کا ہی دن ہے ؟ نہیں آج ایسا لگتا ہے کہ ہمارے اباء و اجداد نے اس پاکستان کا خواب نہیں دیکھا تھا جو قرضوں میج جکڑا ہوا ہو ، جس نے اپنی ڈوریں غیروں کے ہاتھوں میں دے دیں ہوں ، جس ملک کے عوام اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کی جگہ شرمندگی محسوس کرتے ہیں ، کتنا اچھا وقت تھا آج سے دس سال پہلے ، جب نائن الیون نہیں ہوا تھا ، ہم اپنے آپ پر فخر کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ میں سوچ ہی رہا تھا ، کہ ایسا لگا کہ ایک زلزلہ سا آ گیا Continue reading انقلاب کی بے یقینی
آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی
آج میں شرمندہ ہوں ، اپنے سارے مسیحی دوستوں سے ، جو مجھے اپنا اتنا قریبی دوست سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی اور سمجھتا ہو ، میں ان سے بحث کرتا رہا ہوں کہ پاکستان میں جو لڑائی ہے وہ مسلمانوں کے درمیان ہے اور ہم غیر مسلموں کو اپنے آپ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، میں جسٹس کارنیلسن سے لیکر انیل دلپت تک کی مثالیں دیتا کہ دیکھو جسٹس بھگوان داس کو ہم نے کس پوزیشن پر رکھا ہے ، اور میں انہیں بینجمن سسٹرز ، اے نئیر اور سلیم رضا جیسے گلوکار اور شبنم اور روبن جیسے فنکاروں کی مثالیں دیتا ہوں کہ جو ہمارے دلوں میں رہتے ہیں Continue reading آئی ایم سوری ، شہباز بھٹی
امریکی کُتے
توبہ توبہ ، غلط سمجھ رہے ہیں آپ میں ہرگز ہرگز کسی امریکی کو کُتا نہیں کہ رہا ، بھلا میری کیا مجال میں کسی امریکی کو گالی دوں ، یہ تحریر خالصتاَ امریکی کتوں کے بارے میں ہے بالکل ایسے ہی جیسے پطرس بخاری کی تحریر “کُتے“ تھی ، ظاہر ہے وہ تحریر دیسی کتوں کے بارے میں تھی ہم ولائیتی کتوں کے بارے میں یعنی امریکی کتوں کے بارے میں معلومات دینا چاہتے ہیں Continue reading امریکی کُتے
تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟
میں سب سے پہلے ان دوستوں سے شرمندہ ہوں جنہوں نے مجھے یاد رکھا مگر میں باقاعدگی سے تبصرہ نہیں کر پا رہا ، کچھ صحت ٹھیک نہیں ہے ، کیونکہ سردی بہت ہے اور اپنی بیماری کی وجہ سے سردی برداشت نہیں کر پا رہا ہوں ، آپ سب کی دعاؤں کا طالب ہوں ، کوشش کرتا رہوں گا کہ باقاعدگی سے محفل میں حاضر ہو سکوں ، ایک تازہ تحریر حاضر ہے جو شاید ان پاکستانیوں کی کیفیت بتاتی ہے جو اپنے وطن میں ہی اجنبی ہو کہ رہ گئے ہیں Continue reading تُو مسکراتا کیوں نہیں ؟؟
جیت ہماری ہو گئ
چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمارا رہے
یہ وہ گیت تھا جو قائد اعظم کی آزادی کی تقریر کے بعد ریڈیو سے سنا گیا تھا جس میں ایک نئی قوم کا نیا جذبہ
اور یہ جذبہ چند سالوں میں بڑھتے بڑھتے ایک اور شکل اختیار کر گیا
آو بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی ۔ Continue reading جیت ہماری ہو گئ
سنگ بھی برسیں گے ، خوں بھی بہے گا
میں چاہتا ہوں کہ آج مجھ پر فتویٰ لگے آج مجھے سنگساری کا کہا جائے شاید میرے گناہ دھل جائیں ، میں کون ہوں میں ایک اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کا باشندہ ہوں جسے آج ساری دنیا میں لعن طعن کیا جا رہا ہے ، کس لئے ؟ صرف اسکی اسلام سے وابستگی کے لئے ، میں بہت عجیب ہوں Continue reading سنگ بھی برسیں گے ، خوں بھی بہے گا
کچھ فلمی گانے
عام طور پر پاکستانی فلمی گانوں کے بارے میں تاثر ھے کھ صرف پرانے گانے ھی اچھے تھے ، مگر نوے کی دہائی میں کچھ گیت بہت ہی اچھے بنے ، جو آج کے حالات پر بھی ایسے لگتے ھیں کھ جیسے انہیں حالات کے لئیے لکھے گئے ھیں ، شاید اسکی وجہ انکے شاعر تھے ، جو نہ صرف فلمی بلکہ غیر فلمی شاعری میں بھی اپنا ایک مقام رکھتے تھے ، ایسے ہی گیتوں میں سے کچھ آپ کی توجہ کے لئے ، پڑھیے اور اپنے حالات پر سر دھنیے Continue reading کچھ فلمی گانے
اسلام کا قلعہ ، اسلام آباد
اسلام کا قلعہ کسے کہتے ہیں ؟
اسلام آباد کو
ہیں غلط
نہیں صحیح ہے
کیسے Continue reading اسلام کا قلعہ ، اسلام آباد
ہائے بجلی ہائے ہاے بجلی ۔ ۔ ۔ کراچی کبھی ایسا بھی تھا
کراچی ، عروس البلاد ، روشنیوں کا شہر ، اس کو اندھیرے کھا گئے ، بہت عرصہ پہلے ، بجلی کے عذاب پر یہ کالم لکھا تھا ، آج کراچی کا کالم پڑھکر یہ یاد آگیا ، آپکی خدمت میں پیش ہے ، آپکو اس کالم میں منی پاکستان نظرآئے گا ، شاید مسکراہٹ بھی آئے ، اور آنکھوں میں آنسو بھی ۔۔ ۔ ۔ اگر کسی کے دل کو چھو گیا تو میں سمجھوں گا کہ ہاں اب بھی ہم میں سچا پاکستانی زندہ ہے ۔۔
—————————————-
رات ایک طویل قوالی والا خواب دیکھا ۔۔ ۔ جسکی کچھ جھلک ادھر پیش خدمت ہے
ہمارے کراچی کے بہت سارے لوگ بجلی آنے جانے پر کیا گا رہے ہیں ملاحذہ فرمائیے Continue reading ہائے بجلی ہائے ہاے بجلی ۔ ۔ ۔ کراچی کبھی ایسا بھی تھا
جج صاحب میرے چالیس سال واپس کر دیجیے!
آج کل مجھے پرانی پاکستانی فلموں کا دورہ پڑ گیا ھے ، مگر جتنی فلمیں دیکھتا ہوں غصھ ھے کھ بڑھتا ہی جاتا ہے ، کبھی اس بات پر کھ یھ پہلے کیوں نہیں دیکھیں اور دوسرا اس پر غصہ کہ یہ Continue reading جج صاحب میرے چالیس سال واپس کر دیجیے!
بھائی کا گوشت مزے کا ہے نا
کاش میں یہاں لکھتے ہوئے میں بہترین قسم کی پنجابی گالیاں لکھ سکتا ، جو میں خود سمیت ساری پاکستانی قوم کو دینا چاہتا ہوں، اتنے بے حس اتنے بے تعلق ، کون ھیں ھم ، کیا پہچان ھے ہماری ؟ ایک لالچی اور نکمی قوم ، جو خود اپنے آپ کو کلہاڑی مار کھ کہتی ہے ، کھ سارا قصور امریکا کا ھے اور رخم کو چٹوانے کے لئے امریکی کتوں یعنی سیاست دانوں کو موقع دیتی ہے اور سیاست دان زخم پر نمک مرچ چھڑک کر اس میں پٹرول ڈال کھ آگ لگا دیتے ہیں ، اور عوام بلبلاتی ھے ، مگر مشکل کشا کو ووٹ ضرور دیتی ہے ، ان کے جلسے میں زور شور سے نعرے لگاتی ہے ، ان کی شہادت پر آنسو بہاتی ھے ۔ ۔ ۔ ۔ Continue reading بھائی کا گوشت مزے کا ہے نا
دو شمعیں ہو چکیں روشن
بہت مشکل ہوتا ھے اخبار نکالنا اور اس سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے اس معیار کو برقرار رکھنا جو اس کی
پہچان بنتا ہے ، اور اس سےکہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے Continue reading دو شمعیں ہو چکیں روشن
تبدیلی کی باتیں اور نئے سندھ کی سوچ – زیب سندھی کا ایک کالم
زیب سندھی ، مہران کی دھرتی کے ایک بہت ہی اچھے لکھاری ہیں ، سندھی نظم و نثر میں انکا اپنا ایک مقام ہے ، اپنی پہلی کہانی “درد دل“ جو ١٩٧٤ میں شائع ہوئی تھی اسکے بعد چار کہانیوں کی کتابیں “گهٽيل خواهشون“ (گھٹی ہوئی خواہشیں) (1977ع) ، (2) ”زندگي درد جي ٻانهن ۾“ (زندگی درد کے ہاتھوں میں) (1981ع)، (3) ”ڌنڌ ۾ گم ٿيل منظر“ (دھند میں گم ہوا منظر) (2001ع) ۽ (4) ”حيدرآباد 47 ڪلوميٽر“ (2010ع) ، انکی اکثر کہانیوں کا ترجمہ اردو اور انگریزی میں ہو چکا ہے، اسکے علاوہ Continue reading تبدیلی کی باتیں اور نئے سندھ کی سوچ – زیب سندھی کا ایک کالم
ڈاکٹر زواگو ۔ ۔ انقلاب کی کہانی

دنیا کی تاریخ انقلابات سے بھری پڑی ہے ، وہ ہزاروں سال پہلے کے یونانی ، ایرانی یا پھر ہندوستانی انقلاب ہوں ، یا مذہبی انقلاب ، یا پھر جدید دور میں ، فرانسیسی، جرمن ، امریکن یا روسی انقلاب ۔ ۔۔ ہر انقلاب ایک نیا نظام لاتا ہے ، اور ہر نئے نظام کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ انسانیت کی بقا اور سلامتی کے لئے بنا ہے ، مگر کچھ ہی عرصے کے بعد اس نظام میں درڑاڑیں پڑ جاتی ہیں Continue reading ڈاکٹر زواگو ۔ ۔ انقلاب کی کہانی
