السلام علیکم
اِن دنوں عالمی سطح پر تبدیلی کی باتیں کی جا رہی ہیں ، دانشور حضرات کا خیال ہے کہ شاید پاکستان بھی اِس کی لپیٹ میں آئے گا ، تبدیلی ایک اچھی چیز ہے مگر تبدیلی وہی بہتر ہے جو واقعی تبدیلی ہو ، جو محض نام کی تبدیلی ہو وہ تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ ایک بھونڈا مزاق ہوتا ہے ، اور ہم لوگ تو پہلے ہی اپنی جزباتیت کے لیے مشہور ہیں ، آگ لگانا ، جلنا جلانا تو ہمارے لیے کوئی معنی ہی نہیں رکھتا ، میں سمجھتا ہوں اگر تندیلی کا یہ عمل ہماری قوم کے لیے ناگزیر ہو ہی چکا ہے تو کیوں نہ ہم لوگ اِسے شفاف اور نہایت ہی پر امن طریقے سے انجام دیں ؟ کیوں نہ ہم لوگ اپنے ساتھ اپنے بھائی کی بھی عزت جان و مال کا خیال رکھتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کریں ؟ کیو نہ ہم لوگ باشعور لوگوں کی طرح اپنے حکمرانوں اور اشرافیہ سے کہہ دیں کہ بس ! اب بہت ہو گیا ۔ تبدیلی کے اِس پر امن عمل کا ایک بہترین طریقہ اپنی قوم کا شعور بیدار کرنے سے ممکن ہے اور شاید کچھ دوست اِس پر کام بھی کر رہے ہیں ، ایسے ہی کسی دوست نے یہ ویب سائٹ بھی بنائی ہے اور کسی مہربان نے مجھے بھی اِس کا لنک بھیجا ہے ، ووٹ کے زریعے اپنے جذبات کا ظہار کیجئے ۔
http://www.mrelection.com/default.aspx
اپنے حکمرانوں تک اپنی آواز پر امن طریقے سے پہنچائیے ۔
آصف احمد بھٹی

محترم آصف احمد بھٹی صاحب ،
سو گلاں دی اکو گل !
” تبدیلی وہی بہتر ہے جو واقعی تبدیلی ہو “
تبدیلی واقعی نظام کی تبدیل ہونی چاہئیے نہ کہ محض چہرے بدلنے کی ۔ آپ کا دیا گیا لنک بھی بہت معلوماتی ہے جس میں عمران خان کی پارٹی %86 کے ساتھ سب سے آگے ہے ۔
السلام علیکم
محترم جناب جاوید اقبال کیانی صاحب ، آپ کی بات بلکل درست ہے ، اور یہی بات میں نے اپنے بلاگ میں کہی ہے ، تبدیلی وہی ہے جو سچ مچ تبدیلی ہو، اور ہمارے سامنے تیونس و مصر کے واقعات موجود ہیں ، جوش و جزبے سے اور جلاؤ گھراؤں سے کام نہین چلے گا ، نظام یوں تبدیل نہیں ہوگا بلکہ کسی اور کو موقع مل جائے گا جیسے مصر میں فوج ( جو کہ ہمیشہ سے ہی تھی مگر شاید پہلے پس پردہ تھی ) تیونس مین بھی سب کچھ ویسا ہی ہے صرف وہاں کے صدر مفرور ہیں ، ہمارے ہاں بھی اگر ( خدا نہ کرے ) کچھ ایسا ہوتا ہے اور لوگ گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوتے ہیں تو یقینا کچھ لوگ اِس تحریک کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرینگے ، جو ممکن ہے جیسا کہ مصر میں محمد البرادی یا کچھ اور لوگوں نے کیا جس کے سبب احتجاج پر تشدد ہو گیا اور سینکڑوں لوگ اپنی جان و مال سے محروم کر دئیے گئے ، احتجاج عوام کا حق ہوتا ہے مگر شعور کی کمی کے سبب ہم لوگ غلط لوگوں کے پیچھے نکل کھڑے ہوتے ہیں جو ہمیں غیر شوعری طور پر تشدد پر اُبھارتے ہیں ، اور نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے ، محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جس طرح پر تشدد احتجاج ہوا تھا وہ ہمارے جذباتیت کی ایک بہترین مثال ہے ، تبدیلی کا بہترین طریقہ بہتر لوگوں کے انتخاب کر کے ہی ممکن ہے ، اگر ہم لوگ ایمانداری سے اور ہر قسم کی لسانیت ، برادری ازم اور ذاتی مفاد سے ماوراں ہوکر وطن عزیز کے لیے اور اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچتے ہوئے اپنا قومی فریضہ یعنی ووٹ حق دار کے حق میں استعمال کرینگے کہ تو یہ اپنے آپ میں خود بہت بڑی تبدیلی ہوگی اور جو آئیندہ کئی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہوگی ، منزل اگرچہ دور ہے مگر ہمیں پہلا قدم تو اُٹھانا ہی پڑے گا اور اگر پہلا اور درست سمت قدم اُٹھ گیا تو پھر ہر قدم درست سمت ہی ہوگا اور ایک دن ہم منزل کے قریب ہونگے ، میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ جو اب تک سیاست سے دور ہیں اب اُنہیں سیاست سے دلچسپی لینی ہوگی اپنے لیے نہ سہی اپنی اولاد کے لیے نظام کی تبدیلی کے آغاز کے لیے ، اور ہم لوگ جو کہ وطن عزیز سے دور ہیں ہم اِس میں بہت بہتر انداز میں اپنا رول ادا کر سکتے ہیں ، ہم گر چہ خود تو ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتے مگر چونکہ ہم میں سے ہر کوئی کسی پوری فیملی کو چلا رہا ہے یعنی پوری فیملی ہماری طرف دیکھ رہی ہوتی ہے ہماری بات پر غور کرتی ہے تو ایسے میں ہم اُنہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں اور پھر ہم لوگوں نے ( اُن لوگوں کے مقابلے میں جو پاکستان مین ہی رہتے ہیں ) ایک جہاں دیکھ لیا ہے سو یقینا ہم لوگ برے اور بہتر میں زیادہ فرق سمجھتے ہیں ( اِس کا مطلب یہ ہر گز نہین کہ پاکستان میں رہنے والے کم سمجھ ہیں یا بات تجربے کی ہے ) سو ہم لوگ اُنہیں زیادہ آسانی سے تبدیلی کے اِا عمل کا حصہ بننے پر آمادہ کر سکتے ہیں ، جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا کہ اُس ویب سائٹ میں کہ جس کا لنک مین نے دیا ہے ’’ عمران خان ‘‘ کی پارٹی دوسروں سے بہت ہی زیادہ آگے ہیں مگر یقینا اِن میں سےزیادہ ووٹ اُسے بیرونِ ملک سے ملے ہیں ، مین خود عمران خان کو پسند کرتا ہوں موجودہ وقت میں وہی ایک شخص ہے جس پر اعتبار کیا جاسکتا ہے اور جسے ہم فخر سے اور سر اُٹھا کر اپنا لیڈر کہہ سکتے ہیں ورنہ باقیوں کے بارے میں تو اکثر ہم لوگ مذاق کا نشانہ بنتے ہیں ، میرے بزرگ ہمیشہ سے پاکستان مسلم لیگ کے کارکن رہے ہیں اور اب بھی نواز شریف کے سپوٹر ہیں مگر میں کافی عرصے سے کوشش کررہا ہوں اور اب وہ بھی کسی حد تک عمران خان کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں اُمید ہے جلد ہی مین اپنی کوشش میں کامیاب ہو جاؤنگا اور میرا مقصد محض پاکستان میں تبدیلی لانا ہے ، ایسی تبدیلی جو سچ مچ تبدیلی ہو ، اور صرف چہرے نہ تبدیل ہو ۔
دُعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔ آصف احمد بھٹی
بات بالکل درست ہے کہ تبدیلی اگر با معنی نہیں تو اس کا کچھ مطلب نہیں ، لیکن معاملہ یہ ہے کہ کوئی بڑی تبدیلی عوامی اشتعال سے ہی آتی ہے ، کیونکہ اژدہام کی بھی اپنی نفسیات ہوتی ہے ۔ مگر ایسے موقعوں پر دانشوروں کو رول بڑھ جاتا ہے کہ وہ اس سیلان کو کیا رخ دیتے ہیں ۔
دنیا میں جتنی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں وہ سب عوامی اشتعال سے لیکن ساتھ ہی دانشوروں نے اسے صحیح سمت عطا کیا ۔ ابھی ضرورت ہے کہ جہاں تبدیلیوں کےلوگ سڑکوں پر ہیں وہان دانشوروں کو بھی اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔
آصف بیٹے بظا ہر بہت چھوٹا سا موضوع لیکن اپنے اندر سو چ کا ،فکر کا ایک گہرا سمندر لئے ہو ئے ہے ،
میں ایک گھریلو خاتون ہوں میری سوچ کی دنیا بہت ہی محدود ہے لیکن پھر بھی اتنا ضرور معلوم ہے پاکستان کی سیا ست کے افق پر اس وقت قارون کے خزانے اور شدّاد کی جنّت رکھنے والی افواج کے ٹڈّی دل لشکر میں ایک بے غرض انسان عمران خان کھڑا ہے ،مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ہماری تمام پاکستانی سیاست میں تقسیم ہند کے وقت آئے ہوئے ہم جیسے مہاجروں کی کوئ گنجائش نہیں ہے
مرحوم صدر ایّوب خان نے کہا مہاجروں کے لئے بحیرہ عرب کا سمندر ہے ،ہردلعزیز وہ عوامی وزیر اعظم جس کو اپنے کندھوں پے بٹھا کے وزیر اعظم بنایا انہوں نے اپنی تقریر میں کہا وہ مہاجر جن کے پاس کل تک کھانے کو نہیں تھا آج وہ کاروں اور کو ٹھیوں کے مالک ہیں (یاد رہے اس وقت معاشرے میں کرپشن کا گھن نہیں لگا تھا)کاش وہ وزیر اعظم ایک بار پلٹ کر پاکستان آنے کے بعد ہماری جدّوجہد کی ا ن مشکلات بھی زکر کر دیتے جن کو ہم نے خون دل دے کر حل کیا
مجھے یاد ہے میرے والد کے بنکنگ کے امتحان ہونے والے تھے اور لالو کھیت میں ہماری جھگّی میں آگ لگ گئ تھی ،آگ بجھانے میں تمام محلّہ مدد کر رہا تھا لیکن میرے والد نے بڑھتی ہوئ آگ پر قابو پانے کے لئے اپنے ہاتھوں سے مدد لی جس کے سبب ان ہاتھ جھلس گئے تھے ،آ گ بجھ گئ تھی مگر والد صاب کوتیز بخار آ،گیا تھا ،وہ بستر پر لیٹے لیٹے مجھ سےکہتے تھے کتاب کا فلاں صفحہ کھول کر میرے سامنے رکھ دو میں ان کا حکم بجا لاتی اور میرے والد نے اس طرح میری مدد سے اپنے امتحان کی تیّاری کی ہاتھ پوری طرح ٹھیک بھی نہیں ہوئے تھے کہ ان کے امتحان آ گئے
ہاتھوں میں بڑے بڑ ے آبلوں کے زخموں کے باوجود انہوں نے امتحان دیا اور الحمد للہ ترقّی کا زینہ پار کرتے ہوئے وہ بالآخر ایک بلند مرتبہ عہدے تک پہنچے میرے والد کی اس جانفشانی کا بہترین صلہ اللہ تعا لٰی نے یہ دیا کہ وہ لالو کھیت کی اسی جھگّی سے اٹھ کر نارتھ ناظم آباد کے پوش علاقے میں ایک بنگلے میں منتقل ہوئے ،حق حلال کی کماتے ہوئے انہوں نے ترقّی کی اعلٰی ترین منازل طے کیں اپنی اولادوں کو بھی حرام سے بچایا اور خود مثال قائم کی کہ محنت سے آگے بڑھو یہ میں نے مہاجروں کی نما ئندگی کرتے ہوئے ایک مثا ل پیش کی ہے
ہماری اولادوں کے لئے تعلیمی اداروں میں کوٹا سسٹم رائج کیا گیا( الطاف حسین اور ایم کیو ایم اسی تعلیمی جبر کی پیداوار ہیں ) درجہ اوّل سے لے کر درجہ آخر تک سرکاری ملازمتوں سےہر ہر حکومت نے چن چن کر مہاجروں کو نکالا گیا اور پاکستان کی سیاست کو مہاجروں سے پاک کر دیا گیا
زو ا لفقار علی بھٹّو جیسے جیّد عوامی راہنما نے ہمارے نوجوانو ں کو سرکاری ملازمتوں سے دور رکھنے کے لئے ملازمتوں کے اشتہار ساتھ یہ جملہ لازم کر دیا کراچی حیدرآباد اور سکّھر کے نوجوان درخواست دینے کی زحمت نا کریں ساتھ ہی قومیائے گئے تمام ادروں سے بشمول کراچی کے بھی تمام بنکوں سے مہاجر چن چن کر نکال دئے گئے
ان تمام سرکاری جابرانہ مظالم کے نتیجے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آج ہم مہاجر پاکستان کی درماندہ قوم بن کر جیتے اللہ ناکرے ،
لیکن اس کے برعکس آج الحمد للہ دنیا کے کونے کونے میں انہی مہاجروں کی اولادیں اپنے علم و ہنر کے جوہر دکھا رہی ہیں اور میری دھرتی جس کو ان ہنر مندوں کی ضرورت تھی وہ اپنی اس ویرانی پر اشک بداماں ہے
اس سے آگے بڑھئے،، یہ تو ابھی کی بات ہے جام صادق کا دور کچھ بھی دور نہیں ہے جنہوں نے الطاف حسین کو مارنے کے لئے سو جتن کئے لیکن خود ہی دنیا سے یہ ارمان لئے دنیا سے گزر گئے ،شہید جمہوریت بینظیر بھٹّو نے مہاجروں کے قتل عام کا کھلا لائسنس ملک کی بہت ہی مقتدر ہستی کو دیا جن کے حکم پر پکّا قلعہ حیدرآباد کے مہاجروں کا مشہور زمانہ قتل عام ہوا ،اس قتل عام میں عورتوں اور بچّوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا اور تین دن لاشیں اٹھائ نہیں جاسکی تھیں کیوںکہ لاشیں اٹھانے جو بھی آگے آتا اس کو بھی گولیوں سے بھون دیا جاتا تھا ،اور اس آپریشن کی دھمک ختم بھی نہیں ہوئ تھی کہ آ پریشن کا حکم نافذ کرنے والی وہ بلند بالا ہستی خود ہی عالم بالا چلی گئ
اور دنیا کو انگشت بدنداں چھوڑ کر سوالیہ نشان بھی چھوڑ گئ کہ سینکڑون لوگوں کو مارنے والے کے لئے بھی ایک مارنے والا اوپر بیٹھا ہے
یہ بھی ہماری تاریخ کے دامن پر ایک داغ ہے کہ دانشور مہاجروں میں سے جو بھی اپنا کردار ادا کرنے اٹھا اس کو پاکستان کے سیاسی افق سے ہی غائب کر دیا گیا محترمہ فاطمہ جناح جن کی موت قدرتی نہیں تھی ،حکیم محمّد سعید مرحوم ، رئیس امروہوی مرحوم اور کراچی کے ایک دانشور ڈاکٹر جن کا نام زہن میں نہیں آ رہا ہے یہ سب گولیوں سے موت کی نیند سلا دئے گئے اور قوم سرپرستی محروم ہوتی رہی
میری قوم کا ہر بیٹا خواہ وہ پاکستان کے کسی بھی گوشے میں رہتا ہو جان ودل سے عزیز ہے ،میں اس وقت پاکستان کی بہتری چاہتی ہوں ،اور عمران خان کے دامن پر کسی بھی بےگناہ کے خون کے چھینٹے نہیں ہیں ،اس کو پاکستان کے عوام بسرو چشم قبول کریں گے کیونکہ اس کے پاس منشور ہے
الطاف حسین کے پاس بھی منشور ہے لیکن پہلی بات یہ کہ وہ معتوب مہاجروں کی اولاد ہے اس لئے پاکستان کے عوام کے لئے نناقابل قبول ہے دوسری بات یہ کہ اب ٹارگٹ کلنگ کا کلنک کا ٹیکہ بھی لگ گیا ہے خون ناحق بہانے والوں کو خدا نیک ہدائت عطا کرے لیکن اس کی بنیاد بھی جماعت اسلامی نے کراچی یونیورسٹی میں رکھ کر راہ دکھائ کہ دیکھو حق اس طرح بھی لیتے ہیں
پیپلز پارٹی کی الزولفقار نے پاکستان میں لیبیا کے سفارت خانے سے ہتھوڑا گروپ تشکیل دے کر معصوم لوگوں کی جانیں سر کچل کچل کر لیں نتیجہ کیا ہوا دہرانے کی ضرورت نہیں ہے سب کو معلوم ہے (باقی رہے نام اللہ کا اس کا ہتھوڑا کتنا زبردست ہے یہ بھی سب
جانتے ہیں )اللہ تعا لٰی ہم کو ہدائت عطا کرے
میرے نزدیک اس وقت ملک اور قوم کے بہترین مفاد میں سو چنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جب مولا ئے کائنات جناب رسول خدا حضرت محمعد مصطفٰے کی تجہیز وتکفین سے فارغ ہوئے تو آپ کو معلوم ہوا کہ خلیفہ وقت کا چناؤ ہو چکا تو آپنے قومی بہتری کی خاطر سکوت اختیار کیا،اور جب بھی آ پ کی رائے کی ضرورت ہوئ اسے دینے سے دریغ نہیں کیا ،
اس وقت ہماری قومی بہتری کاسوال ہے اس لئے ہر اختلاف کو بالئے طاق رکھ کر بہتر راہنما کا چناؤ ہم کو کرنا ہے تاکہ ہم بھی اللہ کے آ گے کہ سکیں اے اللہ ہم نے اپنی نہیں تیری مخلوق کی بھلا ئ چاہی
آخر میں ہر اس فرد سے دست بستہ معافی خواستگار ہوں جس کو میری تحریر کے کسی بھی لفظ سے دکھ پہنچا ہو،زمینی حقائق تلخ
ہوتے ہیں اس لئے مزاج کو گراں بھی گزرتے ہیں
زائرہ بجّو
ایڈ منٹن ،کینیڈ ا
محرمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کا مندرجہ بالا تبصرے سے مجھے جیسے دور افتادہ انسان کو پاکستان کی زمینی حقائق کو سمجھنے میںمدد ملی۔
ماشا اللہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ نے اپنے والد صاحب قبلہ کے لالوکھیت کی جگی کےجلنےکے واقعات اور پھر انکے عزم اور استقلال کے امتحان کا حال لکھ کر مجھے اپنی جیکب لائین کی جھگی کا زمانہ یاد دلا دیا ۔ مجھے یاد ہے کہ حیدرآباد دکن (ہندوستان) سے ہجرت کے بعد اس جھگی میں میرےوالدین اور میری بہنیں اور بھائی سب میری اور میرے بڑےبھائی انور کی کوششوں کی مدد سے اپنی پاکستانی زندگی کا آغاز کررہے تھے اوروہ بھی ایک آزمائش کا وقت تھا مگر ہم سب پاکستان کے لیے تمام تکالیف اٹھانے کے لیے تیار تھے ۔ اللہ نے ہم سب پر رحم کیا اور ہم سب نے کسی نہ کسی طرح پاکستان میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا ۔
افسوس کہ مجھے پاکستان کی صوبہ واریت اور لسانی امتیاز کی فضا راس نہ آئی اس لیے میں پردیس میں اپنی قسمت آزمانے کے لیے پاکستان سے باہر نکل آیا ( جس طرح ہزاروں اور لاکھوں پاکستانی باشندے نکل آئے ہیں ) مگر میں پاکستان کےباہر رہکر بھی اپنے پاکستانی رشتہ داروں اور ضرورت مند دوستوں کی مدد کرتا رہا ( اور اللہ کے مدد سے ابھی تک کررہا ہوں ) ۔
بہر کیف : سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کی تبصرے سے مجھے پاکستان میں مہاجروں کی افتاد پڑھکر یہ معلوم ہوا کہ باسٹھ سال کے بعد بھی اب تک ہندوستان سے آئے ہوئے اردو زبان بولنے والے پاکستانیوں کو ابھی تک برابری کا درجہ نہیں دیا گیا ۔اور ابھی تک ان سب کو اپنے جائز حقوق کے حصول کی جدو جہد کرنی پڑتی ہے ۔
میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کے ہر ہر لفظ سے اتفاق کرتا ہوں اور انکی تمام باتوں کی تائید کرتے ہوئے یہ کہتا ہوں کہ اردو کے بل بوتے پر اپنی روزی کمانے والے ادیب اور شاعر اور بلاگ نگار اور کالم نگار اور مضمون نویس اردو سے تو محبت کرتے ہیں اور اس میں شاعری بھی کرتے ہیں اور افسانے اور مضامین اور مقالے بھی لکھتے ہیں مگر ان میں سے کئی ایک ایسے ہیں جو اردو بولنےوالوں سے دلی نفرت کرتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہو ان کو زک دینے کی اور نیچا دکھانے کی اور انکو انکے جائز حقوق سےمحروم کرنےکی کوشش کرتے ہیں ۔
اردو سے محبت مگر اردو بولنے والوں سے نفرت ایک دکھ بھری حقیقت ہے جس کو ہر اردو بولنے والا مہاجر پاکستانی بھگت رہا ہے ۔
مسلم لیگ نواز اور پی پی پی والے اور اے این پی والے سب کے سب اردو میں تقاریر بھی کرتے ہیں اور اپنی شہرت بڑھانےاور عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کےلیے اردو کا ہی سہارا لیتے ہیں مگر اردو بولنےوالوں کو ابھی تکا “پناہ گزیں “ اور “ہندوستان والےبھیا “ کہ کر مخاطب کرتے ہیں ( اے این پی کے شاہی سید کا ویڈیو پروگرام اس کا شاہد ہے ) ۔
مجھے اس لیے امید نہیں ہے کہ ایم کیو ایم (الطاف حسین کی پارٹی والے) اور خود پرویز مشرف ( آل پاکستان مسلم لیگ والے ) اردو بولنے والوں کی فہرست میں صفح اول میں ہونےکی وجہ سے ، فی الوقت پاکستان کے لسانی زہر الود دماغوں سے اپنے حق میں ووٹ حاصل کرسکیں گے ۔
افسوس کہ ابھی تک پاکستان سے صوبہ واریت اور لسانی بنیاد پر تفریق اور امتیاز کی وبا ختم نہیں ہوئی ۔ عمران خان اگراس وبا کو ختم کرنے کا معجزہ کردکھائیں تو شائد پاکستان کی قسمت جاگ جائے۔
اگر عمران خاں ایسا معجزہ کردکھائیں تو میں اپنے تما م دوستوں اور رشتہ داروں کو مشورہ دونگا کہ وہ عمران خاں کو ہی اپنےووٹ دیں (ویسے ہر رائے دہندہ اپنی مرضی کا مالک ہے ، اس پر کسی کا زور نہیں چل سکتا )
اگر عمران خاں بھی ایم کیو ایم کے ایجنڈے کی طرح اپنے منشور میں پاکستان سے سرمایہ دارانہ اور وڈیرانہ نظا م کے خاتمہ کے پروگرام کو شامل کردیں تو وہ بھی بہت سارے غریب اور مظلوم اور محروم پاکستانیوں کا ووٹ جیت لینگے ۔
افسو س کہ عمران خاں کی تحریک انصاف ابھی تک صرف ایک تحریک ہی ہے کوئی منظم اور متحرک تنظیم نہیں جو پاکستان میں انقلاب لاسکے ۔
بہر کیف :
پاکستان زندہ باد
اسّلام علیکم ،منظور بھیّا ،
آ پ کی تحریر بعد میں پڑ ھی پہلے اللہ تعا لٰی کا شکر ادا کیا کہ الحمد للہ ، بلاگ پر آ پ کی آمد ہوئ ، در اصل مستقل مندوبین کے کچھ دیر غائب رہنے سے تشویش لا حق ہو جاتی ہے ،اللہ تعالٰی ہماری بلاگ فیمیلی کو اپنی امان میں رکھّے آمین ،
بھیّا ہجرت کے مصائب تین نسلوں پر محیط ہوتے ہیں ،میں ابھی بھی کسی وقت اس دور میں پہچ جاتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ کل کی بات ہو
اس ہجرت کے پس منظر میں ہم جن مصائب سے گزرے وہ ایک الگ با ب ہے لیکن ہجرت کے بعد ہماری جو ناقدر شناسی ہوئ وہ بہت دکھ بھری داستان ہے،لیکن اس وقت پاکستان جس مقام پر ہے اس کی بقاءکے لئے سب کچھ بھلا کر جان و دل حاضر ہے
آ پ بہت اچھّا کرتے ہیں کہ یہاں رہ کر بھی اپنے وہاں کے فرائض سے غافل نہیں ہیں ،اللہ تبارک وتعالٰی آپ کو ا ن نیکیوں کی جزا دنیا اور عقبٰی کی نعمتوں کی شکل میں عطا کرے آمین
بھیّا حقیقت ہے کہ عمران خان ہمارے وطن کا وہ ہیرو تھا ، کہ اگروہ صرف تعلیم کا پرچم اسی وقت اپنے ہاتھ میں ا ٹھا لیتا جب قوم اس کی ایک ایک ادا کی دیوانی تھی ،تو پوری قوم اس کا دامے، درمے، قد مے ،سخنے ساتھ دیتی ،اور پاکستان کی تاریخ لکھنے والا مورّخ عمران خان کے لئے کبھی نا بھلا یا جانے والا ایک درخشاں نام لکھتا
لیکن صد ہزار افسوس کہ اس نے بھی قو می علمی تہی دامانی کو پہچاننے کے بجائے اپنے آپ کوپاکستان کی وڈیرانہ ،جاگیردارانہ ،ظالمانہ سیاست کی دشت گاہ کے اندر ایک لا حاصل مشقّت میں لگا دیا ہے
مجھ کو سیاست کی الف ب بھی نہیں آتی ہے ،لیکن آنکھو ں دیکھا تجربہ ہے کہ قوم اس کی ہر آواز پر لبّیک کہ کر اس کے ساتھ ہو لیتی تھی ،لیکن پاکستان کا یہ ایماندار بیٹا سیاسی منظرنامے پر اپنا مقام کیو ں نہیں بنا سکا ،اس کی بھی وجوہات صاف نظر آرہی ہیں ، جیسا کہ آپ نے اپنے تجزئے میں دیکھا کہ اس کی تحریک محدود دائرے میں سفر کرتے ہوئے چل رہی ہے ،وہ بڑے جلسے جو ایم کیو ایم ،اور پی پی پی والے ترتیب دیتے ہیں،وہا ں پر وہ اپنی تحریک کی ظاہری حیثیت ابھی تک نہیں بنا سکا ہے (بہت سےلو گوں کاکہنا ہے اوران کو شکوہ بھی رہتا ہے کہ الطاف حسین سب کچھ دھاندلی سے کرتا ہے )
جہا ں تک پرویز مشّرف کا تعلّق ہے تو اس کا حساب تو اب اللہ کے زمّے ہے جس نے قوم کی بیٹی عافیہ کو ڈالرز کے عوض فروخت کیا ،اپنی قوم کے بیٹوں کو اپنی زمین سے اٹھا کر محض ڈ الرز کے عوض بیچا ،اگر کسی فاسق وفاجر کا یہ کردار سامنے ہو اور پھر بھی اس پر قوم بھروسہ کرے تو پھراس قوم کا انجام کار اللہ ہی جانے کہ کیا ہونا ہے
اس وقت ہماری قومی ضرورت،اور ہم آہنگی کراچی تا خیبر اتحّا د میں مضمر ہے،لسانیت ،صو بائیت ،کراہیت سب کچھ بھلا کر ایک ہونا ہماری اسوقت کی سب سے اہم ضرورت ہے ،جیسے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پرپوری قوم متّفق ہے ،
جیسے آسیہ بی بی کے معاملے پر متّفق ہوئ تھی لیکن آسیہ بی بی کا کیس جب پورا سامنے آیا تب معلو م ہوا کہ اس کو پہلے اشتعال دلایا گیا لہذا عدل کے تقاضے ٹہرے کہ اس مقدمے میں فرد جرم تو ان پربھی عائد کی جائے جنہوں نے اس کو مشتعل کر کے گستاخی پر آمادہ کیا ،پھر دونوں فریقوں کے لئے سزا کا تعین عدل و انصاف کے عین مطابق ہو
باقی رہے نام اللہ کا ،جواب دہی کے لئے اس کے حضور حاضری کے وقت کا کوئ تعین نہیں ہوتا ہے کب کون سا لمحہ قضا کا فرشتہ ہم کو ایک ثانئے میں یہاں سے وہا ںپہنچا کر دم لے اور ہم کھڑے سوچ رہے ہو ں کاش ہم کچھ دیر غور تو کر لیتے
بات کہیں سے کہیں نکل گئ ہے معزرت خواہ ہوں
حرف آخر میں یہ ضرور کہنا چاہو ں گی کہ اس وقت پاکستان کی تمام قومیتو ں کے راہنمایان قوم سب کچھ بھلا کر ایک قومی نعرہ لے کر اٹھ کھڑے ہوں کہ ہم سب پاکستانی ہیں ،پاکستان ہماری شناخت ہے ،پاکستان ہماری آن ہے ،پاکستان ہماری شان ہے
پاکستان پائندہ باد
میں محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نےمجھ سے مخاطب ہوکر پاکستان کے سیاسی مستقبل کے متعلق اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا ۔
میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ اور محترمہ عالم آرا صاحبہ کے پرخلوص شخصیات سے اتنا متاثر ہو ں کہ مجھے ان کی کسی بھی بات پر بحث کرنے کی جرائت نہیں ہوتی ۔ ان دونوں کے خیالات میرے خیالات سے ہم آہنگ رہتے ہیں اس لیے میں مزید بات بڑھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔
میں ان کے حرفِ آخر سےمتفق ہوں کہ :
““آخر میں یہ ضرور کہنا چاہو ں گی کہ اس وقت پاکستان کی تمام قومیتو ں کے راہنمایان قوم سب کچھ بھلا کر ایک قومی نعرہ لے کر اٹھ کھڑے ہوں کہ ہم سب پاکستانی ہیں ،پاکستان ہماری شناخت ہے ،پاکستان ہماری آن ہے ،پاکستان ہماری شان ہے “
“پاکستان پائندہ باد“
آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کونسا رہنما پاکستان کی اس سیاسی دوڑ میں بازی لے جاتا ہے اور قوم کا صحیح رہنما بن کر ابھرتا ہے ۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو پاکستان پھر پانچ چھ سال کے لیے ظلمت اور تباہی کی غار میں گر جائےگا۔ ۔۔۔ اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو۔
اسّلام علیکم ،
میرے معزّز ساتھیوں،
بھیّا منظور قاضی ،بہت بہت شکریہ اس عزّت افزائ کا ، اللہ کریم ورحیم کی زات سے امیّد رکھتی ہوں کہ وہ مجھ جیسی نا قابل ہستی کو اپنے نیک و محترم بندوں کے طفیل واقعئ اخلاص کی دولت عطا کر دے، آمین میں بھی اپنی بہن عالم آراء کی قابلیت اور انکسار سے کافی متا ثر ہوں ،اور وقت کے ا ختصار کے سبب چاہے تبصرہ نا بھی کر سکوں تو پڑھتی ضرور ہوں ،اللہ پاک ان کی بھی توفیقات میں اضافہ فرمائے ،آمین
بھیّا اس وقت پاکستان صحیح قیادت کے بحران میں ہونے کی وجہ سے بڑے بڑے بحرانوں میں ہے میر ے وطن کے اوپر برا وقت ہے ،
لیکن مجھے امیّد ہے کہ یہ برا وقت ایک دن ضرور گزر جائے گا ، اور ہماری قوم دنیا میں پھر سے سر بلند ہو جائے گی انشاللہ،
اللہ کریم و رحیم کی زات سے امیّد کرتی ہوں کہ وہ ہم تمام اہل وطن کے دلوں کو جو اس وقت دنیا کے مختلف حصّو ں میں بکھرے ہوئے بھی مختلف طریقوں سے ا پنے وطن،اور وطن والوں کی خدمت کر رہے ہیں ،راحت اور قرار عطا کرے ،
پاکستا ن زندہ باد
پاکستا ن پائندہ باد
پاکستان ہماری روح وقلب کی راحت ہے ،
اللہ اس کو دشمنوں کی نظر سے بچا لے،آمین