98 thoughts on “سانپ تو نکل گیا۔ آئیں مل کر لکیر پیٹتے ہیں۔”
متحدہ کے معاملہ میں بہن زائرہ عابدی ، قاضی صاحب اور فدوی ایک صفحہ پر ہیں جبکہ بھٹی صاحب، کیانی صاحب، مصباح صاحب اور نگہت بہن دوسرے صفحہ پر ہیں۔ ہم نے ہمیشہ آپکے mandate کا احترام کیا ہے جبکہ آپنے ہمارے mandate کو کبھی تسلیم اور برداشت نہیں کیا۔ دوسروں کے mandate کوتسلیم نا کرنا کیسی اور کہاں کی جمہوریت ہے؟
آج کی تازہ خبر :
عمران خان صاحب نے پاکستان کے مفاد کی خا طر الطاف حسین صاحب سے ٹیلیفونی رابطہ قائم کیا .
…………………………
اللہ کرے یہ نیک قدم پاکستان کے صحت مند مستقبل کا پیش خیمہ ثابت ہو.
………….
جب دونوں سیاسی جماعتوں کے منشور ہم آہنگ ہیں تو محب وطن پاکستانیوں کو خوشی منانی چاہیے ؛
…………………………
اتفاق کی بات یہ ہے کہ چند دنوں پہلے ایک بلاگ میں میں یہ لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر ، تحریک انصاف اور متحدہ قومی مومنٹ متحد ہوجائیں . ،
……
اگر پاکستان کے مفاد کی خاطر ظفر جعفری صاحب کے مندرجہ بالا تبصرے کے دونوں صفحات بھی ایک ہی مضمون کے حامل ہوجائیں تو یہ بھی بلاگوں کی دنیا میں ایک صحت مند صبح کا پیغام لائے گا
بسم اللہ الرّمٰن الرّحیم ہ
میرے معزّز ساتھیوں ،بیٹوں ،بیٹیوں ،سب کی خدمت میں اسّلام علیکم ،
ایک ماں کی نظر میں اس کی ہر اولاد کی حیثیت برابر ہوتی ہے ،میری نظر میں میری قو م کی صد افتخار نوجوان نسل میری اپنی اولاد کی طرح سے ہے ،،یہ بات نہیں ہے کہ میں تنہا صرف مہا جر بچّوں کے بہتر مستقبل کے لئے راتوں کو اٹھ کر دعائیں کر تی ہو ں سارے جہانو ں کاما لک گواہ ہے کہ میری دعا ہوتی ہے کہ کراچی تا خیبر سب بچّوں کا مستقبل سنوار دے ، چاہے وہ پہا ڑوں پر رہتے یا میدانو ں میں خیمہ زن ہوں ، ہر نوجوان کو روزگار اس کے گھر کے قریب عطا کر دے ،میر ا وطن اپنی دھرتی کا سینہ چیر کر اپنے اندر موجود بیش بہا خزانے اگل دے جس کی وارث میری قوم ہو نا کہ اغیار بنیں
ایسی کوئ بات نہیں ہے کہ میرا جھکاؤ کسی بھی جانب ہو میں نے ایک حقیقت کہی کہ مصطفٰے کمال اس قوم کا نمائندہ ہے جو اپنے وقت کے ظالم حکمرانوں کے ڈھائے ہوئے اس جبر کی پیداوار ہے جو اس قو م پر تو ڑا گیا ہے ،
ہمارے بارے میں تلخ ترین معروضی حقائق کا تجزیہ کئے بغیر ،اگر میرا جواب دیا جائے گا تو یہی ہو گا جو دیا گیا جبکہ ٹھنڈے دل و دماغ سے میری بات کو سمجھا جائے گا تو دل انصاف کی بات کرے گا ،جب زمانہ آ ج بھی منصفانہ فیصلے کرنے سے قاصر ہے تو پھر سکو ت میں ہی بہتری ہے ،میں مانتی ہوں ایم کیو ایم جنرل ضیا ءالحق کی مہر بانی سے فو ج نے بنائ ،اسلحہ دیا ،اور چہیتے بچّے کی طرح پالا ،لیکن کیا فوج مہاجر نوجوا نو ن کو سرکاری نوکری کا اہل بنا سکتی تھی ،نہیں یہاں وہ اس لئے مجبور تھی کہ اس کو نوکریاں دینے کا ا ختیار تھا ہی نہیں ،،کاش مہاجروں کی الگ جماعت بنا کر ان کو اسلحہ تھمانے کے بجائے ان کو نوکریاں دی جاتیں ،ان کے مستقبل سنوارنے کے بندوبست کئے جاتے چہ جائکہ ان کو انکے اپنے ہم وطنوں کے خلاف استعمال کرنے لئے آتشیں اسلحہ دیا گیا
اور پھر ان کا قتل عام یہ کر کیا گیا کہ یہ دہشت گرد ہیں تو پھر مہاجر نوجوانو ں کو واحد راستہ یہی ملا کہ اب ان کو اسلحے کے زور پر اپنا حق لینا نہیں ہے چھیننا ہے، اب کوئ یہ تسلیم کرنے کو تیّار نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کوئ ظلم ہوا ہے تو چلیں ایسا ہی سہی ،آ پ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
یہ پاکستان کی تاریخ کا المیہ ہے کہ وہ قوم جو اپنی تہزیب اعلٰی کی شناخت رکھتی تھی آ ج اسلحہ بردار کہلائ جانے لگی ،
مجھے کوئ یہ بات بتا دے کہ مہاجروں کے کسی گروۃ نے کسی سندھی آبادی والے علاقے میں شہر کی بجلی بند کرواکر سندھیوں کا قتل عام کیا ہو ،جس طرح حیدرآباد میں سندھی آبادی کو گھروں میں خفیہ طور پر محصور رہنے کی ہدائت کئے جانے کے بعد روشنی کے گولے پھینک کر پھر مہاجروں کا چن چن کر قتل عام کیا گیا یا علی گڑھ کالونی میں میرے پشتون بھائیوں نے تین گھنٹے تک قتل عا م بھی اسی طرح کیا زندہ بچّوں کو آگ کے ا لاؤ میں جھونکا اور پولس کو غائبانہ فرشتے اپنے ہمراہ لے گئے تھے ویڈیو موجود ہے ،، اور پھر تو جیسے چاروں طرف سے فیصلے کر لئے گئے کہ اندھیرے ،اجالے کی تخصیص کے بغیر قتل عام کرنا ہے ،جب ہمارے لئے ہر ظلم انصا ف کی رو سے روا ہے ،کوئ ہمارا موقف سننے کو بھی تیّار نہیں ہے ،تو میرا بھی یہ کہنا بجا ہو گا کاش ہمارے بڑے ہم کو پاکستابن لانے کے بجائے گھر میں کنو ئیں کھود کر کہ دیتے کہ جب ہندو حملہ کرنے آئیں تو اس کنوئیں میں گر کر مر جانا ،لیکن پاکستان مت جانا ورنہ صدیوں تک بھی نہیں قیامت تک ،،تم کو وہاں کوئ قبول نہیں کرے گا اگر تم وہاں بچ بھی جاؤگے تو تمھارے بچّے ان کے نشانے پر ہوں گے ،تم کو وہاں روزگار نصیب نہیں ہوگا ،،وہا ں تمھارے اخلاق دفن ہو جائیں گے اور تمھارے بچّوں کو خونی درندہ بنانے
کے لئےآتشیں اسلحہ ضرور ملے گا
اپنے تمام ہموطنوں کے لئے دعا گو ،،
وطن سے بہت دور ایک دور افتادہ مسافر
پاکستان پائندہ باد
ظفر صاحب پہلی بات تو یہ زائرہ باجی کا مؤقف آپ سے بالکل مختلف ہے اور انہوں نے بات علم و ادب کے دائرے میں رہ کر کی ہے۔ اس لئے ان کو اپنی نوائے دہل میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
تاہم قاضی صاحب اور آپ دونوں لوگ مجھے یقین ہے پوری بات پڑھے بناء اس قسم کا زہر اگلتے ہیں، ورنہ یہاں نہ تو کوئی انتخاب ہوا ہے اور نہ کوئی مینڈیٹ کا چکر ہے۔ بلاگ بند ہو چکا، آپ حضرات سے صبر پھر بھی نہیں ہو رہا۔۔لیکن مجھے آپ کے عدم برداشت کے روئیے سے محسوس ہو رہا ہے کہ کراچی جل کیوں رہا ہے۔ یہاں عمران خان کو لتاڑا گیا، زرداری کو سخت سُست کہا گیا، نواز شریف کو برا بھلا کہا گیا، کوئی نہین چیخا۔ اس کو آپ کہتے ہیں مینڈیٹ کا احترام؟ یہ الطاف حسین کوئی آسمانی مخلوق ہے جو آپ یوں بیتاب ہوئے جاتے ہیں؟؟؟ ذرا بتائیں تو سہی آپ نےاحترام کیا کس کا ہے، کس کہاں کیا ہے؟ تعصب کی عینک نے لگتا ہے آپ کو کسی کی تحریر پڑھنے کی زحمت ہی نہیں دی، اور دوسروں کو عدم احترام کے طعنے دینے لگے۔ اسے کون احترام کہتا ہے؟؟؟ ۔ اگر کوئی کسک باقی ہے تو آپ کے پاس بلاگ لکھنے کا اختیار ہے، جو جی میں آئے، ادب کے دائرے میں رہ کر کھُل کر لکھئیے تا کہ آپ کی تسلی ہو جائے۔
جب سے میں نے بلاگ کے بند کرنے کا علان کیا ہے، تب سے آپ کے مطعون افراد میں سے کسی نے مجال ہے جو ایک سطر لکھی ہو، لیکن بھیّا آپ لوگ تو جُٹے ہوئے ہیں وقفے وقفے سے۔ دعا ہے کہ خدا آپ کے دلوں کو قرار بخشے۔
آپ لوگوں کی ضد دیکھ کر مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے باقی لوگوں کو کیوں جواب لکھنے کے حق سے محروم کیا؟ تاہم آپ لوگوں کی زہر افشانی کے بعد باقیوں کو بھی حق حاصل ہے کہ دل کھول کر لکھیں۔
بلاگ بند ہونے کے بعد ضد و ہٹ دھرمی کے مظاہرے سے محض عقلی طفولیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، نہ کہ کوئی علمی، ادبی و منطقی بات۔
چلو، لگے رہے مُنا بھائی۔
—————–
مجھے قاضی صاحب سے سخت شکایت ہے کہ حسب دستور اگر کہیں کوئی معاملہ ایسا ہو جہاں ایک خیال کو وہ درست سمجھتے ہوں اور دوسرےکوغلط تو فوراً درمیان میں حق و باطل کو گھسیٹ لاتے ہیں اور اپنے طوطیء شکر مقال کو ہی حق گوئی جانتے ہیں۔ چلتے چلتے عرض کردوں کہ یہ حق گوئی و بیباکی کا معیار ہے کیا؟ یعنی جو خود کو بھلا لگے وہ حق ہے اور جو دوسروں کو جراحت احساس سے بے جان کرے وہی بیباکی ہے کیا؟ آخر کس نے ان کو حق دیا ہے کہ وہ باقی احباب کی بات کو منفی تبصرہ کہیں؟ کیا ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم بھی انہیں منفی سمجھیں ؟ حق گوئی و بیباکی کا معیار آپ کی ذات شریفہ رہی ہے اور نہ ہی ہے اور ہم سب کی طرح انکی سوچ کو بھی عوامی خیال سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ خود کو ہی حق پرست ثابت کرنا چاہیں گے تو پھر بات آگے ضرور بڑھے گی اور ابطال الباطل پر جا کر رکے گی۔ اس حق گوئی نما منفی صورت حال نے ملک کی جو حالت کر رکھی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اس لئے ہمیں برداشت اور باہمی احترام کے ساتھ آگے چلنا ہے، ورنہ انتظامیہ میڈیا کی آزادی کے علمبرداروں کی سنت پر عمل کرنے پر مجبور ہوگی، اور منفی کردار کو خاموشی سے چپ کروانے پر مجبور ہوگی، جیسا کہ جنگ اور بی بی سی جیسے مؤقر جرائد میں ہوتا ہے۔ اپنے تبصرے میں تاخیر کے سبب انہوں جو اودھم مچایا، وہ مثالی ہے۔ خدا انہیں زندگی کے ان دنوں میں چین نصیب کر دے۔ آمین
———————————————
میں سلام کرتا ہوں آغا جانی، نگہت بہن اور شمس جیلانی صاحب کے ضبط و تحمل اور وسعت قلبی کو، جنہوں نے کسی منفعت کی سوچ کے بغیر ایک با کمال ٹیم کی مدد سے ہم سب کو اپنی اپنی کہنے سننے کے لئے یہ صفحات مہیا کر رکھے ہیں اور میزبانی کے ساتھ ساتھ مشق ستم بھی سہتے ہیں۔ سب کو اجازت ہے کہ یہاں اپنا اپنا نکتہء نظر پیش کریں، لیکن باہمی احترام، شرافت ، ضبط و تحمل، برداشت اور دلیل برائے دلیل جیسی اقدار اسلامی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔لیکن اکثر دیکھا یہی ہے کہ آغا جانی اور انکی ٹیم آزادی ء اظہار کے احساس کے تحت ہر مشکل کو برداشت کر جاتے ہیں،لیکن وہ کیا ہے کہ یہ دادگاہ بہر طور ایک فکری دادگاہ ہے جہاں سے مباحث کا مقصد انتشار کی بجائے تعمیر ہی ہونا چاہیئے۔
——————————-
امید ہے ہم سب ان صفحات پر ادارتی ضوابط کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں گے اور اپنی اپنی مرضی کا حق نافذ کرنے کی سنتِ ضیائی سے خود کو محفوظ رکھیں گے، انشاء اللہ۔
نا چیز
سید مصباح حسین جیلانی
ترجمان اخبار و ناظم بلاگ عالمی اخبار
زائرہ باجی آپ کا شکریہ کہ آپ نے ماحول کو لوگوں کی کوششوں کے باوجود مکدر ہونے نہیں دیا۔ ورنہ قاضی صاحب قبلہ نے تو بھر پور کوشش کی کہ ایک لسانی تفریق کی سی کیفیت پیدا کر دیں، حالنکہ موضوع سخن نہ کسی کو بھیا کہنے کا تھا نہ ایم کیو ایم کی داستان۔ بات ایک ضمنی پہلو کے طور پر شروع ہوئی اور آپ نے اپنا نکتہ نظر پرُ زور انداز سے بیان کردیا، جس سے اختلاف کے باوجود ہم نے موضوع بحث نہیں بنایا، کیونکہ اسکا حاصل کچھ نہیں ہے۔ کہنے کو میں جوابی دلائل میں صفحات کے انبار لگادوں، لیکن جب نتیجہ مفاہمت کی بجائے مخاصمت ہی نکلنا ہے تو بات بڑھانے کی چنداں ضرورت ہی نہیں ہے۔ مختصر یہی ہے کہ اس سیاست کے حمام میں کوئی بھی قابل اعتبار نہیں۔
انسان کی جو شخصیت اسکی زبان تلے پوشیدہ ہے، وہی زیر نوک قلم بھی ہے۔ ہماری تحریریں ہمارے مزاج کی آئینہ دار ہیں، ہمارے کردار کی عکاس ہیں اور کراماً کاتبین کے ساتھ ساتھ یہ تحریریں بطور آثار محفوظ ہوتی رہتی ہیں۔ اس لئے شیریں سخنی کے مخاطب محض ہم زبان و ہم خیال افراد ہی نہیں، بلکہ جملہ احباب محفل ہونے چاہئیں۔ آپ نے بڑائی کا ثبوت دیتے ہوئے بات کو سب کے لئے شیریں سُخنی سے ہی تمام کیا، جو آپ کی نیک طینت طبیعت کی عکاسی ہے۔ خدا آپ کو یونہی آسانیاں بانٹنا نصیب کرے۔ آمین۔
اسّلام علیکم مصباح بھائ ،
بہت بہت شکریہ کہ آ پ نےمیرے موقف کو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سنا اور ا حتراماً اس جگہ بھی جواب نہیں دیا جہا ں دے سکتے تھے
اللہ تعا لٰی آپ کو بلند اقبال کرے زندگی کے ہر مقام پر کامیاب و کامران کرے ،حقیقت یہ ہے کہ عالمی ا خبار کی انتظامیہ نے میرے موقف کو سنا ،اور میں شکر گزار ہوں کہ میرے کسی بھی بلاگ کو ڈیلیٹ نہیں کیا عالمی اخبار کی انتظامیہ کا بھی میری جانب سے شکریہ
میں تمام ساتھیوں کی شکر گزار ہونے کے ساتھ دست بدعا ہوں کہ مالک معبود ہم سب کو ایک دوسرے کا بہترین مددگار ،غمگساراور مخلص ،دوست ،بننے کی بہترین توفیق عطا کر دے آمین ، ہم جب روز جزاء اس کے حضور حاضر ہوں تو اپنے اجلے چہروں کے ساتھ کہ سکیں ،بار الٰہا ہم نے کبھی تفریق کی بات نا تو خود کی نا ہی اس کے حصّے دار بنے
اب ہمارا وطن ایک ہے ہمارا دین،دین اسلام ہے ،ہماری کتاب ،قران کریم و عظیم ہے پمارا ایمان ہما رے پیا رے نبی آ خرازّ ما ں صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسّلم پر ختم نبوّت ہے ،الحمد للہ
اب ایک اہم ترین بات جو ہے ،پاکستان کی آنے والی قیادت کو ن ہو ؟ یہ لمحہ فکریہ ہے ،میری ناقص رائے مین اس وقت عمران بیٹے اور الطاف بیٹے کو ہاتھ ملا کر پاکستان سنبھال لینا چاہئے ،میرے لئے دونوں بیٹے برابر ہیں ،یہ ہماری قوم کا بڑا پن ہو گا کہ ان کی زاتی لغزشو ں سے پہلو تہی کر لے ،تیسرا نام محترم محمود قریشی کا ابھر کر سامنے آ رہا ہے ،یعنی جس سے جو ہو سکے اپنا اپنا دست تعاون پیش کر کے پاکستان کی ایک نئ تاریخ رقم کرنے آگے آجائے
اور ہم سب پاکستانی ہیں کا نعرہ پھر سے ہمارا سلوگن بن جائے ،اور پھر ایک بار ہمارے عظیم قائد ا عظم کی اور لیاقت علی خان کی تصاویر بھی حاضر سیاسی قائدین کے ہمراہ نظرآئیں
پاکستان پائیندہ باد
اس بلاگ پر الوداع اور خدا حافظ
مصباح صاحب
صحافت میں آپ تبصروں کو تو حذف کرسکتے ہیں جو آپ نہیں کرتے اور آپکی یہ بات قابلِ تعریف ہے۔ لیکن غصہ سے آپ کسی کو مہر بلب یا زیر نہیں کرسکتے۔ عوامی لیڈر کی یہی پہچان ہے کہ عوام اُسکی دفاع کرتے ہیں، اخبارات میں بھی، سڑکوں پر نکل کر بھی، سینے پر گولی کھاکر بھی، جلا وطنی میں بھی۔ الطاف حسین کیونکہ عوامی لیڈر ہیں اسلئے عوام اُنکی ہر محاز پر دفاع کرتے ہیں۔ نواز شریف اور زرداری کیونکہ عوامی لیڈر نہیں ہیں اسلئے عوام اُنکی دفاع نہیں کرتے۔ غمران خان ابھی ادنیٰٰٰٰ ہی صحیح لیکن عوامی سطح پر اُنکی حمایت شروع ہورہی ہے۔ جمہوریت میں مخالفین کو بھی اس بات کا حق ہے کہ وہ اظہارِ رائے کریں۔
بجو مجھے کوئی صفائی نہیں دینی کہ کیا ہوا اور کیا نہیں ہوا ۔۔۔ پاکستان کے بننے سے لے کر اجڑنے تک سب نے ہی سہا ہے اور سب نے ہی ایک دوسرے کی سلامتی کے لئے لئے دعائیں مانگی ہیں ۔۔ سو میں یہاں صرف تین باتیں آپ سب سے کہنا چاہونگی ۔۔
1۔ اختلافات کا حل اختلاف نہیں ہوتا ( صفدر ہمدانی )
2۔ جب تک اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کیاجائے گا اس وقت تک غلطی سدھر نہیں سکتی ( شمس جیلانی )
3۔ کسی برائی کی تو ضیع میں دلیل دینا دراصل برائی کو تقو یت دینا ہے ۔(سید مصباح حسین جیلانی)
آپ سب بھی سوچئے اور آگے بڑھئے ۔۔ شکریہ
ظفر صاحب بات صرف یہ ہے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ والوں کا ظرف آپ کی سوچ سے بہت بلند ہے۔ عوام صرف کراچی میں نہیں پورے پاکستان میں رہتی ہے جنہوں نے ان افراد کو چن کر حکمران بنایا ہے۔ میری یا آپکی مخالفت سے اس حقیقت کا انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی عوام کی اکثریت نے زرداری و نواز شریف پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے اور مخالفین کو بھی جینے کا وہ حق دیا ہے جو آپ دینے پر تیار نہیں ہے۔ وہ صرف تبصروں اور اختلافات پر آپ کی طرح ذہنی لا ابالی پن کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ سننے سمجھنے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی حال تحریک انصاف کا بھی ہے، وہ لوگ بھی نقطہء اعتدال نہیں چھوڑنا چاہتے۔ باقی ایم کیو ایم کی مجھے خبر نہیں، لیکن جو تبرک ہمیں ملا ہے، اس میں شدت کے سوا کچھ نہیں۔ آپ کی بے تکی باتوں سے میں اپنا مزید وقت ضائع نہیں کروں گا۔ سو خدا آپ کو اپنا جہان مبارک رکھے جس سے آپ نکلنا ہی نہیں چاہتے۔
جناب جعفری صاحب ،
یہ بلاگ اتنی دفعہ کھلا اور بند ہوا کہ اب ذہن میں بھی سب کچھ گڈ مڈ ہوگیا ہے ۔ اور سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جتنے اہم موضوع پہ یہ بلاگ شروع ہوا تھا اس طرف اتنی توجہ ہی نہیں دی گئی ۔ بات لیڈر شپ سے شروع ہوئی اور اسے پہلے کہ قارئین کی آنکھیں کھلنے کی نوبت آتی کہ مصباح صاحب کی طرف سے عزت مآب جناب مصطفٰے کمال صاحب کے ویڈیو لنکس لگانے پہ زمین کی گرد آسمان تک پہنچا دی گئی اور ’ مہاجر کمیونٹی‘ ، جنھیں مہاجر کہتے ہوئے بھی میری زبان کانپنے لگتی ہے ، کی بے بسی اور ایم کیو ایم کی صفائی اور جواز پہ بحث شروع ہوگئی جس کی کوئی تُک ہی نہیں تھی ۔ مصطفٰے کمال صاحب نے جس ’ شائستہ‘ زبان کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیا کو رگڑا ہے یہاں اس کی وکالت کی بجائے سچائی کو تسلیم کرتے ہوئے بات کو طول دیتے ہوئے اسے کہیں سے کہیں پہنچانے کی بجائے ان کی ذات سے متعلق اچھے پہلوؤں کو اجاگر کیا جانا چاہیئے تھا تاکہ قارئین کی نظروں میں آنا والا ہلکا سا وہ دھبہ بھی دھل جاتا ۔
مجھے حیرت تو آپ کی فتوٰی نویسی پہ ہورہی ہے جو کبھی فوج کے خلاف ہوتی ہے تو کبھی بلاگ میں لکھنے والوں کے خلاف !
محترم یہاں کوئی لابننگ نہیں ہورہی جو آپ ’ دو صفحے ‘ کھول کے بیٹھ گئے ہیں ۔ اور جہاں تک آپ کو اپنا ’ مینڈیٹ ‘ تسلیم کرانے کی ضد ہے تو یہی عرض کروں گا کہ کچھ لوگ غیر جانبدار بھی ہوتے ہیں جو صرف سندھی یا ’ مہاجر ‘ کمیونٹی سے ہٹ کر پاکستان کے عام آدمی کو نظر آنے والا تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر آپ کو یہ پسند نہیں تو پاکستانی بیوروکریسی کی طرح ہم بھی آپ کے دربار میں ” سب اچھا “ ہی کہتے ہیں ، آپ خوش رہیں !
السلام علیکم
جب سے یہ بلاگ شروع ہوا ہے میں اِس کا خاموش قاری ہوں ، وجہ صرف یہ ہے کہ جیسا کہ آپ سب جانتے ہین کہ میں پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان تحریک انصاف سے منسلک ہوں اور مصباح صاحب نے بلاگ کے ابتداء میں جو سوالات اُٹھائے تھے اُن میں سے کچھ میری قیادت سے متعلق بھی تھے اور جن کے میرے پاس جوابات نہیں تھے اور نہ ہی مناسب دلائل ، سو میں نے خاموشی ہی مناسب سمجھی ، پھر بیچ میں یہ جو مہاجر اور غیر مہاجر کا ایشو شروع کر دیا گیا اِس نے مجھے کئی بار مجبور کیا کہ کچھ لکھوں مگر کچھ لوگوں کے ادب کے سبب خاموش رہا ، میرا تعلق ہزارہ سے ہے مگر میری پیدائش اور پرورش کراچی میں ہی ہوئی ہے ، میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ کراچی مہاجروں کا شہر ہے اور یہاں ہر طرح کے مہاجر بستے ہیں ، یہاں اردو بولنے والے بستے ہیں ، یہاں پشتو بولنے والے مہاجر بستے ہیں پنجابی مہاجر ہیں اور ایک بڑی تعداد میرے لوگوں ( ہزارے وال ) کی بھی ہے ، ہم سب مہاجر ہیں اور یہ کہنا کہ اُن مہاجرین کو کہ جو ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے تھے تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہے کچھ غلط ہے یا کم از کم ایک منفی سوچ ضرور ہے ، پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان تھے جو کہ ہندوستان سے ہی ہجرت کرکے آئے تھے ، بلکہ پہلی ہی دستور ساز اسمبلی میں متعدد اراکین مہاجرین میں ہی سے تھے ، کراچی والوں نے جس ہمدردی اور اخوت سے مہاجرین کا استقبال کیا وہ کسی طور بھلانے لائق نہیں ، اور کراچی میں تو پشتونوں کو بھی ’’ خر کوٹا ‘‘ و ’’ خرکار ‘‘ اور کئی دوسرے نام دئیے جاتے رہے ہیں ، سندھیوں کو لوگ ’’ مانڑو ‘‘ بلوچوں کو ’’ کلوٹے ، شیدی ‘‘ پنجابیوں کو ’’ دھوتی ، لوٹا ‘‘ اور ہزارے والوں کو ’’ ناڑے ، پہاڑیئے ‘‘ اور جانے کیسے کیسے ناموں سے یاد کیا جاتا رہا ہے ، مگر باقیوں میں سے کسی نے بھی ہتھیار نہیں اُٹھائے ، اگر یہ مان لیا جائے کہ ریاستی تشدد ہتھیار اُٹھانے کا سبب بن سکتا ہے تو پھر ، بلوچستان کے بلوچوں کی مسلح کاروائیوں کا جواز مل جاتا ہے ، وزیرستانی پشتونوں اور ظالمان کو اپنے خود کش حملوں کے لیے جواز مل جاتا ہے ، احتجاج کے کچھ اور بھی طریقے موجود ہیں ، تشدد کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا ، اور پھر کراچی میں محض اردو بولنے والوں کا قتل نہیں ہوا ، بلکہ پشتونوں کا خون بھی پانی کی طرح بہایا گیا ہے ، فرق یہ ہے کہ اُن کے پاس زریع ابلاغ کو استعمال کرنے کا ہنر نہیں ہے ، یہ سب باتیں فضول ہیں ، خون کسی ایک انسان کا بھی بہے تو یہ انسانیت کی تذلیل ، سب پاکستانی ایک جیسے ہیں لسانی کی تفریق مناسب نہیں ، اگر کوئی ایسا کرتا ہے اور ہم اُس کے فریب کا شکار ہو جاتے ہیں تو یقینا وہ کامیاب ہو گیا ، اور وہ ہمیں بانٹنے مین کامیاب رہا ، جو کہ خود ہمارے لیے مناسب نہیں ، میں خود چونکہ کراچی مین ہی رہا ہوں اور میں نے یہ سب خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ، اِس لیے کہتا ہوں کہ سنی سنائی اور دیکھے ہوئے میں بہت فرق ہوتا ہے ، ہم سب پاکستانی ہیں ، اور یہی ہماری سوچ ہونی چاہیے ، سیاسی وابستگی ہماری پاکستانیت سے اہم نہیں ۔
آصف احمد بھٹی
آصف بھائی یقین جانیں مجھے آپ کا انتظار تھا، لیکن آپ کو زحمت اس لئے نہیں دی کیونکہ میں سمجھ رہا تھا کہ آپ کے پاس اگر وقت ہوتا تو آپ خود ہی اس طرف آتے۔ بہر کیف دیر آید درست آید۔
آصف صاحب آپ کے تبصرے کا ایک ایک لفظ پڑھنے اور دل میں جگہ دینے کے لائق ہے۔ یہ بھی تو بتائیں ناں جو پنجابی نسل در نسل وہاں رہ کر پنجابی کے ساتھ اصلہی لب و لہجے میں اردو بھی بول لے اسے چوپایہ کہا جاتا ہے۔
السلام علیکم
محترم جناب سید مصباح حسین صاحب ، ممکن ہے کچھ لوگ اِن القابات کو تعصب سمجھتے ہوں مگر میں اب تک یہی سمجھتا رہا ہوں کہ کراچی جیسے شہر میں جہاں ہر طرح کے لوگ بستے ہیں ایک دوسرے کی پہچان کے لیے یہ القابات بولے جاتے ہیں ، ہم اپنے بچپن مین ہر پٹھان کو ’’ ماما ‘‘ کہتے رہے ہیں ہمارے اردو بولنے والے دوست بھی اُنہیں ’’ ماما ‘‘ ہی کہتے تھے اور سب پٹھان اِس پر فخر محسوس کرتے تھے ، یہ تعصب تو اب کچھ سالوں سے شروع ہوا ہے یا اِسے تعصب سمجھا جا رہا ہے ، اور رہی بات ہندوستان سے آنے والے ہمارے بھائیوں کی تو عرض ہے کہ ہندوستان سے آنے والے صرف کراچی ہی نہیں آئے تھے اور یہ صرف اردو بولنے والے ہی نہیں تھے پنجاب میں بھی ایک بڑی تعداد میں ہندوستان کے پنجاب ، دلی ، اور موات سے لوگ آکر بسے تھے ، اب ہم سب پاکستانی ہیں اور اگر کوئی بھی شخص تعصب کا پیدا کرتا ہے تو اُس کی سخت مذمت ہونی چاہیے ، اور ایسے شخص سے چاہے وہ کسی بھی قومیت سے تعلق رکھتا ہوں معاشرتی بائیکاٹ کرلینا چاہیے ، ہم سب ایک اللہ کے ماننے والے ، ایک رسول کے پیروکار ، ایک کلمہ پڑھنے والے ہیں ہماری پہچان صرف اسلام اور پھر پاکستانیت ہونی چاہیے اور کچھ بھی نہیں سو باہمی تفریق پیدا کرنے والے ہر شخص سے لاتعلقی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔
آصف احمد بھٹی
آصف کتنی اچھی بات کہی اور کتنی سچی .. جی خوش ہو گیا پڑھ کر کہ ہندوستان سے مہاجر تو پورے پاکستان میں آ کر بسے تھے ..پھر کراچی میں جو آ کر بسے وہی اتنے اہم کیوں ہیں .. .. میرے دادا اور دادی جی اپنے پورے کنبے کے ساتھ ہندوستان (شکر گڑھ) سے شیخپورہ آ کر بس گئی تھی .. اور ہم سات پشتوں سے پنجابی ہیں .. لیکن آپ ہی کی طرح کراچی میں پلی بڑھی ہوں .. لیکن میڈ یسن پڑھنے کے لئے مجھے سندھ میں کسی نے داخلہ نہیں دیا کہ میں مہاجر نہیں تھی اور ایم کیو ایم کی اجارہ داری ہر ادارے کی طرح اس وقت بھی میڈیکل کالجز میں بھی تھی ..اور اس زمانے میں پرائیویٹ کالج بھی نہیں تھے .. اگر ہوتے بھی تو مجھ جیسے کہاں افورڈ کر سکتے تھے .. میں اس وجہ سے تن تنہا ہوسٹل میں رہی اور تعلیم مکمل کی ..تو اس طرح سے ہر لیول پر دکھ اور گھاؤ تو سب نے سہے ہیں .. آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ ہمارے پاس زرائع ابلاغ ایم کیو ایم جیسا نہیں رہا ورنہ تصویر کا دوسرا رخ دکھانے میں ہمیں ہر وقت اتنی کوشش نہ کرنی پڑتی .. اور لسانیات کی بنیاد پر بانٹنے والی جماعت کبھی نہ پنپتی … اصل بات جو سب کو یاد رکھنی چاہئے کہ ہم پاکستانی ہیں .. اور کچھ نہیں .. ہمارا رونا اور ہماری بد نصیبی ہی یہی ہے کہ ہم “حق پرست” تو ہیں لیکن “قوم پرست” یعنی نیشنیلسٹ نہیں ہیں ..
سلامت رہیں بھائی ..
اسّلام علیکم ساتھیوں، بچّوں ،میںاس بلاگ پر الوداع کہ کر شفاء خانے کی پیڑھی پر بیٹھی تھی کہ پتا چلا بلاگ پر میرا بیٹا آصف آگیا ہے تو ساتھیوں یہ تو سب جانتے ہیں بیٹوں کی اہمیت ماؤں کی نظر میں بیٹیوں سے زیادہ ہوتی ہے ،دیکھنا اب بیٹی باد نسیم خفا ہو نے کے لئے آنکھیں دکھا رہی ہے
کوئ بات نہیں بہنوں کو بھی تو بھائیوں پر مان ہوتا ہے
تو میرے بیٹے تم نے اور نگہت بیٹی نے جن حقائق کو بیان کیا ہے اس ایک عنوان پر ہم سب قلم کاروں کو ایک طرح سے جہاد کرنا چاہئے کہ ہم سب پاکستانی ہیں ،،ہماری شناخت صرف اور صرف پاکستان ہے ،،،حقیقت یہ ہے کہ اب ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم خود اپنے گھر سے اس بات کی ابتدا کریں کہ ہم پاکستانی ہیں ،
ہماری قوم کو لسانی بنیادوں پر سازش کے تحت تقسیم کیا گیا ہے ،ہم اس تقسیم کو نہیں مانتے ہیں ،یہ بھی ایک سامراجی گھناؤنی سازش ہی تو ہے کہ گھر کے اندر کے افراد کو تقسیم کردو
میری اپنی سگی نند لاھور میں رہتی ہے اس کے بچّوں کی وہیں شادیاں ہوئیں وہیں پلے بڑھے ماشاللہ پروان چڑھے ،میرے اپنے لاتعداد رشتے دار جھنگ ،نارووال ،خان پور اور تقریبا پورے منجاب میں آباد ہیں ،میرے سگے بڑے بہنوئ کوہاٹ کے پکّے سیّد افغانی پٹھان ہیں جنکے گھر میں ڈھائ سو سال پرانا علم مبارک نصب ہے ،پھر یہ تقسیم کیوں اور کیسے ؟ اس کا بہترین علاج ہمارے اپنے پاس ہے کہ ہم صرف اپنے آپ کو پاکستانی کہلانا شروع کر دیں
پاکستان سب کا ہے یہی ہماری شناخت ہے ہمیں تقسیم مت کرو یہ ایک نعرہ ہمارا علاج ہے ،نگہت بیٹی میں خود اپنے بچّوں کو بغرض تعلیم اور ،روزگار پردیس بھیج کر دیکھ چکی ہوں مجھے معلوم ہے جب بچّوں کو ان کے شہروں میں یا انکی اپنی مطلوبہ درسگاہون میں داخلہ نہیں ملتا ہے تو کتنے مایوس ہوتے ہیں وہ اس وقت کتنے کمسن ہوتے ہیں ،وہ اس وقت اپنے خوابوں کو کس طرح کرچی کرچی ہونا دیکھتے ہیں ،تم بھی اس وقت کتنی کمسن طالبہ ہو گی تم کو بھی کتنا دکھ پہنچا ہوگا جب قابلیت کے اعلٰی معیار کے باوجود تم کو مایوس لوٹا یا گیا ہوگا ،کیا سندھ کی درسگاہوں پر پنجاب کے طابعلموں کا حق نہیں تھا
،،میری بیٹی تعلیم ہوئ یا روزگار ہوا تم اور میرے بچّے اور میری قوم کے بچّے الگ الگ تھوڑی ہیں تم کواور انکو اگر اپنے وطن میں وہ سب کچھ مل جاتا جو تم لوگ چاہتے تھے تو تم کب بے وطن ہونا پسند کرتے ،اس تمام غیر منصفانہ قومی تقسیم نے ملک کو بہت ہی بڑا نقصان یہ بھی پہنچایا کہ آ ج ہمارا بہت بڑا سرمایہ یعنی تعلیم یافتہ طبقہ ملک سے باہر نکل آیا ہے ،
اللہ تم سب کو شادوآباد رکھّے ،اور خوشحال ،حال کے ہمراہ تابناک مستقبل عطا کرے
اجازت چاہوں گی
اللہ نگہبان
زائرہ بجّوً
سوال یہ ہے جب بعض نکات پر ہمیشہ ہی فتنہ کھڑا ہوجاتا ہے تو ایسے بلاگز شروع ہی نہیں ہونے چاہئیں۔ مصباح صاحب کو بھی یا تو کم ظرف، جاہل، تنگ نظر جیسے فتوے صاذر کرنے پڑتے ہیں یا بلاگ کو بند کرنا پڑجاتا ہے۔ میں کوئ بھی بلاگ شروع کرنے سے پہلے دس بار سوچتا ہوں کہ اس سے ماحول خراب نہ ہو۔ اگر آپ غور کریں تو ان فتنہ پرور بلاگز میں نصف سے زیادہ مبصرین خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ جب سلمان تاثیر کے قتل پر یہاں شادیانے بج رہے تھے تو میں نے اُسکی مخالفت کی تھی۔
اگر میرا نام لےکر طرح طرح کی بے بنیاد بہتان تراشے جارہے ہیں تو میرے جوابی تبصرے کیوں حذف کیے جارہے ہیں؟
اگر حق با ت سننے کی تاب نہیں تو سید مصباح حسین جیلانی صاحب کو اس قسم کی بے بنیاد الزام تراشی پر افسوس کرنا چاہیے تاکہ انکی اخلاقی جرائت کا مظاہرہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید مصباح حسین جیلانی صاحب اپنےایک نئے بلاگ بعنوان “جینا شروع کیجئے “ میں مجھے تبصرے لکھنے کی دعوت تو دے رہے ہین مگر وہ اور انکے شریک کار میرے تبصروں کو اس بلاگ سے حذف بھی کررہے ہیں ؛ یہ کتنی عجیب و غریب بات ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا یہ کہنا زہر اگلنے کے برابر نہیں ہے کہ :
“ یہ بھی تو بتائیں ناں جو پنجابی نسل در نسل وہاں رہ کر پنجابی کے ساتھ اصلہی لب و لہجے میں اردو بھی بول لے اسے چوپایہ کہا جاتا ہے۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر شاہی سید صاحب نے پندوستان سے پاکستان آےہوئے مسلمانوں کو “ پناہ گزیں اور بھیا“ کہا تو اس کا تذکرہ ان بلاگوں میں کرنا “ زہر یلی بات کرنا“ کیسے ہوا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں نے یہ کہا کہ کسی نے ( اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ اے این پی والے تھے یا ایم کیو ایم والے تھے یا کون شیطان تھے ) نے میرےبے گناہ بھتیجے کو کراچی میں ٹارگٹیڈ کلینگ کا نشانہ بنا کر شہید کردیا اور یہ بھی نہ خیال کیا کہ اسکی جوان بیوہ اور اسکے تین معصوم بچوں کا کیا ہوگا ؟ تو اس میں میں نے کونسی زہریلی بات کی ؟
( 15 نومبر 2008 کے عالمی خبار کےمیرے بلاگ میں اس سانحہ کی تفصیل موجود ہے )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے امید تو نہہں ہے کہ یہ تبصرہ اس بلاگ میں شایع ہوگا پھر بھی میں خاموش رہنے کی بجائے اس تبصرےکو لکھنے کی جرائت کررہا ہوں۔ اور اسکی کاپی ای میل کےذریعہ عالمی اخبار کی انتظا میہ کے علاوہ ظفر جعفری صاحب کو بھیج رہا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔
میں اس بلاگ کے تمام تبصروں میں جناب ظفر جعفری صاحب اور محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کے تبصروں سے بالکل متفق ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جناب آصف احمد بھٹی صاحب کے تبصروں کو قابل ِ غور سمجھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر ایم کیو ایم اور تحریک انصاف متحد ہوجائینگے ۔
منظور قاضی
جرمنی سے
قاضی صاحب قبلہ بڑی نوازش، آپ کو کسی کی بات تو ٹھیک لگی۔ ۔۔۔خدا خدا کر کے۔ مجھے آپ سے پھر یہی شکایت ہے کہ آپ نے جو بھی اب تک نتیجہ نکالا ہے وہ بغیر پڑھے نکالا ہے۔ خیر کوئی بات نہیں۔
دنیا اور جیون ساتھی
میرا مشاہدہ ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں بہت ملجائیں گے جو جیون ساتھی کے ساتھ تو بُرے ہوں لیکن دوسروں کے ساتھ اچھے ہوں۔ اسکے برعکس ایسے لوگ شاذو نادر ہی نظر آئیں گے جو دوسروں کے ساتھ بُرے ہوں لیکن جیون ساتھی کے ساتھ اچھے ہوں۔ اس بات کا احساس مجھے اسوقت ہوا جب ہمارے شہر میں ایک ہندو ماہرِ قلب کی بیوی نے خودکشی کرلی۔ یہ نفیس مذہبی خاتون خود کشی سے پہلے شدید ڈپریشن کا شکار تھیں۔ ہمارے شہر میں دوسو سے زیادہ برِ صغیر کے ڈاکٹرز ہیں۔ سب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ محترمہ کے شوہر سب ڈاکٹرز سے سینیئر اور پرانے ہیں۔ دوسرے دیسی ڈاکٹرز کو انہوں نے ہمیشہ نقصان پہنچایا۔ دوسروں کو بھی ہمیشہ نقصان پہنچایا۔ جب میں نے آنکی بیوی کے خود کشی کرنے کی خبر سنی تو یہی سوچا کہ جو شخص ساری دنیا کے ساتھ برا ہو وہ جیون ساتھی کے ساتھ کیسے اچھا ہوسکتا ہے۔
معذذرت کہ مندرجہء بالا تبصرہ غلطی سے یہاں چسپاں ہوگیا۔
جہاں تک اس بلاگ کا تعلق ہے تو میری غلطی تھی کہ میں نے اس میں حصہ لیا۔ آئندہ اس قسم کے بلاگز سے میں دور رہوں گا۔
میں اس قسم کے بلاگوں میںصرف اس لیے حصہ لیتا ہوں کہ ان بلاگوں میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ اور ظفر جعفری صاحب جیسے مبصر حصہ لیا کرتے ہیں۔
اگر ان دونوں نے اس قسم کے بلاگوں میں حصہ لینا چھوڑدیا تو یہ بلاگ صرف یک طرفہ ٹریفک بن جائینگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے محترم اور عالی وقار سید مصباح حسین صاحب نے کہا ہے کہ :
“مجھے آپ سے پھر یہی شکایت ہے کہ آپ نے جو بھی اب تک نتیجہ نکالا ہے وہ بغیر پڑھے نکالا ہے۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جناب سید مصباح حسین صاحب کے تمام تبصرے پڑھتا رہا ہوں ۔ اور اس بنا پر میں یہ کہنےپر مجبور ہوں کہ اس بلاگ میں انہوں نے جو میرے خلاف غلط بیانی کی کہ : “ قاضی صاحب اور آپ دونوں لوگ مجھے یقین ہے پوری بات پڑھے بناء اس قسم کا زہر اگلتے ہیں،“
اس پر مجھے بے حد تعجب ہوا ۔
جس کی امید سید مصباح حسین صاحب جیسے سلجھے ہوئے انسان سے نہیں تھی کہ وہ میری کسی بھی بات کو “زہر اگلنے“ سے تعبیر کریں اور اسکی کوئی مثال بھی نہ دیں !!!
افسو س کہ انکی “انا“ ا س کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ مجھ سے معافی مانگیں ۔
بہر کیف:
جب تک عالمی اخبار کی انتظامیہ مجھے عالمی اخبار کے بلاگوں میں لکھنےکی اجازت دیتی ہے میں اس اخبار میں لکھتا رہونگا ورنہ ہم سب کی زندگی تو بہر حال گذر ہی جائےگی ۔۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
السلام علیکم
محترمہ سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ ، آپ نے مجھے بیٹا کہہ کر اور سمجھ کر میرا بہت مان بڑھایا ہے ، میرے لیے یہ اعزاز دُنیا و جہاں میں سب سے زیادہ اہم ہے کہ ہم تو سادات کے غلام ہیں ، میں اِس کے لیے آپ کا بہت زیادہ شکر گزار ہوں ، آپ ہمیشہ مجھ پر بہت زیادہ مہربان رہتی ہیں ، اور رہی نگہت آپی کی بات تو وہ بھی سادات ہیں وہ بھی بڑے دل والی ہیں یقینا برا نہیں مانیں گی ۔
ہم سب کے آقا و مولا اور آپ کے جد امجد جناب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ ( میرے ماں باپ آپ رضی اللہ تعالی عنہ پہ قربان ) کا ایک قول ہے ، آپ رضی اللہ تعالی نے فرمایا کہ ’’ یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے ‘‘ آپ نے میری بات کو اہمیت دے کر اپنے جد امجد رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کو مزید سنہرا کر دیا ، اور میں اِس کا اور آپ کی شفقت کا فائدہ اُٹھاتے مزید کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ جو پہلے صرف آپ سمیت کچھ محترمین کے احترام کے سبب نہیں کہا تھا ، میں ہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہو کہ ہماری پہچان ہمارا اصل ہونی چاہیے ، ہمیں اِن ذیلی پہچانوں سے پیچھا چھڑانا چاہیے ، ہماری سب سے پہلی پہچان تو اسلام ہی ہونا چاہیے اور پھر پاکستان اور بس ! اِس سے آگے صرف جھوٹ ہے ، اور جھوٹ بولنے والا کبھی خود کو بھی مطمئن نہیں کر سکتا کجا دوسروں کو ۔
آپ نے متعدد بار فرمایا ہے کہ حیدر آباد میں رات میں تاریکی کر کے اور روشنی کے گولے چلا کر ہمارے بھائیوں کا قتل کیا گیا ، کراچی میں علی گڑہ میں بھی تین گھنٹے یہ ظلم ہوتا رہا ، مظلوم مظلوم ہی ہوتا ہے اور ظالم ظالم ہی ، ظالم کی پہچان اُسکا سندھی یا پٹھان ہونا نہیں بلکہ اُس کا ظلم ہوتا ہے اور مظلوم کی پہچان مہاجر ہونا نہیں مظلوم ہونا ہی ہوتا ہے ، ہم ہر ظالم کی چاہے وہ کسی بھی لسانی گروہ سے تعلق رکھتا ہو مذمت کرتے ہیں ، اُس کے اِس فعل بد پر اللہ سے رجوع کرتے ہیں کہ بے شک وہ سب سے بہتر عدل کرنے والا ہے ، اسکول کے زمانے میں میں بھی حق پرستی کا نعرہ سن کر اور لگا کر متحدہ ( جو کہ اُس وقت مہاجر قومی موومنٹ تھی ) کے ہمدردوں میں رہا ہوں ، مگر میرے کچھ تلخ اور دُکھ بھرے تجربوں نے مجھے جلد ہی اِس تحریک سے الگ کر دیا ، میں ہمیشہ پاکستانی سیاست کے اِس رُخ سے نفرت کرتا ہوں کہ جو بے گناہوں کے لہو پر پروان چڑھتی ہے ، اور پھر سیاسی بونے ’’ ہمارا کارکن ‘‘ اور ’’ ہمارا ہمدرد ‘‘ کہتے ہوئے لاشوں پر سیاست کرتے ہیں ، کوئی بھی مرحوم مقتول کو پاکستانی کہہ کر نہیں پکارتا ، کوئی اُس کے قتل کی وجہہ بیان نہین کرتا یا تحقیق نہیں کرتا بس سیاسی پوئنٹ اسکور ہوتے ہیں ، اور جو کہ انتہائی غلیظ ذہنیت ہے ، ایک طویل عرصے سے کراچی کے حالات خراب ہیں ، روز حکمران اتحاد کے لوگ صرف اپنے اپنے ’’ شہیدوں ‘‘ کی لسٹ لیکر میڈیا پر آجاتے ہیں ( باقی مقتولین جائیں بھاڑ میں ) اور اُن کے قتل پر سیاسی پوائنٹ اسکور کرتے ہیں ، ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں اور پھر ایک ساتھ بیٹھ بھی جاتے ہیں ، یہ کیسی سیاست ہے ؟ یہ کیسے سیاست دان ہے جو ایک دن تو دوسرے پر اپنے کارکن کی شہادت کا الزام لگاتے ہیں اور پھر اگلے دن ایک ساتھ بیٹھ پر مرُغ اُڑاتے ہیں ؟ یہ کیسے لوگ ہیں ؟ بلکہ ہم کیسے لوگ ہیں ؟ ہم کیسے یہ سب دیکھ کر بھی اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں ؟ اور زندہ باد زندہ باد کے نعرے لگاتے رہتے ہیں ؟ کیا ہمیں اِن کی منافقت نظر نہیں آتی ؟ کیا ہم لوگوں کے دل ایک دوسرے کے خلاف اِس قدر میلے ہو چکے ہیں کہ ہم سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اُس میں صرف اپنی پسند کا منظر دیکھتے ہیں ؟ کیا ہماری سیاسی وابستگی انسانیت سے زیادہ اہم ہو گئی ہے ؟ یہ لوگ ہمیں گروہ در گروہ بانٹ رہے ہیں اور ہم ۔۔۔۔؟
اِن کا ایجنڈا ہم سے پوشیدہ نہیں ہم جانتے ہیں اِن کا مقصد محض اقتدار ہے چاہے اِس کے لیے اپنوں کا لہو بھی بہانا پڑے مگر پھر بھی ہم اُن کے حمایتی ہیں ؟ یہ سب کتنا عجب ہے ؟ ہم خود اپنے قاتل ہیں ! ! !
دل کے اندر بھڑکنے والی آگ تو جانے کیا کچھ جلانے کو تیار رہتی ہے مگر پھر ادب آڑے آجاتا ہے ، اپنی دُعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
آصف احمد بھٹی
میں جیسا کہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں، آصف احمد بھٹی صاحب کی باتوں کو قابلِ غور سمجھتا ہوں اور چونکہ وہ اپنے تبصرے اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر لکھتے ہیں اس لیے میں ان کے اپنے“تلخ اور دکھ بھرےتجربوں “کو جنھیں وہ کھل کر بیان کرنے سے گریز کررہے ہیں ، ہمدردانہ نظر سے دیکھتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا صرف یہ سوال ہے کہ :
کیا متحدہ قومی مومنٹ ایک “عمل “ کا نتیجہ تھی یا “ ردِ عمل “ کا نتیجہ تھی ؟
اگر حقائق پر ہی بات کرنی ہو تو اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے۔
میرے اور بھی ذیلی سوالات ہیں مگر فی الوقت میں اپنے تبصرے کو اس سوال پرمرکوز کرنا چاہتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
السلام علیکم
محترم جناب منظور قاضی صاحب ، آپ کی شفقتوں کا بہت شکریہ ، آپ نے فرمایا کہ
میں جناب آصف احمد بھٹی صاحب کے تبصروں کو قابل ِ غور سمجھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر ایم کیو ایم اور تحریک انصاف متحد ہوجائینگے ۔
تو عرض ہے ملک کے مفاد میں تو یقینا یہ ایک اچھی بات ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے ، دونوں جماعتوں کے قائدین کے طرز سیاست اور کارکنان کو دیکھ کر میرا تجزیہ یہ کہتا ہے کہ عمران خان کبھی بھی متحدہ کے ساتھ نہیں جائے گا اور نہ ہی متحدہ عمران خان کے ساتھ آئیگی ، یہ تو ایک وقتی رابطہ تھا جو بس یہیں تک تھا ، تقریبا دو ماہ قبل جناب الطاف حسین نے عمران خان سے رابطہ کرنا چاہا تھا مگر عمران خان نے معزرت کر لی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ پہلے الطاف حسین ، عافیہ صدیقی ، ریمنڈ ڈیوس اور ڈراؤن حملوں پر کوئی واضع موقف اختیار کریں جس پر متحدہ کے یوم تاسیس پر جناب الطاف حسین نے اپنی تقریر کے دوران ایک بہتر موقف پیش کیا ، مگر یہ سب ایسا نہیں کہ بیچ کے سب دیواریں ختم ہو جائینگی ، ابھی بہت تلخیاں ہیں اور پھر دونوں طرف کے کارکنان کبھی بھی نہین مانیں گے اور دونوں جماعتیں خود کو جمہوری جماعتیں کہتی ہیں سو کارکنان کی مرضی کے بغیر قائدین کچھ نہیں کرینگے ، کم از کم میں تحریک انصاف کے کارکنان کے حوالے سے تو یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں ، تحریک انصاف سندھ کے کارکنان اور نائب صوبائی صدر نے واضع طور پر اِس کی مخالفت کرتے ہوئے صاف طور پر عمران خان کو کہہ دیا ہے کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ عمران خان اکیلے نہیں کر سکتا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پارٹی کے پلیٹ فارم پر ہوگا جسے عمران خان نے تسلیم کر لیا ہے اور اب اِس معاملے پر پارٹی قیادت مشاؤرت کر رہی ہے زیادہ اُمید یہی ہے کہ نظریاتی کارکنان اپنا موقف تسلیم کروانے میں کامیاب ہو جائینگے ۔
اللہ ہمیں سمجھ اور باہمی اتفاق سے نوازے آمین ، ثمہ آمین ۔
آصف احمد بھٹی
آصف احمد بھٹی صاحب نے یہ بات کہی کہ :
“اور دونوں جماعتیں خود کو جمہوری جماعتیں کہتی ہیں سو کارکنان کی مرضی کے بغیر قائدین کچھ نہیں کرینگے “
ایسے جملے قائدین کی کمزوری کی عکاسی کرتی ہیں !!!
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ مقبول رہنما تاریخ ساز ہوتےہیں ۔ انکے عمل اور قول پر انکے کارکنان کو پورا پورا اعتماد ہوتاہے ۔
قائد اعظم کی ایک شاندار مثال ہم سب کے سامنے ہے ۔
مزید مثالوں کے لیے دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
ایک مشہور شعر ( علامہ اقبال ) کا ہے :
نگہ بلند ، سخن دلنواز ،جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا جوابی تبصرہ ( جو میں نے آصف احمد بھٹی صاحب ) کے تبصرے کے متعلق لکھا تھا۔ شائد ابھی تک نظرثانی کا منتظر ہے ۔
اس میں ایسی تو کوئی بات نہیں تھی جس کی وجہ سے اسے حذف کردیا جائے ۔ مگر اس کی اشاعت سے پہلے میں آصف احمد بھٹی صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ قائد کو اپنے ارکان کی قیادت کرنا چاہیے نہ کہ ارکان اور اسکو ماننے والوں کو اس قائد کی رہنمائی اور قیادت کرنی چاہیے ۔
تاریخ کے اوراق میرے اس نظریے کی تائید کرتے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی صاحب نے یہ کہا کہ :
“ابھی بہت تلخیاں ہیں اور پھر دونوں طرف کے کارکنان کبھی بھی نہین مانیں گے اور دونوں جماعتیں خود کو جمہوری جماعتیں کہتی ہیں سو کارکنان کی مرضی کے بغیر قائدین کچھ نہیں کرینگے “
اس مفروضہ کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں جماعتوں کے لوگ اپنے قائد کی وہ بات جسے وہ “پاکستان کے مفاد“ کی خاطر کررہا ہو اس سے اختلاف کرسکینگے ؟
جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، متحدہ قومی مومنٹ کے ارکان ہر ہر بات میں اپنے قائد تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ الطاف بھائی نے یہ کہا اور قائدِ تحریک نے یہ کہا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ قائد تحریک الطاف بھائی جو کہینگے وہی کرینگے ۔ ان ارکان نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم جو کرینگے اسے قائد تحریک کو ماننا ہوگا ۔
تاریخ شاہد ہے کہ تمام ممالک کے اقوام نے اپنے اپنے قائدین کی رہنمائی کو تسلیم کیا ، نہ کہ اقوام نے قائدین کی رہنمائی کی ۔
ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ہر اچھا قائد اپنے عوام کے جذبات ،احساسات ، ضروریات اور انکے جائز حقوق کے حصول کے لیے جدو جہد کیا کرتا ہے اور ایک متعینہ مقصد کے حاصل کرنے میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ۔
میری پیشین گوئی ہے کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر تحریک انصاف اور متحدہ قومی مومنٹ ( اور شائد دوسری اس طرح کی ہم آہنگ اور ہم خیال جماعتیں ) متحد ہوجاینگے۔
آخر میں میں آصف احمد بھٹی صاحب سے ( اور ہر وہ فرد سے جو اس بلاگ کا قاری ہے ) اس سے اپنے اس سوال کا جواب چاہتا ہوں کہ :
کیا ایم کیو ایم جماعت ایک “عمل “ کا نتیجہ تھی یا ایک “ردِعمل “ کا نتیجہ تھی ؟
قاضی صاحب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے اس تبصرے میں کوئی ایسی بات نہیں تھی، صرف تکنیکی اعتبار سے کچھ تاخیر کا شکار ہوا۔ اب کچھ گرد بیٹھی ہے تو عرض کروں کہ:
اس بات سے مجھے صد فیصد اتفاق ہے کہ ڈسپلن کے حوالہ اسے ایم کیو ایم بہترین جماعت ہے اور اسکے وٹر وکارکنان اپنے قائد کے بات سے ایک قدم آگے نہیں بڑھتے، اور قوموں کی ترقی میں اس چیز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
ایم کیو ایم کو ہم نہ تو مہاجروں کی نمائیندہ جماعت سمجھتے ہیں اور نہ ہی اسکا دائرہ کار صرف کراچی تک محدود ہے۔ اب پنجاب کے دیہات حافظ آباد و چک جھمرہ جیسی جگہوں میں بھی اسکی شاخیں موجود ہیں۔ اس لئے جب ہم کبھی اس جماعت پر اعتراض کرتے ہیں تو اسکو لسانی پہلو سے مت لیا کریں۔ جب کوئی اس مسئلے کو لسانی بنیادوں پر اچھالنا چاہا گا، اسکو ہم زہر افشانی ہی کہیں گے۔ آپ نے چونکہ بھیااور اسطرح کے دیگر پہلو بے محل اجاگر کرنے کی کوشش کی، اس لئے یہ امر ہمارے لئے باعث رنج ہے۔ کیونکہ ہم لسان کی بنیاد پر نہیں، بلکہ جماعت کے منشور اور کردار و عمل کی بنیاد پر بات کر رہے ہیں۔ تاہم بایں ہمہ میرے الفاظ سے آپ کو دکھ ہوا، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔
ایم کیو ایم کو پنجاب بھر سے پذیرائی مل رہی ہے۔ گو کہ ابھی یہ اس سطح پر نہیں جہاں مسلم لیگ و پی پی پی ہیں، لیکن تحریک انصاف سے کچھ زیادہ پیچھے بھی نہیں ہے۔ اس لئے بعید نہیں کہ کیچڑ اچھالنے کی روش ترک کر کے یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیں۔ لیکن ایم کیو ایم چونکہ بار بار فوج کو سیاست میں مداخلت کی دعوت دے رہی ہے، اس لئے پی پی پی کے سوا کسی اور کا اسکے ساتھ ہاتھ ملانا فی الحال مشکل ضرور ہے۔ پی پی پی بھی اپنی حکومتی اکثریت قائم رکھنے کے لئے ایم کیو ایم کو گلے سے بار بار لگاتی ہے، ورنہ دونوں کے بیچ جو خلوص موجود ہے، وہ سب ہی جانتے ہیں۔
سندھ خاص طور پر اندرون سندھ میں فوج کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے، جسکا بیج تو کہیں سن سنتالیس سے ہی رکھا گیا تھا لیکن اسکو پروان ضیاء دور میں چڑھایا گیا۔ یہ نفرت بھٹو کے قتل کے بعد اور بھی بڑھی، اور پھر بے نظیر کے قتل کے بعد اس میں شدت آ چکی ہے۔ حتیٰ کہ غوث علی شاہ کے عہد میں مسلم لیگ بھی اپنے مخالفین کو فوج سے دباتی رہی۔ سندھی قوم پرست راہنمافوج کے اس لئے بھی خلاف ہیں کیونکہ یہ پاکستان کی بقاء کی ضامن ہے اور ہر عہد میں اسکی ملک سے وفاداری شک و شبہات سے بالا تر رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف سندھی قوم پرست ایم کیو ایم کے بھی اتنے ہی دشمن ہیں جتنے کہ فوج کے۔ اس لئے ایم کیو ایم کو فوج کی آمد سے ہمیشہ ایک مفاد کی توقع رہتی ہے، اس لئے وہ فوج کو بار بار دعوت دیتی ہے۔ ورنہ اگر حقیقی انقلاب لانا ہو تو سب سے پہلے ایم کیو ایم نہ صرف حکومت کی پشت پناہی سے دستبردار ہو، بلکہ مقننہ سے بھی مستعفی ہو کر سڑکوں پر آئے اور ملگ گیر احتجاج کا اہتمام کرے۔ لیکن فی الحال وہ بھی اس جماعت کو مقصود نہیں ہے۔
انقلاب کے نعرے نواز شریف اور ایم کیو ایم دونوں ہی لگا رہے ہیں، تو انقلاب لانا کس نے ہے اور کس کے خلاف؟ در اصل یہ ہتھکنڈے ہیں اس انقلابی سوچ کو یرغمال کرنے کے جو عوام میں پیدا ہو رہی ہے اور جس کی ممکنہ قیادت عمران خان ہی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ایم کیو ایم کا تحریک انصاف کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرنا بھی اس بات کے سبب سے ہے کہ اگرکل کو کوئی ایسی انقلابی تحریک اٹھے تو وہبھی اس سے فیض یاب ہوں، اور عمران خان واحد قیادت بن کر سامنے نہ آ جائے۔ یہی خیال اس وقت دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی بے چین کر رہا ہے اور امریکی سفارتخانے کو بھی۔ امریکی سفیر کی عمران خان سے ملاقات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اس تبصرے کے اختتام پر میں آپ سے گزارش کروں گا کہ عمل یا رد عمل کے سبب قیام کو موضوع بحث نہ ہی بنائیں تو بہتر ہے، کیونکہ اس سے الگ جنگ چھڑ سکتی ہے۔ سبب قیام کچھ بھی ہو، منشور عمل کسی جماعت کا رد عمل پر منحصر نہیں ہونا چاہیئے۔
نا چیز
مصباح جیلانی۔
سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اعلیٰ ظرفی اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کرکے مجھ سے یہ فرمایا کہ :
“تاہم بایں ہمہ میرے الفاظ سے آپ کو دکھ ہوا، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔“
میں انکی اس بلند حوصلگی پر انہیں دل سے معاف کر تے ہوئے ان سے معافی چاہتا ہوں اگر انکا دل میری کسی بات سے دکھا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں چونکہ برسوں سے پاکستان سے باہر تلاش معاش کے سلسلے میں رہتا رہا ہوں اس لیے پاکستان کی اور خاص طور پر کراچی کی سیاست سے اتنا باخبر نہیں رہا جتنا کہ سید مصباح حسین جیلانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم بہن صاحبہ اور جناب آصف احمد بھٹی صاحب رہے ۔
مجھے سخت افسو س ہےکہ آصف احمد بھٹی صاحب اور انکے رشتہ داروں کے ساتھ اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی تعلیم کےدوران ان کے ساتھ برا سلوک ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر جب سے کراچی میں میرے جوان بھتیجے کا قتل کسی شیطان کے ہاتھوں ہوا ( 15 نومبر 2008 کو ) تب سے مجھے بے حد غم ہے کہ وہ شہر جسے میں روشنی کا شہر کہا کرتا تھا اور جس میں میں نے اپنی جوانی دفن کردی اس میں میرے بھتیجے کے ساتھ جو کسی سیاسی پارٹی یا مذہبی پارٹی میں شریک نہیں تھا اور بس اپنی نوکری کرکے اپنی جوان بیوی اور تین چھوٹے چھوٹے بچوں کا پیٹ پال رہا تھا ، اسے کیوں قتل کردیا گیا اور اس قتل کی تحقیقات پولس نےکرکے قاتلوں کو کیوں نے نہیں پکڑا۔
اس لیے میرا دل روتا ہے اور میں اس سانحہ کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتا رہتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بلاگ میں محترم ظفر جعفری صاحب اور سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کے تبصروں نے میری معلومات میںبہت اضافہ کیا اور بہت سے راز افشاں کیے کہ کس طرح ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں کے ساتھ کراچی میں چند مقامی جماعتوں اور اداروں نے زیادتی کی اور انکے “عمل “ کے “رد عمل “ کی بنیاد پر کونسی جماعت ہتھیار اٹھاکر اپنا دفاع کرنے اور اپنے جائز حقوق کے حصول کی جد وجہد پر مجبور ہوگئی ۔
( یہ سب باتیں میرے کراچی سے باہر چلے جانےکے بعد ہوئیں اس لیے میں 15 ہزار انسانوں کے قتل اور نواز شریف ، نصیراللہ بابر اور بریگیڈیر امتیاز کے کارنامے اور پھر محترمہ بے نظیر صاحبہ کے زمانےمیں جو کچھ بھی واقعات کراچی میں ہوئے اور پھر کراچی میں جو ٹارگیٹڈ کلینگ اور دہشت گردی کی وارداتیں ہوئیں ، پھر “حقیقی “ کا ظہور ، ان سب واقعات کے متعلق میرے رشتہ داروں اور دوستوں نے طرح طرح کی خبریں مجھ تک پہنچائیں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید مصباح حسین جیلانی صاحب نے صحیح کہا ہے کہ ان پرانی باتوں کو نہ چھیڑوں مگر بقول غالب :
ہرچند ہو مشاہد ء حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب رہا میرا بار بار “بھیا“ کا لفظ یا “ پناہ گزیں “ کا لفظ اپنے تبصروں میں استعمال کرنے کا سوال تو وہ میں صرف شاہی سید صاحب کے الفاظ کو دہرا رہا تھا جو انہوں نے اپنی جماعت کے کارکنوں کے جلسے میں استعمال کیے تھے ( ثبوت کے لیے یو ٹیوب کے پروگرام موجود ہیں جنھیںمیں کسی ایک بلاگ میں چسپاں کرچکا ہوں) ۔
بہر کیف:
میں اس بلاگ میں مزید حصہ نہیں لے سکونگا اس لیے کہ میرے پاس اس موضوع پر مزید کچھ کہنے کےلیے کوئی تازہ مواد موجود نہیں ہے۔
اگر آصف احمد بھٹی صاحب اپنے “تلخ اور دکھ بھرے تجربات “ جو انہوں نے اپنی ایم کیو ایم کی دوستی کے دور میں سہے ہیں ان سے متعلق اس بلاگ میں کچھ لکھینگے تو انکو پڑھکر اپنےعلم میں اضافہ کرونگا۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
میرے عزیز بیٹے اسّلام علیکم ،
اللہ ر حیم و کریم سے دعاگو ہو ن کہ وہ مالک دو جہا ں تم کو دین ودنیا کی بہترین نعمتو ں کے خزانے عطا کرے ،آ مین ،میرے بچّے ایک خاص بات کی طرف توجہ چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ جس طرح ہمارے پیا رے نبی حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم رحمتہ اللعا لمین ہیں اسی طر ح مو لائے کائنات حضرت علی علیہ السّلام تمام کائنات کے مو لا ہیں ،اور میں اور تم اسی کائنات کا حصّہ ہیں
اپنے بڑوں کی عزّ ت کرنے والے میرے بچّے اللہ تعالٰی اپنی عزّت کے صدقے تم کو بے مثال عزّت عطا کرے آمین
میرے بیٹے میں بار ،بار یہی کہ رہی ہو ں کہ ساراجی قو تو ں کو پاکستان کا وجود ہی گوارہ نہیں ہوا تھا ، یہ تو وقتی مجبوری تھی کہ اس کڑوی گولی کو نگلنے پر مجبور ہوئے ،اور اللہ تعا لٰی کی مہربانی کہ یہ اب تک الحمد للہ قائم ہے اللہ اس کو تا قیامت قائم و دائم رکھّے آمین
یہ موضوع بے حد حسّاس تو ہے ہی لیکن بہت اہم بھی ہے کہ ہم اسی طر ح افہام و تفہیم کا ر ا ستہ اختیار کرکے اپنی نسلوں کو دشمنوں کے چنگل سے بچانے کی راہ ڈھونڈ سکتے ہیں ،بلا شبہ ہمارے اتحّا د کے طفیل اللہ ہم پر اپنی اپنی حفاظت کا حصا ر کھینچ کر ہم کو محفوظ رکھّے گا
میں اسی فورم سے محترم شاہی سیّد کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ وہ بھی اپنے کارکنوں کو اشتعال سے دور رکھنے کی کوشش کریں کہ خوں ریزی میں صرف نقصان ہی نقصان ہے ،مجھے اور ہر اہل وطن کو اچھّی طرح معلوم ہے کہ ہمارے پشتون بھائ ،بیٹو ں سب نے مل کر کراچی کو روشنیوں کا شہر اپنا خون اور گاڑھا پسینہ دے کر بنایا ان کی خدمات کی نفی کرنے والے احسان فراموش کہلائے جایں گے اور اللہ کو احسان فراموشی سخت ناپسند ہے ،میں پ سے اور ہر سیاسی قائد سے التجاء کرتے ہوئے کہ رہی ہوں کہ اپنے کارکنوں کو خوں ریزی کی تعلیم دینے کے بجائے ،دوسروں پر برتری جتانے کے بجائے علم کی شاہراہوں پر گامزن کیجئے ،خدا وند عالم اس نیکی کی جزاء آپ کو دنیا اور عقبٰی دونوں جگہ دے گا ،انشاللہ
میں نے یہ ویڈیو پہلے ہی دیکھ لی تھی اور میں دہرے صد مے سے دو چار ہوئ تھی کیونکہ ویڈیو میں پہلے جو کلپ چل رہاتھا اس میں لشکر یزید کے نوجوان لڑکے عرف عام مین دہشت گرد دکانوں کو اطمینان سے آگ لگا کر واپس جارہے تھے اور میرا دل لگتا تھا کہ جیسے بند ہی ہوجائے گا میں ان نوجوانوں کو ایک ماں کی نظر اور حیرت بھرے صدمے سے کلپ دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی یہ پاکستان کا سرمایہ بچّے ان کی اٹھتی جوانیاں ا ن کے خواب کیا اس طرح سے بربادی کی نزر کیئے جانے ہیں ،
یہ پاکستان کے بچّے ہیں خدارا ان کو اس طرح برباد مت کرو ان کے سچّے اور میٹھے خوابو ں کی تعبیر ان کو تعلیم سے اور روزگار سے سنوار کر دے دو ،پھر دوسرا صدمہ اس ہستی کو دیکھ کر ہوا جس کا تعلّق اس قوم سے تھا جس کی تہزیب پر پاکستان کے اپنے لوگ
ناز کرتے تھے ،پھر میرے دل نے کہا کہ حد سے بڑھ کر جبر انسان کو تہزیب سے بیگانہ کر دیتا ہے ،،
بہر حال میرے بچّے یہ فورم ایک بہترین تہز یب کا نمائندہ فورم ثابت ہو ا،ہم سب نے ایک دوسرے کا موقف سنااور اس بات کی بے حد خوشی ہوئ کہ سب ساتھیوں نے دل صاف کر لئے اب میری آپ سب سے گزارش ہے کہ ،میری وہ تمام باتیں جن کےجواب میرے حد ادب کی خاطرنہیں دئے جا سکے ان پر معزرت چاہتی ہوں ،در اصل یہ موضو ع بہت وسیع ہے اور بات پوری طرح سمجھائے بغیر وقت پورا ہو جاتا ہے
پرور دگار عالم آ پ سب کا حامئ و ناصر ہو
ہاکستان پائندہ باد
السلام علیکم
محترم جناب منظور قاضی صاحب ، میری عمر اتنی زیادہ نہیں ہے اِس لیے میرا تجربہ بھی بہت ہی کم ہے مگر میں دوسروں کے سنے سنائے پر اکثر یقین نہیں کرتا ، سب جانتے ہیں کہ مسلم لیگ رد عمل کا نتیجہ تھی ، پیپلز پارٹی بھی ردعمل کا نتیجہ تھی مگر ایم کیو ایم محض پیپلز پارٹی کی ساکھ کو کمزور کرنے کے لیے ضیاء الحق کے فوجی گملے میں پیدا ہوئی البتہ یہ ضورو کہونگا کہ اِس جماعت کے کارکنان نے بہترین اور مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ، اور جناب الطاف حسین نے ہمیشہ تمام کرکنان کو منظم رکھا ، جیسا کہ اپنے کسی پچھلے تبصرے میں بھی کہہ چکا ہوں کہ کراچی کی قومیتوں نے ایک دوسرے کو ( پہچان کی نیت سے ) مختلف نام دئیے ہیں اب اگر کچھ لوگ اِن ناموں کا غلط مطلب نکالتے ہیں یا اِنہیں بطور طعنہ دوسرے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ سب لوگ ایسے ہیں شاہی سید اور اُن جیسے لوگ یقینا قابل مذمت ہیں اور آپ یہ بھی دیکھ لیجئے کہ پورے کراچی میں اُن کے پاس محض دو ہی سیٹیں ہیں جو اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اُنہین ماننے والے نہایت ہی کم تعداد میں ہیں ایسے میں اُن کی مثال دینا باقی لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے ۔
ہم سب یقینا آپ کے ( بھتیجے کے قتل کے حوالے سے ) آپ کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیں ، آپ یہ بھی تو دیکھئے کہ ہر روز ہی دسیوں لوگ قتل ہو رہے ہیں اور وہ سب بھی کسی جماعت کا حصہ نہیں ہیں ، محض کراچی کا شہری ہونا ہی جرم ٹھہرا ہے ، پشتون اور ہزارے وال جو خیبر پختون خواہ سے مزدوری کے لیے کراچی آئے ہیں اور جن بچارے کے بیوی بچے بھی اُن کے پاس نہیں اُن کی بھی سینکڑوں لاشیں خیبر پختون خواہ جا چکی ہیں اور ہر لاش کے ساتھ ایک داستان بھی پہنچتی ہیں ، پھر کیسے کوئی متحدہ پر شک نہ کرے کہ پورے شہر پر اُن کا ہی کنٹرول ہے ، لہو ہر انسان کا ایک جیسا ہی قیمتی ہے ، اور ہر بے گناہ قتل کی مذمت ہونی چاہیے ، ہر قاتل کی مذمت ہونی چاہیے ، زبان و نسل سے بلا امتیاز ، میری تلخ تجربوں کے بارے میں آپ کئی بار استسفار کر چکے ہیں مگر میں معزرت خواہ ہوں کہ اگر میں نے اپنے تجربے یہاں تحریر کر دیئے تو اکثر لوگ اُنہیں محض داستان ہی سمجھیں گے اور کچھ لوگوں کا شاید برا بھی لگے ، سو کچھ بہت اہم دوستوں کا ادب و احترام مجھے مانع ہے اور مجھے یقین ہے کہ اب آپ اِس بات کو دوبارہ نہیں اُٹھائینگے ، کہ ہمارا منصف اللہ ہے اور ہم اُسی پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
اسّلا علیکم منظور بھیّا ،
مجھے آپ کے اوپر گزر جانے والے دلی صد مے کا پورا احساس ہے ،کسی بھی انسان کو بے وقت اللہ ناکرے اگر طبعی موت آئے تو بھی صبر آجاتا ہے کہ اللہ کی امانت تھی سو لے لی لیکن ایک ایسی موت جس میں انسان کسی کا قصور وار بھی نا ہو پھر بھی اسے مار دیا جائے تو دل کیا کہ سکتا ہے یہ میں جان سکتی ہوں ،میری عزیزہ کا وہ بیٹا جس کی منگنی ہوئے چند ہفتے ہی ہوئے تھے کہ بلا کسی قصور اس کے اپنے دروازے پر مار ڈالا گیا
کیا کہیں کس سے کہیں اس شہر نا پرساں کاحال کہ جس کی حفاظت کے لئے وفاق کی مسلّط کردہ رینجرز کی بٹالین بھی موجود رہتی ہے رینجرز کو جیسے ہی کہا جاتا ہے کہ یہ سندھ کے بجٹ پر بوجھ ہے ویسے ہی شہر مین ایک ہولناک واردات عمل میں آ جاتی ہے اور پھر احکامات آ جاتے ہیں کہ شہر کے امن وامان کی بہتری کے لئے رینجرز ضروری ہیں
دوسری طرف وفاق کی پولس مستعد ر ہ کر چوروں کی ڈکیتوں کی پشت پناہ بنتی ہے اور رات کو شادیو ں سے واپس آنے والے شہریوں سے ان کے مال و اسباب لوٹ لیتی ہے ،چوری کی یا ڈکیتی کی واردات سے چند قدم کے فاصلے پر ہی پولس مو بائل موجود ہوتی ہے اور واردات کے بعد غائب ہو جاتی ہے
یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں ،،
ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق خاموش رہ کر اپنے مال و اسباب اور متاع جاں بھی لٹانے پر اس لئے مجبور ہیں کہ ریاست نے اپنی زمۃداری اپنی حفاظت پر معمور کر لی ہے ،اب اس لاوارث قو م کا اللہ ہی وارث ہے ،
اللہ تعالٰی آپ کے دل کو صبر و قرار عطا کرے اور آپ کے مرحوم بھتیجے کو اور وہ تمام مرحومین جو اس ابتلا کے دور میں مرگ نا گہاں میں مارے گئے ،ان تمام کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا کرے اور ان کے لواحقین کو صبر کے ہمراہ آبرو مندی سے جینے کے وسیلے عطا کرے آمین
یہ بھی صدر زردداری کا جادو ہے کہ ایک طرف ایم کیو ایم انکی اتحادی ہے اور دوسری طرف اے این پی بھی۔ ذوالفقار مرزا جیسےقوم پرست افراد پی پی پی میں شامل ہیں اور آئے دن ایم کیو ایم کے ساتھ تصادم کی صورت حال بھی جان بوجھ کر پیدا کرتے ہیں پھر اک خاص تماشہ دنیا کے منظر نامے پر دہرایا جاتا ہے۔گلی گلی کشت و خون کا بازار گرمایا جاتا ہے، جبکہ لیڈر تینوں جماعتوں کے مل کر کھا رہے ہیں اور عوام کو خون میں نہلا رہے ہیں۔
میری پیاری بیٹی باد نسیم ،
کاش وقت بھی پیسے سے خریدا جاسکتا ،تو میں اپنی ہر بچت وقت کو خریدنے میں لگادیا کرتی ،یا پھر اللہ میاں دن کو 24 گھنٹے کا اور رات کو 12 گھنٹے کا کر دیتے ،مگر ؟؟؟ وہی رات وہی دن ،،اور نا دن کو فرصت نا رات کو جی بھر کر آرام ،خیر اس مین بھی اس کی کوئ مصلحت ہو گی
تو تم نے ایک بات جو کی شبیہ کی یقین کرو بیٹی میں سوچتی رہی کہ انسان زہنی انحطاط کا شکار جب ہو جاتا ہے تو کہاں تک چلا جاتا ہے ،بھئ سیاست چل رہی تو چلاؤ کس نے منع کیا ہے لیکن یہ کس خدا نے کہا کہ سیاست کے ساتھ سجّادہ نشینی بھی ضروری ہے اور چلو مان لیا کہ پیر بن گئے ،،سوچ لیا شائد اللہ میاں کو کوئ ادا پسند آگئ ہو گی لیکن یہ شبیہیں بننے کی بات تو قطعی ناقابل قبول ہی ٹھری ،،
پھر کسی بلاگ پر تو تو میں میں کے لئے ملتے ہیں
اس دعا ءکے ہمراہ
اللہ تعالٰی اس زہنی مالیخولیائ انحطاط سے محفوظ و مامون رکھّے آمین
دعاگو زائرہ بجّو
میں محترمہ سیدہ زائری عابدی صاحبہ کی تمام باتوں میں جو خلوص اور محبت اور ساتھ ہی ساتھ حق گوئی وبے باکی کو دل سے پسند کرتا ہوں ۔
اللہ کا شکر ہے کہ وہ ہم سب کی محفل میں موجود ہیں اوراپنے پرخلوص خیالات اور اپنی محبت بھری دعاوں سے ہم سب کو نوازتی ہیں۔
انکا اور ان تمام مبصروں کا دل سے شکریہ جنھوں نے میرے بھتیجے کی شہادت پر غم اور افسوس کا اظہا ر کیا : جزا ک اللہ
مجھے سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ اس لیے بھی پسند ہیں کہ وہ مجھے اپنا سمجھ کر “منظور بھیّا “ کہ کر مخاطب کرتی ہیں ۔ اس لیے میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں ۔
یہاں پر میں شاہی سید صاحب کے “بھیا “ اور محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کے “بھیّا “ کے خطابات کا فرق محسوس کرتا ہوں ۔ شاہی سید صاحب “بھیا “ کا لفظ تذلیل کےلیے استعمال کرتے ہیں اور سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ توقیر بڑھانےکے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ( یہ ہی اردو زبان کا کمال ہے)
کسی نے کہا ہےکہ :
بدلنا ہے تو مت الفاظ ڈھونڈو
ہمارے واسطے لہجہ بہت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال : اب میں آصف احمد بھٹی صاحب کے ارشادات پر صرف اتنا کہنا چاہتا ہوںکہ وہ اپنی تحریری صلاحیت کا مظاہرہ کرکے کھل کر اپنے ان “ تلخ اور دکھ بھرے تجربات “ کا تذکرہ کریں جنھیں انہوں نے اپنی ایم کیو ایم سے وابستگی کے زمانےمیں سہے ہیں ۔ اس لیے کہ انکے مبہم اشاروں اور کنایوں سے انکے اوپر جو وارداتیں گذری ہیں انکا صحیح طور پر اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔
وہ ایک حساس دل رکھتے ہیں جو دنیا بھر کے مظالم اور ناانصافیوں پر غم و غصہ کا اظہار بھی کرتا ہے اور احتجاج بھی کرتا ہے احتجاج کرنے کےلیےدوسروں کو اکساتا بھی ہے ، ان کا یہ کہنا کچھ عجیب معلوم ہوتا ہے کہ :
“میری تلخ تجربوں کے بارے میں آپ کئی بار استسفار کر چکے ہیں مگر میں معزرت خواہ ہوں کہ اگر میں نے اپنے تجربے یہاں تحریر کر دیئے تو اکثر لوگ اُنہیں محض داستان ہی سمجھیں گے اور کچھ لوگوں کا شاید برا بھی لگے ، سو کچھ بہت اہم دوستوں کا ادب و احترام مجھے مانع ہے اور مجھے یقین ہے کہ اب آپ اِس بات کو دوبارہ نہیں اُٹھائینگے ، کہ ہمارا منصف اللہ ہے اور ہم اُسی پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ۔“
علامہ اقبال کا یہ شعر دہرانا پڑتاہے کہ : :
آئین جوانمرداں حق گوئی وبے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی حالات لائق شکر ہیں :
فقط
سب کی خیریت کا طالب
منظور قاضی
جرمنی سے ۔
اس بلاگ کےایک تبصرےمیں جناب آصف احمد بھٹی صاحب نے سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ سے مخاطب ہوکر یہ فرمایا کہ:
“ہم سب کے آقا و مولا اور آپ کے جد امجد جناب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ ( میرے ماں باپ آپ رضی اللہ تعالی عنہ پہ قربان ) کا ایک قول ہے ، آپ رضی اللہ تعالی نے فرمایا “
میں آصف احمد بھٹی صاحب کی عقیدت مندی کی انتہا کو محسوس کرتے ہوئے انکو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ جب وہ یہ دعا لکھیں کہ :
“میرے ماں باپ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہ قربان “ تو اس میں اپنے آپ کو بھی شامل کرکے کہیں کہ :
“میں اور میرے ماں باپ آپ علیہ السلام پہ قربان “
اور دوسرا مشورہ ہے کہ وہ اپنے “ماں باپ“ کی مرضی معلوم کرلیں کہ وہ ایسی “ قربانی “ کے لیےتیار ہیں بھی یا نہیں !!۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر یہ مشورے انہیں پسند نہیں ہیں تو انہیں خوشی سےنظر انداز کردیں :
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
اسّلام علیکم ،میرے معزّز ہم نشینوں ،آپ سب کی صحت وسلامتی کے لئے اپنے رب ا علا سے دعاگو ہوں
مصباح بھائ ، آ پ سے معزرت خوا ہ بھی ہوں کہ وقت کی کمی کے باعث آ پ کے لنک کے بارے میں بھی کوئ جواب نہیں دے سکی کیونکہ ویڈیو دیکھ ہی نہیں سکی تھی، یہ تحریر لکھنے سے پہلے ہی تفصیل سے ویڈیو دیکھ سکی ہوں ،،آ ج کل نیو یارک سے میری بہو کی والدہ اور بہن آئ ہوئ ہیں تو ماشاللہ گھر میں خو ب گہما گہمی ہے اور آنا جانا بھی لگا ہوا ہے ،خیر ماشاللہ یہ تو زندگی کے جھمیلے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور انہی کے دم سے زندگی کی رونق بھی قائم رہتی ہے
یقین جانئے کہ میں اس ویڈیو کو دیکھ کر بہت متاثّر ہوئ ہوں کیونکہ ان شہروں میں جہاں ہر سہولت آسانی سے دستیاب ہو وہاں کام کرنا کہیں آسان ہے بہ نسبت دشوار گزار علاقوں میں اللہ کی مجبور مخلوق کی اس طرح بے لوث خدمت کرنا ،ان نیک کاموں کا بہترین صلہ تو آ پ کو ا س بارگاہ سے ملے گا انشاللہ جس کا مالک کہتا ہے ہم ایک مثقال برابر بھی نیکی کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے ،،نا کہ اتنے بڑے کام کا وہ کتنا بڑا اجر عطا کرے گا ،
آپ دعا کیجئے کہ پروردگار عالم مجھ کو بھی توفیق دے کہ میں بھی ضرور بالضرور آ پ کے ہمراہ دامے درمے سخنے قدمے اس کار خیر میں شامل ہو سکوں ،اس کا فرمان ہے ہم انسان کو ویسا بنا دیتے ہیں جیسا وہ بننا چاہتا ہے
پروردگارعالم ہمارے وطن کو آپ جیسے کار خیر انجام دینے والے نیک ہم وطن عطا کرے آمین ،
مجھے معلوم ہوا کہ آ صف میاں بھی فلاحی کام کرتے ہیں ،ڈاکٹر نسیم نے بتایا تھا ،یہ بہت ہی ا چھّا معاشرتی رجحان ہے
میں بھی کراچی میں ایک چھوٹا سا ادارہ بنا کر آئ ہوں ‘‘ یتٰمٰی فنڈ برائے تعلیم ‘‘ابھی یہ غیر رجسٹرڈ ہونے کے باوجود بہت ہی اچھّی طرح کام کر رہا ہے ،،اور حیرت کی بات ہے کہ اس کا قیام تو صرف تعلیم کے لئے تھا لیکن اس کے زریعے دیگر فلاحی کام بھی انجام پانے لگے ،مثلاً یتیم بچّیوں کی شادیان وغیرہ
پروردگار عالم آ پ کے ان نیک اعمال کو قبول کرے اور دین و دنیا کی نعمتوں سے آپ کو اور آپ کی اولاد کو بہرہ مند کرے ،
اجازت چاہوں گی
فی امان اللہ
زائرہ بجّو
اسّلام علیکم ،منظور بھیّا ،سلامت بخیر ،
آصف میاں کے نام آج یکے بعدیگرے دو بلاگ لکھے جو کمپیو ٹر کی نالائقی کے سبب ضائع ہو گئے ،خدا کرے یہ تحریر سلامت رہے ،
آمین،،،یہ آصف میاں کے خوش نصیب اور نیکو کار والدین کی ہی تربیت ہے جو ان کی اس عقیدت مندانہ تحریر کی عکّاس ہے ،
مالک کل جہا ں آصف میاں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی ان عقیدت بھرے الفاظ کی جزائے عظیم عطا کرے آمین
دعاگو
بجّو
السلام علیکم
محترم جناب منظور قاضی صاحب ، میری مجبوری ہے کہ میں مستقل ایک جگہ نہیں رہ سکتا اور کام کے سلسلے میں ہمیشہ اِدھر اُدھر جانا پڑتا ہے اِس لیے میں اکثر غیر حاضر ہو جاتا ہوں اور بہت سے اہم بلاگز پر شدید خواہش کے باوجود اپنے تبصرے نہیں لکھ سکتا ، سو آپ کے متعدد تبصروں کے اہم نکات کا جواب میں اِس بار دینے کی کوشش کرونگا ۔
جیسا کہ مین نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہم سب آپ کے معصوم اور بے گناہ بھتیجے کے قتل پر آپ کے دُکھ میں برابر شریک ہیں ، اور اِس قتل کی پر زور مذمت کرتے ہیں ، میں ہر بار یہ کہتا ہوں کہ ہم لوگ انسانی لہو کی قدر و قیمت سے نا اشنا ہو چکے ہیں ، ہمارے لیے کسی کا بھی لہو بہا دینا ایک معمولی سے بات بن گئی ہے ، جبکہ آقائے دو جہاں ( میرے ماں باپ آپ پر قربان ) صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بھی بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے ، اور ہم خود کو آقائے دو جہاں ( میرے ماں باپ آپ پر قربان ) صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی بھی کہتے ہیں ، ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب آگ ہمارے گھر مین لگتی ہے تب ہی ہم اُس کی تپش محسوس کرتے ہیں ورنہ ہمارے پڑوسی ہمارے بھائی جلتے رہے ہمین پروا بھی نہیں ہوتی ، میں اِس فورم پر اور ہر فورم پر ہر بار کہتا ہرا ہوں کہ ہمیں اپنے اندر کے دشمن جو کہ ہم میں سے ہی ہے اور ہمارے جیسا ہی ہے پہچاننا ہوگا ، ہمارا دشمن ہمیں اندر ہی اندر سے بانٹ رہا ہے ہمیں پہلے ہم ایک اُمت تھے ہمارے دشمن نے ہمیں مختلف قومیں بنا دیا اور اب ایک قوم سے چھوٹے چھوٹے گھروہون میں بدل رہا ہے اِسی کراچی شہر میں روز ہی دسیوں لوگ قتل ہو رہے ہیں ، مگر ہر جماعت صرف اپنے اپنے ہی کارکنوں کی بات کرتی ہے ، یہی دکھ کی بات ہے کہ ہم اپنے قاتلوں کے خلاف بھی اگھٹے نہیں ہو سکتے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ قتل ہونے والا ہماری قوم کا حصہ تھا ہم اُس کے قتل کے بعد اُسے اپنی جماعت کا ہمدرد یا کارکن ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں حالانکہ زیادہ تعداد آپ کے بھتیجے کی طرح غیر جانب دار ہوتے ہیں مگر ہماری لسانی جماعتیں اُنہیں لسانی بنیادوں اپنا ہمدرد یا کارکن ثابت کر رہی ہوتی ہیں ، افسوس ہوتا ہے اپنے لوگوں پر جو سانحہ نشتر پارک ، سانحہ محرم اور چہلم جیسے بڑے واقعات کے بعد بھی اِن سیاسی بونوں سے یہ پوچھنے کی ہمت نہین کر تی کہ جب تم لوگ حکومت میں حصہ دار ہو تو ہماری حفاظت کی ذمہ داری میں حصہ دار کیوں نہیں بنتے ، ہماری موت میں تو شریک ہونے پہنچ جاتے ہوں ہماری زندگی میں ہمیں کیوں بھولے رہتے ہوں ، کراچی کی تینوں اتحادی جماعتیں ہر کچھ عرصے بعد ایک دوسرے پر اپنے کارکنوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری ڈالتی ہیں مگر کچھ ہی دن بعد سب سیر و شکر ہو جاتے ہیں ، حیرت ہے کہ ہم لوگ اُن سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ تم لوگ پہلے جھوٹ بول رہے تھے یا اب منافقت کر رہے ہو؟ کل جیسے دہشت گردوں کا ساتھی اور بتھہ خوروں کا سر پرست کہہ رہے تھے آج اُسے اپنے مرکز میں خوش آمدید کیسے کہہ رہے ہو؟ کل جسے ٹارگٹ کلنگ کا مورد ٹھہرا رہے تھے آج اُس کے گن کیے گا رہے ہوں ؟ کیا یہ اتحادی جماعتیں ( اگر وہ اِس قتل عام میں شریک نہ بھی ہوتو بھی ) کراچی کے عام شہری کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہیں ؟ متعدد بار ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات کے بعد بھی ایک ساتھ ( اپنے ذاتی مفادات کے لیے ) شیر و شکر ہوجانا قبول بھی کر لیا جائے تب بھی کیا یہ اِس غفلت میں ایک دوسرے کی شرک نہیں تسلیم کی جائینگی ؟
اہل سیاست نے انسانی لہو کو کتنا ازراں کر دیا ہے ! ! ! ! اور دُکھ تو اِس بات کا ہے کہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ہم لوگ محض لسانی تعصب کے سبب اپنے اپنے سیاسی بونوں کو اپنا قبلہ بنائے بیٹھے ہیں ۔
اگر شاہی سید ( کہ جسے تین سال پہلے تک کوئی جانتا تک نہیں تھا ) آج اپنے لسانی پارٹی کے خطابات میں میرے اردو بولنے والے بھائی بہنوں کی توہین کرتا ہے ( جو کہ ایک انتہائی گھٹیا اور قبیح فعل ہے اور جس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے ) تو اُسے سب پشتونوں کا نمائندہ نہیں سمجھا جا سکتا ، پورے کراچی میں لاکھوں پشتونون کی آبادی ہے مگر شاہی سید کی جماعت صرف دو سیٹیں لیکر اسمبلی مین پہنچی ہے اور وہ دونوں سیٹیں بھی جماعت کا ووٹ بینک نہیں تھی بلکہ دونوں اُمیدوار اپنی ذاتی حیثیت میں عوام میں کچھ اہمیت رکھتے تھے جس کے سبب اُنہیں ووٹ ملے خود شاہی سید پشتون اکثریت والے حلقے سے ناکام ہوا تھا ، کراچی کے پشتون شاہی سید کی پشت پر نہیں ہے اور یقین کیجئے گا کہ اگلے انتخابات چاہے وہ کل ہی ہو جائیں ’’ اے این پی ‘‘ اتنی سیتیں بھی نہین لے پائیگی کہ جتنی وہ اب لیکر آئے تھے ، بلکہ خود پختون خواہ میں یہ جماعت ختم ہو چکی ہے ، کراچی کی تو بات ہی مت کریں ، یہ جو جنھڈے اور سیکٹر دفاتر نظر آتے ہیں یہ سب زبردستی اور غنڈہ گردی کے زریعے پھیلائے اور لگائے گئے ہیں ، اور ایک شاہی سید ہی کیوں میں نے متحدہ کے کئی بڑے رہنماوں کو بھی ایسی ہی لسانی تفریق پھیلاتے دیکھا اور سنا ہے ، لہذا اِن بونوں کو اِن کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے البتہ اپنے قاتلوں کے خلاف ہمیں متحد ہونا پڑے گا ۔
آپ نے متعدد بار اصرار کیا کہ میں متحدہ سے وابستگی کے دوران اپنے تلخ تجربات کو فورم پر سب کے سامنے رکھوں ، میں نے آپ سے دست بدستہ درخواست بھی کی تھی کہ اِس بات کو رہنے دین مگر آپ نے ایک بار پھر اصرار کیا ہے تو عرض کر دیتا ہوں مگر تمام احباب سے کہ جو متحدہ سے ہمدردی رکھتے ہیں پیشگی معذرت کہ ممکن ہے میری باتیں اُنہیں پسند نہ آئیں ، میرا متحدہ سے لاکھ اختلاف مگر بہر حال وہ لاکھوں لوگوں کی نمائندہ جماعت ہے اور ایک سیاسی وذن رکھتی ہے ۔
میری پیدائش اور رہائش اورنگی ٹاؤن سیکٹر 10 کی ہے جہاں ہمیشہ سے ہی متحدہ ایک اکثریتی جماعت رہی ہے ، اسکول کے زمانے میں میرے سارے دوست اور اُنکے گھر والے اِسی جماعت وابسطہ تھے اور اُن کے دیکھا دیکھی میں بھی متحدہ سے وابسطہ لوگوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے لگا ، میرا ایک دوست اور کلاس فیلو سیف الرحمن بھی تھا جو کہ میری ہی طرح ایبٹ آباد سے تعلق رکھتا تھا میری طرح وہ بھی متحدہ سے کسی حد تک وابستہ ہو گیا ، سیف الرحمن نہایت ہی خوبصورت اور وجہہ نوجوان تھا اور پانچ وقت کا نمازی تھا 1994 کا واقعہ ہے ہمیشہ کی طرح متحدہ والے اُس عید پر بھی کھالوں کے لیے پرچی دے گئے تھے سیف الرحمن کے والد صاحب نے کھال ایک مدرسے کو دے دی جس پر سیکٹر کے لڑکوں نے اُس کے والد سے تلخ کلامی کی ، سیف الرحمن نے سیکٹر انچارج سے شکایت کی مگر کوئ ایکشن نہ لیا گیا بلکہ وہ لڑکے مزید کچھ لڑکے لے آئے اور اُنہوں نے مجھ پر ، سیف الرحمن پر اور ایک بیچ بچاوں کروانے والے لڑکے انور علی پر بری طرح تشدد کیا ، کچھ عرصے بعد سیف الرحمن تحریک انصاف میں شامل ہو گیا اور اپنے گھر کے باہر تحریک انصاف کا جھنڈا لگا دیا ، متحدہ کے لڑکوں سے ایک بار پھر اُس کا جھگڑا ہوا اور دو دن بعد صبح فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے اُسے قتل کر دیا گیا ، آپ یقینا جانتے ہی ہونگے کہ ایسے قتل کے قاتل ہمیشہ نامعلوم ہی رہتے ہیں سو آج سولہ سترہ برسوں بعد بھی نامعلوم ہی ہیں اِسی لیے مین نے کہا تھا کہ ہمارا تکیہ اللہ کی ذات پر ہے اور وہی بہتر انصاف کرنے والا ہے ۔
سیف الرحمن کی وجہ سے میں بھی سیکٹر آفس کی نظر میں آچکا تھا ، ایک روز میں اور میرا ایک دوست رات کو دیر سے فلم دیکھ کر آرہے تھے کہ ہمیں رات کو پہرہ دینے والے لڑکوں نے روک لیا ( حقیقی کے ساتھ اختلاف کے سبب اُس وقت سے راتوں کو مسلح پہرہ دیا جاتا ہے ) وہ لڑکے مجھے پہچانتے تھے میں اُن کے ساتھ بہت بار متحدہ کے جلسوں میں جا چکا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ میں سیف الرحمن کا دوست ہوں ، یونٹ انچارج عمران بھی وہیں پر تھا اُس کی موجودگی میں اُن لڑکوں نے مجھے اور میرے دوست پر بری طرح تشدد کیا اور پھر نیم بے ہوشی کی حالت میں ہمیں ہمارے گھر کے باہر پھینک گئے ، میری عمر سترہ سال تھی اور لہو میں گرمی کچھ زیادہ ہی تھی سو میں نے یونٹ انچارج عمران سے بدلہ کا فیصلہ کیا اور کچھ دن بعد جب میں کچھ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو میرا یونٹ انچارج سے ایک بار پھر جھگڑا ہوا ، اِس بار ابتداء میں نے ہی کی تھی اتفاق سے عمران اور ایک دوسرا لڑکا مجھے اپنے محلے سے کچھ ہی دور مل گئے ، عمران دبلا پتلا سا ایک نوجوان تھا مین نے اُسے پکڑ لیا اور اپنے حساب سے حساب چکتا کیا دو دن بعد اسکول سے وآپسی آتے ہوئے مجھ پر گولی چلائی گی جو اتفاق سے شرٹ پھاڑتی ہوئی گزر گئی اور پسلیوں پر معمولی سی خراش لگی ، میری بہن بھی ساتھ تھی میں اُسے لیکر گلیوں سے بھاگتا ہوا گھر تک پہنچا ، میرے والد صاحب اُس وقت یہاں کویت میں جاب کر رہے تھے اور اللہ بخشے میرے نانا جان نے اُنہیں فون کر کے کہا کے جیسے بھی ممکن ہو بیٹے کو یہاں سے لے جاؤ اِس کی جان کو خطرہ ہے
اور یوں میری پڑھائی بھی رہ گئی ، میری بہن کی پڑھائی بھی رہ گئی اور کچھ عرصے بعد ہم لوگوں نے وہ علاقہ بھی چھوڑ دیا اور آجکل ہم لوگ ملیر میں رہتے ہیں ممکن ہے اِس سب میں میری اپنی بھی بیوقوفیاں شامل ہوں ۔
میرے عزیز تیس سالوں سے قائد آباد میں ایک ہوٹل چلاتے تھے اُن کے بیٹے اور پوتوں وہیں پیدا ہوئے اور وہیں جوان ہوئے ، جناب حیدر رضا کے قتل کے بعد جس طرح کراچی میں پشتونوں اور ہزارے والوں کا قتل ہوا اور اُن کی املاک جلائ گئی وہ اپنی مثال آپ ہی ہے ، میرے عزیز کے ساتھ بھی یہی ہوا نا صرف اُن کا ہوٹل جلایا گیا بلکہ اُنہیں قتل بھی کر دیا گیا اور اُن کے بیٹوں کی کان کاٹے گئے ، اور یہ سب کرنے والے ( جنہیں وہ جانتے بھی ہیں ) اب تک نا معلوم ہیں اور وہ لوگ اب کراچی چھوڑ گئے ہیں ۔
ایسی کچھ اور باتیب بھی ہیں جو میں نہیں کرنا چاہتا تھا مگر آپ کے باربار اصرار پر لکھیں ہیں کہ ہمارے ملک میں یہ ’’ نامعلوم ‘‘ معلوم ہونے کے بعد بھی ہمیشہ نا معلوم ہی رہتے ہیں ۔
آخر میں ایک اور بات کہ آقا صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل پر میں گناہ گار تو کیا صدیوں سے ہزاروں لاکھوں لوگ خود کو قربان کرتے آئے ہیں ، میں تو آپ صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل کا غلام ہوں اور میرے ماں باپ بھی آپ صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل کے غلام ہیں اور آپ یقینا جانتے ہونگے غلاموں کی مرضی نہیں ہوتی اور میں تو اپنے ماں باپ کا ہی حصہ ہوں اُن سے الگ میں کچھ بھی نہیں میری کوئی پہچان نہیں سو جب اُنہیں گن لیا گیا تو میں تو خود بخود گنا گیا ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
محترمہ سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ ، مجھ غلام پر آپ کی شفقتوں کا بہت بوجھ ہو چکا ہے ، اور اللہ ہی آپ کو اِس کا اجر دے سکتا ہے ، آپ نے فرمایا کہ آپ نے مجھے متعدد بار لکھا مگر کمپیوٹر کے سبب وہ محنت ضایع ہو گئی ، میرے لیے اِس سے بڑا افتخار اور کیا ہوگا کہ آپ نے ناصرف مجھے اپنی شفقتوں سے نوازہ بلکہ میرے حق میں دُعائیں بھی کی ، میں اِسے اپنے لیے توشیہ آخرت نہ سمجھوں تو اور کیا سمجھوں ، میری بھی مجبوری کے کے میں کام کے سلسلے میں کہیں ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتا سو میں بھی تسلسل سے کبھی فورم پر حاضر نہیں رہ سکتا ، اِس وقت بھی کہ جب مین یہ تحریر لکھ رہا ہوں مجھے ایک سائٹ پر جانے کا آڈر مل چکا ہے اب دیکھئے سُپر وائزر کب آتا ہے اور کب میرا نکلنا ہوتا ہے ۔
آپ کی شفقتوں کا ایک بار پھر بہت بہت شکریہ ۔ وقت کی کمی کے سبب میں آپ کے تبصروں کا خاطر خواہ جواب نہیں دے سکا ، اِس کے لیے مجھے معاف کیجئے گا ۔
آصف احمد بھٹی
اسّلام علیکم ، میرے عزیزو محترم ساتھیو
بیٹے آ صف میاں ،
میرے بچّے یہ سچّی کہانی جو تم نے اپنی لکھی ہے یہ آج کے کراچی کے ہر اس نو جوان کی کہانی ہے جو آ ج کراچی میں رہنے پر مجبور ہے،،مجھے خود بھی اچھّی طرح یاد ہے ان دنوں کہ کیا ہوتا تھا ؟میں اپنے بیٹو ں کے ساتھ سائے کی طرح ساتھ رہتی تھی ،،مگر کہاں تک رہ سکتی تھی وہ چند منٹ کے لئے بھی اکیلے باہر جاتے تھے تو میرے شوہر کے چہرے پر ان کی بے بسی دیکھنے کے قابل ہوتی تھی اور جوان لڑکوں کو کس حد تک گھر میں بند رکھّا جا سکتا تھا، سو میں نے بھی ان کو با ہر اسی لئے بھیج دیا کہ کم سے کم سیاست سے دور کردوں ،
،اس ظالمانہ سیاست نے کراچی کے بچّوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے ،ان میں سے ایک گروہ کا کہنا ہےکہ کراچی میں صرف مجھے جینے کا حق ہے ،اب دوسرا گروہ کیا کرے گا جو اپنے بھی جینے کا حق مانگ رہا ہے ،
میرے بیٹے،میں انشاللہ جلد ہی کراچی کے اس پس منظر کے بارے میں جو بھی علم میں ہے حرف حرف سچّائ کے ساتھ ا پنی پاکستانی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے تحریر کروں گی کہ اس شہر کو کیوں تقسیم کیا گیا ،بے دریغ اسلحہ دے کر اس شہر کےبچّوں کو خوں خو اریت کے لئےکیوں آمادہ کیا گیا ،وہ شہر جس کی آغوش اپنے وطن کے لوگوں کے لئے فراخ تھی کیوں تنگ ہو گئ ،اور میں اس صدمے سے دو چار ہوں کہ میرے شہر نا پرساں کی آغوش اپنے ہی پیاروں کے خون ناحق سے آ ج بھی رنگین ہو رہی ہے
میں صرف ایک پاکستانی ہوں ،پاکستان میرے لہو میں دوڑتا ہے نس نس میں بستا ہے اور میں پاکستان سے ہزارہا میل دور کینیڈا کے برفستان میں رہتی ضرور ہوں لیکن میری روح ابھی بھی پاکستان میں رہتی ہے ،کیونکہ میری مادر وطن ہی میری پہچان ہے
میرا کمپیوٹر بھی ا چانک ہی ناراض ہو گیا ہے ،اس کے لئے میں نے میں نے نگہت بیٹی سے مدد مانگ لی ہے ،
مجھے لگ رہا ہے وائرس آ گیا ہے ، بیٹے کو فرصت ملے گی تب دیکھ سکے گا، ابھی ہو یہ رہا ہے کہ لکھے لکھائے بلاگ اچانک ہی غائب ہوئے جا رہے ہیں اور دوسر ا پیچ خود بہ خود اوپن ہوا جا رہا ہے ،آج مین نے خود بھی کافی وقت اس پر صرف کیا ہے تو کچھ بہتری آئ ہے ،اللہ کا شکر ہے کہ یہ بلاگ سلامت ہے
اجازت چاہوں گی اس دعا کے ساتھ پاک پروردگار عالم تمھارے روزگار کی ہر مشکل کو اپنے حبیب حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے صدقے دور فرمائے تمھارے ماں باپ کی آنکھیں تمھارے وجود سے ٹھنڈی رکھّے ،
قابل صد احترام ہیں تمھارے وہ محترم والدین جنہو ں نے ایسا لائق فائق بیٹا پروان چڑھایا ماشاللہ
اللہ نگہبان
“ آخر میں ایک اور بات کہ آقا صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل پر میں گناہ گار تو کیا صدیوں سے ہزاروں لاکھوں لوگ خود کو قربان کرتے آئے ہیں ، میں تو آپ صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل کا غلام ہوں اور میرے ماں باپ بھی آپ صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل کے غلام ہیں اور آپ یقینا جانتے ہونگے غلاموں کی مرضی نہیں ہوتی اور میں تو اپنے ماں باپ کا ہی حصہ ہوں اُن سے الگ میں کچھ بھی نہیں میری کوئی پہچان نہیں سو جب اُنہیں گن لیا گیا تو میں تو خود بخود گنا گیا ۔”
آصف بھائی آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ آپکی باتوں سے اس فقیر کو کسی راحت پہنچی ہے۔ آپ نے پورے بلاگ میں موضوع کو جس خوبصورتی اور کمال ضبظ سے نبھایا ہے، اس پر دل سے آپ کے لئے دعائیں نکل رہی ہیں۔ میں نے پہلے بھی ایک جگہ کہا تھا کہ آپ کے آنے سے رونق لگ جاتی ہے، سو اب دعا گو ہوں کہ خدا آپ کو سدا رونقوںمیں شادو آباد رکھے۔ آمین
السلام علیکم
محترم جناب سید مصباح حسین صاحب ، میرا حساب تو اُس بچے جیسا ہو گیا ہے کہ جو مٹھائیوں سے بھری دوکان میں آگیا ہو اور اب اُسے سمجھ نہ آرہی ہو کہ پہلے گلاب جامن کھاؤں یا برفی ، قلاقند چکھوں یا ربڑی ، جلیبی زیادہ رسیلی ہے یا رس گلہ ۔ ایسی شفقتیں کہیں مجھے مغرور ہی نہ کر دیں ؟ اور میں تو بہت ہی کم علم انسان ہوں ، میرے بہکنے کا زیادہ امکان ہے ۔ اختلافات کے باوجود اِس فورم کے تمام ہی محترم اراکین میری بات کو اہمیت دیتے ہیں ، مجھ سے اتفاق یا اختلاف کرتے ہیں ، اِس خوبصورت گلدستے کا ہر پھول الگ ہی خوشبو دیتا ہے ، اللہ اِس گلدستے کو تا دیر قائم و مہکتا رکھے ۔
میں اختلاف رائے کو اچھا سمجھتا ہوں کہ اختلاف رائے سوچ کو وسعت دیتا ہے ، اختلاف رائے انسان کو بہت کچھ سیکھنے مین مدد دیتا ہے ، البتہ کج بحثی یقینا مناسب نہیں ، مناسب دلائل پر انسان کو اپنی بات سے رجوع کی ہمت ہونی چاہیے ۔
آصف احمد بھٹی
میں آصف احمد بھٹی صاحب کی “ حق گوئی و بےباکی “ کو بےحد قدر کی نظروں سے دیکھتا ہوں ۔ اللہ انہیں اسی طرح صاف صاف اپنی دل کی بات لکھنے کی استطاعت اور توفیق عطا فرماتارہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خود انکا ذہنی بوجھ بھی ہلکا ہوجاتا ہے ۔ ۔
ان کی تبصرے میں جن معصوم افراد کی متحدہ قومی مومنٹ کے ارکان کے ہاتھوں شہادت ہوئی اس پر بے حد افسوس ہے۔ اور اس بات کا بھی بے حد افسوس ہے کہ متحدہ کے غنڈوں نے ان کے ساتھ اور انکے رشتہ داروں کے ساتھ زیادتی کی ۔ افسوس صد افسوس ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ داستان طویل ہے اورمجھ جیسا انسان جو برسوں سے پاکستان سے باہر ہے اس سے پوری طرح واقف نہیں صرف جب مجھے میرے اپنےہاتھوں میں کھلائے ہوئے معصوم بھیتیجے کی شہادت کی خبر ملی تو دل کو بہت دکھ ہوا اور 15 نومبر 2008 سے آج تک میں اس معصوم شہید کی معصوم بیوہ اور اسکے تین معصوم بچوں کی حسب استطاعت مدد کررہاہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ آصف احمد بھٹی صاحب نے کہا ہے کہ انکے دوستوں اور رشتہ داروں کے قاتلوں کو کوئی نہیں جانتا ۔ نہ سیف الرحمٰن کے قاتلوں کو کسی نے پکڑا ( اور میں یہ کہتاہوں کہ نہ میرے بھیتجے نظام قاضی کے قاتلوں کو کسی نےپکڑا ) ۔
کسی نے کہا ہےکہ :
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نےپہنےہوئے ہیں دستانے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک زمانے میں جب میں کراچی کی جیکب لائین کی جھگی میں رہا کرتا تھا اور ایمپرس مارکٹ اور صدر کو پیدل یا سیکل پر جایا کرتا تھا اور رات کے دو دو بجے تک صدر میں ایرانیوں کی ہوٹلوں کی ادبی محفلوں میں حصہ لیا کرتا تھا ان دنوں کی کراچی میں اور آج کل کی کراچی میں زمین اور آسمان کا یا جنت اور جہنم کا فرق ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آصف احمد بھٹی صاحب نے اپنی آپ بیتی لکھکر بہت سارے حقائق سے آگاہ کردیا : شکریہ
ان سے صرف ایک بات یہ کہنی ہے کہ جیسا کہ انہوں نے کہیںپر لکھا ہےکہ کراچی مہاجروں کی اکثریت کا شہر ہے اور یہ مہاجر ان کی طرح پاکستان کے گوشے گوشے سےآائے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ کراچی میں ہندوستان سےائے ہوئےمہاجر بھی بستے ہیں ۔
( اور میرے مشاہدے کے مطابق تما م مہاجر اپنی اپنی کشتیاں جلا کر کراچی اکر بس گئےہیں ۔)
مشکل یہ ہے کہ جب پاکستان کے کسی علاقے یعنی ہزارہ یا پنجاب یا بلوچستان یا سندھ کے کسی دوسرےعلاقے کے مہاجر کی زندگی کا جینا کراچی میں حرام ہوجائے تو وہ ہزارہ یا پنجاب یا بلوچستان یا پاکستان ہی کے اپنےعلاقے میں واپس جاسکتا ہے مگر ہندوستان سےآآیا ہوا مہاجر کہا ں جائے گا ؟ اور خاص طور پر اس مہاجر کی اولاد کہاں جائے گی جو کراچی ہی میں پیدا ہوئی ہواور وہیں پر اسکی روزی روزگار کی سبیل بھی ہورہی ہو۔؟
اگر تنگ آمد بجنگ آمد کا شکار ہوکر اور ایک ردِ عمل کی وجہ سے سابقہ مہاجر قومی مومنٹ اور موجودہ متحدہ قومی مومنٹ کچھ ہاتھ پیر ماررہی ہے تو میں اس کی بات کو بھی قابلِ غور سمجھتا ہوں ۔ (آصف احمد بھٹی صاحب نےکہیںپر یہ غلط بات لکھی ہے کہ یہ جماعت ضیاالحق کی حمایت سے ایک “عمل“ کی طرح پیداہوگئ مگر میری معلومات کے مطابق یہ صرف ایک “رد عمل “ کا نتیجہ تھی ۔( اس کےلیے متحدہ قومی مومنٹ کے وہ ویڈیوپروگرام دیکھئے جس میں اس تحریک کی ابتدا کی وجوہات موجود ہیں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آصف احمد بھٹی صاحب کی تحریر پر محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ نےجو تبصرہ کیا اسے بھی میں انتہائی اہم سمجھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ انکا کمپیوٹر ان کا ساتھ دےگا تاکہ و ہ تمام حقائق پر روشنی ڈالینگیں۔
میں سیدہ زائرہ عابدی صآحبہ کی اس تحریر سے ( جسے انہوں نے جناب آصف احمد بھٹی صاحب سے مخاطب ہوکر کہا ہے ) کافی متاثر ہوا ہوں کہ :
“میرے بیٹے،میں انشاللہ جلد ہی کراچی کے اس پس منظر کے بارے میں جو بھی علم میں ہے حرف حرف سچّائ کے ساتھ ا پنی پاکستانی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے تحریر کروں گی کہ اس شہر کو کیوں تقسیم کیا گیا ،بے دریغ اسلحہ دے کر اس شہر کےبچّوں کو خوں خو اریت کے لئےکیوں آمادہ کیا گیا ،وہ شہر جس کی آغوش اپنے وطن کے لوگوں کے لئے فراخ تھی کیوں تنگ ہو گئ ،اور میں اس صدمے سے دو چار ہوں کہ میرے شہر نا پرساں کی آغوش اپنے ہی پیاروں کے خون ناحق سے آ ج بھی رنگین ہو رہی ہے“۔
جزاک اللہ ۔ میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کی تحریروںمیں کراچی کی تاریخ کی اصلی جھلک دیکھا کرتا ہوں ۔
پتہ نہیں یہ بلاگ انکی تحریر کا متحمل ہوسکے گا یا نہیں ، اگر سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ اس موضوع پر خود اپنا بلاگ شروع کریں تو وہ بھی سب پڑھنےوالوں کے علم میں اضافے کا سبب بنے گا
اس لیے کہ یہ بلاگ اب نظروںسے اوجھل ہوتا جارہا ہے اس لیے ایک نیا بلاگ شروع کیا جائے تو انکی مرضی اور اگر انہیں بلاگ شروع کرنے کی اجازت نہیں ہے تو میں عالمی اخبار کی انتظامیہ سے درخواست کرونگا کہ وہ محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کو بھی اس قابل بنادیں کہ وہ خود اپنے بلاگ شروع کرسکیں ۔
اگر میں غلطی پر ہوں اور سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کو بلاگ لکھنے کی اجازت ملی ہوئی ہے تو میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر اپنے بلاگ شروع کریں ۔ جزا ک اللہ
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
اسّلام علیکم میرے معزّ ز اور مکرّم ساتھیوں بیٹے بیٹیوں ،
اللہ تعالٰی تم سب کا حامئ و مددگار ہو ،میرا کمپیوٹر 90 فیصد ٹھیک ہو گیا ہے اس لئے اس بلاگ کے بس آج یا کل میں پس منظر میں جانے سے پہلے میں یہ بلاگ اس لئے لکھ رہی ہوں کہ آپ سب کا شکر یہ ادا کر سکوں کہ آپ لوگوں نے میری بات کو سنا سمجھا اور میرے لہجے کی کڑواہٹ کو وہ جاء تھی یا بے جاء تھی برداشت کیا
صفدر بھیّا ،نگہت نسیم،اور بار دیگر
خداوند کریم آپ سب کو اس نیکی اور اطاعت کی جزائے عظیم عطا کرے ،آمین ایک بے حد خوشی یہ ہوئ کہ میرے محترم بھائ سیّد مصباح حسین جیلانی جو قدرے خفا ہوکر بلاگ بند بھی کر چکے تھے انہوں نے بھی اسی بلاگ پر واپس آ کر آصف بیٹے کو بہترین ا لفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جس کے لئے میرا قابل فخر ہزارے وال بیٹا سو فیصد مستحق تھا ،
میرے محترم بھیّا منظور قاضی نے بھی میر ے احساسا ت کو سمجھا میں انکی بھی بہت بہت شکر گزار ہوں ،،
بہت سی دعاؤں کے ساتھ
رخصت کی اجازت
اللہ نگہبان
سب سے پہلے تو ایک طویل عرصے کی غیر حاضری پر معزرت،
آپ سب کی محبتوں کا جواب نہیں دے سکی جس کی وجہ سے معذرت خواہ ہوں۔
سب سے پہلے محترم استاد جناب صفدر ہمدانی کی محبت کا شکریہ
مصباح حسین اور عالم آرا خوش آمدید کہنے پر شکریہ
محترمہ نگہت صاحبہ آپ کی محبتوں کی مشکور ہوں۔آپ کےکہنے پر اپنا تعارف کروا رہی ہوں میں بھی کوئی بڑی چیز نہیں نگہت جی بس اللہ تعالیٰ نے اپناکرم کیا ہوا ہے ورنہ بندی کس قابل ہے۔
بنیادی طور پر میں براڈ کاسٹرہوں ریڈیو سے رشتہ بچپن میں ہی قائم ہو گیا تھا۔اردو ادب میں ماسٹرز کرنے اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد کچھ لکھنےلکھانے کی طرف با قاعدہ رجحان ہوا۔شاعری۔نثر میں طبع آزمائی ہوتی رہتی ہے پھر میری حاضر جواب طبیعت کو دیکھتے ہوئے ایک استاد نے مشورہ دیا کہ تم طنز و مزاح لکھو لہٰذا اس پر کوشش کی اور آپ لوگوں نے سراہا جس کے لئے میں آپ سب کی مشکور ہوں۔ نومبر 2011 میں زندگی کے سب سے حسین رشتے سے منسلک ہو گئی اسی وجہ سے اپنی مصروفیت کی بنا پر کچھ لکھنے لکھانے سے بھی دور رہی مگر اب میرے رب نے چاہا تو تحریر کے زریعے آپ سے رابطہ رہے گا۔ آپ کی حوصلہ افزائی کی ہمیشہ منتظر رہوں گی۔ میرے مزید تعارف کے لئے ویکیپیڈ یا کا یہ لنک دیکھ سکتے ہیں http://en.wikipedia.org/wiki/Ghazala_Rafi
اپنی نئی زندگی کی شروعات پر آپ سب کی دعاوں کی منتظر
غزالہ رفیع ( اب آئندہ میں غزالہ زید کے نام سے لکھوں گی )
اللہ نگہبان
متحدہ کے معاملہ میں بہن زائرہ عابدی ، قاضی صاحب اور فدوی ایک صفحہ پر ہیں جبکہ بھٹی صاحب، کیانی صاحب، مصباح صاحب اور نگہت بہن دوسرے صفحہ پر ہیں۔ ہم نے ہمیشہ آپکے mandate کا احترام کیا ہے جبکہ آپنے ہمارے mandate کو کبھی تسلیم اور برداشت نہیں کیا۔ دوسروں کے mandate کوتسلیم نا کرنا کیسی اور کہاں کی جمہوریت ہے؟
آج کی تازہ خبر :
عمران خان صاحب نے پاکستان کے مفاد کی خا طر الطاف حسین صاحب سے ٹیلیفونی رابطہ قائم کیا .
…………………………
اللہ کرے یہ نیک قدم پاکستان کے صحت مند مستقبل کا پیش خیمہ ثابت ہو.
………….
جب دونوں سیاسی جماعتوں کے منشور ہم آہنگ ہیں تو محب وطن پاکستانیوں کو خوشی منانی چاہیے ؛
…………………………
اتفاق کی بات یہ ہے کہ چند دنوں پہلے ایک بلاگ میں میں یہ لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر ، تحریک انصاف اور متحدہ قومی مومنٹ متحد ہوجائیں . ،
……
اگر پاکستان کے مفاد کی خاطر ظفر جعفری صاحب کے مندرجہ بالا تبصرے کے دونوں صفحات بھی ایک ہی مضمون کے حامل ہوجائیں تو یہ بھی بلاگوں کی دنیا میں ایک صحت مند صبح کا پیغام لائے گا
بسم اللہ الرّمٰن الرّحیم ہ
میرے معزّز ساتھیوں ،بیٹوں ،بیٹیوں ،سب کی خدمت میں اسّلام علیکم ،
ایک ماں کی نظر میں اس کی ہر اولاد کی حیثیت برابر ہوتی ہے ،میری نظر میں میری قو م کی صد افتخار نوجوان نسل میری اپنی اولاد کی طرح سے ہے ،،یہ بات نہیں ہے کہ میں تنہا صرف مہا جر بچّوں کے بہتر مستقبل کے لئے راتوں کو اٹھ کر دعائیں کر تی ہو ں سارے جہانو ں کاما لک گواہ ہے کہ میری دعا ہوتی ہے کہ کراچی تا خیبر سب بچّوں کا مستقبل سنوار دے ، چاہے وہ پہا ڑوں پر رہتے یا میدانو ں میں خیمہ زن ہوں ، ہر نوجوان کو روزگار اس کے گھر کے قریب عطا کر دے ،میر ا وطن اپنی دھرتی کا سینہ چیر کر اپنے اندر موجود بیش بہا خزانے اگل دے جس کی وارث میری قوم ہو نا کہ اغیار بنیں
ایسی کوئ بات نہیں ہے کہ میرا جھکاؤ کسی بھی جانب ہو میں نے ایک حقیقت کہی کہ مصطفٰے کمال اس قوم کا نمائندہ ہے جو اپنے وقت کے ظالم حکمرانوں کے ڈھائے ہوئے اس جبر کی پیداوار ہے جو اس قو م پر تو ڑا گیا ہے ،
ہمارے بارے میں تلخ ترین معروضی حقائق کا تجزیہ کئے بغیر ،اگر میرا جواب دیا جائے گا تو یہی ہو گا جو دیا گیا جبکہ ٹھنڈے دل و دماغ سے میری بات کو سمجھا جائے گا تو دل انصاف کی بات کرے گا ،جب زمانہ آ ج بھی منصفانہ فیصلے کرنے سے قاصر ہے تو پھر سکو ت میں ہی بہتری ہے ،میں مانتی ہوں ایم کیو ایم جنرل ضیا ءالحق کی مہر بانی سے فو ج نے بنائ ،اسلحہ دیا ،اور چہیتے بچّے کی طرح پالا ،لیکن کیا فوج مہاجر نوجوا نو ن کو سرکاری نوکری کا اہل بنا سکتی تھی ،نہیں یہاں وہ اس لئے مجبور تھی کہ اس کو نوکریاں دینے کا ا ختیار تھا ہی نہیں ،،کاش مہاجروں کی الگ جماعت بنا کر ان کو اسلحہ تھمانے کے بجائے ان کو نوکریاں دی جاتیں ،ان کے مستقبل سنوارنے کے بندوبست کئے جاتے چہ جائکہ ان کو انکے اپنے ہم وطنوں کے خلاف استعمال کرنے لئے آتشیں اسلحہ دیا گیا
اور پھر ان کا قتل عام یہ کر کیا گیا کہ یہ دہشت گرد ہیں تو پھر مہاجر نوجوانو ں کو واحد راستہ یہی ملا کہ اب ان کو اسلحے کے زور پر اپنا حق لینا نہیں ہے چھیننا ہے، اب کوئ یہ تسلیم کرنے کو تیّار نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کوئ ظلم ہوا ہے تو چلیں ایسا ہی سہی ،آ پ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
یہ پاکستان کی تاریخ کا المیہ ہے کہ وہ قوم جو اپنی تہزیب اعلٰی کی شناخت رکھتی تھی آ ج اسلحہ بردار کہلائ جانے لگی ،
مجھے کوئ یہ بات بتا دے کہ مہاجروں کے کسی گروۃ نے کسی سندھی آبادی والے علاقے میں شہر کی بجلی بند کرواکر سندھیوں کا قتل عام کیا ہو ،جس طرح حیدرآباد میں سندھی آبادی کو گھروں میں خفیہ طور پر محصور رہنے کی ہدائت کئے جانے کے بعد روشنی کے گولے پھینک کر پھر مہاجروں کا چن چن کر قتل عام کیا گیا یا علی گڑھ کالونی میں میرے پشتون بھائیوں نے تین گھنٹے تک قتل عا م بھی اسی طرح کیا زندہ بچّوں کو آگ کے ا لاؤ میں جھونکا اور پولس کو غائبانہ فرشتے اپنے ہمراہ لے گئے تھے ویڈیو موجود ہے ،، اور پھر تو جیسے چاروں طرف سے فیصلے کر لئے گئے کہ اندھیرے ،اجالے کی تخصیص کے بغیر قتل عام کرنا ہے ،جب ہمارے لئے ہر ظلم انصا ف کی رو سے روا ہے ،کوئ ہمارا موقف سننے کو بھی تیّار نہیں ہے ،تو میرا بھی یہ کہنا بجا ہو گا کاش ہمارے بڑے ہم کو پاکستابن لانے کے بجائے گھر میں کنو ئیں کھود کر کہ دیتے کہ جب ہندو حملہ کرنے آئیں تو اس کنوئیں میں گر کر مر جانا ،لیکن پاکستان مت جانا ورنہ صدیوں تک بھی نہیں قیامت تک ،،تم کو وہاں کوئ قبول نہیں کرے گا اگر تم وہاں بچ بھی جاؤگے تو تمھارے بچّے ان کے نشانے پر ہوں گے ،تم کو وہاں روزگار نصیب نہیں ہوگا ،،وہا ں تمھارے اخلاق دفن ہو جائیں گے اور تمھارے بچّوں کو خونی درندہ بنانے
کے لئےآتشیں اسلحہ ضرور ملے گا
اپنے تمام ہموطنوں کے لئے دعا گو ،،
وطن سے بہت دور ایک دور افتادہ مسافر
پاکستان پائندہ باد
ظفر صاحب پہلی بات تو یہ زائرہ باجی کا مؤقف آپ سے بالکل مختلف ہے اور انہوں نے بات علم و ادب کے دائرے میں رہ کر کی ہے۔ اس لئے ان کو اپنی نوائے دہل میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
تاہم قاضی صاحب اور آپ دونوں لوگ مجھے یقین ہے پوری بات پڑھے بناء اس قسم کا زہر اگلتے ہیں، ورنہ یہاں نہ تو کوئی انتخاب ہوا ہے اور نہ کوئی مینڈیٹ کا چکر ہے۔ بلاگ بند ہو چکا، آپ حضرات سے صبر پھر بھی نہیں ہو رہا۔۔لیکن مجھے آپ کے عدم برداشت کے روئیے سے محسوس ہو رہا ہے کہ کراچی جل کیوں رہا ہے۔ یہاں عمران خان کو لتاڑا گیا، زرداری کو سخت سُست کہا گیا، نواز شریف کو برا بھلا کہا گیا، کوئی نہین چیخا۔ اس کو آپ کہتے ہیں مینڈیٹ کا احترام؟ یہ الطاف حسین کوئی آسمانی مخلوق ہے جو آپ یوں بیتاب ہوئے جاتے ہیں؟؟؟ ذرا بتائیں تو سہی آپ نےاحترام کیا کس کا ہے، کس کہاں کیا ہے؟ تعصب کی عینک نے لگتا ہے آپ کو کسی کی تحریر پڑھنے کی زحمت ہی نہیں دی، اور دوسروں کو عدم احترام کے طعنے دینے لگے۔ اسے کون احترام کہتا ہے؟؟؟ ۔ اگر کوئی کسک باقی ہے تو آپ کے پاس بلاگ لکھنے کا اختیار ہے، جو جی میں آئے، ادب کے دائرے میں رہ کر کھُل کر لکھئیے تا کہ آپ کی تسلی ہو جائے۔
جب سے میں نے بلاگ کے بند کرنے کا علان کیا ہے، تب سے آپ کے مطعون افراد میں سے کسی نے مجال ہے جو ایک سطر لکھی ہو، لیکن بھیّا آپ لوگ تو جُٹے ہوئے ہیں وقفے وقفے سے۔ دعا ہے کہ خدا آپ کے دلوں کو قرار بخشے۔
آپ لوگوں کی ضد دیکھ کر مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے باقی لوگوں کو کیوں جواب لکھنے کے حق سے محروم کیا؟ تاہم آپ لوگوں کی زہر افشانی کے بعد باقیوں کو بھی حق حاصل ہے کہ دل کھول کر لکھیں۔
بلاگ بند ہونے کے بعد ضد و ہٹ دھرمی کے مظاہرے سے محض عقلی طفولیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے، نہ کہ کوئی علمی، ادبی و منطقی بات۔
چلو، لگے رہے مُنا بھائی۔
—————–
مجھے قاضی صاحب سے سخت شکایت ہے کہ حسب دستور اگر کہیں کوئی معاملہ ایسا ہو جہاں ایک خیال کو وہ درست سمجھتے ہوں اور دوسرےکوغلط تو فوراً درمیان میں حق و باطل کو گھسیٹ لاتے ہیں اور اپنے طوطیء شکر مقال کو ہی حق گوئی جانتے ہیں۔ چلتے چلتے عرض کردوں کہ یہ حق گوئی و بیباکی کا معیار ہے کیا؟ یعنی جو خود کو بھلا لگے وہ حق ہے اور جو دوسروں کو جراحت احساس سے بے جان کرے وہی بیباکی ہے کیا؟ آخر کس نے ان کو حق دیا ہے کہ وہ باقی احباب کی بات کو منفی تبصرہ کہیں؟ کیا ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم بھی انہیں منفی سمجھیں ؟ حق گوئی و بیباکی کا معیار آپ کی ذات شریفہ رہی ہے اور نہ ہی ہے اور ہم سب کی طرح انکی سوچ کو بھی عوامی خیال سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ خود کو ہی حق پرست ثابت کرنا چاہیں گے تو پھر بات آگے ضرور بڑھے گی اور ابطال الباطل پر جا کر رکے گی۔ اس حق گوئی نما منفی صورت حال نے ملک کی جو حالت کر رکھی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اس لئے ہمیں برداشت اور باہمی احترام کے ساتھ آگے چلنا ہے، ورنہ انتظامیہ میڈیا کی آزادی کے علمبرداروں کی سنت پر عمل کرنے پر مجبور ہوگی، اور منفی کردار کو خاموشی سے چپ کروانے پر مجبور ہوگی، جیسا کہ جنگ اور بی بی سی جیسے مؤقر جرائد میں ہوتا ہے۔ اپنے تبصرے میں تاخیر کے سبب انہوں جو اودھم مچایا، وہ مثالی ہے۔ خدا انہیں زندگی کے ان دنوں میں چین نصیب کر دے۔ آمین
———————————————
میں سلام کرتا ہوں آغا جانی، نگہت بہن اور شمس جیلانی صاحب کے ضبط و تحمل اور وسعت قلبی کو، جنہوں نے کسی منفعت کی سوچ کے بغیر ایک با کمال ٹیم کی مدد سے ہم سب کو اپنی اپنی کہنے سننے کے لئے یہ صفحات مہیا کر رکھے ہیں اور میزبانی کے ساتھ ساتھ مشق ستم بھی سہتے ہیں۔ سب کو اجازت ہے کہ یہاں اپنا اپنا نکتہء نظر پیش کریں، لیکن باہمی احترام، شرافت ، ضبط و تحمل، برداشت اور دلیل برائے دلیل جیسی اقدار اسلامی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔لیکن اکثر دیکھا یہی ہے کہ آغا جانی اور انکی ٹیم آزادی ء اظہار کے احساس کے تحت ہر مشکل کو برداشت کر جاتے ہیں،لیکن وہ کیا ہے کہ یہ دادگاہ بہر طور ایک فکری دادگاہ ہے جہاں سے مباحث کا مقصد انتشار کی بجائے تعمیر ہی ہونا چاہیئے۔
——————————-
امید ہے ہم سب ان صفحات پر ادارتی ضوابط کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں گے اور اپنی اپنی مرضی کا حق نافذ کرنے کی سنتِ ضیائی سے خود کو محفوظ رکھیں گے، انشاء اللہ۔
نا چیز
سید مصباح حسین جیلانی
ترجمان اخبار و ناظم بلاگ عالمی اخبار
زائرہ باجی آپ کا شکریہ کہ آپ نے ماحول کو لوگوں کی کوششوں کے باوجود مکدر ہونے نہیں دیا۔ ورنہ قاضی صاحب قبلہ نے تو بھر پور کوشش کی کہ ایک لسانی تفریق کی سی کیفیت پیدا کر دیں، حالنکہ موضوع سخن نہ کسی کو بھیا کہنے کا تھا نہ ایم کیو ایم کی داستان۔ بات ایک ضمنی پہلو کے طور پر شروع ہوئی اور آپ نے اپنا نکتہ نظر پرُ زور انداز سے بیان کردیا، جس سے اختلاف کے باوجود ہم نے موضوع بحث نہیں بنایا، کیونکہ اسکا حاصل کچھ نہیں ہے۔ کہنے کو میں جوابی دلائل میں صفحات کے انبار لگادوں، لیکن جب نتیجہ مفاہمت کی بجائے مخاصمت ہی نکلنا ہے تو بات بڑھانے کی چنداں ضرورت ہی نہیں ہے۔ مختصر یہی ہے کہ اس سیاست کے حمام میں کوئی بھی قابل اعتبار نہیں۔
انسان کی جو شخصیت اسکی زبان تلے پوشیدہ ہے، وہی زیر نوک قلم بھی ہے۔ ہماری تحریریں ہمارے مزاج کی آئینہ دار ہیں، ہمارے کردار کی عکاس ہیں اور کراماً کاتبین کے ساتھ ساتھ یہ تحریریں بطور آثار محفوظ ہوتی رہتی ہیں۔ اس لئے شیریں سخنی کے مخاطب محض ہم زبان و ہم خیال افراد ہی نہیں، بلکہ جملہ احباب محفل ہونے چاہئیں۔ آپ نے بڑائی کا ثبوت دیتے ہوئے بات کو سب کے لئے شیریں سُخنی سے ہی تمام کیا، جو آپ کی نیک طینت طبیعت کی عکاسی ہے۔ خدا آپ کو یونہی آسانیاں بانٹنا نصیب کرے۔ آمین۔
اسّلام علیکم مصباح بھائ ،
بہت بہت شکریہ کہ آ پ نےمیرے موقف کو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سنا اور ا حتراماً اس جگہ بھی جواب نہیں دیا جہا ں دے سکتے تھے
اللہ تعا لٰی آپ کو بلند اقبال کرے زندگی کے ہر مقام پر کامیاب و کامران کرے ،حقیقت یہ ہے کہ عالمی ا خبار کی انتظامیہ نے میرے موقف کو سنا ،اور میں شکر گزار ہوں کہ میرے کسی بھی بلاگ کو ڈیلیٹ نہیں کیا عالمی اخبار کی انتظامیہ کا بھی میری جانب سے شکریہ
میں تمام ساتھیوں کی شکر گزار ہونے کے ساتھ دست بدعا ہوں کہ مالک معبود ہم سب کو ایک دوسرے کا بہترین مددگار ،غمگساراور مخلص ،دوست ،بننے کی بہترین توفیق عطا کر دے آمین ، ہم جب روز جزاء اس کے حضور حاضر ہوں تو اپنے اجلے چہروں کے ساتھ کہ سکیں ،بار الٰہا ہم نے کبھی تفریق کی بات نا تو خود کی نا ہی اس کے حصّے دار بنے
اب ہمارا وطن ایک ہے ہمارا دین،دین اسلام ہے ،ہماری کتاب ،قران کریم و عظیم ہے پمارا ایمان ہما رے پیا رے نبی آ خرازّ ما ں صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسّلم پر ختم نبوّت ہے ،الحمد للہ
اب ایک اہم ترین بات جو ہے ،پاکستان کی آنے والی قیادت کو ن ہو ؟ یہ لمحہ فکریہ ہے ،میری ناقص رائے مین اس وقت عمران بیٹے اور الطاف بیٹے کو ہاتھ ملا کر پاکستان سنبھال لینا چاہئے ،میرے لئے دونوں بیٹے برابر ہیں ،یہ ہماری قوم کا بڑا پن ہو گا کہ ان کی زاتی لغزشو ں سے پہلو تہی کر لے ،تیسرا نام محترم محمود قریشی کا ابھر کر سامنے آ رہا ہے ،یعنی جس سے جو ہو سکے اپنا اپنا دست تعاون پیش کر کے پاکستان کی ایک نئ تاریخ رقم کرنے آگے آجائے
اور ہم سب پاکستانی ہیں کا نعرہ پھر سے ہمارا سلوگن بن جائے ،اور پھر ایک بار ہمارے عظیم قائد ا عظم کی اور لیاقت علی خان کی تصاویر بھی حاضر سیاسی قائدین کے ہمراہ نظرآئیں
پاکستان پائیندہ باد
اس بلاگ پر الوداع اور خدا حافظ
مصباح صاحب
صحافت میں آپ تبصروں کو تو حذف کرسکتے ہیں جو آپ نہیں کرتے اور آپکی یہ بات قابلِ تعریف ہے۔ لیکن غصہ سے آپ کسی کو مہر بلب یا زیر نہیں کرسکتے۔ عوامی لیڈر کی یہی پہچان ہے کہ عوام اُسکی دفاع کرتے ہیں، اخبارات میں بھی، سڑکوں پر نکل کر بھی، سینے پر گولی کھاکر بھی، جلا وطنی میں بھی۔ الطاف حسین کیونکہ عوامی لیڈر ہیں اسلئے عوام اُنکی ہر محاز پر دفاع کرتے ہیں۔ نواز شریف اور زرداری کیونکہ عوامی لیڈر نہیں ہیں اسلئے عوام اُنکی دفاع نہیں کرتے۔ غمران خان ابھی ادنیٰٰٰٰ ہی صحیح لیکن عوامی سطح پر اُنکی حمایت شروع ہورہی ہے۔ جمہوریت میں مخالفین کو بھی اس بات کا حق ہے کہ وہ اظہارِ رائے کریں۔
بجو مجھے کوئی صفائی نہیں دینی کہ کیا ہوا اور کیا نہیں ہوا ۔۔۔ پاکستان کے بننے سے لے کر اجڑنے تک سب نے ہی سہا ہے اور سب نے ہی ایک دوسرے کی سلامتی کے لئے لئے دعائیں مانگی ہیں ۔۔ سو میں یہاں صرف تین باتیں آپ سب سے کہنا چاہونگی ۔۔
1۔ اختلافات کا حل اختلاف نہیں ہوتا ( صفدر ہمدانی )
2۔ جب تک اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کیاجائے گا اس وقت تک غلطی سدھر نہیں سکتی ( شمس جیلانی )
3۔ کسی برائی کی تو ضیع میں دلیل دینا دراصل برائی کو تقو یت دینا ہے ۔(سید مصباح حسین جیلانی)
آپ سب بھی سوچئے اور آگے بڑھئے ۔۔ شکریہ
ظفر صاحب بات صرف یہ ہے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ والوں کا ظرف آپ کی سوچ سے بہت بلند ہے۔ عوام صرف کراچی میں نہیں پورے پاکستان میں رہتی ہے جنہوں نے ان افراد کو چن کر حکمران بنایا ہے۔ میری یا آپکی مخالفت سے اس حقیقت کا انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی عوام کی اکثریت نے زرداری و نواز شریف پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے اور مخالفین کو بھی جینے کا وہ حق دیا ہے جو آپ دینے پر تیار نہیں ہے۔ وہ صرف تبصروں اور اختلافات پر آپ کی طرح ذہنی لا ابالی پن کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ سننے سمجھنے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی حال تحریک انصاف کا بھی ہے، وہ لوگ بھی نقطہء اعتدال نہیں چھوڑنا چاہتے۔ باقی ایم کیو ایم کی مجھے خبر نہیں، لیکن جو تبرک ہمیں ملا ہے، اس میں شدت کے سوا کچھ نہیں۔ آپ کی بے تکی باتوں سے میں اپنا مزید وقت ضائع نہیں کروں گا۔ سو خدا آپ کو اپنا جہان مبارک رکھے جس سے آپ نکلنا ہی نہیں چاہتے۔
جناب جعفری صاحب ،
یہ بلاگ اتنی دفعہ کھلا اور بند ہوا کہ اب ذہن میں بھی سب کچھ گڈ مڈ ہوگیا ہے ۔ اور سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جتنے اہم موضوع پہ یہ بلاگ شروع ہوا تھا اس طرف اتنی توجہ ہی نہیں دی گئی ۔ بات لیڈر شپ سے شروع ہوئی اور اسے پہلے کہ قارئین کی آنکھیں کھلنے کی نوبت آتی کہ مصباح صاحب کی طرف سے عزت مآب جناب مصطفٰے کمال صاحب کے ویڈیو لنکس لگانے پہ زمین کی گرد آسمان تک پہنچا دی گئی اور ’ مہاجر کمیونٹی‘ ، جنھیں مہاجر کہتے ہوئے بھی میری زبان کانپنے لگتی ہے ، کی بے بسی اور ایم کیو ایم کی صفائی اور جواز پہ بحث شروع ہوگئی جس کی کوئی تُک ہی نہیں تھی ۔ مصطفٰے کمال صاحب نے جس ’ شائستہ‘ زبان کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیا کو رگڑا ہے یہاں اس کی وکالت کی بجائے سچائی کو تسلیم کرتے ہوئے بات کو طول دیتے ہوئے اسے کہیں سے کہیں پہنچانے کی بجائے ان کی ذات سے متعلق اچھے پہلوؤں کو اجاگر کیا جانا چاہیئے تھا تاکہ قارئین کی نظروں میں آنا والا ہلکا سا وہ دھبہ بھی دھل جاتا ۔
مجھے حیرت تو آپ کی فتوٰی نویسی پہ ہورہی ہے جو کبھی فوج کے خلاف ہوتی ہے تو کبھی بلاگ میں لکھنے والوں کے خلاف !
محترم یہاں کوئی لابننگ نہیں ہورہی جو آپ ’ دو صفحے ‘ کھول کے بیٹھ گئے ہیں ۔ اور جہاں تک آپ کو اپنا ’ مینڈیٹ ‘ تسلیم کرانے کی ضد ہے تو یہی عرض کروں گا کہ کچھ لوگ غیر جانبدار بھی ہوتے ہیں جو صرف سندھی یا ’ مہاجر ‘ کمیونٹی سے ہٹ کر پاکستان کے عام آدمی کو نظر آنے والا تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر آپ کو یہ پسند نہیں تو پاکستانی بیوروکریسی کی طرح ہم بھی آپ کے دربار میں ” سب اچھا “ ہی کہتے ہیں ، آپ خوش رہیں !
السلام علیکم
جب سے یہ بلاگ شروع ہوا ہے میں اِس کا خاموش قاری ہوں ، وجہ صرف یہ ہے کہ جیسا کہ آپ سب جانتے ہین کہ میں پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان تحریک انصاف سے منسلک ہوں اور مصباح صاحب نے بلاگ کے ابتداء میں جو سوالات اُٹھائے تھے اُن میں سے کچھ میری قیادت سے متعلق بھی تھے اور جن کے میرے پاس جوابات نہیں تھے اور نہ ہی مناسب دلائل ، سو میں نے خاموشی ہی مناسب سمجھی ، پھر بیچ میں یہ جو مہاجر اور غیر مہاجر کا ایشو شروع کر دیا گیا اِس نے مجھے کئی بار مجبور کیا کہ کچھ لکھوں مگر کچھ لوگوں کے ادب کے سبب خاموش رہا ، میرا تعلق ہزارہ سے ہے مگر میری پیدائش اور پرورش کراچی میں ہی ہوئی ہے ، میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ کراچی مہاجروں کا شہر ہے اور یہاں ہر طرح کے مہاجر بستے ہیں ، یہاں اردو بولنے والے بستے ہیں ، یہاں پشتو بولنے والے مہاجر بستے ہیں پنجابی مہاجر ہیں اور ایک بڑی تعداد میرے لوگوں ( ہزارے وال ) کی بھی ہے ، ہم سب مہاجر ہیں اور یہ کہنا کہ اُن مہاجرین کو کہ جو ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے تھے تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہے کچھ غلط ہے یا کم از کم ایک منفی سوچ ضرور ہے ، پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان تھے جو کہ ہندوستان سے ہی ہجرت کرکے آئے تھے ، بلکہ پہلی ہی دستور ساز اسمبلی میں متعدد اراکین مہاجرین میں ہی سے تھے ، کراچی والوں نے جس ہمدردی اور اخوت سے مہاجرین کا استقبال کیا وہ کسی طور بھلانے لائق نہیں ، اور کراچی میں تو پشتونوں کو بھی ’’ خر کوٹا ‘‘ و ’’ خرکار ‘‘ اور کئی دوسرے نام دئیے جاتے رہے ہیں ، سندھیوں کو لوگ ’’ مانڑو ‘‘ بلوچوں کو ’’ کلوٹے ، شیدی ‘‘ پنجابیوں کو ’’ دھوتی ، لوٹا ‘‘ اور ہزارے والوں کو ’’ ناڑے ، پہاڑیئے ‘‘ اور جانے کیسے کیسے ناموں سے یاد کیا جاتا رہا ہے ، مگر باقیوں میں سے کسی نے بھی ہتھیار نہیں اُٹھائے ، اگر یہ مان لیا جائے کہ ریاستی تشدد ہتھیار اُٹھانے کا سبب بن سکتا ہے تو پھر ، بلوچستان کے بلوچوں کی مسلح کاروائیوں کا جواز مل جاتا ہے ، وزیرستانی پشتونوں اور ظالمان کو اپنے خود کش حملوں کے لیے جواز مل جاتا ہے ، احتجاج کے کچھ اور بھی طریقے موجود ہیں ، تشدد کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا ، اور پھر کراچی میں محض اردو بولنے والوں کا قتل نہیں ہوا ، بلکہ پشتونوں کا خون بھی پانی کی طرح بہایا گیا ہے ، فرق یہ ہے کہ اُن کے پاس زریع ابلاغ کو استعمال کرنے کا ہنر نہیں ہے ، یہ سب باتیں فضول ہیں ، خون کسی ایک انسان کا بھی بہے تو یہ انسانیت کی تذلیل ، سب پاکستانی ایک جیسے ہیں لسانی کی تفریق مناسب نہیں ، اگر کوئی ایسا کرتا ہے اور ہم اُس کے فریب کا شکار ہو جاتے ہیں تو یقینا وہ کامیاب ہو گیا ، اور وہ ہمیں بانٹنے مین کامیاب رہا ، جو کہ خود ہمارے لیے مناسب نہیں ، میں خود چونکہ کراچی مین ہی رہا ہوں اور میں نے یہ سب خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ، اِس لیے کہتا ہوں کہ سنی سنائی اور دیکھے ہوئے میں بہت فرق ہوتا ہے ، ہم سب پاکستانی ہیں ، اور یہی ہماری سوچ ہونی چاہیے ، سیاسی وابستگی ہماری پاکستانیت سے اہم نہیں ۔
آصف احمد بھٹی
آصف بھائی یقین جانیں مجھے آپ کا انتظار تھا، لیکن آپ کو زحمت اس لئے نہیں دی کیونکہ میں سمجھ رہا تھا کہ آپ کے پاس اگر وقت ہوتا تو آپ خود ہی اس طرف آتے۔ بہر کیف دیر آید درست آید۔
آصف صاحب آپ کے تبصرے کا ایک ایک لفظ پڑھنے اور دل میں جگہ دینے کے لائق ہے۔ یہ بھی تو بتائیں ناں جو پنجابی نسل در نسل وہاں رہ کر پنجابی کے ساتھ اصلہی لب و لہجے میں اردو بھی بول لے اسے چوپایہ کہا جاتا ہے۔
السلام علیکم
محترم جناب سید مصباح حسین صاحب ، ممکن ہے کچھ لوگ اِن القابات کو تعصب سمجھتے ہوں مگر میں اب تک یہی سمجھتا رہا ہوں کہ کراچی جیسے شہر میں جہاں ہر طرح کے لوگ بستے ہیں ایک دوسرے کی پہچان کے لیے یہ القابات بولے جاتے ہیں ، ہم اپنے بچپن مین ہر پٹھان کو ’’ ماما ‘‘ کہتے رہے ہیں ہمارے اردو بولنے والے دوست بھی اُنہیں ’’ ماما ‘‘ ہی کہتے تھے اور سب پٹھان اِس پر فخر محسوس کرتے تھے ، یہ تعصب تو اب کچھ سالوں سے شروع ہوا ہے یا اِسے تعصب سمجھا جا رہا ہے ، اور رہی بات ہندوستان سے آنے والے ہمارے بھائیوں کی تو عرض ہے کہ ہندوستان سے آنے والے صرف کراچی ہی نہیں آئے تھے اور یہ صرف اردو بولنے والے ہی نہیں تھے پنجاب میں بھی ایک بڑی تعداد میں ہندوستان کے پنجاب ، دلی ، اور موات سے لوگ آکر بسے تھے ، اب ہم سب پاکستانی ہیں اور اگر کوئی بھی شخص تعصب کا پیدا کرتا ہے تو اُس کی سخت مذمت ہونی چاہیے ، اور ایسے شخص سے چاہے وہ کسی بھی قومیت سے تعلق رکھتا ہوں معاشرتی بائیکاٹ کرلینا چاہیے ، ہم سب ایک اللہ کے ماننے والے ، ایک رسول کے پیروکار ، ایک کلمہ پڑھنے والے ہیں ہماری پہچان صرف اسلام اور پھر پاکستانیت ہونی چاہیے اور کچھ بھی نہیں سو باہمی تفریق پیدا کرنے والے ہر شخص سے لاتعلقی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔
آصف احمد بھٹی
آصف کتنی اچھی بات کہی اور کتنی سچی .. جی خوش ہو گیا پڑھ کر کہ ہندوستان سے مہاجر تو پورے پاکستان میں آ کر بسے تھے ..پھر کراچی میں جو آ کر بسے وہی اتنے اہم کیوں ہیں .. .. میرے دادا اور دادی جی اپنے پورے کنبے کے ساتھ ہندوستان (شکر گڑھ) سے شیخپورہ آ کر بس گئی تھی .. اور ہم سات پشتوں سے پنجابی ہیں .. لیکن آپ ہی کی طرح کراچی میں پلی بڑھی ہوں .. لیکن میڈ یسن پڑھنے کے لئے مجھے سندھ میں کسی نے داخلہ نہیں دیا کہ میں مہاجر نہیں تھی اور ایم کیو ایم کی اجارہ داری ہر ادارے کی طرح اس وقت بھی میڈیکل کالجز میں بھی تھی ..اور اس زمانے میں پرائیویٹ کالج بھی نہیں تھے .. اگر ہوتے بھی تو مجھ جیسے کہاں افورڈ کر سکتے تھے .. میں اس وجہ سے تن تنہا ہوسٹل میں رہی اور تعلیم مکمل کی ..تو اس طرح سے ہر لیول پر دکھ اور گھاؤ تو سب نے سہے ہیں .. آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ ہمارے پاس زرائع ابلاغ ایم کیو ایم جیسا نہیں رہا ورنہ تصویر کا دوسرا رخ دکھانے میں ہمیں ہر وقت اتنی کوشش نہ کرنی پڑتی .. اور لسانیات کی بنیاد پر بانٹنے والی جماعت کبھی نہ پنپتی … اصل بات جو سب کو یاد رکھنی چاہئے کہ ہم پاکستانی ہیں .. اور کچھ نہیں .. ہمارا رونا اور ہماری بد نصیبی ہی یہی ہے کہ ہم “حق پرست” تو ہیں لیکن “قوم پرست” یعنی نیشنیلسٹ نہیں ہیں ..
سلامت رہیں بھائی ..
اسّلام علیکم ساتھیوں، بچّوں ،میںاس بلاگ پر الوداع کہ کر شفاء خانے کی پیڑھی پر بیٹھی تھی کہ پتا چلا بلاگ پر میرا بیٹا آصف آگیا ہے تو ساتھیوں یہ تو سب جانتے ہیں بیٹوں کی اہمیت ماؤں کی نظر میں بیٹیوں سے زیادہ ہوتی ہے ،دیکھنا اب بیٹی باد نسیم خفا ہو نے کے لئے آنکھیں دکھا رہی ہے
کوئ بات نہیں بہنوں کو بھی تو بھائیوں پر مان ہوتا ہے
تو میرے بیٹے تم نے اور نگہت بیٹی نے جن حقائق کو بیان کیا ہے اس ایک عنوان پر ہم سب قلم کاروں کو ایک طرح سے جہاد کرنا چاہئے کہ ہم سب پاکستانی ہیں ،،ہماری شناخت صرف اور صرف پاکستان ہے ،،،حقیقت یہ ہے کہ اب ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم خود اپنے گھر سے اس بات کی ابتدا کریں کہ ہم پاکستانی ہیں ،
ہماری قوم کو لسانی بنیادوں پر سازش کے تحت تقسیم کیا گیا ہے ،ہم اس تقسیم کو نہیں مانتے ہیں ،یہ بھی ایک سامراجی گھناؤنی سازش ہی تو ہے کہ گھر کے اندر کے افراد کو تقسیم کردو
میری اپنی سگی نند لاھور میں رہتی ہے اس کے بچّوں کی وہیں شادیاں ہوئیں وہیں پلے بڑھے ماشاللہ پروان چڑھے ،میرے اپنے لاتعداد رشتے دار جھنگ ،نارووال ،خان پور اور تقریبا پورے منجاب میں آباد ہیں ،میرے سگے بڑے بہنوئ کوہاٹ کے پکّے سیّد افغانی پٹھان ہیں جنکے گھر میں ڈھائ سو سال پرانا علم مبارک نصب ہے ،پھر یہ تقسیم کیوں اور کیسے ؟ اس کا بہترین علاج ہمارے اپنے پاس ہے کہ ہم صرف اپنے آپ کو پاکستانی کہلانا شروع کر دیں
پاکستان سب کا ہے یہی ہماری شناخت ہے ہمیں تقسیم مت کرو یہ ایک نعرہ ہمارا علاج ہے ،نگہت بیٹی میں خود اپنے بچّوں کو بغرض تعلیم اور ،روزگار پردیس بھیج کر دیکھ چکی ہوں مجھے معلوم ہے جب بچّوں کو ان کے شہروں میں یا انکی اپنی مطلوبہ درسگاہون میں داخلہ نہیں ملتا ہے تو کتنے مایوس ہوتے ہیں وہ اس وقت کتنے کمسن ہوتے ہیں ،وہ اس وقت اپنے خوابوں کو کس طرح کرچی کرچی ہونا دیکھتے ہیں ،تم بھی اس وقت کتنی کمسن طالبہ ہو گی تم کو بھی کتنا دکھ پہنچا ہوگا جب قابلیت کے اعلٰی معیار کے باوجود تم کو مایوس لوٹا یا گیا ہوگا ،کیا سندھ کی درسگاہوں پر پنجاب کے طابعلموں کا حق نہیں تھا
،،میری بیٹی تعلیم ہوئ یا روزگار ہوا تم اور میرے بچّے اور میری قوم کے بچّے الگ الگ تھوڑی ہیں تم کواور انکو اگر اپنے وطن میں وہ سب کچھ مل جاتا جو تم لوگ چاہتے تھے تو تم کب بے وطن ہونا پسند کرتے ،اس تمام غیر منصفانہ قومی تقسیم نے ملک کو بہت ہی بڑا نقصان یہ بھی پہنچایا کہ آ ج ہمارا بہت بڑا سرمایہ یعنی تعلیم یافتہ طبقہ ملک سے باہر نکل آیا ہے ،
اللہ تم سب کو شادوآباد رکھّے ،اور خوشحال ،حال کے ہمراہ تابناک مستقبل عطا کرے
اجازت چاہوں گی
اللہ نگہبان
زائرہ بجّوً
سوال یہ ہے جب بعض نکات پر ہمیشہ ہی فتنہ کھڑا ہوجاتا ہے تو ایسے بلاگز شروع ہی نہیں ہونے چاہئیں۔ مصباح صاحب کو بھی یا تو کم ظرف، جاہل، تنگ نظر جیسے فتوے صاذر کرنے پڑتے ہیں یا بلاگ کو بند کرنا پڑجاتا ہے۔ میں کوئ بھی بلاگ شروع کرنے سے پہلے دس بار سوچتا ہوں کہ اس سے ماحول خراب نہ ہو۔ اگر آپ غور کریں تو ان فتنہ پرور بلاگز میں نصف سے زیادہ مبصرین خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ جب سلمان تاثیر کے قتل پر یہاں شادیانے بج رہے تھے تو میں نے اُسکی مخالفت کی تھی۔
اگر میرا نام لےکر طرح طرح کی بے بنیاد بہتان تراشے جارہے ہیں تو میرے جوابی تبصرے کیوں حذف کیے جارہے ہیں؟
اگر حق با ت سننے کی تاب نہیں تو سید مصباح حسین جیلانی صاحب کو اس قسم کی بے بنیاد الزام تراشی پر افسوس کرنا چاہیے تاکہ انکی اخلاقی جرائت کا مظاہرہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید مصباح حسین جیلانی صاحب اپنےایک نئے بلاگ بعنوان “جینا شروع کیجئے “ میں مجھے تبصرے لکھنے کی دعوت تو دے رہے ہین مگر وہ اور انکے شریک کار میرے تبصروں کو اس بلاگ سے حذف بھی کررہے ہیں ؛ یہ کتنی عجیب و غریب بات ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا یہ کہنا زہر اگلنے کے برابر نہیں ہے کہ :
“ یہ بھی تو بتائیں ناں جو پنجابی نسل در نسل وہاں رہ کر پنجابی کے ساتھ اصلہی لب و لہجے میں اردو بھی بول لے اسے چوپایہ کہا جاتا ہے۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر شاہی سید صاحب نے پندوستان سے پاکستان آےہوئے مسلمانوں کو “ پناہ گزیں اور بھیا“ کہا تو اس کا تذکرہ ان بلاگوں میں کرنا “ زہر یلی بات کرنا“ کیسے ہوا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں نے یہ کہا کہ کسی نے ( اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ اے این پی والے تھے یا ایم کیو ایم والے تھے یا کون شیطان تھے ) نے میرےبے گناہ بھتیجے کو کراچی میں ٹارگٹیڈ کلینگ کا نشانہ بنا کر شہید کردیا اور یہ بھی نہ خیال کیا کہ اسکی جوان بیوہ اور اسکے تین معصوم بچوں کا کیا ہوگا ؟ تو اس میں میں نے کونسی زہریلی بات کی ؟
( 15 نومبر 2008 کے عالمی خبار کےمیرے بلاگ میں اس سانحہ کی تفصیل موجود ہے )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے امید تو نہہں ہے کہ یہ تبصرہ اس بلاگ میں شایع ہوگا پھر بھی میں خاموش رہنے کی بجائے اس تبصرےکو لکھنے کی جرائت کررہا ہوں۔ اور اسکی کاپی ای میل کےذریعہ عالمی اخبار کی انتظا میہ کے علاوہ ظفر جعفری صاحب کو بھیج رہا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔
میں اس بلاگ کے تمام تبصروں میں جناب ظفر جعفری صاحب اور محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کے تبصروں سے بالکل متفق ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جناب آصف احمد بھٹی صاحب کے تبصروں کو قابل ِ غور سمجھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر ایم کیو ایم اور تحریک انصاف متحد ہوجائینگے ۔
منظور قاضی
جرمنی سے
قاضی صاحب قبلہ بڑی نوازش، آپ کو کسی کی بات تو ٹھیک لگی۔ ۔۔۔خدا خدا کر کے۔ مجھے آپ سے پھر یہی شکایت ہے کہ آپ نے جو بھی اب تک نتیجہ نکالا ہے وہ بغیر پڑھے نکالا ہے۔ خیر کوئی بات نہیں۔
دنیا اور جیون ساتھی
میرا مشاہدہ ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں بہت ملجائیں گے جو جیون ساتھی کے ساتھ تو بُرے ہوں لیکن دوسروں کے ساتھ اچھے ہوں۔ اسکے برعکس ایسے لوگ شاذو نادر ہی نظر آئیں گے جو دوسروں کے ساتھ بُرے ہوں لیکن جیون ساتھی کے ساتھ اچھے ہوں۔ اس بات کا احساس مجھے اسوقت ہوا جب ہمارے شہر میں ایک ہندو ماہرِ قلب کی بیوی نے خودکشی کرلی۔ یہ نفیس مذہبی خاتون خود کشی سے پہلے شدید ڈپریشن کا شکار تھیں۔ ہمارے شہر میں دوسو سے زیادہ برِ صغیر کے ڈاکٹرز ہیں۔ سب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ محترمہ کے شوہر سب ڈاکٹرز سے سینیئر اور پرانے ہیں۔ دوسرے دیسی ڈاکٹرز کو انہوں نے ہمیشہ نقصان پہنچایا۔ دوسروں کو بھی ہمیشہ نقصان پہنچایا۔ جب میں نے آنکی بیوی کے خود کشی کرنے کی خبر سنی تو یہی سوچا کہ جو شخص ساری دنیا کے ساتھ برا ہو وہ جیون ساتھی کے ساتھ کیسے اچھا ہوسکتا ہے۔
معذذرت کہ مندرجہء بالا تبصرہ غلطی سے یہاں چسپاں ہوگیا۔
جہاں تک اس بلاگ کا تعلق ہے تو میری غلطی تھی کہ میں نے اس میں حصہ لیا۔ آئندہ اس قسم کے بلاگز سے میں دور رہوں گا۔
میں اس قسم کے بلاگوں میںصرف اس لیے حصہ لیتا ہوں کہ ان بلاگوں میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ اور ظفر جعفری صاحب جیسے مبصر حصہ لیا کرتے ہیں۔
اگر ان دونوں نے اس قسم کے بلاگوں میں حصہ لینا چھوڑدیا تو یہ بلاگ صرف یک طرفہ ٹریفک بن جائینگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے محترم اور عالی وقار سید مصباح حسین صاحب نے کہا ہے کہ :
“مجھے آپ سے پھر یہی شکایت ہے کہ آپ نے جو بھی اب تک نتیجہ نکالا ہے وہ بغیر پڑھے نکالا ہے۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جناب سید مصباح حسین صاحب کے تمام تبصرے پڑھتا رہا ہوں ۔ اور اس بنا پر میں یہ کہنےپر مجبور ہوں کہ اس بلاگ میں انہوں نے جو میرے خلاف غلط بیانی کی کہ : “ قاضی صاحب اور آپ دونوں لوگ مجھے یقین ہے پوری بات پڑھے بناء اس قسم کا زہر اگلتے ہیں،“
اس پر مجھے بے حد تعجب ہوا ۔
جس کی امید سید مصباح حسین صاحب جیسے سلجھے ہوئے انسان سے نہیں تھی کہ وہ میری کسی بھی بات کو “زہر اگلنے“ سے تعبیر کریں اور اسکی کوئی مثال بھی نہ دیں !!!
افسو س کہ انکی “انا“ ا س کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ مجھ سے معافی مانگیں ۔
بہر کیف:
جب تک عالمی اخبار کی انتظامیہ مجھے عالمی اخبار کے بلاگوں میں لکھنےکی اجازت دیتی ہے میں اس اخبار میں لکھتا رہونگا ورنہ ہم سب کی زندگی تو بہر حال گذر ہی جائےگی ۔۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
السلام علیکم
محترمہ سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ ، آپ نے مجھے بیٹا کہہ کر اور سمجھ کر میرا بہت مان بڑھایا ہے ، میرے لیے یہ اعزاز دُنیا و جہاں میں سب سے زیادہ اہم ہے کہ ہم تو سادات کے غلام ہیں ، میں اِس کے لیے آپ کا بہت زیادہ شکر گزار ہوں ، آپ ہمیشہ مجھ پر بہت زیادہ مہربان رہتی ہیں ، اور رہی نگہت آپی کی بات تو وہ بھی سادات ہیں وہ بھی بڑے دل والی ہیں یقینا برا نہیں مانیں گی ۔
ہم سب کے آقا و مولا اور آپ کے جد امجد جناب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ ( میرے ماں باپ آپ رضی اللہ تعالی عنہ پہ قربان ) کا ایک قول ہے ، آپ رضی اللہ تعالی نے فرمایا کہ ’’ یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے ‘‘ آپ نے میری بات کو اہمیت دے کر اپنے جد امجد رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کو مزید سنہرا کر دیا ، اور میں اِس کا اور آپ کی شفقت کا فائدہ اُٹھاتے مزید کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ جو پہلے صرف آپ سمیت کچھ محترمین کے احترام کے سبب نہیں کہا تھا ، میں ہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہو کہ ہماری پہچان ہمارا اصل ہونی چاہیے ، ہمیں اِن ذیلی پہچانوں سے پیچھا چھڑانا چاہیے ، ہماری سب سے پہلی پہچان تو اسلام ہی ہونا چاہیے اور پھر پاکستان اور بس ! اِس سے آگے صرف جھوٹ ہے ، اور جھوٹ بولنے والا کبھی خود کو بھی مطمئن نہیں کر سکتا کجا دوسروں کو ۔
آپ نے متعدد بار فرمایا ہے کہ حیدر آباد میں رات میں تاریکی کر کے اور روشنی کے گولے چلا کر ہمارے بھائیوں کا قتل کیا گیا ، کراچی میں علی گڑہ میں بھی تین گھنٹے یہ ظلم ہوتا رہا ، مظلوم مظلوم ہی ہوتا ہے اور ظالم ظالم ہی ، ظالم کی پہچان اُسکا سندھی یا پٹھان ہونا نہیں بلکہ اُس کا ظلم ہوتا ہے اور مظلوم کی پہچان مہاجر ہونا نہیں مظلوم ہونا ہی ہوتا ہے ، ہم ہر ظالم کی چاہے وہ کسی بھی لسانی گروہ سے تعلق رکھتا ہو مذمت کرتے ہیں ، اُس کے اِس فعل بد پر اللہ سے رجوع کرتے ہیں کہ بے شک وہ سب سے بہتر عدل کرنے والا ہے ، اسکول کے زمانے میں میں بھی حق پرستی کا نعرہ سن کر اور لگا کر متحدہ ( جو کہ اُس وقت مہاجر قومی موومنٹ تھی ) کے ہمدردوں میں رہا ہوں ، مگر میرے کچھ تلخ اور دُکھ بھرے تجربوں نے مجھے جلد ہی اِس تحریک سے الگ کر دیا ، میں ہمیشہ پاکستانی سیاست کے اِس رُخ سے نفرت کرتا ہوں کہ جو بے گناہوں کے لہو پر پروان چڑھتی ہے ، اور پھر سیاسی بونے ’’ ہمارا کارکن ‘‘ اور ’’ ہمارا ہمدرد ‘‘ کہتے ہوئے لاشوں پر سیاست کرتے ہیں ، کوئی بھی مرحوم مقتول کو پاکستانی کہہ کر نہیں پکارتا ، کوئی اُس کے قتل کی وجہہ بیان نہین کرتا یا تحقیق نہیں کرتا بس سیاسی پوئنٹ اسکور ہوتے ہیں ، اور جو کہ انتہائی غلیظ ذہنیت ہے ، ایک طویل عرصے سے کراچی کے حالات خراب ہیں ، روز حکمران اتحاد کے لوگ صرف اپنے اپنے ’’ شہیدوں ‘‘ کی لسٹ لیکر میڈیا پر آجاتے ہیں ( باقی مقتولین جائیں بھاڑ میں ) اور اُن کے قتل پر سیاسی پوائنٹ اسکور کرتے ہیں ، ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں اور پھر ایک ساتھ بیٹھ بھی جاتے ہیں ، یہ کیسی سیاست ہے ؟ یہ کیسے سیاست دان ہے جو ایک دن تو دوسرے پر اپنے کارکن کی شہادت کا الزام لگاتے ہیں اور پھر اگلے دن ایک ساتھ بیٹھ پر مرُغ اُڑاتے ہیں ؟ یہ کیسے لوگ ہیں ؟ بلکہ ہم کیسے لوگ ہیں ؟ ہم کیسے یہ سب دیکھ کر بھی اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں ؟ اور زندہ باد زندہ باد کے نعرے لگاتے رہتے ہیں ؟ کیا ہمیں اِن کی منافقت نظر نہیں آتی ؟ کیا ہم لوگوں کے دل ایک دوسرے کے خلاف اِس قدر میلے ہو چکے ہیں کہ ہم سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اُس میں صرف اپنی پسند کا منظر دیکھتے ہیں ؟ کیا ہماری سیاسی وابستگی انسانیت سے زیادہ اہم ہو گئی ہے ؟ یہ لوگ ہمیں گروہ در گروہ بانٹ رہے ہیں اور ہم ۔۔۔۔؟
اِن کا ایجنڈا ہم سے پوشیدہ نہیں ہم جانتے ہیں اِن کا مقصد محض اقتدار ہے چاہے اِس کے لیے اپنوں کا لہو بھی بہانا پڑے مگر پھر بھی ہم اُن کے حمایتی ہیں ؟ یہ سب کتنا عجب ہے ؟ ہم خود اپنے قاتل ہیں ! ! !
دل کے اندر بھڑکنے والی آگ تو جانے کیا کچھ جلانے کو تیار رہتی ہے مگر پھر ادب آڑے آجاتا ہے ، اپنی دُعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
آصف احمد بھٹی
میں جیسا کہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں، آصف احمد بھٹی صاحب کی باتوں کو قابلِ غور سمجھتا ہوں اور چونکہ وہ اپنے تبصرے اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر لکھتے ہیں اس لیے میں ان کے اپنے“تلخ اور دکھ بھرےتجربوں “کو جنھیں وہ کھل کر بیان کرنے سے گریز کررہے ہیں ، ہمدردانہ نظر سے دیکھتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا صرف یہ سوال ہے کہ :
کیا متحدہ قومی مومنٹ ایک “عمل “ کا نتیجہ تھی یا “ ردِ عمل “ کا نتیجہ تھی ؟
اگر حقائق پر ہی بات کرنی ہو تو اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے۔
میرے اور بھی ذیلی سوالات ہیں مگر فی الوقت میں اپنے تبصرے کو اس سوال پرمرکوز کرنا چاہتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
السلام علیکم
محترم جناب منظور قاضی صاحب ، آپ کی شفقتوں کا بہت شکریہ ، آپ نے فرمایا کہ
میں جناب آصف احمد بھٹی صاحب کے تبصروں کو قابل ِ غور سمجھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر ایم کیو ایم اور تحریک انصاف متحد ہوجائینگے ۔
تو عرض ہے ملک کے مفاد میں تو یقینا یہ ایک اچھی بات ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے ، دونوں جماعتوں کے قائدین کے طرز سیاست اور کارکنان کو دیکھ کر میرا تجزیہ یہ کہتا ہے کہ عمران خان کبھی بھی متحدہ کے ساتھ نہیں جائے گا اور نہ ہی متحدہ عمران خان کے ساتھ آئیگی ، یہ تو ایک وقتی رابطہ تھا جو بس یہیں تک تھا ، تقریبا دو ماہ قبل جناب الطاف حسین نے عمران خان سے رابطہ کرنا چاہا تھا مگر عمران خان نے معزرت کر لی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ پہلے الطاف حسین ، عافیہ صدیقی ، ریمنڈ ڈیوس اور ڈراؤن حملوں پر کوئی واضع موقف اختیار کریں جس پر متحدہ کے یوم تاسیس پر جناب الطاف حسین نے اپنی تقریر کے دوران ایک بہتر موقف پیش کیا ، مگر یہ سب ایسا نہیں کہ بیچ کے سب دیواریں ختم ہو جائینگی ، ابھی بہت تلخیاں ہیں اور پھر دونوں طرف کے کارکنان کبھی بھی نہین مانیں گے اور دونوں جماعتیں خود کو جمہوری جماعتیں کہتی ہیں سو کارکنان کی مرضی کے بغیر قائدین کچھ نہیں کرینگے ، کم از کم میں تحریک انصاف کے کارکنان کے حوالے سے تو یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں ، تحریک انصاف سندھ کے کارکنان اور نائب صوبائی صدر نے واضع طور پر اِس کی مخالفت کرتے ہوئے صاف طور پر عمران خان کو کہہ دیا ہے کہ ایسا کوئی بھی فیصلہ عمران خان اکیلے نہیں کر سکتا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پارٹی کے پلیٹ فارم پر ہوگا جسے عمران خان نے تسلیم کر لیا ہے اور اب اِس معاملے پر پارٹی قیادت مشاؤرت کر رہی ہے زیادہ اُمید یہی ہے کہ نظریاتی کارکنان اپنا موقف تسلیم کروانے میں کامیاب ہو جائینگے ۔
اللہ ہمیں سمجھ اور باہمی اتفاق سے نوازے آمین ، ثمہ آمین ۔
آصف احمد بھٹی
آصف احمد بھٹی صاحب نے یہ بات کہی کہ :
“اور دونوں جماعتیں خود کو جمہوری جماعتیں کہتی ہیں سو کارکنان کی مرضی کے بغیر قائدین کچھ نہیں کرینگے “
ایسے جملے قائدین کی کمزوری کی عکاسی کرتی ہیں !!!
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ مقبول رہنما تاریخ ساز ہوتےہیں ۔ انکے عمل اور قول پر انکے کارکنان کو پورا پورا اعتماد ہوتاہے ۔
قائد اعظم کی ایک شاندار مثال ہم سب کے سامنے ہے ۔
مزید مثالوں کے لیے دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
ایک مشہور شعر ( علامہ اقبال ) کا ہے :
نگہ بلند ، سخن دلنواز ،جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا جوابی تبصرہ ( جو میں نے آصف احمد بھٹی صاحب ) کے تبصرے کے متعلق لکھا تھا۔ شائد ابھی تک نظرثانی کا منتظر ہے ۔
اس میں ایسی تو کوئی بات نہیں تھی جس کی وجہ سے اسے حذف کردیا جائے ۔ مگر اس کی اشاعت سے پہلے میں آصف احمد بھٹی صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ قائد کو اپنے ارکان کی قیادت کرنا چاہیے نہ کہ ارکان اور اسکو ماننے والوں کو اس قائد کی رہنمائی اور قیادت کرنی چاہیے ۔
تاریخ کے اوراق میرے اس نظریے کی تائید کرتے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی صاحب نے یہ کہا کہ :
“ابھی بہت تلخیاں ہیں اور پھر دونوں طرف کے کارکنان کبھی بھی نہین مانیں گے اور دونوں جماعتیں خود کو جمہوری جماعتیں کہتی ہیں سو کارکنان کی مرضی کے بغیر قائدین کچھ نہیں کرینگے “
اس مفروضہ کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں جماعتوں کے لوگ اپنے قائد کی وہ بات جسے وہ “پاکستان کے مفاد“ کی خاطر کررہا ہو اس سے اختلاف کرسکینگے ؟
جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، متحدہ قومی مومنٹ کے ارکان ہر ہر بات میں اپنے قائد تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ الطاف بھائی نے یہ کہا اور قائدِ تحریک نے یہ کہا اور یہ بھی کہتے ہیں کہ قائد تحریک الطاف بھائی جو کہینگے وہی کرینگے ۔ ان ارکان نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم جو کرینگے اسے قائد تحریک کو ماننا ہوگا ۔
تاریخ شاہد ہے کہ تمام ممالک کے اقوام نے اپنے اپنے قائدین کی رہنمائی کو تسلیم کیا ، نہ کہ اقوام نے قائدین کی رہنمائی کی ۔
ہاں یہ بات ضرور ہے کہ ہر اچھا قائد اپنے عوام کے جذبات ،احساسات ، ضروریات اور انکے جائز حقوق کے حصول کے لیے جدو جہد کیا کرتا ہے اور ایک متعینہ مقصد کے حاصل کرنے میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ۔
میری پیشین گوئی ہے کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر تحریک انصاف اور متحدہ قومی مومنٹ ( اور شائد دوسری اس طرح کی ہم آہنگ اور ہم خیال جماعتیں ) متحد ہوجاینگے۔
آخر میں میں آصف احمد بھٹی صاحب سے ( اور ہر وہ فرد سے جو اس بلاگ کا قاری ہے ) اس سے اپنے اس سوال کا جواب چاہتا ہوں کہ :
کیا ایم کیو ایم جماعت ایک “عمل “ کا نتیجہ تھی یا ایک “ردِعمل “ کا نتیجہ تھی ؟
قاضی صاحب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے اس تبصرے میں کوئی ایسی بات نہیں تھی، صرف تکنیکی اعتبار سے کچھ تاخیر کا شکار ہوا۔ اب کچھ گرد بیٹھی ہے تو عرض کروں کہ:
اس بات سے مجھے صد فیصد اتفاق ہے کہ ڈسپلن کے حوالہ اسے ایم کیو ایم بہترین جماعت ہے اور اسکے وٹر وکارکنان اپنے قائد کے بات سے ایک قدم آگے نہیں بڑھتے، اور قوموں کی ترقی میں اس چیز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
ایم کیو ایم کو ہم نہ تو مہاجروں کی نمائیندہ جماعت سمجھتے ہیں اور نہ ہی اسکا دائرہ کار صرف کراچی تک محدود ہے۔ اب پنجاب کے دیہات حافظ آباد و چک جھمرہ جیسی جگہوں میں بھی اسکی شاخیں موجود ہیں۔ اس لئے جب ہم کبھی اس جماعت پر اعتراض کرتے ہیں تو اسکو لسانی پہلو سے مت لیا کریں۔ جب کوئی اس مسئلے کو لسانی بنیادوں پر اچھالنا چاہا گا، اسکو ہم زہر افشانی ہی کہیں گے۔ آپ نے چونکہ بھیااور اسطرح کے دیگر پہلو بے محل اجاگر کرنے کی کوشش کی، اس لئے یہ امر ہمارے لئے باعث رنج ہے۔ کیونکہ ہم لسان کی بنیاد پر نہیں، بلکہ جماعت کے منشور اور کردار و عمل کی بنیاد پر بات کر رہے ہیں۔ تاہم بایں ہمہ میرے الفاظ سے آپ کو دکھ ہوا، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔
ایم کیو ایم کو پنجاب بھر سے پذیرائی مل رہی ہے۔ گو کہ ابھی یہ اس سطح پر نہیں جہاں مسلم لیگ و پی پی پی ہیں، لیکن تحریک انصاف سے کچھ زیادہ پیچھے بھی نہیں ہے۔ اس لئے بعید نہیں کہ کیچڑ اچھالنے کی روش ترک کر کے یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیں۔ لیکن ایم کیو ایم چونکہ بار بار فوج کو سیاست میں مداخلت کی دعوت دے رہی ہے، اس لئے پی پی پی کے سوا کسی اور کا اسکے ساتھ ہاتھ ملانا فی الحال مشکل ضرور ہے۔ پی پی پی بھی اپنی حکومتی اکثریت قائم رکھنے کے لئے ایم کیو ایم کو گلے سے بار بار لگاتی ہے، ورنہ دونوں کے بیچ جو خلوص موجود ہے، وہ سب ہی جانتے ہیں۔
سندھ خاص طور پر اندرون سندھ میں فوج کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے، جسکا بیج تو کہیں سن سنتالیس سے ہی رکھا گیا تھا لیکن اسکو پروان ضیاء دور میں چڑھایا گیا۔ یہ نفرت بھٹو کے قتل کے بعد اور بھی بڑھی، اور پھر بے نظیر کے قتل کے بعد اس میں شدت آ چکی ہے۔ حتیٰ کہ غوث علی شاہ کے عہد میں مسلم لیگ بھی اپنے مخالفین کو فوج سے دباتی رہی۔ سندھی قوم پرست راہنمافوج کے اس لئے بھی خلاف ہیں کیونکہ یہ پاکستان کی بقاء کی ضامن ہے اور ہر عہد میں اسکی ملک سے وفاداری شک و شبہات سے بالا تر رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف سندھی قوم پرست ایم کیو ایم کے بھی اتنے ہی دشمن ہیں جتنے کہ فوج کے۔ اس لئے ایم کیو ایم کو فوج کی آمد سے ہمیشہ ایک مفاد کی توقع رہتی ہے، اس لئے وہ فوج کو بار بار دعوت دیتی ہے۔ ورنہ اگر حقیقی انقلاب لانا ہو تو سب سے پہلے ایم کیو ایم نہ صرف حکومت کی پشت پناہی سے دستبردار ہو، بلکہ مقننہ سے بھی مستعفی ہو کر سڑکوں پر آئے اور ملگ گیر احتجاج کا اہتمام کرے۔ لیکن فی الحال وہ بھی اس جماعت کو مقصود نہیں ہے۔
انقلاب کے نعرے نواز شریف اور ایم کیو ایم دونوں ہی لگا رہے ہیں، تو انقلاب لانا کس نے ہے اور کس کے خلاف؟ در اصل یہ ہتھکنڈے ہیں اس انقلابی سوچ کو یرغمال کرنے کے جو عوام میں پیدا ہو رہی ہے اور جس کی ممکنہ قیادت عمران خان ہی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ایم کیو ایم کا تحریک انصاف کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرنا بھی اس بات کے سبب سے ہے کہ اگرکل کو کوئی ایسی انقلابی تحریک اٹھے تو وہبھی اس سے فیض یاب ہوں، اور عمران خان واحد قیادت بن کر سامنے نہ آ جائے۔ یہی خیال اس وقت دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی بے چین کر رہا ہے اور امریکی سفارتخانے کو بھی۔ امریکی سفیر کی عمران خان سے ملاقات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اس تبصرے کے اختتام پر میں آپ سے گزارش کروں گا کہ عمل یا رد عمل کے سبب قیام کو موضوع بحث نہ ہی بنائیں تو بہتر ہے، کیونکہ اس سے الگ جنگ چھڑ سکتی ہے۔ سبب قیام کچھ بھی ہو، منشور عمل کسی جماعت کا رد عمل پر منحصر نہیں ہونا چاہیئے۔
نا چیز
مصباح جیلانی۔
سید مصباح حسین جیلانی صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اعلیٰ ظرفی اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کرکے مجھ سے یہ فرمایا کہ :
“تاہم بایں ہمہ میرے الفاظ سے آپ کو دکھ ہوا، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔“
میں انکی اس بلند حوصلگی پر انہیں دل سے معاف کر تے ہوئے ان سے معافی چاہتا ہوں اگر انکا دل میری کسی بات سے دکھا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں چونکہ برسوں سے پاکستان سے باہر تلاش معاش کے سلسلے میں رہتا رہا ہوں اس لیے پاکستان کی اور خاص طور پر کراچی کی سیاست سے اتنا باخبر نہیں رہا جتنا کہ سید مصباح حسین جیلانی صاحب اور ڈاکٹر نگہت نسیم بہن صاحبہ اور جناب آصف احمد بھٹی صاحب رہے ۔
مجھے سخت افسو س ہےکہ آصف احمد بھٹی صاحب اور انکے رشتہ داروں کے ساتھ اور ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ کی تعلیم کےدوران ان کے ساتھ برا سلوک ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر جب سے کراچی میں میرے جوان بھتیجے کا قتل کسی شیطان کے ہاتھوں ہوا ( 15 نومبر 2008 کو ) تب سے مجھے بے حد غم ہے کہ وہ شہر جسے میں روشنی کا شہر کہا کرتا تھا اور جس میں میں نے اپنی جوانی دفن کردی اس میں میرے بھتیجے کے ساتھ جو کسی سیاسی پارٹی یا مذہبی پارٹی میں شریک نہیں تھا اور بس اپنی نوکری کرکے اپنی جوان بیوی اور تین چھوٹے چھوٹے بچوں کا پیٹ پال رہا تھا ، اسے کیوں قتل کردیا گیا اور اس قتل کی تحقیقات پولس نےکرکے قاتلوں کو کیوں نے نہیں پکڑا۔
اس لیے میرا دل روتا ہے اور میں اس سانحہ کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتا رہتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بلاگ میں محترم ظفر جعفری صاحب اور سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کے تبصروں نے میری معلومات میںبہت اضافہ کیا اور بہت سے راز افشاں کیے کہ کس طرح ہندوستان سے آئے ہوئے لوگوں کے ساتھ کراچی میں چند مقامی جماعتوں اور اداروں نے زیادتی کی اور انکے “عمل “ کے “رد عمل “ کی بنیاد پر کونسی جماعت ہتھیار اٹھاکر اپنا دفاع کرنے اور اپنے جائز حقوق کے حصول کی جد وجہد پر مجبور ہوگئی ۔
( یہ سب باتیں میرے کراچی سے باہر چلے جانےکے بعد ہوئیں اس لیے میں 15 ہزار انسانوں کے قتل اور نواز شریف ، نصیراللہ بابر اور بریگیڈیر امتیاز کے کارنامے اور پھر محترمہ بے نظیر صاحبہ کے زمانےمیں جو کچھ بھی واقعات کراچی میں ہوئے اور پھر کراچی میں جو ٹارگیٹڈ کلینگ اور دہشت گردی کی وارداتیں ہوئیں ، پھر “حقیقی “ کا ظہور ، ان سب واقعات کے متعلق میرے رشتہ داروں اور دوستوں نے طرح طرح کی خبریں مجھ تک پہنچائیں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید مصباح حسین جیلانی صاحب نے صحیح کہا ہے کہ ان پرانی باتوں کو نہ چھیڑوں مگر بقول غالب :
ہرچند ہو مشاہد ء حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب رہا میرا بار بار “بھیا“ کا لفظ یا “ پناہ گزیں “ کا لفظ اپنے تبصروں میں استعمال کرنے کا سوال تو وہ میں صرف شاہی سید صاحب کے الفاظ کو دہرا رہا تھا جو انہوں نے اپنی جماعت کے کارکنوں کے جلسے میں استعمال کیے تھے ( ثبوت کے لیے یو ٹیوب کے پروگرام موجود ہیں جنھیںمیں کسی ایک بلاگ میں چسپاں کرچکا ہوں) ۔
بہر کیف:
میں اس بلاگ میں مزید حصہ نہیں لے سکونگا اس لیے کہ میرے پاس اس موضوع پر مزید کچھ کہنے کےلیے کوئی تازہ مواد موجود نہیں ہے۔
اگر آصف احمد بھٹی صاحب اپنے “تلخ اور دکھ بھرے تجربات “ جو انہوں نے اپنی ایم کیو ایم کی دوستی کے دور میں سہے ہیں ان سے متعلق اس بلاگ میں کچھ لکھینگے تو انکو پڑھکر اپنےعلم میں اضافہ کرونگا۔
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
میرے عزیز بیٹے اسّلام علیکم ،
اللہ ر حیم و کریم سے دعاگو ہو ن کہ وہ مالک دو جہا ں تم کو دین ودنیا کی بہترین نعمتو ں کے خزانے عطا کرے ،آ مین ،میرے بچّے ایک خاص بات کی طرف توجہ چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ جس طرح ہمارے پیا رے نبی حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم رحمتہ اللعا لمین ہیں اسی طر ح مو لائے کائنات حضرت علی علیہ السّلام تمام کائنات کے مو لا ہیں ،اور میں اور تم اسی کائنات کا حصّہ ہیں
اپنے بڑوں کی عزّ ت کرنے والے میرے بچّے اللہ تعالٰی اپنی عزّت کے صدقے تم کو بے مثال عزّت عطا کرے آمین
میرے بیٹے میں بار ،بار یہی کہ رہی ہو ں کہ ساراجی قو تو ں کو پاکستان کا وجود ہی گوارہ نہیں ہوا تھا ، یہ تو وقتی مجبوری تھی کہ اس کڑوی گولی کو نگلنے پر مجبور ہوئے ،اور اللہ تعا لٰی کی مہربانی کہ یہ اب تک الحمد للہ قائم ہے اللہ اس کو تا قیامت قائم و دائم رکھّے آمین
یہ موضوع بے حد حسّاس تو ہے ہی لیکن بہت اہم بھی ہے کہ ہم اسی طر ح افہام و تفہیم کا ر ا ستہ اختیار کرکے اپنی نسلوں کو دشمنوں کے چنگل سے بچانے کی راہ ڈھونڈ سکتے ہیں ،بلا شبہ ہمارے اتحّا د کے طفیل اللہ ہم پر اپنی اپنی حفاظت کا حصا ر کھینچ کر ہم کو محفوظ رکھّے گا
میں اسی فورم سے محترم شاہی سیّد کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ وہ بھی اپنے کارکنوں کو اشتعال سے دور رکھنے کی کوشش کریں کہ خوں ریزی میں صرف نقصان ہی نقصان ہے ،مجھے اور ہر اہل وطن کو اچھّی طرح معلوم ہے کہ ہمارے پشتون بھائ ،بیٹو ں سب نے مل کر کراچی کو روشنیوں کا شہر اپنا خون اور گاڑھا پسینہ دے کر بنایا ان کی خدمات کی نفی کرنے والے احسان فراموش کہلائے جایں گے اور اللہ کو احسان فراموشی سخت ناپسند ہے ،میں پ سے اور ہر سیاسی قائد سے التجاء کرتے ہوئے کہ رہی ہوں کہ اپنے کارکنوں کو خوں ریزی کی تعلیم دینے کے بجائے ،دوسروں پر برتری جتانے کے بجائے علم کی شاہراہوں پر گامزن کیجئے ،خدا وند عالم اس نیکی کی جزاء آپ کو دنیا اور عقبٰی دونوں جگہ دے گا ،انشاللہ
میں نے یہ ویڈیو پہلے ہی دیکھ لی تھی اور میں دہرے صد مے سے دو چار ہوئ تھی کیونکہ ویڈیو میں پہلے جو کلپ چل رہاتھا اس میں لشکر یزید کے نوجوان لڑکے عرف عام مین دہشت گرد دکانوں کو اطمینان سے آگ لگا کر واپس جارہے تھے اور میرا دل لگتا تھا کہ جیسے بند ہی ہوجائے گا میں ان نوجوانوں کو ایک ماں کی نظر اور حیرت بھرے صدمے سے کلپ دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی یہ پاکستان کا سرمایہ بچّے ان کی اٹھتی جوانیاں ا ن کے خواب کیا اس طرح سے بربادی کی نزر کیئے جانے ہیں ،
یہ پاکستان کے بچّے ہیں خدارا ان کو اس طرح برباد مت کرو ان کے سچّے اور میٹھے خوابو ں کی تعبیر ان کو تعلیم سے اور روزگار سے سنوار کر دے دو ،پھر دوسرا صدمہ اس ہستی کو دیکھ کر ہوا جس کا تعلّق اس قوم سے تھا جس کی تہزیب پر پاکستان کے اپنے لوگ
ناز کرتے تھے ،پھر میرے دل نے کہا کہ حد سے بڑھ کر جبر انسان کو تہزیب سے بیگانہ کر دیتا ہے ،،
بہر حال میرے بچّے یہ فورم ایک بہترین تہز یب کا نمائندہ فورم ثابت ہو ا،ہم سب نے ایک دوسرے کا موقف سنااور اس بات کی بے حد خوشی ہوئ کہ سب ساتھیوں نے دل صاف کر لئے اب میری آپ سب سے گزارش ہے کہ ،میری وہ تمام باتیں جن کےجواب میرے حد ادب کی خاطرنہیں دئے جا سکے ان پر معزرت چاہتی ہوں ،در اصل یہ موضو ع بہت وسیع ہے اور بات پوری طرح سمجھائے بغیر وقت پورا ہو جاتا ہے
پرور دگار عالم آ پ سب کا حامئ و ناصر ہو
ہاکستان پائندہ باد
السلام علیکم
محترم جناب منظور قاضی صاحب ، میری عمر اتنی زیادہ نہیں ہے اِس لیے میرا تجربہ بھی بہت ہی کم ہے مگر میں دوسروں کے سنے سنائے پر اکثر یقین نہیں کرتا ، سب جانتے ہیں کہ مسلم لیگ رد عمل کا نتیجہ تھی ، پیپلز پارٹی بھی ردعمل کا نتیجہ تھی مگر ایم کیو ایم محض پیپلز پارٹی کی ساکھ کو کمزور کرنے کے لیے ضیاء الحق کے فوجی گملے میں پیدا ہوئی البتہ یہ ضورو کہونگا کہ اِس جماعت کے کارکنان نے بہترین اور مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ، اور جناب الطاف حسین نے ہمیشہ تمام کرکنان کو منظم رکھا ، جیسا کہ اپنے کسی پچھلے تبصرے میں بھی کہہ چکا ہوں کہ کراچی کی قومیتوں نے ایک دوسرے کو ( پہچان کی نیت سے ) مختلف نام دئیے ہیں اب اگر کچھ لوگ اِن ناموں کا غلط مطلب نکالتے ہیں یا اِنہیں بطور طعنہ دوسرے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ سب لوگ ایسے ہیں شاہی سید اور اُن جیسے لوگ یقینا قابل مذمت ہیں اور آپ یہ بھی دیکھ لیجئے کہ پورے کراچی میں اُن کے پاس محض دو ہی سیٹیں ہیں جو اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اُنہین ماننے والے نہایت ہی کم تعداد میں ہیں ایسے میں اُن کی مثال دینا باقی لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے ۔
ہم سب یقینا آپ کے ( بھتیجے کے قتل کے حوالے سے ) آپ کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیں ، آپ یہ بھی تو دیکھئے کہ ہر روز ہی دسیوں لوگ قتل ہو رہے ہیں اور وہ سب بھی کسی جماعت کا حصہ نہیں ہیں ، محض کراچی کا شہری ہونا ہی جرم ٹھہرا ہے ، پشتون اور ہزارے وال جو خیبر پختون خواہ سے مزدوری کے لیے کراچی آئے ہیں اور جن بچارے کے بیوی بچے بھی اُن کے پاس نہیں اُن کی بھی سینکڑوں لاشیں خیبر پختون خواہ جا چکی ہیں اور ہر لاش کے ساتھ ایک داستان بھی پہنچتی ہیں ، پھر کیسے کوئی متحدہ پر شک نہ کرے کہ پورے شہر پر اُن کا ہی کنٹرول ہے ، لہو ہر انسان کا ایک جیسا ہی قیمتی ہے ، اور ہر بے گناہ قتل کی مذمت ہونی چاہیے ، ہر قاتل کی مذمت ہونی چاہیے ، زبان و نسل سے بلا امتیاز ، میری تلخ تجربوں کے بارے میں آپ کئی بار استسفار کر چکے ہیں مگر میں معزرت خواہ ہوں کہ اگر میں نے اپنے تجربے یہاں تحریر کر دیئے تو اکثر لوگ اُنہیں محض داستان ہی سمجھیں گے اور کچھ لوگوں کا شاید برا بھی لگے ، سو کچھ بہت اہم دوستوں کا ادب و احترام مجھے مانع ہے اور مجھے یقین ہے کہ اب آپ اِس بات کو دوبارہ نہیں اُٹھائینگے ، کہ ہمارا منصف اللہ ہے اور ہم اُسی پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ۔
آصف احمد بھٹی
اسّلا علیکم منظور بھیّا ،
مجھے آپ کے اوپر گزر جانے والے دلی صد مے کا پورا احساس ہے ،کسی بھی انسان کو بے وقت اللہ ناکرے اگر طبعی موت آئے تو بھی صبر آجاتا ہے کہ اللہ کی امانت تھی سو لے لی لیکن ایک ایسی موت جس میں انسان کسی کا قصور وار بھی نا ہو پھر بھی اسے مار دیا جائے تو دل کیا کہ سکتا ہے یہ میں جان سکتی ہوں ،میری عزیزہ کا وہ بیٹا جس کی منگنی ہوئے چند ہفتے ہی ہوئے تھے کہ بلا کسی قصور اس کے اپنے دروازے پر مار ڈالا گیا
کیا کہیں کس سے کہیں اس شہر نا پرساں کاحال کہ جس کی حفاظت کے لئے وفاق کی مسلّط کردہ رینجرز کی بٹالین بھی موجود رہتی ہے رینجرز کو جیسے ہی کہا جاتا ہے کہ یہ سندھ کے بجٹ پر بوجھ ہے ویسے ہی شہر مین ایک ہولناک واردات عمل میں آ جاتی ہے اور پھر احکامات آ جاتے ہیں کہ شہر کے امن وامان کی بہتری کے لئے رینجرز ضروری ہیں
دوسری طرف وفاق کی پولس مستعد ر ہ کر چوروں کی ڈکیتوں کی پشت پناہ بنتی ہے اور رات کو شادیو ں سے واپس آنے والے شہریوں سے ان کے مال و اسباب لوٹ لیتی ہے ،چوری کی یا ڈکیتی کی واردات سے چند قدم کے فاصلے پر ہی پولس مو بائل موجود ہوتی ہے اور واردات کے بعد غائب ہو جاتی ہے
یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں ،،
ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق خاموش رہ کر اپنے مال و اسباب اور متاع جاں بھی لٹانے پر اس لئے مجبور ہیں کہ ریاست نے اپنی زمۃداری اپنی حفاظت پر معمور کر لی ہے ،اب اس لاوارث قو م کا اللہ ہی وارث ہے ،
اللہ تعالٰی آپ کے دل کو صبر و قرار عطا کرے اور آپ کے مرحوم بھتیجے کو اور وہ تمام مرحومین جو اس ابتلا کے دور میں مرگ نا گہاں میں مارے گئے ،ان تمام کو جنت الفردوس میں بلند مقام عطا کرے اور ان کے لواحقین کو صبر کے ہمراہ آبرو مندی سے جینے کے وسیلے عطا کرے آمین
یہ بھی صدر زردداری کا جادو ہے کہ ایک طرف ایم کیو ایم انکی اتحادی ہے اور دوسری طرف اے این پی بھی۔ ذوالفقار مرزا جیسےقوم پرست افراد پی پی پی میں شامل ہیں اور آئے دن ایم کیو ایم کے ساتھ تصادم کی صورت حال بھی جان بوجھ کر پیدا کرتے ہیں پھر اک خاص تماشہ دنیا کے منظر نامے پر دہرایا جاتا ہے۔گلی گلی کشت و خون کا بازار گرمایا جاتا ہے، جبکہ لیڈر تینوں جماعتوں کے مل کر کھا رہے ہیں اور عوام کو خون میں نہلا رہے ہیں۔
میری پیاری بیٹی باد نسیم ،
کاش وقت بھی پیسے سے خریدا جاسکتا ،تو میں اپنی ہر بچت وقت کو خریدنے میں لگادیا کرتی ،یا پھر اللہ میاں دن کو 24 گھنٹے کا اور رات کو 12 گھنٹے کا کر دیتے ،مگر ؟؟؟ وہی رات وہی دن ،،اور نا دن کو فرصت نا رات کو جی بھر کر آرام ،خیر اس مین بھی اس کی کوئ مصلحت ہو گی
تو تم نے ایک بات جو کی شبیہ کی یقین کرو بیٹی میں سوچتی رہی کہ انسان زہنی انحطاط کا شکار جب ہو جاتا ہے تو کہاں تک چلا جاتا ہے ،بھئ سیاست چل رہی تو چلاؤ کس نے منع کیا ہے لیکن یہ کس خدا نے کہا کہ سیاست کے ساتھ سجّادہ نشینی بھی ضروری ہے اور چلو مان لیا کہ پیر بن گئے ،،سوچ لیا شائد اللہ میاں کو کوئ ادا پسند آگئ ہو گی لیکن یہ شبیہیں بننے کی بات تو قطعی ناقابل قبول ہی ٹھری ،،
پھر کسی بلاگ پر تو تو میں میں کے لئے ملتے ہیں
اس دعا ءکے ہمراہ
اللہ تعالٰی اس زہنی مالیخولیائ انحطاط سے محفوظ و مامون رکھّے آمین
دعاگو زائرہ بجّو
میں محترمہ سیدہ زائری عابدی صاحبہ کی تمام باتوں میں جو خلوص اور محبت اور ساتھ ہی ساتھ حق گوئی وبے باکی کو دل سے پسند کرتا ہوں ۔
اللہ کا شکر ہے کہ وہ ہم سب کی محفل میں موجود ہیں اوراپنے پرخلوص خیالات اور اپنی محبت بھری دعاوں سے ہم سب کو نوازتی ہیں۔
انکا اور ان تمام مبصروں کا دل سے شکریہ جنھوں نے میرے بھتیجے کی شہادت پر غم اور افسوس کا اظہا ر کیا : جزا ک اللہ
مجھے سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ اس لیے بھی پسند ہیں کہ وہ مجھے اپنا سمجھ کر “منظور بھیّا “ کہ کر مخاطب کرتی ہیں ۔ اس لیے میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں ۔
یہاں پر میں شاہی سید صاحب کے “بھیا “ اور محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کے “بھیّا “ کے خطابات کا فرق محسوس کرتا ہوں ۔ شاہی سید صاحب “بھیا “ کا لفظ تذلیل کےلیے استعمال کرتے ہیں اور سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ توقیر بڑھانےکے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ( یہ ہی اردو زبان کا کمال ہے)
کسی نے کہا ہےکہ :
بدلنا ہے تو مت الفاظ ڈھونڈو
ہمارے واسطے لہجہ بہت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال : اب میں آصف احمد بھٹی صاحب کے ارشادات پر صرف اتنا کہنا چاہتا ہوںکہ وہ اپنی تحریری صلاحیت کا مظاہرہ کرکے کھل کر اپنے ان “ تلخ اور دکھ بھرے تجربات “ کا تذکرہ کریں جنھیں انہوں نے اپنی ایم کیو ایم سے وابستگی کے زمانےمیں سہے ہیں ۔ اس لیے کہ انکے مبہم اشاروں اور کنایوں سے انکے اوپر جو وارداتیں گذری ہیں انکا صحیح طور پر اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔
وہ ایک حساس دل رکھتے ہیں جو دنیا بھر کے مظالم اور ناانصافیوں پر غم و غصہ کا اظہار بھی کرتا ہے اور احتجاج بھی کرتا ہے احتجاج کرنے کےلیےدوسروں کو اکساتا بھی ہے ، ان کا یہ کہنا کچھ عجیب معلوم ہوتا ہے کہ :
“میری تلخ تجربوں کے بارے میں آپ کئی بار استسفار کر چکے ہیں مگر میں معزرت خواہ ہوں کہ اگر میں نے اپنے تجربے یہاں تحریر کر دیئے تو اکثر لوگ اُنہیں محض داستان ہی سمجھیں گے اور کچھ لوگوں کا شاید برا بھی لگے ، سو کچھ بہت اہم دوستوں کا ادب و احترام مجھے مانع ہے اور مجھے یقین ہے کہ اب آپ اِس بات کو دوبارہ نہیں اُٹھائینگے ، کہ ہمارا منصف اللہ ہے اور ہم اُسی پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں ۔“
علامہ اقبال کا یہ شعر دہرانا پڑتاہے کہ : :
آئین جوانمرداں حق گوئی وبے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی حالات لائق شکر ہیں :
فقط
سب کی خیریت کا طالب
منظور قاضی
جرمنی سے ۔
اس بلاگ کےایک تبصرےمیں جناب آصف احمد بھٹی صاحب نے سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ سے مخاطب ہوکر یہ فرمایا کہ:
“ہم سب کے آقا و مولا اور آپ کے جد امجد جناب سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ ( میرے ماں باپ آپ رضی اللہ تعالی عنہ پہ قربان ) کا ایک قول ہے ، آپ رضی اللہ تعالی نے فرمایا “
میں آصف احمد بھٹی صاحب کی عقیدت مندی کی انتہا کو محسوس کرتے ہوئے انکو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ جب وہ یہ دعا لکھیں کہ :
“میرے ماں باپ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہ قربان “ تو اس میں اپنے آپ کو بھی شامل کرکے کہیں کہ :
“میں اور میرے ماں باپ آپ علیہ السلام پہ قربان “
اور دوسرا مشورہ ہے کہ وہ اپنے “ماں باپ“ کی مرضی معلوم کرلیں کہ وہ ایسی “ قربانی “ کے لیےتیار ہیں بھی یا نہیں !!۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر یہ مشورے انہیں پسند نہیں ہیں تو انہیں خوشی سےنظر انداز کردیں :
فقط:
خیر اندیش
منظور قاضی
جرمنی سے
اسّلام علیکم ،میرے معزّز ہم نشینوں ،آپ سب کی صحت وسلامتی کے لئے اپنے رب ا علا سے دعاگو ہوں
مصباح بھائ ، آ پ سے معزرت خوا ہ بھی ہوں کہ وقت کی کمی کے باعث آ پ کے لنک کے بارے میں بھی کوئ جواب نہیں دے سکی کیونکہ ویڈیو دیکھ ہی نہیں سکی تھی، یہ تحریر لکھنے سے پہلے ہی تفصیل سے ویڈیو دیکھ سکی ہوں ،،آ ج کل نیو یارک سے میری بہو کی والدہ اور بہن آئ ہوئ ہیں تو ماشاللہ گھر میں خو ب گہما گہمی ہے اور آنا جانا بھی لگا ہوا ہے ،خیر ماشاللہ یہ تو زندگی کے جھمیلے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور انہی کے دم سے زندگی کی رونق بھی قائم رہتی ہے
یقین جانئے کہ میں اس ویڈیو کو دیکھ کر بہت متاثّر ہوئ ہوں کیونکہ ان شہروں میں جہاں ہر سہولت آسانی سے دستیاب ہو وہاں کام کرنا کہیں آسان ہے بہ نسبت دشوار گزار علاقوں میں اللہ کی مجبور مخلوق کی اس طرح بے لوث خدمت کرنا ،ان نیک کاموں کا بہترین صلہ تو آ پ کو ا س بارگاہ سے ملے گا انشاللہ جس کا مالک کہتا ہے ہم ایک مثقال برابر بھی نیکی کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے ،،نا کہ اتنے بڑے کام کا وہ کتنا بڑا اجر عطا کرے گا ،
آپ دعا کیجئے کہ پروردگار عالم مجھ کو بھی توفیق دے کہ میں بھی ضرور بالضرور آ پ کے ہمراہ دامے درمے سخنے قدمے اس کار خیر میں شامل ہو سکوں ،اس کا فرمان ہے ہم انسان کو ویسا بنا دیتے ہیں جیسا وہ بننا چاہتا ہے
پروردگارعالم ہمارے وطن کو آپ جیسے کار خیر انجام دینے والے نیک ہم وطن عطا کرے آمین ،
مجھے معلوم ہوا کہ آ صف میاں بھی فلاحی کام کرتے ہیں ،ڈاکٹر نسیم نے بتایا تھا ،یہ بہت ہی ا چھّا معاشرتی رجحان ہے
میں بھی کراچی میں ایک چھوٹا سا ادارہ بنا کر آئ ہوں ‘‘ یتٰمٰی فنڈ برائے تعلیم ‘‘ابھی یہ غیر رجسٹرڈ ہونے کے باوجود بہت ہی اچھّی طرح کام کر رہا ہے ،،اور حیرت کی بات ہے کہ اس کا قیام تو صرف تعلیم کے لئے تھا لیکن اس کے زریعے دیگر فلاحی کام بھی انجام پانے لگے ،مثلاً یتیم بچّیوں کی شادیان وغیرہ
پروردگار عالم آ پ کے ان نیک اعمال کو قبول کرے اور دین و دنیا کی نعمتوں سے آپ کو اور آپ کی اولاد کو بہرہ مند کرے ،
اجازت چاہوں گی
فی امان اللہ
زائرہ بجّو
اسّلام علیکم ،منظور بھیّا ،سلامت بخیر ،
آصف میاں کے نام آج یکے بعدیگرے دو بلاگ لکھے جو کمپیو ٹر کی نالائقی کے سبب ضائع ہو گئے ،خدا کرے یہ تحریر سلامت رہے ،
آمین،،،یہ آصف میاں کے خوش نصیب اور نیکو کار والدین کی ہی تربیت ہے جو ان کی اس عقیدت مندانہ تحریر کی عکّاس ہے ،
مالک کل جہا ں آصف میاں کے ساتھ ان کے والدین کو بھی ان عقیدت بھرے الفاظ کی جزائے عظیم عطا کرے آمین
دعاگو
بجّو
السلام علیکم
محترم جناب منظور قاضی صاحب ، میری مجبوری ہے کہ میں مستقل ایک جگہ نہیں رہ سکتا اور کام کے سلسلے میں ہمیشہ اِدھر اُدھر جانا پڑتا ہے اِس لیے میں اکثر غیر حاضر ہو جاتا ہوں اور بہت سے اہم بلاگز پر شدید خواہش کے باوجود اپنے تبصرے نہیں لکھ سکتا ، سو آپ کے متعدد تبصروں کے اہم نکات کا جواب میں اِس بار دینے کی کوشش کرونگا ۔
جیسا کہ مین نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہم سب آپ کے معصوم اور بے گناہ بھتیجے کے قتل پر آپ کے دُکھ میں برابر شریک ہیں ، اور اِس قتل کی پر زور مذمت کرتے ہیں ، میں ہر بار یہ کہتا ہوں کہ ہم لوگ انسانی لہو کی قدر و قیمت سے نا اشنا ہو چکے ہیں ، ہمارے لیے کسی کا بھی لہو بہا دینا ایک معمولی سے بات بن گئی ہے ، جبکہ آقائے دو جہاں ( میرے ماں باپ آپ پر قربان ) صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بھی بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے ، اور ہم خود کو آقائے دو جہاں ( میرے ماں باپ آپ پر قربان ) صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی بھی کہتے ہیں ، ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب آگ ہمارے گھر مین لگتی ہے تب ہی ہم اُس کی تپش محسوس کرتے ہیں ورنہ ہمارے پڑوسی ہمارے بھائی جلتے رہے ہمین پروا بھی نہیں ہوتی ، میں اِس فورم پر اور ہر فورم پر ہر بار کہتا ہرا ہوں کہ ہمیں اپنے اندر کے دشمن جو کہ ہم میں سے ہی ہے اور ہمارے جیسا ہی ہے پہچاننا ہوگا ، ہمارا دشمن ہمیں اندر ہی اندر سے بانٹ رہا ہے ہمیں پہلے ہم ایک اُمت تھے ہمارے دشمن نے ہمیں مختلف قومیں بنا دیا اور اب ایک قوم سے چھوٹے چھوٹے گھروہون میں بدل رہا ہے اِسی کراچی شہر میں روز ہی دسیوں لوگ قتل ہو رہے ہیں ، مگر ہر جماعت صرف اپنے اپنے ہی کارکنوں کی بات کرتی ہے ، یہی دکھ کی بات ہے کہ ہم اپنے قاتلوں کے خلاف بھی اگھٹے نہیں ہو سکتے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ قتل ہونے والا ہماری قوم کا حصہ تھا ہم اُس کے قتل کے بعد اُسے اپنی جماعت کا ہمدرد یا کارکن ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں حالانکہ زیادہ تعداد آپ کے بھتیجے کی طرح غیر جانب دار ہوتے ہیں مگر ہماری لسانی جماعتیں اُنہیں لسانی بنیادوں اپنا ہمدرد یا کارکن ثابت کر رہی ہوتی ہیں ، افسوس ہوتا ہے اپنے لوگوں پر جو سانحہ نشتر پارک ، سانحہ محرم اور چہلم جیسے بڑے واقعات کے بعد بھی اِن سیاسی بونوں سے یہ پوچھنے کی ہمت نہین کر تی کہ جب تم لوگ حکومت میں حصہ دار ہو تو ہماری حفاظت کی ذمہ داری میں حصہ دار کیوں نہیں بنتے ، ہماری موت میں تو شریک ہونے پہنچ جاتے ہوں ہماری زندگی میں ہمیں کیوں بھولے رہتے ہوں ، کراچی کی تینوں اتحادی جماعتیں ہر کچھ عرصے بعد ایک دوسرے پر اپنے کارکنوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری ڈالتی ہیں مگر کچھ ہی دن بعد سب سیر و شکر ہو جاتے ہیں ، حیرت ہے کہ ہم لوگ اُن سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ تم لوگ پہلے جھوٹ بول رہے تھے یا اب منافقت کر رہے ہو؟ کل جیسے دہشت گردوں کا ساتھی اور بتھہ خوروں کا سر پرست کہہ رہے تھے آج اُسے اپنے مرکز میں خوش آمدید کیسے کہہ رہے ہو؟ کل جسے ٹارگٹ کلنگ کا مورد ٹھہرا رہے تھے آج اُس کے گن کیے گا رہے ہوں ؟ کیا یہ اتحادی جماعتیں ( اگر وہ اِس قتل عام میں شریک نہ بھی ہوتو بھی ) کراچی کے عام شہری کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہیں ؟ متعدد بار ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات کے بعد بھی ایک ساتھ ( اپنے ذاتی مفادات کے لیے ) شیر و شکر ہوجانا قبول بھی کر لیا جائے تب بھی کیا یہ اِس غفلت میں ایک دوسرے کی شرک نہیں تسلیم کی جائینگی ؟
اہل سیاست نے انسانی لہو کو کتنا ازراں کر دیا ہے ! ! ! ! اور دُکھ تو اِس بات کا ہے کہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی ہم لوگ محض لسانی تعصب کے سبب اپنے اپنے سیاسی بونوں کو اپنا قبلہ بنائے بیٹھے ہیں ۔
اگر شاہی سید ( کہ جسے تین سال پہلے تک کوئی جانتا تک نہیں تھا ) آج اپنے لسانی پارٹی کے خطابات میں میرے اردو بولنے والے بھائی بہنوں کی توہین کرتا ہے ( جو کہ ایک انتہائی گھٹیا اور قبیح فعل ہے اور جس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے ) تو اُسے سب پشتونوں کا نمائندہ نہیں سمجھا جا سکتا ، پورے کراچی میں لاکھوں پشتونون کی آبادی ہے مگر شاہی سید کی جماعت صرف دو سیٹیں لیکر اسمبلی مین پہنچی ہے اور وہ دونوں سیٹیں بھی جماعت کا ووٹ بینک نہیں تھی بلکہ دونوں اُمیدوار اپنی ذاتی حیثیت میں عوام میں کچھ اہمیت رکھتے تھے جس کے سبب اُنہیں ووٹ ملے خود شاہی سید پشتون اکثریت والے حلقے سے ناکام ہوا تھا ، کراچی کے پشتون شاہی سید کی پشت پر نہیں ہے اور یقین کیجئے گا کہ اگلے انتخابات چاہے وہ کل ہی ہو جائیں ’’ اے این پی ‘‘ اتنی سیتیں بھی نہین لے پائیگی کہ جتنی وہ اب لیکر آئے تھے ، بلکہ خود پختون خواہ میں یہ جماعت ختم ہو چکی ہے ، کراچی کی تو بات ہی مت کریں ، یہ جو جنھڈے اور سیکٹر دفاتر نظر آتے ہیں یہ سب زبردستی اور غنڈہ گردی کے زریعے پھیلائے اور لگائے گئے ہیں ، اور ایک شاہی سید ہی کیوں میں نے متحدہ کے کئی بڑے رہنماوں کو بھی ایسی ہی لسانی تفریق پھیلاتے دیکھا اور سنا ہے ، لہذا اِن بونوں کو اِن کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے البتہ اپنے قاتلوں کے خلاف ہمیں متحد ہونا پڑے گا ۔
آپ نے متعدد بار اصرار کیا کہ میں متحدہ سے وابستگی کے دوران اپنے تلخ تجربات کو فورم پر سب کے سامنے رکھوں ، میں نے آپ سے دست بدستہ درخواست بھی کی تھی کہ اِس بات کو رہنے دین مگر آپ نے ایک بار پھر اصرار کیا ہے تو عرض کر دیتا ہوں مگر تمام احباب سے کہ جو متحدہ سے ہمدردی رکھتے ہیں پیشگی معذرت کہ ممکن ہے میری باتیں اُنہیں پسند نہ آئیں ، میرا متحدہ سے لاکھ اختلاف مگر بہر حال وہ لاکھوں لوگوں کی نمائندہ جماعت ہے اور ایک سیاسی وذن رکھتی ہے ۔
میری پیدائش اور رہائش اورنگی ٹاؤن سیکٹر 10 کی ہے جہاں ہمیشہ سے ہی متحدہ ایک اکثریتی جماعت رہی ہے ، اسکول کے زمانے میں میرے سارے دوست اور اُنکے گھر والے اِسی جماعت وابسطہ تھے اور اُن کے دیکھا دیکھی میں بھی متحدہ سے وابسطہ لوگوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے لگا ، میرا ایک دوست اور کلاس فیلو سیف الرحمن بھی تھا جو کہ میری ہی طرح ایبٹ آباد سے تعلق رکھتا تھا میری طرح وہ بھی متحدہ سے کسی حد تک وابستہ ہو گیا ، سیف الرحمن نہایت ہی خوبصورت اور وجہہ نوجوان تھا اور پانچ وقت کا نمازی تھا 1994 کا واقعہ ہے ہمیشہ کی طرح متحدہ والے اُس عید پر بھی کھالوں کے لیے پرچی دے گئے تھے سیف الرحمن کے والد صاحب نے کھال ایک مدرسے کو دے دی جس پر سیکٹر کے لڑکوں نے اُس کے والد سے تلخ کلامی کی ، سیف الرحمن نے سیکٹر انچارج سے شکایت کی مگر کوئ ایکشن نہ لیا گیا بلکہ وہ لڑکے مزید کچھ لڑکے لے آئے اور اُنہوں نے مجھ پر ، سیف الرحمن پر اور ایک بیچ بچاوں کروانے والے لڑکے انور علی پر بری طرح تشدد کیا ، کچھ عرصے بعد سیف الرحمن تحریک انصاف میں شامل ہو گیا اور اپنے گھر کے باہر تحریک انصاف کا جھنڈا لگا دیا ، متحدہ کے لڑکوں سے ایک بار پھر اُس کا جھگڑا ہوا اور دو دن بعد صبح فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے اُسے قتل کر دیا گیا ، آپ یقینا جانتے ہی ہونگے کہ ایسے قتل کے قاتل ہمیشہ نامعلوم ہی رہتے ہیں سو آج سولہ سترہ برسوں بعد بھی نامعلوم ہی ہیں اِسی لیے مین نے کہا تھا کہ ہمارا تکیہ اللہ کی ذات پر ہے اور وہی بہتر انصاف کرنے والا ہے ۔
سیف الرحمن کی وجہ سے میں بھی سیکٹر آفس کی نظر میں آچکا تھا ، ایک روز میں اور میرا ایک دوست رات کو دیر سے فلم دیکھ کر آرہے تھے کہ ہمیں رات کو پہرہ دینے والے لڑکوں نے روک لیا ( حقیقی کے ساتھ اختلاف کے سبب اُس وقت سے راتوں کو مسلح پہرہ دیا جاتا ہے ) وہ لڑکے مجھے پہچانتے تھے میں اُن کے ساتھ بہت بار متحدہ کے جلسوں میں جا چکا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ میں سیف الرحمن کا دوست ہوں ، یونٹ انچارج عمران بھی وہیں پر تھا اُس کی موجودگی میں اُن لڑکوں نے مجھے اور میرے دوست پر بری طرح تشدد کیا اور پھر نیم بے ہوشی کی حالت میں ہمیں ہمارے گھر کے باہر پھینک گئے ، میری عمر سترہ سال تھی اور لہو میں گرمی کچھ زیادہ ہی تھی سو میں نے یونٹ انچارج عمران سے بدلہ کا فیصلہ کیا اور کچھ دن بعد جب میں کچھ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو میرا یونٹ انچارج سے ایک بار پھر جھگڑا ہوا ، اِس بار ابتداء میں نے ہی کی تھی اتفاق سے عمران اور ایک دوسرا لڑکا مجھے اپنے محلے سے کچھ ہی دور مل گئے ، عمران دبلا پتلا سا ایک نوجوان تھا مین نے اُسے پکڑ لیا اور اپنے حساب سے حساب چکتا کیا دو دن بعد اسکول سے وآپسی آتے ہوئے مجھ پر گولی چلائی گی جو اتفاق سے شرٹ پھاڑتی ہوئی گزر گئی اور پسلیوں پر معمولی سی خراش لگی ، میری بہن بھی ساتھ تھی میں اُسے لیکر گلیوں سے بھاگتا ہوا گھر تک پہنچا ، میرے والد صاحب اُس وقت یہاں کویت میں جاب کر رہے تھے اور اللہ بخشے میرے نانا جان نے اُنہیں فون کر کے کہا کے جیسے بھی ممکن ہو بیٹے کو یہاں سے لے جاؤ اِس کی جان کو خطرہ ہے
اور یوں میری پڑھائی بھی رہ گئی ، میری بہن کی پڑھائی بھی رہ گئی اور کچھ عرصے بعد ہم لوگوں نے وہ علاقہ بھی چھوڑ دیا اور آجکل ہم لوگ ملیر میں رہتے ہیں ممکن ہے اِس سب میں میری اپنی بھی بیوقوفیاں شامل ہوں ۔
میرے عزیز تیس سالوں سے قائد آباد میں ایک ہوٹل چلاتے تھے اُن کے بیٹے اور پوتوں وہیں پیدا ہوئے اور وہیں جوان ہوئے ، جناب حیدر رضا کے قتل کے بعد جس طرح کراچی میں پشتونوں اور ہزارے والوں کا قتل ہوا اور اُن کی املاک جلائ گئی وہ اپنی مثال آپ ہی ہے ، میرے عزیز کے ساتھ بھی یہی ہوا نا صرف اُن کا ہوٹل جلایا گیا بلکہ اُنہیں قتل بھی کر دیا گیا اور اُن کے بیٹوں کی کان کاٹے گئے ، اور یہ سب کرنے والے ( جنہیں وہ جانتے بھی ہیں ) اب تک نا معلوم ہیں اور وہ لوگ اب کراچی چھوڑ گئے ہیں ۔
ایسی کچھ اور باتیب بھی ہیں جو میں نہیں کرنا چاہتا تھا مگر آپ کے باربار اصرار پر لکھیں ہیں کہ ہمارے ملک میں یہ ’’ نامعلوم ‘‘ معلوم ہونے کے بعد بھی ہمیشہ نا معلوم ہی رہتے ہیں ۔
آخر میں ایک اور بات کہ آقا صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل پر میں گناہ گار تو کیا صدیوں سے ہزاروں لاکھوں لوگ خود کو قربان کرتے آئے ہیں ، میں تو آپ صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل کا غلام ہوں اور میرے ماں باپ بھی آپ صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل کے غلام ہیں اور آپ یقینا جانتے ہونگے غلاموں کی مرضی نہیں ہوتی اور میں تو اپنے ماں باپ کا ہی حصہ ہوں اُن سے الگ میں کچھ بھی نہیں میری کوئی پہچان نہیں سو جب اُنہیں گن لیا گیا تو میں تو خود بخود گنا گیا ۔
آصف احمد بھٹی
السلام علیکم
محترمہ سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ ، مجھ غلام پر آپ کی شفقتوں کا بہت بوجھ ہو چکا ہے ، اور اللہ ہی آپ کو اِس کا اجر دے سکتا ہے ، آپ نے فرمایا کہ آپ نے مجھے متعدد بار لکھا مگر کمپیوٹر کے سبب وہ محنت ضایع ہو گئی ، میرے لیے اِس سے بڑا افتخار اور کیا ہوگا کہ آپ نے ناصرف مجھے اپنی شفقتوں سے نوازہ بلکہ میرے حق میں دُعائیں بھی کی ، میں اِسے اپنے لیے توشیہ آخرت نہ سمجھوں تو اور کیا سمجھوں ، میری بھی مجبوری کے کے میں کام کے سلسلے میں کہیں ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتا سو میں بھی تسلسل سے کبھی فورم پر حاضر نہیں رہ سکتا ، اِس وقت بھی کہ جب مین یہ تحریر لکھ رہا ہوں مجھے ایک سائٹ پر جانے کا آڈر مل چکا ہے اب دیکھئے سُپر وائزر کب آتا ہے اور کب میرا نکلنا ہوتا ہے ۔
آپ کی شفقتوں کا ایک بار پھر بہت بہت شکریہ ۔ وقت کی کمی کے سبب میں آپ کے تبصروں کا خاطر خواہ جواب نہیں دے سکا ، اِس کے لیے مجھے معاف کیجئے گا ۔
آصف احمد بھٹی
اسّلام علیکم ، میرے عزیزو محترم ساتھیو
بیٹے آ صف میاں ،
میرے بچّے یہ سچّی کہانی جو تم نے اپنی لکھی ہے یہ آج کے کراچی کے ہر اس نو جوان کی کہانی ہے جو آ ج کراچی میں رہنے پر مجبور ہے،،مجھے خود بھی اچھّی طرح یاد ہے ان دنوں کہ کیا ہوتا تھا ؟میں اپنے بیٹو ں کے ساتھ سائے کی طرح ساتھ رہتی تھی ،،مگر کہاں تک رہ سکتی تھی وہ چند منٹ کے لئے بھی اکیلے باہر جاتے تھے تو میرے شوہر کے چہرے پر ان کی بے بسی دیکھنے کے قابل ہوتی تھی اور جوان لڑکوں کو کس حد تک گھر میں بند رکھّا جا سکتا تھا، سو میں نے بھی ان کو با ہر اسی لئے بھیج دیا کہ کم سے کم سیاست سے دور کردوں ،
،اس ظالمانہ سیاست نے کراچی کے بچّوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیا ہے ،ان میں سے ایک گروہ کا کہنا ہےکہ کراچی میں صرف مجھے جینے کا حق ہے ،اب دوسرا گروہ کیا کرے گا جو اپنے بھی جینے کا حق مانگ رہا ہے ،
میرے بیٹے،میں انشاللہ جلد ہی کراچی کے اس پس منظر کے بارے میں جو بھی علم میں ہے حرف حرف سچّائ کے ساتھ ا پنی پاکستانی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے تحریر کروں گی کہ اس شہر کو کیوں تقسیم کیا گیا ،بے دریغ اسلحہ دے کر اس شہر کےبچّوں کو خوں خو اریت کے لئےکیوں آمادہ کیا گیا ،وہ شہر جس کی آغوش اپنے وطن کے لوگوں کے لئے فراخ تھی کیوں تنگ ہو گئ ،اور میں اس صدمے سے دو چار ہوں کہ میرے شہر نا پرساں کی آغوش اپنے ہی پیاروں کے خون ناحق سے آ ج بھی رنگین ہو رہی ہے
میں صرف ایک پاکستانی ہوں ،پاکستان میرے لہو میں دوڑتا ہے نس نس میں بستا ہے اور میں پاکستان سے ہزارہا میل دور کینیڈا کے برفستان میں رہتی ضرور ہوں لیکن میری روح ابھی بھی پاکستان میں رہتی ہے ،کیونکہ میری مادر وطن ہی میری پہچان ہے
میرا کمپیوٹر بھی ا چانک ہی ناراض ہو گیا ہے ،اس کے لئے میں نے میں نے نگہت بیٹی سے مدد مانگ لی ہے ،
مجھے لگ رہا ہے وائرس آ گیا ہے ، بیٹے کو فرصت ملے گی تب دیکھ سکے گا، ابھی ہو یہ رہا ہے کہ لکھے لکھائے بلاگ اچانک ہی غائب ہوئے جا رہے ہیں اور دوسر ا پیچ خود بہ خود اوپن ہوا جا رہا ہے ،آج مین نے خود بھی کافی وقت اس پر صرف کیا ہے تو کچھ بہتری آئ ہے ،اللہ کا شکر ہے کہ یہ بلاگ سلامت ہے
اجازت چاہوں گی اس دعا کے ساتھ پاک پروردگار عالم تمھارے روزگار کی ہر مشکل کو اپنے حبیب حضرت محمّد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم کے صدقے دور فرمائے تمھارے ماں باپ کی آنکھیں تمھارے وجود سے ٹھنڈی رکھّے ،
قابل صد احترام ہیں تمھارے وہ محترم والدین جنہو ں نے ایسا لائق فائق بیٹا پروان چڑھایا ماشاللہ
اللہ نگہبان
“ آخر میں ایک اور بات کہ آقا صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل پر میں گناہ گار تو کیا صدیوں سے ہزاروں لاکھوں لوگ خود کو قربان کرتے آئے ہیں ، میں تو آپ صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل کا غلام ہوں اور میرے ماں باپ بھی آپ صلاۃ السلام اور آپ صلاۃ السلام کی آل کے غلام ہیں اور آپ یقینا جانتے ہونگے غلاموں کی مرضی نہیں ہوتی اور میں تو اپنے ماں باپ کا ہی حصہ ہوں اُن سے الگ میں کچھ بھی نہیں میری کوئی پہچان نہیں سو جب اُنہیں گن لیا گیا تو میں تو خود بخود گنا گیا ۔”
آصف بھائی آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ آپکی باتوں سے اس فقیر کو کسی راحت پہنچی ہے۔ آپ نے پورے بلاگ میں موضوع کو جس خوبصورتی اور کمال ضبظ سے نبھایا ہے، اس پر دل سے آپ کے لئے دعائیں نکل رہی ہیں۔ میں نے پہلے بھی ایک جگہ کہا تھا کہ آپ کے آنے سے رونق لگ جاتی ہے، سو اب دعا گو ہوں کہ خدا آپ کو سدا رونقوںمیں شادو آباد رکھے۔ آمین
السلام علیکم
محترم جناب سید مصباح حسین صاحب ، میرا حساب تو اُس بچے جیسا ہو گیا ہے کہ جو مٹھائیوں سے بھری دوکان میں آگیا ہو اور اب اُسے سمجھ نہ آرہی ہو کہ پہلے گلاب جامن کھاؤں یا برفی ، قلاقند چکھوں یا ربڑی ، جلیبی زیادہ رسیلی ہے یا رس گلہ ۔ ایسی شفقتیں کہیں مجھے مغرور ہی نہ کر دیں ؟ اور میں تو بہت ہی کم علم انسان ہوں ، میرے بہکنے کا زیادہ امکان ہے ۔ اختلافات کے باوجود اِس فورم کے تمام ہی محترم اراکین میری بات کو اہمیت دیتے ہیں ، مجھ سے اتفاق یا اختلاف کرتے ہیں ، اِس خوبصورت گلدستے کا ہر پھول الگ ہی خوشبو دیتا ہے ، اللہ اِس گلدستے کو تا دیر قائم و مہکتا رکھے ۔
میں اختلاف رائے کو اچھا سمجھتا ہوں کہ اختلاف رائے سوچ کو وسعت دیتا ہے ، اختلاف رائے انسان کو بہت کچھ سیکھنے مین مدد دیتا ہے ، البتہ کج بحثی یقینا مناسب نہیں ، مناسب دلائل پر انسان کو اپنی بات سے رجوع کی ہمت ہونی چاہیے ۔
آصف احمد بھٹی
میں آصف احمد بھٹی صاحب کی “ حق گوئی و بےباکی “ کو بےحد قدر کی نظروں سے دیکھتا ہوں ۔ اللہ انہیں اسی طرح صاف صاف اپنی دل کی بات لکھنے کی استطاعت اور توفیق عطا فرماتارہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خود انکا ذہنی بوجھ بھی ہلکا ہوجاتا ہے ۔ ۔
ان کی تبصرے میں جن معصوم افراد کی متحدہ قومی مومنٹ کے ارکان کے ہاتھوں شہادت ہوئی اس پر بے حد افسوس ہے۔ اور اس بات کا بھی بے حد افسوس ہے کہ متحدہ کے غنڈوں نے ان کے ساتھ اور انکے رشتہ داروں کے ساتھ زیادتی کی ۔ افسوس صد افسوس ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ داستان طویل ہے اورمجھ جیسا انسان جو برسوں سے پاکستان سے باہر ہے اس سے پوری طرح واقف نہیں صرف جب مجھے میرے اپنےہاتھوں میں کھلائے ہوئے معصوم بھیتیجے کی شہادت کی خبر ملی تو دل کو بہت دکھ ہوا اور 15 نومبر 2008 سے آج تک میں اس معصوم شہید کی معصوم بیوہ اور اسکے تین معصوم بچوں کی حسب استطاعت مدد کررہاہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ آصف احمد بھٹی صاحب نے کہا ہے کہ انکے دوستوں اور رشتہ داروں کے قاتلوں کو کوئی نہیں جانتا ۔ نہ سیف الرحمٰن کے قاتلوں کو کسی نے پکڑا ( اور میں یہ کہتاہوں کہ نہ میرے بھیتجے نظام قاضی کے قاتلوں کو کسی نےپکڑا ) ۔
کسی نے کہا ہےکہ :
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نےپہنےہوئے ہیں دستانے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک زمانے میں جب میں کراچی کی جیکب لائین کی جھگی میں رہا کرتا تھا اور ایمپرس مارکٹ اور صدر کو پیدل یا سیکل پر جایا کرتا تھا اور رات کے دو دو بجے تک صدر میں ایرانیوں کی ہوٹلوں کی ادبی محفلوں میں حصہ لیا کرتا تھا ان دنوں کی کراچی میں اور آج کل کی کراچی میں زمین اور آسمان کا یا جنت اور جہنم کا فرق ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آصف احمد بھٹی صاحب نے اپنی آپ بیتی لکھکر بہت سارے حقائق سے آگاہ کردیا : شکریہ
ان سے صرف ایک بات یہ کہنی ہے کہ جیسا کہ انہوں نے کہیںپر لکھا ہےکہ کراچی مہاجروں کی اکثریت کا شہر ہے اور یہ مہاجر ان کی طرح پاکستان کے گوشے گوشے سےآائے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ کراچی میں ہندوستان سےائے ہوئےمہاجر بھی بستے ہیں ۔
( اور میرے مشاہدے کے مطابق تما م مہاجر اپنی اپنی کشتیاں جلا کر کراچی اکر بس گئےہیں ۔)
مشکل یہ ہے کہ جب پاکستان کے کسی علاقے یعنی ہزارہ یا پنجاب یا بلوچستان یا سندھ کے کسی دوسرےعلاقے کے مہاجر کی زندگی کا جینا کراچی میں حرام ہوجائے تو وہ ہزارہ یا پنجاب یا بلوچستان یا پاکستان ہی کے اپنےعلاقے میں واپس جاسکتا ہے مگر ہندوستان سےآآیا ہوا مہاجر کہا ں جائے گا ؟ اور خاص طور پر اس مہاجر کی اولاد کہاں جائے گی جو کراچی ہی میں پیدا ہوئی ہواور وہیں پر اسکی روزی روزگار کی سبیل بھی ہورہی ہو۔؟
اگر تنگ آمد بجنگ آمد کا شکار ہوکر اور ایک ردِ عمل کی وجہ سے سابقہ مہاجر قومی مومنٹ اور موجودہ متحدہ قومی مومنٹ کچھ ہاتھ پیر ماررہی ہے تو میں اس کی بات کو بھی قابلِ غور سمجھتا ہوں ۔ (آصف احمد بھٹی صاحب نےکہیںپر یہ غلط بات لکھی ہے کہ یہ جماعت ضیاالحق کی حمایت سے ایک “عمل“ کی طرح پیداہوگئ مگر میری معلومات کے مطابق یہ صرف ایک “رد عمل “ کا نتیجہ تھی ۔( اس کےلیے متحدہ قومی مومنٹ کے وہ ویڈیوپروگرام دیکھئے جس میں اس تحریک کی ابتدا کی وجوہات موجود ہیں )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آصف احمد بھٹی صاحب کی تحریر پر محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ نےجو تبصرہ کیا اسے بھی میں انتہائی اہم سمجھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ انکا کمپیوٹر ان کا ساتھ دےگا تاکہ و ہ تمام حقائق پر روشنی ڈالینگیں۔
میں سیدہ زائرہ عابدی صآحبہ کی اس تحریر سے ( جسے انہوں نے جناب آصف احمد بھٹی صاحب سے مخاطب ہوکر کہا ہے ) کافی متاثر ہوا ہوں کہ :
“میرے بیٹے،میں انشاللہ جلد ہی کراچی کے اس پس منظر کے بارے میں جو بھی علم میں ہے حرف حرف سچّائ کے ساتھ ا پنی پاکستانی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے تحریر کروں گی کہ اس شہر کو کیوں تقسیم کیا گیا ،بے دریغ اسلحہ دے کر اس شہر کےبچّوں کو خوں خو اریت کے لئےکیوں آمادہ کیا گیا ،وہ شہر جس کی آغوش اپنے وطن کے لوگوں کے لئے فراخ تھی کیوں تنگ ہو گئ ،اور میں اس صدمے سے دو چار ہوں کہ میرے شہر نا پرساں کی آغوش اپنے ہی پیاروں کے خون ناحق سے آ ج بھی رنگین ہو رہی ہے“۔
جزاک اللہ ۔ میں سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کی تحریروںمیں کراچی کی تاریخ کی اصلی جھلک دیکھا کرتا ہوں ۔
پتہ نہیں یہ بلاگ انکی تحریر کا متحمل ہوسکے گا یا نہیں ، اگر سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ اس موضوع پر خود اپنا بلاگ شروع کریں تو وہ بھی سب پڑھنےوالوں کے علم میں اضافے کا سبب بنے گا
اس لیے کہ یہ بلاگ اب نظروںسے اوجھل ہوتا جارہا ہے اس لیے ایک نیا بلاگ شروع کیا جائے تو انکی مرضی اور اگر انہیں بلاگ شروع کرنے کی اجازت نہیں ہے تو میں عالمی اخبار کی انتظامیہ سے درخواست کرونگا کہ وہ محترمہ سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کو بھی اس قابل بنادیں کہ وہ خود اپنے بلاگ شروع کرسکیں ۔
اگر میں غلطی پر ہوں اور سیدہ زائرہ عابدی صاحبہ کو بلاگ لکھنے کی اجازت ملی ہوئی ہے تو میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر اپنے بلاگ شروع کریں ۔ جزا ک اللہ
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
اسّلام علیکم میرے معزّ ز اور مکرّم ساتھیوں بیٹے بیٹیوں ،
اللہ تعالٰی تم سب کا حامئ و مددگار ہو ،میرا کمپیوٹر 90 فیصد ٹھیک ہو گیا ہے اس لئے اس بلاگ کے بس آج یا کل میں پس منظر میں جانے سے پہلے میں یہ بلاگ اس لئے لکھ رہی ہوں کہ آپ سب کا شکر یہ ادا کر سکوں کہ آپ لوگوں نے میری بات کو سنا سمجھا اور میرے لہجے کی کڑواہٹ کو وہ جاء تھی یا بے جاء تھی برداشت کیا
صفدر بھیّا ،نگہت نسیم،اور بار دیگر
خداوند کریم آپ سب کو اس نیکی اور اطاعت کی جزائے عظیم عطا کرے ،آمین ایک بے حد خوشی یہ ہوئ کہ میرے محترم بھائ سیّد مصباح حسین جیلانی جو قدرے خفا ہوکر بلاگ بند بھی کر چکے تھے انہوں نے بھی اسی بلاگ پر واپس آ کر آصف بیٹے کو بہترین ا لفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جس کے لئے میرا قابل فخر ہزارے وال بیٹا سو فیصد مستحق تھا ،
میرے محترم بھیّا منظور قاضی نے بھی میر ے احساسا ت کو سمجھا میں انکی بھی بہت بہت شکر گزار ہوں ،،
بہت سی دعاؤں کے ساتھ
رخصت کی اجازت
اللہ نگہبان
سب سے پہلے تو ایک طویل عرصے کی غیر حاضری پر معزرت،
آپ سب کی محبتوں کا جواب نہیں دے سکی جس کی وجہ سے معذرت خواہ ہوں۔
سب سے پہلے محترم استاد جناب صفدر ہمدانی کی محبت کا شکریہ
مصباح حسین اور عالم آرا خوش آمدید کہنے پر شکریہ
محترمہ نگہت صاحبہ آپ کی محبتوں کی مشکور ہوں۔آپ کےکہنے پر اپنا تعارف کروا رہی ہوں میں بھی کوئی بڑی چیز نہیں نگہت جی بس اللہ تعالیٰ نے اپناکرم کیا ہوا ہے ورنہ بندی کس قابل ہے۔
بنیادی طور پر میں براڈ کاسٹرہوں ریڈیو سے رشتہ بچپن میں ہی قائم ہو گیا تھا۔اردو ادب میں ماسٹرز کرنے اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد کچھ لکھنےلکھانے کی طرف با قاعدہ رجحان ہوا۔شاعری۔نثر میں طبع آزمائی ہوتی رہتی ہے پھر میری حاضر جواب طبیعت کو دیکھتے ہوئے ایک استاد نے مشورہ دیا کہ تم طنز و مزاح لکھو لہٰذا اس پر کوشش کی اور آپ لوگوں نے سراہا جس کے لئے میں آپ سب کی مشکور ہوں۔ نومبر 2011 میں زندگی کے سب سے حسین رشتے سے منسلک ہو گئی اسی وجہ سے اپنی مصروفیت کی بنا پر کچھ لکھنے لکھانے سے بھی دور رہی مگر اب میرے رب نے چاہا تو تحریر کے زریعے آپ سے رابطہ رہے گا۔ آپ کی حوصلہ افزائی کی ہمیشہ منتظر رہوں گی۔ میرے مزید تعارف کے لئے ویکیپیڈ یا کا یہ لنک دیکھ سکتے ہیں
http://en.wikipedia.org/wiki/Ghazala_Rafi
اپنی نئی زندگی کی شروعات پر آپ سب کی دعاوں کی منتظر
غزالہ رفیع ( اب آئندہ میں غزالہ زید کے نام سے لکھوں گی )
اللہ نگہبان