مجھے یاد ہے جب کتابیں پڑھنے کا رواج ہوا کرتا تھا تو سب ڈیل کارنیگی کی کتابیں ضرور پڑھا کرتے تھے … انہوں نے ساری حیاتی کتابیں لکھنے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کیا تھا .یہ الگ بات کہ ساری کتابیں چھپوائی کسی اور نے اور وہ بھی ان کے مرنے کے بعد … بقول سیانوں کے کتاب لکھنے والے غریب ہوا کرتے ہیں جبکہ سچ یہ ہے کہ جو “خود کو ادیب ” سمجھتے ہیں وہی غریب نہیں ہوا کرتے (کیونکہ کتاب لکھنے سے کتاب چھپوانا آسان ہے )… اور جو ” واقعی ادیب ” ہوا کرتے ہیں وہ ہر دور میں غریب ہوا کرتے ہیں .. لو بات کہاں سے کہاں چلی گئی ..
کہہ یہ رہی تھی کہ ڈیل کارنیگی نے کتاب لکھی تھی جس کا نام تھا ..
1. میٹھے بول میں جادو ہے (توبہ ڈیل کارنیگی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ میٹھے بول بولنے والوں کو لوگ ….. سمجھتے ہیں ) خالی جگہ اپنی پسند سے بھریئے …
2. گفتگو اور تقریر کا فن .. ( میرے خدا ہم لوگوں کو اور آتا کیا ہے . ہے نا ڈیل زرا سا ڈھیلا ) ..
3. اچھا ایک اور کتاب لکھی 39 بڑے آدمی ..( لو جی یہ کتاب بھی کوئی پڑھنے کی تھی جس میں مابدولت کا زکر تک نہیں تھا .. اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس نظریں قریب دور سب خراب تھیں ) ..
4.پھر ایک کتاب لکھی مانیں یا نہ مانیں ( جو خود ہی یہ لکھ دیں تو ہمیں ماننے کی کیا ضرورت تھی ..)
5. لیکن ایک کتاب نے ہماری ساری توجہ اپنی طرف کی تھی اور وہ کتاب تھی ” پریشان ہونا چھوڑیئے اور جینا شروع کیجئے ” .. اور دیکھئے ماشاللہ ، اللہ کے کرم سے جی رہے ہیں ..پریشانی کا کیا ہے جی آپ اس کی جان کو آجائیں .. یہی اصول ہم نے سیکھا تھا ..
آج جب بجو زائرہ کا برقی رقعہ ملا کہ باد نسیم (بجو پیار دلار سے ہمیں اسی نام سے پکارتی ہیں ) کوئی ایسا گوشہ بنا دو جہاں دو سانسیں سکون کی لے سکیں (لگتا ہے میری بجو سیاسی تجزیوں سے پریشان ہیں ) .. تو مجھے حل ڈھونڈنے کے لئے ڈیل کارنیگی بہت یاد آیا اور ساتھ ہی اس کی کتابیں .. رکیں رکیں میری امی جی کا فون لندن سے آ گیا ہے .. انہوں نے امتحانات کا استفسار کیا اور سمجھایا کہ پڑھا ہوا کبھی ضائع نہیں جاتا … لو یہی بات مجھے بھی کہنی ہے کہ پڑھا ہوا کبھی ضائع نہیں جاتا .. دیکھئے کیسے آڑے وقت ڈینگی یاد آیا ہے .. (اوہ ہو ڈینگی نہیں ڈیل کارنیگی ) ..
ساتھیو اس بلاگ کا کوئی موضوع نہیں ہے جو جس کا دل چاہے لکھے .. جتنا چاہے لکھے .. شعر لکھے .. تقریر لکھے .. لطیفے لکھے … کسی کا اچھا لکھا ہوا لکھے .. کسی کے بارے میں لکھے .. اپنی بات کہے .. کو ئی ربط ہو یا نا ہو کوئی پرواہ نہیں ..
یہ گوشہ عافیت ہے جہاں سب پریشانی کی جان کو آ جائیں گے اور اسے دور بھگائیں گے … انشاللہ .. یہ گوشہ خوشیوں بھرا ہے ..
چلتے چلتے ایک غزل آپ سب کی نظر جو غزلوں کی مشین بابا جناب صفدر ہمدانی نے کل کہی تھی
محبت میں جو رنجش ہو رہی ہے
عجب مجھ پہ نوازش ہو رہی ہے
مرے باہر ہوا کا شور ہے اور
مرے اندر بھی بارش ہو رہی ہے
میں کس کے آسماں میں اُڑ رہا ہوں
مجھے یہ کس کی خواہش ہو رہی ہے
قبا ، اہلِ سیاست میں ہے شامل
خلافِ عقل سازش ہو رہی ہے
میں ترکِ عشق کر لوں اُس سے لیکن
مگر جو خود سے پرسش ہو رہی ہے
محبت ہی مرا مسلک ہے صفدر
محبت کی نوازش ہو رہی ہے
راز کی بات بتاؤں مجھے بابا کی کبھی کبھی سمجھ نہیں آتی کہ غزل میں سیاست کیوں لے آتے ہیں .. غزل کو گجل کر دیتے ہیں … ارے ارے ..سوچنا بھی منع ہے ..بس پریشان ہونا چھوڑیئے اور جینا شروع کیجئے .. بسم اللہ

آپ سن کی نظر ایک بیترین قلم سے لکھا ہوا بہترین کلام .
ایک حُیسنی کے دل کی صدا جس
ایک حُسینی کی دُعا آئیں ہاتھ اُٹھائیں اور
اس دُعا میں شامل ہو جائیں .
دنیا کو آج پھر ہے ضرورت حسین کی
ہر اک طرف ابر آتشیں ہے
فلک سے لیکر زمیں کے سینے کی ہڈیوں تک
لہو کے پودے اگے ہوئے ہیں
تمام پتھر سیاہ کرنوں کا نور پہنے چمک رہے ہیں
کہ آئیوں کی چمکتی کرنوں سے ریزہ ریزہ نہ ہو سکیں تو
وجود خود کو یقیں دلائیں وہ زندگی کا
یہ کتنی صدیوں کا واقعہ ہے
کہ کربلا کی زمیں پہ شبیر کا خوں بہا تھا
یہ کتنی صدیوں کا واقعہ ہے
کہ دشت غربت میں آل احمد کا امتحاں تھا
سلگتی مٹی کے سرخ سینے پہ خیمہ زن ایک کارواں تھا
وہ کارواں تھا کہ جس کا رہبر
حسین ابن علی ہوا ہے
حسین ابن علی کہ جس نے
نحیف مردہ ضعیف مٹی کو زندگی کا پیام بخشا
حسین ابن علی کہ جس نے محبتوں کے خدا کو اذن کلام بخشا
حسین ابن علی محبت کی انتہا ہے
حسین ابن علی جو تصویر کربلا ہے
حسین ابن علی جو نفرت کے معبدوں کو تباہ کر کے امر ہوا ہے
یہ کتنی صدیوں کا واقعہ ہے
کہ کربلا کے سلگتے ذروں نے اپنی آنکھوں سے خود ہی دیکھا
کہ باپ بیٹے کے سینہء نیم جاں سے برچھی نکالتا ہے
مگر وہ نہر فرات جس نے لہو پیا تھا
ابھی رواں ہے
حسین ابن علی کہاں ہے؟
کہ ہر طرف ابرِ آتشیں ہے
فلک سے لیکر زمیں کے سینے کی ہڈیوں تک
لہو کے پودے اگے ہوئے ہیں
میں اپنے دوزخ کی آگ میں اب بھی جل رہاہوں
میں اپنی حدت کی روشنی میں پگھل رہا ہوں
حسین ابن علی کہاں ہے کہ جسم کی نرم دیوار گر رہی ہے
سمندروں کے نحیف سینوں پہ سبز کائی اگی ہوئی ہے
زمیں کے آنسو نکل رہے ہیں
شکستہ چہروں کی زرد آنکھیں لہو کے احرام باندھ کر منتظر ہیں
فلک کے ہاتھوں کی انگلیاں بھی الجھ رہی ہیں
تمام کوہسار گر رہے ہیں
زمین کروٹ بدل رہی ہے
میں اپنے ہی کارواں سے بچھڑا تو آج تنہا کھڑا ہوا ہوں
میں اپنے ہاتھوں پہ سرد لمحوں کی لاش رکھ کے
سلگتی مٹی کے سرخ سینے پہ خیمہ زن ہوں
میں بے کفن
حسین دشت بلا کے ذرے پکارتے ہیں
حسین بالی سکینہ تپتی زمیں پہ بیٹھی
جلے ہوئے خیمہ گاہ پہ آنسو بہا رہی ہے
حسین اصغر کا خالی جھولا پکارتا ہے
حسین بیمار کربلا کی چمکتی آنکھوں میں ایک تاریخ خیمہ زن ہے
حسین میرے سلگتے ہاتھوں کو سرد لمحوں کا رنگ دے دو
حسین میری زمیں کو آنکھوں کا نور دے دو
”حسین آؤ کہ اب شہادت کا لفظ معنی بدل رہا ہے
حیسن آؤ کہ وقت انساں کو اپنے ہاتھوں مسل رہا ہے
حسین آؤ کہ اب تو آنکھوں کی بینائی پانی میں ڈھل گئی ہے
حسین آؤ کہ آج کے آدمی کی ہیئت بدل گئی ہے
حسین میرے نحیف سانسوں کو پھر ضرورت ہے انبیا کی
قسم خدا کی
حسین آؤ کہ آج دنیا کو پھر ضرورت ہے کربلا کی۔
( صفدر ہمدانی )
مُعافی چاہتی ہوں کُچھ الفاظ غلط ٹائپ ہوگئے
( آپ سب کی نذر ایک بہترین کلام )
گذشتہ جمعہ کو زلذلہ اور اس کے بعد سونامی جاچان کی زلزلے سے محفوظ عمارتوں کو ریت کی طرح بہاکر لے گیا ۔میں اس دن بہت دیر تک ٹی وی کے سامنے بیھٹی لمحہ لمحہ طوفان نوح ثانی کی تباہ کاریاں دیکھہ کر لرزتی رھی ۔اور رو روکر دعايئں مانگتی رھی آج پانچواں دن ھے مگر میرا دل کسی طور بہل ھی نیہن رھا ھے میرے عزیز دوستوں ،
کیہں بھی اماں نہن ھے
کیہں بھی پناہ نیہں ھے
جاپانی قوم بہت باعمل اور محنتی قوم ھے۔
جو کام کو عبادت سمجھتے ھیں اور اپنے کام کو اسی اخلاص سے انجام دیتے ھیں ۔ یہ عظیم قوم جو اس سے پہلے بھی انساینت سوز امریکی مظالم سے ھوچار ھوئ اور ھیرو شیما کی تباھی کے بعد آج عشروں کی مسلسل جدوجہد کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معشیت نے اپنی سخت ترین محنت سے دنیا بھر میں بے مثال مقام حاصل کیا ھے اور مجھے اتنی تباھی کے بعد بھی اس قوم سے یہی توقع ھے کل یہ پھر اپنے عزم سے محنت سے پہلے سے بہتر طور پر اپنے شہروں کی تعمیر نو کرلیگی ، مگر ھمارے مللک میں جو اپریل میں پھر کسی سیلاب کی پیشنگوئ کی گی ھے ھم کیسے اس سے نبٹے گے۔۔ ۔۔۔ یہ فکر سونے بھی نیہں دیتی ھے جینے بھی ینہن دیتی ھے
ویسے تو اس بلاگ کا نا م پریشان ھونا چھوڑے اور خوش رھیے ۔۔ ھے مگر ھم جیسے لوگوں کے مقدر میں خوشی کم اور غم زیادہ ھیں
مجھے آچھا نیہن لگتا باربار اپنے اتنے پیارے دوستوں کو پریشان کرنا، ۔۔۔۔۔۔۔
ان دنوں پھر کسی آزار میں مبتلا ھوں ۔ میں ذھنی طور پر کویت میں نیہن ھوں جاپان میں گم شدہ افراد کو ڈھونڈ رھی ھون اور سارے معصوم بجوں کو تصور میں اپنی گود میں لیے بیھٹی ھوں ۔دعاکریں دنیا کے سارے بچے امان سے رھیں
عزیز بہن اور بہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سلامت رھو۔ مجھے معاف کردیا کرو۔ تمھاری کشادہ دلی اور محبت سے بھا لہجہ مجھے زندہ کردیتا ھے ۔ ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بحرین
” آگ اور خون کے درمیان ”
نذر حافی
nazarhaffi@yahoo.com
قطر اورسعودی عرب سے ۳۲کلومیٹر جبکہ ایران کی بندرگاہ بو شہر سے ۳۱۰ کلومیٹر کے فاصلے پر “بحرین ” کے نام سے ایک ایسی مقدس اسلامی سرزمین واقع ہےجہاں پر ۱نیسویں صدی میں برطانیہ نےایک بحرینی قبیلے “آل خلیفہ “کےساتھ یہ معائدہ کیا تھاکہ اگر” آل خلیفہ ” خطّے میں برطانوی مفادات کا تحفظ کرئے تو اسے بحرین کا حاکم بنا دیا جائے گا۔اس دن سے لے کر آج تک بحرین میں مسلسل” آل خلیفہ” کی بادشاہت قائم ہے اوربحرینی عوام عدل و انصاف کے حصول ،جمہوری اقدار،انسانی حقوق اور آئین و قانون کی خاطر تختہ مشق بنی ہوئی ہے۔
گزشتہ کئی سالوں سے بحرینی عوام کے مسمارگھر اورجلی ہوئی لاشیں ،انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کو دکھائی نہیں دیتیں۔بین الاقوامی برادری کی بے حسی اور میڈیا کی مجرمانہ خاموشی کے دوران جب عرب دنیا میں اسلامی و عوامی انقلاب کی لہر اٹھی تو ایک آدھ دن کے لئے میڈیا نے اپنی نظریں بحرین کے حالات پر بھی جمائیں۔جب میڈیا نے بحرین کو فوکس کیا تو ہمیشہ کی طرح اس روز بھی بحرینی عوام امریکہ و برطانیہ کے خلاف سڑکوں پر سراپااحتجاج بنے ہوئے تھے،لوگ آل خلیفہ کے خلاف غم و غصّے کا اظہار کر رہے تھے جبکہ سعودی فوج اپنےپرچم پر “لاالہ الااللہ ” لکھے اور ہاتھوں میں امریکی اسلحہ تھامے نہتے بحرینی مسلمانوں پر یلغار کرنے بڑھتی ہی چلی جارہی تھی۔
یہ مناظر دیکھتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں نے سعودی عرب کی فوجی جارحیّت،آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر شپ اور امریکہ و برطانیہ کی ہلہ شیری کے خلاف صدای احتجاج بلند کی۔اس صدائے احتجاج کا بلند ہونا تھا کہ میڈیا نے دوبارہ اپنی آنکھیں موند لیں اور سعودی فوج نے بحرین میں وحشت و بربریت کی ایک نئی داستان رقم کی۔اس وقت بھی بحرینی عوام سڑکوں پر سعودی فوج کے محاصرے میں ہے،لوگ امریکہ و برطانیہ کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور” آل خلیفہ “عوامی مظاہروں کو “آل سعود” کی طاقت سے کچلنے میں مصروف ہے۔
ہمارے وطن عزیز پاکستان کے سادہ دل لوگ جب یہ سنتے ہیں کہ سعودی فوج نہتّے بحرینی مسلمانوں کا قتل عام کرنے میں مصروف ہے تو وہ حیرت سے چونک جاتے ہیں۔ان چونک جانے والے بھائیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ سعودی عرب کی فوج کے بارے میں چونکنے سے پہلے اپنے ملک کی فوج پر چونکنا شروع کریں۔وہ اس لئے کہ بحرین میں امریکی و برطانوی مخالفین کو کچلنے کے لئے اس وقت تک فوجی فاونڈیشن اور بحریہ کے تعاون سے ایک ہزار سے زائد پاکستانیوں کو بھرتی کر کے بحرین روانہ کردیاگیاہے۔یعنی بڑے میاں بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ،سعودی عرب تو سعودی عرب پاکستان بھی اس ظلم میں شریک ہو گیا۔البتہ یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ جہاں پر سعودی حکومت اپنے پاوں رکھتی ہے وہاں پاکستانی حکومت اپنا سر رکھ دیتی ہے۔مثلا آپ طالبان اور القائدہ کی تشکیل ،فتح اور شکست کو ہی لے لیں۔
جب افغانستان میں امریکہ کو طالبان کی ضرورت تھی تو سعودی عرب نے ریّال اور فکر جبکہ پاکستان نے اپنے مدارس اور نوجوان امریکہ کے قدموں میں لاکر رکھ دیئے۔جب امریکہ کا مطلب پورا ہوگیا تو سعودی عرب نے بھی طالبان اور القائدہ سے آنکھیں پھیر لیں اور پاکستان نے بھی انہیں دہشت گرد کہنا شروع کردیا۔
یہ تو تھی ہماری سعودی محبت کی ایک مثال اب ذرا ایک اور مثال سےسعودی عرب کی نگاہ میں اسلامی برادری کی اوقات کا اندازہ بھی لگائیے:
قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان مسلسل سعودی عرب اور امریکہ کی نوکری بھی کر رہا ہے اور مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سعودی عرب سے تعاون کا طالب بھی ہے ۔سعودی عرب نے نہ صرف یہ کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کو تنہا چھوڑاہوا ہےبلکہ اس نے نہایت حساس موقعوں پر بھارت کی حوصلہ افزائی کر کے کروڑوں پاکستانیوں کے دینی جذبات کی بے احترامی بھی کی ہے۔یہ ۱۹۵۶ ء کی بات ہے کہ ابھی مسئلہ کشمیر پوری آب و تاب کے ساتھ منظر عام پر تھااورپاکستانی مسلمان کشمیر کی آزادی کے لئے سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے کہ ایسے میں جواھر لال نہرو نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ خود کوتوحید پرست کہنے والی اور توحید کی آڑ میں صحابہ کرام کے مزارات مقدسہ کومنہدم کرنے والی سعودی حکومت نے پاکستانیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے نہرو کا شاندار استقبال کرنے کے ساتھ ساتھ ” مرحبا یا رسول الاسلام “کے نعرے لگائے۔
اس واقع کے اگلے روز “روزنامہ ڈان ” نے نہرو کو رسول الاسلام کہنے پر سعودی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے اس واقع پر اظہار افسوس کیا۔جس پر سعودی ایمبیسی نے یہ وضاحت کی کہ “رسول الاسلام”سے مراد امن کا پیغامبر ہے،جس کے جواب میں روزنامہ ڈان نے لکھا کہ ملت پاکستان اس جملے کے معانی اچھی طرح جانتی ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ دین اسلام کے ظہور کے بعد یہ جملہ پیغامبر اسلام [ص]سے مخصوص ہوگیاہے۔یادرہے کہ ملت پاکستان کو اس بات پر بھی حیرانگی تھی کہ ہزاروں ہندوستانی اور کشمیری مسلمانوں کا قاتل سعودی عرب کے لئے “امن کا پیغامبر”کیسے بن گیاہے۔
اب ذرا سعودی عرب کے پرچم پر لکھے ہوئے کلمہ طیّبہ کا پس منظر بھی جان لیجئے۔یہ تیرھویں ہجری اور اٹھارہویں صدی عیسوی کی بات ہے کہ جب آل سعودعرب خانہ بدوشوں کی صورت میں زندگی کرتے تھے اور نجد کے نزدیک درعیہ کے مقام پر اس خاندان کی ایک چھوٹی سی حکومت تھی۔اس دوران ابن تیمیہ کی تعلیمات سے متاثر ایک شخص محمد ابن عبدالوہاب نے درعیہ کے حاکم محمد ابن سعود سے ملاقات کی اور اسے عربستان میں بکھرے ہوئے مختلف قبائل کو اسلام کے نام پر متحد کرنے کا مشورہ دیا۔محمد ابن سعود نے اس مشورے کو پسند کیا اور دونوں کے درمیان یہ طے پایا کہ اس کے بعد محمد ابن وہاب کے افکار کی ترویج و اشاعت ابن سعود کا اولین فریضہ ہے اور ابن سعود کی حکومت کو اسلامی و دینی حکومت کے طور پر معروف کرانا اور لوگوں کو ابن سعود کے گرد جمع کرنا محمد ابن وہاب کی ذمہ داری ہے۔
محمد ابن سعود کے بعد اس کی آل نے بھی اس معائدے کی پاسداری کی اور مختلف نشیب و فراز آنے کے باوجود ابن وہاب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنےدیا۔یوں وہابیت اور آل سعود نے یک جان اور دو قالب بن کر ارتقائی مراحل طے کئے۔ابن وہاب کے متشددانہ عقائد اور جارحانہ افکار کے باعث جلد ہی عالم اسلام میں بے چینی کی فضا پیدا ہوئی اور یوں ابن وہاب کا الگ دین منظر عام پر آگیا۔اگرچہ موصوف نے اپنے آپ کو اہل سنّت کی صفوں میں گھسانے کی کوشش کی لیکن اہل سنت کے علماء نے بروقت اس سازش کو درک کرتے ہوئے اسے اپنے سے الگ کردیا۔
ابن وہاب کے جارحیّت آمیز رویّے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ موصوف نے اپنی کتاب “کشف الشبہات “میں۲۴ سے زائد مقامات پر دوسرے اسلامی فرقوں کو کافر کہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت افغانستان و بحرین سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھتی ہے اور اسلامی ممالک کے خلاف اغیار کا ہاتھ بٹاتی ہے۔
آل سعود کا ایک تاریخی معائدہ محمد ابن عبدالوہاب کے ساتھ ہے جس کی رو سے یہ حکومت اپنے آپ کو اسلامی کہلاتی ہے اور دوسرا معائدہ استعمار کے ساتھ ہے جس کے باعث سعودی حکومت اسلام کا پر چم اٹھا کر امریکہ اور برطانیہ کی خدمت کرتی ہے۔
دیگر عرب ریاستوں کی طرح سعودی عرب کی استعمارنوازی کی کڑیاں انیسویں صدی سے جاکر ملتی ہیں۔صاحبان علم و شعور کے لئے تحقیق کے دروازے کھلے ہیں وہ بلا تعصب علمی و فنّی طریقوں سے اس بارے میں تحقیق کر سکتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر جب برطانیہ و فرانس کو تیل کی طاقت کا ندازہ ہوا تو انہوں نے ۱۹۱۹ میں مشرق وسطی کو دو حصّوں میں تقسیم کیا۔اس تقسیم کے نتیجے میں عراق،اردن اور سعودی عرب سمیت کچھ ممالک برطانیہ کے جبکہ ایران،ترکی اور شمالی افریقہ، فرانس کے حصّے میں آئے۔
استعماری طاقتوں نے سعودی عرب میں آل سعود سے،کویت میں آل صباح سے،قطر میں آل ثانی سے،امارات میں آل نہیان سے اور بحرین میں آل خلیفہ سے اس طرح کے معائدے کئے کہ اگر انہیں حکومت دی جائے تو وہ خطے میں استعماری مفادات کا تحفظ کریں گئے۔
ان معائدوں کے باعث مذکورہ خاندانوں کو مذکورہ ریاستوں میں حکومتیں سونپی گئیں اور مذکورہ حکومتوں نے اپنی بقاء اور استحکام کی خاطر استعمار کی ڈٹ کر حمایت اور مدد کی۔
تاریخی شواہد سے یہ بات ثابت ہے کہ۱۹۳۰ تک سعودی عرب براہ راست برطانوی مفادات کا محافظ تھا۔۱۹۳۰ میں امریکہ نے
کو اپنے ایک کارندے ارنسٹ فیشر کے ذریعے خریدا۔ John Fillby ایک برطانوی جاسوس ” جان فیلبی”
یہ شخص ۱۹۱۷ میں برطانیہ کی وزارت خارجہ میں ملازم ہواتھا اور تقریباً ۳۵ سال تک سعودی عرب میں ابن سعود کا مشیر رہاتھا۔اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نجد میں قدم رکھنے والا یہ پہلا یورپی باشندہ ہے۔یہ اپنے زمانے کا ایک بہترین لکھاری اور مصنف بھی تھا اور اس کی کئی کتابیں بھی منظر عام پر آئی تھیں۔
اسے مشرق وسطی کے بارے میں حکومت برطانیہ کی پالیسیوں سے اختلاف تھا جب یہ اختلاف شدید ہوگیا تو ۱۹۳۰ میں اس نے برطانوی سفارت سے استعفی دے دیا۔اس کے استعفی دیتے ہی اس کی تاک میں بیٹھے امریکی کارندے نے اس گلے لگا لیا۔اس نے ابتدائی طور پر تیل نکالنے والی ایک امریکی کمپنی میں مشاور کی حیثیت سے کام شروع کیا اور خاندان سعود سے دیرینہ تعلقات کی بنا پر سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تیل نکالنے کا ایک بڑا منصوبہ منظور کروایا جس سے برطانیہ کی بالادستی کو دھچکا لگا اور خطّے میں امریکی استعمار کی دھاک بیٹھ گئی۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ و سعودی عرب دونوں اپنے تعلقات کے سلسلے میں جان فیلبی کی خدمات کے معترف ہیں۔
اس وقت سعودی حکومت بحرین میں قتل و غارت کر کے ایک تیر سے دو شکار کر رہی ہے ۔ایک تو یہ کہ متشددانہ افکار کے باعث دوسرے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہوئے انہیں قتل کررہی ہے اور دوسرے یہ کہ استعماری مفادات کے دفاع کے لئے اپنے
“آن دی ریکارڈ ” معائدوں کو پورا کر رہی ہے جبکہ پاکستانی حکومت خواہ مخواہ سعودی عرب اور امریکہ کی شہ پر افغانستان کے بے بے گناہ مسلمانوں کی طرح بحرین کے مظلوم مسلمانوں کے خون میں بھی اپنے ہاتھ رنگناچاہتی ہے۔
بہر حال پاکستانی حکام بحرین میں لوگوں کے قتل عام کے لئے بھرتیاں کرتے ہوئے اتنا ضرور یادرکھیں کہ پاکستانیوں نے امریکہ اور سعودی عرب سے اسلام نہیں لیا لہذا کسی بھی پاکستانی کے دین کو ریّال اور ڈالر کے ذریعے نہیں خریدا جاسکتا۔پاکستانیوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے یا ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں وہ نہ ہی تو اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کو کافر اور واجب القتل کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنی مقدس زبانوں سے ہزاروںمسلمانوں کے قاتل کو ” مرحبا یا رسول الاسلام “کہہ سکتے ہیں۔
نذر حافی صاحب کے مندرجہ بالا مضمون “ آگ اور خون کے درمیان “ کو پڑھکر بحرین اور سعودی عرب کے ماضی اور حال کے متعلق بہت ساری حقیقتوں سے آگاہی ہوئی ۔
نذر حافی صاحب نے جس قدر تفصیل سے بحرین اور سعودی عرب کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے اس کو پڑھکر نذر حافی صاحب کی بے پناہ علمی قابلیت کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔ وہ ایک زبردست محقق بھی ہیں اور حق گو وبے باک انسان بھی : جزاک اللہ
۔۔۔۔۔۔
نذ ر حافی صاحب نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے کہنے پر پاکستان بھی اپنے سباہی بحرین بھجوارہا ہے اور ان سے بحرین کے باشندوں کی احتجاجی مہم دبانے کا کام لیا جارہا ہے ۔
نذر حافی صاحب کی اس خبر پر پورے پاکستان میں احتجاج ہو نا چاہیے کہ :
““آن دی ریکارڈ ” معائدوں کو پورا کر رہی ہے جبکہ پاکستانی حکومت خواہ مخواہ سعودی عرب اور امریکہ کی شہ پر افغانستان کے بے بے گناہ مسلمانوں کی طرح بحرین کے مظلوم مسلمانوں کے خون میں بھی اپنے ہاتھ رنگناچاہتی ہے۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتفاق کی بات ہے کہ میں اس ہی بلاگ میں 15 مارچ کو ، بحرین میں سعودی حکومت کی دخل اندازی پر اپنا تبصرہ پیش کرچکا ہوں جسے میں پھر سے اس بلاگ میں شامل کررہا ہوں :
بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے اپنے سپاہیوں کو بحرین کی حکومت کی مدد کے لیے بھیجوادیا ہے اور اب وہ بحرین کی سنی حکومت کی مدد کررہی ہے تاکہ وہ سعودی سپاہیوں کی مدد سے جمہوری عوام کے احتجاج کو کچل دے !!!
جہاں تک جمہوریت کے اصول کی بات ہے تو اس کا اطلاق ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم پر ہوتا ہے ۔
حیدرآباد دکن میں نظام ( عثمان علی خاں ) کی حکومت تھی مگر چونکہ اس ریاست میں ہندووں کی اکثریت تھی اس لیے ہندوستانی حکومت (نہرو اور ولبھ بھائی پٹیل ) نے اس حکومت پر یہ کہکر قبضہ کرلیا کہ یہاں جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ ہندو اکثریت ہی حکومت کرے ، مسلمانوں کا اس ملک پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ۔
مگر کشمیر کے بارے میں ہندوستانی حکومت نے اس کے برعکس کام کیا اور وہاں پر ہندووں کی اقلیت ( مسلمانوں کی اکثریت ) کے باوجود ، کشمیر کو ہندوستان کے قبضہ میں دے دیا صرف اس بہانے پر کہ وہاں کے ہندو راجہ نے کشمیر کا تعلق ہنوستان سے جوڑ دیا تھا ۔
اب بحرین میں شیعہ اکثریت ہے تو اس کا جمہوری حق ہے کہ وہ حکومت میں ایک نمایاں کردار ادا کرے مگر چونکہ بحرین کا بادشاہ سنی ہے اس لیے وہ یہ چاہتا ہے کہ چاہے کچھ ہو وہی اس جزیرے پر حکومت کرے ۔ ( یہ جمہوری اصول کے خلاف ہے ۔)
میرا خیال ہے کہ اگر بحرین کے باشندے ( شیعہ اور سنی ) آپس میں مل کر ایک نیا آئین بحرین کےلیے بنائیں جس کے ذریعہ جمہوریت کی حکومت ہو اور ہوسکے تو شاہی کا اسی طرح خاتمہ ہوجائے جس طرح ایران اور افغانستان ، مصر ، لیبیا ، عراق اور ترکی وغیرہ جیسے مسلمان ممالک میں ہوا تھا اس طرح بحرین میں بھی ایک جمہوری حکومت قائم ہو ۔ اگر یہ ناممکن ہے تو بحرین کا بادشاہ صرف برائے نام بادشاہ رہےاور تمام اقتدار ، جمہوری طاقتوں اور جمہوری نظام کو سونپ دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہی اچھا ہوتا اگر سعودی حکومت اپنے سباہی کشمیر کے مسلمانوں اور فلسطیں کے مسلمانوں کی مدد کے لیے بھیجتین اور وہا ن پر سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کرکے انکو شکست دیتیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خیال میں سعودی حکومت نے جو بحرین کےبادشاہ کی مدد کی کوشش اس لیے کی ہے کہ آئیندہ خود اس کی اپنی بادشاہت کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقبال نےکہا تھا کہ :
فرمانِ خدا ( فرشتوں سے )
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو چگادو
کاخِ اُمرا کے درو دیوار ہلادو
گرماو غلاموں کا لہو سوزِ یقیں سے
کنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑادو
سلطانی جمہور کا آتاہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹادو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ ء گندم کو جلادو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ :
نذر حافی صاحب کا مندرجہ بالا مضمون ( تبصرہ ) ایک نئےبلاگ کا متقاضی ہے ، کتنا اچھا ہوگا اگر عالمی اخبار کی انتظامیہ نذر حافی صاحب کو اس مضمون کو ایک بلاگ کی شکل میں پیش کرنے کی اجازت دے دیں !!!
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پاکستان کے اندر اسرائیل کی تشکیل
نذر حافی
nazarhaffi@yahoo.com
اس مرتبہ کے انتخابات ہماری قوم کی طرح طالبان کے لئے بھی نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اسلام کے ٹھیکیداروں نے اب تک ملت ِ پاکستان کا جتنا بھی قتلِ عام کیاہے اب وہ چاہتے ہیں کہ اس قتلِ عام کے صلے کے طور پرانہیں ایک سیاسی طاقت تسلیم کیا جائے اور اس طرح وہ ایک نام نہادسیاسی عمل سے گزر کر کے ملت پاکستان کے سینے پر چڑھ بیٹھیں ۔
امریکہ اور طالبان کے باہمی گٹھ جوڑ کے سینکڑوں شواہد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ۲۰۰۹میں جب پاک فوج نے وزیرستان میں آپریشن شروع کیا تو نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کردیں تاکہ وہاں سے افغانی با آسانی وزیرستان میں داخل ہو سکیں۔اس وقت وزیر داخلہ رحمان ملک نے بیان دیا کہ ہم نے اس بارے میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروادیاہے ۔
طالبان کے ہاتھوں نہ صرف یہ کہ امریکہ اپنے مفادات حاصل کررہاہے بلکہ طالبان ہر اسلام دشمن اور مسلم کش ملک اور ایجنسی کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں جیساکہ جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے طالبان سے جن میں افغانی طالبان بھی شامل تھے ان سے بھارتی کرنسی اور اسلحے کے علاوہ امریکہ کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے اور اس حقیقت کا انکشاف ۱۲جولائی ۲۰۰۹ کو پاکستانی اخبارات نے کیا ۔
اسی طرح نومبر 2009ءمیں ہی پاک فوج کے ترجمان اطہر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیرستان میں جاری آپریشن راہ نجات کے دوران بھارتی روابط کے ناقابل تردید ثبوت ملے ہیں۔ دہشت گردوں کے زیرِ استعمال بھارتی لیٹریچر اور اسلحہ بھی پکڑا گیا ہے۔ان کے مطابق مناسب کاروائی کے لئے یہ شواہد وزارت خارجہ کو بھجوا دیے گئے تھے۔
جب اس طرح کے حقائق مسلسل منظرِ عام پر آنے لگے تو طالبان کو تحفظ دینے کی خاطر ہمارے حکومتی اداروں میں بیٹھے ہوئے طالبان نواز کارندوں نےطالبان کو کئی ناموں اور ٹولوں میں تقسیم کردیا،مثلا ،افغانی طالبان،پٹھان طالبان،مہاجر طالبان،پنجابی طالبان،سندھی طالبان۔۔۔ پاکستانی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ میں طالبان کو 34 تنظیموں میں تقسیم کیا گیا ۔
یہ سب طالبان کی مدد کرنے کی بہترین چال ہے تاکہ لوگوں سے کہاجائے کہ فلاں طالبان برے ہیں اور فلاں طالبان تو بہت نیک،متقی اور اللہ والے ہیں۔
اسی طرح طالبان نے بھی اپنے استعماری آقاوں کو خوش کرنے کے لئے بری امام سے لے کر عبداللہ شاہ غازی تک اور مام بارگاہوں سے لے کر مساجد تک بے دردی کے ساتھ بے گناہ انسانوں کا قتلِ عام کیاہے ،انہوں نے مخلص اور دیانتدار سرکاری افیسروں کو موت کے گھاٹ اتار کر ملت پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہچایا،انہوں نے فرقہ واریت کا جھوٹا نعرہ لگاکر ہماری ملت کو بہترین ڈاکٹروں،انجینئروں ،پروفیسروں اور شعرا سے محروم کیا۔
طالبان کے جرائم کی فہرست صرف طویل ہی نہیں بلکہ وحشتناک بھی ہے۔طالبان نے عوام الناس کا صرف قتلِ عام نہیں کیا بلکہ وحشت و بربریت کی دل دہلا دینے والی داستانیں رقم کی ہیں۔طالبان نے نہتے اور بے گناہ انسانوں پر ایسے ایسے مظالم کے پہاڑ توڑے کہ جنکے ذکر سے ہی پتھروں کا جگر بھی آب ہوجاتاہے اور ہلاکو اور چنگیز کا سر بھی شرم سے جھک جاتاہے۔
آپ صرف اور صرف ۱۴ اگست ۲۰۰۷ کو طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے ” لانس نائیک لائق حسین” کے قتل کے درد ناک مناظر کو دیکھیں۔پاکستان کے یومِ آزادی کے روز دشمنان پاکستان نے اس فرزندِ اسلام اور فرزندِ پاکستان کو اس بے دردی کے ساتھ ذبح کیا کہ اب رہتی دنیا تک جب بھی درندگی اور بربریت کی مثال دی جائے گی ،سب سے پہلے ” لانس نائیک لائق حسین” کی شہادت کا ذکر ہوا کرے گا۔
اگر طالبان کی کوئی دینی بنیاد ہوتی تو وہ کم از کم اتنا توسوچتے کہ اس طرح بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے کی دین اجازت نہیں دیتا۔بلکہ بانی اسلام حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت تو یہ ہے کہ آپ [ص] حالتِ جنگ میں بھی سپہ سالاروں کو حکم دیاکرتے تھے کہ خبردار کوئی بے گناہ انسان نہ مارا جائے،بھاگتے ہوئے کا پیچھا نہیں کرنا،جو دروازہ بند کردے اسے کچھ نہیں کہنا،کسی زخمی پر تلوار نہیں کھینچنا،خواتین اور بچوں پر ہاتھ نہیں اٹھانا،فصلوں کو تباہ نہیں کرنا اور اسیروں کو قتل نہیں کرنا۔دینِ اسلام میں اگر جانور کو بھی ذبح کیا جائے تو اس کے بھی خاص احکامات ہیں اور ان میں سے بھی ایک خاص حکم یہ ہے کہ جانور کو پہلے پانی پلاو۔شکار کے لئے بھی حکم ہے کہ محض سیر و تفریح کے لئے جانوروں کی جانوں کا اسراف نہ کرو۔
کہاں دینِ اسلام کی کریمانہ تعلیمات اور کہاں طالبان کا وحشی پن۔طالبان کے کرتوت ہم سب کے سامنے ہیں ۔یہ لوگ فکری اور عملی طور پر پیغمر اسلام ﷺ کے عین مخالف ہیں۔درندگی ان کا دین ہے،وحشت و بربریت ان کی شریعت ہے اور ظلم و ستم ان کی سیرت ہے۔
موجودہ دور میں دنیا کے اندر طالبان کی طرز کا بے دین اور وحشی صرف اور صرف ایک گروہ ہے جسے “صیہونی”کہاجاتاہے۔جس طرح طالبان اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن دین اسلام کے عین مخالف ہیں،اسی طرح صیہونی بھی اپنے آپ کو یہودی کہتے ہیں لیکن عملی طور پر دین یہودیت کے عین خلاف ہیں اور دونوں کی قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں امریکہ و برطانیہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔جس طرح مسلمان طالبان سے بیزار ہیں اسی طرح یہودی بھی صیہونیوں سے متنفر ہیں۔
طالبان اور صیہونیوں کے جنم اور باہمی اتحاد کا حقیقی نقشہ کچھ اس طرح سے ہے کہ موجودہ دور میں استعماری دنیا اچھی طرح یہ جانتی ہے کہ اگر اسرائیل کا خاتمہ ہوگیا تو اسلامی دنیا سے استعماری مفادات کی بساط لپٹ جائے گی۔چنانچہ امریکہ و برطانیہ اسرائیل کو ہر صورت میں قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اس وقت وہ پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ اسرائیل کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
دنیاء اسلام کے قلب میں واقع ہونے کے باعث اسرائیل کو حقیقی خطرہ صرف اور صرف مسلمانوں سے ہے۔استعماری طاقتوں کومسلمانوں کے درمیان ایک ایسے طبقے کی ضرورت تھی جو بظاہر نہ صرف یہ کہ مسلمان ہو بلکہ خوارج کی طرح ایک ٹھوس قسم کا سچا اور پکا مسلمان نیز مجاہدبھی ہو جبکہ فکری طور پر مکمل صیہونی ہو اور مسلمانوں کے درمیان رہ کر صیہونی مفادات کا تحفظ کرے۔
اسرائیل کے تحفظ کی خاطرلوگوں کو اسلام اور جہاد سے متنفر کرناامریکہ و برطانیہ کے لئے ضروری ہوچکاہے۔ انہیں ایک ایسے گروہ کی ضرورت تھی جو مسلمان اور مجاہد بن کر لوگوں پر اس قدر شب خون مارے کہ،چرچ،کلیسا،عوامی مراکز،بازار، مساجد،امام بارگاہیں اور اولیاء کرام کے مزارات سمیت کچھ بھی محفوظ نہ رہے تاکہ مسلمانوں کو اسرائیل کے خاتمے کے بجائے اپنی زندگی کی فکر پڑجائے۔
اس گروہ کی تشکیل کے مراحل سعودی عرب اورپاکستان کے استعمار نوازحکمرانوں کی باہمی رضامندی سے انجام پائے اور پھر سادہ لوح مسلمانوں کے مخلص اور دیندار بچوں کو دینی مدارس کے سائے میں جہادی کیمپوں میں بھرتی کیا جانے لگا۔ان جہادی کیمپوں کی آوٹ پٹ آج ہم سب کے سامنے ہے جسے دیکھ کر ہم بخوبی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کیمپوں میں بھرتی کئے جانے والے بچوں کو سو فی صد صیہونیت کے عقائد کے مطابق تربیت دی گئی ہے۔
یہاں پر یہ عرض کرتا چلوں کہ اگر کسی کو صیہونیت و طالبان کے فکری و عقیدتی رابطے کا یقین نہ آئےتو وہ دل کھول کر تاریخ صیہونیت اور تاریخ طالبان پر تحقیق کرئے اور پھر بلاتعصب صیہونی عقائد و افکار کا طالبان کے عقائد و افکار کے ساتھ موازنہ کرلے۔
ہر تجزیہ و تحلیل اور ریسرچ و تحقیق کرنے والا بہت جلد اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ جوکام ماضی میں منحرف یہودی کرتے تھے ،مثلاً لوگوں کے گلے کاٹنا،عوامی مراکز کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا،مستحکم ممالک کو متزلزل کرنا،عورتوں کا استحصال کرنا،دین کے نام پر لوگوں کو ظلم و بربریت کی طرف دعوت دینا،پر امن بستیوں کو آن واحد میں کھنڈر بنا دینا،اپنے سوا باقی سب کو گمراہ سمجھنا،دوسرے مکاتب کے مفکرین اور سکالرز کو قتل کرنا،لاشوں کو درختوں اور بجلی کے کھمبوں لٹکانا،پرامن بستیوں میں خوف و ہراس پھیلانا،انسانوں کو جانوروں کی طرح ہلاک کرنا اور آستین کا سانپ بن کر ڈسنا ۔۔۔وغیرہ وغیرہ آج یہ سارے کام استعماری جہادی کیمپوںمیں تربیت پانے والے طالبان کررہے ہیں اور ان کا ادعا ہے کہ وہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔۔۔۔۔
اس وقت استعماری ایجنڈے کے مطابق طالبان کو میدان سیاست میں لانے کا کام کیاجارہاہے اور شاید یہ طالبان کے ساتھ کئے گئے امریکہ کے خفیہ معاہدوں کی تکمیل کا ایک مرحلہ بھی ہو۔ممکن ہےطالبان کو امریکہ پاکستانیوں کے قتل عام کا صلہ انہیں پاکستانی سیاست میں شمولیت کی صورت میں دینا چاہتاہو بالکل ایسے ہی جیسے یہودیوں کو نام نہاد ہولو کاسٹ کا صلہ اسرائیل کی صورت میں دیاگیا۔
پاکستان کے اندر بدمعاشی اور غنڈہ گردی کی بنیاد پر ایک اسرائیل نما ریاست تشکیل دینے کے لئے اس وقت طالبان کی امیدوں کے تین محور ہیں۔ایک محور کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان،نواز شریف،مولانا فضل الرحمن اور منور حسن جیسی شخصیات تشکیل دیتی ہیں۔ایسے لوگ ڈنکے کی چوٹ پر طالبان کو ایوانِ اقتدار میں بٹھانے کی باتیں کرتے ہیں۔دوسرا محور عام لوگوں کی نظر سے مخفی ہے،یہ محور اُن لوگوں سے تشکیل پاتاہے جو بظاہر طالبان کے شدید مخالف ہیں لیکن درپردہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے اور اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لئے طالبان کے سیاسی پارٹنر ہیں۔یہ عوام النّاس کو دبے لفظوں میں طالبان سے ڈراتے ہیں اور انہیں مشورے کے طور پر یہ سمجھاتے ہیں کہ اگر طالبان سے مذاکرات نہ کئے گئے تو نہ ہی یہ قتل و غارت رک سکتی ہے اور نہ ہی ملک کی حالت تبدیل ہوسکتی ہے۔یہ لوگ خود بھی طالبان کی مانند کشت و خون پر عمل پیراہیں اور پاکستان کی سیاست میں دہشت گردی کے ذریعے داخل ہونے کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں۔چنانچہ عوامی سطح پر یہ لوگ طالبان کو اقتدار میں لانے کے لئے ماحول بنانے میں سرگرمِ عمل ہیں۔
طالبان کی امیدوں کا تیسرا محور نگران حکومت ہے۔ نگران حکومت کے دوران طالبان کی پوری کوشش رہے گی کہ ظالمانہ کاروائیوں میں اور زیادہ شدت لائی جائے تاکہ انتخابات کے بروقت انعقاد کے لئے نگران حکومت، طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے مجبور ہوجائے ۔
ہم جس علاقے اور فرقے سے بھی تعلق رکھتے ہوں ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ اگر آج اتنے بے گناہ انسانوں کے قتل کے بعد طالبان کو اقتدار اور سیاست میں شمولیت کاا نعام دیا گیا تو کل کو کئی اور دہشت گرد گروپ سامنے آجائیں گے اور اقتدار اور سیاست میں شمولیت کا مطالبہ کریں گے۔یوں دہشت گردی منظم طریقے سے ہماری سیاست کاحصہ بن جائیگی اور پاکستان کے اندر ایک اور اسرائیل جنم لے لے گا۔
پاکستان میں ایک نئے اسرائیل کی تشکیل کی استعماری سازش کو روکنا ہم سب کی دینی و ملی ذمہ داری ہے۔
کتاب زندگی جینے کا سلیقہ سیکھاتی ہے ساتھ ہی ساتھ کامیاب زندگی گزارنے کے اصول بھی بتاتی ہے
ہر دور میں کتاب اہمیت و افادیت کی حامل رہی ہے
بلکہ اللہ نے اپنے بندوں تک کتاب ہی کے.ذریعے احکام پہنچائے ہیں