عظمی محمود نے کہا ہے:
May 19, 2009 بوقت 1:07 am
سلام علیم
جنابہ پنہان صاحبہ کی ہمت افزائ کے بعد ایک غزل کے چند شعر پیش کرتی ہوں امید کہ کسی قابل ہوں گے
جب کلی پھول ہو گئ یوں ہی
پھول سے دھول ہو گئ یوں ہی
اسکے طرزِ عمل سے کیا شکوہ ؟؟
میں ہی معمول ہو گئ یوں ہی
دوستی مشغلے کے طور ہوئ
پھر میں مشغول ہو گئ یوں ہی
سارے خیمے کا بوجھ مجھ پہ لد ا
جب میں مستول ہو گئ یوں ہی
میں نے چھوٹا سا احتجاج کیا
بات میں طول ہو گئ یوں ہی
حال ، عظمی’ نہ میرا ہوتا برا
مجھ سے کچھ بھول ہو گئ یوں ہی
اپنے مشورون سے نوازیں شکریہ
عظمی’ محمود رضوی شودر لینڈ ٹکساس
Dr.Pinhaan نے کہا ہے:
May 19, 2009 بوقت 1:40 am
عظمٰی محمود رضوی صاحبہ
واہ واہ واہ کیا کہنے ۔جتنی تعریف کروں کم ھے۔اور میں سرے عام صرف تعریف ھی کرتی ھوں ۔اصلاح یا مشورہ سرے
عام نہیں دیتی۔ اس سے تخلیق کا تقدس مجروح ھوتا ھے۔اصلاح و تر میم کے معیاری اور نتیجہ خیز عمل کے لئے تھوڑا سا لحاظ تھوڑا سا حجاب تھورڑا سا تخلیہ ضروری ھوتا ھے۔یہاں صرف اتنا کہوں گی کہ اپنی توقع سے کہیں زیادہ بڑھ کے پایا آپ کو ۔اللاہ کرے زورِ قلم اور زیادہ بلکہ بہت زیادہ۔ واہ واہ واہ ۔بہت خوب ۔کہیں آپ کو میری نظر نہ لگ جائے۔پہلا کام یہ کہ کسی سے اپنی اور اس غزل کی نظر اتروا لیجیے۔
۔
پنہاںؔ
عظمی محمود نے کہا ہے:
May 19, 2009 بوقت 2:07 am
سلام علیکم
پنہان صاحبہ مین تو بس یہ کہہ سکتی ہون کہ
ایک اہلِ نظر نے مجھ کو چنا
پھر میں مقبول ہوگئ یوں ہی
مہربانی آپکی
عظمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منظور قاضی 19 مئی کو یہ کہا :
میں انتہائی عزت اور احترام کے ساتھ عظمی محمود صاحبہ کے کلام کو پنہاں صاحبہ کے تعمیری تبصرے کے ساتھ اس بلاگ میں پیش کرتا ہوں اور اس بلاگ کو محترمہ عظمی محمود صاحبہ کے نام منسوب کر تا ہوں ۔
انکی شاعری اور خاص طورپر انکا یہ شعر قابل تعریف ہے:
ایک اہل نظر نے مجھ کو چنا
پھر میں مقبول ہوگئی یوں بھی
۔۔۔۔
اللہ عظمی محمود صاحبہ کا زور سخن اور زیادہ کرے اور انکے کلام کو مقبولیت عام اور حیات دوام عطا کرے ۔
وہ خوش نصیب ہیں کہ ان کو پنہاں صاحبہ کی ہمت افزائی نصیب ہوئی ۔ وہ اس با ت کو فخر کے ساتھ اپنے بہی خواہوں کے سامنے کہ سکتی ہیں۔
۔۔۔۔
اب عظمی محمود صاحبہ سے گذارش ہے کہ وہ اس بلاگ میں اپنا کلام لکھتی رہیں او ر اس بلاگ کی افادیت میں اضافہ کر تی رہیں ۔
فقط :
خیر اندیش
منظور قاضی میونخ کی ایک قریبی بستی سے

سلام علیکم
مجھ ناچیز عظمی’ کو اتنی توجہ سے نوازنے کا شکریہ
جناب منظور قاضی بھائ صاحب نے جس طرح میری رہنمائ فرمائ اس کے خلوص میں کوئ شک ہی نہیں
انہوں نے اس بلاگ میں اپنے اشعار بطور نمونہ درج کیےّ ہیں یہ ان کی نیک نیتی ہے جس سے مجھے بخدا بہت تقویت ملی اور ہمت افزائ ہوئ
یہ اشعار انہی کے ہیں اور شاہ نور صاحب نے جو شعر لکھا ہے وہ انہی کا ہے قا نونا” اور اصولا” میں ان دونوں حضرات کے کلام کو اپنے کلام میں ضم کرکے ٹاٹ میں مخمل کے پہوند لگا ؤ ں گی تو پڑھنے والوں کو فورا” فرق معلوم ہو جا ییّے گا
کسی کی زمین میں کچھ لکھنا معیوب بات نہین میں نے ابھی ابھی جنابہ پنھاں کے شروع کردہ بلاگ میں انکی ہی زمین میں کچھ لکھا ھے جس کا انہوں نے قطعی برا نہیں مانا بلکہ حوصلہ افزائ ہی کی ہے
نوزایدگی سے لے کر بڑھاپے تک ہم ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہی رہتے ہین اور میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے جنابہ پنھان صاحبہ اور قاضی صاحب
دیسے اساتذہ کی توجہ حاصل ہے
اب جبکہ قاضی صاحب نے اس بلاگ کو ختم کرنے کا تزکرہ کیا ہے اور پنھاں صاحبہ نے میرے لیےّ ایک نیا بلاگ شروع کردیا ہے تو انشاللہ آپ حضرات سے اس بلاگ میں ملاقات ہوا کرے گی
کنول صاحبہ اگر آپ بھی اپنا کچھ کلام عنایت کرنا چاہیں تو عین نوازش ہوگی اسی طرح چراغ سے چراغ جلتے ہیں آپ کی توجہ کا شکریہ
کنول صا حبہ میں اکژ ٹورنٹو میں ہوتی ہوں انشا للہ آپ سے عنقریب ملاقات کا شرف حاصل کرون گی آپ میرے والد ڈا کٹر محمود سے واقف ہون گیں انکی پریکٹس سے سینکڑوں د یسی مستفید ہو چکے ہیں
بطورتزکرہ میرے نام میں محمود میرے والد صاحب کا نام ہے آپ سب کی عظمی’ محمود
جب تک عظمی محمودصاحبہ اس بلاگ میں ( جسے میں انکے کلام کے لیے شروع کیا ہوں ) واپس تشریف نہیں لاتیں میں کنوال خا ںصاحبہ سے درخواست کرتاہوں کہ وہ اپنا کلام اس بلاگ میں عطا فرمائیں۔
اس کے بعد اگر کنول صاحبہ کی خواہش ہو کہ ان کے لیے ایک الگ بلاگ کھولا جائے تو وہ بھی ہوسکتا ہے۔
مجھے یا عالمی اخبار کے کسی بھی بلاگ نگار سے رابطہ کرکے وہ اپنی خواہش کا اظہا ر کرسکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر عظمی محمود صاحبہ ،پنہاں صاحبہ کی رہنمائی میں انکے ہی بلاگ میں رہنا پسند کرتی ہیں تو یہ تو انکی خوش نصیبی ہے کہ انکو اتنی اچھی رہبری مل گئی۔
عظمی محمود صاحبہ سے درخواست ہے کہ وہ اپنی اولین فرصت میں اس پورے بلاگ کو اپنے ای میل کے پتہ پر منتقل کرکے ہمیشہ کےلیے محفو ظ کرلیں اس لیے کہ یہ یاد گار بلاگ آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہونے والا ہے یاپھر ان تبصروں میں گم ہونے والا ہے جن کی کوئی افادیت نہیں۔
۔۔۔۔
فقط:
عظمی محمود صاحبہ اور پنہاں صاحبہ سے اور کنول خان صاحبہ سے ادب اور احترام کے ساتھ
منظور قاضی از جرمنی
عظمی محمود صاحبہ کا تازہ تبصرہ پڑھکر اس لیے خوشی ہوئی کہ انہوں نے میری نیت کے خلوص کو محسوس کیا اور مجھے اپنا مخلص اور خیر خواہ سمجھا ۔
چونکہ عظمی محمود صاحبہ ، پنہاں صاحبہ کے بلاگ میں رہنے کا ارادہ ظاہر کررہی ہیں اس لیے اس بلاگ کا ختم ہوجانا ہی اچھا ہے ۔
کنول خان صاحبہ کو عظمی محمود صاحبہ کی دعوت مبارک ہو ۔ اب وہ بھی انکے بلاگ میں اپنا کلام عطا کرنا چاہتی ہیں تو ضرور کریں۔
ہم سب انتظار کرینگے۔
عظمی محمود صاحبہ کو شکریہ کے ساتھ :
خیر اندیش
منظور قاضی از جرمنی
جناب منظور قاضی صاحب
سلام علیکم
عنایتوں کا شکریہ
مجھے اگر معلوم ہوجاے کہ اس بلاگ کو ای میل پر کس طرح محفوظ کیا جاتا ہے تو بہت مہربانی ہوگی
میرا ای میل کا پتہ حاضر ہے
uzmamehmood@live.com
شکریہ
عظمی’
عظمی محمود صاحبہ کی اطلا ع کے لیے عرض ہےکہ میں ابھی ابھی اس بلاگ کی لنک کو انکے ای میل کے پتہ پر روانہ کرچکا ہوں۔ مل جائے تو اس بلاگ کے ذریعہ اطلاع دیے دیں اور اگر نہ ملے تو بھی اطلاع دے دیں تاکہ پھر سے روانہ کرسکوں
عظمی محمود صاحبہ اپنا وہ بلاگ جس کو پنہاں صاحبہ نے اپنے نام کے ساتھ شروع کیا ہے اسکو اس طریقہ سے اپنے ای میل کے پتہ پر اس طرح بھجوا سکتی ہیں ( اگر اس میں مشکل پیش آئے تو مجھے لکھدیں تاکہ میں اسے ان تک پہنچا دوں ):
1۔ اپنے کمپیو ٹر کی با ئیں طرف انکو اوپر کی دوسری لائن میں لفظ file نظر آئے گا ۔ اس کو کلک کیجئے
2۔ ایک لسٹ نمو دار ہوگی جس میں آپ کو لفظ send نظر آئے گا ۔ اس کو چک کریں تو آپ کو بھیجنے کے تین طریقہ نظر آیینگے: ان میں سے آپ کی مرضی کہ آپ اسکو ای میل by page بھجوانا چاہتی ہیں یا by link بھجوانا چاہتی ہیں ۔
3۔ آپ اپنی سہولت کے لیے by link کو کلک کوکے اس کو ای میل کے لیے تیار کرسکتی ہیں ، ( یا by page کے لیے بھی تیا ر کرسکتی ہیں )
4، جب آپ کو ای میل کا صفحہ نظر آئے جس میں یہ لنک موجود ہو تو پھر آپ اس پر اپنے ای میل کا پتہ لکھکر send کو کلک کردیں
۔۔۔۔
دعا ہے کہ آپ جہاں بھی رہیں خوش رہیں
خیر اندیش
منظور قاضی از جرمنی
جناب منظور قاصی بھائ صاحب
سلام علیکم
آپ جیسے کرمفرما ؤن کا اس اخبار میں بلکہ دنیا میں دم غنیمت ہے ورنہ گزشتہ دنوں جو کچھ یہاں ہوا اس دوران آپ حصرات کی موجودگی کی وجہ سے ہی اس بلاگ میں قیام گوارا رہا سچ ہے
” جو خمار منہا کرد و تو شراب پی نہ جا یےّء
آپکی ممنون احسان عظمی’
اسلام علیکم
معزرت چاھتی ہوں کچھ وقفہ کے بعد حاضزر ہو رھی ہوں۔ جنابِ منظور قاضی صاحب آپ کی دل سے شکرُ گزار ہوں۔ کہ آپ نے مجھ ناچیز کو کچھ کہنے کی دعوت دی۔ لیکن وہ کیا ہے کہ لکھتے اور کہتے تو ماشااللہ آپ جیسے بڑے شاعر ہیں۔ ھم تو پڑھنے والوں میں سے ہیں ۔ ھاں البتہ اگر کُچھ تُک بندی کرنے کی کوشش کریں تو وہ واللہ ھمارا تُک۔۔۔۔۔ کمان سے نکلا تیر بن جاتا ہے۔ اور ھماری اِردو زبان سے عشق کے سینہ میں گڑھ جاتا ہے۔ سو قصہ مختصر ھم اپنی پے تکی شاعری سے دنیا کو محفوظ کئے ہوئے ہیں۔ دیکھں یہ کوشش کب تک جاری رہتی ہے۔
شکریہ آپکی دعاوں کی طالبہ
کنول خان
تعجب ھے ک محتزمہ عظمی محمود جو کے درآصل ڈاکٹر عظمی محمود ھیں اور سینکڑوں لوگ انکی مسیحائ سے مُستفید ھو چُکے ھیں۔ آپ نے اپنا تعارف پورا کیوں نھی کروایا؟
سلام علیکم کنول صا حبہ
آپ نے ا پنے کلام کو تک بندی قرار دی ہےیعنی بقول آپکے ” اپنی تک بندی سے دنیا کو محفوظ کیئے ہو یےء ہو ں ” تو اتنی حفاظت بھی ٹھیک نہیں
بقول علامہ اقبال مرحوم کے
لازم ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنھا بھی چھوڑ دے
آپ یہاں اپنی کا وشیں روانہ کریں
عین نوازش ہوگی
عظمی’
تسلیمات
ز ہے نصیب عظمٰی جی۔کیا بات ہے آپ ، قاضی ضاحب اور پنہاں جی سپ ہی نے مجھ نا چیژ کو اتنے پیار سے خلوصِ دل سے مخاطب کیا کے بتا نہں سکتی۔ آپ سب مہربانوں کے درمیان بہت اچھا لگتا ہے۔ لیکن واقعی میںبہت off Keyہوں۔
jo teray meray hay dermiaan
bass usi ki dost meray baat kar
jo hum main tum main nahi raha
jo guzar gia usay bhool jay
مقیل جعفری صاحب۔۔۔۔۔۔۔اس میں تعجب کی کیا بات ھے۔ عظمٰی جی ہمارے درمیان شاعرہ ہیں ۔ اُن کے اور اوصاف بھی آہستہ آہستہ ھمیں معلوم ھو جائیں گے۔
آپ سبکی اپنی
کنول خان
firstly i am sorry for not writing in urdu as it takes hell of time to write a single paragraph, hats off to you guys that how you manage to write such big paragraphs. excellent 🙂 , anyways it was a nice little poem from lady kanwal, i am not a writer but yes a reader and a big fam of Dr Uzma’s writtings. all i wanted to say you guys, keep up the good work..en stay bright 🙂
سلام علیکم
مقبل صاحب آپ کی زرہ نوازی کا۔ یہاں ما شاللہ ہر ایک شخص تعلیم یافتہ اور پروفیشنل ہے ۔ بات اگر ادب اور شاعری کی ہو تو کسی کا زریعہ معاش اک زکر غیر ضروری ہوتا ہے۔ استاد قمر جلالوی سا یکلو ں کے ٹا یر ون میں پنکچر لگا تے تھے اور احسان دانش اپنی پیٹ پر چونے کی بوریاں ڈھوتے تھے مگر آج انکا نام بڑے بڑے ڈاکٹروں اور انجینروں سے زیادہ مشہور ہے
دعا کریں کہ خدا مجھے بھی کسب علم سے عزت کمانے کا موقع عطا کرے
بقول اساد زوق
رہتا سخن سے نام پیا مت تلک ہے ذوق
اولا د سے یہی کوئ دو پشت ، چار پشت
آپ سب کی ممنون
عظمی’ محمود از ٹورینٹو کینڈا
معاف کریں
اصل مصرعہ ہے
رہتا سخن سے نام قیا مت تلک ہے ذوق
عظمی’
معافی چاہتا ہوں کہ دوسرے بلاگوں نے مجھے ایسا مصروف رکھا کہ اس بلاگ پر نظر نہ ڈال سکا ۔
یہ بڑی ہی خوشی کی بات ہے عظمی محمود صاحبہ بقول مقیل جعفری ، ڈاکٹر بھی ہیں اور سینکڑوں لوگو ں کی مسیحائی کرچکی ہیں۔ ماشا اللہ ، سبحان اللہ ۔ اللہ کرے زورِ شفا اور زیادہ ۔ ایک اچھی ڈاکٹر اور ایک اچھی شاعرہ یہ تو بہت ہی اچھا امتزاج ہے۔ ( ڈلس میں ایک ڈاکٹر عامر بھی اردو کے اچھے شاعر ہیں اور ڈاکٹر امان اللہ نے تو اپنی شاعری پنجابی میں کی ہے اور ایک کتا ب بھی تصنیف کرچکے ہیں) ۔
ماریہ علی کاظمی بھی دانتوں کی ڈاکٹر ہییں اور شعر بھی لکھتی ہیں ۔ عالمی اخبار کے کنییڈین بیورو کے شمس جیلانی صاحب بھی ماشا اللہ ڈاکٹر ہیں اور شاعر بھی ہیں اور ماہر نفسیات عالمی اخبار کی مدیرہ ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ بھی ڈاکٹر ہیں اور بے حد موثر شاعری بھی کرتی ہیں ۔
حسرت موہانی کی طرح چکی کی مشقت اور تخلیق فن دونوں جاری رکھنا چاہیے ۔
۔۔۔
کنول خان صاحبہ تو اچھی خاصی شاعری کرتی ہیں ۔ ماشا اللہ سبحان اللہ :
” جو ترے مرے ہے درمیاں
بس اسی کی دوست مرے بات کر
جو ہم میں تم میں نہیں رہا
وہ گذر گیا ، اسے بھول جا ”
اس مختصر مگر جامع بند میں کنول خا ں صاحبہ نے بہت کچھ کہ دیا ہے ۔ ماشا اللہ اگر وہ ایسا ہی لکھتی رہیں اور اپنے تخلیقات کو کھل کر ان بلاگوں میں اردو فانٹ میں عطا کرتی رہیں تو نہ صرف انکی مشق بڑھے گی بلکہ ان کے کلام سے سب مستفید بھی ہوسکینگے۔
اگر یہ کنول خان صاحبہ کی ابتدا ہے تو ماشااللہ مستقبل بھی شاندا ر ہوگا ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
وہ یہ محسو س کرکے خوش ہونگی کہ عالمی اخبار میں سب اہل سخن ایک دوسرے کی ہمت افزائی کرتےہیں
۔۔۔۔۔
خیر اندیش
منظور قاضی از جرمنی
جنابِ محترم قاضی صاحب
اسلامُ علیکم
آپ نے مجھ ناچیز کی جو اتنی حوصلہ افزائی کی اُس کے لئے میں تحدل سے شکر گزار ہوں۔ میرے اِس بند کا آخری شعر کچھ یوں ہے۔
جو ترے مرے ہے درمیاں
بس اسی کی دوست مرے بات کر
جو ہم میں تم میں نہیں رہا
جو گذر گیا ، اسے بھول جا ”
بہت خوشی ہوئی سن کر کے عظمٰی جی ڈاکٹر ہیں ۔ ماشااللہ۔
ہم تو یہاں آنے اور بلاگ میں شرکت کرنے والے سبہی کے لیے دعاِ خیر کرتے ہین۔
آپ سب کی دعاؤں کی طالبہ
کنول خان۔ از کینڈا۔
کنول خاں صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے میری کتابت کی غلطی کو درست کیا ۔
ان کا بند بار بار پڑھنے اور لطف اٹھا نے کے قابل ہے ۔
“جو گذر گیا، اسے بھول جا ”
ہت خوب ، بہت اچھے :
اب کنول خاںصاحبہ اسی طرح اپنے اشعار ” اردو فانٹ میں( رومن اردو میں نہیں) اس بلاگ میں یا پھر عالمی اخبار کے بلاگوں میں پیش کرتی رہیں تو خوشی ہوگی۔
سنتے ہیں کہ ٹورنٹو ، کینیڈا اردو ادب اور شاعری کا گہوارہ ہے۔ یقینی طور پر آپ وہاں کی ادبی محفلوں میںاور مشاعروں میں شرکت کرتی ہونگی ۔ ہونگی۔
اگر آپ و ہاں کی ادبی سرگرمیوں کا حال لکھتی رہیں تو کینیڈا سے باہر رہنے والوں کے علم میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔
مشکل یہ ہے کہ امریکہ اور کینیڈا والے اپنی ہی دنیا میں ایسےمگن ہیں کہ وہ اپنے ادبی کارناموں اور محفلوں کا حال دنیا کو بتا تے ہی نہیں۔
۔۔۔
فقط :
خیر اندیش
منظور قاضی از جرمنی
سلام علیکم
جناب منظور قاضی صاحب سلام علیکم
کنول صاحبہ سے میں با قاعدہ مل چکی ہوں آجکل میں بھی کینڈا میں ،وں کنول صاحبہ جتنی پیاری باتیں اور اشعار لکھتی ،یں اس سے کہییں زیادہ خوبصورت شخصیت کی مالک ہیں اور اشعار بھی اچھے لکھ لیتی ہیں
آپ کی رہنمائ میں مانشاعللہ ان کی شاعری اور نکھرسکتی ہے
مٰن نے کنول صاحبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آپ یا محترمہ پنہاں سے اصلاح لے لیا کریں
دنیا میں اچھی شاعرات کی کمی ہے ان سے ایک گراں قدر اضافہ ،و سکتا ،ے
نا چیز عظمی’
عظمی محمود صاحبہ نے جو خوشخبری سنائی ہے وہ ہم سب کے لیے عید کا درجہ رکھتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ان سے مل چکی ہیں اور انکی شخصیت انکے خوبصورت کلام کی عکاسی کرتی ہے ۔
عظمی محموع صاحبہ نے یہ کہکر مجھے مشکل میں ڈالدیا کہ و ہ پنہاں صاحبہ سے یا مجھ سے اپنے کلام کی اصلا ح لیا کریں ۔
یہ اصلاح دینا میرے بس کی بات نہیں ۔ میں خود اپنی تحریر کو بار بار پڑھکر اسکی تصحیح کیے جاتا ہوں اور اس کے بعد ” تبصرہ کریں” کا بٹن دبا تا ہوں۔
میرا اپنے اندر چھپا ہوا نقاد ہی میرا استا د ہے اور جس طرح عظمی محمود صاحبہ اور مسعود قاضی صاحب کرتے ہیں اسی طرح کنول خان صاحبہ اپنی تحریر کو ایک نقاد کی نظر سے دیکھکر بار بار اپنےآپ سے یہ پوچھتی رہیں کہ اس خیال کو ان الفاظ سے بہتر الفاظ میں اور انداز میں کس طرح پیش کیا جاسکتا ہے ، وہی ان کے کلام کے اصلاح کےلیے کافی ہے۔ ویسے وہ ہر قسم کے سوالات کو ہر دانشور اور سخنور سے پوچھ سکتی ہیں اور انکے جوابات حاصل کرسکتی ہیں۔
کنول خاں صاحبہ سے کہیے کہ بسم اللہ کرکے بلا کسی خوف کے اس بلاگ میں یا عظمی محمود صاحبہ کے الگ بلاگ میں اپنے اشعار لکھیں اس کے بعد انکی پذیرائی کا کام پڑھنے والوں پر سونپ دین۔
ہوسکے تو کنول خاںصاحبہ اپنا کلام عظمی محمود صاحبہ کو بھی دکھاتی رہیں اس لیے کہ ماشااللہ عظمی محمود صاحبہ بھی اچھے شعر کہنے کا مظاہر ہ کرچکی ہیں ۔
دعاوں کے ساتھ
منظور قاضی از جرمنی
اوپر کے تبصرہ میں کمپوزنگ کی غلطیوں کی معافی چاہتا ہوں
http://www.aalmiakhbar.com/blog/?p=515
اسلام و علیکُم
اس بلاگ کے بہت سے حضرات پنہاں جی اور عظمٰی جی کے نئے بلاگ میں نظر نہی آئے؟
کیا وجہ ھے؟ خاکسارہ نے باقی پڑھنے والوں کی آسانی کے لیے link لکھ دیا ھے اُمید ھے عظمٰی جی کی نئ نظمیں
سب گزشتہ پڑھنے والوں تک بھی پہنچ جائیں گی۔
ناچیز
کنول خان ۔ از کینڈا۔
یہ بلا گ میں نے عظمی محمود صاحبہ کی شاعری کی اشاعت کے لیے شروع کیا تھا ۔ خدا کا شکر ہے کہ اس بلاگ میں کوئی قابل اعتراض باتیں شامل نہیں ہوئیں جن کے باعث اس بلاگ کو بھی قبل از وقت بند کرنا پڑے۔
چونکہ یہ بلا گ کافی پیچھے چلا گیا ہے اس لیے میں ایک نیا بلاگ شروع کرنے کی کوشش میں ہوں جس میں سب نئے نئے سخنور جنھوں نے اردو فانٹ سیکھ لیے ہیں ان کو اردو فانٹ میں نظم یا نثر لکھنے کا موقعہ دوں ۔ کوشش کرونگا کہ یہ نیا بلاگ صرف صرف علمی قسم کا ہوگا جس میں صرف اردو کی ترویج ہو اور اردو فانٹ میں لکھنے کی مشق کی سہولت ہو
میں امید کرتا ہوں کہ میرے اس نئے بلاگ میں عظمی محمود صاحبہ ، اور کنول خان صاحبہ کا اور یاسیر اسامہ صاحب کا اور عدیلہ بھٹی اور اسرار احمد چوہدری کا اور دوسرے ان تمام سخنورو ں کا تعاون حاصل رہے گا جو اردو کی ترویج اور ترقی کی خواہش رکھتےہیں۔
۔۔
انشا اللہ
ویسے یہ بلا گ عظمی محمود صاحبہ کے لیے وقف ہے اور وہ جب جی چاہیں اس کو بند کرسکتی ہیں۔
فقط
منظور قاضی از جرمنی
۔۔ فقط