صرف 3000 روپے میں اپنی کھال اتروائیے!

کراچی میں بالخصوص اور پاکستان میں بالعموم موسمی بینرز اور وال چاکنگ سارے سال جاری رہتی ہے مثلاً آجکل موسم ہے قربانی کالہٰذا اجتماعی قربانی کے بینرز جگہ جگہ لگے ہوئے ہیں اور 300 روپے سے 1000 روپے کے فرق سے ہر ایک مذہبی جماعت نے اجتماعی قربانی کے اشتہارات لگائے ہوئے ہیں ان ہی بینرز میں اس سال اس بات کا اضافہ بھی کردیا گیا ہے کہ قربانی کی کھالیں اس تنظیم یا دینی مدرسے کو دی جائیں ۔ ان ہی بینرز میں ایک بینر ایسا بھی نظر آیا جس نے اپنی طرف متوجہ کیا ملاحضہ کریں

صرف 3000 روپے میں صاف ستھری کھال اتروائیے
(اس تناظر کے پیشِ نظر کہ بہروپیے قصائی کھال کا بیڑا غرق کرتے ہی ہیں گوشت کا بھی ستیا ناس کردیتے ہیں)۔
سوچئے ذرا کہ اس عوام کی کھال کتنی مرتبہ اترتی ہے سب سے پہلے منڈی میں بیوپاری کھال اتارتا ہے پھر اس جانور کو گھر تک لانے کے لیے سواری والا کھال اتارتا ہے (جانور کی قیمت کے حساب سے گاڑی کا کرایہ بتاتے ہیں) پھر اچھا قصائی جو جانور کی کھال کے ساتھ ساتھ ھماری کھال بھی اتار لیتا ہے اور سب سے اھم معرکہ ہے جانور کی کھال دینے کا معاملہ ہر
سیاسی پارٹی اور ہر مذہبی پارٹی (جماعت اسلامی سمیت) کا بندہ دس دس چکر لگاتا ہے کہ کھال پر ھمارا حق ہے ھمیں دو ۔

آجکل جو قربانی کے جانوروں کا حال ہے اس سے بدتر اس قوم کا حال ہے جو مناسب قمیت میں اچھا جانور خریدنے کی خواہش لے کرمنڈی جاتی ہے اور پھر آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں سن کر مایوس ہو کر لوٹ آتی ہے

10 thoughts on “صرف 3000 روپے میں اپنی کھال اتروائیے!”

  1. جعفر بھائی
    کیا سولہ آنےکھری بات اور سوفیصد سچی کہانی بیان کی ہے
    ایسا ہر سال ہوتاہے ۔۔اس سال بھی ہوگا اور شاید آئندہ بھی ہوتارہے
    کیونکہ مملکت خدادادمیں مسلمان کم بزنس مین زیادہ ہوگئےہیں جو اپنے لین دین میں خوف خدا، انسانی بھلائی
    کو پیش نظر نہیں رکھتے صرف اور صرف اپنا منافع دیکھتےہیں
    بلکہ اب تو بات زیادہ سے زیادہ کھال اتارنےتک جا پہنچی ہے
    اس کارخیرمیں نیچے سے اوپرتک سب شریک ہوچکےگئےہیں
    اوریہ معاملہ صرف عید قربان تک ہی محدودنہیں رہا
    عام بندے کو دن میں ایسی کئی قربانیوں سے گزرنا پڑتاہے۔۔۔

  2. جعفر بھائی یہ تو نیک لوگ ہیں جو کھال اتارتے بھی صاف ستھری ہیں اور اور وہ بھی صرف تین ہزار روپے میں، ورنہ ہم لوگ تو چودہ سو سال سے دین بیچ کر کھال اتروا رہے ہیں اور بھی کبھی صفائی کے ساتھ نہیں اترتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا

  3. ناصر بھائی بالکل درست فرمایا آپ نے یہ قربانی دن میں کئی کئی مرتبہ دینی پڑ جاتی ہے عام بندے کو اور خوفِ خدا تو شائد کوئی عنقا چیز ہوگئی ہے بھولے سے ہی کسی میں ملے۔

  4. مصباح بھائی اگر اس بات کو یوں کہیں تو زیادہ بہتر ہوگا ھمارے خیال میں کہ چودہ سو برس سے ھم دین بیچ بیچ کر اپنی کھال نچوا رہے ہیں وہ بھی گِدھوں سے اور جب گِدھ نوچتا ہے تو کھال کے ساتھ گوشت بھی نچتا ہے ھم اپنی انا ، خودداری ، انکساری ، ایمانداری ، شرافت ، دیانت سب ہی تو داؤ پر لگا دیا ہے اور یہ سب اسی سبب ہے کہ ھم نے آستینوں میں سانپ پالے ہوئے ہیں
    سچے مسلمان کی حیثیت سے احکامِ الہٰی پر گامزن ہونے کے لیے ھمیں اپنے اندر کی کالی بھیڑوں کو نکالنا ہوگا

  5. شہر کراچی میں کھال مانگنے کے معاملہ مین ایک خوشگوار تبدیلی یہ آئی ہے کہ پہلی بار ایم کیو ایم کے بینر میں “رضاکارانہ طور پر” درج ہے ورنہ گزشتہ سال تک کھال خدمت خلق کو دینے کا کہا جاتا تھا مگر رضاکارانہ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا تھا.

  6. اسلام علیکم
    جعفر بھائی سب سے بڑا مسلہ اب کھال ہی کا ہے کہ اب پاکستانیون کے جسم پر بھی بس کھال ہی رہ گئی ہے ، میرے بھائی کے پاس ایک صاحب جو ایک بڑی سیاسی پارٹی کے کارکن تھے کھال کی پیشگی
    بکنگ کے لئے آئے ۔بھائی نے کہا ” محترم اس دفعہ تو کوئی امید نہیں کہ میں قربانی جیسا اہم فریضہ ادا کر سکوں اس لئے قربانی کے بعد آکر میری کھال لے جانا کہ اب میرے پاس وہ ہی باقی ہے ۔”
    ان صاحب پر اس جواب سے کیا گزری یہ تو مجھے نہیں پتہ لیکن یہ حقیقت ہے تلخ حقیقت کہ سب سے زیارہ تکلیف کھال اترنے میں ہوتی ہے ۔
    اور ہمارے عوام کی کھال تو روز اترتی ہے ۔
    بھائی مصباح اگر ہم نے دین نہ بیچا ہوتا تو میرے بھائی آج ہم سب سے امیر اور طاقتور قوم ہوتے ۔ آپ نے بالکل صحیح کہا کہ ہم اپنے کردار پر نظر کریں تو کسی کو کچھ کہنے کو دل نہیں چاہتا ۔
    اللہ ہم سب پر فضل و کرم کرے اور ہمیں نیکیوں کی طرف راغب کرے آمین
    جعفر بھائی آپ نے ٹھیک کہا کہ کالی بھیڑوں کو نکالنا ہوگا مگر میرے معصوم بھائی انہیں پالا بھی تو ہم ہی نے ہے ۔ ان کو طاقتور بھی تو ہم نے ہی بنایا ہے ۔ہم کبھی ان کا ساتھ نہیں دیتے جو ان سے نجات دلانے کی بات کرتے ہیں ۔ ؟

    اللہ ہم سب کے نیک ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کی توفیق عطا کرے آمین
    کوئی بات بار خاطر ہو تو در گزر کی درخواست ہے ۔

    عالم آرا

  7. بھائی جعفر تین ہزار روپے میں صرف کھال؟ بہت سستا سودا ہت ورنہ اب تو وطن عزیز کے کچھ حصوں میں تو تین ہزار میں نہلائے دھلائے بغیر اگلے جہان تک پہنچا دیتے ہیں.رہا معاملہ عوام کو تو انکے جسم پر اگر کھال بچ گئی ہو گی تو سوچیں گے

  8. کھال سے یاد آیا کہ وہ کسی نے کہا تھا کہ وردی میری کھال ہے کیسے اتاروں، اب نجانے کیسے پھرتے ہونگے؟؟؟؟ کتنے میں کسی کو کیا معلوم؟

  9. مصباح بھائی بڑا بروقت یاد آیا آپ کو جناب نجانے کتنے بڑے بڑے نامور وردی والے نابود ہوگئے ، کچھ کی تو باقیات بھی نہ مل سکیں کس کس کو یاد کریں گے؟؟؟؟؟؟؟
    اور اب تو بغیر وردی والے بھی وردی والوں سے چار ہاتھ آگے ہی ہیں آمریت میں وہ کسی نے کیا صحیح کہا ہے کہ
    چٹ بھی میری پٹ بھی میری اور دمڑی میرے باپ کی
    چھوڑیں یہ بات کہیں اور نکل جائے گی
    —————————
    محترم ھمدانی بھائی عوام کے بدن پر صرف کھال ہی تو رہ گئی ہے ورنہ تو امریکہ کے زر خرید غلاموں کے روپ میں پاکستان کے حکمرانوں کی وجہ سے آج بچہ بچہ عالمی قرض میں جکڑا ہوا ہے
    ———————————————————-

    بہن عالم آرا آپ کی کوئی بھی بات بارِ گراں نہیں آپ نے درست فرمایا کہ ان سانپوں کو پالا بھی ھم ہی نے ہے مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مگر جو ہوگیا سو ہوگیا چونسٹھ سالہ بزرگ پاکستان بجائے صحیح اسلامی معاشرے کے طور پر سامنے آتا شیطانِ بزرگ کا روپ دھارتا جا رہا ہے
    خدا ھماری آنے والی نسلوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور فسق و فجور سے بچائے رکھے آمین

  10. صرف باقیات ہی نہیں، وردی اور کھال بھی دونوں بیک وقت اتر گئے اور بھی مال مفت کی صورت۔ جعفر بھائی مجھے آپ سے اتفاق ہے۔ وردی ہو یہ نہ ہو یہ بے دردی قبیلے کے لوگ ایک جیسے ہیں اور ہر ایک دوسرے سے دو ہاتھ آگے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *