عالمی اخبار کی تیسری سالگرہ کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں اور چھ روز بعد یعنی 7نومبر کو بکرا عید ہے اور ان خوشیوں کی خبروں کے درمیان ایک عجیب زیادہ اور غریب اس سے بھی زیادہ خبر سامنے آئی ہے جسے صفدر ھمدانی صاحب نے فیس بک میں لگایا جہاں لوگ دھڑا دھڑ اس پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔میں نے سوچا کہ کیوں کہ اسے اپنے بلاگ میں بھی لگایا جائے کہ اسلام آباد میں ایک بکری کو پہلے بکرا بنایا گیا اور وہ پھر بکری بن گئی
وطن عزیز کے معاشرے میں دھوکہ دہی اور بے حسی کی شدت کا مظاہرہ اس تازہ ترین خبر سے لگایا جا سکتا ہے اسلام آباد میں قربانی کے لیئے جانور فروخت کرتے ہوئے بھی خوف خدا نہیں۔ اسلام آباد کے ایک مکین کو بکرے کے نام پر بیس ہزار روپے میں بکری فروخت کر دی گئی۔ بکری کو بڑی مہارت سے مصنوعی سینگ لگا کر بیچ دیا گیا اور رات کو خریدا گیا بکرا صبح اپنی اصلیت یعنی بکری کے روپ میں معاشرے کو ننگا کرگیا۔ اب سوچیں جو لوگ سنت ابراہیمی کے نام پر اگر خدا کو دھوکہ دے سکتے ہیں انکے نزدیک بیچارے عوام کی کیا حیثیت ہے۔ استغفراللہ
معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو بھی اس قوم پر رحم آگیا جو اس نے بکری کو بکری ہی رہنے دیا ،یہ تو اسلام آباد شہر کی خبر ہے جو ایک دارالحکومت ہے اور جہاں پر قوم کے رہبروں، ارباب حکومت ،سیاست دانوں نے پوری قوم کو مولویوں کے ہمراہ مل کر بکری بنا رکھا ہے اورکو ئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ تو شکر کریں کہ اس بکری کے سر پر سینگ تھے ورنہ اسلام آباد میں تو بڑوں بڑوں کے سرکے سینگ غائب ہو جاتے ہیں۔ شکر کریں کہ بکرا بیچنے والے نے بکری کو بکرا بنایا اور راتوں رات وہ اپنی اصلی حالت میں واپس آگیا۔ ورنہ قوم کی حالت تو آج تک نہ سُدہری ۔ بہر حال خدا کی پنا ہ ہے کہ سنت ابرہیمی اور حکم خدا میں دخل دینے والے نے تو اس دنیا میں اپنی رقم بٹور لی اور قربانی کرنے والا بھی اُس کو دوبار نہ پا سکا۔
دوسری طرف انہی خبروں میں عوام اپنا رونا رورہے تھے کہ مویشی منڈی میں جو مہنگائی ہے معلوم ہوتا ہے کہ عید قرباں پر بہت کم لوگ ہی قربانی کے اس فریضے کو انجام دے سکیں گے اور اس بار شاید مرغی کی اجتماعی قربانی کا فتویٰ دیا جائے
سوچنے کے لیئےفکریہ ہے کہ غریب یا ایک مستوط طبقے کا فرد جس کےگھر 5 یا 7بکرے یا بکریاں ہوں۔اوہ معاف فرمایئے میرا مطلب ہے بچے ہوں تو وہ اس اسلامی فریضہ میں کس طرح شامل ہو گا جہاں پر معاشرہ ہی ایسی دھوکہ دہی کا مرتکب ہو۔

اکمل بھائی وہ ایک مشہور فلمی نغمہ تھا نا۔۔۔پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جاناں ہو گئے۔۔۔وہ دراصل اسی عمل کے بارے میں تھا۔۔۔پہلے بکری پھر بکرا اور پھر بکری ہو گئے
شکر ہے کہ عوام کو حاکموں نے ایسی بکری بنایا ہوا ہے کہ اب انکے بکرے بننے کا کوئی امکان نہیں
اکمل بھائی
یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ یہ نوسرباز چاہیں تو کتّے کو بھی بکرا بنا کر بیچ کردیں۔ یہاں حج جیسی عظیم عبادت میں کمیشن کھایا جاتا ہے۔ رمضان میں وہ گراں فروشی ہوتی ہے کہ شیطان بھی منہ چھپاتا پھرتا ہے۔ عید کے مواقع پر ایسی لوٹ مار کا بازار گرم ہوتا ہے کہ خدا کی پناہ۔ مساجد کے نام پر مانگے گئے چندے سے اپنے محل تعمیر کئے جاتے ہیں۔ امام بارگاہوں کو ملنے والے کروڑوں روپے کے نذورات بہت سے نام نہاد عالم و زاکر کے بہروپ میں چھپے لٹیرے لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ یہاں اگر کسی مسخرے نے بکری کو بکرا بنا کر بیچ دیا تو کوئی کمال کی بات نہیں۔
آپ لوگوں کو یہ باتیں عجیب اس لئے لگتی ہیں کیونکہ آپ لوگ مغرب کے پاک اور اسلامی معاشرے میں رچ بس گئے ہیں۔ یہ پاکستان اب وہ پاکستان نہیں رہا جسے آپ لوگ پندرہ بیس تیس سال پہلے چھوڑ کر گئے تھے۔
سید اکمل بھائ میری جانب سے بہت بہت بہت بہت مبارک باد قبول کریں ۔ آپ جیسے بہترین تخلیق کار کی آمد سے عالمی اخبار میں سولہ چاند لگ گیۓ ھیں ، ھم سب کے لیے بہت مسرت اورشادمانی کی خبرھے ، اللہ پاک آپ کو ھمشیہ اپنے حفظ و امان میں رکھے امین
پہلےبکری پھر بکرا اور پھر بکری، پیارے وطن میں عید بقرعید اور ھر تہوار پر ھر سال بے ایمانی اور شیطانی کاموں کرنے والے ابلیس کو بھی حیران کردیتے ھیں اب تو ایک ھی دعا ھے کہ اللہ پاکستان کو محنتی اور محب الوطن موطن عطا فرماۓ ۔ ھمارے حکمران تو بے ایمان ھیں ھی عوام نے بھی بے ایمانی اور دھوکہ دھی کے عالمی ریکارڈ توڑ دیئۓ ھیں اللہ رحم کرے
ھم بھائی قمر کی بات سے سو فیصد متفق ہیں
اس ملک کو اب اسلامی جمہوریہ کہنا اسلام اور جمہوریت دونوں کی تذلیل ہے اس کا نام شیطان الوجود ہو جانا چاہئیے ہر چیز میں ملاوٹ ، ہر بات میں مکاری ہر کام میں عیاری ریاکاری بد بختی اور لاقانونیت میں یہ قوم اتنی آگے نکل گئی ہے کہ وآپسی ناممکن نظر آتی ہے بقول محترم ھمدانی صاحب کے
”اچھے کردار کے صاف ستھرے اخلاق کے باضمیر لوگ گنتی کے رہ گئے ہیں جو انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں“
اللہ ھمیں ہر برائی سے بچائے رکھے آمین۔
شاہین رضوی صاھبہ ہمت افزائی کا شکریہ قمر بھائی جس امر کی طرف آپ نے توجہ دلوائی میں آپ سے متفق ہوں جعفر صاب کی دعاوں کی پوری قوم جس بے راہ روی کی طرف گامزن ہے بدایت کو خدا کی طرف سے ملی گی مگر ایسے عمل کو انجام دینے سے پہلے ہماری بھی ذمہ داریاں ہیں کہ ہم جس چیز کو خریدنے جا رہے ہیں کی دیکھ بھال کر لیں قمر بھائی اس وقت آپ کا چملہ کا حوالہ دوں کہ نفسا نفسی کا عالم ہے ہر شخص اپنی ہانک رہا ہے اور ایسا ہی کچھ ہماری مجالس اور قومی تہوراں پر ہو رہا ہے شاید یہ سب ہماری گہٹی میں شامل ہے اور جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس دور میں تو پتھر کی بھی یہ آرزو ہے کہ ہو ہیرا نظر آئے اور جاحل تریں آدمی اپنے آپ کو عالم کہتا ہے۔ ممبر ہر پیٹھے کا خواہش کرتا ہے اور کیا لکھوں پھر وہی بات کہ اگر پیٹی کا رشتہ کہیں کرنا ہو تو ہڈی پوٹی تک کو تلاش کریں گے کہ کس کس گھاٹ کا پانی ہے مگر ممبر کو ہر کسی کے حوالے کر دیتے ہیں ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ عالم فاضل نظرآئے اپنا مقام نہیں پہچاتا ، یہ تو بکرا بنا کر بیچا گیا جو بکری بن گیا مگر اُس حج کا کیا ہو گا جو نیابت میں ادا کیا جاتا ہے کرایہ سے لے کر 5سٹار کی رہائش کا خرچہ بھی لیا جاتا ہے اور اُس کے اعمال بھی نہیں پورے ادا کیا جاتے۔ اور یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ جس نے پہلے حج کیا ہوا ہو اس کو سر منڈنے کی ضرورت نہیں جس کی نیابت کا حج کیا جا رہا ہے اُس نے تو پہلے حج نہیں کیا اور جو اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے مگر اُس کا کیا قصور جس کی نیابت کا حج ادا کیا جا رہا ہے
کس کس بات کو روئیں گے آوئے کا آوئے ہی بگڑا ہوا ہے دو دو گھنٹے کی نجی محفل میں باتیں کرنا آسان لے مگر عمل کرنا مشکل ہے۔ اگر کسی میں ذرا بھی اخلاقی جرات باقی ہے تو سامنے آ کر بات کرئے اس میں تو ہمارے آستین کے سانپ بھی شامل ہیں۔
یہ بھی ایک لمحہ فکر ہے ہم سب کے لئے۔