ہندوستان کثیر المذہب ملک ہے یہاں صدیوں سے مختلف قوم ونسل اور مذہب کے لوگ آپس بھائی چارگی کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں ۔ ہندستان کی اسی خصوصیت کے سبب عالمی سطح پر یہ ملک کثرت میں وحدت کا بے مثل نمونہ سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس کا ایک تاریک پہلو یہ ہے کہ اس ملک میٕں کچھ ایسے شر پسند عناصر بھی ہیں جو کسی بھی قیمت پر ہندستان کی اس شناخت کو پسند نہیں کرتے اور ایک خاص شناخت کے ساتھ اس ملک کو نئی پہچان دینے کی فکر میں رہتے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک تازہ ترین واقعہ سامنے آیا ۔ 4 ستمبر کو جھارکھنڈ کے گورنر سید احمد نے بہ حیثیت گورنر حلف لیتے ہوئے اللہ کے نام سے حلف کی ابتدا کی او ر اللہ کے نام سے عہدے کے تقدس کا حلف لیا۔ اس کے بعد کچھ شر پسند عناصر نے اس کو اپنی انا کا مسئلہ بناتے ہوئے سید احمد کو آرے ہاتھوں لینے کی کوشش ۔ جھارکھنڈ جہاں تقریباً 40 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے ۔ لیکن یہ سوئے اتفاق ہے کہ اس صوبے میں بی جے پی کے اشتراک سے حکومت بنی ہے ۔ اس حلف کے بعد کمل نرائین نامی ایک شخص نے جھارکھنڈ کے ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اللہ کے نام پر حلف لینا غیر آئینی ہے اس لیے فوری طور پر انھیں گورنر کے عہدے سے ہٹایا جائے ۔ جھارکھنڈ کے ہائی کورٹ نے اس عرضی کو ناقابل سماعت سمجھتے ہوئے اسے خارج کردیا۔ اس کے بعد کمل نرائن نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ کمل نرائین بظاہر یاک شخص ہے لیکن اس کے پیچھے ایسے شر پسند عناصر موجد تھے جو یہ چاہتے تھے کہ ہندستان میں صرف ایشور کے نام سے ہی حلف لے سکتے ہیں ۔ خیر سپریم کورٹ میں دو ججوں کے بینچ نے اس معاملے پر غور وخوض کیا اور فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں اگر کوئی شخص اللہ کے نام پر کسی عہدے کا حلف لیتا ہے تو ہو غیر آئینی نہیں ہے ۔ بلکہ آئین کے موافق ہے ۔ کیونکہ خدا ۔ اللہ ، ایشور ، گاڈ سب ایک ہی معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایسے شر پسند عناصر کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے جو ملک کو مذہب کے نام پر بانٹا چاہتے ہیں۔اور اس ملک کے سیکولر کردار کو داغدار کرنا چایتے ہیں۔اس فیصلے کے بعد ہم ایسے تمام اداروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ ایسی حرکتوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے تاکہ ملک کا سیکولر کردار بحال رہے ۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایسے شر پسند عناصر کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے جو ملک کو مذہب کے نام پر بانٹا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر خواجہ اکرام میں بھارت میں مسلمانوں کے حوالے سے آپکے فکری تجزیات اور تحریروں کا ہمیشہ معترف رہا ہوں اور سچی بات تو یہ کہ ان سے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔ یہ جس ذہنیت کا آپ نے ذکر کیا یہ صرف بھارت میں ہی نہیں بلکہ آپکے پڑوس پاکستان میں اس سے کہیں زیادہ ہے۔غیر مسلم سوسائٹی میں تو چلیں اسکی کوئی نہ کوئی دلیل دی جا سکتی ہے لیکن خود مسلم معاشرے اور مسلم ممالک میں دین،مذہب اور مسلک کے نام پر تقسیم سمجھ میں نہیں آتی۔ میں جب ملاں کی بات کرتا ہوں تو اس سے مرآد کوئی خاص وردی والا کسی مخصوص دین و مذپب کا ملاں نہیں بلکہ وہ ملاں ذہنیت ہے جو علما کا لبادہ اوڑھ کر ایک بڑی اکثریت کو گمراہ کرتے ہیں،انہیں حصول علم اور ادراک و فکر سے دور رکھتے ہیں۔ عدالتیں اگر حقیقی معنوں میں عدل و انصاف کا فرق جانتی ہوں تو ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں لیکن اصل مسلہ تو اپنے اندر کی عدالت کا ہے۔
محترم ھمدانی صاحب آپ نے بالکل درست فرمایا کہ ”عدالتیں اگر حقیقی معنوں میں عدل و انصاف کا فرق جانتی ہوں تو ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں لیکن اصل مسلہ تو اپنے اندر کی عدالت کا ہے“۔
کاش ھمارے ملک کی عدالتیں بھی تمام باتوں سے بالا تر ہو کے فیصلے کریں اور اپنی جھوٹی انا اور خودداری کے خاطر ملک و ملت کو داؤ پر نہ لگائیں
انتہائی قابل احترام بردار بزرگ قبلہ صفدر ہمدانی صاحب آپ کے تحسینی کلمات کا بے حد شکریہ اور آپ نے جس حقیقت کا بیان کیا ہے وہ واقعی افسوسناک ہے ،۔ اللہ سے دعا ہے ایسے فیصلے پڑوس کے ممالک پر بھی اثر انداز ہوں ۔
اخیر میں آپ کی حوصلہ افزائی کا ایک بار پھر شکریہ