13 صفر 61 ھجری، شہادتِ بی بی سکینہ بنتِ حسین سلام اللہ علیہٰ۔

حبیبِ خدا، رحمت العالمین، خاتم المرسلین فخرِ انبیأ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کے چھوٹے اور لاڈلے نواسے ، علی و فاطمہ (س) کے دل کا چین، نورِ عین شافیِ220px-Baab-Sagheer محشر حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ سکینہ میری نمازِ شب کی دعاؤں کا نتیجہ ہے ۔
سکینہ سلام اللہ علیہ ۲۰ رجب ۵۶ ھجری میں اس جہانِ فانی میں متولد ہوئیں سکینہ کے معنی ہیں قلبی و ذہنی سکون۔ پر یہ بچی سکون سے نہ رہ سکی نازونعم سے پلی، باپ کے سینے پر سونے والی اپنی پھوپیوں کی چہیتی
پیاری سکینہ 4 سال ہی میں یتیمہ ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کربلا کا ذکر ہو اور سکینہ کا ذکر نہ ہو یہ نہیں ہو سکتا۔ ھمارے لاکھوں سلام اس معصومہ پر جو عاشور کے دن ڈھلنے تک اپنے سے چھوٹے بچوں کو یہ کہہ کر دلاسہ دیتی رہی کہ ابھی عمو پانی لائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معصوم کو کیا خبر تھی کہ اس کے عمو (عباس علمدار علیہ السلام) تو آج نہر کے کنارے اپنے بازو کٹائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عصرِ عاشور سے پہلے جنابِ عباس (ع) کی شہادت کے بعد سکینہ خاموش ہوگئی اور پھر موت کے وقت تک پانی نہ مانگا کیونکہ سکینہ کو آس تھی کہ چچا عباس ہی ہانی لائیں گے تاریخ گواہ ہے کہ شہادتِ جنابِ عباس علمدار (ع) کے بعد العطش العطش (ہائے پیاس ہائے پیاس) کی صدائیں نہیں آئیں۔
مقتل میں لکھا ہے کہ جب ۱۱محرم 61 ھجری کو آلِ اطہار کو پابندِ سلاسل کر بازاروں سے گزارا گیا تو اس معصوم کو سب سے زیادہ تکلیف اٹھانی پڑی کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر زندانِ شام کہ آخری آرامگاہ بھی وہی قیدخانہ بن گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

220px-Zarih_Sakina_(Fatema_Kubra,11_yr._old)_Bab_saghir,_Damascus
ایک روز جب بی بی سکینہ اپنے بابا کو بہت یاد کررہی تھیں اور بہت آہ و بکا کیا ۔۔۔۔۔ تمام بیبیاں رو رہی تھیں یزید نے پریشانی کے عالم میں پوچھا کہ کیا معاملہ ہے اس کو بتایا گیا کہ حسین ابنِ علی (ع) کی چھوٹی بچی اپنے بابا کو یاد کر کے رو رہی ہے ۔۔۔ یزید ملعون نے اپنے حواریوں سے پوچھا کہ اس کو کس طرح خاموش کیا جائے یزید کو بتایا گیا کہ اگر سرِ حسین (ع) زندان میں بجھوادیں تو یہ بچی خاموش ہوجائے گی ، پھر ایسا ہی ہوا سرِ امام حسین علیہ السلام زندان میں لایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک حشر برپا ہوا ، تمام بیبیاں احتراماً کھڑی ہوگئیں
سید سباد ، عابدِ بیمار طوق و زنجیر سنبھالے بابا حسین کے سر کو لینے آگے بڑھے سکینہ کی گود میں جب بابا کا سر آیا بیچینی سے لرزتے ہونٹ امامِ عالی مقام کے رخسار پر رکھ دیے ، کبھی ماتھا چومتی کبھی لبوں کا بوسہ لیتیں روتی جاتیں اور شکوے کرتی جاتیں
بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابا مجھے طمانچے مارے گئے ۔۔۔۔بابا میرے کانوں سےگوشوارے چھینے گئے ۔۔۔۔ میرے کان زخمی ہوگئے میرے دامن میں آگ لگی بابا نہ آپ آئے نہ عمو آئے نہ بھائی اکبر آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابا ھمیں بازاروں میں گھمایا گیا بابا اس قید خانے میں میرا دم گھٹتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پیاسی سکینہ روتی رہی ہچکیوں کی آواز بتدریج ھم ہوتی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر
بالآخر خاموشی چھاگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سید سجاد کھڑے ہو گئے پھوپی زینب کو سہارا دیا اور بلند آواز میں فرمایا
انا للہِ وانا الیہِ راجعون
سکینہ ھمیشہ کے لیئے خاموش ہو گئی

شام میں یزید کے محل کے ساتھ اس چھوٹے سے قید خانہ میں ہی اس معصوم بچی کو اسی خون آلود کرتے میں دفنا دیا گیا جو لوگ شام میں زیارات کے لیے جاتے ہیں اس بی بی کے مزار پر ضرور دیا جلاتے ہیں

یارب کوئی معصومہ زنداں میں نہ تنہا ہو
پابند نہ ہوں اہیں رونے پہ نہ پہرا ہو

اے پروردگار اس معصوم سکینہ (س)کی یتیمی کے صدقے کسی بچی کو اس کم سنی میں یتیم نہ کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

37 thoughts on “13 صفر 61 ھجری، شہادتِ بی بی سکینہ بنتِ حسین سلام اللہ علیہٰ۔”

  1. شہادت بی بی سکینہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا
    مرثیہ نگار ۔ شاعر آل عباء جناب صفدر ہمدانی
    تحت اللفظ مرثیہ خوان- سید اکمل حسین

  2. مولا سلامت رکھیں ان آنکھوں کو جو حسین (ع) کے بچوں کو روتی ہیں
    ھمارا سلام ہو اس ماں پر جس کا ایک چھ مہینے کا بیٹا کربلا میں شہید ہو اور دوسری بیٹی کو شام کے زندان میں چھوڑ آئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. بے شک صیح کہا
    ھمارا سلام ہو اس ماں پر جس کا ایک چھ مہینے کا بیٹا کربلا میں شہید ہو اور دوسری بیٹی کو شام کے زندان میں چھوڑ آئی ہو-
    تیری عظمت کو سلام۔۔

  4. حشر تک سوئے گی زنداں میں سکینہ چین سے
    کہئے گا بابا سے اب تڑپیں نہ دختر کے لئے
    (علامہ ذیشان حیدر جوادی )

  5. سلام ہو اس ماں پر جس کا ایک چھ مہینے کا بیٹا کربلا میں شہید ہو اور دوسری بیٹی کو شام کے زندان میں چھوڑ آئی ہو ۔۔سلام ۔۔۔سلام ۔۔سلام

  6. اے میری بی بی سکینہ بنت الحسین علیہ السلام اے وہ یتیم جو اپنے باپ کا سر نوک نیزہ پر دیکھتی رھی اے میری وہ کمسن بی بی جن کے کان زخمی تھے رخسار طمانچوں سے نیلے تھے جن کا سینہ زخمی تھا آپ پر میرا سلام ھو
    ھائے زنداں میں رھی مر کر بھی
    جس کو حسرت رھائی کی تھی

  7. خدا ہی جانے دل سے کیا کہا ہو گا نگاہوں نے۔۔۔۔
    سکینہ کو خبر کیا تھی کہ زنداں ایسے ہوتے ہیں!!!!

    اس خانوادے کا ایک ایک فرد اپنی اپنی ذات میں بحرِحیرت ہے لیکن تا قیامت سمجھ میں نہ آنے والی شخصیت ام رباب (آپ پر ہر گھڑی کائنات کے ہر زرے کا سلام ہو) کی ہے۔ اہلِ فکر کے لیئے ایک سوالیہ نشان!!!

  8. ھمارے لاکھوں سلام بی بی امِ رباب سلام اللہ علیہٰ پر۔
    زندان سے رہائی کے بعد جب لٹا ہو یہ قافلہ مدینہ پہنچا اس وقت سے اور رحلت تک یہ بی بی کبھی سایہ میں نہ بیٹھیں نہ ہی کبھی ٹھنڈا پانی پیا، ایک روز بی بی زینب (س) نے امامِ وقت جناب سجاد (ع) سے کہا بیٹا رباب سے کہو کہ اب تو سایہ میں آجایا کریں ، بیمارِ کربلا ، سید الساجدین علی ابنِ حسین (ع) اپنی اماں رباب کے پاس آئے اور فرمایا اماں سب بیبیاں کہتی ہیں کہ آپ سایہ میں بھی آجایا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امِ رباب (س) نے فرمایا بیٹا یہ میں نہیں کرسکتی میں سایہ میں نہیں آؤں گی کبھی اب دوبارہ یہ فرمائش نہ کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام نے ماں کی محبت سے سرشاری میں فرمایا اماں بتاؤ میں کون ہوں
    امِ رباب نے کہا بیٹا تم امامِ وقت ہو۔
    امامِ سجاد (ع) نے فرمایا اماں میں امامِ وقت ہونے کے ناطے آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ سائے میں آجائیں ۔۔۔۔
    بی بی رباب سہارا لے کر کھڑی ہوئیں اور فرمایا پروردگار تو میرے وعدے کے لاج رکھنا کربلا میں اپنے وارث اور اس وقت کے امام سے وعدہ کیا تھا کہ والی کبھی سایہ میں نہ بیٹھوں گی اور آج امام کا حکم ہے اس کو ٹالانہیں جاسکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ابھی سیدھا کھڑی بھی نہ ہونے پائیں تھیں کہ روح قفسِ عنکری سے پرواز کرگئی امام نے ماں کو زمین پر لٹایا اور فرمایا
    انا للہِ وانا الیہِ راجعون۔
    سلام ہو اس بی بی پر جس کے وعدے کا اللہ بھی احترام کرے
    وائے ہو ان پر جو امام کو مہمان بلا کر مکر گئے اور خانوادہِ رسالت سے برسرِ پیکار ہوئے۔

  9. دربار تھا خاموش لرزنے لگے قاتل
    اک وار سے زینب کے ہوا طے حق و باطل
    جیسے تھا دیا تیز ہواؤں کے مقابل
    اُس فکرِ یزیدی کا ہر اک فرد تھا گھائل
    دربار میں چُپ سید و سادات کھڑے تھے
    اور تیرِ ستم قلبِ حکومت میں گڑے تھے

    ایسے میں جو اک دوزخی دربار میں اٹھا
    ظالم نے اشارے سے سکینہ کو بلایا
    بچی نے تڑپ کر رُخِ سجاد کودیکھا
    کہنے لگیں ظالم سے بچا لو مجھے بھیا
    قسمت میں بتا دو کیا مدینہ بھی نہیں ہے
    سونے کو مرے پھوپھی کا سینہ بھی نہیں ہے

    کیا ٹوٹے گی اب سر پہ مرے ساری خدائی
    کیا آپ سے بھی اب مری ہووے گی جدائی
    کیوں شامِ غریباں میں مجھے موت نہ آئی
    ہیں نیل رسن کے مری دُکھتی ہے کلائی
    شبیر کی بیٹی ہوں نہیں ڈرتی سزا سے
    بھیا کوئی جا کے یہ بتا دے تو چچا سے

    میں دخترِ شبیر ہوں تطہیر کا ورثہ
    سُن کر ابھی بیٹھی ہوں میں بھیا ترا خطبہ
    آنکھوں میں مری صاف ہے ہر چیز کا چہرہ
    اب سب پہ عیاں ہو گا جو کردارِ اُمیہ
    بھیا یہ سکینہ کبھی بے زار نہ ہو گی
    ظالم سے مری اب کوئی تکرار نہ ہوگی

    یہ کہہ کے سوئی تخت چلی چاند سی صورت
    شبیر کی گودی کی پلی ہائے رے قسمت
    کہنے لگا بد بخت سکینہ سے با نخوت
    کہتے ہیں تمہیں ہے بڑی بابا سے محبت
    اعجاز محبت تری دکھلائے تو دیکھیں
    سر باپ کا جو گود میں آ جائے تو دیکھیں

    یہ سُن کے ہوئی غیر سکینہ کی جو حالت
    کرنے لگا سر طشت میں قرآں کی تلاوت
    دل میں ہوئی خواہش کہ ہو بابا کی زیارت
    کرنے لگی خاموش زباں سے وہ یہ مِنَت
    اعجاز یہ دربار کو دکھلایئے بابا
    گودی میں مری آپ چلے آیئے بابا

    دربارِ یزیدی میں یوں طاری ہوا سکتہ
    اک لمحے میں شبیر کا سر طشت سے نکلا
    اور گودی میں معصوم سکینہ کی جو آیا
    چلائی سکینہ مرے بابا مرے بابا
    قربان گئی آنکھوں میںساون کی جھڑی ہے
    بابا مری پھوپھی بھی رسن بستہ کھڑی ہے

    بابا کہو کیسا ہے مرا اصغرِمعصوم
    بابا مرے عباس چچا کو نہیں معلوم
    اکبر کے بنا کیسے سکینہ ہوئی مغموم
    ہاں کیسے تھے بابا جو کٹا آپ کا حلقوم
    دربار میں بابا بڑی تذلیل ہوئی ہے
    تھا آپ کا یہ حُکم سو تعمیل ہوئی ہے

    بابا کہو روتے تو نہیں ہیں علی اصغر
    ڈرتا تو اکیلے میں نہیں میرا برادر
    بابا کہو کیونکر اٹھی لاشِ علی اکبر
    جب سر کٹا کیا سامنے تھیں آپ کی مادر
    کیا شمر کو سینے پہ نبی دیکھ رہے تھے
    کٹتے ہوئے کیا سر کو علی دیکھ رہے تھے

    بابا مرے چہرے پہ جو یہ گردِ سفر ہے
    میں جانتی ہوں آپ کو اس سب کی خبر ہے
    دیکھیں تو بدن خون میں عابد کا جو تر ہے
    ہمراہ پھوپھی جان کے اماں کھُلے سر ہے
    دادا کو بتا دیجے سکینہ بے وطن ہے
    سوئی نہیں مدت سے وہ آنکھوں میں جلن ہے

    اب قصرِ یزیدی میں قیامت کے تھے آثار
    نفرت کا بس حاکم سے جوں ہونے لگا اظہار
    فریادِ سکینہ پہ تھا تھرا گیا دربار
    سب رعب دھرا رہ گیا ظالم کا جو اک بار
    فی الفور مقید کیئے شبیر کے پیارے
    زندان میں ڈالے گئے تطہیر کے پیارے

    تاریکیء زنداں میں نہیں سوئی سکینہ
    جی بھر کے ابھی باپ کو کب روئی سکینہ
    سینے سے لگاتا نہیں اب کوئی سکینہ
    ہے یاد میں اصغر کی رہی کھوئی سکینہ
    روتی ہے جو شب میں تو صدا دیتا ہے جلاد
    زندان کا زندان ہلا دیتا ہے جلاد

    بابا سے جدائی کا سکینہ کو ہے وہ غم
    روتی ہے یا پھر کرتی ہے دن رات وہ ماتم
    دُر کھنچنے سے کانوں میں جو تکلیف ہے پیہم
    کہتی ہے پھوپھی سے کہ جو رُک جائے مرا دَم
    ننھی سی لحد گوشۂ زنداں میں بنانا
    اور قبر پہ اصغر کا مجھے نوحہ سنانا

    رو رو کے یہ کہتی تھی کہاں ہے مرا اصغر
    کیوں آتے نہیں خواب میں اماں علی اکبر
    کیا مجھ سے خفا ہو گئے عباسِ دلاور
    پانی نہیں مانگوں گی بتا دو انہیں جا کر
    اب کس سے بھلا دُکھ کا میں اظہار کرؤں گی
    اصغر کو میں گرد ن پہ بہت پیار کرؤں گی

    اک شام پرندوں کو جو اُڑتے ہوئے دیکھا
    معصوم نے روتے ہوئے دل میں یہی سوچا
    کیا دیکھنا قسمت میں کبھی ہے وطن اپنا
    کہنے لگیں سجاد سے بتلایئے بھیا
    کیا ایسے ہی زندان میں مر جائیں گے بھائی
    کیا لوٹ کے ہم بھی کبھی گھرجائیں گے بھائی

    رُخ چوم کے سجاد یہ کہنے لگے ہمشیر
    کچھ غم نہ کرؤ ہاتھ میں اللہ کے ہے تقدیر
    زنداں کی اسیری کبھی دکھلائے گی تاثیر
    چاہا جو خدا نے تو یہ کٹ جائے گی زنجیر
    جائیں گے مدینے نہ یوں گھبراؤ سکینہ
    میں صدقے مری گود میں آ جاؤ سکینہ

    یہ سُن کے سکینہ کی بگڑنے لگی حالت
    دَم گھُٹنے لگا سینے میں بے چین طبیعت
    رونے لگی یہ دیکھ کے اللہ کی مشیعت
    کہنے لگیں بھائی سے نہیں جسم میں طاقت
    یہ کہتے ہی بس مر گئی حساس سکینہ
    پیاسی ہی تری رہ گئی ہائے پیاس سکینہ

    زنداں میں تھا اک شور بپا ہائے سکینہ
    سر پیٹ کے زینب نے کہا ہائے سکینہ
    دی خُلد سے زہرا نے صدا ہائے سکینہ
    تھی سینہ زناں بادِ صبا ہائے سکینہ
    میت پہ یوں ماں پیٹتی بے آس کی آئی
    دریا سے صدا رونے کی عباس کی آئی

    ایک قیدی نے زندان میں پھر قبر کو کھودا
    بچی کا وہ ماتم تھا قیامت ہوئی برپا
    زینب کو یہ صدمہ بھی ہے قسمت نے دکھایا
    سجاد نے کہہ کے یاعلی لاشہ اٹھایا
    روتے ہوئے سجاد کو سرور نظر آئے
    دو ہاتھ کٹے قبر کے باہر نظر آئے

    ناگاہ صدا آئی مرے قافلہ سالار
    آیا ہے جنازے پہ سکینہ کے علمدار
    پیاسی نے چچا کہہ کے صدا دی مجھے ہر بار
    ہمراہ مرے زہرا و حیدر بھی ہیں تیار
    ورثۂ شہنشاہِ مدینہ مجھے دے دو
    سجاد یہ اب لاشِ سکینہ مجھے دے دو

    صفدر نہیں اب تاب لکھوں دفن کا منظر
    ماں سکتے میں خاموش ہے زینب ہے کھُلے سر
    اک درد کی تصویر ہے شبیر کی خواہر
    ہیں جن و ملک نوحہ کُناں چُپ ہیں پیمبر
    اب اوڑھ کے سو چادرِ تطہیر سکینہ
    مل جائے گا اب سینۂ شبیر سکینہ

    برسوں کی تمنا مری پوری ہوئی صفدر
    لو دُخترِ شبیر کا ہے مرثیہ آخر
    ہے عرش پہ اب شاعرِ مولا کا مقدر
    دی خواب میں آ کر مجھے سجاد نے چادر
    کوثر کی تمنا ہے نہ جنت کی طلب ہے
    اب قبرِ سکینہ کی زیارت کی طلب ہے
    ( محترم المقام جناب صفدر ہمدانی کے لکھے ہوئے ایک طویل مرثیہ کے کچھ بند آپ سب کی خدمت میں پیش کرتی ہوں )

  10. یہ ایک بڑا گھر تھا، ایسا آباد گھر چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا ہوگا مگر معلوم نہیں اپنے محاورات میں یہی کہاجاتا ہے کہ کسی کی نظر لگ گئی اس گھر کو ، ایک وقت آیا کہ اس طرح برباد ہوا کہ کوئی گھر ایسے برباد نہ ہوا ہوگا، اس گھر میں خوشیاں ہوئیں مگر وہ خوشیاں کہ جو خدا کی رضامندی کی وجہ سے تھیں، لیکن اس میں جتنے غم ہوئے اور جتنی مصیبتیں اس گھر پر آئیں، وہ دنیا کے کسی اور گھر پر نہیں آئیں۔ یہ گھر مسمار کیا گیا۔ اس کے رہنے والوں کو نکالا گیا۔ لیکن جہاں بھی چلے گئے، لوگوں نے ان کو چین سے نہیں رہنے دیا۔ اسی گھر سے جنازہ رسول نکلا مگر کس طرح سے نکلا؟ اس طرح سے نکلا کہ کہنے میں بات آتی ہے، زمانے کا اگر گلہ کروں تو بجا ہے۔ وہ رسول جو ہر ایک شخص کے دکھ اور درد میں برابر شریک ہوتا رہا، اگر معلوم ہوا کہ کوئی بھوکا ہے تو خود نہ کھایا، اُس کا پیٹ بھر دیا۔ اگر کوئی بیمار ہوا تو اُس کی مزاج پُرسی کیلئے خود گئے۔ پھر اعتبار سے کہ سردارِ دو عالم، جن کے احسانات کی کوئی انتہا نہ ہو، ان کے بارے میں اگر غیر مذہب کے آدمی سے کہا جائے کہ اس کا جنازہ نکلا، وہ فوراً کہے گا کہ نہ معلوم کتنے لاکھ آدمی ہوں گے لیکن حضور! جنازہ اس طرح نکلا کہ سوائے اپنے چند آدمیوں کے کوئی جنازے میں نہ تھا۔
    اس کے بعد یہی گھر تھا کہ دو تین دن کے بعد جب سیدہ قبر پر پہنچی ہیں اپنے باپ کی، تو یہ کہتے ہوئے پہنچی ہیں کہ بابا! اب وہ فاطمہ نہیں ہوں جو آپ کے زمانے میں تھی۔ کاش! کوئی اتنا کہہ دیتا کہ فاطمہ ! تمہارے باپ کا انتقال ہوگیا، ہمیں رنج ہے۔ کاش! فاطمہ کے دروازے پر آکر لوگ یہ کہہ دیتے کہ فاطمہ ! تمہارے باپ کے اُٹھ جانے کا ہمیں بہت افسوس ہے۔ ذرا بتلائیے تو سہی، جس کی حالت یکا یک اتنی منقلب ہوگئی ہو، اُس پر کیا کچھ گزری ہوگی؟

    کیا عرض کروں؟ جانوروں پر اثر پڑا، طیور پراثر ہوا، وہ اونٹنی جس پر جنابِ رسالت مآب( ص) سوار ہوا کرتے تھے، آپ کے انتقال کے بعد اُس نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ بہت کچھ کوشش کی گئی لیکن اُس نے بالکل کچھ نہ کھایا۔ آخر کب تک ایک جانور بغیر کچھ کھائے پئے رہ سکتا ہے؟ دو دن کے بعد اس سے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ ایک مرتبہ اُس نے اپنی رسی تڑوائی اور سیدھی چلی جنابِ رسالتمآب (ص) کی قبر کی طرف۔ قبر کے پاس جاکر اُس نے اپنا رخسار رکھ دیا اور لوگوں نے دیکھا کہ اُس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ لوگ گئے کہ وہاں سے ہٹائیں مگر وہ نہ ہٹی۔ مجبور ہوکر لوگ آئے جنابِ فاطمہ کے دروازے پر، سیده عالم سلام اللہ علیہا ! آپ کے والد کی اونٹنی قبر پر پہنچ گئی ہے اور وہاں سے اُٹھتی نہیں۔ جنابِ سیدہ چادر اوڑھ کر نکلیں، قبر پر پہنچیں۔ جب اُس نے دیکھا کہ شہزادی آگئیں، آپ نے اشارہ کیا، فوراً اُٹھ کھڑی ہوئی، اپنی جگہ واپس پہنچی۔ جنابِ سیدہ اپنے حجرے میں آگئیںَ تھوڑی دیر کے بعد یہ اونٹنی پھر وہیں پہنچ گئی یعنی ایک بیقراری کا عالم تھا۔ آخر یہ ہوا کہ کئی مرتبہ اسی طرح سے گئی اور جنابِ سیدہ آئیں۔ بعض لوگوں نے چاہا کہ اسے ذبح کر ڈالیں لیکن جنابِ سیدہ نے فرمایا: میں اپنے باپ کی اونٹنی کو، جو اتنی محبت کرتی ہے میرے باپ سے، کبھی بھی ذبح کی تکلیف دینا گوارہ نہیں کروں گی۔ وہ اسی طرح مر گئی، اسے دفن کروایا گیا۔

    جنابِ رسالت مآب کے اُٹھ جانے کا جانوروں پر یہ اثر پڑا تھا۔ اب آپ بتلائیے کہ بیٹی پر کیا اثر ہوگا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ جب یہ عالم دیکھا کہ لوگ اتنے پھر گئے کہ کسی نے آ کر دروازے پر یہ بھی نہ پوچھا کہ فاطمہ ! آپ کس حال میں ہیں اور اگر آئے بھی تو کس مشکل میں آئے، اس کا میں کیا ذکر کروںآ پ کے سامنے؟جنابِ سیدہ گھر میں بیٹھ کر فریادکررہی تھیں کہ بابا! ذرا دیکھئے تو سہی، بابا دنیا والوں نے آپ کی وفات کے بعد ہم سے کس طرح منہ موڑ لیا ہے؟ آنحضور کے بعد معظمہ بی بی کا سارا وقت روتے اور ماتم کرتے ہوئے گزرا۔ اس کے بعد اس گھر سے سیدہ کا جنازہ نکلا اور وہ نکلا چند آدمیوں کے سہارے۔ اس کے بعد سیدہ کے فرزند امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کا جنازہ نکلا جس پر تیر برسے۔ آخر میں ایک جنازہ گھر سے تو نہیں لیکن اس گھر میں رہنے والے کا جنازہ یوں نکلا کہ اُٹھانے والا ہوتا تو نکلتا! کتابوں میں لکھا ہے تیروں نے جنازہ اُٹھایا ۔

    جنابِ رسالتمآب کا انتقال ہوا تو فاطمہ زہرا گھر میں تھیں،امیر الموٴمنین موجود تھے، حسنین شریفین موجود تھے ،تسلی دینے کیلئے بنی ہاشم کے کچھ لوگ موجود تھے۔حسین (ع) جب شہید ہوئے تو اُن کی بیٹی اور بہن کو کوئی تسلی دینے والا نہ تھا۔ تسلی کو تو جانے دیجئے، ایک چھوٹی سی بچی تھی، وہ اگر اپنے بابا کو یاد کرکے روئی تو آخر کونسا گناہ ہوگیا لیکن اس کو اس طرح تسلی دی گئی کہ شمر نے طمانچے مارے۔ ایک مرتبہ یہ بچی جناب ِ سکینہ (س) وہاں پہنچ گئیں جہاں امام حسین (ع) کی لاش پڑی تھی،ہائے بیٹی نے کس طرح باپ کی لاش کو دیکھا؟ جنابِ زینب کو معلوم ہوگیا کہ سکینہ کہیں چلی گئی ہیں تو جنابِ زینب و اُمّ کلثوم (س) دونوں بہنیں مقتل کی طرف چل پڑیں۔ رات کا وقت ہے، چاروں طرف اُداسی کا عالم ہے۔ بی بی نے خیال کیا کہ جس وقت حسین(ع) چلے تھے، آخری رخصت کے بعد تو سکینہ دروازے پر کھڑی دیکھ رہی تھیں، اُسی طرف ہی گئی ہوگی۔ جب آپ وہاں پہنچیں تو وہاں سکینہ (س) کے رونے کی آواز آئی۔ آواز کی طرف چلیں تو وہی نشیب جس میں حسین(ع) شہید ہوئے تھے، وہاں یہ بچی باپ کی کٹی ہوئی گردن سے منہ ملائے کہہ رہی تھی: بابا! آپ کو کس نے شہید کیا؟ مجھ کو کس نے یتیم بنادیا؟ جیسے ہی جنابِ زینب وہاں پہنچیں، گود میں اُٹھایا، تسلی دیتی ہوئی لارہی تھیں کہ پوچھا: بیٹی! تم نے کس طرح پہچان لیا کہ یہ تمہارے بابا کی لاش ہے؟ عرض کیا: پھوپھی اماں! میں رو رو کر کہہ رہی تھی، بابا! آپ کدھر ہیں، اُدھر سے آواز آئی، بیٹی! اِدھر آجا، تیرا باپ اِدھر ہے۔

    نام کتاب: روایات عزا
    مصنف: علامہ حافظ کفایت حسین نور اللہ مرقدہ

  11. جناب سکینہ (س) کا غم اس کے سوا کیا ہے لوگوں کہ سکینہ (س) کے بابا پر رونے والے کہاں ہیں ؟؟ مجالس برپا کیجئے اور حسین (ع) کی بیٹی کو پرسہ دیجئے ان کے بابا کا ۔ سکینہ (س) کو اس سے بڑھ کر کُچھ نہیں کہ کربلا کی مصیبت کو بیان کیا جائے رویا جائے اور جناب سکینہ کے غم کو بانٹنے کے لئے حسین پردل کھول کر رویا جائے ۔۔ کیونکہ اس چار سال کی چھوٹی سی شہزادی کو یہ ہی غم ہے کہ اسے بابا کی شہادت پر رونے نہیں دیا ۔ بابا کی جدائی پر کسی نے درد نہیں بانٹا بلکہ تمانچےمارے ۔ یہ سیدہ آج بھی اپنے حرم پر آنے والے کو ایک ہی پیغام دے کر رُخصت کرتی ہیں کہ جب بھی کربلا جاؤ تو بابا سے کہنا ، بابا آپکی سکینہ آپ کو بہت یاد کرتی ہے اور فریاد کرتی ہے ۔

    روایات عزا

    مخدراتِ عصمت کی اسیری
    معصوم بچوں کا ماوٴں کی گودوں سے گر کر شہید ہونا اورکربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک گلشن آلِ محمد سے پھول گرتے چلے گئے اور شام آگئی۔
    تمام دنیا ، حتیٰ کہ انبیاء بھی ، ذرا تورات اُٹھا کر دیکھئے، ان کے واقعات ، تاریخیں اُٹھا کر دیکھئے تو انبیاء روتے ہی رہے۔ انہوں نے چالیس چالیس دن تک ماتم قائم کئے ہیں۔ جنابِ یعقوب کا رونا تو بہت مشہور سی چیز ہے۔ رونا ایک فطری امر ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ہم نے رُلایا بھی ہے اور ہنسایا بھی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ فطری چیزیں ہیں۔ ان فطری چیزوں کو کسی نہ کسی مقام پر صرف کرنا ہے تو اچھا محل کیوں نہ دیکھا جائے اور جب آپ اچھا محل تلاش کریں گے تو اس جگہ سے بہتر کونسی جگہ نظر آئے گی جس پر رسولِ خدا بھی روتے ہیں۔

    رسولِ اکرم پچاس سال بعد قبر سے نکل کر روئے۔ حضرت اُمّ سلمہ وہ زوجہ مطہرہ ہیں آنحضور کی جنہوں نے جنابِ سیدہ کے بعد حسین کی پرورش کی ہے۔انہوں نے رسولِ خدا کی محبتوں کو دیکھا تھا، لہٰذا اُن کو حسین سے بے حد محبت تھی۔ عاشور کا دن جو آیا تو اُن کا دل گھبرارہا تھا۔ دن بھر پریشان رہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کا بیٹا مر جائے مشرق میں اور مغرب میں تو چاہے کوئی پیغام نہ آئے اس کے مرنے کا لیکن حضور! وہ جو ایک تعلق روحانی ہوتا ہے، وہ اثر کرتا رہتا ہے۔ باپ کو یہ معلوم ہوتا ہے بغیر کسی وجہ کے، دل بیٹھا جارہا ہے، کمر ٹوٹ رہی ہے۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس وقت یا اُس دن مرگیا تھا۔
    جنابِ اُمّ سلمہ نے تو پالا ہی تھا، عاشورہ کا دن آیا۔ دن بھر بے چین رہیں اور یہ جانتی تھیں کہ حسین گئے ہیں اور واپس نہیں آئیں گے۔ جب عصر کا وقت گزر گیا، یہ تھکی ہوئی سو گئیں۔

    مخدراتِ عصمت کی اسیری
    معصوم بچوں کا ماوٴں کی گودوں سے گر کر شہید ہونا اورکربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک گلشن آلِ محمد سے پھول گرتے چلے گئے اور شام آگئی۔
    تمام دنیا ، حتیٰ کہ انبیاء بھی ، ذرا تورات اُٹھا کر دیکھئے، ان کے واقعات ، تاریخیں اُٹھا کر دیکھئے تو انبیاء روتے ہی رہے۔ انہوں نے چالیس چالیس دن تک ماتم قائم کئے ہیں۔ جنابِ یعقوب کا رونا تو بہت مشہور سی چیز ہے۔ رونا ایک فطری امر ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ہم نے رُلایا بھی ہے اور ہنسایا بھی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ فطری چیزیں ہیں۔ ان فطری چیزوں کو کسی نہ کسی مقام پر صرف کرنا ہے تو اچھا محل کیوں نہ دیکھا جائے اور جب آپ اچھا محل تلاش کریں گے تو اس جگہ سے بہتر کونسی جگہ نظر آئے گی جس پر رسولِ خدا بھی روتے ہیں۔
    رسولِ اکرم پچاس سال بعد قبر سے نکل کر روئے۔ حضرت اُمّ سلمہ وہ زوجہ مطہرہ ہیں آنحضور کی جنہوں نے جنابِ سیدہ کے بعد حسین کی پرورش کی ہے۔انہوں نے رسولِ خدا کی محبتوں کو دیکھا تھا، لہٰذا اُن کو حسین سے بے حد محبت تھی۔ عاشور کا دن جو آیا تو اُن کا دل گھبرارہا تھا۔ دن بھر پریشان رہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کا بیٹا مر جائے مشرق میں اور مغرب میں تو چاہے کوئی پیغام نہ آئے اس کے مرنے کا لیکن حضور! وہ جو ایک تعلق روحانی ہوتا ہے، وہ اثر کرتا رہتا ہے۔ باپ کو یہ معلوم ہوتا ہے بغیر کسی وجہ کے، دل بیٹھا جارہا ہے، کمر ٹوٹ رہی ہے۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس وقت یا اُس دن مرگیا تھا۔
    جنابِ اُمّ سلمہ نے تو پالا ہی تھا، عاشورہ کا دن آیا۔ دن بھر بے چین رہیں اور یہ جانتی تھیں کہ حسین گئے ہیں اور واپس نہیں آئیں گے۔ جب عصر کا وقت گزر گیا، یہ تھکی ہوئی سو گئیں۔
    آپ نے خواب میں دیکھا کہ رسولِ خدا تشریف لائے ہیں، آپ کے سر پر عمامہ نہیں ہے، آستینیں کہنیوں تک چڑھی ہوئی ہیں، گردوغبار میں اَٹے ہوئے، ریش مبارک آنسوؤں سے بھیگی ہوئی، جنابِ اُمّ سلمہ نے یہ حالت دیکھی تو کھڑی ہوجاتی ہیں۔ سلام کیا اور کہا: یارسول اللہ!آپ نے یہ کیا حالت بنائی ہے؟ فرماتے ہیں: اے اُمّ سلمہ! تمہیں خبر نہیں کہ میں کربلا سے آرہا ہوں۔ میرا فرزند حسین میرے سامنے ذبح کیا گیا۔ رسول اللہ اُن کے خواب میں اس لئے آئے کہ مجھ سے محبت کرنے والے ذرا حسین کی طرف متوجہ ہوں۔ یہ قربانیاں، دنیا میں کس لئے پیش کی گئیں؟ حسین اور اُن کے تمام یاروانصار کس بیدردی سے بھوکے پیاسے شہید کئے گئے؟مسلمانو! رسول کے گھرانے کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اُمت نے کیسا سلوک کیا؟ سب کو شہید کرنے کے بعد بیبیوں کو لوٹا گیا اور پھر اُن کے خیموں میں آگ لگا دی گئی۔ گیارہویں تاریخ کو یہ بیبیاں، چونسٹھ یا چوراسی تھیں جن کی گودوں میں بچے بھی تھے، قید کرکے کوفے کی طرف لے جائی گئیں۔

    نوکِ سناں پر مظلوم امام کا سر
    جو سکینہ کی بیکسی کو دیکھ کر آنسو بہارہاتھا۔ بنتِ زہرا نے اپنا سر کجاوہ کی لکڑی پر دے مارا اور روکر کہا: میرے بھیا حسین ! کیا میری ماں نے تجھے اس دن کے
    لئے چکیاں پیس پیس کر پالا تھا؟
    اور پھر جب دین برباد ہونے لگا تو اُس کی آواز آرہی تھی:
    “ھَلْ مِنْ نَاصِرٍ یَنْصُرُنَا”
    “کوئی ہے جو اس وقت میری مدد کو پہنچے؟”
    کسی جگہ سے کوئی آواز بلند ہوئی؟ کہ اے دین اسلام! ہم تیری مدد کریں گے۔ ہاں! اُسی نے آواز دی کہ جو دین تھا خود اُس نے آواز دی کہ دین! گھبرائیے نہیں جب تک میں زندہ ہوں، تجھے برباد نہیں کیا جاسکتا۔ اُسی کا نام تھا حسین !!

    امام حسین علیہ السلام اس قافلے کو اپنے ساتھ لے کر گئے تھے جس میں ہر ہر مقام کے افراد کو جمع کر دیا گیا۔ کچھ بچیاں ایسی لے کر گئے تھے کہ جو طمانچے کھائیں اور یاد رہیں طمانچے مارنے والوں کو کہ یہ مظالم بھی ہوتے ہیں۔ یہ بھی یاد رہ جائے کہ تین چار سال کی بچی ہے مگر طمانچے کھانے کے بعد بھی بد دعا نہیں دیتی۔ تکلیف ہوئی، رودی مگر بددعا نہیں دی

    ایسے بچے بھی لے گئے جن کی عمر کربلا پہنچ کر چھ ماہ کی ہوئی تاکہ ہر ظلم کا نشانہ بنیں اور مسکراتے ہوئے چلے جائیں۔ کچھ بچے ایسے لے گئے جو یہ کہتے تھے کہ شہد اتنا میٹھا نہیں ہے جتنی موت میٹھی ہے۔ یہ تیرہ سال کے بچے کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں۔ امام حسین نے وہ کارنامہ انجام دیا بلکہ دین پر وہ احسان کیاجس سے دین کا سر قیامت تک کبھی نہیں اُٹھ سکتا۔
    جب شمر کا خنجر حسین کے گلے کے نزدیک پہنچا، سب سے پہلے مسکرائے، اس کے بعد بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے ہیں: پروردگار! میں نے ، میرے ماں باپ نے، جو وعدہ کیا تھا، تیری توفیقات سے میں اس وعدہ کو پورا کرچکا۔خدایا! جو تو نے وعدہ کیا ہے”پورا کرنا”، آواز آئی: حسین تونے اپنے آپ کو میرے لئے مٹا دیا، تو اب میرا وعدہ یہ ہے کہ تمام عالم مٹ جائے گا لیکن تجھے نہ مٹنے دوں گا۔

    موٴمنین کرام!یہ وعدہ خدا کا کس طرح پورا ہورہا ہے، صرف دعویٰ نہیں ہے، دلیل ہے۔ مٹانے والے آج بھی مٹانے کی کوشش میں ہیں لیکن جتنا مٹانا چاہتے ہیں، اُتنا ہی حسین کا نام اُبھرتا چلا جاتا ہے۔ حسین مظلوم کے ذکر میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔ ہم نہیں ترقی دے رہے، ہماری حیثیت ہی کیا ہے، وعدہ کرچکا ہے خدا کہ تیرے اوپر رونے والے قیامت تک پیدا کرتا رہوں گا۔ آج گیارہ محرم تھی، یاد تو ہوگی آپ کو، اس سے پہلے جو رات گزری ہے، یہ ان بیبیوں پر کیسی گزری ہے؟ زمین پر بیٹھے بیٹھے تمام رات گزاردی، اس رات میں گچوں کی یہ حالت ہے کہ انہوں نے کچھ ایسے وحشت ناک مناظر دیکھے ہیں کہ اب وہ روتے بھی نہیں۔ اتنے سہم گئے ہیں کہ اب بالکل خاموش ہیں۔ زبان سے کہہ دینا اور ہے، اور سن لینا اور ہے۔ ہم کہتے کہتے عادی ہوگئے، آپ سنتے سنتے عادی ہوگئے۔ ذرا کبھی تصور تو کیجئے کہ جن کے سارے عزیز مر چکے ہوں، ان کی لاشیں سامنے پڑی ہوں، ان لاشوں پر بیبیاں جابھی نہ سکتی ہوں، اُن کی رات کیسے گزری ہوگی؟
    جب تک حسین زندہ رہے، اس وقت تک جنابِ زینب کبھی کبھی روتی بھی ہیں، بھائی سے مل کر روئیں،بھائی کے گلے میں ہاتھ ڈال کر روئیں مگر اِدھر حسین کا سر نیزے پر آیا، اُدھر زینب کے آنسو خشک ہوگئے، اس لئے کہ ذمہ داریاں جنابِ زینب پر آگئی تھیں۔ کبھی اتنی بیبیاں تھیں ، اُن کے بچوں کو گود میں لیتی تھیں، کبھی امام زین العابدین علیہ السلام کے پاس آکر بیٹھتی تھیں اور کبھی ان بیبیوں کو تسلی دیتی تھیں اور کبھی بچوں سے کچھ باتیں کرتی تھیں۔ یہ رات اسی طرح گزرگئی۔ گیارہ محرم یعنی آج یہ ساری بیبیاں قید ہوکر کوفے کی طرف روانہ ہوگئیں۔ جنابِ زینب نے ساری بیبیوں کو خود سوار کیا۔ ذرا تصور تو کیجئے، جنابِ زینب تنہا رہ گئیں اور آپ کا سوارکروانے والا کوئی
    نہ رہا۔ایک مرتبہ قتل گاہِ حسین کی طرف نگاہ کی، آواز دی، بھیا حسین ! ارے زینب کو سوارکرنے والا کوئی نہیں، قید ہوکر جارہی ہوں۔ کم ازکم اونٹ پر سوار کرنے کیلئے تو آجاؤ! دریا کی طرف نگاہ کی: ارے میرے غیرت مند بھائی عباس !میں قید ہوکر جارہی ہوں، مجھے سوار کروانے والا کوئی نہیں۔
    اس جگہ کا ایک واقعہ یاد آیا، جنابِ ابوذر غفاری اس دنیا سے اُٹھے تھے، ان کی بیٹی راستے میں کھڑی ہوگئی۔مالک اُشتر کا قافلہ آیا، انہیں بتایا گیا۔ تمام قافلہ رُک گیا۔ ابوذر کو دفن کیا۔ آخر میں مالک اُشتر نے حکم دیا کہ ایک عماری الگ بنائی جائے، ابوذرکی بیٹی کیلئے تاکہ اسے سوار کرکے امیرالموٴمنین کی نگرانی میں دیا جائے۔ایک عماری الگ بنائی گئی، کفن و دفن سے فارغ ہوکر آپ نے حکم دیا: قافلے والو! تیار ہوجاؤ، سفر شروع کرو۔ لوگوں نے تیاری کی، سامان وغیرہ اونٹوں پر رکھ چکے۔ بعض لوگ بیٹھ بھی چکے کہ اتنے میں کسی شخص نے مالک اُشتر سے کہا کہ تم نے جو عماری بنوائی تھی ابوذر کی بیٹی کیلئے، ابوذر کی بیٹی کا پتہ نہیں کہ کدھر چلی گئی؟ کچھ پتہ نہیں چلتا۔ مالک اُشتر گھبرا گئے۔ آپس میں باتیں ہونے لگیں کہ کدھر چلی گئی ابوذرغفاری کی بیٹی؟ ایک شخص اتفاق سے آرہا تھا، بالکل اجنبی۔ اُس نے بھی کچھ سن لیا۔ اُس نے کہا: گھبراؤ نہیں، آج جو نئی قبر بنی ہے، اس پر میں نے ایک عورت کو روتے ہوئے دیکھا ہے۔ جاکر تلاش کرو، وہی نہ ہو۔

    چنانچہ مالک اُشتر خود گئے، دیکھا کہ ابو ذر کی بیٹی باپ کی قبر پر منہ رکھے ہوئے رو رہی ہے۔ بابا!میں آج جارہی ہوں۔ میں اب آپ کی قبر پر فاتحہ کیلئے نہیں پہنچ سکوں گی۔ مالک اُشتر نے کہا: بیٹی چلو۔ ابوذر کی بیٹی نے کہا: چچا مالک! خدا کیلئے مجھے چھوڑ دیں کہ باپ کی قبر پر رہوں، پھر رخصت ہوجاؤں۔
    صاحب مفتاح الجنان لکھتے ہیں کہ جب بیبیاں سوار ہونے لگیں، جنابِ زینب سوار کرنے لگیں تو کسی کی زبان سے نکلا کہ علی و فاطمہ کی چھوٹی بیٹی اُمّ کلثوم کدھر ہیں؟ اب ان کو اِدھر اُدھر نگاہیں ڈھونڈنے لگیں۔ آخر میں بیبیوں نے کہا کہ ان میں تو وہ نہیں ہیں۔ یہ جو کہا گیا تو سب بیبیاں گھبراگئیں۔ یہ باتیں ہورہی تھیں کہ اتفاق سے ایک شخص اُسے آنکلا۔ اُس نے بھی کچھ سن لیا۔ اُس نے کہا: گھبراؤ نہیں، میں ابھی اُدھر سے آرہا ہوں، دریا کے کنارے،میں نے دیکھا کہ وہاں ایک لاش پڑی ہوئی ہے جس کے بازوکٹے ہوئے ہیں، اس لاش سے لپٹی ہوئی ایک بی بی رو رہی ہے، دیکھو شاید وہی ہو؟جنابِ زینب جو پہنچیں تو اُمّ کلثوم عباس کی لاش سے لپٹی ہوئی کہہ رہی تھیں: بھیا! میں قید ہوکر جارہی ہوں۔
    یہ قافلہ کوفے کے قریب پہنچا، چالیس اونٹوں پر بیبیاں سوار، محبانِ حسین سے عرض کررہا ہوں۔ جب دروازئہ کوفہ ڈیڑھ میل رہ گیا، ایک مرتبہ حکم آتا ہے، ابن زیاد کا، کہ قیدیوں کو ٹھہرادو، اس لئے کہ ابھی شہر سجایا نہیں گیا۔

    عزادارانِ اہلِ بیت !شہزادیوں کا گزرہونے والا ہے، قیدیوں کی حالت میں__دو گھنٹے یہ قیدی کھڑے رہے، گودوں میں چھوٹے چھوٹے بچے لئے کھڑی یں۔ آخر میں ایک دفعہ باجوں کے بجنے کی آواز آئی۔ یہ استقبال ہے کس کا؟ نبی کی بیٹیوں کا جو اس وقت بغیر رِدا کے ہیں۔ اُن کے سر پر چادر نہیں ہے۔ حکم آیا کہ قیدیوں کو بڑھاؤ مگر اس طرح سے کہ جتنے کٹے ہوئے سر ہیں شہداء کے، وہ سب نیزوں پر بلند ہوں۔ سارے سر بلند کئے گئے۔ ہر ایک سر اُس بی بی کے اونٹ کے ساتھ بلند کیا گیا جو اُس کی بہن تھی یا بیٹی تھی یا اُس کی ماں تھی۔ امام حسین کا سرجس نیزے پر نصب کیا گیا، وہ نیزہ جنابِ زینب کے اونٹ کے پاس تھا۔
    ارے زینب کی گود میں سکینہ بھی تھی۔ یہ پہلی مرتبہ سکینہ نے باپ کا سر نیزے پر دیکھا۔ امام حسین کے سر سے دو تین قطرے خون کے گرے۔ جنابِ زینب کی نگاہ پڑی تو اپنے کجاوے کی لکڑی پر اپنا سر دے مارا اور آپ نے کہا کہ میری ماں کے چاند! کیا میری ماں نے چکیاں پیس پیس کر اسی لئے پالا تھا کہ تیرا سر اس طرح سے نیزے پر بلند کیا جائے؟

    جب قیدی آئے ہیں دربار میں، بعض لوگ نہ سمجھے ہوں گے کہ یہ کون قیدی ہیں؟ ویسے قیدی چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ بتلاؤں، آپ سمجھ گئے ہیں۔ رسول اللہ کی بیٹیاں، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بیٹیاں۔ یہ قید کی گئی تھیں۔ مسلمانو! اگر کسی نے یہ خبر نہ سنی ہوتی تو شاید یہ سننے کے بعد دل کی حرکت بند ہوجاتی۔ رسولِ خدا کی بیٹی قیدی اور اس طرح کہ پہلے بازارِشام میں پھرائی بھی گئی ہیں!!

    جب سے حکومت دنیا میں بنی ہے، اس کا طریق کار یہ رہا ہے کہ کسی اپنے دشمن کو اگر وہ ذلیل کریں یا قتل کریں یا قید خانے میں ڈال دیں تو کوئی نہ کوئی عیب اس میں نہیں بھی ہے تو عیب اس میں لگایا جاتا ہے۔ پروپیگنڈا کروایا جاتا ہے اپنے آدمیوں کے ذریعے سے کہ یہ شخص اچھا نہ تھا، اس لئے قید خانے میں ڈالا گیا۔ یزید اس چیز کو اچھی طرح سے جانتا تھا کہ پروپیگنڈا کیوں اور کیسے کروایا جاتا ہے کیونکہ اُس نے اُس جگہ پرورش پائی تھی جو اس قسم کے پروپیگنڈے کا گھر تھا اور
    روزانہ وہ ان چیزوں کو دیکھتا تھا۔ وہ اچھی طرح سے سمجھ سکتا تھا کہ کسی شخص پر الزام لگانے کے کتنے طریقے ہوسکتے ہیں اور کس طرح سے لوگوں میں اس کے اثرورسوخ کا زائل کیا جاسکتا ہے۔امام حسین علیہ السلام یہ جانتے تھے اور اس کیلئے جنابِ امام حسین نے جنابِ زینب کو منتخب کیاتھا۔ میری بہن! حکومت جو پروپیگنڈا میرے خلاف کرے گی، اگر تم شام تک چلی جاؤ گی تویہ تمام قوتیں ختم ہوجائیں گی۔ ایک تمہاری آواز دنیا پر چھا جائے گی۔
    اور یہی ہوااور جنابِ زینب سلام اللہ علیہا اسی خیال سے چلیں۔ لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ ایک شخص نے ہم پر حملہ کیا تھا۔ ہم نے اُسے قتل کردیا۔ اس کے ساتھیوں کو مار ڈالا۔ اُس کے بال بچوں کو گرفتار کیا اور وہ فلاں دن دمشق میں داخل ہوں گے۔ پچاس پچاس میل تک، سو سو میل تک جب یہ خبریں پہنچیں تو لوگوں نے یہ سمجھا کہ کوئی غیر مسلم ہوگا، مسلمان نہ ہوگا جس نے یہ حملہ کیا ہے۔ وہ مسلمان نہ ہوگا جس کی عورتیں قید ہوکر آرہی ہیں۔ یہ لوگ جمع ہوگئے ، لاکھوں آدمیوں کا ہجوم، قافلہ قیدیوں کا آرہا ہے۔ کالے عَلَم دکھائی دئیے اور زیادہ متوجہ ہوگئے لوگ کہ یہ کیا ہے؟ ابھی تک خیال وہی ہے۔ اس کے جب قریب آئے وہ اونٹ جن کے ساتھ سر تھے تو لوگوں نے گھبرا گھبرا کردیکھنا شرو ع کیا اور آخر میں ایک دوسرے سے کہنے لگے: ارے بھائی! کہا جاتا ہے کہ مسلمان نہیں! ان کی پیشانیوں پر تو سجدوں کے نشان ہیں اور اس کے بعد دوسرا کہتا ہے کہ اس کو تو چھوڑا، یہ تو دیکھو ان بیبیوں کی گودوں میں جو بچے ہیں، وہ قرآن پڑھتے ہوئے چلے آرہے ہیں۔ یہ جو چیزیں دیکھیں تو اس کے بعد لوگوں نے پوچھنا شروع کیا:ارے بھئی! یہ کہاں کے قیدی ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں؟ کس خاندان کے ہیں؟ تو کسی نے بتلایا کہ جس کا کلمہ پڑھتے ہو، اُس کی بیٹیاں ہیں۔ وہ جو پروپیگنڈے ہورہے تھے، ایک مرتبہ ایک نظر میں ختم ہوگئے۔

    اس کے بعد وہ طبقہ جو اُمراء کا طبقہ سمجھا جاتا تھا، جن کے خیالات دنیا کی طرف مرکوز رہتے ہیں، اُن سے سامنا ہوا۔ حضور! جب دربار میں یہ قافلہ پہنچ گیاتووہاں کم سے کام سات سو کرسیاں تھیں جن پر ارکانِ دولت اور روٴسائے وج بیٹھے ہوئے تھے۔ بڑے بڑے آدمی اِدھر اُدھر کے بیٹھے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ دروازے کی طرف سے زنجیروں کی آواز آئی۔ اب جو نظر پڑی تو دیکھا کہ ایک بیمار ہے، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنے ہوئے، نظر جھکائے ہوئے چلا آرہا ہے۔
    اس کے بعد بیبیاں نظر آئیں اور بیبیاں کس طرح سے زبان سے الفاظ نکلتے نہیں ہیں مگر کیا کروں؟ کہلوایا زمانے نے، کسی کے سر پر چادر نہیں، ایک طرف بیٹھ گئیں یہ بیبیاں سرجھکائے۔ یزید یہ سمجھ رہا تھا کہ میری فتح کی خوشی ہے۔ وہ اپنی فتح کی خوشی میں مخمور تھا۔ شمر نے آکر سرپیش کیا بطور تحفہ۔یزید نے رومال ہٹایا۔ جب لوگوں کی نظریں پڑیں ، قتل ہوئے چار پانچ مہینے گزر گئے ہیں مگر دیکھنے والوں کے بیان ہیں کہ خدا کی قسم! اتنا خوش شکل چہرہ کبھی نہیں دیکھا جتنا یہ کٹا ہوا سر تھا۔
    چہرے سے نور نکل رہا تھا۔ بعض لوگ جن کی روحوں میں سعادت تھی، سر کو دیکھتے ہی گھبراگئے۔ یہ کیا ہوا؟ کس کا سر ہے؟ کبھی بیبیوں کی طرف نگاہ ہے، کبھی امام زین العابدین کی طرف۔ امام زین العابدین سر نہیں اُٹھاتے، سر جھکائے ہوئے ہیں۔ آپ کے متعلق یہ لکھا ہے کہ کربلا سے قید ہو کر جب چلے، کوفے میں قید رہے، ابن زیاد کے دربار میں پیش ہوئے، کوفے سے پھر شام کے راستے دمشق، بارہ سو میل کا راستہ،اس تمام راستے میں امام زین العابدین کی حالت یہ رہی کہ ہمیشہ سرجھکائے ہوئے رہتے تھے۔ دل میں نشتر چبھنے لگتے ہیں۔ خدا کی قسم! جب یہ چیز میرے خیال میں آجاتی ہے، بنی ہاشم کا جوان،22سال کی عمر، رسول کا نواسہ، علی کا پوتا،امام حسین علیہ السلام آخری وصیت میں فرماگئے تھے: بیٹا! ماں اور بہنوں کا ساتھ ہے، گھبرا نہ جانا، میری محنت برباد ہوجائے گی۔
    ایک مرتبہ ایسا ہوا اور یہ ہوتا چلا آرہا ہے، ذرا ذرا سی بات پر شمرجنابِ امام زین العابدین علیہ السلام کو ستاتا تھا۔ نوکِ نیزہ سے اذیت دیتا تھا، بازارِ شام میں ایک مرتبہ امام زین العابدین گر پڑے۔ بیمار کو ٹھوکر لگی، گر پڑے، اُس نے نیزے کی نوک سے تکلیف دی، تڑپ کو اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے باپ کے سر کی طرف نظر کرکے عرض کرتے ہیں: بابا! میری کمرکو دیکھئے، کتنی زخمی ہوچکی ہے۔جنابِ زینب نے جب یہ دیکھا تو آواز دی: بیٹا! منزل قریب آگئی ہے، گھبراؤ نہیں۔

    جب یزید نے دربار میں خطاب کیا، تمہارے بھائی کو خدا نے قتل کیا، تم کو رُسوا کیا کہ قید ہوکر میرے دربار میں آئے ۔ جنابِ زینب کوموقعہ ملا کہ یہ وقت ہے کہ اُس تمام پروپیگنڈے کو اسی جگہ ختم کردوں تو ایک مرتبہ آپ نے آواز دی: “یزید! خاموش ہوجا، کیا بک رہا ہے؟ تو یہ کہتا ہے کہ میرا بھائی قتل ہوا، اُس کی ہمیں پروا نہیں، قتل ہونا ہماری میراث ہے۔ رہ گئی یہ چیز کہ تو نے ہمیں گرفتار کیا اور دربار میں لایا، ہماری ذلت نہیں ، تو ذلیل ہوگا جب قیامت کا میدان ہوگا تو میرے نانا پوچھیں گے”۔ اتنی باتیں کی تھیں جنابِ زینب نے کہ دربار والے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگے کہ علی کی آوازکہاں سے آئی۔ آپ نے فرمایا:”دربار والو! تم ہمارا تماشہ دیکھنے کیلئے بیٹھے ہو، تمہیں پتہ نہیں کہ میں کون ہوں؟ ارے تمہارے رسول کی جو بیٹی تھیں ناں فاطمہ زہرا ، اُن کی بیٹی زینب ہوں۔ یہ کٹا ہوا سر میرے بے گناہ مظلوم بھائی کا ہے۔

    جنابِ سکینہ کا زندانِ شام میں انتقال
    جب زائرین شام سے کربلا جاتے ہیں تو سکینہ انہیں پیغام دے کر کہتی ہیں کہ میرے بابا سے کہنا کہ آپ کو پردیسی سکینہ بہت یاد کرتی ہے۔
    قید خانے میں ایک واقعہ ہوگیا اور وہ یہ کہ ایک بچی کا انتقال ہوگیا۔ حاضرین مجلس! ہوا یہ کہ جس وقت یزید کا دربار ختم ہوا اور قیدی بھیجے گئے تو اس کی محل سرا کے پاس ایک خرابہ تھا، ٹوٹا ہوا مکان تھا اُس کا حکم یہ تھا کہ یہ قیدی وہاں بھیج دئیے جائیں۔ آج بھی وہاں آثار نظر آرہے ہیں کہ کہاں محل سرائے یزید تھی۔ دنیا مٹ گئی، یزید مٹ گیا لیکن اُس بچی کی قبر آج بھی باقی ہے۔ جب قیدی اس خرابے میں داخل کئے گئے اور دروازہ بند کردیا گیا تو دن میں اتنا اندھیرا ہوگیا کہ ایک کو دوسرا دیکھ نہیں سکتا تھا۔
    عزادارانِ اہلِ بیت !اب ذرا آپ اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر سنئے گا۔ تمام قیدی گھبرا گئے۔ انہوں نے کہاں ایسی جگہیں دیکھی تھیں جہاں دن میں بھی اتنا اندھیرا ہو۔ اپنی ماؤں کی گودیوں میں بلک بلک کر رونے لگے۔ ماؤں نے اُن کے منہ پر ہاتھ رکھا، بچو! روؤ نہیں۔ شہزادی کو تکلیف ہوگی، جنابِ زینب کو رنج ہوگا۔جنابِ سکینہ کچھ زیادہ گھبرا گئیں اور بار بار کہتی تھیں: پھوپھی جان! ہم کہاں آگئے؟ ایک کو دوسرا دیکھ نہیں سکتا ہے، ہم یہاں کیسے زندگی گزاریں گے؟ پھوپھی! میرے بابا کب آئیں گے؟
    آخر جنابِ زینب بچی کو سمجھاتی رہیں۔ صاحبانِ اولاد! بعض بچے تاریکی میں گھبرانے لگتے ہیں۔ یہ تاریکی اور گھٹن ،چونسٹھ بیبیاں، اُن کی گودوں میں بچے، جنابِ سکینہ بہت گھبرا گئیں۔ آپ نے سمجھا کر سکینہ کو سلا دیا۔ رات جو گزری اور دن آیا تو سکینہ نے کہا: پھوپھی جان! کیا یہاں
    دن نہیں نکلے گا؟یہاں تو روشنی ہے ہی نہیں؟میں گھٹ کر مرجاؤں گی۔ جنابِ زینب سمجھاتی رہیں، یہاں تک کہ جب دوسری شام آگئی تو سکینہ کچھ اتنی زیادہ گھبراگئیں کہ اب جتنا سمجھاتی ہیں جنابِ زینب ، اس بچی کو قرار نہیں آتا۔مسلسل رو رہی ہے۔ بابا!ارے جب آپ گئے تھے تو مجھ سے فرماگئے تھے کہ میں تمہیں لینے کیلئے آؤں گا، آپ کہاں چلے گئے؟ میں کیا کروں؟میں اس جگہ کیسے رہ سکتی ہوں؟میری روح نکل رہی ہے، بابا! آئیے
    تقریباً آدھی رات تک یہ بچی روتی رہی۔ اس کے بعد کبھی جنابِ زینب گود میں لیتی تھیں، کبھی امام زین العابدین گودمیں لیتے تھے، کبھی جنابِ رباب گود میں لیتی تھیں۔جنابِ رباب کے دوبچے تھے، ایک جنابِ سکینہ اور ایک جنابِ علی اصغر ۔سکینہ کو کسی کی گود میں قرار نہیں آتا تھا۔ آخر تھک کر کچھ آنکھ بند ہوئی، تھوڑی دیر تک سوئیں، ایک مرتبہ جو اٹھیں تو اُنہوں نے آواز دی:پھوپھی جان! میرے بابا آئے ہوئے تھے، مجھے چھوڑ کر پھر کہاں چلے گئے؟ابھی ابھی مجھے گود میں لئے ہوئے تھے، مجھے پیارکررہے تھے، وہ کہاں چلے گئے ہیں مجھے چھوڑ کر؟
    یہ جو باتیں شروع کیں تو اہلِ بیت میں ایک کہرام برپا ہوگیا۔ بے اختیار ہوکر بیبیاں رونے لگیں۔ جب آوازیں بلند ہوئیں تو محل سرائے یزید تک یہی گریہ و بکا پہنچا۔ یہ ملعون جاگ اُٹھا۔ کسی سے کہا کہ پوچھ کر آؤ کہ یہ کیسا شور ہے؟ امام زین العابدین نے کہا کہ بچی یتیم ہے، اُس نے خواب میں اپنے باپ کو دیکھا ہے اور اب وہ پکار رہی ہے،یہ تمام بیبیاں اسی لئے رو رہی ہیں۔
    اُس ملعون نے کیا کیا؟ یہ تھے تسلی دینے کے طریقے؟ کہا: اچھا ! باپ کو پکاررہی ہے، اُس کا سرلے جاؤ، حسین کا سر لے جاؤ اور اُس بچی کو دے دو۔یوں تسلیاں دی جاتی ہیں؟
    چنانچہ امام حسین علیہ السلام کا سرلایا گیا ۔ یہ جو بیبیوں نے سنا تو سب کی سب کھڑی ہو گئیں۔ امام حسین کا سرامام زین العابدین نے لیا۔ جس وقت آپ اندر پہنچے، سکینہ نے فوراً وہ سر لے لیا اور اسے سینے پر رکھا، منہ پر منہ رکھ دیا۔ بابا! یہ گلا کس نے کاٹ ڈالا ہے؟ مجھے کس نے یتیم کردیا؟
    بابا!آپ تو ابھی آئے تھے تو آپ کی گردن کٹی ہوئی نہ تھی، یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں؟ کہتے کہتے رونے لگیں اور چیخ کر رونے لگیں۔ بیبیوں میں ایک کہرام برپا ہوگیا آخر اس بچی کی آواز کم ہونے لگی۔ جب بالکل اس بچی کی آواز بند ہوگئی تو وہ بیبیاں سمجھیں کہ شاید سوگئی ہے۔جنابِ زینب جو قریب پہنچیں اور ہاتھ رکھا تو جسم ٹھنڈا معلوم ہوا۔ جنابِ زینب نے آواز دی: سجاد بیٹا! جلدی آؤ، سکینہ اپنے بابا کے پاس جارہی ہے۔ چنانچہ امام زین العابدین علیہ السلام جب آئے تو دیکھا کہ سکینہ رخصت ہوچکی تھیں، اس دنیا سے جاچکی تھیں۔
    اس بچی کی قبر وہیں بنی اُس قید خانے میں۔ عزادارو! یہ قبرستان نہ تھا، یہ قید خانہ تھا۔ اگر کوئی قیدی مرجاتا تھا ، اُن کا قبرستان الگ تھا۔ اس میں جو قبر بنی اس بچی کی تو غالباً اس کی وجہ یہی ہے کہ کوئی جنازہ اُٹھانے والا نہ تھا۔ جب اہلِ بیت رہا ہوکر جانے لگے تو جنابِ زینب نے شام کی عورتوں سے کہا کہ بیبیو! ہم جارہے ہیں، میں اپنے بھائی کی ایک نشانی چھوڑ کر جارہی ہوں، ارے جب کبھی آنا تو اس بچی کی قبر پر ذرا سا پانی چھڑک دیا کرنا۔

    ہائے سکینہ ہائے پیاس یائے سکینہ ہائے پیاس ہائے سکینہ ہائے پیاس

    سلام ہو آپ پر اے حسہن ع کے دل کا چین
    سلام ہو آپ پر جناب عباس ع کی جان
    سلام ہو آپ پر یا سکینہ بنت حسین (ع)

  12. سلام خاک نشینوں پہ سوگواروں کا
    غریب دیتے ہیں پرسہ تمہارے پیاروں کا

    سلام ان پر جنہیں شرم کھاۓ جاتی ہے
    کھلے سروں پہ اسیری کی خاک آتی ہے

    سلام ان پر جو زحمت کش سلاسل ہے
    مصیبتوں میں امامت کی پہلی منزل ہے

    سلام بھیجتے ہیں اپنی شہزادی پر
    کہ جس کو سونپ گۓ مرتے وقت گھر سرور

    مسافرت نے جسے بے بسی یہ دکھلائ
    نثار کردیے بچے نہ بچ سکا بھائ

    اسیر ہو کے جسے شامیوں کے نرغے میں
    حسینیت ہے سکھانا علی کے لہجے میں

    سـکـینـہ بی بی تمہارے غلام حاضر ہیں
    بجھے جو پیاس تو اشکوں کے جام حاضر ہیں

    یہ سن یہ حشر یہ صدمے نۓ نۓ بی بی
    کہاں پہ بیٹھی ہو خیمے تو جل گۓ بی بی

    پہاڑ رات بڑی دیر ہے سویرے میں
    کہاں ہو شام غریباں کے گھپ اندھیرے میں

    زمین ہے گرم یتیمی کی سختیاں بی بی
    وہ سینہ کہ جس پہ سوتی تھی اب کہاں بی بی

    جناب مادر بیشیر کو بھی سب کا سلام
    عجیب وقت ہے کیا دیں تسّـلیوں کا پیام

    ابھی کلیجے میں آگ سی لگی ہوگی
    ابھی تو گود کی گرمی نہ کم ہوئ ہوگی

    نہیں اندھیرے میں کچھ سوجھتا کہاں ڈھونڈیں
    تمہارا چاند کہاں چھپ گيا کہاں ڈھونڈیں

    نہ اس طرح کوئ کھیتی ہری بھری اجڑی
    تمہاری مانگ بھی اجڑی ہے کوکھ بھی اجڑی

    نہیں لعینوں میں انساں کوئ خداحافظ
    درندے اور یہ بے وارثی خداحافظ

    شہید کے حق اے درود و سلام اے پیغمبر
    سلام سید لولاک کے لٹے گھر پر

    سلام محسن اسلام اسد اللہ کو
    سلام تم پر شہیدوں کے بے کفن لاشوں

    سلام تم پر رسول و بتول کے پیاروں
    سلام مہر شہادت کے گرد سیاروں

    بچے تو اگلے برس ہم ہیں اور یہ غم پھر ہے
    جو چلے بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے

  13. ارشاد باری تعالی ہے :
    ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں [اعمال لکھنے والے فرشتے]ایک دائیں اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان[یعنی لکھنے والا فرشتہ] تیار رہتا ہے )
    سورۃ ق / 16- 1

    ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    بائیں طرف والافرشتہ غلطی کرنے والے مسلمان سے چھ گھنٹے تک قلم اٹھآئے رکھتا ہے تو اگر وہ اپنے کۓ پر نادم ہو اور اللہ تعالی سے استغفار کرے اسے ختم کر دیتا ہے اگر نہ کرے تو ایک گناہ لکھتا ہے

  14. ثمرین کا لکھا پڑھنے کے لئے جگر چاہیئے جو میرے پاس نہیں۔

  15. جزاک اللہ سیدہ ثمرین بخاری … جزاک اللہ .. پڑھ کر مجلس میں بیٹھنے کا احساس ہوا .. بے اختیار اشکباری رہی .. سچ ہے حضرت امام حسین علیہ السلام نے وہ کارنامہ انجام دیا بلکہ دین پر وہ احسان کیاجس سے دین کا سر قیامت تک کبھی نہیں جھک سکتا … سلامت رہو ..ہر سکھ پاؤ .. آمین

    کوثر کی تمنا ہے نہ جنت کی طلب ہے
    اب قبرِ سکینہ کی زیارت کی طلب ہے
    ( صفدر ہمدانی)

  16. حق کی راہ میں ہر سن و عمر کے افراد حتی کہ کمسن بچوں و بچیوں تک نے قربانیاں دی ہیں۔ اگر ایک طرف میدان کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے چھ ماہ کے شیر خوار فرزند علی اصغر نے یزیدی فوج کا تیر ہنستے ہوئے سہہ کر وقت کے امام اور امیر المومنین علیہ السلام، سید الشہداء نواسئہ رسول ص کی اطاعت کا حق ادا کیا تو دوسری طرف امام حسین (ع) کی کمسن بیٹی بی بی سکینہ بنت حسین(ع) نے دمشق و کوفہ کے بازاروں و زندانوں اور درباروں میں حق کی خاطر قربانیاں دے کر آخر کار تیرہ صفر المظفر یا بعض روایات کے مطابق 10 یا 11 صفر المظفر 62 ہجری میں زندان دمشق خرابہ میں جام شہادت نوش کیا۔ بی بی سکینہ بنت حسین (ع) امام علی (ع) کی پوتی اور امام حسین (ع) کی لاڈلی بیٹی فاطمہ بنت الحسین (ع) جو تاریخ میں سیدہ سکینہ (ع) کے نام سے معروف ہیں اور جن کا سن مبارک صرف ۴ برس کا تھا، جب بنی امیہ کے شجرہ خبیثہ کی علامت ملعون یزید ابن معاویہ نے کربلا میں خاندان عصمت و طہارات اہل بیت آل محمد ص کو شہید کیا تو صرف ان کی شہادت پر اکتفا نہ کیا بلکہ محمد و آل محمد (ع) کےمخدرات عصمت و طہارت پاک بیبیوں حتی کہ یتیم بچوں و بچیوں کو دس محرم کے بعد قیدی بنا کر بے کجاوہ اونٹوں کے ذریعے اپنے پایہ تخت دمشق و کو فہ کے بازاروں و درباروں تک لے جایا گیا اور یہ پروپیگنڈہ تک کروایا گیا کہ نعوذ باللہ ان اہل بیت اطہار نے خلیفتہ المسلمین یزید ابن معاویہ کے خلاف بغاوت کی تھی، اگر کوئی اس طرح کرے گا تو ان کا بھی یہی انجام ہو گا۔

    شاید یزید کو معلوم نہ تھا کہ خاندان رسالت اور عصمت و طہارت کی خواتین و بچے ہوں یا پھر ان کے گھر کی کنیز فضہ ہی کیوں نہ ہوں یہ سب مفسر قرآن ہیں۔ رسول (ص) اور علی (ع) کی تربیت کی وجہ سے اپنے خطبات کے ذریعے بازاروں و درباروں میں انقلاب برپا کر سکتی ہیں اور ایسا ہوا بھی، علی (ع) کی بیٹی زینب سلام اللہ و بی بی ام کلثوم اور امام حسین(ع) کی کمسن بیٹی بی بی سکینہ بنت حسین (ع) نے اپنے کردار و خطبات کے ذریعے یزید اور یزیدیت کو تاقیامت لعنت کا حقدار کر کے باطل کی علامت قرار دیا۔ اس کا ذکر حکیم الامت علامہ اقبال نے بھی یوں کیا۔

    حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
    یک حسین رقم کرد و دیگر زینب

    بی بی سکینہ بنت حسین(ع) نے کوفہ میں ایک ایسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا کہ اہل کوفہ آپ (ع) کی بلاغت و فصاحت پر دنگ رہ گئے اس خطبہ نے لوگوں کے دلوں کو کاٹ ڈالا اور لوگ غم کے سمندر میں غوطہ زن ہو گئے اس خطبہ کا لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر پڑا اور ان کو احساس ہوا کہ ان سے کتنا بڑا گناہ عظیم سرزد ہوا ہے۔ حضرت سکینہ سلام اللہ کے خطبے کا متن کچھ یوں ہے۔

    “حمد ہے اللہ کی ریت کے ذروں اور سنگریزوں کے برابر ،عرش کے وزن سے لے کر زمین تک میں اس کی حمد بجا لاتی ہوں ،اس پر بھروسہ کرتی ہوں ،گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اور محمد ص اللہ کے عبد اور رسول ہیں اور آپ ص کی طاہر اولاد کو فرات کے کنارے پیاسا ذبح کر دیا گیا۔ اے اللہ ! تو نے اپنی مخلوق سے علی ابن ابی طالب (ع) کی ولایت کا عہد لیا اور ان کو اس عہد کی وصیت کی لیکن مخلوق نے تیرا یہ عہد توڑ ڈالا اور آپ (ع) (امیرالمومنین (ع)) کے حق کو غصب کر لیا گیا اور آپ (ع) کو شہید کر دیا جیسے کل انہی کے بیٹے (حسین(ع) کو شہید کیا گیا۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرے دادا (ع) کو تیرے گھر میں شہید کیا گیا جس میں دیگر مسلمان بھی موجود تھے اور انہوں نے اپنی زبانوں سے ان کی مظلومی کا اقرار کیا ان پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا گیا لیکن انہوں نے تیری خاطر صبر سے کام لیا اور وہ اس حال میں دنیا سے گئے کہ ان کی حمد بیان کی گئی اور ان کے فضائل و مناقب ہر جا معروف ہیں اور کوئی بھی ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکا۔ اے اللہ! میرا سن بہت چھوٹا ہے اور میرے دادا کے مناقب بہت عظیم ہیں، میں اس پر ان کی تعریف کرتی ہوں۔ اے اللہ! تو جانتا ہے میرے دادا نے ہمیشہ تیری توحید اور تیرے رسول کی حفاظت کی اور آپ کو دنیا سے کوئی غرض نہ تھی۔ آپ نے تیری راہ میں جہاد کیا اور تونے ان کو چن لیا اور اپنی صراط مستقیم قرار دیا۔

    اے کوفیو! اے مکروفریب اور دھوکہ دینے والو! اللہ نے ہم اہل بیت (ع) کے ذریعے تمہارا امتحان لیا اور تم کو ہمارے ذریعے آزمایا اور ہماری آزمائش کو حسن قرار دیا۔ اللہ نے اپنا علم ہمیں ودیعت فرمایا، ہم اس کے علم کے امانتدار ہیں اور ہم ہی اللہ کی حکمت کے مخزن ہیں اور ہم ہی آسمان و زمین پر اللہ کی حجت ہیں اللہ نے ہمیں اپنی کرامت سے شرف بخشا اور ہمیں ہمارے جد محمد ص کے ذریعے اپنی ساری مخلوق پر فضلیت بخشی۔ تم نے ہمیں جھٹلا کر اللہ سے کفر کیا اور تم نے ہمارا قتل حلال جانا اور ہمارے مال کو لوٹا گویا ہم اولاد رسول نہیں، کہیں اور کے رہنے والے ہیں اور جس طرح کل تم لوگوں نے ہمارے دادا کو قتل کیا تھا تمہاری تلواروں سے ہمارا خون ٹپکا ہے کیونکہ تمہارے سینوں میں ہمارا بغض و کینہ بہت عرصے سے پرورش پا رہا تھا تم نے ہمیں قتل کرکے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی اور تمہارے دل خوش ہوئے تم نے اللہ پر افتراء باندھا اور تم نے فریب کیا، اللہ فریب کرنے والوں کے فریب کو ناکام بنانے والا ہے تم نے جو ہمارا خون بہایا ہے اس سے اپنے نفسوں کو خوش نہ کرو اور جو تم نے ہمارا مال لوٹا ہے اس سے بھی تمہیں کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے کیونکہ ہمیں جو مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا ہے یہ اللہ کی محکم کتاب میں پہلے سے ہی مذکور تھا، ہم پر ظلم و ستم ڈھا کر خوش نہ ہو بےشک اللہ تکبر اور غرور کرنے والوں پر لعنت کرتا ہے۔ تمہارے لیے ہلاکت ہو عنقریب تم لعنت اور عذاب نازل ہو گا اور وہ تمہارا مقدر بن گیا ہے اور آسمان سے کثرت کے ساتھ تم پر عذاب آئیں گے اور تم عذاب عظیم دیکھو گے اور سختی کا تلخ ذائقہ چکھو گے اللہ کی ظالمین پر لعنت ہو۔ تمہارے لیے ویل (جھنم) ہے ہم جانتے ہیں کہ کس نے ہماری اطاعت کی کس نے ہمارے ساتھ جنگ کی کون ہماری طرف خود چل کر آیا تم تو ہمارے ساتھ جنگ چاہتے تھے تمہارے دل سخت ہوگئے تمہارے جگر غلیظ ہوگئے اللہ نے تمہارے دلوں ،کان،آنکھوں پر مہر لگا دی تمہارا پیشوا شیطان ہے جس نے تمہاری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور تم ہدایت سے دور ہو گئے۔

    اے کوفیو! تمہارے لیے ہلاکت ہے، رسول اللہ نے تمہارے ساتھ کیا برا کیا تھا جس کے بدلے میں تم نے اس کے بھائی اور میرے دادا علی ابن ابی طالب (ع) کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا اور اس کی پاک عزت کے ساتھ کیا؟ ہمارے قتل اور ہمیں قیدی بنا کر تم فخر کرتے ہو کیا یہ امت اس پاک گھرانے کے قتل پر فخر محسوس کرتی ہے جسے اللہ نے پاک و پاکیزہ بنایا اور ہر رجس کو ان سے دور رکھا ؟ہر شخص کو وہی ملتا ہے جسے وہ کسب کرتا ہے اور جو وہ آگے بھیجتا ہے ۔تمہارے لیے ویل ہے تم نے ہم پر حسد کیا جو اللہ نے ہمیں عظمت و فضیلت عطا کی تھی وہ تمہارے حسد کا نشانہ بنی اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے وہ صاحب فضل عظیم ہے جس کے لیے اللہ نور نہ بنائے اس کے لیے کوئی نور ہو ہی نہیں سکتا ۔

    نبوت اور امامت کی پروردہ نے اپنے اس عظیم خطبے میں چند اہم امور پر گفتگو فرمائی:
    ۱۔سیدہ سکینہ نے اپنے دادا امیرالمومنین (ع) کی ولایت کے عہد کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا اور آپ (ع) کے مصائب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ جو حق ہے اور زمین پر مجسمہ عدل ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے گھر میں شہید کر دئیے گئے۔ امیرالمومنین (ع) وہ شخصیت ہیں جن کو اللہ نے چن لیا اور اپنی صفات و فضائل و مناقت سے آپ (ع) کو مخصوص کر دیا
    ۲۔ سیدہ سکینہ(ع) نے اہل بیت(ع) کے مصائب کا ذکر فرمایا، ان پر اللہ کا سلام ہو وہ امت کے روحانی پیشوا ہیں ان سے پوچھا جائے گا کہ کس نے ان کی نصرت کی اور کس نے دشمنی اور امت نے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور جس طرح آل محمد (ع) کا خون بہایا اور جس طرح آل محمد(ع)نے مصائب و آلام برداشت کئے ۔

    ۳۔ اہل بیت (ع) پر کی جانے والی زیادتیوں کا بیان کیا کہ ظالم افراد جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، نے کتنا ظلم ڈھایا اور ان کو اللہ کے سخت ترین عذاب کی نوید بھی سنائی۔ لوگوں کے نفوس میں اس خطاب کا گہرا اثر ہوا جس سے لوگوں کے دل جلنے لگے اے طاہرین کی بیٹی! خدارا اپنے کلام کو روک دیجئے آپ نے ہمارے دلوں میں آگ لگا دی اور ہماری سانسیں ہمارے حلق میں اٹک گئی ہیں حتی کہ اس مجمعے میں موجود بعض افراد نے یزید ملعوں اور اس کے افواج کے خلاف علم جہاد اٹھا کر جام شہادت نوش کیا۔ کربلا اور معرکئہ حق و باطل آج بھی ہمارے ارد گرد جاری ہے

    گوگل سرچ

  17. سکینہ بنت الحسین علیہ اسلام کی شہادت کے ایام ھیں ، کل رات محب اھل بیت مرحوم اقبال بھائ کے گھر مجلس بسلسلہ شہادت بی بی سکینہ علیہ اسلام منعفد ھوئ تھی ، ذاکرہ نے ایسے مصائب پڑھے کہ لگتا تھا کہ اب جگر شق ھوجاۓ ، میں آواز گریئہ بلند کرتے ھوۓ سوچ رھی تھی کہ ھاۓ کیسے شقی القلب لوگ تھے جن کے ھاتھوں آل عترت الطہار نے ایسی ایسی تکالیف اٹھايئں کہ چشم فلک تک نم ھوگی ، زمین و اسمان کے ذرے ذرے نے گريئہ کیا اور تاقیامت اس ظلم پر گریئہ کرتے رھینگے ، کیونکہ حسین علیہ اسلام کی غربت پر رونے والے دعاۓ فاطمہ زھرا کا ثمر ھیں اور امام سید الشہدا کی آنکھوں کی ٹھنڈک بی بی سکینہ اور ام رباب والدہ بی بی سکینہ علیہ اسلام

    سلام ھو ھمارا آل رسول کی ان پاکیزہ خوایتن پر بعد یوم عاشور ، تاراجی خیام کے بعد ، لاشوں کی پايمالی کے بعد زیورات سیدہ چھین جانے کے بعد ظالم یزیدی تیروں تلواروں سے لیس نیزوں کے ذریعے بیبوں کے کے سروں سے

    ردايئں چیھنے لگیے ھر بی بی نے مزاحمت کی ھر بی بی کے سر پر نیزوں تیروں اور تلواروں سے زخم آۓ سلام ھو ھمارا ان پاکیزہ بیبیوں پر
    جن پر وہ ظلم ڈھایا گیا کہ آج تک سننے والے سر وسینہ پیٹتے ھیں یا سکینہ ، یا علی اصغر یا ام رباب بنت امراء القیس
    بی بی سکینہ بنت امام حسین علیہ اسلام کی والدہ حضرت رباب بنت امراء القیس ۔ تھیں ان عصمت وطہارت کے پیکروں کے بارے میں امام مظلوم امام السید اشہداّ الحسین بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب فرماتے تھے کہ

    جس گھر میں سکینہ و رباب نہ ھو مجھے وہ گھر نیہن اچھا لگتا ھے

    امام مظلوم کی چہتی بیٹی سکینہ یتمیہ امام سید الشہداء جو عصر عاشور سے قبل سارے کنبے کی چہتی تھی جو باپ کی دعا تھی بھایئوں کی جان تھی چچا عباس کی لاڈلی تھی پھوپھی زینب کی پیاری تھی ، جس کو دیکھہ کر کنبے کےلوگ جیتے تھے جو قاسم و عون محمد علی اکبر وعلی اصغر کی راج رلاری بہن تھی ، عاشور سے قبل کسی نے اس کو کبھی طمانچہ نیہن مارا تھا ، مگر ھا‎ ۓ کربلا یہاں سارے رواج بدل گیۓ نبی کی آل کو در در پھرایا گیا ، تیمتوں کو انتا مارا گیا کہ پشت تازیانوں کے نشان سے نیلی پڑ گی
    ھاۓ سکینہ ھاۓ پیاس
    ھاۓ مظلومہ ھاۓ پیاس

    سکینہ بہت پیاسی تھی نہ اس بی بی کو رونا دیا گیا جب بھی بابا ک یاد کرکے روتی طمانچے مارے جاتے ، گہر چھنے گیے

    اور سب سے ایذا بیمار امام سید العابدین کو دی جاتی کہ جنکی آھنی بیڑیاں ھتکڑیاں اور گردن کا طوق و گرانبار دھوپ میں جلتا اور اس پر سے ظالم تازیانے مارتے ، اگر سکینہ بابا کو یا د کرکے روتی تھی

    کربلا سے شام تک کا سفر سکینہ کو ایسے اونٹ پر بٹھیایا گیا کہ بی بی پشت تک زخموں سے چور ھوگی ، بازوں میں رسن باندھی گی

    اور جب یہ ملعون اونٹوں کو تیزی سے دوڑاتے تو سکینہ بی بی تکیلف سے رونے لگتی ، ھر بی بی کے سامنے اس کے والی و وارث کا سر نیزہ پر بلند ،
    تاريخ کی بہت مظلوم بچی ، اس کے سامنے سارا کنبہ پايمال ھوا ،

    کون سا ایسا ظلم تھا جو ان پر نہ روا رکھا گیا ، سللام ھو ھمارا ان تشنہ دھانوں پر

    تاریکیء زنداں میں نہیں سوئی سکینہ
    جی بھر کے ابھی باپ کو کب روئی سکینہ
    سینے سے لگاتا نہیں اب کوئی سکینہ
    ہے یاد میں اصغر کی رہی کھوئی سکینہ
    روتی ہے جو شب میں تو صدا دیتا ہے جلاد
    زندان کا زندان ہلا دیتا ہے جلاد

    بابا سے جدائی کا سکینہ کو ہے وہ غم
    روتی ہے یا پھر کرتی ہے دن رات وہ ماتم
    دُر کھنچنے سے کانوں میں جو تکلیف ہے پیہم
    کہتی ہے پھوپھی سے کہ جو رُک جائے مرا دَم
    ننھی سی لحد گوشۂ زنداں میں بنانا
    اور قبر پہ اصغر کا مجھے نوحہ سنانا

    رو رو کے یہ کہتی تھی کہاں ہے مرا اصغر
    کیوں آتے نہیں خواب میں اماں علی اکبر
    کیا مجھ سے خفا ہو گئے عباسِ دلاور
    پانی نہیں مانگوں گی بتا دو انہیں جا کر
    اب کس سے بھلا دُکھ کا میں اظہار کرؤں گی
    اصغر کو میں گرد ن پہ بہت پیار کرؤں گی

  18. جو لوگ اللہ اور اسکے رسول (ص) کو دکھ دیتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا میں اور آخرت میں لعنت کی ہے اور انکے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (الاحزاب – 57)

    کیا اللہ اور اسکا رسول (ص) 4 سالہ سکینہ (س) کی خوف کے نتیجے میں واقع ہونے والی شہادت پر خوش ہوئے ہوں گے یا انہیں دکھ پہنچا ہوگا؟

  19. تحریر:ساجد حسین

    حق کی راہ میں ہر سن و عمر کے افراد حتی کہ کمسن بچوں و بچیوں تک نے قربانیاں دی ہیں۔ اگر ایک طرف میدان کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے چھ ماہ کے شیر خوار فرزند علی اصغر نے یزیدی فوج کا تیر ہنستے ہوئے سہہ کر وقت کے امام اور امیر المومنین علیہ السلام، سید الشہداء نواسئہ رسول ص کی اطاعت کا حق ادا کیا تو دوسری طرف امام حسین (ع) کی کمسن بیٹی بی بی سکینہ بنت حسین(ع) نے دمشق و کوفہ کے بازاروں و زندانوں اور درباروں میں حق کی خاطر قربانیاں دے کر آخر کار تیرہ صفر المظفر یا بعض روایات کے مطابق 10 یا 11 صفر المظفر 62 ہجری میں زندان دمشق خرابہ میں جام شہادت نوش کیا۔ بی بی سکینہ بنت حسین (ع) امام علی (ع) کی پوتی اور امام حسین (ع) کی لاڈلی بیٹی فاطمہ بنت الحسین (ع) جو تاریخ میں سیدہ سکینہ (ع) کے نام سے معروف ہیں اور جن کا سن مبارک صرف ۴ برس کا تھا، جب بنی امیہ کے شجرہ خبیثہ کی علامت ملعون یزید ابن معاویہ نے کربلا میں خاندان عصمت و طہارات اہل بیت آل محمد ص کو شہید کیا تو صرف ان کی شہادت پر اکتفا نہ کیا بلکہ محمد و آل محمد (ع) کےمخدرات عصمت و طہارت پاک بیبیوں حتی کہ یتیم بچوں و بچیوں کو دس محرم کے بعد قیدی بنا کر بے کجاوہ اونٹوں کے ذریعے اپنے پایہ تخت دمشق و کو فہ کے بازاروں و درباروں تک لے جایا گیا اور یہ پروپیگنڈہ تک کروایا گیا کہ نعوذ باللہ ان اہل بیت اطہار نے خلیفتہ المسلمین یزید ابن معاویہ کے خلاف بغاوت کی تھی، اگر کوئی اس طرح کرے گا تو ان کا بھی یہی انجام ہو گا۔

    شاید یزید کو معلوم نہ تھا کہ خاندان رسالت اور عصمت و طہارت کی خواتین و بچے ہوں یا پھر ان کے گھر کی کنیز فضہ ہی کیوں نہ ہوں یہ سب مفسر قرآن ہیں۔ رسول (ص) اور علی (ع) کی تربیت کی وجہ سے اپنے خطبات کے ذریعے بازاروں و درباروں میں انقلاب برپا کر سکتی ہیں اور ایسا ہوا بھی، علی (ع) کی بیٹی زینب سلام اللہ و بی بی ام کلثوم اور امام حسین(ع) کی کمسن بیٹی بی بی سکینہ بنت حسین (ع) نے اپنے کردار و خطبات کے ذریعے یزید اور یزیدیت کو تاقیامت لعنت کا حقدار کر کے باطل کی علامت قرار دیا۔ اس کا ذکر حکیم الامت علامہ اقبال نے بھی یوں کیا۔

    حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
    یک حسین رقم کرد و دیگر زینب

    بی بی سکینہ بنت حسین(ع) نے کوفہ میں ایک ایسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا کہ اہل کوفہ آپ (ع) کی بلاغت و فصاحت پر دنگ رہ گئے اس خطبہ نے لوگوں کے دلوں کو کاٹ ڈالا اور لوگ غم کے سمندر میں غوطہ زن ہو گئے اس خطبہ کا لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر پڑا اور ان کو احساس ہوا کہ ان سے کتنا بڑا گناہ عظیم سرزد ہوا ہے۔ حضرت سکینہ سلام اللہ کے خطبے کا متن کچھ یوں ہے۔

    “حمد ہے اللہ کی ریت کے ذروں اور سنگریزوں کے برابر ،عرش کے وزن سے لے کر زمین تک میں اس کی حمد بجا لاتی ہوں ،اس پر بھروسہ کرتی ہوں ،گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اور محمد ص اللہ کے عبد اور رسول ہیں اور آپ ص کی طاہر اولاد کو فرات کے کنارے پیاسا ذبح کر دیا گیا۔ اے اللہ ! تو نے اپنی مخلوق سے علی ابن ابی طالب (ع) کی ولایت کا عہد لیا اور ان کو اس عہد کی وصیت کی لیکن مخلوق نے تیرا یہ عہد توڑ ڈالا اور آپ (ع) (امیرالمومنین (ع)) کے حق کو غصب کر لیا گیا اور آپ (ع) کو شہید کر دیا جیسے کل انہی کے بیٹے (حسین(ع) کو شہید کیا گیا۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرے دادا (ع) کو تیرے گھر میں شہید کیا گیا جس میں دیگر مسلمان بھی موجود تھے اور انہوں نے اپنی زبانوں سے ان کی مظلومی کا اقرار کیا ان پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا گیا لیکن انہوں نے تیری خاطر صبر سے کام لیا اور وہ اس حال میں دنیا سے گئے کہ ان کی حمد بیان کی گئی اور ان کے فضائل و مناقب ہر جا معروف ہیں اور کوئی بھی ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکا۔ اے اللہ! میرا سن بہت چھوٹا ہے اور میرے دادا کے مناقب بہت عظیم ہیں، میں اس پر ان کی تعریف کرتی ہوں۔ اے اللہ! تو جانتا ہے میرے دادا نے ہمیشہ تیری توحید اور تیرے رسول کی حفاظت کی اور آپ کو دنیا سے کوئی غرض نہ تھی۔ آپ نے تیری راہ میں جہاد کیا اور تونے ان کو چن لیا اور اپنی صراط مستقیم قرار دیا۔

    اے کوفیو! اے مکروفریب اور دھوکہ دینے والو! اللہ نے ہم اہل بیت (ع) کے ذریعے تمہارا امتحان لیا اور تم کو ہمارے ذریعے آزمایا اور ہماری آزمائش کو حسن قرار دیا۔ اللہ نے اپنا علم ہمیں ودیعت فرمایا، ہم اس کے علم کے امانتدار ہیں اور ہم ہی اللہ کی حکمت کے مخزن ہیں اور ہم ہی آسمان و زمین پر اللہ کی حجت ہیں اللہ نے ہمیں اپنی کرامت سے شرف بخشا اور ہمیں ہمارے جد محمد ص کے ذریعے اپنی ساری مخلوق پر فضلیت بخشی۔ تم نے ہمیں جھٹلا کر اللہ سے کفر کیا اور تم نے ہمارا قتل حلال جانا اور ہمارے مال کو لوٹا گویا ہم اولاد رسول نہیں، کہیں اور کے رہنے والے ہیں اور جس طرح کل تم لوگوں نے ہمارے دادا کو قتل کیا تھا تمہاری تلواروں سے ہمارا خون ٹپکا ہے کیونکہ تمہارے سینوں میں ہمارا بغض و کینہ بہت عرصے سے پرورش پا رہا تھا تم نے ہمیں قتل کرکے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی اور تمہارے دل خوش ہوئے تم نے اللہ پر افتراء باندھا اور تم نے فریب کیا، اللہ فریب کرنے والوں کے فریب کو ناکام بنانے والا ہے تم نے جو ہمارا خون بہایا ہے اس سے اپنے نفسوں کو خوش نہ کرو اور جو تم نے ہمارا مال لوٹا ہے اس سے بھی تمہیں کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے کیونکہ ہمیں جو مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا ہے یہ اللہ کی محکم کتاب میں پہلے سے ہی مذکور تھا، ہم پر ظلم و ستم ڈھا کر خوش نہ ہو بےشک اللہ تکبر اور غرور کرنے والوں پر لعنت کرتا ہے۔ تمہارے لیے ہلاکت ہو عنقریب تم لعنت اور عذاب نازل ہو گا اور وہ تمہارا مقدر بن گیا ہے اور آسمان سے کثرت کے ساتھ تم پر عذاب آئیں گے اور تم عذاب عظیم دیکھو گے اور سختی کا تلخ ذائقہ چکھو گے اللہ کی ظالمین پر لعنت ہو۔ تمہارے لیے ویل (جھنم) ہے ہم جانتے ہیں کہ کس نے ہماری اطاعت کی کس نے ہمارے ساتھ جنگ کی کون ہماری طرف خود چل کر آیا تم تو ہمارے ساتھ جنگ چاہتے تھے تمہارے دل سخت ہوگئے تمہارے جگر غلیظ ہوگئے اللہ نے تمہارے دلوں ،کان،آنکھوں پر مہر لگا دی تمہارا پیشوا شیطان ہے جس نے تمہاری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور تم ہدایت سے دور ہو گئے۔

    اے کوفیو! تمہارے لیے ہلاکت ہے، رسول اللہ نے تمہارے ساتھ کیا برا کیا تھا جس کے بدلے میں تم نے اس کے بھائی اور میرے دادا علی ابن ابی طالب (ع) کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا اور اس کی پاک عزت کے ساتھ کیا؟ ہمارے قتل اور ہمیں قیدی بنا کر تم فخر کرتے ہو کیا یہ امت اس پاک گھرانے کے قتل پر فخر محسوس کرتی ہے جسے اللہ نے پاک و پاکیزہ بنایا اور ہر رجس کو ان سے دور رکھا ؟ہر شخص کو وہی ملتا ہے جسے وہ کسب کرتا ہے اور جو وہ آگے بھیجتا ہے ۔تمہارے لیے ویل ہے تم نے ہم پر حسد کیا جو اللہ نے ہمیں عظمت و فضیلت عطا کی تھی وہ تمہارے حسد کا نشانہ بنی اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے وہ صاحب فضل عظیم ہے جس کے لیے اللہ نور نہ بنائے اس کے لیے کوئی نور ہو ہی نہیں سکتا ۔

    نبوت اور امامت کی پروردہ نے اپنے اس عظیم خطبے میں چند اہم امور پر گفتگو فرمائی:
    ۱۔سیدہ سکینہ نے اپنے دادا امیرالمومنین (ع) کی ولایت کے عہد کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا اور آپ (ع) کے مصائب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ جو حق ہے اور زمین پر مجسمہ عدل ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے گھر میں شہید کر دئیے گئے۔ امیرالمومنین (ع) وہ شخصیت ہیں جن کو اللہ نے چن لیا اور اپنی صفات و فضائل و مناقت سے آپ (ع) کو مخصوص کر دیا
    ۲۔ سیدہ سکینہ(ع) نے اہل بیت(ع) کے مصائب کا ذکر فرمایا، ان پر اللہ کا سلام ہو وہ امت کے روحانی پیشوا ہیں ان سے پوچھا جائے گا کہ کس نے ان کی نصرت کی اور کس نے دشمنی اور امت نے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور جس طرح آل محمد (ع) کا خون بہایا اور جس طرح آل محمد(ع)نے مصائب و آلام برداشت کئے ۔

    ۳۔ اہل بیت (ع) پر کی جانے والی زیادتیوں کا بیان کیا کہ ظالم افراد جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، نے کتنا ظلم ڈھایا اور ان کو اللہ کے سخت ترین عذاب کی نوید بھی سنائی۔ لوگوں کے نفوس میں اس خطاب کا گہرا اثر ہوا جس سے لوگوں کے دل جلنے لگے اے طاہرین کی بیٹی! خدارا اپنے کلام کو روک دیجئے آپ نے ہمارے دلوں میں آگ لگا دی اور ہماری سانسیں ہمارے حلق میں اٹک گئی ہیں حتی کہ اس مجمعے میں موجود بعض افراد نے یزید ملعوں اور اس کے افواج کے خلاف علم جہاد اٹھا کر جام شہادت نوش کیا۔ کربلا اور معرکئہ حق و باطل آج بھی ہمارے ارد گرد جاری ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا اسکی نشاندہی کی ہے۔۔ 

    لب فرات پہ اب بھی جنگ جاری ہے
    کوئی حسین کے لشکر میں آئے حر کی طرح

    حوالہ جات: (حیات الامام الحسین (ع) جلد ۳، ص۲۳۰، سیرت سیدہ زینب الکبری(ع) ، تاریخ الحسین (ع)۔

  20. کو یت سے مومنین کے قافلے سوۓ شام روانہ ھور ھے ھیں کچھہ کربلا جارھے ھیں ، دونوں ممالک کے حالات سب کے سامنے ھیں ، نہ کوئ جان و مال کی پروا کرتا ھے نہ اس کو موت کا خوف زیارات مقدسہ پر جانے سے روکتا ھے ،یہ ھے حسین علیہ اسلام سے محبت کرنے والوں کی پہچان ، آپ سلام کریں تو جواب آتا ھے ، امام مظلوم کا کربلا کے بہتر شہیدوں کا چہلم قریب ھےاور اب شام میں چہلم کی خصوصی مجالس کے ایام ھیں ، ھاں یہ وھی شام ھے جہاں آل محمد قیدی بنا کر لاۓ ، جہاں کے مصائب اتنے شدید تھے کہ میرا بیمار امام سید الساجدین جب تک زندہ رھے شام شام شام کہہ کر روتے رھے، یہاں اندھیرے زاندان میں ایک ایسی ھستی مدفون ھے امام حسین علیہ کی چہتی چار سالہ دختر سکینہ بنت امام حسین علیہ اسلام جس کو اندھیرے سے خوف آتا تھا اور جس کو اتنی اذیتیں دی گیئں تھیں کہ بعد غسالہ غسل وکفن کے لیے آئ تو معصومہ کا کرتا اس طرح تازیانوں کے زخم سے سرخ تھا جیسے وہ لہو سے رنگا ھوا ھو، اور زخم کے اندر لباس اس طرح چپک چکا تھا کہ اگر اس کرتے کو اس مظلومہ کے جسم سے الگ کیا جاتا تو اس یتیمہ کو بعد از موت بھی بہت تکلیف ھوتی ھے ، اس غریب کو بے کس و لاچار بھائ نے کیسے دفن کیا ھوگا ، ھاۓ شام
    ھا ۓ شام
    ھاۓ شام

    ھمارا سلام ھو اس معصومہ و یتمیمہ و مظلومہ پر کہ جس کے کانوں سے ظالموں نے اس طرح گہر چھینے تھے کہ آج بھی اس کے کانوں سے لہو جاری ھے ،

    تاریخ : پنجشنبه، 19 دی، 1387
    موضوع : تاريخی مناسبت

    حاج ملا ھاشم خراسانی کتاب -”منتخب التواریخ“میں نقل کرتے ھیں کہ عالم جلیل شیخ علی شامی رحمۃ اللہ علیہ نے نجف اشرف میں حقیر (ھاشم خراسانی )سے کھا تھا کہ میرے جد بزرگوار آقا سید ابراھیم دمشقی جن کا نسب سید مرتضٰی رحمۃ اللہ علیہ (علم الھدیٰ)سے ملاتا ھے ، بہت بزرگ اور محترم شخصیت کے حامل تھے ، آپ کی تین بیٹیاں تھیں ، ایک رات بڑی بیٹی نے خواب میں جناب سکینہ علیھا السلام کو یہ کہتے دیکھا: ”اپنے پدر سے کھو کہ میری قبر میں پانی بھر گیا ھے ،اور میری لحد اور بدن زیر آب ھے ، جس سے مجھے اذیت ھورھی ھے ،والی شام سے جاکر کھے کہ میری قبر کو تعمیر کروائے “صبح کو لڑکی نے اپنے والد سے خواب بیان کیا ،مگر سید نے دشمنوں کے خوف کی وجہ سے خواب پر زیادہ توجہ نھیں دی ۔
    دوسری شب سید کی دوسری بیٹی نے یھی خواب دیکھا اور اپنے والدسے بیان کیا ، مگر سید نے پھر کوئی اھمیت نہ دی ۔
    تیسری شب سید کی چھوٹی بیٹی نے اسی طرح کا خواب دیکھا ،اوراس بار خواب میں جناب سکینہ علیھا السلام نے تاکید کرتے ھوئے فرمایا : آخر کیوں تیرے والد والی شام کو کیوں نھیں خبر دیتے ؟
    صبح سیدنے والی شام سے اس خواب کوبیان کیا،اس نے حکم دیاکہ تمام شام کے علماء وصلحاء جائےں غسل کریں اورپاک لباس زیب تن کریں ، پھرحرم کے قفل کوکھولیں ،اورجس کے ھاتھ سے قفل کھل جائے ،وھی قبربھی کھولے ،اس کے بعدجسدمطھرکوباھرنکالے اوردوبارہ قبرکوتعمیرکرے ۔

    جناب سکینہ علیھا السلام

    اکثرموٴرخین لکھتے ھیں : آپ کی وفات کی علامت وہ خواب تھا،جو آپ نے زندان شام میں دیکھاتھا،چنانچہ شیخ عباس قمی رحمۃ اللہ علیہ نے” منتھی الامال“[i] میں کتاب” عثیرالاحزان“ کے حوالہ سے نقل کیاھے کہ یزیدنے اہلبیت علیھم السلام کوایسے زندان میں قیدکیاتھاجس میں سردی اور گرمی سے بچنے کے لئے کوئی انتظام نہ تھا، یھاں تک کے شدت گرمی سے ان کے جسموں کی کھال اُترنے لگی تھی ، اوران سے زرد پانی اورپیپ جاری ھوگیاتھا،بعض مقاتل میں ھے کے اہلبیت علیہم السلام جس مقام میں قیدتھے وہ ایک کھنڈرکی شکل میں تھا،کیونکہ یزیدکایہ مقصدتھاکہ وہ مکان ان پرگرپڑے اوریہ سب کے سب ختم ھوجائے۔
    شیخ بھائی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ھیں : خاندان نبوت علیہ السلام کی خواتین، جب مقید کر کے لے جائی جانے لگیں تو وہ اپنے مردوں کے حالات جو شھید ھوگئے تھے، بچوں اور بچیوں سے پوشیدہ رکھتی تھیں ،اورھربچہ سے کہتی تھیں کہ ”تمھارے باپ فلاں سفرپرگئے ھوئے ھیں ،اوروہ واپس آجائےں گے“ یھاں تک کے وہ یزیدکے قیدخانہ میں پہنچ گئےں ،ان میں ایک چارسال کی بچی تھی ، یہ بچی ایک رات نیندسے بیدارھوئی اورکہنے لگی:” میرے باباحسین علیہ السلام کھاں ھیں ؟ میں نے ابھی خواب میں دیکھاھے“ وہ بچی بہت پریشان ھوئی، جس سے تمام خواتین اور بچے بھی رونے لگے ،اور جب انکی آہ وفغاں بلند ھوئی تو یزید جو اپنے قصرمیں سورھا تھا وہ بیدار ھوگیا،اور حالات معلوم کئے اسے تمام واقعہ بتایا گیا،تو وہ لعین کہنے لگا ، کہ اس کے باپ کا سر لے جاکر اس کے پاس رکھ دیا جائے پس وہ سرلایاگیا،اوراس چارسالہ بچی کے پاس رکھ دیاگیا،اس نے دریافت کیاکہ یہ کیاچیزھے؟ توبتایاگیاکہ ”یہ تمھارے پدرکاسرھے، وہ بچی ڈرگئی اورفریادکرنے لگی، اور بیمارھوگئی، اوراسی حالت میں اس کی روح قفس عنصری سے پروازکرگئی۔ [ii]
    جناب سکینہ علیھا السلام کی قبرمیں پانی کابھرجانا
    حاج ملا ھاشم خراسانی کتاب -”منتخب التواریخ“میں نقل کرتے ھیں کہ عالم جلیل شیخ علی شامی رحمۃ اللہ علیہ نے نجف اشرف میں حقیر (ھاشم خراسانی )سے کھا تھا کہ میرے جد بزرگوار آقا سید ابراھیم دمشقی جن کا نسب سید مرتضٰی رحمۃ اللہ علیہ (علم الھدیٰ)سے ملاتا ھے ، بہت بزرگ اور محترم شخصیت کے حامل تھے ، آپ کی تین بیٹیاں تھیں ، ایک رات بڑی بیٹی نے خواب میں جناب سکینہ علیھا السلام کو یہ کہتے دیکھا: ”اپنے پدر سے کھو کہ میری قبر میں پانی بھر گیا ھے ،اور میری لحد اور بدن زیر آب ھے ، جس سے مجھے اذیت ھورھی ھے ،والی شام سے جاکر کھے کہ میری قبر کو تعمیر کروائے “صبح کو لڑکی نے اپنے والد سے خواب بیان کیا ،مگر سید نے دشمنوں کے خوف کی وجہ سے خواب پر زیادہ توجہ نھیں دی ۔
    دوسری شب سید کی دوسری بیٹی نے یھی خواب دیکھا اور اپنے والدسے بیان کیا ، مگر سید نے پھر کوئی اھمیت نہ دی ۔
    تیسری شب سید کی چھوٹی بیٹی نے اسی طرح کا خواب دیکھا ،اوراس بار خواب میں جناب سکینہ علیھا السلام نے تاکید کرتے ھوئے فرمایا : آخر کیوں تیرے والد والی شام کو کیوں نھیں خبر دیتے ؟
    صبح سیدنے والی شام سے اس خواب کوبیان کیا،اس نے حکم دیاکہ تمام شام کے علماء وصلحاء جائےں غسل کریں اورپاک لباس زیب تن کریں ، پھرحرم کے قفل کوکھولےں ،اورجس کے ھاتھ سے قفل کھل جائے ،وھی قبربھی کھولے ،اس کے بعدجسدمطھرکوباھرنکالے اوردوبارہ قبرکوتعمیرکرے ۔
    پس تمام علماء نے مکمل آداب کے ساتھ غسل کیا،اورپاک کپڑے پہنے ،مگرکسی کے ھاتھوں سے قفل نھیں کھل سکاسوائے مرحوم سیدابراھیم رحمۃ اللہ علیہ کے، البتہ بعد میں تمام علماء وصلحاء حرم شریف میں داخل ھوئے،اورھرایک نے کدال اُٹھاکرزمین کوکھودناشروع کیامگرکسی کی بھی کدال زمین پراثر نہ کرسکی سوائے سیدکے ،اس کے بعدحرم کوخالی کیاگیا،اورلحدکوشگافتہ کیاگیا،سید رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھاکہ ایک بدن نازنین لحداورکفن کے درمیان بالکل صحیح وسالم ھے ،لیکن پانی لحد میں بہت زیادجمع ھے،سیدابراھیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس مخدرہٴ عصمت وطھارت علیہ السلام کے جسم اقدس کولحدسے باھرنکالااوراپنے زانوں پررکھا،تین روزتک آپ نے اسی طرح اپنے زانوں پرجسدمبارک کو رکھے رکھا،اورگریہ کرتے رھے ،تین روزبعدجب پانی بالکل خالی کردیاگیا آپ نے اس جسم نازنین کوپھرسے لحدمیں بندکردیا،اس درمیان نمازکے اوقات میں سید؛جناب سکینہ علیھا السلام کے لاشہ کوکسی پاک جگہ رکھ دیتے تھے ، اس معجزہ کی وجہ سے سیدابراھیم رحمۃ اللہ علیہ کوان تین دنوں میں نہ بھوک کااحساس ھوانہ پیاس کی شدت محسوس ھوئی اورنہ ھی آپ کاوضوباطل ھوا،جب آپ اس مخدرہٴ عصمت و طھارت کو دفن کررھے تھے،تو آپ نے دعاکی کہ یاخدا !مجھے ایک بیٹاعطاکر،چنانچہ سید کی یہ دعامستجاب ھوئی، اوراس ضعیفی میں خدانے فرزندکی دولت عطافرمائی ،جسکانام آپ رحمۃ اللہ علیہ نے سیدمصطفی رکھا،یہ واقعہ ۱۲۸۰ ھ ء میں پیش آیاتھا۔[iii]
    آج جناب سکینہ علیھا السلام کے مرقداقدس کی وجہ سے شھردمشق منورھے، اور آپ کاحرم ناصرف یہ کہ شیعوں کی زیارت گاہ بناھواھے، بلکہ اہل سنت بھی اس سے کافی عقیدت رکھتے ھیں ،جناب سکینہ علیھا السلام کاحرم آج بھی انسانی ذہنوں کوچودہ سوسال پُرانی یاددلاتاھے ،کہ یزیداپنی تما ترکوششوں کے باوجوداسلام کے نام کونہ مٹاسکا،بلکہ اس کوشش میں وہ خودمٹ گیا، آج اسلام بھی زندہ ھے اور بحمداللہ اس کے بچانے والے اہلبیت علیھم السلام بھی زندہ ھیں ۔

  21. «اَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطانِ الرَّجِيم»«بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم»
    وچھوڑا
    کدوں آنا ویر اکبر کدوں سہرا سجانا اے
    اصغر نوں گود لے کے صغرا نے کھڈانا اے
    گھر آجا ویر اکبر ویڑا ھویا ویران اے
    تیری بہن ویر جگ تے کج دیر دی مہمان اے
    ویراں حجر لے کے دنیا توں میں جانڑاں اے
    لیلٰی دا لال جیویں کردی اے رو دعا اے
    نانے دے روضے جا کہ دیوے پئ جلاوے
    اکبر نے مینوں مل کہ کیتا وعدہ نبھانڑا اے
    بہت سے مورخین اور مقتل نویسوں نے، امام حسین (ع) کى اولاد کے بارے میں بیان کرتے وقت حضرت (ع) کى دو بیٹیوں کا ذکر کیا هے، جن کے نام فاطمه اور سکینه تھے­ [1] بعض مورخین نے ” زینب” کے نام پر بھى کسى بیٹى کا ذکر کیا هے [2] ، بعض دوسروں نے اپنى کتابوں میں شام کے خرابه میں امام حسین (ع) کى ایک کم سن بیٹى کى دلدوز داستان بیان کى هے[3]، اکثر مصنفین نے اس داستان کو کتاب ” کامل بهائى” سے نقل کیا هے، یه کتاب ساتویں صدى هجرى میں لکھى گئى هے­
    همارى تاریخ اور احادیث کى کتابوں میں بھى اس مطلب کے کچھ شواهد ملتے هیں، هم یهاں پر نمونه کے طور پر صرف ایک شاهد کى طرف اشاره کرتے هیں:
    جب حضرت زینب (ع) نے کوفه میں اپنے بھائى کا تن سے جدا کیا هوا سر دیکھا، اس وقت کچھ اشعار پڑھے، جن کے ضمن میں آیا هے: “اے میرے بھیا! کم سن فاطمه کے ساتھ بات کرنا، یه تلف هونے کے قریب هے” [4] اس سے معلوم هوتا هے که امام حسین (ع) کى ایک کم سن بیٹى تھیں جو اپنے باپ کے فراق میں بے تابى سے تڑپ رهى تھیں­
    تاریخ کى کتابوں اور مقاتل پر سنجیدگى سے غور کرنے سے معلوم هوتا هے که، شیعه اور سنى مورخین نے امام حسین (ع) کى سکینه نام کى ایک بیٹى کا ذکر کیا هے ­
    شیخ مفید لکھتے هیں: “من جمله امام حسین (ع) کى بیٹیوں میں سکینه هے، ان کى والده کا نام “رباب” تھا [5]­ شیخ طبرسى بھى اس مطلب کا ذکر کرتے هوئے، کهتے هیں: امام حسین (ع) نے اسے اپنے بھتیجے عبدالله بن حسن (ع) کے عقد میں قرار دیا تھا، جو عاشور کے دن شهید هوئے[6] ” اور کتاب ” مقتل الحسین” میں آیا هے که انھوں نے اپنے چچیرے بھائى (عبدالله بن الحسن) سے شادی کى، جو شادى کے مراسم انجام پانے سے قبل کربلا میں شهید هوئے اور ان سے کوئى اولاد پیدا نهیں هوئى هے [7]” اس طرح طبرسى نقل کرتے هیں که: “سکینه بنت حسین عاشور کے دن دس سال کى تھیں [8] ”
    ذهبى بھى اپنى کتاب “تاریخ الاسلام” میں سکینه کو امام حسین (ع) کى بیٹى جانتے هیں اور ان کتابوں کى فهرست بیان کرتے هیں، جن میں سکینه بنت الحسین کا نام آیا هے، [9] اور ان کتابوں کى تعداد تقریبا بیس بتاتے هیں، اس بنا پر، بهت سى کتابوں میں امام حسین (ع) کى بیٹى سکینه کا نام ذکر کیا گیا هے، بعضوں نے ان کا نام متن میں ذکر کرنے کے علاوه حواشى میں بھى لایا هے[10]­
    لیکن امام حسین (ع) کى سکینه نامى بیٹى کى عمر کے بارے میں، کوئى واضح بات نهیں ملتى هے اور مورخین کے مجموعى اقوال سے معلوم هوتا هے که انھوں نے کربلا کے واقعه کے دوران شادى کى تھى، یا کم از ازدواج کى عمر تک پهنچ چکى تھیں­
    روایات سے معلوم هوتا هے که امام حسین (ع) کى ایک بیٹى سکینه تھیں، جو کربلا کے حادثه سے پهلے ازدواج کى عمر تک پهنچ چکى تھیں [11]
    مذکوره مطالب سے مجموعى طور پر یه نتیجه نکلتا هے که، امام حسین (ع) کى ایک بیٹى (رقیه یا فاطمه ) شام کے خرابه میں اپنے باپ کے سر مبارک کے پاس شهید هوئى هیں اور یه بیٹى سکینه کے علاوه هے، جو اپنے باپ کى شهادت کے برسوں تک زنده تھیں­۔

    [1] .مفید محمد بن نعمان ،الارشاد، سلسلة مؤلفات شیخ مفید، ج 2، ص 135، دارالمفید، بیروت، 1414 هـ
    ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج 4، ص 77، موسسه انتشارات علامه، طبع علمیه قم
    طبرسی، اعلام الوری، ج 1، ص 478، موسسه آل‌بیت، طبع اول، 1417 هـ.
    الزبیری مصعب ا، نسب قریش، ص 59، دارالمعارف، قاهره طبع سوم.
    بلاذری، انساب الاشراف، ج 3، ص 1288، دارالفکر، بیروت، طبع اول 1417 هـ.
    سبط‌ بن جوزی، تذکرة الخواص، ص 249، موسسه اهل البیت، بیروت، طبع اول، 1401 هـ
    [2] الاربلی،کشف الغمة فی معرفة الائمة، ج 2، ص 38، تحقیق رسولی، تبریز، سوق مسجد الجامع
    [3] قمی شیخ عباس، نفس الهموم، ص 415 و 416، انتشارات مکتبه الحیدریه، طبع اول، 1379ھ ش.
    الایقاد، شاه عبدالعظیمی، ص 179، تحقیق رضوی، منشورات فیروزآبادی، طبع اول، 1411 هـ.؛
    حائری، معالی السبطین، ج 2، ص 170، موسسه النعمان، بیروت، 1412 هـ
    قمی شیخ عباس، منتهی الآمال، ج 1، ص 807، موسسه انتشارات هجرت، طبع چهارم، 1411 هـ.
    طبری عمادالدین کامل بهائی، ج 2، ص 179، مکتبه المصطفوی.
    [4] مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، ج 45، ص 115، « …یا اخی فاطم الصغیرة کلمّا فقد کاد قلبها ان یذوبا»؛
    القندوزی، ینابیع المودة، ج 2، ص 421، انتشارات الشریف الرضی، طبع اول 1371 ھ ش.
    [5] مفید محمد بن نعمان، الارشاد، ، ج 2، ص 37، انتشارات علمیه اسلامیه
    [6] طبرسی، اعلام الوری ، ج 1، ص 418، نشر آل‌البیت، مفید محمد بن نعمان ، الارشاد ص 25، اربلی، کشف الغمة ، ص 157
    [7] موسوی عبدالرزاق ، مقتل الحسین(ع)، ، ص 397، منشورات بصیرتی.
    [8] ایضا
    [9] الذهبی،تاریخ الاسلام، ج 7، ص 371. دارالکتاب العربی، بیروت، لبنان.
    [10] ابوالفرج الاصفهانی، مقاتل الطالبین، ص 94، 119، 133، 167؛ البلاذری، انساب الاشراف، ج 3، ص 362. ؛ ابن حنان، الثقات، ج 4، ص 351، مؤسسة الکتب الثقافه.؛ البخاری، التاریخ الصغیر، ج 1، ص 273، دار المعرفه، لبنان، بیروت.؛ العصفری، تاریخ خلیفة بن خیاط، ص 274، دار الفکر، بیروت.، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، ج 8، ص 475، بیروت. ؛ المزنی، تهذیب الکمال، ج 6، ص 397، مؤسسة الرساله.، ابن عامر، تاریخ المدینة، ج 2، ص 52، و ج 29، ص 69 در صفحات مختلف، دمشق دار الفکر.؛ ابن ماکولا، اکمال الکمال، ج 4، ص 316، و ج 7، ص 107، دارالکتاب الاسلامی، القاهره.؛ مجلسی محمد باقر، بحارالانوار، ج 45، ص 169، ص 47، بیروت.؛ قمی شیخ عباس، منتهی الآمال، ، ج 1، ص 547، مطبوعات حسینی.
    [11] مفید محمد بن نعمان، الارشاد، ، ج 2، ص 22، ترجمه، رسولی محلاتی، انتشارات علمیه اسلامیه. ملاحظه هو: فرزندان امام حسین(ع)

  22. سلام ہو اس معصوم بچی پرجو اپنے باپ کے سینے پر سویا کرتی تھیں لیکن عصر عاشور کے بعد باپ کا سینہ میسر نہ ہوا-
    سلام ہو اس معصومہ پر جسکے کانوں سے گوشوارے چھینے گئے-
    سلام ہو اس مظلومہ پر کہ جسکے دامن میں آگ لگادی گئی-
    سلام ہو اس ننہی بچی پر کہ جسکے گلے میں رسن باندھی گئی-
    سلام ہو اس یتیمہ پر جسے باپ کے غم میں رونے نہ دیا گیا،،،تسلی کے بدلے طماچے مارے گئے،،الہدہ زندان میں رکھا گیا،،باپ کا سر دکھا کر رلایا گیا،،
    سلام ہو اس معصومہ پر کہ جسے زندان میں ہی دفنایا گیا۔،،

  23. کہاں جاؤں کہاں جاؤں بچائے کون اب مجھکو
    کہا اسلام نے دنیا مجھے برباد کرتی ہے
    سخی ابن سخی کی لاڈلی نے یہ کہا اس دم
    سکینہ قید ہوکر جا تجھے آزاد کرتے ہیں
    –ناشر عابدی علی پوری۔

  24. اسلام کی تاریخ خون آلود، زہرہ گداز ، مہلک جذبات ہے ۔ خاص طورپر کربلا کا واقعہ تو کسی سنگدل ہی کو خشک آنکھوں پڑھنے کا یارا ہو گا۔کلیجہ خون ہوجاتا ہے ۔ ننھے معصوم اپنے اپنے بچوں کو جب سُکینہ کی جگہ دیکھتے ہیں تو تڑپ اٹھتے ہیں ۔ مگر میں یہ سوال اکثر کرتا ہوں اور یہ سوال میرے دل سے عرصہ چالیس سال سے اٹھتا ہے اک ہوک لے کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اصحاب رسول کو برا بھلا کہنےسے ، لعنت ملامت کرنےسے ، اصحاب رسول جن میں اہل بیت کرام بھی شامل ہیں ، ان میں درجہ بندی پر تحقیق کرکے ان کی توقیر و تکفیر سے کیا یہ دکھ ختم ہوجاتا ہے ، کم ہوجاتا ہے ، غم ِ حسین و آل عبا کا کرب اپنا مقصد وصول کرلیتا ہے ۔یہ سانحہ ء عظیم ختم ہو جاتا ہے ۔ظالم مفتوح اور مظلوم فاتح ہوجاتا ہے ۔۔۔۔کیا ہمارے ان سب اعمال و اقوال کا احوال قبر میں پوچھا جائے گا۔۔۔۔۔۔یہ سوال خاص طور پر صفدر ہمدانی صاحب سے ہے جو پاکستان کی ایک تاریخی ہستی مصطفیٰ علی ہمدانی کے صاحبزادے ہیں۔ اور میں ان کی علمی و عقلی و بصری لیاقت اور نکتہ رس فہم کا قائل ہوں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *