پاکستان میں جیو ٹی وی کی معروف ڈرامہ نگار اور پروڈیوسر دلشاد نسیم کے شوہر اور عالمی اخبار کی نائب مدیر اعلیٰ اور افسانہ نگار ڈاکٹر نگہت نسیم کے بہنوئی خالد محمود کینسر کے موذی مرض میں چند ماہ تک مبتلا رہنے کے بعد منگل 28 فروری کو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں
انکی عمر 45 برس تھی
انا اللہ وانا الیہ راجعون
مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کیجئے

پروردگار عالم مرحوم کے درجات بلند کرے اور قبر کی منزل آسام فرمائے۔ دلشاد نسیم اور تمام اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔ زندگی کا نام ہی فنا ہے اور اس منزل سے ہر ذی روح کو گزرنا ہے۔ از راہ کرم مرحوم کے لیئے ایک سورہ فاتحہ کی درخواست ہے
جب احمد مرسل نہ رہے کون رہے گا۔
بہت ہی دکھ بھری خبر ہے. اللہ تعالی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرماےء. اور اہل خانہ کو یہ صدمہ جھیلنے کی ہمّت
دے.
آمین.
نگہت آپی اللہ آپ سب کو صبر دے .
آمین.
انا اللہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالی خالد محمود مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین
اور لواحقین کو صبر جیمل عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین
کل تک مرحوم کے لیے دعاۓ شفا ء کی التماس کی جارھی تھی اور آج یہ المناک خبر کہ انکی مغفرت کی دعا کی جارھی ھے ۔
دلشاد نسیم کو اللہ صبر عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین سب پس ماندگان کو صبر کی اس غم کو جھیلنے کی ھمت اور طاقت عطا فرماء آمین ثمہ آمین
آہ مجھے سمجہ نیہن آرھا ھے کہ کس طرح دلشاد نسیم سے نگہت نسیم سے اور خاص کر ان کے والدین سے تعزیت کروں ۔ ھم سب آپ کے غم میں برابر کے شریک ھیں
اللہ پاک صبر عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمـَنِ الرَّحِيمِ
الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ(۱) الرَّحْمـنِ الرَّحِيمِ(۲) مَـالِكِ يَوْمِ الدِّينِ(۳) إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ(۴) اهدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ(۵) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيهِمْ(۶) غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ(۷)
شاہین میرا بھائی چلا گیا . میری دنیا چلی گئی . اب میں کس کے لئے دعا کروں . شاہین میں کیا کروں .. ہائے کوئی مجھے بتائے میں اب کیا کروں .
میرا بھائی چلا گیا ۔ میں کیا کروں اب کیا دعا کروں ۔۔ ہائے مجھے کوئی بتا ئے کہ اب میں کیا کروں ۔ میری دنیا چلی گئی اور میں بیٹھی رہ گئی دیکھتی رہ گئی ، ہائے میں کیا کروں کہاں سے لاؤں اپنے بھائی کو ۔ وہ میرا لاڈلا بھائی تھا میرا پھوپھی زاد تھا ۔ بڑا نیک اور دلدار تھا ۔ میری بہن کو رانیوں کی طرح رکھتا تھا ۔ ہائے میں کیا کروں مجھے سمجھ نہیں آ رہا بابا ۔۔ میں کیا کروں ۔
موت کا ذکر کرتے ھوئے مولائے متقیان حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام اس طرح ارشاد فرماتے ھیں :
الموت لا والد اً ےبقی ولا ولدا
ھذا السبےل اِلیٰ اٴن لِا تریٰ اٴحداً
کان النبی ولم یخلُدلاٴُمتہ
لو خلّد اللہ قوماًقبلہ خَلْدا
للموت فےنا سھامٌ غیر خاطئةٍ
مَن فاتَہُ الیومَ سھمٌ لم یفتُہ غداً
موت نے نہ تو باپ کو باقی رکھا ھے اور نہ بےٹے کو، یہ سلسلہ جاری وساری ھے اور کسی کو اس کے انتھاکی خبر نھیںاور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی ھستی بھی اپنی امت میںھمیشہ باقی نہ رھی۔
اگر خداوند متعال کسی قوم کو ھمیشہ کے لئے باقی رکھتا تو پھلی والی کوئی قوم بھی ھمیشہ کے لئے باقی رھتی۔
ھماری ذات میں موت کے حقوق اورحصے موجود ھیں جو ھمیں ضرور ملےں گے کسی کو اگر وہ حصہ آج نہ ملا تو کل ضرور ملے گا۔
حضرت علی علیہ السلام کی طرف منسوب آخرت یاد دلا نے والے اشعار :
ولو اٴناّ اِذا متنا ترکْنا
لکان الموت راحة کل حیّ
ولکنا اذا متنا بُعِثنا
ونُسئَلُ بعدہ عن کلُ شیءٍ
اگر ھم یہ جانتے کہ کب ھم مرےں گے اور تمام چیزوں کو چھوڑ جائیں گے توموت ھر زندہ انسان کےلئے آسان ھوجاتی لیکن یاد رکھو جب ھم مرےں گے تو اس کے بعد ھمیں اٹھایا جائے گا اور ھر چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
اانا للہ وانا الیہ راجعون
انا للہ وانا الیہ راجعون
انا للہ وانا الیہ راجعون
میری جان میری بہن میری شہزادی ۔کیسے تم کو دلاسہ دوں
تمھارے آنسووں سے میرا ھاتھہ بھیگا ھوا ھے ، تم کس قدر تڑپ تڑپ کے اپنے عزيز بہنوئ کو یاد کرکے رو رھی ھو،
میری بہن میری جان میری شہزادی اب تو جب بھی خالد کی یاد آۓ گی آنکھیں بھیگ جاينگی ۔ اللہ یہاں پر ھی اپنے بندوں کا امتحاں لیتا ھے کہ
اس بڑي آزمائش میں کیسے صبر کیا ۔ اور اس کا ھر حال میں شکر ادا کیا کو ئ مشکل آئ تو صبر کرو
اس لیے کہ اللہ پاک صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ھے ، میں آفس میں ھوں ، مجھہ سے میرے کولیگ پوچھہ رھے ھیں کہ میں کیوں رورھی ھوں میں نے انکو خالد کے بارے میں بتایا تو سب افسوس کرنے لگے ، اللہ پاک صبر عطا فرماء اللہ پاک تم سب کو ھمت عطا فرماء
یا اللہ اس وقت سب کو ھمت اور حوصلہ عطا فرماء حمزہ کو حسن کو دلشاد کو ھمت دے ،
م
، مجھے خوب علم ھے کہ کسی بھی سہاگن عورت کے لیے شوھر کی موت کتنا بڑا سانحہ ھوتا ھے اللہ دلشاد کو اس کے پیارے بچوں حسن خالد محمود اور حمزہ خالد محمود کو صبر عطا فرماۓ ،
خالد محممود تو بہت جان نثار کرنے والا شوھر تھا ۔ جو اپنی چہتی بیوی کو ھمشیہ سجا بنا دیکھنا چاھتا تھا
دیکھو اپنے آخری سفر پر چلنے سے پہلے اس نے دلشاد کے ھاتھوں سے پانی پیا اور اس کے ھاتھوں کو بڑی محبت سے دبایا تھا ، بس یہی ایک آخری لمس جو دلشاد کا سرمائيہ ھے ، اس کو رلاۓ گا بھی اور اسکی ھمت بھی بڑھاۓ گا
وہ آخری لمس دراصل آخری مکتوب بھی تھا
دلشاد نسیم سے بے پناہ محبت کرنے والا شوھر
دلشاد کو ھمشیہ خوش باش دیکھنے والا بہت چاھنے والا شریک سفر اتنے لمبے سفر پر چلا گیا ھے ، اللہ پاک مرحوم کو جنت الفروس میں مقام خاص عطا فرماۓ آمین اور ھماری پیاری بہن دلشاد نسیم کو صبر جیمل عطا فرماۓ آمین نسیم صاحب کے سارے خانوادے کو صبر عطا فرماء نگہت نسیم کو صبر و ھمت عطا فرماء آمین ثمہ آمین
خالد محمود اللہ پاک مرحوم کی قبر کو نور سے بھر دے۔ اللہ پاک خالد محمود کی مغفرت فرما آمین ثمہ آمین
موت کیا ہے در حقیقت زندگی کا اختتام
زندگی فانی ہے لیکن موت کو حاصل دوام
سچ تو یہ ہے موت کی منزل ہے اصلِ زندگی
زندگی کرتی ہے خود یاں پہنچنےکا انتظام
’صفدر ھمٰدانی‘
نا للہ وانا الیہ راجعون
عزيز بہن ڈاکٹر نگہت نسیم
اللہ پاک مرحوم خالد محمود بھائ کی مغفرت فرماۓ اور انکو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ آمین
پالنے والے
دلشاد نسیم باجی کو صبر اور ھمت عطا فرماء
انکے بچوں کو داغ یتیمی برداشت کرنے کی توفیق عطا فرماء
گذشتہ کي دنون سے ھم لوگ خالد بھائ کی صحت یابی کے لیے دعا کررھے تھے
اچ انکی تدفین ھو رھی ھے
ھم سب انکے لیے قراں پاک پڑھ کر بخشینگے
اللہ تعالی مرحوم و مغفور خالد بھائ کی قبر
کو منور کرے بہشت میں ان کو جگہ دے
انکے سارے گناھوں کو بخش دے اللہ پاک دلشاد نسیم باجی کو صبر بچوں کو صبر عطا فرماۓ آمین
ميت كے بيٹے اور بيٹيوں كى طرف سے ميت كى مغفرت و بخشش كى دعا ميں بہت ہى عظيم امتازى حيثيت حاصل ہے جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
” جنت ميں بندے كے درجات بلند كيے جاتے ہيں تو وہ كہتا ہے يہ كيسے، تو اسے جواب ديا جاتا ہے تيرى اولاد كى استغفار كى بنا پر
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس كے عمل منقطع ہو جاتے ہيں ليكن تين قسم كے اعمال باقى رہتے ہيں: صدقہ جاريہ، يا پھر نفع مند علم، يا نيك اور صالح اولاد جو اس كے ليے دعا كرتى رہے ”
صحيح مسلم حديث نمبر ( 1631 ).
یا اللہ
یا رب
یا مالک و خالق
یا رب العالمین
خالد محمود مرحوم و مغفور کو عذاب قبر سے وحشت قبر سے نجات دے ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرما ء آمین ثم آمین
اللہ تعا لی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین ثمہ آمین
بہن نگہت میں جانتی ہوں کہ ایسے پیارےچلے جائیں تو دل پر کیا گزرتی ہے نہ تسلی اچھی لگتی ہے نہ کسی بات سے تشفی ہوتی ہے ،مگر قانون قدرت ہے کہ جو آیا ہے اسے جانا بھی ہے ،مگر جو اچھے لوگ اتنی جلدی چلے جاتے ہیں ان کا غم بھلائے نہیں بھولتا بس اللہ ہی آپ سب کو صبر دے گا کہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ،
اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ سب کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا کرے اور مرحوم کو جنت کے باغوں میں جگہ دے آمین
عالم آرا
موت ابدی زندگی کانام ہے
راہ اس کی کرنا اچھاا کام ہے
اللہ سبحانہ تعالی انہیں جنت الفردوس میں جگہ نیزبہن نگہت اور لو احقین کو صبر جمیل عطا فرما ءے آمین۔
انا اللہ وانا الیہ راجعون
مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کس طرح باجی سے اظہار تعزیت کروں
الفاظ ساتھ نہیں دے باجی ہم سب آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں
اللہ تعالی خالد محمود بھائی کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ
لواحقین کو صبر جمیل عطا فرماۓ
اور سب پس ماندگان کو صبر کی طاقت عطا فرمائے اور اس غم کو جھیلنے کی ہمت عطا فرمائےء آمین ثمہ آمین
انا اللہ وانا الیہ راجعون
انا اللہ وانا الیہ راجعون
نگہت نسیم صاحبہ
انا اللہ وانا الیہ راجعون
بہت دکھ اور افسوس ہوا ۔۔۔۔ بھائی صاحب کے بارے میں پڑھ کر ۔۔۔۔۔ لیکن یہی زندگی ہے ۔۔۔۔ کوئی پہلے توکوئی بعد میں ۔۔۔۔ ہمارے الفاظ بہت کم ہیں آپ کے دکھ کے سامنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ پاک سے دعا گو ہیں ،،، کہ مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرئے ۔۔۔۔۔۔۔ اور مزید تکلیف اور غموں سے بچائے آمین
محترمہ نگہت بہن سلام ۔
آپکے برادر نسبتی جناب خالد محمود کی رحلت کی خبر جانکاہ ملی تو دل بھر آیا۔ میں آپکی حالت کا اندازہ کر سکتا ہوں، ایک طرف بہن پر ٹوٹنے والی مصیبت کا غم، دوسری طرف اتنے اچھے بھائی کی جدائی کا افسوس۔ مگر یہاں صبر کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔ہم سب چند ساعتیں پہلے تک انکی زندگی اور شفایابی کے لئے دعائیں کر رہے تھے، مگر اب وہی ہاتھ دعائے مغفرت کے لئے اٹھنے لگے۔ حق تعالیٰ آپ سمیت سبھی لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے اور دکھے دلوں کی مرہم کا سامان اپنے فضل و احسان سے فرمائے۔ یہی زندگی کا انجام ہے، ابھی ہو یا سو برس بعد۔ خالد بھائی اس دنیا سے کم عمری میں وداع ہو گئے لیکن ہمیں بہر کیف انہی سے اور ان کے سابقین سے جا ملنا ہے۔۔۔اسی کا نام زندگی ہے ۔
دعا ہے کہ اللہ کریم اپنے خاص احسان سے بھائی خالد محمود کی مغفرت فرمائےاور آپ سمیت پورے خانوادے کو صبر و استقامت کے ساتھ نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہمت دے۔ خالد صاحب کی کمی سے پیدا ہونے والا خلاء پورا نہیں ہوسکےگا اور انسانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انکی کمی کا احساس سدا زندہ رہے۔
جی چاہ رہا ہے کہ کچھ اور بھی کہوں، مگر اب لفظ ساتھ دے رہے ہیں نہ دماغ۔ صرف تسلیت کا ایک پیغام ہے جو غم آلودہ دعاؤں کے ہمرکاب ہے
اللہ تعالیٰ آ کا مدد گار ہو بحق حبیبہٖ و آلہٖ علیہھم الصلوٰۃ و السلام۔
بھائی
اظہار تشکر
میرے پاس الفاظ نہیں ہیں جن سے میں اپنے تمام بہن بھائیوں اور دوستوں کا شکریہ ادا کر سکوں جو میرے ساتھ ساتھ ڈیڑھ سال سے میرے بھائی خالد محمود کے لئے دعائیں کر رہے تھے . اور آج بھائی کی وفات پر انہیں کی تسلیاں اور تعزیت ہم سب گھر والوں کی ڈھارس بندھاتی رہیں ۔ جزاک اللہ ۔
میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ دعائیں کبھی بے اثر ہوتی ہی نہیں . جتنے یقین سے مانگی جاتی ہیں اتنی امید سے بر آتی ہیں . میں نے دیکھا تھا محسوس کیا تھا کہ کچھ دنوں سے میں دعا مانگتی تھی لیکن مجھے جیسے قرار نہیں آتا تھا ، یقین نہیں ہوتا تھا کہ قبول ہو جائیں گی . شاید اسے ہی الوداع کہنے کہ تیاری کہتے ہیں .
اپنے پیاروں کو الوداع کہنا ایسے ہی ہے جیسے اپنے دل کے ٹکڑوں کو دفن کر دینا ہے . کل 28 فروری کو ہم سب نے مل کر اپنے بھائی خالد محمود کو منو مٹی کے نیچے دفنا دیا . ایسے وقت کی تیاری رب بے نیاز ڈیڑھ سال سے ہم سب سے کروا رہا تھا ، وہ جانتا تھا کہ ہم سب کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لئے ڈیڑھ ماہ نہیں ڈیڑھ سال چاہیئے تھے . پر اب یہ بھی سوچتی ہوں جن کے پیارے جب کوئی ڈاکو چھین لیتے ہیں یا وہ کسی گولی کی بھینٹ ہو جاتے ہیں ، جب کبھی دھماکوں کی نظر ہو جاتے ہیں تو ان کے لواحقین اپنے اللہ سے کیا کہتے ہو نگے … کیسے دل کو تسلی دیتے ہونگے .. کیا کہہ کر دل کو بہلاتے ہونگے … بس یہ تکلیف ایسی ہے جس کے تن لاگے وہی جانے .
پچھلے اٹھارہ دن میری بہن پر کیسے گزرے ہونگے .. وہ وہی جانتی ہے کہ کل اس کی چھت چلی گئی ، اس کی خوشی رخصت ہو گئی . خالد میرا تو بھائی تھا . بھائی بھی ایسا جو دوست تھا رازدار تھا . مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میرے سارے بھائی چلے گئے ہوں . خالد کے جانے سے احساس ہو اکہ ایک انسان سے صرف ایک نہیں بلکہ کئی ہزار رشتے ہوتے ہیں . وہ اپنے ماں باپ کافرمانبردار بیٹا تھا جس کا پھوپھی ، پھوپھا جی مرتے دم تک گن گاتی رہیں . اپنے بہن بھائیوں کا سرپرست تھا ، اپنی بیوی کو مہارانیوں کی طرح رکھنے والا … اپنے بیٹوں کو شہزادوں کی طرح رکھنے والا میرا شہزادہ اب اس دنیا میں نہیں رہا .
اب خالد کی صرف انمٹ یادیں رہ گئی ہیں …. . ہم سب بہل جائیں گے … رونقوں میں لوٹ جائیں گے … لیکن میری بہن دلشاد نسیم اور اس کے دو بیٹوں کی زندگی کی کمی کوئی کبھی پوری نہیں کر سکے گا . بھلا باپ کی کمی بھی کبھی پوری ہوتی ہے . وہ رشتہ تو خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہوتا ہے . اور ایک ہی بار ملتا ہے . بے شک ہم سب کو اسی کی طرف پلٹنا ہے . وہی ہم سے ہمارے پیاروں کو یوں لے جانے کا راز جانتا ہے . بے شک وہ کسی کو اس کی ہمت سے زیادہ آزماتا نہیں . پر وقت بہت کڑا ہے دوستو — نقصان بہت بڑا ہے دوستو …
نگہت نسیم صاحبہ
اانا للہ وانا الیہ راجعون
بڑے دکھ کی خبر ملی ہے، اللہ تعالیٰ خالد محمود صاحب کو اپنے نہایت اعلی مقام میں جگہ مرحمت فرمائے۔ انکی شریک سفر اور نگہت نسیم صاحبہ اور تمام اہل وعیال کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
السلام علیکم
نگہت آپ کے بہنو ئی کے انتقال کی خبر پڑھ کر بہت افسوس ہوا
اللہ اُن کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور دلشاد بہن پر اپنی خاص رحمت کرے اُنہیں صبر جمیل عطا کرے۔
مجحے علم ہے کہ یہ الفاظ رسمی ہیں مگران کے علاوہ آپ کی ڈھارس بندھانے کے لئے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ نہ جانے اللہ کی کیا مصلحت ہے جسے ہم کبھی بھی سمجھ نہیں پائیں گے۔
والسلام
زرقا
انا اللہ وانا الیہ راجعون
مَلَک الموت کو ضد ہے کہ میں جاں لے کے ٹلوں
سر بسجد ہ ہے مسیحا کہ مری با ت ر ہے
نگہت آپی ! بہت دنوں بعد یہاں آنے کا موقع ملا تھا ، مگر آتے ہی یہ دُکھ بھری خبر نظر سے گزری ، اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ خالد محمود صاحب کو جنت الفردوس میں نہایت اعلی مقام مرحمت فرمائے۔ دلشاد نسیم آپی کواور نگہت آپی آپ کو اور تمام اہل وعیال کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین ۔
آصف احمد بھٹی
ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ مجھے آپ کے بہنوی خالد محمود مرحوم کی قبل از وقت وفات کی خبر سن کر بے حد افسوس اور دکھ ہوا : اللہ خالد محمود مرحوم کو جنت مین اعلی رتبہ عطا فرماے اور انکے تمام لواحقین کوصبر اور ہمت عطا کرے کہ وہ اس صدمے کو برداشت کرسکیں: ، ہم سب اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور بالاخر اسی کی طرف رجوع کرینگے:
کاش کہ میرے پاس الفاظ کا اتنا ذخیرہ ہوتا کہ اپ کو مناسب الفاظ میں تسلی اوردلاسہ دے سکتا ۔ جو کچھ کہ سکتا ہوں وہ تو اوپر کے تبصروں میں بہت ہی موثر انداز میں کہ دیا گیا ہے۔ بس انہی تبصروں کی دعاوں پر آمین کہتا ہوں :
اللہ آپ کوصبر عطا کرے : آمین
آپ کا منظور بھائی
میونخ جرمنی سے
خدا وند کریم دلشاد نسیم اور ان کے فرزندوں کو یہ صدمہ ء عظیم جھیلنے کی ہمّت عطا فر مائے اور تمام لواحقین کو اس صدمہء جانکاہ کو جھیلنے کے لئے صبر جمیل عطا کرے آمین اور مرحوم ومغفور خالد محمود کو جنّت الفردوس میں رحمتوں کی ٹھنڈی چھاؤں عطا ہو ،،آمین
میری عزيز اور بہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ،اللہ پاک تم سب کو اس عظیم صدمے کو سہنے کی جھیلنے کی ھمت و طاقت عطا فرماۓ ۔
اللہ پاک دلشاد نسیم کو صبر دے ، ھمت دے حوصلہ دے آمین ثم آمین
اللہ پاک دلشاد نسیم کو چاھنے والے شریک سفر کی رحلت کا غم برداشت کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثم آمین
دنیا کے مختلف گوشے میں موجود عالمی اخبار کے ساتیھوں نے مل کر مرحوم خالد محمود کے لیے دعاۓ مغفرت کی ، ھم سب نے قرآں کریم پڑھ کر خالد مرحوم و مغفور کی بخشش کی دعايئں کیں ، بس ایک یہی تحفہ ھے جو ھم کسی کو سانحہ ارتحال کے بعد ارسال کرسکتے ھیں ۔
اللہ پاک ان دعاوں کو شرف قبولیت عطا فرماۓ آمین ثم آمین
اللہ سبحان و تعالی مرحوم خالد محمود کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرماۓ آمین ثم آمین
مجھے خوب علم ھے کہ شوھر کی موت کسی عورت کے لیے کتنا بڑا المیہ ھوتاھے ، سر سے سائبان کا اٹھہ جانا ، کسی بھی عورت کے لیے مجازی خدا کی رحلت ناقابل تلافی نقصان ھوتا ھے، اللہ پاک صبر عطا فرماتا ھے ، اسی لیے صبر کرنے والوں کے درجات بہت بلند ھیں ، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھہ ھوتا ھے ۔ اللہ ھی اس مشکل وقت میں ھمت ڈھارس اور حوصلہ عطا فرما تا ھے،
موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ھے ،
قرآن کریم نے اس سلسلہ میں لفظ تُوَفّیٰ کا استعمال کیا ھے۔ متعدد آیتوں میں موت کو تُوَفّی کے عنوان سے یاد کیا گیا ھے۔
جو افراد یہ سوچتے ھیں کہ انسان مرنے کے بعد زمین میں دفن ھو کر ختم ھوجاتا ھے اور اسی بنا پر قیامت کا انکار کردیتے ھیں، ان کے لئے قرآن مجید فرماتا ھے:
(قُلْ یَتَوَفَّیٰکُمْ مَلَکُ المَوْتِ الَّذِیْ وُکَّلَ بِکُمْ ثُمَّ اِلَیٰ رَبِّکُمْ تُرْجَعُونَ)
آپ کھہ دیجئے کہ تم کو وہ ملک الموت زندگی کی آخری منزل تک پھونچائے گا جو تم پر تعینات کیا گیاھے اس کے بعد تم سب پروردگار کی بارگا میں پیش کئے جاؤ گے۔ (۲)
کہ قرآنی نقطہٴ نظر سے موت، ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں داخل ھوجانے کے علاوہ کچھ اور نھیں ھے یعنی انسان موت کے ذریعہ اپنی تمام تر شخصیت اور حقیقت کومامورین خدا کے سپردکردیتا ھے۔ اس طرح کی آیتوں سے تین نکات سامنے آتے ھیں۔
(۱) موت ، انسان کا خاتمہ نھیں ھے بلکہ ایک دوسری دنیا میں داخل ھونا ھے اور موت کے بعد حیات انسانی ایک دوسرے انداز سے جاری رھتی ھے۔
انسان کی حقیقی شخصیت اس کا بدن نھیں بلکہ اس کا نفس ھوتا ھے جس کوقرآن نے کبھی روح کہا ھے اور کبھی نفس۔
موت کے ساتھ ھی انسان کی روح ایک دوسری دنیا میںمنتقل ھوجاتی ھے جسے عالم روح کہا جاتاھے۔ دوسرے الفاظ میں موت کے وقت اس غیر مادی حقیقت یعنی روح کو واپس بلا لیا جاتا ھے ۔
؎
قرآن کریم نے خواب کو بھی لفظ �توفّی� سے تعبیر کیا ھے:
(وَھوَ الَّذِی یَتَوَفّیٰکُمْ بِاللَّیلِ وَیَعْلَمُ مَاجَرَحْتُمْ بِالنَّھارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضَیٰ اَجَلٌ مُسَمیً ثُمَّ اِلَیہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ)
اور وھی خدا ھے جوتمھیں رات میںگویا ایک طرح کی موت دے دیتا ھے اور دن میں تمھارے اعمال سے باخبر ھے اور پھر دن میں تمھیں اٹھا دیتا ھے تاکہ مقررہ مدت حیات پوری کی جاسکے۔ اس کے بعد تم سب کی بازگشت اسی کی بارگاہ میں ھے اور پھروہ تمھیںتمھارے اعمال کے بارے میں باخبرکرے گا۔ (۳)
:
(اللهُ یَتَوَفَّیٰ الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوتِھا وَالَّتِی لَمْ تَمُتْ فِی مَنَامِھا فَیُمْسِکُ الَّتِی قَضَیٰ عَلَیْھا الْمَوتَ وَیُرْسِلُ الْاُخْرَیٰ اِلَیٰ اَجَلٍ مُسَمّیً اِنَّ فِی ذَلِکَ لَاَیَاتٍ لِقَومٍ یَتَفَکَّرُونَ)
الله ھی ھے جو روحوں کوموت کے وقت اپنی طرف بلاتا ھے اور جو نھیں مرتے ھیں ان کی روحوں کو بھی نیند کے وقت طلب کرلیتا ھے اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کرلیتا ھے اس کی روح کوروک لیتا ھے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدت کے لئے آزاد کردیتا ھے۔ اس بات میںصاحبان فکر ونظر کے لئے بھت سی نشانیاں پائی جاتی ھیں۔ (۴)
امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال ھوا کہ موت کیا ھے؟ آپ نے فرمایا:
�ھو النوم الذی یاٴتیکم فی کل لیلة الا انہ طویل مدتہ �
موت وھی نیند ھے جو روزانہ رات میں طاری ھوتی ھے بس اس فرق کے ساتھ کہ اسکی مدت طولانی ھوتی ھے۔ (۵)
مذکورہ آیات وروایت سے مجموعی طور پر سمجھا جاسکتا ھے کہ موت ، نیند کے جیسی ایک حالت اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ھونا، بیداری کی حالت جیسا ھے۔ نیند ، موت کے ادنیٰ درجہ کا نام اور موت، نیند کے اعلیٰ درجہ کا نام ھے اور ان دونوں مرحلوں میں روح انسان ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقل ھو جاتی ھے صرف اس فرق کے ساتھ کہ نیند کی حالت میں انسان معمولاً متوجہ نھیں ھوتا اور جب بیدا ر ہوتا ھے تونھیں جانتا کہ درحقیقت ایک دوسری دنیا کا سفر کرکے آیا ھے جب کہ حالت موت میں وہ تمام رونما ھونے والی حالتوں سے آگاہ رھتا ھے۔
اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی
پیاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں
بہت دنوں کی غیر حاضری کے بعد آج انٹر نیٹ پر آئی اور سب سے پہلے میں اپنے اخبار کا مطالعہ کرتی ہوں .ایک ناگہانی خبر نے چونکا دیا
میری پیاری دوست میرے پاس الفاظ ہی نہیں کہ تعزیت کر سکوں .ایسے رشتے جب کھو جاتے ہیں تو ہمارے آنسو کہاں تھمتے ہیں .بس اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہمیں ماننا ہی پڑھتا ہے .میں تمھارے دُکھ میں برابر کی شریک ہوں .مرحوم بھائی کی مغفرت کے لئے دعا گو ہوں .اللہ تعالی مرحوم کو جنت میں جگہ اور تمام گھر کے ممبران کو صبر و جمیل عطا کرے )آمین .تمھارا یہ دُکھ بہت بڑا ہے .اس میں کوئی شک کی کنجائش نہیں .یہی حققیت ہے .اللہ تمہں بھی اس دُکھ کو سہنے کی طاقت بخشے.آمین
تمھاری دوست
فرخندہ رضوی
جو یوں خاموشی سے ہم سب کو چھوڑ جاتے ہیں
وہ کہیں دور کہاں اور قریب ہو جاتے ہیں
ہمیشہ یاد وہ آتے ہین دل بہلانے کو
اور اکثر درد کا درماں بہی یوں بن جاتے ہیں
کبھی رلاتے کبھی ہنستے اور کبھی چپ چاپ
وہ اپنی باتوں کی سچائی بھی بن جاتے ہیں
ہمیں وہ باد یوں آتے ہیں دل تڑپ جائے
کہاں سے لائیں انہیں خواب سے ہو جاتے ہیں
وہ ایک ایک لمحہ جو ہم نے گزارا ساتھ ان کے
کتاب وقت میں وہ لمحے امر ہو جاتے ہیں
یہ زندگی کا سفینہ چلے ہے ایسی چال
کہ جانے والوں کو ہم بھولتے بھی جاتے ہیں
مگر یہ رشتے یہ دل سے جڑے عظیم رشتے
بھلاؤ لاکھ مگر کہاں بھلائے جاتے ہیں
خوشی کا لمحہ ہو یا ہو کوئی دکھ کا لمحہ
وہ اپنی زات سے سب کچھ امر کر جاتے ہیں
کہاں سے لائیں انہیں کیسے ان کو اب پائیں
کہانی بن کے ہمیں وہ رلائے جاتے ہیں
کبھی نہ آنے کا جھٹکا لگا کے وہ ہم کو
فنا ہے ایک حقیقت سمجھا ئے جاتے ہیں
بہن نگہت میرے بڑے بھائی بھی اسی ماہ میںاب سے چار سال پہلے ایک ابکسبڈنٹ میں ختم ہو گئے تھے ۔اس طرح کہ بقبن ہی نہ آتا تھا ۔
اللہ سب مرحومین کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت کے حسین باغوں میں جگہ دے ۔
عالم آرا
ALLAH MARHOOM KO GHREEQE RHMAT KRE, NASIM BEHN BHAT DUKH BHRI KHBR HAY , AAP SB KO IS SADMA SHENE KI HIMAT DE AMEEN. ABIDA
اللہ خالد بھائی کی مغفرت کرے
ان کی قبرکو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے
اور ان کے لواحقین کو صبرجمیل عطافرمائے
آپی ۔۔۔۔بہت دکھ ہوا خالد بھائی کی وفات کا سن کر
انا للہ وانا الیہ راجعون
۔ رنج و اندوہ کے موقع کی دعا
اللهم يا كافي الفرد الضعيف ، و واقي الامر المخوف ، افردتني الخطايا فلا صاحب معي ، و ضعفت عن غضبك فلا مؤيد لي ، و اشرفت علي خوف لقائك فلا مسكن لروعتي .و من يؤمنني منك و أنت اخفتني ، و من يساعدني و أنت افردتني ، و من يقويني و أنت اضعفتني ؟لا يجير ، يا الهي ، إلا رب علي امر مربوب ، و لا يؤمن إلا غالب علي مغلوب ، و لا يعين إلا طالب علي مطلوب .و بيدك يا الهي ، جميع ذلك السبب ، و اليك المفر و المهرب ، فصل علي محمد و آله ، و اجر هربي ، و انجح مطلبي .اللهم إنك إن صرفت عني وجهك الكريم أو منعتني فضلك الجسيم أو حظرت علي رزقك أو قطعت عني سببك لم اجد السبيل الي شي ء من املي غيرك ، و لم اقدر علي ما عندك بمعونة سواك ، فاني عبدك و في قبضتك ، ناصيتي بيدك .لا امر لي مع امرك ، ماض في حكمك ، عدل في قضاؤك ، و لا قوة لي علي الخروج من سلطانك ، و لا استطيع مجاوزة قدرتك ، و لا استميل هواك ، و لا ابلغ رضاك ، و لا انال ما عندك إلا بطاعتك و بفضل رحمتك .الهي اصبحت و امسيت عبدا داخرا لك ، لا املك لنفسي نفعا و لا ضرا إلا بك ، اشهد بذلك علي نفسي ، و اعترف بضعف قوتي و قلة حيلتي ، فانجزلي ما وعدتني ، و تمم لي ما اتيتني ، فاني عبدك المسكين المستكين الضعيف الضرير الحقير المهين الفقير الخائف المستجير .اللهم صل علي محمد و آله ، و لا تجعلني ناسيا لذكرك فيما اوليتني ، و لا غافلا لاحسانك فيما ابليتني ، و لا ايسا من اجابتك لي و إن ابطات عني ، في سرآء كنت أو ضرآء ، او شدة أو رخَء ، أو عافية أو بلاء ، أو بؤس أو نعمَء ، أو جدة أو لاوآء ، أو فقر أو غني .اللهم صل علي محمد و آله ، و اجعل ثنائي عليك ، و مدحي إياك ، و حمدي لك في كل حالاتي حتي لا افرح بما اتيتني من الدنيا ، و لا احزن علي ما منعتني فيها ، و اشعر قلبي تقواك ، و استعمل بدني فيما تقبله مني ، و اشغل بطاعتك نفسي عن كل ما يرد علي حتي لا احب شيئا من سخطك ، و لا اسخط شيئا من رضاك .اللهم صل علي محمد و آله ، و فرغ قلبي لمحبتك ، و اشغله بذكرك ، و انعشه بخوفك و بالوجل منك ، و قوه بالرغبة اليك ، و امله الي طاعتك ، و اجر به في احب السبل اليك ، و ذلله بالرغبة فيما عندك ايام حيوتي كلها .و اجعل تقواك من الدنيا زادي ، و الي رحمتك رحلتي ، و في مرضاتك مدخلي ، و اجعل في جنتك مثواي ، و هب لي قوة احتمل بها جميع مرضاتك ، و اجعل فراري اليك ، و رغبتي فيما عندك ، و البس قلبي الوحشة من شرار خلقك ، و هب لي الانس بك و باوليائك و اهل طاعتك .و لا تجعل لفاجر و لا كافر علي منة ، و لا له عندي يدا ، و لا بي اليهم حاجة ، بل اجعل سكون قلبي و انس نفسي و استغنائي و كفايتي بك و بخيار خلقك .اللهم صل علي محمد و آله ، و اجعلني لهم قرينا ، و اجعلني لهم نصيرا ، و امنن علي بشوق اليك ، و بالعمل لك بما تحب و ترضي ، إنك علي كل شي ء قدير ، و ذلك عليك يسير .
اے اللہ ! اے یکہ وتنہا اورکمزور وناتوان کی (مہموں میں ) کفایت کرنے والے اورخطرناک مرحلوں سے بچا لے جانے والے! گناہوں نے مجھے بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے ۔ اب کوئی ساتھی نہیں ہے اورتیرے غضب کے برداشت کرنے سے عاجز ہوں ۔اب کوئی سہارا دینے والا نہیں ہے۔ تیری طرف بازگشت کا خطرہ درپیش ہے ۔اب اس دہشت سے کوئی تسکین دینے والا نہیں ہے ۔ اورجب کہ تو نے مجھے خوف ذدہ کیا ہے تو کون ہے جو مجھے تجھ سے مطمئن کرے ۔ اورجب کہ تو نے مجھے تنہاچھوڑ دیا ہے تو کون ہے جو میری دستگیری کرے ۔ اور جب کہ تو نے مجھے ناتوان کر دیا ہے تو کون ہے جو مجھے قوت دے ۔ اے میرے معبود ! پروردہ کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا سوائے اس کے پروردگار کے اورشکست خوردہ کو کوئی امان نہیں دے سکتا سوائے اس پر غلبہ پانے والے کے ۔ اورطلب کردہ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا سوائے اس کے طالب کے ۔ یہ تمام وسائل اے میرے معبود تیرے ہی ہاتھ میں ہیں اورتیری ہی طرف راہ فرار وگریز ہے۔ لہذا تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورمیرے گریز کو اپنے دامن میں پناہ دے اورمیری حاجت برلا۔ اے اللہ !اگر تو نے اپنا پاکیزہ رخ مجھ سے موڑ لیا اور اپنے احسان عظیم سے دریغ کیا یا اپنے رزق کو بند کر دیا ، یا اپنے رشتہ رحمت کو مجھ سے قطع کر لیا تو میں اپنی آرزؤوں تک پہنچنے کا وسیلہ تیرے سوا کوئی پا نہیں سکتا اورتیرے ہاں کی چیزوں پر مدد کے سواء دسترس حاصل نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ میں تیرا بندہ اور تیرے قبضہ قدرت میں ہوں اورتیرے ہی ہاتھ میں میری بھاگ دوڑ ہے۔ تیرے حکم کے آگے میرا حکم نہیں چل سکتا۔ میرے بارے میں تیرا فرمان جاری اورمیرے حق میں تیرا فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہے ۔ تیرے قلمروسلطنت سے نکل جانے کا مجھے یارا نہیں اورتیرے احاطہ قدرت سے قدم باہر رکھنے کی طاقت نہیں اور نہ تیری محبت کو حاصل کر سکتا ہوں ۔ نہ تیری رضامندی تک پہنچ سکتا ہوں اورنہ تیرے ہاں کی نعمتیں پا سکتا ہوں مگر تیری اطاعت اورتیری رحمت فراواں کے وسیلہ سے۔ اے اللہ !میں ہر حال میں تیرا ذلیل بندہ ہوں تیری مدد کے بغیر میں اپنے سود زیاں کا مالک نہیں۔ میں اس عجزو بے بضاعتی کی اپنے بارے میں گواہی دیتا ہوں اوراپنی کمزوری و بے چارگی کا اعتراف کرتا ہوں ۔ لہذا جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے اسے پورا کراور جو دیا ہے اسے تکمیل تک پہنچا دے اس لیے کہ میں تیرا وہ بندہ ہوں جو بے نوا، عاجز، کمزور، بے سروسامان ، حقیر، ذلیل ، نادار، خوفزدہ ، اور پناہ کا خواستگار ہے۔ اے اللہ ! رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر اور مجھے ان عطیوں میں جو تو نے بخشے ہیں فراموش کار اور ان نعمتوں میں جو تو نے عطا کی ہیں احسان ناشناس نہ بنا دے اورمجھے دعا کی قبولیت سے ناامید نہ کر اگرچہ اس میں تا خیر ہو جائے ۔ آسائش میں ہوں یا تکلیف میں، تنگی میں ہوں یا فارغ البلالی میں ،تندرستی کی حالت میں ہوں یا بیماری کی ،بدحالی میں ہوں یا خوشحالی میں ،تونگری میں ہوں یا عسرت میں ، فقر میں ، یا دولتمندی میں، اے اللہ ! محمد اوران کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ہر حالت میں مدح وستائش وسپاس میں مصروف رکھ یہاں تک کہ دنیا میں سے جو کچھ تو دے اس پر خوش نہ ہونے لگوں اورجو روک لے اس پر رنجیدہ نہ ہوں ۔ اور پرہیزگاری کو میرے دل کا شعار بنا اور میرے جسم سے وہی کام لے جسے تو قبول فرمائے اوراپنی اطاعت میں انہماک کے ذریعہ تمام دنیوی علائق سے فارغ کر دے تاکہ اس چیز کو جوتیری ناراضی کا سبب ہے دوست نہ رکھوں اور جو چیز تیری خوشنودی کا باعث ہے اسے ناپسند نہ کروں ۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور زندگی بھر میرے دل کو اپنی محبت کے لیے فارغ کر دے ۔ اپنی یاد میں اسے مشغول رکھ ، اپنے خوف وہراس کے ذریعہ (گناہوں کی ) تلافی کا موقع دے ، اپنی طرف رجوع ہونے سے اس کی قوت وتوانائی بخش ، اپنی اطاعت کی طرف اسے مائل کر اور اپنے پسندیدہ ترین راستہ پر چلا اور اپنی نعمتوں کی طلب پر اسے تیار کر اور پرہیز گاری کو میرا توشہ ، اپنی رحمت کی جانب میرا سفر، اپنی خوشنودی میں میرا گزر اوراپنی جنت میں میری منزل قرار دے اورمجھے ایسی قوت عطا فرما جس سے تیری رضا مندیوں کا بوجھ اٹھا لوں ۔اور میرے گریز کو اپنی جانب اور میری خواہش کو اپنے ہاں کی نعمتوں کی طرف قرار دے اور برے لوگوں سے میرے دل کو متوحش اور اپنے اور اپنے دوستوں اورفرنبرداروں سے مانوس کر دے اور کسی بدکار اورکافر کا مجھ پر احسان نہ ہو ۔ نہ اس کی نگاہ کرم مجھ پر ہو اور نہ اس کی مجھے کوئی احتیاج ہو بلکہ میرے دلی سکون ، قلبی لگاؤ،اور میری بے نیازی و کار گزاری کو اپنے اور اپنے برگزیدہ بندوں سے وابستہ کر ۔ اے اللہ ! محمد اورا ن کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان کا ہم نشین ومددگار قرار دے اوراپنے شوق و وارفتگی اور ان اعمال کے ذریعہ جنہیں تو پسند کرتا اورجن سے خوش ہوتا ہے مجھ پر احسان فرما۔اس لئے کہ تو ہرچیز پر قادر ہے اور یہ کام تیرے لیے آسان ہے۔
یا اللہ یا اللہ یا اللہ یااللہ یا اللہ
مرحوم خالد محمود کی مغفرت فرماء انکی قبر کو نور سے بھر دے انکی روح کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرماء آمیں ثم آمین
لواحقین کو صبر جمیل عطا فرماء آمین ثم آمین
یا اللہ ھم سب کو ایک دن تیری طرف لوٹنا ھے ۔ جو ھم سے پہلے چلے گیۓ انکی مغفرت فرماء انکے گناھان کبیرہ وصغیرہ کو معاف فرماء آمین ثم آمین
بہن شاہین اسلام علیکم
آپ کی دعا پر آمین ثمہ آمین
اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ۔اور بہن دلشاد نسیم کو صبر کی طاقت عطا کرے آمین
عالم آرا
انا اللہ وانا الیہ راجعون
بہت بہت افسوس ہوا ۔ اللہ پاک مرحوم کے درجات بُلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر عطا کرے الہی آمین ۔