پاکستان میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل رکنے کو نہیں ہے اور اب تازہ واقعے میں کوہستان کے علاقے ہربن نالا کے قريب بس کو روک کر مسافروں کے شناختي کارڈ چيک کئے گئے اور انہيں شناخت کرنے کے بعد 18افراد کوگولياں مار کر قتل کردياگيا۔ ان کا قصور کیا صرف شیعہ مسلک سے وابستہ ہونا تھا؟ جی چاہتا ہے چیخ چیخ کر پوچھوں کہ یہ کہنے والے کون ہیں جن کا استدلال یہ ہے کہ قاتل کا کوئی دین مذہب نہیں ہوتا اور یہ قاتل مسلمان نہیں ہیں۔ بھائیو اللہ کے لیئے آنکھیں کھولو۔ یہ قتل کرنے والے مسلمان ہی ہیں،کلمہ گو ہیں اور انکو جنت اپنے ہی مسلمان بھائی کے قتل میں نظر آتی ہے
آج جی چاہتا ہے کہ شور مچا کر آسمان سر پر اٹھا لوں اور پوچھوں کہ اللہ کے رسول کی اہلبیت اور انکے نواسے امام حسین کو شہید کرنے والے بھی کیا مسلمان نہیں تھے؟ یزید کیا خلیفہ وقت نہیں تھا؟ کیا میدان کربلا میں یزید کی فوج میں حضور کے چند صحابی نہیں تھے؟ کیا امام حسین کو شہید کرنے والے اذان نہیں دیتے تھے ،نماز نہیں پڑھتے تھے؟ اے اہل ایمان وہ بھی مسلمان تھے اور یہ آج کے یزید کے پیروکار بھی مسلمان ہی ہیں جو فرقہ واریت کے نام پر نیا مسالک کی جنگ کے نام پر کلمہ گو کا قتل کر رہے ہیں۔
حیرت تو اس بات کی ہے کہ پاکستان کی دینی جماعتیں بھی اس جرم میں شریک ہیں کہ ظلم کو ظلم کو نہیں کہہ رہیں۔ حاکم تو ظالم و جابر ہیں ہی لیکن کسی مسجد ،کسی منبر،کسی خانقاہ ،کسی پیر فقیر علما مشائخ کی طرف سے مذمت تک نہیں

کیا اب یہ سوچ کر چپ رہا جائے کہ مارنے والے مسلمان نہیں اور اپنے بہن بھائیوں کو مرتا دیکھتے رہے ۔ میں سمجھتی ہوں کہ جو کلمہ گو ہے وہ مسلمان ہے ۔ یہ ہمارا معاملہ نہیں کہ ہم اسے مسلمان نہ سمجھیں ۔ وہ اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے اور اس کا فیصلہ بھی خدا کے پاس ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ۔ ہمارے لئے یہی کہا گیا ہے کہ جو کلمہ گو ہے وہ مسلمان ہے ۔ سو جو یہ ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں وہ کلمہ گو ہیں اور خؤد کو مسلمان کہتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں ۔ اب کلمہ کافر پڑھے تو وہ بھی مسلمان ہو جاتا ہے تو آپ ایسے لوگوں کو کافر کیسے کہہ سکتے ہیں ۔ سو ہم لوگوں کو خود کو تسلی دینے کی بجائے ریت سے منہ نکال لینا چاہئے ورنہ سمجھئے اب مرنے کی باری ہماری آ گئی ہے ۔ ڈاکو اب ہر دروازے پر کھڑا ہے ۔ اب گور میں کوئی اور نہیں ہمارے جانے کی باری آ گئی ہے ۔ ایسے ظلم کی اگر آج مذمت نہ کی گئی تو یقین جانیئے کل ہمارے بھی شناختی کارڈ چیک ہونے اور ہمیں بھی مسلک کے نام پر ٹارگٹ کر کے مار دیا جائے گا
http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=nighat&article=21618
ہم مسلمان نہ جانے کس سمت کا سفر کر رہے ہیں. جنت کی تلاش بھی اپنے ہی بھائی کے خون میں ہاتھ رنگنے میں ہے. علم سے دور اور عمل سے مزید دور. یہ مسلمان خود اپنے گلے کے لیئے تلوار بنا ہوا ہے. اللہ بھی ان حالات میں رحم نہیں کیا کرتا. اب سوچیئے کسی کو کیا ضرورت ہے جو اسلام کو نقصان پہنچائے جب مسلمان خود ہی اس کام کے لیئے کافی ہے
پاکستان میں جگہ جگہ بت گناہ انسانوں کاقتل عام معمول بنتاجارہاہے۔ انسان انسان کے خون کا پیاسا ہے اور ستم یہ ہے کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے والے مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں۔ یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کیونکہ ایک مسلمان کی حرمت اور اس کی جان اللہ رب العزت کے نزدیک خانہ کعبہ کی حرمت سے بڑھ کر ہے۔ پھرکیا بے گناہوں کو قتل کرنے والے۔ ان کی عزت وآبروپامال کرنے اور مال اسباب لوٹنے والے کسی بھی طرح مسلمان کہلائے جاسکتے ہیں؟ہرگزنہیں۔ جس نے کسی بے گناہ کو قتل کیا وہ ہمیشہ کے لیے جہنمی ہوگیا۔
گذشتہ منگل کو کوہستان میں جو دردناک سانحہ پیش آیا وہ اپنی نوعیت کا پہلا تو نہیں ہے لیکن قتل وغارت گری کے ایک نئے سلسلہ کا انتباہ ضرور ہے۔ ان 19 مقتولوں کا تعلق شیعہ برادری سے تھا اور انہیں بسوں سے اتارکران کی پہچان کرکے قتل کیاگیا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور فوجی وردیوں میں ملبوس تھے۔ انہوں نے چاربسوں کو روکا جو راولپنڈی سے گلگت‘ چلاس جارہی تھیں۔ پھربڑی بے دردی اوردرندگی سے ان کو گولیاں ماردی گئیں۔یہ افراد ایران میں زیارتیں کرکے واپس آرہے تھے۔ اس کو مسلکی اختلاف نہیں کہاجاسکتاکیونکہ یہ اختلاف رکھنے والے ایک عرصہ سے ساتھ ساتھ رہ رہے ہیں اورکوئی کسی کے خون کا پیاسا نہیں ہے۔ یوں بھی مسلکی اختلاف کسی کے قتل کا پروانہ نہیں دیتا۔
یقیناقتل کرنے والے دہشت گرد اور تخریب کارتھے اور ان کا اصل مقصد شیعہ‘ سنی فساد برپاکرواناہے۔ لیکن اس سے کس کا فائدہ ہوگا؟ مسلمانوں کا تعلق کسی بھی مسلک سے ہو ان کی باہمی لڑائی سے فائدہ ہمیشہ مسلمان دشمنوں نے اٹھایاہے جن کے نزدیک مسلمان صرف مسلمان ہے۔ شیعہ‘ سنی‘ بریلوی‘دیوبندی یا اہلحدیث نہیں ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب جب دشمن نے غلبہ پایا‘ بلا امتیاز قتل کیا۔ سانحہ کوہستان کے پیچھے اگرکسی دشمن کی سازش نہیں تو بھی اس کا فائدہ دشمن ہی اٹھائیں گے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ جلدہی اس کاردعمل بھی سامنے آئے گا اور بات بڑھتی چلی جائے گی۔
گلگت‘ بلتستان‘بڑا حساس علاقہ ہے۔ وہاں خونریزی تباہ کن ہوگی۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ ڈیڑھ ماہ قبل دیامیرمیں سنیوں کے قتل کا یہ ردعمل ہے۔ لیکن عمل‘ ردعمل اور پھر اس کا ردعمل ‘ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ اس میں انتظامیہ کی کوتاہی کابھی بڑادخل ہے۔ قاتل نہ پکڑے جائیں اور اپنی سزاکو نہ پہنچیں تو لوگ خود بدلہ لینے پراترآتے ہیں۔ یہ صورتحال گاوں‘ دیہات تک میں دیکھنے میں آتی ہے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے قاتلوں پرہاتھ ڈالنے میں ناکام رہتے ہیں یا مظلوم کے بجائے ظالم کی پشت پناہی کرتے ہیں تو مظلوم خود انتقام لینے پر اترآتاہے۔ کشت وخون کا یہ سلسلہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے منفعت بخش ثابت ہوتاہے۔
گلگت میں سنی بھی مارے جاتے رہے ہیں اور شیعہ بھی۔ اگرقانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا فرض اداکریں تو شاید بات آگے نہ بڑھے۔ شاہراہ قراقرم پر 19 مسافروں کے قتل کے بعد گلگت میں دفعہ 144 نافذکردی گئی ہے۔ تجارتی اورتعلیمی ادارے بندہیں۔ سرچ آپریشن ہورہاہے لیکن قاتل تو اب تک کہیں سے کہیں نکل چکے ہوں گے۔ اب لکیرپیٹی جائے گی۔ ایسے میں انتظامیہ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ مزیدکوئی سانحہ رونما نہ ہو‘ وفاقی وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک گلگت پہنچ گئے ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے ۔ہرطبقہ کی طرف سے اس سانحہ کی مذمت کی جارہی ہے۔
لیکن اصل ضرورت ایسے سانحات کے اسباب تلاش کرنے اور ان کے تدارک کی ہے۔ یہ بات بہرحال طے ہے کہ ان 19 مسافروں کے قاتل مسلمان ہرگزنہیں تھے خواہ ان کے نام مسلمانوں جیسے ہوں اور وہ کلمہ بھی پڑھتے ہوں۔ سانحہ کوہستان کے اثرات کراچی میں بھی دیکھنے میں آئے اور مختلف علاقوں میں مظاہرے کیے گئے۔ٹریفک معطل کیاگیا‘انچولی‘ عباس ٹاون‘ جعفرطیارسوسائٹی اوردیگر علاقوں میں دکانیں بندکرادی گئیں‘ نمائش چورنگی پر دھرنادیاگیا۔ سانحہ جتنا شدید تھا اس پر ردعمل بھی شدید ہوگا لیکن یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا کراچی میں دکانیں بندکراکے ‘ ٹریفک معطل کرکے قاتل پکڑے جائیں گی۔؟
بدقسمتی سے ملک میں امن وامان کی خراب صورتحال پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا ایجنڈہ رکھنے والے دشمنانِ اسلام کو اپنے ایجنٹوں اور دہشت گردوں کے ذریعے ملک میں انتشار پیدا کرنے کا نادر موقع فراہم کر رہی ہے‘ اس لئے حکمرانوں کو ایسے افسوسناک واقعات کی صرف مذمت پر ہی اکتفاءنہیں کرنا چاہیے بلکہ جامع تحقیقات کراکے ان گھناﺅنے چہروں کو بھی بے نقاب کرنا اور کیفرکردار کو پہنچانا چاہیے جو اپنے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے ایسی وارداتوں کے تانے بانے بنتے ہیں۔
بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھارتی ایجنسی ”را“ کے ملوث ہونے کے تو ٹھوس ثبوت بھی ہماری سیکورٹی ایجنسیز کے پاس موجود ہیں جبکہ بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے امریکی سینٹ کمیٹی اور ایوان نمائندگان میں جو مکروہ پراپیگنڈہ کیا گیا جس کی آڑ میں علیحدگی پسند عناصر کو ملک کی سالمیت کیخلاف اپنے عزائم کے اظہار کا مزید موقع ملا‘ اس سے یہاں دہشت گردی کی وارداتوں میں امریکی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے بارے میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ مسلم امہ میں انتشار و افتراق پیدا کرنا ہی تو امریکہ‘ بھارت اور انکی اتحادی دیگر طاغوتی طاقتوں کا مشترکہ ایجنڈہ ہے۔
اس تناظر میں ان دونوں ممالک کی حتی الوسع کوشش ہے کہ پاکستان اور ایران میں یکجہتی اور باہمی تعاون کی فضا پیدا نہ ہونے دی جائے‘ اسی نیت کے تحت امریکہ‘ پاکستان اور ایران کے مابین گیس پائپ لائن کے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے جس میں بھارت بھی اس کا معاون ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس معاہدے پر پاکستان کےساتھ برہمی کا اظہار بھی کیا جا چکا ہے تاہم پاکستان اور ایران دونوں ممالک اس معاہدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم پر کاربند ہیں اور ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کے دورہ اسلام آباد سے دونوں برادر مسلم ممالک کے مابین اتحاد و یکجہتی کا جو مثبت پیغام گیا‘ وہ ہنود و یہود و نصاریٰ پر مشتمل اسلام دشمن طاغوتی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا کیونکہ ان دونوں ممالک کا اتحاد و تعاون مسلم امہ کے اتحاد پر منتج ہو سکتا ہے اسلئے شیطانی اتحاد ثلاثہ کی ہر ممکن کوشش ہو گی کہ پاکستان اور ایران کے مابین غلط فہمیاں اور منافرت کی فضا پیدا کرکے انکے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جائے۔
اس مقصد کیلئے امریکی پروردہ جنداللہ تنظیم کو پہلے بھی پاکستان کی سرحدوں سے ملحق ایران کے علاقے میں دہشت گردی کی وارداتوں کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور زاہدان میں ہونیوالی دہشت گردی کی وارداتوں کی بنیاد پر تو امریکہ پاکستان کےساتھ ایران کی بدگمانیاں پیدا کرنے میں کامیاب بھی ہو گیا تھا۔ بعدازاں ایران کے وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر بمشکل تمام یہ تاثر زائل ہو پایا جبکہ اب پاکستان اور ایران کے مابین پیدا ہونیوالی اتحاد و یکجہتی کی مثالی فضا سے تو اسلام دشمنوں کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں اسلئے کیا بعید ہے کہ جنداللہ تنظیم کے ذریعے کوہستان کی واردات فرقہ واریت کے حوالے سے پاکستان اور ایران میں مذہبی کشیدگی کی فضا پیدا کرنے کیلئے ڈالی گئی ہو۔
ایران کی جانب سے تو گزشتہ روز گیس پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل کیلئے پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر قرضہ دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے‘ اس لئے ممکن ہے کوہستان کی واردات کے ذریعے پاکستان ایران اتحاد و یکجہتی کی اس فضا کا بدلہ لیا گیا ہو جبکہ اسی روز پشاور میں ایک چینی سیاح خاتون کو اسکے پاکستانی گائیڈ سمیت پراسرار انداز میں قتل کردیا گیا جس کا مقصد چین اور پاکستان کے مابین پیدا ہونیوالی سٹریٹجیکل تعاون کی خوشگوار فضا کو خراب کرنا ہو سکتا ہے۔ یہ ایجنڈہ بھی تو اسی امریکہ کا ہے جو اس خطہ میں چین کو اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے اور اس تناظر میں ہمیں اس خطہ میں ہر دوست سے دور کرنا چاہتا ہے۔
کوہستان میں ٹارگٹ کلنگ اور پشاور میں چینی سیاح خاتون کے قتل کا واقعہ بلاشبہ ہمارے لئے اندوہناک ہے اس لئے ان دونوں واقعات کے پس منظر کی جامع تحقیقات کی جائے اور بالخصوص کوہستان کے واقعہ کی بنیاد پر ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی کی فضا پیدا نہ ہونے دی جائے‘ اس کیلئے تمام مکاتب فکر کے علماءکرام کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور فرقہ واریت کی بنیاد پر اشتعال پیدا کرنے کے بجائے بھائی چارے اور صلہ رحمی کا درس دیکر قومی اتحاد و یکجہتی کی فضا کو مستحکم بنانا چاہیے۔ اسی طرح حکومتی ایجنسیوں کو بھی محض سطحی تحقیق سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے تمام شواہد اور محرکات کا کھوج لگا کر اصل حقائق کی تہہ تک پہنچنا چاہیے۔ ملک کو درپیش موجودہ نازک حالات میں فرقہ ورانہ کشیدگی کی بنیاد پر ہم کسی انتشار و افتراق کے متحمل نہیں ہو سکتے اور دشمن کا یہ ایجنڈہ باہمی رواداری کو فروغ دیکر اور امن و امان کی صورتحال پر قابو پا کر ہی ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
اسلام علیکم
کیا کہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم نفرتوں اور کدورتوں میں کس حد تک گر کۓ ہیں ۔مسلمان مسلمان کی جان لے رہا ہے اور راستہ ہےجنت کا ؟ دراصل اب ہم نے جزا اور سزا کا اختیار بھی اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے نعو ز باللہ دل اتنا لرز جاتا ہے جب ہم ایسی خبریں پڑھتے ہیں کہ کون لوگ ہیں جو یہ زہر گھول رہے ہیں او رایک اللہ ایک رسول اور اس کی آل کے ماننے والوں کو اس طرح اس سفاکی سے مار ڈالتے ہیں کہ ظالم سے ظالم انسان بھی شاید کچھ دیر کو سکتے میں آجاتا ہو ۔ دلوں کی سختی سے پناہ مانگنی چاہیۓ کہ جب دل سخت ہو جائیں تو ایسے واقعات روز کا معمول بن جاتے ہیں ۔
ہمارا ماحول اس تیزی سے ظلم اور زیادتی کی طرف بڈھ رہا ہے کہ شاید کچھ عرصے بعد بے حسی اور بھی بڑھ جايگي اگر سب نے توجہ نہ دی تو ۔یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ لگتا ہے کہ تفرقے ڈال کر آپس ہی میں اتنا الجھادیا جاۓ کہ سنبھل نہ سکیں ۔ ہمیں اپنی صفوں میں خود اتحاد پیدا کرنا ہوگا ایسی باتوں کی ایسے حادثات کی مزمت کر کے ان کے خلاف آواز اٹھا کر ۔
جان کسی کی بھی ہو قیمتی ہے اور یہ ایک سفاک عمل ہے کہ اس طرح معصوم جانیں لے لی جائں ، اس حادثے کی جتنی مزمت کی جاۓ کم ہے ۔
اللہ ہم سب پر رحم کرے اور ہمیں ان ازیتوں سے نجات دے آمین
عالم آرا
پاکستان میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل رکنے کو نہیں ہے
میری بہت عزيز بہن اور بہت پیاری دوست ، ڈاکٹر نگہت نسیم سلامت رھو۔
سب جانتے ھیں کہ پس پردہ کون ھے ، امریکہ ناراض بلوچوں کو امریکہ اور افغانستان میں پاکستان کے خلاف دھشت گردی اور خونریزی کی تربیت دے رھا ھے ، شعیہ اور اھل سنت بھائ بھائ ھیں برسوں سے ساتھہ رھتے ھیں ،کوئ سنی کسی شعیہ کو اس بیدری سے نیہن مار سکتا اور نہ ھی کوئ شعیہ اپنے اھل سنت بھائ کو مار سکتا ھے ، اسرایيئل ، ھمارا پڑوسی ملک ۔ اور دینا کا سب سے بڑا شیطان اور عالمی غنڈہ امریکہ گوادر کی وجہ سے جو کیھل پاکستان میں کیھل رھا ھے ۔ کیا الیکڑیک میڈیا انٹر نٹ اور بریکنگ نیوز کی اس صدی میں کوئ بات مخفی رہ سکتی ھے ،؟
ھمارے محترم قلمکاروں نے اس موضوع پر بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ھے اور خاص کر ھمارے عزيز بھا ئ محمد احمد کا بھرپور تبصرہ پڑھ کر آنھکیں کھل گیئں ،بھائ بے شک آپ اپنے قلم سے جہاد کررھے ھیں جزاک اللہ ، آپکی ھر تحریر دل پر اثر کرتی ھے آپ نے اپنے حصے کی شمع روشن کردی ھے
۔ یہ وطن عزيز پر کس خونی موسم کا آسیب چھا گیا ھے ھر روز کسی نہ کسی شہر میں قتل عام ٹارگٹ کلنگ عام سی بات ھے ، اللہ جانے کون شقی القلب انکی سرپرستی
کررھا ھے۔ ھمارے حکمران تو سارے شہروں کو جلتا دیکھہ کر بھی چین کی بانسر ی بجارھے ھیں پتہ ھم کو کھبی کوئ مخلص قیادت کب میسر آۓ گی
پاکستان کے ھر شہر میں اب خوف و ھراس کے پہرے ھیں ۔ پہلے جنگ سرحدوں پر ھوتی تھی اب ھر شہر ھمارے دشمنوں کی زد پر ھے ۔جو کچھہ بلوچستان میں ھورھا ھے ، ھمارے دل خوف اور برے اندیشے سے کانّپ جاتے ھیں ، جو کچھہ ملکی اور غیر ملکی اخبارات میں پڑھتے ھیں ، ھمارا دشمن بہت متحد ، منظم ھے اور ھم منتشر اور گروھوں میں بٹ گیے ھیں
ھمارے دشمن یہی تو چاھتے ھیں ، شعیہ سنی فسادات کو ھوا دی جارھی ھے ،ھمارے غافل حکمران خواب خرگوش کے مزے لے رھیں ھیں
کراۓ کے دھشت گردوں کو بہت جدید ترین انداز میں ٹرینگ دیگر پاکستان بیھجا جارھا ھے، اور جس راستے سے ھمارا دشمن آرھا ھے اس سے بھی سب واقف ھیں
بھارت امریکہ اور مسلمانوں کا سب سےبڑا اور سب سے خوف ناک عدو اسرایل بلوچستان اور اس کے ملحقہ علاقوں میں پاکستان دشمن عناصر کو ھر طرح کی امداد پہنچارھے ھیں
27 اضلاع میں سے بلوچستان کے 5 اضلاع جو شورش زدہ ھیں ان میں دشمن پوری طرح متحرک ھے ،
سوچیے کیا کوئ مسلمان اس طرح کسی دوسرے مسلمان کو مار سکتا ھے ، یہ شیطان کاکام ھے، جنداللہ امریکی سرپرستی میں ایران اور پاکستان میں ھر دھشت گرد کاروآئ میں ملوث ھے
دیکھے ھماری سیاسی قیادت کو کب ھوش آتا ھے ۔
کیا ہے مقسوم ِ عداوت ، شب نگاہی کے سوا
کیا تعصب کا ہے حاصل ، روسیاہی کے سوا
نفرتوں سےکچھ نہیں ملتا ، تباہی کے سوا
وحشتوں کی رات کا زہراب پی سکتا نہیں
پیا ر کے سورج کا قاتل ، خود بھی جی سکتا نہیں
جو بھی جاپر ہے ، وہ جابر ہے، کسی قرئیے کا ہو
جو بھی ظالم ہے ، وہ ظالم ، کسی حلقے کا ہو
جو بھی قاتل ہے ، وہ قاتل ، کسی فرقے کا ہو
جو کسی مظلوم کے لاشے پہ رو سکتا نہیں
وہ رسولِ پاک ( ص) کی امت میں ہوسکتا نہیں
نفرتوں کی آگ کا ایندھن بناتے ہیں ہمیں
آو ان ہاتھوں کو ڈھونڈیں جو لڑاتے ہیں ہمیں
خود تو کرتے ہیں جراغاں اور بجھاتے ہیں ہمیں
کب تلک شعلہ گروں کے ہاتھ میں کھیلیں گے ہم
جرم وہ کرتے رہینگے اور سزا جھیلیں گے ہم
سر نہیں رکھتی سلامت، یہ فساد و شر کی جنگ
جیت سکتے ہیں ہمارے حوصلےَ باہر کی جنگ
ہاں مگر ہم لڑ نہیں سکتے ، کبھی اند ر کی جنگ
اپنے ہی ہاتھوں کے خنجر کردینگے ہمیں
خود ہمارے گھر کے شعلے ، خاک کردینگے ھم
عالمی اخبار کے ایک سابقہ بلاگ سے انتخاب
معاشرے اور افراد کی بے حسی کا اندازہ اسی سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ اس فکری بلاگ میں ہی اس موضوع پر لکھنے والے لوگ کتنے ہیں؟ آپ ذرا سوچیں کہ بیرونی ممالک کے پرسکون ماحول میں اگر رہنے والوں کی یہ حالت ہے تو جو لوگ اس ملک،شہر،محلے اور ماحول میں رہ رہے ہیں انکی ذہنی حالت کیا ہو گی. اللہ گواہ ہے کہ یہ کہنا بڑے دل گردے کا کام کہ اللہ رحم کرے گا. وہ رحیم و کریم ضرور ہے لیکن یاد رکھیں عادل بھی ہے.
رب العزت کا ارشاد باری ہے کہ “ جس نے کسی کا نا حق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کردیا اور جس نے کسی کی زندگی کو محفوظ کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو زندہ کردیا“۔
اللہ رب العزت کی پہلے کونسی بات مانی ہے جو یہ مان لیں گے
اسلام علیکم
صفدر ہمدانی بھائی آپ نے درست فرمایا
اللہ رب العزت کی پہلے کونسی بات مانی ہے جو یہ مان لیں گے‘‘
یہ ہی وجہ ہے کہ نہ ہماری دعائیں ملک کے لئے قبول ہوتی ہیں اور نہ ہی ہم اس ظلم سے نجات حاصل کر سکتے ہیں جو معصوموں پر آئے دن ڈھا ئے جاتے ہیں ۔یہ ایسے ظلم ہیں جو ملک سے برکت اور احساس اور محبت کو ختم کئے دیتے ہیں لیکن ہمارے حکمران مست ہیں اور شاید عوام بھی ۔جن باتوں پر شد و مد کے ساتھ آواز اٹھانی چاہئے ،وہاں بھی سنا ٹا ہی رہتا ہے ۔
اگر اللہ رحیم و کریم کا خوف ہمارے دلوں میں ہوتا تو ہم یہ حرکتیں ہی نہ کر رہے ہوتے کہ اللہ کے نام پر اللہ ہی کے بندوں کو بلا جواز قتل کر رہے ہیں اور کوئی شنوائی نہیں ہے ۔
اللہ ہم سب کو اس بے حسی سے بچاتا رکھے اور ہم حق کے لئے بول سکیں آمین
عالم آرا
راہ مولا کے شہیدوں زیارات مقدّسہ کی راہ میں بہشت بریں کا سفر مبارک ہو ،بے شک تم نے عالم مسافرت میں بہت بے بسی کی موت پائ ،لیکن یقین جانو یہ موت نہیں ہے یہ وہ حیات ابدی ہے جس کے لئے اللہ کا فرمان ہے ،تم ان کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس سے رزق پاتے ہیں ،وہ دن ضرور آئے گا جب تم ان ظالموں اور اپنے قاتلوں کو بہشت بریں سے دیکھو گے دوزخ کی آگ میں جلتا ہوا جہا ں ان کے وہ سرپرست مدد کے بجائے خود بھی جہنّم کے آخری درجے میں پڑےچلّا رہے ہوں گے جن کی خوشنودی کے لئے ان مکروہ چہرے والے قاتلوں نے تم کو بے جرم وخطا شہید کیا ہے
میری مسیحا بیٹی ،تم ماشاللہ دینی معاملات میں بہت اچھّی سوجھ بوجھ رکھتی ہو ،لیکن میری جسارت کو معاف کرنا کہ کلمہ پڑھ لینےسے مسلمان ہوجانا الگ بات ہئے اور کلمے کی روح کو قلب کی گہرائ سے سمجھنا اصل میں مسلمان ہو نا الگ بات ہے ،جب ایک کلمہ پڑھ لینے والے کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے تو اس کو مسلمان کہنا ا ور سمجھنا دونوں غلط ہیں،
یہ وہ منافق ہیں جنہون نے دین اسلام کے دامن میں کلمہ پڑھ کر اس لئے پناہ لی ہے تاکہ یہ اسلام کے نام پر فوائد تو حاصل کریں لیکن کام یہ اپنے آقا یزید اور ان کے جان نشینوں کی خوشنودی کے کر رہے ہیں ،یزید کے دین میں کلمہ پڑھنے کے بعد بھی شراب حلال ہی تھی نا ،ان محرمات سے شادی بھی جائز تھی جن کو اللہ نے قران میں حرام کیا ہے اور اس نے ایک ایسی شادی کی بھی تھی،،یزید کی فوج میں تیس حافظ قران بھی تھے
تو آج چودہ سو برس کے بعد بھی یزید کے پیرو کاروں سے کیا توقّع رکھّی جا سکتی ہے ،رہا دینی جماعتوں کا معاملہ،، سیاستدانون کامعاملہ تووہ اس قتل عام کی مذمّت کر کے اپنے سعودی ریال کی کٹوتی کیوں کروائیں گے ،
حرام منہ کو لگ جائے تو حلال پیچھے چلا جاتا ہئے ،دس محرّم کو کراچی میں بم بلاسٹ کے بعد جو دہشت گرد سیاہ لباس میں دکانوں کو کیمیکل چھڑک کر آگ لگا رہئے تھے ان کی سرپرستی پس پردہ پاکستان کی کچھ بڑی دینی جماعتیں ہی کر رہی تھیں ،سب کچھ سب کو معلوم ہے ،اور سب اپنے اپنے انجام سے بے خبر دنیا کے پجاری بن کر دوڑے چلے جا رہے ہیں جیسے کہ ان کو کبھی موت آنی نہپیں ہے،،خدا ظالموں پر ان کے سر پرستون پر اور ظالمین کے پشت پناہوں پر ابد الآباد تک لعنت کرے آمین
شاھین حیدر رضوی نے کہا ہے:
March 3, 2012 بوقت 1:17 pm
پاکستان میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل رکنے کو نہیں ہے
میری بہت عزيز بہن اور بہت پیاری دوست ، ڈاکٹر نگہت نسیم سلامت رھو۔
سب جانتے ھیں کہ پس پردہ کون ھے ، امریکہ ناراض بلوچوں کو امریکہ اور افغانستان میں پاکستان کے خلاف دھشت گردی اور خونریزی کی تربیت دے رھا ھے ، شعیہ اور اھل سنت بھائ بھائ ھیں برسوں سے ساتھہ رھتے ھیں ،کوئ سنی کسی شعیہ کو اس بیدری سے نیہن مار سکتا اور نہ ھی کوئ شعیہ اپنے اھل سنت بھائ کو مار سکتا ھے ، اسرایيئل ، ھمارا پڑوسی ملک ۔ اور دینا کا سب سے بڑا شیطان اور عالمی غنڈہ امریکہ گوادر کی وجہ سے جو کیھل پاکستان میں کیھل رھا ھے ۔ کیا الیکڑیک میڈیا انٹر نٹ اور بریکنگ نیوز کی اس صدی میں کوئ بات مخفی رہ سکتی ھے ،؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
پاکستان میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل رکنے کو نہیں ہے۔۔
آپ کا یہ الزام کے امریکہ پس پردہ افغانستان اور پاکستان کے بیچ میں رخنہ پیدا کر رہا ہے اور یہ کہ امریکہ شعیہ اور اھل سنی کے بیچ میں مذہبی غلط فہمیاں پھیلا رہا ہے بالکل حقیقت سے بعید ہے۔ مزید یہ بھی کہ امریکہ گوادر کی وجہ سے پاکستان میں یہ کیھل کھیل رہا ہے! کیا آپ سنجيدہ ہيں؟ اس بات کا انکشاف آپ کو کس امریکی سرکاری بیان سے ہوا ہے؟ ذرا اس پر بھی روشنی ڈاليں گے؟
آپ نے پوچھا ہے کہ”کیا الیکڑیک میڈیا انٹر نٹ اور بریکنگ نیوز کی اس صدی میں کوئ بات مخفی رہ سکتی ھے؟” لیکن یہی وہ آلات ہيں جن سے سازشی ایجنڈے بھی پھیلاۓ جاتے ہیں۔ اس مضمون کے عنوان پر ذرا دوبارہ غور فرمائيں: پاکستان میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کا قتل رکنے کو نہیں ہے۔۔ اور پھر مندرجہ ذيل لنک بھی ملاحظہ کیجۓ:
(امریکہ؟؟؟)
http://www.youtube.com/watch?v=pbTCCfmuptU&feature=related
افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://www.state.gov