بیت بازی کا تسلسل

دانشوروں اور سخنوروں کی تفریح طبع اور علم کی تحصیل کے لیے ایک نیا بلاگ شروع کررہا ہوں جس کا عنوان ” بیت بازی کا تسلسل” ہے ۔
اس نئے بلاگ کو موجودہ بلاگ ” بیت بازی ” کے تجربے سے فایدہ اٹھا کر آسان ہی رکھا جائے گا۔
شاعر کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں ( اگر شاعر کا نام لکھا جائے تو سب کے علم میں اضافہ ہی ہوگا کمی نہیں ) ۔
اور عروض کی پابندی بھی ضروری نہیں
صرف نئے شعر کو پچھلے شعر کے آخری حرف سے شروع کرنے کی پابندی ہوگی
اور یہ بھی شرط ہوگی کہ جو اشعا ر ” بیت بازی ” کے بلاگ میں استعمال ہوچکے ہیں وہ نئے بلاگ ” بیت بازی کا تسلسل ” میں دو بارہ استعمال نہ ہوں ۔
مقصد صرف شعر لکھنے کی مشق چاہئے اور تثر لکھنے کا موقعہ ملتا رہے۔ ( یاد رہے کہ اس موجودہ بلاگ میں پچھلے بلاگ کی طرح شعر کے علاوہ نثر لکھنے کی بھی گنجائش ہے )۔

میرے غیاب میں نگہت نسیم صاحبہ خود یا انکی (ا نکا ) نامزد کردہ سخنور اس قسم کے بلاگوں کو چلاسکتی ( چلا سکتے ) ہیں۔
میں زرقا مفتی صاحبہ اور پنہاں صاحبہ اور صفدر ھمدانی صاحب اور نگہت نسیم صاحبہ کے اعلی ادبی ذوق سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اور دوسرےتمام سخنور اپنے تعاون سے اس نئے بلاگ کو بھی کامیاب بنایئنگے۔
۔۔۔۔۔۔
میں اس نئے بلاگ کو غالب کے اس شعر سے شروع کرتا ہوں:
وہ آیا بز م میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے
شکیب و صبرِ اہل انجمن کی آزما ئش ہے

اگلا شعر ی سے شروع ہوگا
۔۔۔۔
فقط:
علم کا خواہاں
منظور قاضی از جرمنی ّ

140 thoughts on “بیت بازی کا تسلسل”

  1. نہ گلِ نغمہ ہوں نہ پردہءساز
    میں ہوں اپنی شکست کی آواز

    مرزا غالب

    اگلا شعر ز سے

  2. زاویے بہاروں کے سب حسین ہوتے ہیں
    جھوٹ کے سبھی موسم بے یقین ہوتے ہیں

    استوار رکھتے ہیں زندگی سے سب رشتے
    عشق کرنے والے بھی کیا ذہین ہوتے ہیں
    سحر علی۔کراچی

  3. نازاں نہ ہو خِرد پہ جو ہونا ہے وہ ہی ہو
    دانش تری نہ کچھ مری دانشوری چلے

    ابراہیم ذوق

  4. یہ غازی یہ ترے پر اسرار بندے
    جنہیں تو نے بخشا ہے زوق خدایئ
    دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
    سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

    اقبال

  5. یا رب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
    زخمِ ہنر کو حوصلہء لب کشائی دے

    پروین شاکر

  6. یادِ ماضی عزاب ھے یا رب
    چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

  7. اک شورش بے حاصل ، اک آتش بے پروا
    آفتکدہ دل میں اب کفر نہ ایماں ہے

    اصغر گونڈوی

  8. اسکے طرزِ عمل سے کیا شکوہ ؟؟
    میں ہی معمول ہو گئ یوں ہی

    عظمٰی محمود

  9. یار خوش ہیں کہ انہیں جامہء احرام ملا
    لوگ ہنستے ہیں کہ قامت سے زیادہ پہنا

    احمد فراز

  10. اتنا پتھر دل بھی خدا کسی انسان کو نہ بنائے
    توڑتے توڑتے جس کو انسان خود پتھربن جائے

    یاسر اسامہ

  11. یونہی نہیں یہ آگ مرے گھر لگی ہوئی
    تختی ہے تیرے نام کی در پر لگی ہوئی

    میں نے کیامکان میں چھڑکاؤ زہر کا
    دیمک تھی میرے جسم کے اندر لگی ہوئی

    تجھ تک پہنچ کے اس لئے آنکھیں بھر آئی ہیں
    میں بھولتا نہیں کوئی ٹھوکر لگی ہوئی

    عباس تابش
    اگلا شعر ے سے ہوگا۔

  12. اب تو سیلابوں سے جل تھل ہو گئیں آبادیاں
    اب مرے کھیتوں کی لاشوں پر گھٹا برسی تو کیا

    احمد ندیم قاسمی

    اگلا شعر الف سے

  13. اب کے ہم بچھڑے تو شائد کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

  14. زرقا جی شعر آنا تو ے سے تھا۔۔۔۔۔۔! خیر کسی نہ کسی طور یہ بیت بازی کا سلسہ بڑھتا رہے تو بھی بہت ہے۔

  15. مصباح صاحب
    غلطی کی نشاندہی کا شکریہ

    مگر مجھے لگتا ہے کوئی مراسلہ حزف ہواہے

    نہ کی سامانِ عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی
    ہوا جامِ زمرد بھی مجھے داغِ پلنگ آخر

    اگلا شعر ر سے

  16. ریت کی دیوار تھی تقدیر مرے آگے
    میں لوٹا فقط تری خوشی کے لئے تھا

    یاسر

  17. منظور قاضی صاحب کے جانے کے بعد تو ہو کا عالم ہو گیا ہے جس میں کبھی کبھی ایک دو دوستوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے- ایسا لگتا ہے کہ باقی احباب دوسرے بلاگ میں مصروف ہو گئے ہیں- منظور قاضی صاحب کی یاد میں کچھ اشعار عرض ہیں-

    چپ چاپ سا ہے یہ بلاگ، ترے بعد
    ٹھنڈی پڑی شاعری کی آگ ،ترے بعد
    گہری نیند میں سو گئےسب لوگ یہاں
    آتی نہیں اب کسی کو جاگ، ترے بعد
    دو چار کے سوا بہت مصروف ہیں سب
    ‘دو چار’بھی لکھتے ہیں بھاگم بھاگ، ترے بعد

  18. دل ڈحونڈھتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
    بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے
    غالب

  19. اے عافیت کنارہ کر اے انتظام چل
    سیلابِ گریہ در پئے دیوارودر ہے آج

    اگلا شعر جیم سے

  20. جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
    رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

    فیض احمد فیض

  21. اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہے
    جتنا کہ وہمِ غیر سے ہوں پیچ و تاب میں

    اگلا شعر ن سے

  22. نادم ہیں وہ بھی اب مرے دل کی شکست سے
    چہروں میں بٹ گیا ہے یہ آئینہ ٹوٹ کر
    فارغ بخاری

  23. رکھ کے مدارِ شوق کسی آفتاب پر
    تو سنگِ انتظار پگھلتا ہوا بھی دیکھ

    کشور ناہید

  24. ہونگی کچھ مجبو ریاں جو آپ کے دل نے
    دو قدم ہی دور جاکر لوٹ کر آنے کا نام

    ظفر جعفری

  25. اوپر کی ٹائپنگ کی غلطی کی معذرت چاہوں گا۔ صحیح شعر یوں ہے۔

    ہونگی کچھ مجبو ریاں جو آپ کے دل نے لیا
    دو قدم ہی دور جاکر لوٹ کر آنے کا نام

    ظفر جعفری

  26. موسمِ برگِ خزاں آئینہ دکھلاتا ہے
    راکھ ہو جاتا ہے ہر جسم کا ایندھن کیسے

    کشور ناہید

  27. یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
    یہ منقّش در و دیوار یہ محراب یہ طاق

    ساحر لدھیانوی

  28. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    براہ کرم بیت بازی 3 پر یہ کھیل جاری رکھیے ۔ شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھر ملہینگے اگر خدا لایا

    منظور قاضی از اسپین

  29. السلام علیکم
    محترم اراکین محفل
    اللہ آپ سب پر سدا مہربان رہے ۔ آمین
    سنا ہے کہ ڈھونڈے سے خدا مل جاتا ہے ۔
    سو اپنی غرض کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ صاحبان ذوق کی محفل تک آ پہنچا ۔
    محترم فیض احمد فیض جی کے اس شعر نے الجھایا ہوا ہے ۔
    نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوادیا
    جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹادیا
    اس شعر میں “““ ناوکِ نیم کش، “““ سے کیا مراد ہے ؟
    اس کا لفظی ترجمہ کیا ہو گا۔؟
    توجہ سے نوازنے پر آپ سب کا پیشگی شکریہ
    نایاب

  30. نایاب صاحب کی جستجو کا شکریہ کہ انہوں نے ڈھونڈتے ڈھونڈتے جولائی 2009 کا یہ بلاگ آج 15 اکتوبر 2010 کو آخر پا ہی لیا.
    نایاب صاحب نے ناوکِ نیم کش کا مطلب پوچھا ہے جسے فیض نے اپنی اس غزل کے مطلع میں استعمال کیا :
    نہ گنواو ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوادیا
    جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تنِ داغ داغ لُٹا دیا

    مرے چارہ گر کو نوید ہو صفِ دشمناں کو خبر کرو
    جو وہ قرض رکھتےتھے جان پر وہ حساب آن چُکا دیا

    کرو کچ جبیں پہ سرِِ کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
    کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

    اُدھر ایک حرف کہ کُشتنی یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
    جو کہا تو سُن کے آڑادیا ، جو لکھا تو پڑھ کے مِٹادیا

    جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم ، جو چلے و جاں سے گذر گئے
    رہِ یار ہم نےقدم قدم تجھے یادگار بنادیا

    …..
    یہ میری پسندیدہ غزل فیض کی تصنیف “دستِ تہ سنگ ” میں موجود ہے.
    …..

    افسو س کہ نایاب صاحب نے اپنے اس سوال کو اس گم گشتہ بلا گ میں پوچھا جسے اب کوئی پڑھتا وڑھتا نہیں ہے .
    اگر نایاب صاحب اپنےاس سوال کو عالمی اخبار کے کسی موجودہ بلاگ میں پوچھتے تو شائد ” اراکین محفل ” اسے پڑھکر ان کے سوال کا جواب دے دیتے .
    میرے معلومات محدود ہیں اور میرےپاس ( جرمنی کےاردو سے بے گانہ ماحول میں ) نہ کوئی اردو کی لائبریری موجود ہے اور نہ کوئی اچھی سی لغت موجود ہے کہ میں کوئی خاطر خواہ جواب دے سکوں . پھر بھی میں حسب استطاعت اس کا جواب دےرہا ہوں:

    ناوک کا معنیٰ ہے تیر ( یہ مذکر ہے )
    نیم کش کےمعنی ہیں وہ تیر جو اپنے نشانے پر آدھاکھنچا ہو اہے یعنی آدھا اندر ہو اور آدھا باہر ہو .
    غالب نے اپنے ایک شعر میں تیر نیم کش کو یوں استعمال کیاہے ،اس شعر کو سمجھنے پر فیض کےمذکورہ شعر کو سمجھنےمیں آسانی ہوگی :
    کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
    یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

    اب فیض کا یہ شعر کہ :
    نہ گنواو ناوک نیم کش ، دل ریزہ ریزہ گنوادیا
    جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا

    شاعر اپنی خستہ حالی اور بے سروسامانی کا آظہار اور اعتراف کرتے ہوئے اپنے ستمگر سے یہ کہ رہا ہے کہ میرے گھائل اور زخمی دل کا ریزہ ریزہ گم ہوچکا ہے اس میں اپنے ستم کا تیر چلاکر اس تیر کو ضایع کرنے سے کیا فائدہ ہے .
    اس کے بعد شاعر اپنے ستم گر سے یہ بھی کہ رہا ہے کہ جو بچے ہوئے پتھر باقی رہ گئے ہیں انہیں سمیٹ کر محفو ظ کرلو اس لیے کہ مرے تن داغ داغ کو تو میں نے لُٹاہی دیا ہے اور اس میں اب مزید پتھر کھانے کی گنجائش ہی نہیں ہے .
    …..
    میری یہ تشریح ممکن ہے کہ پڑھنےوالے قبول نہ کریں اور اس کو رد کرکے اپنی طرف سے فیض کے اس شعر کی کوئی قابلِ فہم اور قابل قبول تشریح لکھ دیں .
    مگر مجھے امید نہیں کہ کوئی بھی مبصر اس بلاگ کو پڑھنے کی زحمت گوارا کرے گا .اس لیے میں نایاب صاحب کے سوال کو اور میرے اپنے تبصرے کو کسی موجودہ بلاگ میں منتقل کررہا ہوں تاکہ کوئی دانشور نایاب صاحب کا اس سے بہتر جواب دے سکے.

    فقط:
    خیر اندیش
    منظور قاضی
    جرمنی سے
    نوٹ:
    نایاب صاحب کےنام پر شاد عظیم آبادی کا یہ شعر یاد آیا کہ :

    ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
    تعبیر ہے جس کی حیرت و غم ،اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

  31. جیسا کہ میں اپنے مندرجہ بالا تبصرے میں لکھا ہوں ، میں نے نایاب صاحب کا سوال اور میرا جواب دونون کو آصف احمد بھٹی صاحب کے موجودہ بلاگ بعنوان “ اردو شاعری میں محاوروں کا استعمال “ میں منتقل کردیا ہوں تاکہ ان تبصروں کو پڑھنےوالے آسانی سے پڑھ سکیں۔
    اگر ایسا نہ کرتا تو نایاب صاحب کے سوال اور میرے جواب کو پڑھنے کے لیے مسلسل گذشتہ کے بلاگوں کو کلک کرکے اس بلاگ کو ڈھونڈنا پڑتا جو وقت ضایع کرنے والا کام ہے۔
    ممکن ہے کہ آئیندہ کبھی عالمی اخبار کی انتظامیہ بلاگوں کو اسی طرح محفوظ رکھنےکا طریقہ اختیار کرے جس طرح کالموں کو ا ور شاعری کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے ۔اگر ایسا ہوا تو میرے تمام بلاگ ایک جگہ محفو ظ ہوجائینگے اور اسی طرح دوسرے بلاگ نویسوں کے بلاگ بھی ایک جگہ محفو ظ ہوجائنگے۔

  32. نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
    جو لگ جائے ٹیلی فون تو کٹ جاتی ہیں تقدیریں

    نوٹ : یہ شعر اس وقت کہا تھا جب کراچی میں ٹیلے فون کا لگنا ایک عذاب سے کم نھیں تھا۔ اگر دادا فون لگنے کی درخواست دیتا تو پوتے کے گھر فون لگتا تھا۔
    سیدہ ناہید مجیب ظفر انوار حمیدی

  33. اب سے ٹھیک دو سال پہلے کا یہ بلاگ پتہ نہیں محترمہ ناہید مجیب ظفر انوار حمیدی صاحبہ نے کیسے ڈھونڈ نکالا اور اپنےتبصر ے سے اس بلاگ کو رونق بخشی : پتہ نہیں ان کو کراچی کے ٹیلی فون سسٹم کی صورت۔ حال سے متعلق یہ بات کہنے کی ضرورت کیوں اور کیسے پیش آئی ؟
    ہم محترمہ ناہید مجیب صاحبہ کی توجہ کاشکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس پرانے بلاگ کو اپنی تحریر سے زندہ کردیا ِ اگر وہ مزید کچھ لکھنا چاہتی ہیں تو ضرور ارشاد فرمائیں ؛

    شکریہ
    اس بلاگ کا ناظم
    منظور قاضی
    از میونخ ، جرمنی

  34. تقدیریں۔۔ ن
    نجانے کون اپنی دعاؤں میں یاد رکھتا ہے
    میں ڈوب جاتا ہوں سمندر اچھال دیتا ہے

  35. ڑ کے آگے ب لگنے سے بن جاتا ھے بڑ
    چوڑےچوڑے پتے جس کے لمپی لمبی جڑ

  36. آپ کا شکریہ بھائی ، جزا ک اللہ ، میں کووینا (کیلی فورنیا) میں ہوتی ہوں ۔

  37. یہ دل برا سہی لیکن سر بازار تو نہ کھ
    لیکن تو اس مکان میں کچھ دن رہا تو ھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *