حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے
”اےلوگو ماہ شعبان میرا مہینہ ہے اور ماہِ رمضان اللہ کا مہینہ ہے پس جو شخص ایک روزہ میرے مہینے میں رکھے بروزِ قیامت میں اس کی شفاعت کروں گا اور جو دو روزے رکھے گا اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے “۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص ماہِ شعبان میں کچھ صدقہ دے ، اگرچہ آدھا خرمہ ہی ہو تو اللہ تعالٰی اس کے چسم کو آتشِ جہنم پر حرام فرما ئے گا۔

اللہ کے حبیب اور آخری نبی نے فرمایا کہ رمضان اللہ پاک کا اور شعبان میرا مہینہ ہے۔
امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب ماہ شعبان کا چاندنموردار ہوتا تو امام زین العابدین علیہ السلام تمام اصحاب کو جمع کرتے اور فرماتے : اے میرے اصحاب !جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ یہ شعبان کا مہینہ ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ پس اپنے نبی کی محبت اور خداکی قربت کے لیے اس مہینے میں روزے رکھو۔ اس خدا کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں علی بن الحسین کی جان ہے، میں نے اپنے پدربزرگوار حسین بن علی علیہما السلام سے سنا۔ وہ فرماتے تھے میں اپنے والدگرامی امیرالمومنین علیہ السلام سے سنا کہ جو شخص محبت رسول اور تقرب خدا کے لیے شعبان میں روزہ رکھے توخدائے تعالیٰ اسے اپنا تقرب عطا کرے گا قیامت کے دن اس کو عزت وحرمت ملے گی اور جنت اس کے لیے واجب ہو جائے گی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شعبان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو شیطان اپنے لشکر کو اطراف عالم میں بھیجتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ اللہ کے بندوں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالٰی اس دن ملائکہ کو اطراف عالم میں بھیجتا ہے کہ میرے بندوں کو آج کے دن اچھی حفاظت میں رکھو اور ان کو نیکی کی طرف ارشاد کرو سب میرے بندے تمہاری وجہ سے نیک بخت ہوجائیں گے سوائے ان کے جو سکش اور متمرد ہوں اور شیطان کے گروہ سے ہوں گے۔
اور جب شعبان کی پہلی آتی ہے اللہ کریم جنت کے دروازوں کو کھل جانے کا حکم دیتا ہے اور وہ کھل جاتے ہیں اور طوبٰی کے درخت کو امر کرتا ہے اور وہ دنیا کے نزدیک اپنی شاخوں کو کردیتا ہے اس وقت اللہ کی طرف سے منادی ندا کرتا ہے کہ
اے اللہ کے بندو! یہ طوبٰی درخت کی شاخیں ہیں ان سے لپٹ جاؤ یہ تمہیں جنت کی طرف بلند کر لیں گی اور یہ زقوم کے درخت کی شاخیں ہیں ان سے ڈرتے رہو کہ یہ کہیں تم کو جہنم کی طرف نہ لے جائیں۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے فرمایا کہ مچھے اس ذات کی قسم ہے جس نے مچھے رسالت ہر مبعوث فرمایا جو شخص آج کے دن کسی نیکی اور اچھائی کو اپنائے گا تو وہ طوبٰی کے درخت کی شاخوں سے لپٹ گیا اور وہ اسے جنت کی جانب لے جائیں گی اور جو کسی برائی پر عمل پیرا ہو گا تو وہ زقوم درخت کی شاخون سے لپٹے گا اور وہ اس کو جہنم کی طرف کھینچ لے جائیں گی
(مفاتیح الجنان -۱۵۵)
اسی مہینے کی تیسری تاریخ کو نواسئہ رسول (ص) جگر گوشئہ بتول (س) فرزندِ علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام ، سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہے اس روز روزہ رکھے اور زیارت امام حسین(ع) پڑھنا باعث ثواب ہے
اسلام علی الحسین
وعلٰی علی ابن الحسین
وعلٰی اولاد الحسین
وعلٰی اصحابِ الحسین
http://www.youtube.com/watch?v=hbhbZo5o_dY&feature=related
http://www.youtube.com/watch?v=s8HwzYKR4MY&feature=related
http://www.youtube.com/watch?v=i1k_ns4Ost8&feature=fvwrel
requested to management please up load these vedios
http://www.youtube.com/watch?v=ko3eOlivbn4&feature=related
اچھے بھائ جعفر حسین سلامت رھیں شعبان کے مہینہ کو اس لیے بھی بہت فضلیت حاصل ھے کہ اسی ماہ معظم میں جگر گوشہ علی و بتول امام اعلی مقام شہید کربلا کی ولادت بھی ھے ،ولادت حضرت عباس علمدار کی ولادت جناب حضرت زینب علیہ اسلام کی ولادت با سعادت کا مبارک مہینہ شعبان معظم ھے
اور اس مبارک دن کے موقعے پر آپ سب کو مبارک و تہنیت پیش کرتی ھوں
حضرت عباس علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین تھا جن کا تعلق عرب کے ایک بہادر قبیلے سے تھا۔ حضرت عباس اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔
حضرت عباس علیہ السلام چار شعبان المعظم 26ھ کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام نے انھیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انھیں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت محبت تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔ روایت ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کی پیدائش کا مقصد ہی امام حسین علیہ السلام کی مدد اور نصرت تھا اور اھلِ بیت علیہم السلام کو شروع سے واقعہ کربلا اور اس میں حضرت عباس علیہ السلام کے کردار کا علم تھاحضرت علی ابن ابی طالب (ع) نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طالب کے مشورے سے جوانساب کے ماہر تھے ایک متقی اور بہادر قبیلے کی خاتون فاطمۂ کلابیہ سے عقد کیا اور اپنے پروردگار سے دعا کی کہ پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا عطا کرے جو اسلام کی بقاء کے لئے کربلا کے خونیں معرکہ میں امام حسین (ع) کی نصرت و مدد کرے چنانچہ اللہ نے فاطمۂ کلابیہ کے بطن سے کہ جنہیں حضرت علی علیہ السلام نے ام البنین کا خطاب عطا کیا تھا ، چار بیٹے امام علی کو عطا کردئے اور ان سب کی شجاعت و دلیری زباں زد خاص و عام تھی اور سبھی نے میدان کربلا میں نصرت اسلام کا حق ادا کیااور شہید ہوئے لیکن عباس (ع) ان سب میں ممتاز اور نمایاں تھے کیونکہ خود حضرت علی علیہ السلام نے ان کی ایک خاص نہج پر پرورش کی تھی ۔
ابتدائی زندگی
حضرت علی علیہ السلام نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ حضرت علی علیہ السلام سے انھوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصا´ علم فقہ حاصل کئے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدر کہلانے لگے۔ حضرت عباس علیہ السلام بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور و مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصو صاً کربلا کے لئے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لئے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگیا ہے اور اسی لئے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے ۔
جنگ صفین
جنگ صفین حضرت علی علیہ السلام اور شام کے گورنر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان مئی۔جولائی 657 ء میں ہوئی۔ اس جنگ میں حضرت عباس علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کا لباس پہنا اور بالکل اپنے والد علی علیہ السلام کے طرح زبردست جنگ کی حتیٰ کہ لوگوں نے ان کو علی ہی سمجھا۔ جب علی علیہ السلام بھی میدان میں داخل ہوئے تو لوگ ششدر رہ گئے ۔ اس موقع پر علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے عباس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ عباس ھیں اور یہ بنو ھاشم کے چاند ھیں۔ اسی وجہ سے حضرت عباس علیہ السلام کو قمرِ بنی ھاشم کہا جاتا ھے۔
ضریح روضہ عباس
واقعہ کربلا اور حضرت عباس علیہ السلام
واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قراردیا۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 یازیادہ سے زیادہ سو افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے ذیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی ۔ کربلامیں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انھیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے : ”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پرفائز ہوگئے آپ نےبڑ اہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپناحق ادا کر گئے“ ۔
روضۂ عباس
شہادت
10 محرم کو امام حسین علیہ السلام نےان کو پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی سکینہ بنت الحسین کے لئے پانی لانے کا حکم دیا مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انھوں نے اپنے دونوں ھاتھ کٹوا دیئے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندا نِ رسالت پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ھوا ویسے ہی حضرت ابوالفضل العباس کے ساتھ ہوا۔ ان کا سر کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔ [1] ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے۔
ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے۔
گوگل سرچ سے استفادہ کیا ھے
ماہ رجب المرجب کی مانند ماہ شعبان المعظم بھی افق امامت و ولایت پر کئی آفتابوں اور ماہتابوں کے طلوع اور درخشندگی کا مہینہ ہے ۔
اس مہینے میں بوستان ہاشمی و مطلبی اور گلستان محمدی و علوی کے ایسے عطر پذیر و سرور انگیز پھول کھلے ہیں کہ ان کی مہک سے صدیاں گزرجانے کےبعد بھی مشام ایمان و ایقان معطر ہیں اور ان کی چمک سے سینکڑوں سال کی دوری کے باوجود قصر اسلام و قرآن کے بام و در روشن و منور ہیں ۔تین شعبان کو نواسۂ رسول امام حسین (ع) 4 شعبان کو تمنائے علی و بتول حضرت عباس 5 شعبان کو حسینی انقلاب کے پاسبان امام زین العابدین اور 15 شعبان المعظم کو بقیۃ اللہ الاعظم حجت حق امام مہدی موعود کا یوم ولادت ہے ۔ہم اپنے تمام سامعین کی خدمت میں ،مسرت و شادمانی سے معمور ، عید کی طرح روشن اور شب برائت کی طرح مزین مبارک و مسعود ایام کی مناسبت سے تہنیت و تبریک پیش کرتے ہیں ۔خاص طور پر حریت و آزادی کے علمبردار ،اسلام و قرآن کی سربلندی و سرافرازي کے پیغامبر سبط رسول الثقلین ، علی (ع) و فاطمہ (س) کے دل کا چین ، عالم اسلام کے نور عین حضرت امام حسین علیہ السلام کی عالم نور سے عالم ظہور میں آمد آپ سب کو مبارک ھو
وہاں تیسری کویہ دھوم تھی کہ امام تیسرا آگيا
وہ امام جس کے وجود کو کوئی آج تک نہ مٹا سکا
تین شعبان المعظم سنہ 4 ہجری چھ سو پینتیس عیسوی کو رسول اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیارے نواسے امام حسین (ع) کے نور وجود سے ” مدینۃ النبی ” کے بام و در روشن و منور ہوگئے ۔مرسل اعظم (ص) کی عظیم بیٹی حضرت فاطمہ زہرا (س) اور عظیم بھائی ،داماد اور جانشین علی ابن ابی طالب کے پاکیزہ گھر میں نسل نبوت و امامت کے ذمہ دار امام حسین (ع) کی آمد کی خبر سن کر پیغمبر اسلام (ص) کا دل شاد ہوگیا ،آنکھیں ماہ لقا کے دیدار کے لئے بیچین ہو اٹھیں ،فورا” بیٹی کے حجرے میں داخل ہوئے اور مولود زہرا (س) کو دیکھ کر لبوں پر مسرت کی لکیریں پھیل گئیں آغوش میں لے کر پیشانی کا بوسہ لیا اور فرزند کے دہن میں اپنی زبان دے دی اور اسالتمآب کا لعاب دہن فاطمہ (س) کے چاند کی پہلی غذا قرار پایا اور مرحوم نذیر بنا رسی کے بقول:
بظاہر تو زباں چوسی بباطن ابن حیدر نے
زباں دےدی پیمبر کو زباں لےلی پیمبر سے
جبرئيل امین نازل ہوئے خدا کی جانب سے خدا کے حبیب کو نواسے کی مبارک باد پیش کی اور کہا :اے اللہ کے رسول ! خدا نے بچے کا نام حسین (ع) قرار دیا ہے ،نام سنتے ہی رسول اعظم (ص) کی آنکھیں جھلملا اٹھیں بچے کو سینے سے چمٹالیا ،بیٹی نے باپ کی طرف سوالیہ نگاہوں سےدیکھا تو رسول اسلام (ص) نےامین وحی کی زبانی حسین (ع) کا صحیفۂ شہادت نقل کردیا اور بخشش امت کے وعدے پرحسین (ع) کی ماں کو راضي کرلیا ۔علی (ع) و فاطمہ (س) کا چاند چھ سال تک آفتاب نبوت و رسالت کے ہالے کی شکل میں نانا کے ساتھ ساتھ رہا اور تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مدینۂ منورہ میں نانا اور نواسے کی محبت ضرب المثل بن گئی اور ایسا کیوں نہ ہوتا ،جبکہ حسین (ع) مشیت الہی کا محور اور پیغمبر اسلام (ص) کی دلبر کے دلبر تھے ۔حسین (ع) کی شان میں قرآن حکیم رطب اللسان اور ان سے اسلام و ایمان سربلند و ذیشان ہے ،حسین (ع) نورٌ علیٰ نور کی تفسیر نورالنور کی تنویر ، مجسمۂ رسالت کی تصویراور مکمل نبوت کی تعبیر ہے، حسین (ع) قرآن مجید کی تحریر ،دین الہی کی شمشیر ،انوار ولایت کی تکبیر اور اسرار امامت کی تشہیر ہے، حسین (ع) نورنگاہ نبوت ،جگرگوشۂ عصمت ، جلوہ نمائے ولایت اور قوت اسلام و شریعت ہے ،حسین (ع)آسمان شہادت کا آفتاب ، افق ہدایت کا ماہتاب، گلشن توحید کا سرخ گلاب اور خزانۂ اسلام کا گوہر نایاب ہے ۔چنانچہ خداوند عالم نے اپنی کتاب محکم و مستحکم قرآن مجید میں مختلف عنوانوں سے امام حسین (ع) کا تعارف کرایا ہے جیسا کہ صحاح ستّہ کے محدثین نے اپنی اپنی صحیحوں میں لکھا ہے کہ جب ” اصحاب کساء ” رسول اعظم (ص) کے ساتھ چادر تطہیر میں جمع ہوگئے رسول اسلام (ص) نے علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیہم السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :
اَللّہُمّ ہٰؤلاء اَہلُ بَیتی فَاذہب عَنہُمُ الرّجس وَ طَہّرہُم تطہیرَا”خدایا یہ میرے اہل بیت ہیں پس ان کو ہر قسم کی آلائش سے پاک و پاکیزہ قراردے دے ،اس وقت آیۂ تطہیر نازل ہوئی اور اہل بیت علیہم السلام منجملہ حضرت امام حسین (ع) کی عصمت و طہارت کا خدا نے اعلان کردیا،اسی طرح آیۂ مباہلہ کے ذیل مین مفسرین کا اجماع ہے کہ اس میں : “ابنائنا ” سے مراد امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ہیں جن کو خداوند عالم نے” رسول اسلام کے بیٹے ” قراردیا ہے ۔اور آیۂ مودت کے بارے میں مفسرین اہل سنت نے بھی لکھا ہے کہ یہ آیت علی (ع) و فاطمہ (س) اور حسن (ع) و حسین (ع) کی شان میں نازل ہوئي ہے چنانچہ امام بخاری اور امام مسلم نے صحیحین میں اور ثعلبی و طبرسی نے اپنی تفاسیر میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ آیۂ مودت نازل ہوئي تو اصحاب نے حضور (ص) سے سوال کیا آپ کے قرابتدار کون ہیں تو حضرت نے فرمایا : علی وَ فَاطمہ وَ اَبنَاہُمَا علی (ع) و فاطمہ (س) اور ان کے دو نوں بچے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی جگہ جگہ امام حسین (ع) کی شخصیت کا تعارف کرایا ہے :صحیح ترمذی میں یعلی ابن مرہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم (ص) نے فرمایا ہے : ” حسین منی و انا من الحسین احب اللہ من احب حسینا” حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں اور خدا اس کو دوست رکھتا ہے جو حسین (ع) کو دوست رکھتا ہے ۔اسی طرح سلمان فارسی سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم کو کہتے سنا ہے حسن و حسین میرے بیٹے ہیں جس نے ان سے دوستی کی میرا دوست ہے اور جس نے ان سے دشمنی کی وہ میرا دشمن ہے بہرحال ، امام حسین (ع) کی شخصیت سے رفتار و کردار کی جو شعاعیں پھوٹی ہیں آج بھی الہی مکتب کی فکری ،اخلاقی اور تہذیبی حیات کی اساس ہیں اور نہ صرف عالم اسلام بلکہ پورا عالم بشریت حسینیت کی مشعل سے فروزاں ہے عبادت و بندگی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ وضو کرتے تھے تو بدن میں تھرتھری پیدا ہوجاتی تھی کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو امام حسین (ع) نے فرمایا : حق یہی ہے کہ جو شخص کسی قومی و مقتدر حاکم کی بارگاہ میں کھڑا ہو اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑجائے اور جسم کے بند بند کانپ اٹھیں ۔ شب عاشورا ، عبادت کے لئے دشمنوں سے ایک شب کی مہلت مانگی توکسی نے اس کی وجہ پوچھی اس وقت آپ نے فرمایا : چاہتا ہوں آخری رات پروردگار کی عبادت میں گزاروں اور استغفار کروں وہ جانتا ہے میں کس قدر نماز کا عاشق ہوں اور قرآن کی تلاوت پسند کرتا ہوں اور زيادہ سے زيادہ دعاؤ استغفار کرنا چاہتا ہوں ۔دوسری جانب خدا کے بندوں کے ساتھ آپ کے کریمانہ اخلاق و رفتار کا یہ عالم تھا کہ اس میدان میں بھی امام حسین (ع) کی شخصیت نمونہ و مثال نظر آتی ہے ۔چنانچہ ایک دن کچھ فقیروں اور ناداروں کے درمیان سے گزرے سب کےسب زمین پر بیٹھے پتھروں سے ٹیک لگائے سوکھی روٹیاں کھانے میں مشغول تھے ۔انہوں نے نواسۂ رسول (ص) کوسلام کیا اور جواب سلام کےبعد اپنے ساتھ کھانے میں شرکت کی دعوت دی۔امام حسین علیہ السلام ان کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا : اگر تمہاری یہ خوراک صدقہ نہ ہوتی تو میں ضرور تمہارے ساتھ یہ روٹیاں کھاتا اور پھر ان سے خواہش کی : ” قوموا الی منزلی ” اٹھو اور میرے ساتھ میرے گھر چلو ،اور ان سب کو گھر لائے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور سیر و سیراب کرنے کے بعد انہیں لباس پہنایا اور کچھ نقد درہم دے کر رخصت کیا ۔اسی طرح حضرت علی (ع) کی ظاہری حکومت کا زمانہ ہے دارالحکومت کوفہ میں ، ایک مدت سے بارش نہ ہونے کے سبب اہل کوفہ پریشان و مضطرب ہیں ، امام کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے امیرالمومنین سے کہتے ہیں ،مولا ! ہمارے لئے خداوند متعال سے باران رحمت کی دعا فرمائیں کہ ہم اس کی برکتوں سے استفادہ کرسکیں ۔رسول اسلام (ص) کے محبوب نواسے امام حسین علیہ السلام اس وقت وہاں موجود تھے حضرت علی (ع) نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : “بیٹے اٹھئے اور خداوند متعال سے دعا کیجئے کہ وہ ان لوگوں پر اپنی بارش رحمت نازل فرمائے ۔”امام حسین (ع) اٹھے اور زیر آسمان ہاتھ پھیلا دئے اور حمد و ثنائے الہی اور محمد و آل محمد علیہم السلام پر درود و سلام کے بعد فرمایا : اے ہم سب کے پروردگار! اے نیکیاں عطا کرنے اور برکتیں نازل کرنے والے ہم کو باران آسمانی سے سیراب کردے ،ایسی بارش ،جو فراواں ، مسلسل ، وسیع سطح پر ٹوٹ کر برسے جھماجھم ، موسلادھار ، خشک و تشنہ زمینوں کا سینہ چاک کردینے والی بارش کے ذریعے اپنے کمزور و ناتواں بندوں کی دستگیری فرما اور مردہ زمینوں کو نئی زندگی عطا کردے ۔آمین یا رب العالمین ،ابھی امام حسین (ع) کی یہ دعا پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ یکایک بادل اٹھا اور شہر کوفہ اوراس کے اطراف میں رحمت الہی کی اس طرح جھوم جھوم کے بارش ہوئی کہ تمام کوہ و دشت سیراب ہوگئے ۔ان واقعات سے آپ کے تواضع و انکساری نیز بارگاہ الہی میں تقرب و منزلت کا صاف پتہ چلتا ہے کہ آپ کس قدر خدا کے محبوب اور مردم دوست تھے اور آپ کا وجود کس طرح خدمت دیں اور خدمت خلق کے جذبوں سے معمور تھا شعیب ابن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ روز عاشورا لوگوں نےامام حسین (ع) کی پشت پر گھٹے کے نشان دیکھے تو امام زين العابدین علیہ السلام سے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا : یہ نشان بیواؤں ، یتیموں اور مسکینوں کے گھروں تک نان و خرما پیٹھ پر لادکر لے جانے کے سبب ہے ۔یہی وجہ ہے شافعی مسلک کے ایک بڑے عالم ابن کثیر نے امام حسین (ع) کے مقام و منزلت کا ذکر کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ رسول اسلام (ص) امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کو محترم سمجھتے تھے اور ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے لہذا کمسنی کے باوجود دونوں کا پیغمبر (ص) کے صحابیوں میں شمار ہوتا تھا وہ مرتے دم تک ان کے ساتھ محشور و مصاحب تھے رسول اسلام (ص) بھی ان سے پوری طرح راضي تھے ،پیغمبر (ص) کے بعد ابوبکر و عمر و عثمان بھی ان کا احترام کرتے رہے اور خلفائے ثلاثہ کے بعد دونوں اپنے باپ کے صحابیوں میں شامل تھے اور ان سے حدیثیں روایت کرتے تھے اور تمام حالات میں حضرت علی (ع) کے ساتھ ساتھ رہے ۔اس کے بعد لکھتے ہیں : امام حسین (ع) تمام لوگوں کے درمیان عظمت و احترام کے حامل تھے لوگ ان سے بہت عشق و علاقہ رکھتے تھے کیونکہ وہ پیغمبر (ص) کے فرزند تھے اور روئے زمین پر کوئی ان کے جیسا نہ تھا ۔شاعر مشرق علّامہ اقبال نے بجا طور پر کہا ہے :
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
موت کےسیلاب میں ہرخشک و تر بہہ جائے گا
ہاں مگر نام حسین (ع)ابن علی (ع) رہ جائےگا
حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذاتی کمالات
وہ منفردصفات کمالات جن سے ابو الاحرارامام حسین کی شخصیت کو متصف کیا گیا درج ذیل ہیں :
١۔قوت ارادہ
ابو الشہدا کی ذات میں قوت ارادہ ،عزم محکم و مصمم تھا،یہ مظہر آپ کو اپنے جد محترم رسول اسلام سے میراث میں ملا تھا جنھوں نے تاریخ بدل دی ،زندگی کے مفہوم کو بدل دیا،تنہا ان طوفانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے جو آپ کو کلمہ لاالٰہ الّا اللّٰہ کی تبلیغ کرنے سے روکتے تھے ، آپ نے ان کی پروا کئے بغیر اپنے چچا ابو طالب مو من قریش سے کہا :”خدا کی قسم اگر یہ مجھے دین اسلام کی تبلیغ سے روکنے کے لئے داہنے ہاتھ پر سورج اور با ئیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں گے تو بھی میں اسلام کی تبلیغ کرنے سے باز نہیں آؤ نگا جب تک کہ مجھے موت نہ آئے یا اللہ کے دین کو غلبہ حاصل نہ ہو جائے ۔۔۔”۔
پیغمبر اسلام ۖ نے اس خدا ئی ارادہ سے شرک کا قلع و قمع کردیااور وقوع پذیر ہونے والی چیزوں پر غالب آگئے ،اسی طرح آپ کے عظیم نواسے امام حسین نے اموی حکومت کے سامنے کسی تردد کے بغیر یزید کی بیعت نہ کر نے کا اعلان فر مادیا،کلمہ حق کو بلند کرنے کیلئے اپنے بہت کم ناصرو مددگار کے ساتھ
…………..
١۔الاصابہ ،جلد ١،صفحہ ١٨٧۔حیاة الامام الحسین ، جلد ١،صفحہ ٤٢٩۔
میدان جہاد میں قدم رکھااور کلمہ ٔ باطل کو نیست و نابود کر دیا جبکہ امویوں نے بہت زیادہ لشکر جمع کیا تھا وہ بھی امام کو اپنے مقصد سے نہیں رو ک سکا،اور آپ نے اس زندئہ جا وید کلمہ کے ذریعہ اعلان فر مایا : ”میں موت کوسعادت کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھتا ،اور ظالموں کے ساتھ زند گی بسر کرنا ذلت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔۔۔ ” ۔(اور آپ ہی کا فرمان ہے ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے )۔
آپ پرچم اسلام کو بلند کر نے کیلئے اپنے اہل بیت خاندان عصمت و طہارت اور اصحاب کے ساتھ میدان میں تشریف لائے اور پرچم اسلام کو بلند کرنے کی کوشش فرمائی ،امت اسلامیہ کی سب سے عظیم نصرت اور فتح دلائی یہاں تک کہ خود امام شہید ہوگئے ،آپ ارادہ میں سب سے زیادہ قوی تھے آپ پختہ ارادہ کے مالک تھے اور کسی طرح کے ایسے مصائب اور سختیوں کے سامنے نہیں جھکے جن سے عقلیں مدہوش اورصاحبانِ عقل حیرت زدہ ہوجاتے ہیں ۔
٢۔ظلم و ستم (و حق تلفی) سے منع کرنا
امام حسین کی ایک صفت ظلم و ستم سے منع کر نا تھی اسی وجہ سے آپ کو (ابو الضیم ) کا لقب دیا گیا، آپ کا یہ لقب لوگوں میں سب سے زیادہ مشہورو منتشر ہوا،آپ اس صفت کی سب سے اعلیٰ مثال تھے یعنی آپ ہی نے انسانی کرامت کا نعرہ لگایا،اور انسانیت کو عزت و شرف کا طریقہ دیا،آپ بنی امیہ کے بندروں کے سامنے نہیں جھکے اور نیزوں کے سایہ میں موت کی نیند سوگئے ،عبد العزیز بن نباتہ سعدی کا کہنا ہے :
والحسینُ الذی رأ ی الموت ف العز
حیاةً وَالعیشَ ف الذلِّ قتلا
”یعنی حسین وہ ہیں جنھوں نے عزت کی موت کو زندگی اورذلت کی زندگی سے بہتر سمجھا ہے ”۔
مشہور و معروف مورّخ یعقوبی نے آپ کوشدید العزّت کی صفت سے متصف کیا ہے (١)۔
ابن ابی الحدید کا کہنا ہے :سید اہل اباء حضرت ابا عبد اللہ الحسین جنھوں نے لوگوں کو حمیت و غیرت کی تعلیم اور دنیوی ذلت کی زند گی کے مقابلہ میں تلواروں سے کٹ کر مرجانے کا درس دیا انھیں اور آپ کے اصحاب کو امان نامہ دیا گیا لیکن آپ نے ذلت اختیار نہیں فر ما ئی ،امام کو اس بات کا اندیشہ لا حق ہوا کہ ابن زیاد
…………..
١۔تاریخ یعقوبی، جلد ٢،صفحہ ٢٩٣۔
آپ کو قتل نہ کر کے ایک طرح کی ذلت سے دوچار کردے جس کی بنا پر جان فدا کرنے کو ترجیح دی ۔
ابو یزید یحییٰ بن زید علوی کا کہنا ہے :میرے والد ابو تمام نے محمد بن حمید طائی کے سلسلہ میں کہا ہے کہ انھوں نے تمام اشعار امام حسین کی شان میں کہے ہیں :
وقد کان فوت الموت سھلاً فردّہ
الیہ ِ الحفاظ المُرُّ وَالخُلُقُ الْوَعْرُ
وَنَفْسُ تعافُ الضَّیْمَ حتیّٰ کأنّہُ
ھُو الکُفرُ یومَ الرَّوْعِ أَو دُونَہ الکُفرُ
فَأَثبت فی مستنقعِ الموتِ رِجْلَہُ
وَقَالَ لَھَا مِنْ تَحْتِ أَخمصکِ الحشْرُ
تردّیٰ ثِیَابَ الموْتِ حُمْراً فَمَا اَتیٰ
لَھَااللَّیْلُ اِلَّاوھی من سُنْدُسٍ خُضْرُ (١ )
”آپ کے لئے مارے جانے سے بچنا آسان تھا لیکن آپ نے اس سے انکار کردیا ۔
آپ نے نہایت مشکل کے ساتھ دین اسلام کی حفاظت کی ،اور خوش اخلاقی کے ساتھ بچایا ۔
آپ کا نفس ذلت قبول کرنے پرآمادہ نہ ہوا آپ کے نزدیک ذلت قبول کرناکفر یا کفر کی منزل میں تھا ”۔
آپ نے خندہ پیشانی سے شہادت کا استقبال کیا۔
آپ نے سرخ موت کا لباس پہنا جبکہ یہ لباس بعد میں سبز رنگ میں تبدیل ہوگیا ” ۔
”ابوالاحرار”سرور آزادگان نے لوگوں کو ظلم کی مخالفت اور قربانی پیش کر نے کی تعلیم دی مصعب بن زبیر کا کہنا ہے کہ امام نے ذلت کی زندگی پر عزت کی موت اختیار فر ما ئی ۔(٢)اس کے بعد یہ مثال بیان کی :
واِنَّ الاُلیٰ بالطَّفِّ من آل ھاشم
تاسوافسنّوالِلکِرامِ التَّآسیا
”کربلا میں بنی ہاشم نے فدا کاری کی اور نیک صفت افراد کیلئے فدا کاری کی رسم رائج کی ”۔
روز عاشورہ آپ کی تقریریں اتنی حیرت انگیز تھیں جن کی مثال عزت و بلندی نفس اور دشمن کا منھ توڑجواب دینے کے متعلق عربی ادب میں نہیں ملتی:”آگاہ ہوجائو بیشک ولد الزنا ابن ولد الزنا نے مجھے شہادت
…………..
١۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد ٣، صفحہ ٢٤٩۔
٢۔تاریخ طبری ،جلد ٦،صفحہ ٢٧٣۔
اور ذلت کے مابین لا کر کھڑا کردیا ،ہم ذلت سے دور ہیں ،اللہ ،اس کا رسول اور مو منین ذلت سے انکار کرتے ہیں ،ان کی پاک و پاکیزہ آغوش ،ان کی غیرت و حمیت کمینوں کی اطاعت کو بزرگوں کی شہادت پر ترجیح دینے سے انکار کر تی ہے ”۔
آپ روز عاشورہ اموی لشکر کے بھیڑیا صفت درندوں کے درمیان ایک کوہ ہمالیہ کی مانند کھڑے ہوئے تھے اور آپ نے ان کے درمیان عزت و شرافت ،کرامت و بزرگی ،ظلم و ستم کی مخالفت سے متعلق عظیم الشان خطبے ارشاد فرمائے :”واللّٰہ لا اعطیکم بیدی اِعطائَ الذَّلِیْلِ،ولااَفِرُّ فِرارالعبیدِ،اِنی عذت بربی وربِّکُمْ اَنْ ترجُمُوْنَ۔۔۔”۔
امام کی زبان سے یہ روشن و منور کلمات اس وقت جاری ہوئے جب آپ کرامت و بلندی کی آخری حدوں پر فا ئز تھے جس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے اور ان کلمات کو تاریخ اسلام نے ہر دور کے لئے ایک زندہ و پا ئندہ شجاعت اور بہا دری کے کارناموں کے طور پر اپنے دامن میں محفوظ رکھاہے ۔
شعرائے اہل بیت نے اس واقعہ کی منظر کشی کے سلسلہ میں مسابقہ کیا لہٰذا ان کے کہے ہوئے اشعار، عربی ادب کے مدوّن مصادرمیں بہت قیمتی ذخیرہ ہیں، سید حیدر حلی نے اس دا ئمی واقعہ کی منظر کشی کرتے ہوئے اپنے جد کا یوںمرثیہ پڑھا:
طَمَعَتْ اَنْ تَسُوْمَہُ الْقَوْمُ ضَیْماً
وابیٰ اللّٰہُ وَالحُسَامُ الصَّنِیْعُ
کیفَ یلویْ علیٰ الدَّنِیَّةِ جِیِّداً
لِسَوَ ی اللّٰہِ مَا لَوَا ہُ الخُضُوْعُ
وَلَدَیْہِ جَأْ شُ اَرَدُّ مِنَ الدِّرْعِ
لِظَمأ ی الْقَنَا وَ ھُنَّ شُرُوْعُ
وَبِہِ یَرْجِعُ الْحِفَاظُ لِصَدْرٍ
ضَاقَتِ الْاَرْضُ وَھَِ فِیْہِ تَضِیْعُ
فَاَبیٰ اَنْ یَعِیْشَ اِلَّا عَزِیْزاً
فَتَجَلّیَ الْکِفَاحُ وَھُوَ صَرِیْعُ(١)
”ستم پیشہ لوگ چا ہتے تھے کہ حسین اپنی غیرت کا سودا کر لیں جبکہ خدا اور شمشیر حسینی کا یہ منشأ نہیں تھا
بھلا حسین کس طرح ذلت قبول کر لیتے جبکہ آپ غیر خدا کے سامنے کبھی نہیں جھکے تھے۔
آپ کے پاس سپر سے زیادہ مضبوط ہمتِ قلبی تھی وہ ابتدا سے ہی اس طرح جنگ کرتے تھے جس
…………..
١۔دیوان سید حیدر،صفحہ ٨٧۔
طرح پیاسا پانی کی طرف دوڑ کر جا رہا ہو ۔
زمین کے تنگ ہونے کے باوجود آپ کا سینہ کشادہ تھا۔
آپ عزت کی زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے جس کی وجہ سے آپ نے راہ حق میں جان پیش کر دی ”
نفس کے کسی چیز کے انکار کر نے کی اس سے اچھی نقشہ کشی نہیں کی جاسکتی جو نقشہ کشی سید حیدر نے اموی حکومت کے امام حسین کی اہانت ،ان کو اپنے ظلم و جورکے سامنے جھکانے کے سلسلہ میں کی ہے لیکن یہ خدا کی مرضی نہیں تھی بلکہ خدا یہی چا ہتا تھا کہ آپ کوایسی عظیم عزت سے نوازے جو آپ کو نبوت سے وراثت میں ملی تھی اور آپ اسی بلند مقام اور مرتبہ پر باقی رہیںاسی لئے آپ نے اللہ کے علاوہ کسی کے سامنے سر نہیںجھکایاتوپھرآپ بنی امیہ کے کمینوں کے سامنے کیسے سر جھکاتے ؟اور ان کی حکومت وسلطنت آپ کے عزم محکم کوکیسے ڈگمگا سکتی تھی ۔آپ کا بہترین شعر ہے :
وَبِہِ یَرْجِعُ الْحِفَاظُ لِصَدْرٍ
ضَاقَتِ الْاَرْضُ وَھَِ فِیْہِ تَضِیْعُ
شاعر کی اس تعبیر سے بڑھ کر کیا کو ئی اور تعبیر امام کی غیرت کو بیان کر سکتی ہے ؟اس شاعر نے تمام توانائیوں کو امام کے سینہ سے مختص کیا ہے زمین وسیع ہونے کے باوجود امام کے عزم و ارادہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی، اس شعر میں الفاظ بھی زیبا ہیں اور طبیعت انسا نی پر بھی بار نہیں ہیں ۔
مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ کیجئے جن میں امام حسین کے انکار کی توصیف کی گئی ہے سید حیدر کہتے ہیں :
لقد ماتَ لکنْ مِیتَةُ ھاشمِیَّةً
لَھُمْ عُرِفَتْ تحتَ القنَا المُتَفَصِّدِ
کَرِیْمُ اَبِیْ شَمَّ الدَّنِیَّةِ اَنْفُہُ
فَاَشْمَمَہُ شَوْکَ الْوَسِیْجِ الْمُسَدَّدِ
وَقَالَ قِفِیْ یَا نَفْسُ وَقْفَةَ وَارِد
حِیاضَ الرَّدیٰ لَا وَقْفَةَ الْمُتَرَدِّدِ
رأی اَنَّ ظَھَرَ الذُلِّ اَخْشَنُ مَرْکَباً
مِنَ الْمَوْتِ حیثُ المَوتُ مِنْہُ بِمَرْصَدِ
فَاَثَرَ اَنْ یسعیٰ علیٰ جَمْرَةِ الوَغیٰ
بِرِجلٍ ولَا یُعْطِ المُقَادَةَ عَنْ یَد( ١ )
” امام حسین مارے تو گئے لیکن ہا شمی انداز میں ،ان کا تعارف ہی نیزہ و شمشیر کوچلانے سے پسینہ میں شرابور ہوجانے سے ہوا ۔آپ کریم تھے اسی لئے آپ نے ذلت قبول کرنے سے انکار کردیا۔
…………..
١۔دیوان سید حید ر،صفحہ ٧١۔
اسی لئے آپ کو مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔
آپ نے اپنے نفس سے مخاطب ہو کر فرمایااے نفس وا دی ہلاکت میں جانے سے رُک جا البتہ شک کرنے والے کے مانند مت رُک۔
آپ نے مشاہدہ کیا کہ مو ت کے مقابلہ میں ذلت قبول کرنازیادہ سخت ہے جبکہ موت آپ کے انتظار میں تھی ۔
اس وقت آپ نے خاردار راہوں میں پیدل چلنا گوارا کیالیکن اپنا اختیار ظالم کے ہاتھ میں دینا پسند نہیں کیا ”۔
ہم نے ان اشعار سے زیادہ دقیق اور اچھے اشعار کا مطالعہ نہیں کیا،یہ اشعار امام کی غیرت اور عظمت نفس کو خو بصورت انداز میں بیان کر تے ہیں امام نے ذلت کی زندگی کے مقابلہ میں تلواروں کے سایہ میں جان دینے کو ترجیح دی اور اس سلسلہ میں آپ نے اپنے خاندان کے اُن شہداء کا راستہ اختیار فرمایاجو آپ سے پہلے جنگ کے میدانوں میں جا چکے تھے ۔
سید حیدر نے امام حسین کے انکار کی صفت کا یوں نقشہ کھینچا ہے کہ آپ نے پستی ،ظلم و ستم اور دوسروں کی حق تلفی کا انکار کیا ،تیروں اور تلواروں میں ستون کے مانند کھڑے ہوگئے ، کیونکہ ایسا کرنے میں غیرت و شرف و بزرگی محفوظ تھی اور اسی عمدہ صفت کا سہارا لیتے ہوئے سید حیدر نے امام کے انکار کی نقشہ کشی کی ہے ، وہ غیرت جو آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہو ئی تھی جیسا کہ دوسرے شاعروں میں بھی بھری ہو ئی تھی اور یہ بات یقینی ہے کہ آپ نے اس سلسلہ میں تکلف سے کام نہیں لیا بلکہ حقیقت بیان کی ہے ۔
سید حیدر نے درج ذیل دوسرے اشعار میں امام حسین کے اس انکار اور آپ کی بلندی ٔذات کو بیان کیا ہے اور شاید یہ امام کے سلسلہ میں کہا گیا بہترین مرثیہ ہو :
وَسامتہُ یرکبُ احدَی اثنتینْ
وقد صرَّتِ الحربُ اسنانھا
فَاِمَّا یُریٰ مُذْعِناًاَوْ تموتَ
نَفسُ ابی العزُّ اِذْعَانَھَا
فقالَ لھا اعْتَصِمِیْ بِالاِبَائْ
فَنَفْسُ الاَبِیَّ ومَا زَانَھَا
اِذَا لَمْ تَجِدْ غَیْرَ لِبْسِ الھَوَان
فَبِالْمَوْتِ تَنْزِعُ جُثْمَانَھَا
رَأَ القَتْلَ صَبْراً شَعَارَالکِرَامْ
وَفَخراً یَزِیْنُ لَھَا شَانَھَا
فَشَمَّرَ لِلْحَرْبِ فِیْ مَعْرَکٍ
بِہِ عَرَکَ الْمَوْتُ فُرْسَانَھَا ( ١)
”اس وقت آپ نے خار دار راہوں میںپیدل چلنا پسند کیالیکن اپنا اختیار ظالم کے ہاتھوں دینا پسند نہیں کیا۔
جنگ کے میدان میں امام حسین نے محسوس کیا کہ یاذلت محسوس کر نا پڑے گی یا عزت کے ساتھ جام شہا دت نوش کرنا پڑے گا۔
اس وقت آپ نے عزت و غیرت کا دامن تھا منے کا فیصلہ کیا ۔
کیونکہ غیرت مند انسان کو جب ذلت کا سامنا کر ناپڑجائے تو وہ اپنے لئے موت اختیار کرلیتا ہے آپ نے شہادت کو بزرگوں کی عادت اور اپنے لئے فخر محسوس کیا۔
اسی لئے آپ نے جنگ کیلئے کمر کس لی موت اور گھوڑے سواروںکے سامنے سخت جان ہوگئے”۔
امام کی شان میں سید حیدر کے مرثیے امت عربی کی میراث میں بڑے ہی مشہور و معروف ہیں،ان میں نئی افکار کو ڈھالا گیا ہے ،ان کے اجزاء کو بڑی ہی دقت نظری کے ساتھ مرتب و منظم کیا گیا ہے جس سے ان کو چار چاند لگ گئے اور (ان کے ہم عصرلوگوں کا کہنا ہے )قصیدہ کے ہر شعر میں مخصوص طور پر امام کا تذکرہ کیا گیا ہے ،عام لوگ ان اشعار کی اصلاح نہیں کر سکتے اور ان اشعار کا ہر کلمہ کمال اور انتہاء تک پہنچا ہوا ہے ۔
3۔ شجاعت
بڑے بڑے صاحبان ِ فکر و نظرنے پور ی تاریخ میں ایسا شجاع اور ایسا بہادر انسان نہیںدیکھا ،امام حسین کی ذات با برکت تھی کربلا کے دن آپ نے وہ مو قف اختیار فر مایاجس سے سب متحیر ہو گئے ، عقلیں مدہوش ہو کر رہ گئیں ،نسلیں آپ کی شجاعت اور محکم عزم کے متعلق متعجب ہوکر گفتگو کرنے لگیں ،لوگ آپ کی شجاعت کو آپ کے والد بزرگوار کی شجاعت پر فوقیت دینے لگے جس کے پوری دنیاکی ہر زبان میں چرچے تھے ۔
…………..
١۔دیوان سید حیدر،صفحہ ٧١۔
آپ کے ڈر پوک دشمن آپ کی شجاعت سے مبہوت ہو کر رہ گئے ،آپ ان ہوش اڑا دینے والی ذلت و خواری کے سامنے نہیں جھکے جن کی طرف سے مسلسل آپ پر حملے کئے جارہے تھے ،اور جتنی مصیبتیں بڑھتی جا رہی تھیں اتنا ہی آپ مسکرا رہے تھے ، جب آپ کے اصحاب اور اہل بیت کا خاتمہ ہوگیا اور (روایات کے مطابق )تیس ہزار کے لشکر نے آپ پر حملہ کیا تو آ پ نے تن تنہا ان پرایسا حملہ کیا،جس سے ان کے دلوں پر آپ کا خوف اور رعب طاری ہو گیا ،وہ آپ کے سامنے سے اس طرح بھاگے جارہے تھے جس طرح شیرِ غضبناک(روایات کی تعبیر کے مطابق) کے سامنے بکری بھاگتی ہوئی دکھا ئی دیتی ہے ،آپ ہر طرف سے آنے والے تیروں کے سامنے جبل راسخ کی طرح کھڑے ہو گئے آپ کے وقار میں کو ئی کمی نہیں آئی ،آپ کا امر محکم و پا ئیدار اور مو ت کمزور ہو کر رہ گئی ۔
سید حیدرکہتے ہیں :
فَتَلقّی الجُمُوْعُ فَرداً ولٰکِنْ
کُلُّ عُضْوٍ فِی الرَّوعِ مِنْہُ جُمُوْعُ
رُمْحُہُ مِنْ بِنَائِہِ وَکَاَنَّ مِنْ
عَزْمِہِ حَدَّ سَیْفِہِ مَطْبُوْعُ
زَوَّ جَ السَّیْفَ بِالنُّفُوْسِ وَلٰکِنْ
مَھْرُھَالْمَوْتُ والخِضآبُ النَّجِیْعُ
”امام حسین نے گرچہ دشمنوں کی جماعت کا تنہا مقابلہ کیالیکن ہیبت کے لحاظ سے آپ کے بدن کا ہرحصہ کئی جماعتوں کے مانند تھا ۔
آپ کی انگلیوں کاپور پورنیزے کا کام کرتا تھااپنی بلند ہمت کی بنا پر آپ کو تلواروں کا مقابلہ کرنے کی عادت پڑگئی تھی ۔
آپ نے اپنی تلوار کے ذریعہ دشمنوں کی صفوں میں تباہی مچا دی ”۔
دوسرے اشعار میں سید حیدر کہتے ہیں :
رَکِیْن وَلِلْاَرْضِ تَحْتَ الْکُماة
رَجِیْفْ یُزَلْزِلُ ثَھْلَانَھَا
اَقَرُّ عَلیٰ الارضِ مِنْ ظَھرِھَا
اِذَامَلْمَلَ الرُّعْبُ اَقْرَانَھَا
تَزِیْدُ الطَّلَاقَةُ فِیْ وَجْھِہِ
اِذَاغَیَّرَالْخَوْفُ اَلْوَانَھَا
”حالانکہ زمین مسلسل تھر ا رہی تھی لیکن آپ مضبوطی کے ساتھ پُر سکون تھے ۔
شدید خوف کے مقامات پر بھی آپ کا چہرہ کھِلا ہوا تھا ”۔
جب ظلم و ستم و حق تلفی سے روکنے والے زخمی ہو کر زمین پر گرے اور خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ پر غش طاری ہو گیا تو پورا لشکر آپ کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے آپ کے پاس نہ آسکا ۔اس سلسلہ میں سید حیدر کہتے ہیں :
عفیراًمتی عا ینتہ الکُماة
یَخْتَطِفُ الرُّعْبُ اَلوانَھَا
فَما أَجَلَتِ الْحَرْبُ عَنْ مِثْلِہ
صَرِیْعاً یُجَبِّنُ شُجْعَانَھَا
”آپ زمین کربلا پر خاک آلود پڑے ہوئے تھے پھر بھی بڑے بڑے بہا در آپ کے نزدیک ہونے سے ڈر رہے تھے ”۔
آپ نے اپنے اہل بیت اور اصحاب کے لئے اس عظیم روح کے ذریعہ ایسی غذا کا انتظام کیا کہ وہ شوق اور اخلاص کے ساتھ مرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کر نے لگے اور انھوں نے اپنے دل میں کسی کے ڈر اور خوف کا احساس نہیں کیاخود ان کے دشمنوں نے ان کی پا ئیداری اور خوف نہ کھانے کی شہادت دی اور کربلا کے میدان میںعمر بن سعد کے ساتھ جس ایک شخص نے یہ منظر دیکھا اس سے کہا گیا وائے ہو تم پر تم نے ذریت رسول ۖکو قتل کر دیا؟
اسلام علیکم ساتھیو
شعبان کا مہینہ معظم ومکرم اور ہمارے پیارے نبی کا مہینہ ہے ۔
بے شمار برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ۔
علم سے بھر پور تحریریں ہیں اللہ آپ سب کو جزائے خیر عطا کرے آمین ۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری عبادات کو شرفِ قبولیت بخشے ۔اور ہمیں اپنی رحمتوں سے نواز دے آمین
عالم آرا