صد افسوس کہ پی پی پی کے پاس کو ئی متبادل سیاسیت داں ا نہیں جو سابقہ وزیر اعظم گیلانی سے اچھا کٹھ پتلی کا کردار نبھاہ سکے ۔ اور وقت پڑنے پر اپنی ڈوریاں کاٹ کر قربان بھی ہو سکے ۔ مقابلہ گھمسان کا پڑا تو کئی سرکاری تماشہ کرنے والے میدان میں اترے پر کوئی راجہ اشرف سے نہیں جیت سکا ۔ راجہ اشرف وہی ہیں جنہیں اپنے ملک کی انرجی پلانٹس کا نہیں پتہ اور نہ عوام کی گرمی سے سسکتی بلبلاتی زندگیوں کا جبھی تو 2009 کا وعدہ کیا تھا کہ کبھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی ۔۔۔ دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی راجہ صاحب ابھی بھی 2009میں اگست کے منتظر ہیں ۔۔۔
حیران ہوں انسانوں میں ایفائے عہد اور وطن پرستی کی لوڈ شیڈنگ کا کیا حل ہو ؟

اسلام علیکم ساتھیو
پیاری بہن نگہت اب تو یہ دعا کرو کہ اللہ ہم سب پر کرم کر دے کہ محترم سنا ہے وزیرَ اعظم کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں ۔ابھی تو یہ ہی لوڈ شیڈنگ ہے ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود ۔
اب جو لوڈ شیڈنگ پارلیمنٹ میں ہوگی اُس کے بارے میں سوچو ۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
عالم آرا
اے اہل ایمان قمر الزمان کائرہ اس لیئے امیدوار نہیں بنائے گئے کیونکہ وہ صدر کے مروجہ معیار پر پورے نہیں اترے کہ انکے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں ہے اور انکو سزا یافتہ کرپٹ کی تلاش ہے
ہم ایسی عظیم قوم ہیں کہ پنڈی میں خوشیاں منائی جا رہیں ہیں کہ راجہ پاور ہاؤس میں آ گیا ہے
یاد رہے پچھلے ایک مہینے سے پنڈی میں 18 سے 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے
اور کل حلف برداری کے بعد یہاں مٹھائیاں بانٹنے کا پور اہتمام ہے
آپ سے التماس ہے کہ وہ یہ “پرشاد” ضرور کھائیں
کہ وطن کا بھلا ہو . .
راجہ رینٹل سے رینٹل وزیر اعظم تک کا یہ سفر
خدا خیر کرے اب بجلی اور پانی کے بعد کس کی باری ہے
ایک عذاب ختم ہوا نہیں تھا کہ نیا عذاب آگیا
اسلام علیکم ساتھیو
بھائی اظہر الحق ہماری یہ ہی عظمتیں تو ہمیں یہ دن دکھا رہی ہیں کہ پاور ھاؤس پارلیمنٹ میں آگیا ہے اب تیار ہو جاؤ دیکھو کیا کیا رینٹ پر لینگے ۔
کرایہ دینے کو کمر کسو اگر ہے ہمت ۔عوام زندہ باد کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عوام کی طاقت حاصل ہے ۔
اے رب کرم کر دے آمین
عالم آرا
متحدہ قومی موومنٹ ،نے ایک کرپٹ آدمی راجہ پرویز اشرف۔۔۔کووزیر اعظم کے لیے کو کیوں نامزد کیا ؟؟
ایک طرف تو متحدہ حکومتی پارٹیوں کے ساتھ ملکر نئے وزیر اعظم کے نام کا اعلان کرتی ہے اور دوسری جانب وہ سندھ اسمبلی سے آئے دن حکومت کے خلاف واک آؤٹ بھی کرتی ہے ، ایک طرف متحدہ 98%غریب عوام کے ساتھ ہونے کا دعوی کرتی ہے اور جاگیرداروں کو میڈیا میں للکارتی ہے تو دوسری جانب وہ ملک کے سب سے بڑے جاگیردار زرداری کی ہر لوٹ مار اور کرپشن میں ساتھ دیتی ہے
LAST HOPE
بنیادی طور پر راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان کے علاقے مندرہ سے تعلق رکھنے والے راجہ صاحب کا خاندان نہری نظام متعارف ہونے پر سندھ منتقل ہوا گیا تھا۔ ان ہی دنوں وہ سنہ انیس سو پچاس میں سانگھڑ میں پیدا ہوئے۔ سال انیس سو ستر میں سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد گجر خان منتقل ہوگئے اور یہیں سے انہوں نے سیاست میں پہلا قدم رکھا۔
ان کے چچا صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔ ابتدا میں راجہ پرویز اشرف نے جوتوں کا کارخانہ قائم کیا لیکن بعد میں پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہوگئے۔
راولپنڈی میں پیپلز پارٹی کی سیاست کے حوالے سے وہ سنہ انیس سو اٹھاسی سے انتہائی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انیس سو نوے، ترانوے اور ستانوئے کے عام انتخابات میں انہیں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے مشترکہ امیدواروں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
قومی سیاست کے منظرِ عام پر وہ پہلی مرتبہ سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے اکاون سے کامیابی کے بعد آئے۔ اسی حلقے سے وہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دوبارہ ایوان میں پہنچے۔
اکتيس مارچ دو ہزار آٹھ کو وزيراعظم يوسف رضا گيلانی کی کابينہ ميں انہیں پانی و بجلی کا وفاقی وزير بنايا گيا۔ دسمبر دو ہزار نو تک ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا اعلان ان کے لیے کافی مہنگا ثابت ہوا۔ قوم سے یہ وعدہ وفا نہ ہونے پر انہیں آج تک کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ اس عہدے پر وہ نو فروری دو ہزار گيارہ تک فائز رہے۔
وزارت پانی و بجلی کے دوران رینٹل پاور کا سکینڈل بھی سامنے آیا جس میں ان پر بھاری رقوم بطور رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا۔ اس الزام عائد کرنے میں پیش پیش مسلم لیگ (قاف) کے فیصل صالح حیات تھے جو اب پیپلز پارٹی کے اتحادی ہیں۔
گوگل سرچ
نہ کوئ دھندا نہ کوئ کام
رشوت عام ،ٹریفک جام
امریکا کے بنے غلام
ساری دینا میں بدنام
ھوگا میرا کیا انجام
سوچ رھا ھے پاکستان
ایک ایس ایم ایس
اداروں اور مناصب کی تضحیک اور انہیں بے وقعت کرنے کے کئی طریقے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وزرات عظمیٰ کے منصب پر راجہ پرویز اشرف کو لگا دیا جائے۔ باہر جا کر کوئی موازنہ نہیں کرتے بس پیپلز پارٹی کے اندر ہی رہتے ہیں۔ کہاں ایک طرف اسی کرسی پر متمکن ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو اور کہاں راجہ پرویز اشرف۔ ہر شطرنج کھیلے والے کو ایک مہرہ درکار ہوتا ہے اور کمال یہ ہے کہ اسے مل بھی جاتا ہے۔ ویسے بےعزتی اور تضحیک کا ایک اور مسلہ بھی ہے کہ اسے محسوس کرنا پڑتا ہے ورنہ یہ عزت و توقیر ہی لگتی ہے۔
اگر چہ مصلحت وقت کے منافی ہے
میرا مزاج مگر سب سے اختلافی ہے
مجھے جو خلق کیا بے ضمیر لوگوں میں
مرے خدا مجھے اتنی سزا ہی کافی ہے
ہلاؤں کیسے میں زنجیر عدل رات گیے
قصور یہ بھی تو نا قابل معافی ہے
جو لوگ اپنا زیاں کر رہے ہوں دانستہ
کوئی بتلایے کہ پھر اس کی کیا تلافی ہے
بسیط ، سجدہ گزاری بجا مگر پھر بھی
یہ سارا نظم جہاں کیا محض اضافی ہے
جو دل کا راز تھا ہم آنکھ میں بھی پڑھ لیتے
مگر ستم تو یہ ہے کہ آنکھ بھی غلافی ہے
ہیں یوں تو سب کے ہی دامن مفاد آلودہ
نمایاں سب سے مگر دامن صحافی ہے
غزل کے شعر کے اپنے بھی کچھ تقاضے ہیں
کچھ اس زمین میں بھی تنگی _ قوافی ہے
اسلام علیکم ساتھیو
بہت خوب بھائی عمران خوش رہئے ۔
اگر چہ مصلحت وقت کے منافی ہے
میرا مزاج مگر سب سے اختلافی ہے
مجھے جو خلق کیا بے ضمیر لوگوں میں
مرے خدا مجھے اتنی سزا ہی کافی ہے
ہلاؤں کیسے میں زنجیر عدل رات گیے
قصور یہ بھی تو نا قابل معافی ہے
جو لوگ اپنا زیاں کر رہے ہوں دانستہ
کوئی بتلایے کہ پھر اس کی کیا تلافی ہے
جمہوریت سب سے بڑا انتقام ہے ۔ یہ اسی پارٹی نے کہا تھا ۔اسے انہوں نے سچ کر دکھایا ہے ۔
اب یہ تو ہم اور آپ ہی ہیں یعنی عوام جو پھر ان کے چنگل میں آجائینگے ۔ اب بھی نہ جاگے تو پھر کب جاگینگے یہ اللہ ہی جانتا ہے ۔
عالم آرا