امی جی جب تک حیات رہی میں جب بھی سونے کے لئے جاتی تو اپنی آنکھیں بند کرنے سے پہلے انہیں ایک نظر ضرور دیکھا کرتی تھی ۔ میری لئے میری ماں آیت الکرسی کی طرح تھیں ۔ اور جب وہ حصار میرے ارد گرد سے ہٹا تو مجھے یوں لگا تھا جیسے میں آگ برساتے آسمان تلے آ گئی ہوں اور میرے چاروں طرف کانٹوں کے جھاڑ اگ آئے ہوں ۔ تب میں رات کو ان کا تصور کرتے ہوئے سو جایا کرتی تھی ۔ امی جی کہا کرتی تھیں کہ جب میں گھر نہ رہوں تو تم سب بھائیوں کی ماں ہو ۔ ان سے مجھ سے زیادہ پیار کرنا ۔۔ اور میں انہیں نم آنکھوں سے دیکھے جاتی اور سوچے جاتی کہ لو بھلا ایک ماں سے زیادہ کون کسی سے پیار کر سکتا ہے پر میری ماں دنیا کی سب سے اچھی ماں تھی جو نظروں کوپڑھ لینے کاہنر جانتی تھی ۔۔ ان کو دل تک پہنچنے کے لئے کوئی وقت نہیں لگتا تھا ۔اسی لئے بڑی محبت سے کہا کرتی کہ ماں اور بہن کا پیار جب ایک ساتھ کرو گی تو ماں سے زیادہ پیار ہو جائے گا ۔۔
ہاں مجھے یاد ہے امی جی کو اپنے بھائی عبدللہ سے بہت محبت تھی ۔۔ انہیں چوبیس گھنٹے ساتوں دن ان کے سارے کام ازبر رہتے تھے ۔پتہ نہیں وہ ہم سب سے بھی اتنا ہی پیار کرتی تھی جتنا عبدللہ ماموں سے ۔ وہ ہمیں بتایا کرتیں کہ ہماری بے جی یعنی نانی جی انہیں بتایا کرتیں تھیں “ نفرت بھی ایک دن مر جاتی ہے لیکن اللہ نے صرف محبت کو یہ ہنر دیا ہے کہ وہ کبھی نہیں مرتی۔۔ وہ خود بھی جیتی ہے اور دوسروں کو جیتے رہنے کی یاد دہانی بھی کرواتی رہتی ہے ۔۔ سو میری بیٹی صرف محبت ہی کیا کرو ۔۔ تحفے میں بھی صرف محبت ہی دیا کرو ۔۔ اپنی نسل کے لئے وراثت میں صرف محبت چھوڑ کر جانا “ ۔۔ یوں امی جی جہاں بھر سے محبت کر کے اپنی ماں سے کیا ہوا وعدہ پورا کرتی تھیں ۔۔ اور میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ کیا کوئی محبت بھی وعدہ کی طرح نبھاہ سکتا ہے اور نسل در نسل اسے وراثت میں منتقل کر سکتا ہے ۔
امی جی آپ کے جانے بعد میں اپنے تین بھائیوں کی ماں بننے کی کوشش میں لگ گئی ہوں پر مجھے ان کے سارے کام آپ ہی کی طرح ازبر کرنے میں بھی دقت ہو رہی ہے ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ کیسے پیار سے بھری رہتی تھیں ۔ شاید میں آپ کی طرح عبادت سمجھ کر محبت کبھی نہ کر پاؤں ۔بس یوں سمجھ لیجئے کہ اپنے ہونے نہ ہونے سے بے نیاز محبت مجھ سے نہیں ہو پارہی ۔۔ میں لاکھ جتن کر کے بھی وعدہ سمجھ کر محبت نہیں نبھاہ پارہی ۔۔۔ میں شاید اس محبت کی وارث ہوں ہی نہیں ۔۔ ہاں قاسم بھائی اس وراثت کے اصل حقدار ہیں ۔۔
آ پکو یاد ہے نہ جب میں تین بھائیوں کے بعد پیدا ہوئی تھی تو آپ نے شکرانے کے نفل پڑھے تھے ۔ اباجی جن کے رعب کی وجہ سے ان کے قریب کوئی نہیں جاتا تھا ۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ انہوں نے بھی خاندان بھر میں مٹھائی بانٹی پھر ساری منتیں ایک ہی دن میں پوری کر ڈالی تھیں ۔ قاسم بھائی جو ہم سب میں بڑے تھے اور مجھ سے تو دس سال بڑے تھے ۔انہوں نے میرا نام “ ثمن “ رکھا تھا ۔۔ اور باقی عاصم اور ندیم کو یہی تلقین رہتی تھی کہ مجھے سب اسی نام سے پکاریں ۔ قاسم بھائی نے مجھے اپنی انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ۔۔ الف ب لکھنی سکھائی ۔۔ ۔ مجھے دینیات سے لے کر انگلش تک کے سارے سبق پڑھائے ۔۔ مجھے جمع ضرب تقسیم سکھائی ۔۔ مجھے وہ ہر روز ایک نئی بات بتایا کرتے تھے ۔۔ اور میں اس بات کو سننے کے لئے کبھی کبھی آدھی رات تک جاگا کرتی تھی ۔۔ جب انہیں پتہ چلتا تو میرے کمرے تک دوڑے آتے ۔۔ میرے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ دیتے ۔۔ اور پھر جیسے ان کی روشن آنکھوں میں سمندر اتر آتا اور کناروں کو نم کرتا واپس کہی جا چھپتا ۔۔ بڑی محبت سے کہتے “ کملی “ سو جاتی ۔۔۔ اور میں دل میں سوچتی کہ بھلا کملی سو جاتی تو کملی کیسے کہلاتی ۔۔ وہ مجھے انتہائی محبت میں “ کملی “ کہہ کر پکارا کرتے تھے ۔۔
قاسم بھائی میری کتاب بھی تھے جسے پڑھے بغیر مجھے نیند نہیں آتی تھی ۔ جیسے کتاب کا ہر باب ایک نئے عنوان کے ساتھ ملتا ہے اسی طرح قاسم بھائی کی ذات کے کئی باب تھے اور ہر باب دوسرے سے جدا اور خوش ربگ تھا ۔۔ مجھ سے کبھی غلطی ہو جاتی تو اباجی کی طرح بات کرتے ۔۔ لاڈ اٹھانے کے لئے بھائی بن جاتے ۔۔ مجھے گاڑی میں بٹھا کر سڑک سڑک گھوما کرتے ۔۔چھوٹے بھائیوں کو سمجھایا کرتے کہ انہیں صرف میر اخیال رکھنا چاہئے کیونکہ میں ان کی بہن ہوں ۔۔ گھر کی رحمت ہوں ۔۔ میری سہیلوں کی ساری باتیں سنتے ہوئے وہ میری سہیلی ہو جاتے ۔۔ لیکن ایک بات جو انہیں سب بھائیوں میں ممتاز رکھتی تھی وہ ان کا بے انتہا شفیق ہونا تھا ۔۔ اور اس شفقت میں مجھے اکثر ہی ان میں امی جی مل جایا کرتی تھیں ۔۔بس وہ میرا جہاں تھے ۔
جب انہوں نے مجھے رخصت کیا تو ایک ماں ہی کی طرح مجھے حفاظت سے ایک نئے جہاں بھیج دیا تھا جہاں ہر روز ایک نیا امتحان جب مجھے بغیر پڑھے دینے پڑے تو
قاسم بھائی سر پر سائے کی طرح چھا گئے ۔۔ اور ارد گرد کے سارے کانٹے ہٹانے میں لگ گئے ۔۔ وہ میرے دکھ کو جانتے تھے اور ہمیشہ کہا کرتے کہ “ صبر “ میں روحانی خوشی کا دوام ہے ۔۔جو ہمیشہ خوش رہنا چاہتی ہو تو صبر کرنا سیکھ کملی ۔۔ اور پھر میں صبر کرنا ۔۔۔ ضبط کرنا ۔۔ شکر کرنا سیکھتی چلی گئی ۔۔۔
زندگی کو گزرنا ہی تھا سو اپنی رفتار سے گزر رہی تھی ۔۔ اور اس تیز رفتاری ہم سب کو بھی اکثر ہی ایک دوسرے کے پیچھے رکھا کرتی تھی ۔ امی جی کے بعد اباجی بیمار سے رہنے لگے تھے اور اب تو اب کی موجودگی ایک تسلی کی طرح ہو کر رہ گئی تھی ۔ بھائیوں کی بھی شادی ہو چکی تھی ۔ عاصم اور ندیم چڑیوں کی طرح گھونسلہ چھوڑ چکے تھے اور دونوں بھائی آسٹریا جا بسے تھے ۔۔ اور قاسم بھائی ، شازیہ بھابھی اور ان کے بچے سعد اور ہادی اب بھی اسی گھر میں تھے ۔۔ اتوار کی چھٹی ۔۔ عید تہوار ، گرمی کی چھٹیاں سب آتی اور جاتی گئی ۔۔ بچوں کے بڑا ہونے کے ساتھ معمولات میں بھی فرق آنے لگے تھے ۔۔ نہیں آیا تو قاسم بھائی کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا ۔۔ اب مجھے بھی اپنی ماں کی طرح اپنے بھائی کے معمولات ازبر تھے ۔۔
مجھ پر یہ باب بھی کھلا کہ معمولات کے ازبر ہونے کے لئے ایک انس ، ایک لگاؤ ، ایک محبت بہت ضروری تھی ۔۔ اور محبت کے لئے مستقل تعلق اور یاد دہانی کی ضرورت بھی جڑی تھی ۔۔ جیسے عاصم اور ندیم پہلے تو فون کر لیا کرتے تھے اب ایک عرصہ سے جیسے وہ بھول گئے تھے تو ہم سب بھی بھولنے لگے تھے ۔۔ لیکن سچ کہوں تو یہ میرا اپنا فلسفہ حیات تھا جس سے قاسم بھائی کو کوئی غرض نہیں تھی ۔۔وہ اس غم سے آزاد تھے کہ کون انہیں یاد کرتا ہے اور کون نہیں ۔۔ اب مجھے یقین سا ہونے لگا تھا کہیں امی جی نے بھی ان سے محبت نبھاہتے رہنے کا وعدہ نہ لے لیا ہو جوانہوں نے یوں محبت کو عبادت سمجھ رکھا تھا اور محبت کو وراثت کی طرح منقلی کے سفر پر رپتے تھے ۔۔
قاسم بھائی مجھے ہمیشہ کہا کرتے وہ جب بھی مجھ سے بات کرتے ہیں انہیں یوں لگتا ہے جیسے امی جی سے باتیں کر رہے ہوں ۔۔ انہیں مجھ میں امی جی دیکھائی دیتی تھیں ۔۔ ان کا خیال تھا میری آنکھیں ، ان میں سے ہر دم نکلتی ہلکی ہلکی سی روشنی ، مدھر ہنسی ، نرم آواز ، چلنے میں ٹھہراؤ ۔۔ مجھ میں سب کچھ اپنی امی جی جیسا تھا ۔۔۔ یوں فون تو وہ روز ہی کیا کرتے تھے لیکن ملنے اسی وقت آتے تھے جب وہ اداس ہوتے تھے ۔۔ایسے جیسے جب بچہ اداس اور فکرمند ہوتا ہے تو اسے ماں کی گود کے علاوہ کچھ محفوظ نہیں دکھائی دیتا ۔۔ایسے ہی وہ مجھ سے ملنے ضرور آتے تھے ۔۔۔ ادھر ادھر کی ڈھیروں باتیں کرتے اور آخر میں ضرور کہتے عاصم اور ندیم کو واپس آ جانا چاہئے ۔۔ اباجی اب بہت اداس رہنے لگے ہیں ۔۔ اور میں پوچھتی آپ ۔۔ اور وہ ہنس پڑتے ۔۔ پھر پلٹ کر کہتے کہ میرے یار ہیں دونوں ۔۔ وہ میرے دو بازوں ہیں کملی ۔۔ کیسی باتیں کرتی ہےکملی نہ ہو تو ۔۔۔ میں تو بس اتنا جانتی تھی جس دن قاسم بھائی میرے گھر آتے تھے یوں لگتا تھا جیسے میری کل کائینات میرے گھر آ جاتی ہو ۔۔ ہر شے ہر منظر مکمل دکھائی دیتا ۔۔
آج انہوں نے صبح ہی مجھے فون کر دیا تھا کہ وہ شام کو مجھ سے ملنے آ رہے ہیں ۔پھر یوں ہوا کہ پہلی بار قاسم بھائی وعدہ کر کے گھر نہ آ سکے ۔۔۔ ان کا دل ان کے ساتھ وفا نہ کر سکا اور وہ راستے سے ہی امی جی سے ملنے چلے گئے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جو ان سے ملنے گئے تو واپس نہ آ سکیں گے ۔۔۔ مجھے یقین نہیں ہوتا میرے قاسم بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔۔۔ میں بیقرار ہو کر آپ کو ڈھونڈتی ہوں قاسم بھائی ۔۔ میں چیخ چیخ کر رونا چاہتی ہوں ۔۔ دہائی ڈالنا چاہتی ہوں ۔۔ ہائے میرا سائیبان گیا لوگو ۔۔ ہائے میں زخمی ہو رہی ہوں لوگو ۔۔۔ مجھے صبر نہیں آتا ۔۔ میں اپنا جہاں کہاں سے لاؤں ۔۔۔ میں اپنی کتاب کہاں سے پڑھوں ۔۔ کس سے پوچھوں میرا سفر کیسے کٹے گا ۔۔ مجھے معاف کر دیں قاسم بھائی میں محبت میں ضبط کھوتی جا رہی ہوں ۔۔ مجھے گلے سے لگا لیجئے اور کہہ دیجئے سب ٹھیک ہو جائے گا کملی ۔۔
عاصم اور ندیم بھی آسٹریا سے واپس آچکے تھے ۔۔ ابا جی نے جیسے چپ کی چادر اوڑھ لی تھی۔۔ پورا گھر وحشت اور خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔ تعزیت کرنے والے بھی ایک ایک کر کے جا چکے تھے ۔۔ بس ڈاکٹر جاوید ابا جی کی وجہ سے گھرپر ہی تھے ۔۔ اور وہی آخری وقت میں قاسم بھائی کے ساتھ بھی تھے ۔۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر بتا رہے تھے کہ قاسم بھائی نے دم توڑتے وقت مجھے ہی پکارا تھا ۔۔۔ وہ ٹوٹے لفظوں میں کہہ رہے تھے ۔۔ محبت ہمارے خاندان کی وراثت ہے ۔۔کملی میں اسے تیرے نام کرتا ہوں ۔۔۔۔ پھر ۔۔ ڈاکٹر جاوید کی خاموشی بتا رہی تھی کہ قاسم بھائی نے اس یقین کے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر لی ہوگی کہ انہیں آج کے بعد اپنی کملی سے کوئی شکایت نہیں ہو گی ۔۔۔

میری پسندیدہ نظم نگار
میری دل پسند قلم کار
میری اچھی دوست
میری بہت عزيز بہن
نظر سے دور سہی مگر قلب سے قریب تر
خوش رھو سلامت رھو
زندگی کی کہانی کو تم نے وارثت کا نام دیا ھے
جس جذب و کرب سے یہ افسانہ لکھا گیا ھے
وہ احساس ھر قاری کو متاثر کریگا میری شہزادی بہن
افسانے میں حقیقت کا رنگ اتنا نمایاں ھے کہ یہ ھر محبت کرنے والی اس بہن کی کہانی لگ رھی ھے
کہ جس کا خمیر تمھاری طرح محبت سے گندھا ھوا ھوگا
اور اللہ تعالی نے اپنے اھل سے ایسی محـبت کی توفیق بہت کم لوگوں کو دی ھے
مجھے سطر سطر میں تم نظر آئ ھو
اور کسی بھی اجھے افسانے کی یہ بہت بڑی کامیابی ھے
کہ وہ قاری کو حقحقیت لگے اور طرز بیان کی سادگی اور سچائ کی بدولت فورا قاری کے دل میں گھر کرلے
واہ بہت شاندار
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
اسلام علیکم ساتھیو
جیتی رہو خوش رہو عزیز بہن نگہت نسیم
بہت ہی خوبصورت تحریر ہے دل کو چھو لینے والی ۔ واقعئی ایسا لگتا ہے کہ یہ رشتے بس محبت ہی تھے اور محبت ہی ہیں ۔جو ایک کے بعد دوسرے میں منتقل ہوتی جاتی ہے بغیر کسی کوشش کے بغیر کچھ مانگے بغیر کچھ لئے ۔ کہ یہ ایک جزبہ ہی ابدی ہے اور جہاں جہاں موجود ہے ۔نور کی طرح روشن ہے ۔
سلامت رہو
عالم آرا
بہت خوب!
بہن نگہت تم نے کس دور کی بات چھیڑ دی ابھی ترقی یافتہ دنیا میں ماں سے مدر ڈے پر بھی اولاد سےملاقات نہیں ہوتی۔ ہمیں تحفے میں وہی تہذیب مشرف صاحب دے گئے ہیں ۔ ولنٹائن ڈے کی مقبولیت سے اندازہ ہو تا ہے کہ ہم نے کس تیزی سے اسے قبول کیا ہے؟ ماں بچے کی پیدائش سے لیکرآخری وقت تک بچے کا خیال رکھتی ہے یعنی ڈھال ہو تی ہے وہ دین اور دنیا دونوں میں۔ دنیا کے بارے میں توسبھی جانتے ہیں میرا تجربہ ہےکہ جب میری ماں جانکنی کے عالم میں تھیں اور میں انکی پٹی سے لگا بیٹھا تھا تو انہوں کراہتے ہوئے آنکھیں کھولیں اور آخری الفاظ ادا کیئے کہ بیٹا تم تھک ہو گئے جاکر لیٹ جاؤ ؟ مگر عقبہ کے بارے میں اسرائیلیات میں ایک مثال ہے کہ جب موسیٰ (ع)پنی ماں کے انتقال کے بعد اللہ سبحانہ تعالٰی کے دربار میں حاضر ہوئے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ اب ہوشیار رہنا کہ کل تک تمہاری ماں حیات تھی جب تک تم یہاں ہوتے تھے وہ تمہاری سلامتی کے ساتھ واپسی کے لیئے دعا کرتی رہتی تھی ؟ آج وہ دعا کرنے کےلیئے موجود نہیں ہے۔