کہتے ھیں مولا علی علیہ السلام نے اس خطبہ میں بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانے میں اٹھنے والے فتنوں کے بارے میں خبردار کیا ھے ،میں خدا کی حمد بیان کرتا ھوں اور اس کی مدد چاھتا ھوں تاکہ مجھے وہ سب کچھ مل جائے جو انسان کو شیطان سے دور رکھتا ھے اور اس کے پھندے اور دھوکے میں نھیں آنے دیتا میں گواھی دیتا ھوں کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا خدا نھیں اور حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ھیں اور اسی نے رسول کو پسند کیا اور چنا –
وہ سب سے اس قدر بڑھ کر ھیں کہ کوئی ان کی برابری نھیں کر سکتا سوچو کے لوگ اندھیروں میں بھٹک رھے ھیں تھے جہالت حد سے گزر چکی تھی اور مزاج میں سختی آگئی تھی لوگ حلال کو حرام اور حرام کو حلال اور سمجھ دار کر زلیل سمجھنے لگے تھے وہ رسولوں سے خالی زمانے میں جی رھے تھے اور کفر کی حالت میں مر رھے تھے کہ آنحضرت کے نور سے شہر کے شہر جگمگا اٹھے – لیکن اب تم اے عرب ایسی مصینتوں کا نشانہ بننے والے ھو جو قریب آچکی ھیں لہذا دولت کے نشے میں نہ ڈوبنا مار ڈالنے والے عذاب سے ہوشیار رھنا شک و شبہ کے اندھیروں اور فساد کے ٹیڑھے راستوں میں خبردار رھنا کیوں کہ اس وقت دلوں کے اندیشے حقیقت بن رھے ھونگے چھپے ھوئے خطرے نگاھوں کے سامنے ابھر رھے ھوں گے اور وقت کی چکی کا دھرا مضبوط ھو رہا ھو گا یہ فتنے شروع شروع میں خفیہ راستوں سےآتے ھیں جیسے چھوٹے بچوں کی اٹھان ھوتی ھے لیکن پھر اپنے آثار پتھر پر بننے والے نشان کی طرح چھوڑ جاتے ھیں دنیا کے ظالم گٹھ جوڑ کر کے ان کے وارث ھو جاتے ھیں ان میں جو پہلا ھوتا ھے وہی آخری والے کا رہنما ھوتا ھے اور ان میں جو آخر ھوتا ھے وہ پہلے والے ھی کے راستے پر چلتا ھے یہ لوگ گھٹیا دنیا پر جان دیتے ھیں اور گلے سڑے جانور پر ٹوٹ پڑتے ھیں جلد ھی پیچھے رہ جانے والے اپنے رہنما سے اور رہنما اپنے پیچھے چلنے والوں سے تنگ آجائیں گے آپس میں دشمن بن کر ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑ جائیں گے اور آمنا سامنا ھو گا تو ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے اس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا کہ جو لوگوں کے سکھ چین کو مٹا دے گا ہر طرف تباہی مچا دے گا اور اللہ کے بندوں پر سختی کے ساتھ حملہ آور ھو گا اس وقت اپنے راستوں پر چلنے والوں کے پاؤں لڑکھڑا جائیں گے اور سیدھے راستے پر چلنے والے لوگ بہک جائیں گے جب اس فتنے کا حملہ ھو گا تو لوگوں کی خواہشوں میں ٹکڑاؤ ھو گا ان کی رائے میں اختلاف ھوگا جو سر اٹھا کر دیکھے گا اس فتنے کو اس کا سر توڑ دے گا جو اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گا یہ اسے جڑ سے اکھاڑ دے گا لوگ ایک دوسرے کو اس طرح کاٹیں گے جیسے گلے میں بھرے ھوئے گدھے ایک دوسرے کو نوچتے ھیں دین کی بٹی ھوئی رسی کے بل کھل جائیں گے زمین میں اندھیرا چھا جائے گا علم عقل چپ سادھ لیں گے اور ظالموں کی زبانیں کھل جائیں گی یہ فتنہ بیابانوں میں رھنے والوں کو ہتھوڑوں سے کوٹے گا اور اپنے سینے سے دبا کر انھیں ریزہ ریزہ کر دے گا اس سے اٹھنے والی دھول میں اکیلے دو مسافر برباد ھو جائیں گے اور راستوں میں چلنے والے قافلے راہ میں ھی مارے جائیں گے مقدر میں کڑواہٹ بھر جائے گی دودھ کے بدلے تازہ خون دوہا جائے گا دین کے معیار گر جائیں گے یقین کے دھاگے ٹوٹ جائیں گے عقل مند اس سے دور بھاگین گے اور شر پسند اس کے برابر شریک ھونگے یہ فتنی گرج چمک کے ساتھ آئے گا اور اسقدر سخت اور تیز ھوگا کہ تمام رشتے ٹوٹ جائیں گے اور دین کا دامن چھوٹ جائے گا اس سے الگ تھلگ رھنے والا بھی اس میں الجھ جائے گا اور اس بھاگنے والا اپنے قدم باہر نا نکال سکے گا ،بہت سے لوگ قتل ھو جائیں گے اور ان کا خون رائیگاں جائے گا اور کچھ اتنے ڈرے ھوئے ھوں گے کہ پناہ ڈھونڈتے پھریں گے انھیں ایمان کے نام پر قسم دے دے کر دھوکہ دیا جائے گا تم نئی نئی رسموں کے بانی نا بننا اس راستہ پر قدم جمائے رکھنا جس پر ایمان والوں کی جماعت چل رھی ھوگی اور جس پر اللہ کا حکم اور ماننے والوں کا عمل اور کردار قائم ھو گا – اللہ کے پاس مظلوم بن کر جانا ظالم بن کر نا جانا شیطان کے ٹھکانوں سے بچنا اپنے پیٹ میں حرام لقمے نہ ڈالنا کیوں کہ تم اس کی نگاہوں کے سامنے ھو جس نے خطا کو تمھارے لئے حرام کیا ھے اور فرمانبرداری کی راھیں آسان کر دی ھیں آج کے حالات کے تناظر میں دیکھا جا سکتے ھے کہ مولا ع۔س کا فرمان حرف با حرف درست ھے ، یہ رفرمان وصی رسول اللہ کا1400 سال پہلے کا ھے

رافیعہ گیلانی۔بہت خوب۔ دراصل تاریخ اسلام شاہد ہے کہ حضرت علی کو ہی سب سے زیادہ فتنوں کا سامنا کرنا پڑا اور باعث حیرت ظلم کی بات یہ ہے کہ یہ فتے اور فتنہ پرور کوئی غیر مسلم نہیں تھے بلکہ مسلان تھے اور اسوقت کے مسلمان تھے جنہوں نے اللہ کے حبیب رحمت عالمین کو دیکھا بھی تھا انکی محفلوں میں بھی رہے تھے اور انکی زبان مبارک سے علی کے بارے میں فرمودات سنے بھی تھے۔ یہ آج کے فتنہ پرور اور فتنہ پروری بھی اسی کا تسلسل ہے۔۔۔۔۔ یہ بات اللہ کے رسول کے بعد فقط باب العلم ہی کہہ سکتے ہپیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوچو کے لوگ اندھیروں میں بھٹک رھے ھیں تھے جہالت حد سے گزر چکی تھی اور مزاج میں سختی آگئی تھی لوگ حلال کو حرام اور حرام کو حلال اور سمجھ دار کر زلیل سمجھنے لگے تھے وہ رسولوں سے خالی زمانے میں جی رھے تھے اور کفر کی حالت میں مر رھے تھے کہ آنحضرت کے نور سے شہر کے شہر جگمگا اٹھے – لیکن اب تم اے عرب ایسی مصینتوں کا نشانہ بننے والے ھو جو قریب آچکی ھیں لہذا دولت کے نشے میں نہ ڈوبنا مار ڈالنے والے عذاب سے ہوشیار رھنا شک و شبہ کے اندھیروں اور فساد کے ٹیڑھے راستوں میں خبردار رھنا کیوں کہ اس وقت دلوں کے اندیشے حقیقت بن رھے ھونگے چھپے ھوئے خطرے نگاھوں کے سامنے ابھر رھے ھوں گے اور وقت کی چکی کا دھرا مضبوط ھو رہا ھو گا یہ فتنے شروع شروع میں خفیہ راستوں سےآتے ھیں جیسے چھوٹے بچوں کی اٹھان ھوتی ھے لیکن پھر اپنے آثار پتھر پر بننے والے نشان کی طرح چھوڑ جاتے ھیں دنیا کے ظالم گٹھ جوڑ کر کے ان کے وارث ھو جاتے ھیں ان میں جو پہلا ھوتا ھے وہی آخری والے کا رہنما ھوتا ھے اور ان میں جو آخر ھوتا ھے وہ پہلے والے ھی کے راستے پر چلتا ھے یہ لوگ گھٹیا دنیا پر جان دیتے ھیں اور گلے سڑے جانور پر ٹوٹ پڑتے ھیں جلد ھی پیچھے رہ جانے والے اپنے رہنما سے اور رہنما اپنے پیچھے چلنے والوں سے تنگ آجائیں گے آپس میں دشمن بن کر ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑ جائیں گے اور آمنا سامنا ھو گا تو ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ اکبر
اللہ اکبر .. اللہ اکبر . ایک ایک لفظ آج کے حالات سے منطبق ہوتا ہوا .. مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کیا لکھوں اور کیا کیا سوچوں .. جزاک اللہ رافعیہ
اللہ کے پاس مظلوم بن کر جانا ظالم بن کر نا جانا ……. سبحان اللہ
کلامِ پاک اور مولیٰ علی رسالتمآب کے دو معجزے تھے۔
http://www.youtube.com/watch?v=uoOoqiyGM0k