سچ کی عادت نے کیا رسوا مجھے
دو قدم چلتے نہیں ہیں دوست بھی
(محترم المقام جناب صفدر ہمدانی )
7 thoughts on “ایک شعر ایک حقیقت”
میری سمجھ سے باہر ہے کہ ” سچ” اپنے آغاز میں ایک میلہ ساتھ لے کر چلتا ہے پر اپنے انجام پر اکیلا کیوں رہ جاتا ہے
سچ کی صلیب
کاش کہ میں بھی جھوٹا ہوتا
یا پھر تم ہی سچے ہوتے
ہم تم میں یہ فرق نہ ہوتا
جھوٹ کی ارضی جنت نہ ہوتی
سچ کی صلیب پہ دنیا نہ چڑھتی
کاش کہ میں بھی جھوٹا ہوتا
اس جنت سے گو صلیب بھلی ہے
مجھ کو کب یہ تاب ملی ہے
پھر میں کیسے منہ کو کھولوں
میں جو بولوں، کیسے بولوں
ہمہ تن گوش کیوں کر رہوں میں
کانوں کو جو بند کروں میں
کاش کہ میں بھی جھوٹا ہوتا
یا رب! یا پھر ایسا ہوتا
گونگا ہوتا، بہرا ہوتا
نہ جھوٹ کی جنت میں جینا ہوتا
نہ سچ کی صلیب پہ مرنا ہوتا
کاش میں گونگا، بہرا ہوتا
اسلام علیکم ساتھیو
محترم صفدر بھائی سب سے تلخ حقیقت ہے کہ سچ سننا کوئی گوارہ ہی نہیں کرتا ۔اور سچ کہنا بھی ہمت والوں کا خاصہ ہے ۔
پیاری بہن نگہت آج کل تو مجھے لگتا ہے کہ ہر اچھائی ہی تنہا سی ہو گئی ہے ۔ شاید ہمارے روئیوں نے ہمیں ہر اُس قدر سے دور کرنے کا ٹھیکہ لے لیا ہے جو ہماری بنیاد تھی شان تھی اور ہمارا کردار بھی تھی شاید ۔
سچ کی راہ میں سب سے پہلے جو ساتھ چھوڑتا ہے وہ دوست ہی ہے شاید ۔
اللہ ہمیں سچ کہنے ،سچ سننے اور سچ کو سہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
عالم آرا
وینکور
آعندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں ؟
کچھ کومارا ہے پارسائی نے
چور ہوتے تو رہبری کرتے
اسلام علیکم ساتھیو
محترم بھائیو ایسا لگتا ہے کہ جھوٹ کو سب نے ہی ترقی اور کامیابی کا زینہ سمجھ لیا ہے ۔خاص کر ہماری اُس سوچ نے جو ہم پر ہر صورت قابض بھی ہے اور ہماری محرومیوں کی زمہ دار بھی۔ بات عام ہے
کسی بھی خاص کی طرف نہ اشارہ نہ نشاندہی ۔
جھوٹ کے اوڑھے لبادے بانٹتے سچائیاں
کیسے میر کارواں ہیں کیسی ہیں گلکاریاں
ہم نے بھی تو دے دیا موقعہ کے پنپے جھوٹ خوب
باز پرس جب بھی ہوئی تھیں سامنے رشتے داریاں
کازبوں پر قابو تو اس وقت ہی پایا جائیگا
جھوٹ کا سخت محاسبہ ہو،سچ کی کھلیں راہداریاں
عالم آرا
وینکور
بے شک بابا
مجھے بھی بہت ٹھوکریں کھا کہ اور بہت لوگوں سے دھوکے کھا کہ یہ پتا چلا کہ
میں جنہیں دوست سمجھتا تھا ، وہ ہی تو میرے سب سے بڑے دشمن تھے
جو ساتھ تو کیا دیتے ، راستے کے پتھر بن گئے ۔ ۔ ۔
سچ برداشت کرنا بہت حوصلہ کی بات ھوتی ھے اور وہ بھت کم لوگوں میں ھوتا ھے
میری سمجھ سے باہر ہے کہ ” سچ” اپنے آغاز میں ایک میلہ ساتھ لے کر چلتا ہے پر اپنے انجام پر اکیلا کیوں رہ جاتا ہے
سچ کی صلیب
کاش کہ میں بھی جھوٹا ہوتا
یا پھر تم ہی سچے ہوتے
ہم تم میں یہ فرق نہ ہوتا
جھوٹ کی ارضی جنت نہ ہوتی
سچ کی صلیب پہ دنیا نہ چڑھتی
کاش کہ میں بھی جھوٹا ہوتا
اس جنت سے گو صلیب بھلی ہے
مجھ کو کب یہ تاب ملی ہے
پھر میں کیسے منہ کو کھولوں
میں جو بولوں، کیسے بولوں
ہمہ تن گوش کیوں کر رہوں میں
کانوں کو جو بند کروں میں
کاش کہ میں بھی جھوٹا ہوتا
یا رب! یا پھر ایسا ہوتا
گونگا ہوتا، بہرا ہوتا
نہ جھوٹ کی جنت میں جینا ہوتا
نہ سچ کی صلیب پہ مرنا ہوتا
کاش میں گونگا، بہرا ہوتا
اسلام علیکم ساتھیو
محترم صفدر بھائی سب سے تلخ حقیقت ہے کہ سچ سننا کوئی گوارہ ہی نہیں کرتا ۔اور سچ کہنا بھی ہمت والوں کا خاصہ ہے ۔
پیاری بہن نگہت آج کل تو مجھے لگتا ہے کہ ہر اچھائی ہی تنہا سی ہو گئی ہے ۔ شاید ہمارے روئیوں نے ہمیں ہر اُس قدر سے دور کرنے کا ٹھیکہ لے لیا ہے جو ہماری بنیاد تھی شان تھی اور ہمارا کردار بھی تھی شاید ۔
سچ کی راہ میں سب سے پہلے جو ساتھ چھوڑتا ہے وہ دوست ہی ہے شاید ۔
اللہ ہمیں سچ کہنے ،سچ سننے اور سچ کو سہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
عالم آرا
وینکور
آعندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں ؟
کچھ کومارا ہے پارسائی نے
چور ہوتے تو رہبری کرتے
اسلام علیکم ساتھیو
محترم بھائیو ایسا لگتا ہے کہ جھوٹ کو سب نے ہی ترقی اور کامیابی کا زینہ سمجھ لیا ہے ۔خاص کر ہماری اُس سوچ نے جو ہم پر ہر صورت قابض بھی ہے اور ہماری محرومیوں کی زمہ دار بھی۔ بات عام ہے
کسی بھی خاص کی طرف نہ اشارہ نہ نشاندہی ۔
جھوٹ کے اوڑھے لبادے بانٹتے سچائیاں
کیسے میر کارواں ہیں کیسی ہیں گلکاریاں
ہم نے بھی تو دے دیا موقعہ کے پنپے جھوٹ خوب
باز پرس جب بھی ہوئی تھیں سامنے رشتے داریاں
کازبوں پر قابو تو اس وقت ہی پایا جائیگا
جھوٹ کا سخت محاسبہ ہو،سچ کی کھلیں راہداریاں
عالم آرا
وینکور
بے شک بابا
مجھے بھی بہت ٹھوکریں کھا کہ اور بہت لوگوں سے دھوکے کھا کہ یہ پتا چلا کہ
میں جنہیں دوست سمجھتا تھا ، وہ ہی تو میرے سب سے بڑے دشمن تھے
جو ساتھ تو کیا دیتے ، راستے کے پتھر بن گئے ۔ ۔ ۔
سچ برداشت کرنا بہت حوصلہ کی بات ھوتی ھے اور وہ بھت کم لوگوں میں ھوتا ھے