ٹررررررررررررر…….. ٹررررررررررررر……ٹررررررررررر…..ٹرررر (ٹڑک) ہیلو!
دوسری جانب پشتو آمیزش ملا جواب پاکر میں نے عرض کیا: “السلام علیکم، جی مجھے اشفاق صاحب سے بات کرنی ہے.”
“جی صیب تو بیمار ہے، آپ کون صیب؟”
“جی میرا نام فیاض ہے، اور میں سندھ سے آیا ہوں ، اشفاق صاحب سے ملنا چاہتا ہوں! پلیز آپ اس کو بتادیجیے.” میں نے ترلے والے انداز میں اس پٹھان خانصاماں کو عرض کیا.
“او نئی صیب! ڈاک صیب نے منعا کیا ہے، آپ کل پھون کرو، مہربانی.” اور لائین کٹ گئی،
دوسرا دن ہؤا تو میں نے اپنا پینترا بدلا، اب کوئی خاتون دوسری طرف تھی، میں نے عرض رکھی کہ مجھے آپا بانو صاحبہ سے ملنا ہے. خاتون نے ایک منٹ کہ کر مجھے ہولڈ کرادیا. دو منٹ گذرے ہونگے کہ دوسری طرف آپا کی حلیم و لطیف آواز آئی: “جی السلام علیکم…”
اور میں جیسے گہری کھائی میں گرتا ہؤا خود کو محسوس کیا. “یہ بانو قدسیہ ہے! جو راجہ گدھ میں زندگی کو جیسے پلیٹ میں رکھ کر دنیا کو دکھا رہی ہے، جو علمٍ نفسیات کے پاتالوں سے سگمنڈ فرائڈ یا ہومر کی “اوڈیسی” سے کرداروں کو پینٹ شرٹ پہنا کر ہمارے جیتے جاگتے سماج میں لا رہی ہے، یا مولا! یہ میں بانو صاحبہ سے مخاطب ہوں…..!!!!”
دوسری طرف پھر آواز آئی: “جی بولیے!” میں جیسے لاشعوری طور پر جواب دینے لگا: “دیکھیں بانو صاحبہ! آپ اسے کہیں کہ بھٹائی کی دھرتی سے فیاض آیا ہے!”
خاموشی…… اور تین منٹ گذرنے کے بعد ایک عجیب لیکن پر سحر آواز بلند ہوئی: “فیاض! بابا کیسے ہیں! اب بھلا بھٹائی کی دھرتی سے مجھے کوئی بلائے تو میں قبر سے بھی نکل کر آؤنگا، کہاں ہیں آپ ابھی؟”
یہ اشفاق صاحب تھا. اور سچ تو یہ ہے کہ میں جیسے اس حصار سے نکل آچکا تھا جو آپا کے صرف آواز یا اس کے احساس سے میرے من میں پیدا ہوگیا تھا.
اشفاق صاحب نےمیرے بتائے ہوئے پتے پر گاڑی بھیجی اور میں آدھے گھنٹے کے بعد اس کے خوبصورت ڈرائنگ روم میں موجود تھا. اشفاق صاحب پہلے ہی وہاں موجود تھا. اس کی ٹانگ میں معمولی سا فریکچر تھا، بیٹھے بیٹھے ہی اس نے مجھے جپھی میں بھر دیا. حضرات یہ جپھی میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا. ایک محبت بھرا احساس، کہ جس سے شناسائی اس دن مجھے ہوئی!
“شیخ ایاز کیسا ہے، اترا اپنی انا سے یا نہیں؟ قمر شہباز نکلا جیل سے؟ اور سنیں کیا بنا امر جلیل کا، ٹھیک ہے وہ؟ آغا سلیم، اور ہاں نورالہدیٰ شاہ کیسی ہے؟ اب بھی وہ ہی بغاوت؟ اس کی کربلا گذر گئی یا اب بھی ہے؟ وغیرہ وغیرہ…..
اور میں ایک ایک سوال کا نپا تلہ جواب دیتا گیا!
(یا اللہ ! یہ کیا، سوالی سے سوال پوچھے جا رہے تھے، اور وہ بھی ایسے کہ اگر ایک بھی غلط یا لاعلمی سے کہتا کہ بابا مجھے پتہ نہیں تو اپنے اندر شرم کے بوجھ سے دبتا جاتا)
خدا خدا کرکے میرے جوابات کی نشست تمام ہونے لگی تو میں نے پوچھ لیا:
“بابا! کیا سمجھتے ہیں ڈپٹی نذیر احمد کی مرۃ العروص سے بانو قدسیہ کی سیمیں تک!، کیا اب اردو ادب تھوڑا دھیما نہیں پڑ گیا؟”
“شاید….” بابا سوچ میں پڑ گیا! اور بولا: “ٹھیک کہتے ہو! جیسے مرغی انڈے دینا چھوڑدیتی ہے، جسے ہم پنجابی زبان میں ‘کڑک’ کہتے ہیں، ٹھیک اسی طرح واقعی لگتا ہے کہ اردو کہانی یا ناول کڑک کی حالت میں آگیا ہے. لیکن فیاض! یہ زیادہ دیر نہیں چلے گا! جب ہمارے ادیب سمجھ جائیں گے کہ ڈپٹی صاحب کی مرۃ العروص کو اب ساڑھی میں نہیں بلکہ جینز میں لانا ہوگا، تب پھر یہ کارواں رواں دواں ہوجائے گا! فی الحال تو ہمیں نام نہاد اخلاق نے مار دیا ہے نہ! ہم تھوڑا شش و پنج کی حالت میں بھی ہیں، ہماری ایک ٹانگ مشرق میں ہے تو دوسری ٹانگ مغرب میں ٹھوک رہے ہیں، ذرا سا ہیجان ہے ابھی! انتظار حسین لکھ رہا ہے، لیکن اسے ترقی پسندی کی چھاپ نے پڑھنے والوں میں محدود کر دیا ہے، عبداللہ حسین نے لکھا لیکن وہ بھی آج کل چپ ہے.
مظہر الاسلام کو اپنے استعارے اور محبت کا روگ ایسا لے بیٹھا ہے کہ وہ اس سے نہیں نکل رہا، حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ذبردست لکھ رہا ہے. لیکن جتنا لکھنا چاہیے اتنا نہیں لکھا جا رہا!
میں لکھتا ہوں، لیکن مجھ پر تو باباؤں کی چھاپ لگا دی ہے. (وہ ہنس پڑا) اب دیکھو نہ! کسی اور کو کیا کہیں، اپنے گھر کی بات بتا رہا ہوں!
میں جب روم سے واپس آیا تو مجھ پر ایک بھوت سوار تھا کہ میں جانوں کہ روحانیت کیا ہے، وہاں مجھ سے یہی سوالات کیے جاتے تھے، اور میں گاکھ بنا ایسے ہی ٹال مٹول کیا کرتا تھا. لیکن بابا! یہ ہماری میراث ہے، ہم نہ جانیں گے تو کون جانے گا! خیر، پھر میں منو بھائی، ابنٍ انشاء کو ساتھ لیکر درگاہوں کے چکر کاٹتا رہا!
اب مزے کی بات سنو: اگر شوہر کسی کوٹھے یا جؤا کے اڈے پر جائے اور اس کی بیوی اسے منع کرے تو بات صاف ہے، بیوی بہت اچھی ہوگی نا!
لیکن اگر شوہر کسی درگاہ یا روحانی ڈیرے پر جاتا رہے اور اس کی بیوی اسے وہاں سے منع کرے تو اس کی بیوی کو کیا کہا جائے گا؟” وہ ہنسنے لگا. ہنستے ہنستے اچانک میری پشت سے آواز آئی:
“نا مجھے کوئی جبرائیل تو نہیں آتا تھا نا؟” اوہ خدا یہ آپا تھی، جو ہماری کچہری کے درمیاں چپکے چپکے ڈرائنگ روم میں آگئی تھی اور پیچھے والے صوفے پر بیٹھ گئی تھی.
ہماری ہنسی کشادہ ہوگئی تھی.
چائے آئی اور خانصامہ نے چائے بنانا شروع کی تو میں نے موضوع کو بدل دیا:
“بابا! کیا سمجھتے ہیں کالا باغ ڈیم! سندھ میں پانی نہیں، زمینیں تو بنجر ہو ہی رہی ہیں اور اب تو لوگ بھی پانی کی قلت کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں، اور ادھر پنجاب پانی کا میگا پروجیکٹ بنا کر پانی جمع کر رہا ہے؟ کیوں؟ ایک ادیب ہونے کے ناتے آپ کیوں نہیں بول رہے ہیں اس موضوع پر؟، کیا یہ جرم نہیں کر رہے؟”
اشفاق صاحب ہنس دیا: “فیاض بچہ! آپکا پی پگارہ کیوں کہتا ہے کہ بناؤ! صرف وہاں کے چند ناراض سیاستدان کیوں احتجاج کر رہے، ٹائر جلا کر، روڈ بند کر رہے!
میرے پیارے فیاض یہ کالا باغ ڈیم بنے گا ہی نہیں…. یہ لکھ لو!”
میں نے کہا “چھاپ دوں؟”
“ہاں چھاپ دو! یہ نہ تو سیاسی مسئلہ ہے، نہ ہی زمینی…. یہ فطرت کے ساتھ مذاق کیا جائے گا اگر یہ کالا باغ ڈیم بنے گا تو! میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ یہ نہیں بنے گا، اب جب مجھے یقین ہے کہ نہیں بنے گا تو میں کیوں اس پر بات کروں، جس گلی کا وجود ہی نہ ہو میں کیوں اس کی خیالی حدود و اربع کی بات کروں؟”
روحانیت کے سوال پر اشفاق صاحب نے کہا: “پتہ ہے اگر ہم ایک طرف ہوجائیں تو بات صاف ہوجائے، لیکن ہم منافقت کی حدود تک نکل جاتے ہیں، ہم بوٹی حرام اور شوربہ حلال قرار دے کر کافی باتوں سے منہ پھیر دیتے ہیں. ابھی ٹھہریں، جب مغرب پلیٹ پر سجا کر “جین” اور کلوننگ ہمیں دے گا کہ یہ لیں یہ سب آپ کے پرکھوں کی امانت ہے جسے ہم نے سنبھال کر اسے عیاں کرکے آپ کو دے رہے ہیں تب ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم کیا تھے، اور نماز کے تکبر نے ہمیں کہاں تک پہنچادیا ہے.
ہم صرف اپنئ ثقافت کا پندار لے کر اگلی دنیا کی صف میں کھڑے ہونگے، اور اگر ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمیں عرب اپنی صف میں کھڑا کر کے اکیسویں یا بائیسویں صدی میں لے چلے گیں تو یہ بھول ہے ہماری! ہمارے ساتھ بلہا شاہ، سلطان باہو، سید علی ہجویری، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست ہونگے تو وہ بھی پہچانے گیں، ورنہ بیٹا بغیر معرفت کے صرف ملا کے کہنے پر ہم تو مارے جائیں گے!”
اس رات روحانیت سے لے کر مادیت تک، اتنی باتیں ہوئی کہ میں جیسے ہوا میں اڑ رہا تھا.
اور آج کا دن اس عظیم انسان کا جنم دن ہے.
اس نے کہا تھا کہ: “میرا بابا مجھے کہتا تھا کہ دیکھو بچہ، اگر تمہارا حال تمہارے ماضی کی شاہدی نہ دیتا ہو تو سمجھو کہ تمہارا ماضی جھوٹا ہے، اگر کل سرکارٍ دو عالم صلعم کی ذات موجود تھی تو آج بھی ہے، سو تعظیم کرو اس کی، جو ہمارے درمیاں ہے، تمیز سے بات کرو کہ اس کی دربار ہے، حیا سے رہو، کہ وہ دیکھ رہا ہے!”
اور میں اپنے دل میں وہ پہلی رات کا تصور کیے نذرانہٍ عقیدت کے پھول سنبھالے کھڑا ہوں اور کہ رہا ہوں
“ہیپی برٹھ ڈے تو یو، ہیپی برتھ ڈے ٹو مائی ڈیئر اشفاق بابا!”

“اور یہ ضروری تو نہیں کہ ہم صرف دعائیں کچھ اس طرح سے ہی پڑھیں کہ جیسے اپنی خواہشات کی گٹھڑی اللہ میاں کے دربار میں ڈال کر اطمینان میں آجائیں!”
بابا اشفاق احمد اپنی دکھتی ٹانگ کو سہلا کر بولنے لگا: “یہ تو ایسا ہی جیسے ابھی میری ٹانگ میں درد ہے ، اور میری چیخ پہ چیخ ہو کہ ابھی یہ درد ختم ہوجائے! ہوسکتا ہے مجھے یہ درد دیکر اللہ میاں کسی بڑے نقصان سے مجھے بچا رہا ہو! ہم صرف اس بات کو ہی کیوں دیکھ رہے ہیں کہ جو چل رہا ہے اسی کی خامیاں نکال کر اپنے حال سے نا خوش ہوں!
ارے بابا! زمانہٍ حال ہی سب کچھ ہے! نہ ماضی، نہ مستقبل! ماضی ہمارے بیتے لمحات کا قبرستان ہے، جس میں ہمارے گذرے لمحے مدفون ہوتے جاتے ہیں! مستقبل بس ایک خیالی سا اپنی مرضیوں کا بنایا ہؤا سیربین ہے!
میں کہتا ہوں کہ اس حال میں جیو! اس لمحہ میں! والعصر والی سورت مبارک اگر سمجھ لی نہ تو سب سمجھ میں آجائے گا!
اب دیکھو نہ! میری ایک بیٹی دور یہاں سے دور پڑھ رہی ہے. وہ بہت پریشان ہے! پتہ نہیں کیوں؟
آج اس نے تمہارے سامنے فون کیا!
میں نے کیا کہا اسے؟ یہی نہ کہ: “اللہ میاں سے تھوڑا جھگڑا بھی ضروری ہے، ایسا کرو کہ اپنا ایک گال دیوار کے ساتھ ایسے لگاؤ کہ تمہارا رخ کعبۃ اللہ کی طرف ہو!
اور پھر آھستہ سے اپنی آنکھیں بند کرکے بڑی بڑی سی سانسیں لیکر اپنے جسم میں آکسیجن بھردو!
پھر روہانسہ سا منہ بناکر، سچی مچی اللہ میاں سے بات کرو!، کہ “مالک یہ کیا ہے؟ میں نے کوئی ولایت شلایت کی عرضی نہیں دے رکھی! یہ صبرٍ ایوبی والا سلسلہ مجھ سے نہیں ہو پا رہا تو کیوں بھلا ایویں ہی مجھے پریشان کر رہا ہے؟
تو رحم ہی کر، کیونکہ راحمین تو ہی ہے، تو کرم کر، کیونکہ کریم تو ہی ہے!
نہ کر ایسے جیسے تو کر رہا ہے!
آگے تیری مرضی!”
پھر اگر تیرا جی رونے کے لیئے کرے تو رو لے!، بلکہ خوب رو!
حالات کے سامنے نہیں، اپنے رب کے سامنے!
پھر دیکھ تماشہ!
(بابا اشفاق احمد کے انٹریو کا ایک ٹکڑہ)
ایک طرف ہے ڈپٹی نذیر احمد کی مرۃ العروص اور دوسری طرف ہے ترقی پسند اردو کے ادباء!
مثال وارث علوی اپنی کتاب “تیسرے درجے کا مسافر” میں کھلم کھلا ترقی پسند ادیبوں، یہی سعادت منٹو یا عصمت چغتائی کے تخلیقات پر نقادی کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے بھائی گھر میں بیٹھی اخلاقی بیگم پر کیا کہانی بن سکتی ہے؟
کہانی تو معاشرے کے روگ کرداروں پر ہی بنتی ہے. بلکل ٹھیک کہتا ہے!
لیکن دیکھو نہ! اخلاقی ملا بھی تو ہوتے ہیں نہ! یہ ضروری تو نہیں کہ داڑہی والا ملا ہو سکتا ہے، اگر داڑہی ملا کی نشانی ہے تو یہ کارل مارکس، یہ چالس ڈارون تو بڑے ملا لوگ تھے… (ہنستے ہوئے)
خیر! تو بات کر رہا تھا کہ آج کل اردو ادب واقعی “مرغی والے کڑک” دور سے گذر رہا ہے. مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اب کچھ سمجھ نہیں آرہا!
ادب میں بھی سیاست آ پڑی ہے.
دیکھو نہ: اب ایک ہی شہر میں کتنی پریس کلبیں کھل گئی ہیں! بھائی میرے! آپ لوگوں کا کام کیا ہے؟ یہی نہ کہ جو ہورہا ہے وہ دوسروں کو صحیح کا صحیح کا بتادو! لکھ لو اپنی اخباروں میں! لیکن مصیبت یہ ہے کہ اب صحافیوں میں بھی جدا جدا مکتب ہیں! بھلا آنکھ کی پتلی کی بھی کوئی سیاسی پارٹی ہوتی ہے کیا؟
بالکل اسی طرح اب ہمارے ادیب بھی سیاسی سے ہوگئے ہیں! میں نے باباؤں پر لکھنا شروع کیا تو یہ سب مجھ پر لعن طعن کرنے لگے، کہ لو بھئی! یہ بھی گیا!
اب میں انہیں کیا بتاؤں کہ ان ظالم باباؤں نے اپنے ترکے میں ہمارے لیے کیا کیا چھوڑا ہے، کہ اگر گننے کے لیے بیٹھو تو یہ ورلڈ بینک، یہ آئی ایم ایف کے کیلکولیٹر کام کرنا چھوڑ دیں!
لیکن نہیں، ہم اب ترقی پسند ہیں! لکھینگے بھی تو مغربی ادیبوں کی طرح! کردار بھی ہونگے تو مغربی کردار! باقی بولی ہماری ہوگی!…. (ہنستے ہوئے)
بابا یہ تو ایسا ہی ہؤا نا کہ دہی میں کوکا کولا چھڑک کر کھائیں، اب ہمارا ہاضمہ خراب نہیں ہوگا تو کیا ہوگا!
میں تو کہتا ہوں کہ آپ لکھیں، انگریزی میں لکھیں، فارسی میں لکھیں، فرانسیسی میں لکھیں! لیکن اللہ کے واسطے کردار ہمارے ہوں!
یہ ہمارے اپنے کردار، میلے، دھول سے لپٹے ہوئے، یا بھلے برگر نسل کے ہی ہوں!
میں ان کو بھی مانتا ہوں!
تبھی تو میں نے تمہیں کہا تھا پہلے ہی کہ اب ڈپٹی نذیر احمد کی مرۃالعروص کو ساڑہی کی جگہ جینز پہنانی ہوگی!
آج کا صوفی بابا تھری پیس سوٹ میں جچے گا!
…………
(اقتباس: بابا اشفاق احمد کا انٹرویو)
میں روم میں پڑھاتا تھا تو اکثر مغربی شاگرد پوچھتے تھے کہ: “روحانیت کیا ہے، کیا ہے روح وغیرہ وغیرہ…” تو میں ان کو جواب دیتا تھا کہ کچھ نہیں ہے. بس اپنے کام سے کام رکھیں!
تو ایک دن ایک سر پھرے لڑکے نے تو یہ تک کہ دیا کہ ” ہم آپ کی فلاسافی جاننا چاہتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں!”
اس دن میں نے اپنے چانسلر سے بیٹھے بیٹھے بات کر دی! وہ مصری تھا.
تو کہنے لگا، کہ فی الحال تو میں بھی اس کھوج میں ہوں سو میں کیا جواب دوں!
مجھے بڑی حیرت ہوئی، خیر جب پاکستان آیا تو یہ کھوج میرے من میں رینگنے لگی اور میں ایسے لوگوں کے پاس جانے لگا! پنجاب سے ہوتے ہوئے ایک دن تو پتہ ہے میں میرپورخاص سندھ کی اس چھوٹی درگاہ “پیر پتھورو” تک پہنچا!
پھر ایک دن تمہاری آپا بھی تھی ساتھ میں، اور ہم شاہ عبداللطیف بھٹائی کی درگاھ پر ڈیرا جمالیا!
تمہیں حیرت ہوگی کہ یہی وہ درگاہ ہے جس سے مغرب نے بھی فیض پایا ہے. مجھے فرانسیسی ایک لڑکی نے ایک کتاب دی تھی وہ گرڈجیف کے بارے میں تھی! اور میری تو پھوک نکل گئی کیونکہ وہ بھی اسی درگاھ کے طفیل مالامال ہوگیا تھا.
وہاں ایک فقیر جو میرے ساتھ بیٹھا تھا، اس نے مجھے میاں محمد بخشے اور باہو کے کلام سنائے! تو میں نے پوچھا کہ اس کا مطلب بھی تو بتائیں! اور اس نے بتادیا!
مجھے سندھی فقیر اس لیے بھی زیادہ اچھے لگتے ہیں کہ وہ پنجاب سمیت ہندستان کے اولیاء اللہ کے کلام بھی ازبر یاد رکھتے ہیں!
انتہائی افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ کہ یہاں لاہور میں بڑے سے بڑا ادیب چن لو1 اس سے پوچھو کہ سچل سرمست کا ایک بیت بتادیں!
سائیں لطیف بھٹائی کا ایک بیت تو بتادیں!
نہیں بتاسکے گا!
اور کسی سندھی سے پوچھو تو وہ فرید، باہو، شاہ حسین بلہا شاہ سب سنائے گا! میں نے ابھی پرسوں ایک بڑے شاعر کو کہا تھا کہ ہماری تہذیب کی شاعری کوری کی کوری پڑی ہے! اسے جدت دیں!
ایک سچہ بات بتاتا ہوں، مجھے ایک دن جرمن محقق ڈاکٹر این میری شمل نے سرکار بھٹائی کا ایک شعر سنایا تھا! لکھ لو تم بھی:
“O lonely voice in the steppe,
Voice like a parakeet’s cry –
It’s not a woman’s sigh,
It is the song of love….”
وہ کہ رہی تھی کہ، کیٹس یا شیکسپیئر، گوئتھے یا برنس کے پاس بھی اتنا تخیل نہیں تھا جتنا لطیف بھٹائی کے پاس ہے! تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ ان پر کام کرو!
پھر میں نے شیخ ایاز کو کہا، آغا سلیم کو کہا، کہ بھٹائی پر کام کرو، اسے اردو اور ساتھ میں اور زبانوں مین ترجمہ کرائو بھائی!
یہ ہماری میراث ہے!
شکر کہ انہوں نے کام شروع کردیا ہے!
(میں نے عرض رکھی کہ شیخ صاحب نے جو ترجمہ کیا ہے وہ مارکیٹ میں آگیا ہے)
ہاں، بہت اچھا ہے! بیٹا ہم ایک ہیں، یہ جو سندھو کی تہذیب ہے ایک ہے، کوئی جھگڑا نہیں ہے. جس طرح آپ لوگوں نے پنجابی اولیاء کو نہ صرف یاد کیا ہے بلکہ انہین گا بھی رہے ہیں اس طرح یہاں کے ادیبوں کو بھی چاہیے کہ لطیف، سچل، سامی شاہ عنایت کو اپنائیں!
جب ایک جرمن محقق جسے جرمنی نے اعلیٰ اعزازات سے نوازا ہے، وہ کہ رہی ہے کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے مکلی میں دفن کردیں، یا پیر حسام الدیں راشدی کی قبر کے ساتھ تو یہ کیا ہے؟
ہم کب تک کانسہ اٹھائے مغرب کی طرف دیکھیں گے؟
جب کہ مغرب خود روحانیت میں بھوکا ہے! ہمیں سب کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا! یہ پیر فقیر، یہ چودھری یہ وڈیرے، کسی کو نہیں چھوڑنا!
بیمار نے نفرت نہیں کی جاتی، بیماری سے جان چھڑائو!
اور سچ یہ ہے کہ میں نے تمام روحانیت دیکھی ہے. حتیٰ کہ عرب بھی ہم سے کل سیکھے تھے! یہ چکرا یہ ویل کس نے بنایا؟
موہن جو دڑو سے بیل گاڑی ملی ہے، جو کسی بھی تہذیب کے پرانے آثاروں سے نہیں ملی ہے؟
یہ کیا تھا؟ بابا ہمارے پاس سب کچھ ہے، بس تھوڑا چیزوں کو کھنگھالنے کی ضرورت ہے، مالک کا ہم پر کرم بہت ہے، کہ شکر ادا کرتے رہیں…..
(بابا سے لیے گئے انٹرویو سے ایک اقتباس)
مغرب خود روحانیت میں بھوکا ہے!۔۔۔۔۔ بالکل درست اور اسکی بڑی وجہ صنعتی ترقی ہے یا پھر یوں کہیں سرمایہ دارانہ اور مادیت کی ترقی ہے۔ایسے میں ہم نے بھی ”کسی کا کھلا گریبان دیکھ کر اپنے گریبان پھاڑ لینے کے مصداق” اپنے ہاں بھی روحانیت کی موت خود اپنے ہاتھوں گلا دبا کر کر دی ہے۔
پاکستان کی مارکیٹوں میں موبائیل،سی ڈی، آئی پوڈ اور نہ جانے کیسی کیسی تکنیکی اور مادیت سے بھری شے کا طوفان ہے۔لاہور اور کراچی کے سات سات منزلہ پلازے انہی چیزوں سے بھرے پڑے ہیں یا پھر ہر شہر میں فوڈ سٹریٹ کی بیماری نے جڑ پکڑ رکھی ہے لیکن روحانیت کہیں انہیں پلازوں اور فوڈ سٹریٹوں میں گم ہو گئی ہے۔
ہم نے گورے کا سرخ چہرہ دیکھ کر اپنا منہہ طمانچے مار مار کر لال کر لیا ہے۔
ایسے میں یہ کہنا کہ اللہ ہم پر رحم کرے گا اگر مجھ پر کفر کا فتویٰ نہ لگائیں تو عرض کرؤں گا کہ اللہ کی رحمانیت کو امتحان میں ڈالنا ہے۔
السلام علیکم
اشفاق احمد صاحب ٹی وی پر ایک پروگرام زاویہ میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ ان کی گفتگو کتابی شکل میں دستیاب ہے ۔ اسی کتاب سے ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے
مکمل کتاب اس لنک پر موجود ہے
پنجاب کا دوپٹہ
جب آدمی میری عمر کو پہنچتا ہےتو وہ اپنی وراثت آنے والی نسل کو دے کر جانے کی کو شش کرتا ہے- کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جو انسان بد قسمتی سے ساتھ ہی سمیٹ کر لے جاتا ہے- مجھے اپنی جوانی کے واقعات اور اس سے پہلے کی زندگی کے حالات مختلف ٹکڑیوں میں ملتے ہیں- میں چاہتا ہوں کہ اب وہ آپ کے حوالے کر دوں- حالانکہ اس میں تاریخی نوعیت کا کوئی بڑا واقعہ آپ کو نہیں ملے گا لیکن معاشرتی زندگی کو بہ نظرِ غائر دیکھا جائے تو اس میں ہماری سیاسی زندگی کے بہت سے پہلو نمایاں نظر آئیں گے۔ آج سے کوئی بیس بائیس برس پہلے کی بات ہے میں کسی سرکاری کام سے حیدرآباد گیا تھا۔ سندھ میں مجھے تقریباً ایک ہفتے کے لئے رہنا پڑا، اس لئے میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے، چنانچہ وہ بھی میرے ساتھ تھی- دو دن وہاں گزارنے کے بعد میری طبیعت جیسے بے چین ہو گئی-
میں اکثراس حوالے سے آپ کی خدمت میں ُ ُ بابوں“ کا ذکر کرتا ہوں- میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ بھٹ شاہ (شاہ عبدالطیف بھٹائی ) کا مزار یہاں قریب ہی ہے اور آج جمعرات بھی ہے، اس لئے آج ہم وہاں چلتے ہیں- وہ میری بات مان گئی- میزبانوں نے بھی ہمیں گاڑی اور ڈرائیور دے دیا، کیونکہ وہ راستوں سے واقف تھا- ہم مزار کی طرف روانہ ہو گئے- جوں جوں شاہ عبدالطیف بھٹائی کا مزار قریب آ رہا تھا، مجھ پر ایک عجیب طرح کا خوف طاری ہونے لگا- مجھ پر اکثر ایسا ہوتا ہے- میں علم سے اتنا متأثر نہیں ہوں، جتنا کریکٹر سے ہوں- علم کم تر چیز ہے، کردار بڑی چیز ہے- اس لئے صاحبانِ کردار کے قریب جاتے ہوئے مجھے بڑا خوف آتا ہے- صاحبانِ علم سے اتنا خوف نہیں آتا، ڈر نہیں لگتا۔
جب ہم وہاں پہنچے تو بہت سے لوگ ایک میلے کی صورت میں ان کے مزار کے باہر موجود تھے- گھوم پھر رہے تھے- ہم میاں بیوی کافی مشکل سے مزار کے صحن میں داخل ہوئے- بہت سے لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام سنا رہے تھے-اس کلام میں جب شاہ کی شاعری میں موجود ایک خاص ٹکڑا آتا تو سارے سازندے چوکس ہو کر بیٹھ جاتے اور گانے لگتے۔ کلام میں یہ خاص ٹکڑا اس قدر مشکل اور پیچیدہ ہے کہ وہاں کے رہنے والے بھی کم کم ہی اس کا مطلب سمجھتے ہیں، لیکن اس کی گہرائی زمانے کے ساتھ ساتھ کُھلتی چلی جاتی ہے- ہم بھی وہاں ایک دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو گئے- وہاں کافی رش تھا- کچھ لوگ زمین پر لیٹے ہوئے تھے- عورتیں، مرد سب ہی اور کچھ بیٹھے کلام سن رہے تھے- ہم بھی جا کر بیٹھ گئے- جب شاہ کی وائی ( مخصوص ٹکڑی ) شروع ہوتی تو ایک خادم دھات کے بڑے بڑے گلاسوں میں دودھ ڈال کر تقسیم کرتا-
یہ رسم ہے وہاں کی کہ جب وائی پڑھتے ہیں تو دودھ تقسیم کیا جاتا ہے- گلاس بہت بڑے بڑے تھے، لیکن ان میں تولہ ڈیڑھ تولہ دودھ ہوتا- جب اتنا بڑا گلاس اور اتنا سا دودھ لا کر ایک خادم نے میری بیوی کو دیا، تو اُس نے دودھ لانے والے کی طرف بڑی حیرت سے دیکھا اور پھر جھانک کر گلاس کے اندر دیکھا- میں نے اُس سے کہا کہ دودھ ہے پی لو- میں نے اپنے گلاس کو ہلایا- میرے گلاس کے اندر دودھ میں ایک تنکا تھا- میں اُس تنکے کو نظر انداز کرتا تھا، لیکن وہ پھر گھوم کر سامنے آ جاتا تھا- میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں دودھ کو تنکے سمیت ہی پی جاتا ہوں-چنانچہ میں نے دودھ پی لیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ آپ بھی پئیں، یہ برکت کی بات ہے۔
خیر! اُس نے زبردستی زور لگا کر پی لیا اور قریب بیٹھے ہوئے ایک شخص سے کہا کہ آپ ہمیں تھوڑی سی جگہ دیں- اُس شخص کی بیوی لیٹ کر اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی- اُس شخص نے اپنی بیوی کو ٹہوکہ دیا اور کہا کہ مہمان ہے، تم اپنے پاؤں پیچھے کرو- میری بیوی نے کہا کہ نہیں نہیں، اس کو مت اُٹھائیں- لیکن اُس شخص نے کہا،نہیں نہیں کوئی بات نہیں- اُس کی بیوی ذرا سمٹ گئی اور ہم دونوں کو جگہ دے دی-
انسان کا خاصہ یہ ہے کہ جب اُس کو بیٹھنے کی جگہ مل جائے، تو وہ لیٹنے کی بھی چاہتا ہے-جب ہم بیٹھ گئے تو پھر دل چاہا کہ ہم آرام بھی کریں اور میں آہستہ آہستہ کھسکتا ہوا پاؤں پسارنے لگا- فرش بڑا ٹھنڈا اور مزیدار تھا- ہوا چل رہی تھی- میں نیم دراز ہو گیا- میری بیوی نے تھوڑی دیر کے بعد کہا کہ میں چکر لگا کر آتی ہوں، کیونکہ یہ جگہ تو ہم نے پوری طرح دیکھی ہی نہیں- میں نے کہا ٹھیک ہے- وہ چلی گئی- دس پندرہ منٹ گزر گئے، وہ واپس نہ آئی تو مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں گُم ہی نہ ہو جائے، کیونکہ پیچیدہ راستے تھے اور نئی جگہ تھی۔
جب وہ لوٹ کر آئی تو بہت پریشان تھی- کچھ گھبرائی ہوئی تھی- اُس کی سانس پھولی ہوئی تھی- میں نے کہا، خیر ہے! کہنے لگی آپ اُٹھیں میرے ساتھ چلیں- میں آپ کو ایک چیز دکھانا چاہتی ہوں- میں اُٹھ کراُس کے ساتھ چل پڑا- وہاں رات کو دربار کا دروازہ بند کر دیتے ہیں اور زائرین باہر بیٹھے رہتے ہیں- صبح جب دروازہ کُھلتا ہے تو پھر دعائیں وغیرہ مانگنا شروع کر دیتے ہیں-
جب ہم وہاں گئے تو اُس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگی، آپ ادھر آئیں- شاہ کے دروازے کے عین سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی- اُس کے سر پر جیسے ہمارا دستر خوان ہوتا ہے، اس سائز کی چادر کا ٹکڑا تھا اور اُس کا اپنا جو دوپٹہ تھا وہ اُس نے شاہ کے دروازے کے کنڈے کے ساتھ گانٹھ دے کر باندھا ہوا تھا اور اپنے دوپٹے کا آخری کونہ ہاتھ میں پکڑے کھڑی تھی اوربالکل خاموش تھی۔ اُسے آپ بہت ہی خوبصورت لڑکی کہہ سکتے ہیں۔ اُس کی عمر کوئی سولہ،سترہ یا اٹھارہ برس ہو گی- وہ کھڑی تھی، لیکن لوگ ایک حلقہ سا بنا کر اُسے تھوڑی سی آسائش عطا کر رہے تھے تاکہ اُس کے گرد جمگھٹا نہ ہو- کچھ لوگ، جن میں عورتیں بھی تھیں، ایک حلقہ سا بنائے کھڑے تھے-
میں نے کہا، یہ کیا ہے؟ میری بیوی کہنے لگی، اس کے پاؤں دیکھیں- جب میں نے اُس کے پاؤں دیکھے تو آپ یقین کریں کہ کوئی پانچ سات کلو کے- اتنا بڑا ہاتھی کا پاؤں بھی نہیں ہوتا- بالکل ایسے تھے جیسے سیمنٹ، پتھر یا اینٹ کے بنے ہوئے ہوں- حالانکہ لڑکی بڑی دھان پان کی اور دُبلی پتلی سی تھی- ہم حیرانی اور ڈر کے ساتھ اُسے دیکھ رہے تھے، تو وہ منہ ہی منہ میں کچھ بات کر رہی تھی- وہاں ایک سندھی بزرگ تھے- ہم نے اُن سے پوچھا کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے؟ اُس نے کہا، سائیں! کیا عرض کریں- یہ بیچاری بہت دُکھیاری ہے- یہ پنجاب کے کسی گاؤں سے آئی ہے اور ہمارے اندازے کے مُطابق مُلتان یا بہاولپور سے ہے-
یہ گیارہ دن سے اسی طرح کھڑی ہے اور اس مزار کا بڑا خدمتگار، وہ سفید داڑھی والا بُزرگ، اس کی منت سماجت کرتا ہے تو ایک کھجور کھانے کے لئے یہ منہ کھول دیتی ہے، چوبیس گھنٹے میں- میری بیوی کہنے لگی کہ اسے ہوا کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ اس کے بھائی کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے اور یہ بیچارگی کے عالم میں وہاں سے چل کر یہاں پہنچی ہے اور اتنے دن سے کھڑی ہے اور ایک ہی بات کہہ رہی ہے کہ ُ ُ اے شاہ! تُو تو اللہ کے راز جانتا ہے، تُو میری طرف سے اپنے ربّ کی خدمت میں درخواست کر کہ میرے بھائی کو رہائی ملے اور اس پر مقدّمہ ختم ہو-“ وہ بس یہ بات کہہ رہی ہے- شاہ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں کہ ُ ُ اے لوگو! چودھویں کے چاند کو جو بڑا خوبصورت اور دلکش ہوتا ہے، پہلی کے چاند کو جو نظر بھی نہیں آتا اور لوگ چھتوں پر چڑھ کر اُنگلیوں کا اشارہ کر کے اسے دیکھتے ہیں-
یہ کیا راز ہے تم میرے قریب آؤ میں تمھیں چاند کا راز سمجھاتا ہوں ( یہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی ایک نظم کا حصّہ ہے) وہ لڑکی بھی بیچاری کہیں سے چل کر چلتی چلتی پتا نہیں اس نے اپنے گھر والوں کو بتایا بھی ہے کہ نہیں، لیکن وہ وہاں پہنچ گئی ہے اور وہاں کھڑی تھی- چونکہ رات کو مزار کا دروازہ بند ہو جاتا ہے، اس لئے کوئی کنکشن نہیں رہتا، اس نے اپنا دوپٹہ اُتار کر وہاں باندھ رکھا ہے- وہ بابا بتا رہا تھا کہ اب اس کا چلنا مشکل ہے- بڑی مشکل سے قدم اُٹھا کر چلتی ہےاور ہم سب لوگ اس لڑکی کے لئے دعا کرتے ہیں-
ہم اپنا ذاتی کام بھول جاتے ہیں اور ہم اس کے لئے اور اس کے بھائی کے لئے اللہ سائیں سے گڑگڑا کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تُو اس پر فضل کر- کتنی چھوٹی سی جان ہے اور اس نے اپنے اوپر کیا مصیبت ڈال لی ہے- میں کھڑا اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا- اُس کا دوپٹہ اگر سر سے اُتر جاتا تو وہاں کے لوگ اپنے پاس سے اجرک یا کوئی اور کپڑا اُس کے سر پر ڈال دیتے- میں اس کو دیکھتا رہا- مجھے باہر دیکھنا، وائی سننا اور دودھ پینا سب کچھ بھول گیا- میں چاہتا تھا کہ اس سے بات کروں، لیکن میرا حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا، کیونکہ وہ اتنے بُلند کردار اور طاقت کے مقام پر تھی کہ ظاہر ہے ایک چھوٹا، معمولی آدمی اس سے بات نہیں کر سکتا تھا- ہمیں وہاں کھڑے کھڑے کافی دیر ہو گئی-
ہم نے ساری رات وہاں گزارنے کا فیصلہ کیا- ہم نے ساری رات اس لڑکی کےلئےدعائیں کیں- بس ہم اس کے لئے کچّی پکّی دعائیں کرتے رہے۔ صبح چلتے ہوئے میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب تک پنجاب کا دوپٹہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے کُنڈے سے بندھا ہے پنجاب اور سندھ میں کسی قسم کا کریک نہیں آسکتا- یہ تو اپنے مقصد کے لئے آئی ہے نا، لیکن مقصد سے ماورا بھی ایک اور رشتہ ہوتا ہے- میری بیوی کہنے لگی، کیوں نہیں، آپ روز ایسی خبریں پڑھتے ہیں کہ یہ سندھ کارڈ ہے، یہ پنجاب کارڈ ہے-
جب ایک چودھری دیکھتا ہے کہ لوگوں کی توجّہ میرے اوپر ہونے لگی ہے اور لوگ میرے بارے میں Critical ہونے لگے ہیں، تو وہ پھر کہتا ہے اے لوگو! میری طرف نہ دیکھو- تمھارا چور پنجاب ہے- دوسرا کہتا ہے، نہیں! میری جانب نہ دیکھو تمھارا چور سندھ ہے، تاکہ اس کے اوپر سے نگاہیں ہٹیں، ورنہ لوگوں کے درمیان وہی اصل رشتہ قائم ہے جو مُلتان یا بہاولپور سے جانے والی لڑکی کا شاہ کے مزار سے ہے، جو اکیلی تن تنہا، سوجے پاؤں بغیر کسی خوراک کے کھڑی ہوئی ہے اس کا اعتقاد اور پورا ایمان ہے کہ اس کا مسئلہ حل ہو گا-
اپنی ایک نظم میں شاہ فرماتے ہیں کہ ُ ُ اے کمان کسنے والے تُو نے اس میں تیر رکھ لیا ہے اور تُو مجھے مارنے لگا ہے، لیکن میرا سارا وجود ہی تیرا ہے، کہیں تُو اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچا لے-“
چند سردیاں پہلے کی بات ہے کہ ہمارے باغِ جناح میں پُرانے جم خانے کے سامنے اندرونِ شہر کی ایک خاتون بنچ کے اوپر بیٹھی تھی اور اپنے چھوٹے بچے کو اپنے گُھٹنے کے اوپر پلا رہی تھی- اُس کی تین بچیاں کھیلتے ہوئے باغ میں پھیل گئی تھیں اور ایک دوسری کے ساتھ لڑتی تھیں اور بار بار چیخیں مارتی ہوئی ماں سے ایک دوسری کی شکایت کرتی تھیں-
ذرا دیر بعد پھر ماں کو تنگ کرنا شروع کر دیتیں اور پھر چلی جاتیں- آخر میں پھر لڑتی ہوئی دو بچیاں آئیں اور کہا کہ امّاں اس نے میری فلاں اتنی بڑی چیز لے لی ہے- ایک نے مُٹھی بند کی ہوئی تھی- آخر ماں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا کھول دے مُٹھی- جب اس نے مُٹھی کھولی تو اس میں سوکھا ہوا درخت سے گِرا بھیڑہ تھا- ایک نے کہا، پہلے میں نے دیکھا تھا یہ میرا ہے- اُن کی ماں نے دوسری سے کہا، اسے دے دو- پھر وہ صُلح صفائی کرتے ہوئے بھاگ کر چلی گئیں-
جب میں نے ان کے درمیان اتنی زیادہ لڑائی دیکھی تو میں نے اُس خاتون سے کہا کہ آپ تو مشکل میں پڑی ہوئی ہیں- یہ بچے آپ کو بہت تنگ کرتے ہیں- تو اُس نے کہا کہ بھائی! مجھے یہ بہت تنگ کرتے ہیں، لیکن میں اِن سے تنگ ہوتی نہیں- میں نے کہا وہ کیسے؟ کہنے لگیں، یہ جو میرے بچے ہیں، اپنی نانی کے مرنے کے بعد پیدا ہوئے ہیں- میں سوچتی ہوں کہ اگر ان کی نانی زندہ ہوتی تو یہ بچیاں کتنی ہی شیطانیاں کرتیں، ضد کرتیں، لڑائیاں کرتیں، لیکن پھر بھی اپنی نانی کی پیاریاں اور لاڈلیاں ہی رہتیں۔ جب میرے ذہن میں یہ خیال آتا ہے تو یہ کچھ بھی کریں- میں اپنی نانی کی حوالے سے ان کو معاف کر دیتی ہوںاور یہ مزے سے کھیلتی رہتی ہیں، حالانکہ جسمانی اور ذہنی وروحانی طور پر مجھے تنگ کرتی ہیں-
جب اُس نے یہ بات کی تو میں سوچنے لگا کہ کیا ہمارے سیاسی اور سماجی وجود میں کوئی نانی جیسا تصوّر نہیں آسکتا؟ کیا ہمیں ایسا لیڈر نہیں مل سکتا، یا سکا جس کے سہارے ہم اپنی مشکلات کو اس کے نام Dedicate کر کے یہ کہیں کہ اگرایسی مشکلات ہوتیں اور اگر قائداعظم زندہ ہوتے تو ہم ان کے حوالے کر دیتے کہ جی یہ مشکلات ہیں اور وہ ان کو ویسے ہی سمیٹ لیتے جیسا کہ وہ دوسری مشکلات سمیٹا کرتے تھے، بلکہ اکیلے اُنہوں نے ہی تمام مشکلات کو سمیٹا تھا-
لیکن شاید یہ ہماری قسمت یا مقدّر میں نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ایک دھان پان سی، دُبلی پتلی لڑکی اتنی ہمّت کر کے اپے ذاتی مقصد کے لئے اتنا بڑا کنکشن میرے آپ کے اور سندھ کے درمیان پیدا کر سکتی ہے، تو ہم جو زیادہ پڑھے لکھے، دانشمند اور دانشور لوگ ہیں یہ دل اور روح کے اندر مزید گہرائی پیدا کرنے کے لئے کچھ کیوں نہیں کر سکتے؟
کوئی ایسی صبح طلوع ہو یا کوئی ایسی شام آئے، جب ہم دیوار سے ڈھو لگا کر ایک Meditation میں داخل ہوتے ہیں، تو کیا اس مراقبے میں یہ ساری چیزیں نہیں آتیں، یا یہ کہ ہم اس مراقبے کے اندر کبھی داخل ہی نہیں ہو سکے؟ ایک چھوٹی سی لڑکی اس طرح ایک تہیہ کے اندر اور ایک ارادے کے اندر داخل ہو گئی تھی اور ہم جو بڑے ہیں ان سے یہ کام نہیں ہو تا- اس کے باوجود میں بہت پُر امید ہوں کہ یقیناً ایسا وقت آجائے گا جس کا کوئی جواز ہمارے پاس نہیں ہو گا، جس کی کوئی منطق نہیں ہو گی-
لیکن وہ وقت ضرور آئے گا، کیوں آئے گا، کس لئے آئے گا، کس وجہ سے اورکیسے آئے گا؟ اس کا بھی کوئی جواب میرے پاس نہیں ہے- لیکن اتنی بڑی معاشرتی زندگی میں جان بوجھ کر یا بیوقوفی سے ہم جو نام لے چکے ہیں، انہیں کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی مقام پر پہنچ کر سفل ہونا ضروری ہے- یہ میرا ایک ذاتی خیال ہے، جس کے ساتھ میں وابستہ رہتا ہوں- مایوسی کی بڑی گھٹائیں ہیں، بڑی بے چینیاں ہیں، بڑی پریشانیاں ہیں-اکنامکس کا آپ کے یوٹیلیٹی بلز کا ہی مسئلہ اتنا ہو گیا ہے کہ انسان اس سے باہرہی نہیں نکلتا-
آدمی روتا رہتا ہے، لیکن ہمارے اس لاہور میں، ہمارے اس مُلک میں اور ہمارے اس مُلک سے ماورا دوسری اسلامی دنیا میں کچھ نہ کچھ تو لوگ ایسے ضرور ہوں گے جو اکنامکس کی تنگی کے باوصف یہ کہتے ہوں گے جو میں نہیں کہہ سکتا- میں کسی نہ کسی طرح سے خوش ہو سکتا ہوں، کیونکہ خوشی کا مال ودولت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں- ہمارے بابے کہا کرتے ہیں کہ اگر مال ودولت کے ساتھ جائیداد کے ساتھ خوشی کاتعلق ہوتا تو آپ اتنی ساری چیزیں چھوڑ کرکبھی سوتے ناں! ان ساری چیزوں کو آپ اپنی نگاہوں کے سامنے چھوڑ کر سو جاتے ہیں اور سونا اتنی بڑی نعمت ہے جو آپ کو راحت عطا کرتی ہےاور اگر آپ کو کوئی جگائے تو آپ کہتے ہیں کہ مجھے تنگ نہ کرو- اگر اس سے کہیں کہ تیری وہ کار، جائیداد اور بینک بیلنس پڑا ہے تو اس سونے والے کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی- اس سے طے یہ پایا کہ یہ دولت یہ مال ومتاع یہ سب کچھ آپ کو خوشی عطا نہیں کرتے، خوشی آپ کے اندر کی لہر ہے-
مچھلی جس کو پکڑ لے وہ اس لہر پر ڈولفن کی طرح سوار ہو کر دُور جا سکتی ہے- اگر وہ لہر نہ پکڑی جائے تو پھر ہماری بد قسمتی ہے- پھر ہم کچھ نہیں کر سکتے- اس لہر کو دیکھنا، جانچنا اور پکڑنا اور اس پر سوار ہونا شہ سواروں کا کام ہے، عام لوگوں کا نہیں- بڑی تکلیفیں اور دقّتیں ہیں، لیکن ان کے درمیان رہتے ہوئے بھی کئی آدمی گاتے ہوئے گزر جاتے ہیں اور ہم اپنے کانوں سے ان کا گانا سُنتے ہیں اور ہم ان کی تحقیق نہیں کر سکتےکہ ان کے اندر کون سی چُپ لگی ہوئی ہے، کس قسم کی پروگرامنگ ہوئی ہوتی ہے کہ یہ گاتے چلے جا رہے ہیں- اللہ آپ کو خوش رکھے اور بہت سی آسانیاں عطا فرمائے اور خداوند تعالٰی آپ کو آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے- اللہ حافظ!
محبوب کون۔۔۔زاویہ سے اقتباس
میری بیوی (بانو قدسیہ) اپنے بیٹے کو، جو سب سے بڑابیٹا ہے، اس کو غالب پڑھارہی تھی، وہ سٹوڈنٹ تو سائنس کا تھا، B.Scکا، اردو اس کا آپشنل مضمون تھا۔ غالب وہ پڑھا رہی تھی تو وہ اوپر بیٹھا کچھ توجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں نیچے بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ہماری ایک میانی سی ہے اس پر بیٹھ کر پڑھ رہے تھے تو میری بیوی نے آواز دے کر شکایت کی کہ دیکھو جی یہ شرارتیں کر رہا ہے، اور کھیل رہا ہے کاغذ کے ساتھ ، اور توجہ نہیں دے رہا۔ میں اس کو پڑھا رہی ہوں۔ تو اس نے کہا، ابو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ امی کا قصور ہے۔
اس سے پوچھ رہا ہوں۔ امی محبوب کیا ہوتا ہے، اور یہ بتا نہیں سکتیں کہ محبوب کیا ہے۔ میں نے کہا، بیٹے میں بتاتا ہوںکہ محبوب وہ ہوتا ہے جس سے محبت کی جائے۔ کہنے لگا، یہ تو آپ نے ٹرانسلیشن کر دی۔ ہم تو سائنس کے سٹوڈنٹ ہیں ہم اس کی Definition جاننا چاہتے ہیں کہ محبوب کیا ہوتا ہے۔ یہ امی نے بھی نہیں بتایا تھا۔ آپ ایک چھوڑکر دو ادیب ہیں۔ دونوں ہی ناقص العقل ہیں کہ آپ سمجھا نہیں سکے۔ میں نے کہا، یہ بات تو ٹھیک کہہ رہا ہے۔ یہ تو ہم نے اس کا ٹرانسلیشن کر دیا، لیکن محبوب کی Definition تو نہیں دے سکے اسے۔ میں نے کہا بانو قدسیہ اور وہ میرا بیٹا نیچے اتر آئے۔ میں نے کہا، چلو جی بابا جی کے پاس چلتے ہیں ڈیرے پر، وہاں سے پوچھتے ہیں یہ محبوب کیا ہوتا ہے۔ اس نے کہا، چھوڑیں آپ ہر بات میں بابا کو لے آتے ہیں۔ وہ بے چارے ان پڑھ آدمی ہیں۔ بکریاں وکریاں رکھی ہیں، گڈریا قسم کے ، وہ کیا بتائیں گے۔ میں نے کہا نہیں مجھے جانے دیں پلیز۔
بانوقدسیہ بھی ساتھ بیٹھ گئی ۔ گاڑی لے کر ہم نکلے، وہاں پہنچے۔ انفنٹری روڈ پر۔ بابا جی ہانڈی وغیرہ پکانے میں مصروف تھے۔ دال پکا رہے تھے۔ ساتھ تنور تھا۔ روٹیاں لگوانے کے لیے لوگ بیٹھے ہوئے تھے، تو یہ میری بیوی اتری جلدی سے جیسے آپ پنجابی میں کہتی ہیں اگل واہنڈی پہلے ہی پہنچ کے، اس نے جلدی سے اونچی آواز میں یہ کہا کہ جو باہر مجھے سنائی دی۔ میں تالا لگارہا تھا گاڑی کو۔ اس نے اونچی آواز میں کیا، باباجی محبوب کیا ہوتا ہے۔ تو بابا جی کی عادت تھی کہ وہ انگلی اُٹھا کر بات کرتے تھے۔
جب کوئی Definition دینی ہوتی تھی، کوٹ ایبل کوٹ ہوتی تھی تو ہمیشہ انگلی اٹھا کر بات کرتے تھے، اور انہوں نے ایک انگریزی کا لفظ، پتا نہیں کہاں سے سیکھا تھا، نوٹ(Note) تو ہم Attentiveہو جاتے تھےکہ اب اس کے بعد کوئی ضروری بات آرہی ہے، تو انہوں نے ڈوئی چھوڑ دی جو پھیر رہے تھے۔ کہنے لگےنوٹ”محبوب وہ ہوتا ہے جس کا نہ ٹھیک بھی ٹھیک نظر آئے” یہ Definition تھی ۔ بچوں کی کافی چیزیں ناٹھیک ہوتی ہیں، لیکن ماں اس سے محبت کرتی ہے۔ اس کی ہر چیز نہ ٹھیک ہوتی ہے۔ وہ محبوب ہوتا ہے جس کے نہ ٹھیک کا پتا ہوتا ہے کہ نہ ٹھیک ہے، لیکن ٹھیک نظر آتا ہے۔
اشفاق احمد
السلام علیکم محترم سائیں صفدر ھمٰدانی صاحب! بالکل بجا فرمایا آپ نے۔
ہم تقلید کرتے مغرب کے اب تو اس احساسٍ ذلت کے ایسے لگتا ہے کہ جیسے عادی سے ہوگئے ہیں، اور بالکل اسی طرح سے جیسے برٹش دور میں “سر” یا “خانبہادر” کا خطاب دے کر “بڑا نوکر” ہونے کے اعزاز کو طرہ امتیاز سمجھتے تھے ہمارے بڑے ٹھیک اسی طرح سے زمانہ تو بدل گیا ہے لیکن ہم اس روح کے بھوکے اور کھوکھلے مغرب کو تو واقعی اتم اور اعلیٰ سمجھتے سمجھتے ہم یہ بھول ہی گئے ہیں کہ ہم کیا ہیں!
نادانی میں ساری دانش گروی رکھ دی ہے ہم نے۔
لیکن جیسے ڈاکٹر ول ڈیورانٹ کہتا ہے کہ ایک دن مغرب کا منہ یہی مشرق دھلائے گا!
مجھے انتظار ہے اس دن کا!
میں مایوس نہیں!
انشاءاللہ
دعاگو
فیاض امر
وعلیکم السلام زرقا بہن،
اور لاکھ لاکھ احسان آپ کے کہ آپ نے زاویہ مین ایک انتہائی دل کو چھولینے والا باب یہاں سب کے سامنے پیش کیا!
احسانمند رہونگا۔
اور بہنا نگہت کا کہ جس نے “محبوب کون” والا قتباس یہاں اس بلاگ میں مزین کیا!
بندہ تہٍ دل سے عمر بھر مشکور رہے گا!
موالا سلامت رکھے آپ دونوں کو۔ آمین
دعاگو
فیاض امر
میں یہاں “زاویہ” کے ایک باب “ملٹی نیشنل خواہشیں” سے ایک اقتباس پیش کر رہا ہوں:
“1948ء میں ہم نے ایک فریج خریدا،کیونکہ میری بیوی کہتی تھی کہ فریج ضرور لینا یہ دُنیا کی سب سے قیمتی اور اعلٰیٰ درجے کی چیز ہے- ہمارے خاندان میں کسی کے پاس فریج نہیں تھا- وہ ہمارے گھر سالم تانگے کروا کر فریج دیکھنے آتے تھے کہ سُبحان اللہ کیا کمال کی چیز ہے- میری بیوی انہیں دکھاتی تھی کہ دیکھو ڈھکنا کُھلا ہے اور اس میں ساری چیزیں پڑی ہیں اور ان پر روشنی پڑ رہی ہے- ساری چیخیں مارتی تھیں کہ آپا جی بتّی جلتی رہے گی- تو وہ کہتی” ہے ہے! جب دروازہ بند ہوگا توبتّی خود بخود بجھ جائے گی- اس میں یہ کمال ہے-“ تو وہ ساری بیچاریاں دست بستہ ہو کر ڈر کے پیچھے ہو کر کھڑی ہو جاتیں- میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ فریج تو آ گیا ہے اس کے ساتھ کی ساری نیگٹیؤ چیزیں بھی آئیں گی- اُس نے کہا، نہیں یہ بڑی مُفید چیز ہے-
اگلے روز عید تھی- جب میں نمازِ عید پڑھ کے صوفی غلام مُصطفٰی تبسّم کے گھر کے آگے سے گُزرا تو گھروں میں صفائی کرنے والی دو بیبیاں جا رہی تھیں، میں اُن کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا- ایک نے دوسری سے پوچھا کہ اس بی بی نے تجھے کتنا گوشت دیا ہے- تو اُس نے کہا، دفع دُور! اُس نے ٹھنڈی الماری خرید لی ہے، سارا بکرا کاٹ کے اندر رکھ دیا ہے، کچھ بھی نہیں دیا- اب آپ لوگ میرا بندوبست کرو کہ میں اپنے آپ کو کیسے بچاؤں-
اشفاق احمد مرحوم کی روح خوش رہی ہوگی کہ بالاخر یہ بلاگ ان کی تحریروں کے پڑھنے کا موقعہ عطا کررہا ہے اور انکی نثر نویسی اور روحانی عظمت کی عکاسی کررہا ہے۔
یہ بات قاب، مطالعہ ہے کہ اشفاق احمد نے سندھ اورپنجاب کے رشتہ کے متعلق یہ لکھا :
” صبح چلتے ہوئے میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب تک پنجاب کا دوپٹہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کے کُنڈے سے بندھا ہے پنجاب اور سندھ میں کسی قسم کا کریک نہیں آسکتا- یہ تو اپنے مقصد کے لئے آئی ہے نا، لیکن مقصد سے ماورا بھی ایک اور رشتہ ہوتا ہے- میری بیوی کہنے لگی، کیوں نہیں، آپ روز ایسی خبریں پڑھتے ہیں کہ یہ سندھ کارڈ ہے، یہ پنجاب کارڈ ہے- ”
۔۔۔۔۔۔
بقول سلیم کوثر : ” یہ چراغ ہے تو جلارہے ”
۔۔
منظور قاضی ا ز جرمنی
بابا کی تعریف۔۔۔۔اشفاق احمد
ہم زاویہ کے بیشتر پروگرموں میں بابوں کی بات کرتے ہیں، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ بابوں کی Definition سے یا ان کی تعریف سے ہیئتِ ترکیبی سے آپ یقیناً بہت اچھی طرح واقف ہوں گے، لین میرا یہ اندازہ بالکل صیحح نہیں تھا۔ اب میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کروں، اور اس کی ایک چھوٹی سی تعریف بھی کروں، بابا کی۔ بابا وہ شخص ہوتا ہے جو دوسرے انسان کو آسانی عطا کرے۔ یہ اس کی تعریف ہے۔ آپ کے ذہن میں یہ آتا ہو گا کہ بابا ایک بھاری فقیر ہے۔ اس نے سبز رنگ کا کرتا پہنا ہوا ہے۔ گلے میں منکوں کی مالا ہے۔ ہاتھ میں اس کے لوگوں کو سزا دینے کا تازیانہ پکڑا ہوا ہے، اور آنکھوں میں سرخ رنگ کا سرمہ ڈالا ہے۔ بس اتنی سی بات تھی۔
ایک تھری پیس سوٹ پہنے ہوئے اعلٰی درجے کی سرخ رنگ کی ٹائی لگائی ہے۔ بیچ میں سونے کا پن لگائے ہوئے ایک بہت اعلٰی درجے کا بابا ہوتا ہے۔ اس میں جنس کی بھی قید نہیں ہے۔ مرد عورت، بچہ، بوڑھا، ادھیڑ نوجوان یہ سب لوگ کبھی نہ کبھی اپنے وقت میں بابے ہوتے ہیں، اور ہو گزرتے ہیں۔ لمحاتی طور پر ایک دفعہ کچھ آسانی عطا کرنے کا کام کیا۔ اور کچھ مستقلاً اختیار کر لیتے ہیں اس شیوے کو۔ اور ہم ان کا بڑا احترام کرتے ہیں۔
میری زندگی میں بابے آئے ہیں اور میں حیران ہوتا تھا کہ یہ لوگوں کو آسانی عطا کرنے کا فن کس خوبی سے کس سلیقے سے جانتے ہیں۔ میری یہ حسرت ہی رہی۔ میں اس عمر کو پہنچ گیا۔ میں اپنی طرف سے کسی کو نہ آسانی عطا کر سکا، نہ دے سکا اور مجھے ڈر لگتا ہے کہ نہ ہی آئندہ کبھی اس کی توقع ہے۔ جب ہم تھرڈایئر میں تھے تو کرپال سنگھ ہمارا ساتھی تھا۔ ہم اس کو کرپالاسنگھ کہتے تھے۔ بیچارہ ایسا ہی آدمی تھا جیسے ایک پنجابی فوک گانے والا ہوتا ہے۔ لال رنگ کا لباس پہن کے بہت ٹیڑھا ہو کے گایا کرتا ہے۔
ایک روز ہم لاہور کے بازار انارکلی میں جا رہے تھے تو سٹیشنری کی دکانوں کے آگے ایک فقیر تھا۔ اس نے کہا بابا اللہ کے نام پر کچھ دے تو میں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ پھر اس نے کرپال سنگھ کو مخاطب کر کے کہا کہ اے بابا سائیں کچھ دے۔ تو کہنے لگا کہ بھاجی اس وقت کچھ ہے نہیں، اور اس کے پاس واقعی نہیں تھا۔ تو فقیر نے بجائے اس سے کچھ لینے کے بھاگ کر اس کو اپنے بازوؤں میں لے لیا اور گھٹ کے چبھی (معانقہ) ڈال لی۔ کہنے لگا، ساری دنیا کے خزانے مجھ کو دیئے، سب کچھ تو نے لٹا دیا۔ تیرے پاس سب کچھ ہے۔ تو نے مجھے بھاجی کہہ دیا۔ میں ترسا ہوا تھا اس لفظ سے۔ مجھے آج کسی نے بھا جی نہیں کہا۔ اب اس کے بعد کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
ان دنوں ہم سارے ہوسٹل کے لڑکے چوری چھپے سینما دیکھنے جاتے تھے۔ تو لاہور بھاٹی کے باہر ایک تھیٹر تھا اس میں فلمیں لگتی تھیں۔ میں ارواند، غلام مصطفٰی، کرپال یہ سب۔ ہم گئے سینما دیکھنے، رات کو لوٹے تو انار کلی میں بڑی یخ بستہ سردی تھی، یعنی وہ کرسمس کے قریب کے ایام تھے سردی بہت تھی۔ سردی کے اس عالم میں کہرا بھی چھایا ہوا تھا۔ ایک دکان کے تختے پر پھٹا جو ہوتا ہے، ایک دردناک آواز آ رہی تھی ایک بڑھیا کی۔ وہ رو رہی تھی اور کراہ رہی تھی، اور بار بار یہ کہے جا رہی تھی کہ ارے میری بہوجھے بھگوان سمیٹے تو مر جائے نی، مجھے ڈال گئی، وہ بہو اور بیٹا اس کو گھر سے نکال کے ایک دکان کے پھٹے پر چھوڑ گئے تھے۔ وہ دکان تھی جگت سنگھ کواترا کی جو بعد میں بہت معروف ہوئے۔
ان کی ایک عزیزہ تھی امرتا پرتیم، جو بہت اچھی شاعرہ بنی۔ وہ خیر اس کو اس دکان پر پھینک گئے تھے۔ وہاں پر وہ لیٹی چیخ و پکار کر رہی تھی۔ ہم سب نے کھڑے ہو کر تقریر شروع کی کہ دیکھو کتنا ظالم سماج ہے، کتنے ظالم لوگ ہیں۔ اس غریب بڑھیا بیچاری کو یہاں سردی میں ڈال گئے۔ اس کا آخری وقت ہے۔ وہاں اروند نے بڑی تقریر کی کہ جب تک انگریز ہمارے اوپر حکمران رہے گا، اور ملک کو سوراج نہیں ملے گا ایسے غریبوں کی ایسی حالت رہے گی۔
پھر وہ کہتے حکومت کو کچھ کرنا چاہیے۔ پھر کہتے ہیں۔ اناتھ آشرم (کفالت خانے، مقیم خانے) جو ہیں وہ کچھ نہیں کرتے۔ ہم یہاں کیا کریں۔ تو وہ کرپال سنگھ وہاں سے غائب ہو گیا۔ ہم نے کہا، پیچھے رہ گیا یا پتا نہیں کہاں رہ گیا ہے۔ تو ابھی ہم تقریریں کر رہے تھے۔ اس بڑھیا کے پاس کھڑے ہو کے کہ وہ بایئسکل کے اوپر آیا بالکل پسینہ پسینہ سردیوں میں، فق ہوا، سانس اوپر نیچے لیتا آگیا۔
اس کے ہوسٹل کے کمرے میں چارپائی کے آگے ایک پرانا کمبل ہوتا تھا جو اس کے والد کبھی گھوڑے پر دیا کرتے ہوں گے۔ وہ ساہیوال کے بیدی تھے۔ تو وہ بچھا کے نا اس کے اوپر بیٹھ کر پڑھتے وڑھتے تھے۔ بدبودار گھوڑے کو کمبل جسے وہ اپنی چارپائی سے کھینچ کر لے آیا بایئسکل پر، اور لا کر اس نے بڑھیا کے اوپر ڈال دیا، اور وہ اس کو دعائیں دیتی رہی۔ اس کو نہیں آتا تھا وہ طریقہ کہ کس طرح تقریر کی جاتی ہے۔ فنِ تقریر سے ناواقف تھا۔ بابا نور والے کہا کرتے تھے انسان کا کام ہے دوسروں کو آسانی دینا۔ آپ کا کوئی دوست تھانے پہنچے، اور وہ تھانے سے آپ کو ٹیلی فون کرے کہ میں تھانے میں آگیا ہوں۔
سفر در سفر از اشفاق احمد سے کچھ اقتباس
سمجھوتے میں زبردستی کا عنصر ہوتا ہے۔۔ مان لینے کی کیفیت نہیں ۔۔سب کچھ جانتے ہوئے سمجھوتا کرنا بڑا کربناک ہوتا ہے ۔مگر ماننے کے لیئے جاننا ضروری نہیں ہوتا۔۔۔
منزل قریب آنے پر مسافر ایک دوسرے سے اور ساربان سے دور ہونے لگتے ہیں۔۔منزل بھی کیا محبوب ہے کہ جب قریب آجاتی ہے تو محبت کرنے والے ایک دوسرے کے رقیب بن جاتے ہیں
راستہ پتھریلا ہو’ سورج کی تمازت تیز ہو ‘ ہر قدم پر چڑھائی ہو تو مسافت مشکل سے طے ہوتی ہے۔۔
پھولوں سے محبت کرنے والے کیا مرد کیا عورتیں عام طور پر معمولی شکل و صورت کے ہوتے ہیں ۔۔وہ پھولوں کی خوشبو سے ‘ ان کی رنگت سے یا ان کی گھڑت سے پیار نہیں کرتے’ ان کے ہونے سے پیار کرتے ہیں ۔
“بابا لوگ ہر انسان کو ملتے ہیں، لیکن ہر انسان کے پاس وہ آنکھ نہیں ہوتی کہ وہ ‘بابا لوگ’ کو جان سکے، اور اگر کسی انسان کو وہ شناسیت عطا ہوجائے کہ یہ ہے ‘بابا’ تو کیا کہنا!
یہ تو ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی مریض ہوکر ہسپتال میں داخل ہوجائے تو وہ آنے والے ڈاکٹر کا مذہب نہیں پوچھتا، بس اس کو علاج کی ضرورت ہے، سو کوئی بھی کرے!
اسی طرح روحانی طور پر ہم کسی نہ کسی طور پر مشکلات کا شکار ہوتے رہتے ہیں! جس کا اثر پھر جسمانی طور پر لازم ہے کہ پڑے! تب یہ بابے لوگ کہیں نہ کہیں سے آجاتے ہیں! اور وہ ہماری مشکل آسان کرجاتے ہیں! اب ان کا ہم مذہب یا ذات برادری نہیں پوچھتے کہ تم کون ہو، کیا ہو؟
جیسے نور والی سرکار فرماتے تھے کہ وقت شقت کچھ نہیں، سب موجود ہے۔۔۔۔۔ بس آنکھ چاہیے کہ ہم پہچان سکیں!
یہ گورے بڑا کمال کرتے ہیں!
دیکھتے ہو کہ کس طرح صدیوں پرانے کرداروں کو موجودہ ادوار میں لے کر آتے ہیں، جو وہ فلموں میں دکھاتے ہیں!
یہ بناتے ان فلموں سے پئسہ ہیں ، لیکن سچ میں ہمیں سیکھنا چاہیے ان سے اب! ان فلموں میں بھی بابا لوگ نظر آتے آتے ہیں! میں تو دیکھا ہے کہ جس ڈاکٹر لوگ مریضوں میں ملتے ہیں ہیں، ٹھیک اسی طرح بابا لوگ بھی سماج کے گرے ہوئے کرداروں میں اکثر مل جاتے ہیں!”
(انٹرویو سے اقتباس)
یہاں میں “دوما پرائز” کے موقع پر آپا بانو قدسیہ نے جو تقریر کی تھی اس سے چند اقتباس پیش کر رہا ہوں، اس امید پر کہ آپ بہت محفوظ ہونگے:
—————————
“قدرت کی عجب ستم ظریفی ہے کہ کوئی شخص اپنا چہرہ دیکھ نہیں پاتا. وہ ہمیشہ آئینوں کا مرہون منت رہتا ہے. چاہے ٹھہرے پانیوں میں ہی عکس دیکھے، اسے من کو دیکھنے کے لیے “تو” کی ضرورت رہتی ہے. محتاج انسان سب سے زیادہ مہربان آئینوں کی تلاش میں رہتا ہے. حسنٍ اتفاق سے ایسے آئینے صرف محبت کرنے والوں کے پاس ہوتے ہیں. اور وہ ہی فنونٍ لطیفہ سے وابستہ ادیبوں شاعروں کلاکاروں آرٹسٹوں مصوروں کو روشنی کے ہالے عطا کرتے ہیں. ڈبہ پیر کے شخصا کو سونے کے فریم میں گلاب کے ہار پہنانے والے وہ عقیدتمند ہیں جن کی وجہ سے خود پیر صاحب کو بھی اپنے آپ کو کامل سمجھنے میں تکلف نہیں ہوتا. بد شکل ایکٹریس کو کیمرے کا لینز کچھ اس طور قبول کرتا ہے کہ اس کی بد صورتی تمامتر حسن میں بدل جاتی ہے، اور خود اسے یقین آجاتا ہے کہ وہ دنیا کی خوبصورت ترین تخلیق ہے. تالی بجانے والے چھوٹے بونے کو قد آور پہلوان میں بدل سکتے ہیں.
یہ سب آئینوں کے کرشمے ہیں. مشکل اس وقت پڑتی ہے جب اچانک کسی لمحے مارلن منرو کو اپنی اصل سورت کسی مختلف آئینے میں نظر آجاتی ہے. میر انشاءاللہ خان پر ذات کا عرفان کھلتا ہے اور پاپا ہمیونگ کی ملاقات ادیب ہمیونگ وے سے ہوجاتی ہے.
ایک انسان کو سنی سنائی تعریف و توصیف سے اپنے شخصا کا قد ناپنے کی عادت پڑ جاتی ہے. دوسرے وہ اپنے سائے سے اپنے قد کے اندازے لگاتا ہے. ڈھلتی دھوپ میں تو یہ ڈراؤنے سائے لمبے ہوتے ہیں. لیکن جب سورج شہرت کے نصف النہار پر ہو تو اپنا سایہ نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور شہرت یافتہ یہ سمجھ نہیں سکتا کہ اس کے اندر وہ ساری کمزوریاں خرابیاں ، گھٹیاپن اور نقائص موجود ہیں جن سے کل انسانوں کا خمیر اٹھا ہے.
انسان اپنے ‘پرسونا’ کے زعم میں اپنے آپ کو کچھ کچھ مافوق الفطرت سمجھ کر سوچنے لگتا ہے شاید اس سایہ ہی نہیں ہے. اور وہ خوبیوں کا پیکر ہے، مجھے بھی اس غیر متوقع سائے سے ملاقات کی امید نہ تھی، عجب اتفاق ہے کہ اس انعام نے جہاں مجھے اصلی آئینہ دکھلایا وہاں ایک لمبا سایہ بھی میرے قدموں سے گریز کرتا دور جا پڑا. آپ نے ہی میرے اندر کے چور کو مجھ سے متعارف کرادیا.
…………………………….
“امریکہ کی بڑائی اس کی سائنس میں نہیں اس کی زباں میں ہے. امریکی سے زیادہ اس کی زبان اہم ہے. جب تک کوئی زبان اپنے لوگوں کی خدمت کرتی ہے رہتی ہے اس کا ستارہ سر بلند رہتا ہے. امریکی لوگوں نے انگریزی کو کچھ اس چور پر ہتھیایا ہے کہ اب انگلستان میں یہ زبان اجنبی پسماندہ اور ٹھٹھری ہوئی نظر آتی ہے، امریکہ میں گھستے ہی ایک بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہاں رنگ نسل علائقہ رہن سہن سب پر امریکن انگریزی حاوی ہے. سیاہ افریقی، خوبصورت اطالوی، شستہ فراسیسی ، نظر چرانے والا ہسپانوی، بھاری بھر کم سفید فام امریکی شب زادے سب ایک زبان کے تابع اور غلام ہیں. بلکہ تمام تارکین وطن جہازوں سے اترتے ہی اس زبان کی لپیٹ میں آجاتے ہیں. پھر پاکستانی، ہندستانی، جاپانی، چینی، روسی، سری لنکن اپنی اپنی بولی بولتے نظر نہیں آتے. اسی امریکی زبان کے سحر میں جکڑے کاتے ہیں. امریکن نہ کسی کا کلچر مسخ کرتا ہے، نہ کسی مذہب سے جھگڑا کرتا ہے. بس وہ اپنی زبان کا Lasso پھینک کر اجنبی دوست ، دشمن سب کو پکڑلیتا ہے. وہ چلتے چلتے Slang تیار کرتا ہے. فعل کو اسم اور اسم کو فعل میں بدلتا ہے. وہ سڑکوں پر Route لکھتا ہے، اور اسے راؤٹ کا تلفظ عطا کرتا ہے اور کسی کو پوچھنے کی جرئت نہیں ہوتی کہ صاحب ہم تو کالونی رہ چکے ہیں. انگریز بادشاہ نے راؤٹ کا کچھ اور تلفظ دیا تھا. جو بھی تیتر بٹیر ، بھیڑیا گیدڑ، مگر مچھ، ہرن اس کے جنگلوں میں چلتا پھرتا ہے امریکن زبان میں اضافہ کرتا رہتا ہے. اس پھیلاؤ کے عمل کا تقاضہ ہے کہ زبان مزاجوں ضرورتوں اور اندر کے مطلب کو واضع کرنے والی ہو.
کچھ عرصہ اجنبی لفظ بازاری رہتے ہیں پھر ڈکشنری کا حصہ بن جاتے ہیں. اسی طرح جاپان نے اپنی زبان کو اتنی وسعت دے رکھی ہے کہ ساری سائنس اس میں سما گئی ہے. اور امریکی مانے بغیر معترف ہیں کہ جاپانیوں نے سائنس میں ان پر سبقت حاصل کر لی ہے.
میں بھی اس بات پر نازاں ہوں کہ اردو کسی طور بھی کسی زبان سے پیچھے نہیں. نیو یارک کا اردو مرکز ہو، کینیڈا کے مشاعرے ہوں دوحا کے انعام ہوں، اردو کی پنیری جگہ جگہ لگ گئی ہے. اس لشکری زبان میں پھیلنے کی وہ قدرت ہے کہ ہر علائقہ موسم لوگ اسے قبول کرکے اسے شرفٍ قبولیت بخشتے ہیں. اور یہ زبان خاص طور پر انہیں شناخت ، سر بلندی اور سر فرازی عطا کرتی ہے.”
بانو قدسیہ نے کیا خوب کہا ہے کہ:
” میں بھی اس بات پر نازاں ہوں کہ اردو کسی طور بھی کسی زبان سے پیچھے نہیں. نیو یارک کا اردو مرکز ہو، کینیڈا کے مشاعرے ہوں دوحا کے انعام ہوں، اردو کی پنیری جگہ جگہ لگ گئی ہے. اس لشکری زبان میں پھیلنے کی وہ قدرت ہے کہ ہر علائقہ موسم لوگ اسے قبول کرکے اسے شرفٍ قبولیت بخشتے ہیں. اور یہ زبان خاص طور پر انہیں شناخت ، سر بلندی اور سر فرازی عطا کرتی ہے.”
اور یہ بھی کہ :
“کچھ عرصہ اجنبی لفظ بازاری رہتے ہیں پھر ڈکشنری کا حصہ بن جاتے ہیں”
۔۔۔۔
اس سلسلہ میں امریکیہ ( جس نے امریکی زبان کو زندہ او ر متحرک بنا دیا ) کے متعلق کہا ہے:
” فعل کو اسم اور اسم کو فعل میں بدلتا ہے”
۔۔۔۔۔۔
یہ تما م باتیں اردو داں اور اردو نواز حلقوں کے لیے قابلِ غور ہیں۔ خاص طور پر ان حلقوں کے لیے جو اردو میں وسعت پیدا نہیں کرنا چاہتے جو امریکی لوگ اپنے ملک کی زبان میں پیدا کررہے ہیں
فقط :
علم کا طالب
منظور قاضی
جرمنی سے
((آئینہ وقت)) تعمیر انسانیت کا ذریعہ
تحریر:اشفاق احمد
کتاب ”آئینہ وقت“ کےمصنف کو میں عرصہ پچیس سال سےجانتا ہوں۔ اور اس کےساتھ وقت کی ہر بنت سےگذرا ہوں۔ جو دن ، دوپہر، شام ، رات، اور صبح کاذب اور صادق کےدرمیان نئےنئےچھاپےچھاپتی ہی۔ اور نئےنئےرنگ ابھارتی ہی۔ عنائیت کو میں نےاچھے، بری، تلخ، ترش،کھچاوٹ، کملاوٹ اور کرب و بلا کی کیفیتوں میں بھی دیکھا ہی۔ اس پر بوجھ بھی ڈالا ہی۔ اور اس کا بوجھ کبھی اٹھایا بھی ہےلیکن !
عنائیت اللہ کےموجودہ روپ کا اشارہ مجھےماضی میں کبھی نہیں ملا تھا ۔ میرےوہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ کہ ایک روز جب گولڑہ موڑ پر پہنچےگا۔ تو اس پر ”آئینہ وقت“ جیسی کتاب وارد ہو جائےگی۔
یوں تو مغربی طرز جمہوریت پر حضرت علامہ نےبھی بڑی شدید تنقید کی ہی۔ اور ملت اسلامیہ کی بڑی بڑی اور معتبر دینی جماعتوں نےبھی اس کےمنفی اثرات و آثار سےمسلمانان عالم کو آگاہ کیا ہی۔ لیکن جس سادگی ، صفائی، خلوص، اور دردمندی کےساتھ عنائیت اللہ نےاس بلائےبیدرماں کاتجزیہ کیا ہی۔ وہ ایک معمولی فہم و فراست رکھنےوالےذہن میں بھی بہ آسانی آ جاتا ہی۔ اس کی مزید وضاحت کےلئےآخر کےاکیس سوالوں میں ڈائیرکٹ ایکشن کی روح کارفرما ہی۔ یہ سوالات نہیں ہیں۔ ہماری معاشرتی ، ملی، سیاسی، دینی اور اقتصادی زندگی کےانڈیکیٹر ہیں۔
جس طرح انسانی تاریخ میں بعض ایسےصحت مند موڑ موجود ہیں۔ جنہیں معمولی لوگوں ، معمولی کتابچوں، اور معمولی عملوں نےآنےوالی نسلوں کےلئےمستقل کر دیا ہی۔ اسی طرح مجھےلگتا ہی۔ کہ عنائیت اللہ کا ”آئینہ وقت“ بھی تعمیر انسانیت کےکسی عظیم منصوبےکےلئےڈائنا مائیٹ بن کر طاغوت کی ازلی بربادی کا سامان بن جائےگا۔
((اشفاق احمد))
٣ جولائی ٩٩٩١ ئ