معا شرتی برائیاں نفسیاتی امراض کی وجہ سے ھیں ؟

ھمارے معاشرے میں جتنی بھی برائیاں انسان میں پائی جاتی ھیں یہ دماغی مسلہ کی وجہ سے ھوتی ھیں میں نے کافی بار غور کیا جس سے لوگوں کو کوئی فائدہ نھیں ھوتا پھر بھی وہ اس برائی کو کرتے ھیں جس کی مثال کافی واقعات سے دی جا سکتی ھے ، جسے ایک بدنام زمانہ ملک دشمن شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا سرغنہ ھمارے علاقہ میں آیا تو اس نے کہا کہ جہاں بھی جس گھر پر علم لگا دیکھو اس کے سامنے اس علم سے بھی بڑا جوتا لٹکا دیا کرو یہ بات اس نے اپنے ھم خیال پیرو کاروں سے کہی اب سوچنے کی بات ھے ایسا کرنے سے اس کو کیا فائدہ ھو گا یا وہ کون سے دین کا پیرو کار کہلا سکتا ھے اس طرح کی اشتعال انگیز کاروائی کر کے اس کو زاتی طور سے کیا فائدہ ھو گا یا کسی کے بھی گھر علم مبارک لگا ھے تو اس کو کیا نقصان دے رہا ھے ؟ یہ یقینا دماغی خلل ھے ، کہ اس طرح کے لوگ معاشرے میں انتشار کر کے تسکین حاصل کرتے ھیں پھر دوسری بات میں آپ کو اپنے گھر کام کرنے والی عورت کی بتاتی ھوں میرے شوہر سید منور شاہ علاقہ میں اثر رسوخ رکھتے ھیں اور باپ دادا سے پیری مریدی کا سلسلہ بھی ھے تو ادھر جو بھی کام کے لئے ملازم رکھا جائے وہ اور برائیاں تو ایک طرف چور ضرور ھوتا ھے میں سوچتی تھی کہ اس طرح سے ان کے ساتھ سلوک کیا جائے کہ ان کی چوری کی عادت چھوٹ جائے جیسے ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھا جائے ہر چیز بغیر مانگے دے دی جائے جو خود کھائیں اس میں سے پہلے ان کو دیا جائے لیکن بے سود رہا وہ پھر بھی چوری کرتے ھیں اس کی مثال ایک واقعہ سے واضع کرنا چاھونگی ۔ میں نے کڑی بنائی ادھر سرائیکی وسیب کے لوگ اکثر کڑی کی ڈش یا سالن نھیں کھاتے کہتے ھیں ھم کھٹی چیز نھیں کھاتے بد بو آتی ھے کافی لوگ بہت ھی نفرت کرتے ھیں لیکن میں اکثر بناتی ھوں گھر میں سب کو پسند ھے اس روز بھی میں بنائی تھی اور اپنی عادت کے مطابق کام کرنے والی کو بھی دی اس نے کہا ھمیشہ کی طرح کے نھیں بی بی ھم نھیں کھاتیں ھمیں اچھی نھیں لگتی یوں بھری ھوئی پلیٹ واپس کر دی جب کہ تازہ بنائی ھوئی تھی میتھی دھیناں کی خوشبو بھی آرھی تھی ، تو میں نے ان کو دوسرا سالن دے دیا کہ تم یہ کھا لو لیکن صبح کو میرے بیٹے نے ناشتہ میں کہا کہ میں نے کڑی ھی کھانا ھے اس کو پسند ھے پھر ریفریجریٹر میں رکھی تھی میں نے اسی عورت سے کہا گرم کر دو وہ گرم کرنے گئی تو دیر کر دی میں نے کہا میں خود جا کر دیکھتی ھوں جب میں کچن میں گئی مجھے بڑی حیرت ھوئی وہ عورت گرم کر کے خود کھا رھی تھی مجھے دیکھ کر چھپانے لگی میں نے کہا مت چھپاؤ اس میں کیا برا ھے میں نے تو تمھیں خود دی تھی وہ اس وقت جب با لکل تازہ تھی اب لے رھی ھو تو کیا ھوا لیکن میں سوچنے لگی ان لوگوں کو ہاتھ سے دیا اچھا نھیں لگتا چوری کرنا چھپا کر کھانا ھی اچھا لگتا ھے پتا نھیں کیوں اس طرح سے ان کی تسلی ھوتی ھے اس طرح کی باتیں اکثر ان دیہاتی لوگوں میں دیکھنے کو ملتی ھیں ہاتھ سے دی ھوئی چیز نھیں لیتے لیکن وھی چیز چوری اٹھا لیتے ھیں ، پھر ایک اور عورت کی عجیب عادت ھے وہ میرے سکول کے سامنے مرغائی قصبہ میں رھتی ھے اس کے 12 بچے ھیں خاوند نشہ کرتا ھے اسی بات کو لے کر وہ ہر ایک سے مانگتی ھے کپڑے راشن سب ھی کچھ اور بچوں کو بھی کسی نا کسی کام پر لگا رکھا ھے سکول نھیں پڑھا رھی زیادہ چرب زبان ھونے کی وجہ سے کافی لوگوں سے مدد لے لیتی ھے اکثر لوگ پہنے ھوئے کپڑے دیتے ھیں ا مجھ سے بھی کافی بار لے کر گئ ھے اس قدر کپڑے جمع کر لیتی ھے کہ گھر میں رکھنے کی جگہ نھیں ھوتی پھر وہ سب کو جمع کر کے اپنے گھر کے سامنے خالی جگہ ھے گندگی کا ڈھیر ھے وہاں پر جا کر آگ لگا دیتی ھے مجھے حیرت ھوئی سن کر کیوں اس کا گھر میرے سکول کے سامنے ھی ھے کافی بار آگ کا دھوآں میرے سکول تک آتا ھے تو میں نے بچوں سے پوچھا یہ کیا ھے تو انھوں نے بتایا کہ گڈو نے کپڑوں کو آگ لگائی ھے وہ مٹھن کوٹ شہر سے کپڑے لائی تھی لوگوں سے مانگ کر تو پھلے بھی رکھے تھے بہت زیادہ ھو گئے تھے تو آگ لگا رھی ھے ، وہ یہ کسی دوسرے کو دے سکتی ھے بجائے آگ لگانے کیوں کے اس بستی کہ تمام لوگ ھی غریب ھیں اور اسی طرح ایک ایک گھر میں 12 ،12 بچے ھیں وہ کیوں نھیں دے دیتی آخر خود بھی تو دوسروں سے ھی لیتی ھے ان لوگوں نے بھی اس کو مفت میں ھی دئے تھے وہ پھر کیوں کسی کو نھیں دے سکتی ، کافی بار یہی بات اس کی رشتہ دار خواتین بھی کہتی ھیں کہ ھمیں دینا گوارہ نھیں کرتی آگ لگا دیتی ھے ، جب کہ اگر ھمیں دے تو ھم احسان تھوڑی رکھیں گے ھم بدلہ میں اس کو کوئی اور چیز دے دیں گے کیوں کہ وہ بھی اس طرح دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرنے جاتی ھیں ۔ اس طرح اگر سوچیں تو اس کو آگ لگا کر کپڑوں کو جلا دینے سے کیا فائدہ ھوتا ھے یوں میرے خیال میں ہر وہ بندہ جس سے برائیاں ھی سرزد ھوتی ھیں وہ نفسیاتی مرض میں مبتلا ھوتا ھے ، پتا نھیں آپ سب میرے اس خیال سے متفق ھیں یا نھیں

Published by

سیدہ رافیعہ گیلانی

my name is sayeda rafia gillani ,my nick name ,and pen name is gul , my date of birth is 24 january i have done my graduation and other skill diplomas in beautcian ,and women,s dress designing , i have done also many short cources , like islamic teaching , herbal medicine ,....

4 thoughts on “معا شرتی برائیاں نفسیاتی امراض کی وجہ سے ھیں ؟”

  1. بیٹی رافیعہ سلامت رہو،سدا سہاگن رہو
    میں نے تمھا را بلاگ بہت توجہ سے پڑھا ہے اور میں اپنی حد تک رائے دینے کی مجاز ہوں ،
    ماہر عمرانیات کی نظر میں فرد سے معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے اور عمرانیات کی ایک طالبہ کی حیثیت سے یہ بات کہ رہی ہوں کہ کسی بھی معاشرے کی تشکیل میں وہاں کے معاشرتی عوامل کا عمل دخل ہوتا ہے وہ معاشرہ کس نے بنایا ہے ،جبر،ظلم ،ناانصافی ،استحصال ،اگر اس معاشرے کے خدوخال ہیں تو اس معاشرے کے افراد گوناگوں شخصی برائیوں میں مبتلا ملیں گے اور اگر رحم دلی انصاف ،اقربا کا خیال ،ہمسایوں کی دلداری سے اس معاشرے کی تشکیل ہوئ ہے تو وہ ایک پر امن معاشرہ ہو گا
    اللہ میرے پیارے پاکستان پر رحم کرے تم نے جس معاشرے کی تصویر کھینچی ہے وہ پورا معاشرہ ہمارے ظالمین حاکمین کے ماتحت ہے جس میں شعوری بیداری کا فقدان ہے تم جیسے خال خال ہی ملیں گے اس لئے اپنے حصّے کے چراغ روشن کئے جاؤ
    اس کی جزا آخرت کی کھیتی ہے
    فی امان اللہ

  2. میرا خیال ہے کہ نفسیاتی برائیاں معاشرتی برائیوں سے جنم لیتے ہیں۔

  3. آداب و احترامات سدا سلامت رھیں آپا ماشا اللہ آپ کا مطالعہ بہت وسیع ھے اور علم دوست ھونے کی وجہ سے میرے جیسے لوگوں کے لئے آپ سکول یا مدرسہ کا درجہ رکھتی ھیں اللہ مجھے توفیق دے کے میں آپ سے کچھ سیکھ سکوں ۔ دعا دینے کا شکریہ اللہ پنجتن پاک آپ پر راضی ھوں آمین

  4. اسلام علیکم ساتھیو
    بہن رافیعہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہم میں سے کوئی بھی سنجیدگی سے سوچنے کو تیار نہیں ۔معاشرتی مسائل جب ہی پیدا ہوتے ہیں جب معاشرے اپنی اقدار اپنی بنیادوں اور اپنے حقوق سے بے بہرہ ہوجاتے ہیں ۔جب اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہم دوسروں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے تو شکوہ کسی سے نہیں کیا جا سکتا سوائے اپنے آپ سے ۔
    نفسیاتی برائیوں کا شکار جب ہی ہوتے ہیں جب توجہ کم ہو جاتی ہے جب محبت نہیں ملتی جب نا انصافیاں اپنی حدود کو پار کرنے لگتی ہیں ۔جب حقوق پر ڈاکے ڈلنے لگتے ہیں ۔جب کرنے کو کچھ نہیں ہواتا جب ہر قسم کا علم اچھا برا عام ہو جاتا ہے اور تفریق باقی نہیں رہتی ۔جب ہم ہر برائی کو چھوٹا سمجھ کر اختیار کر لیتے ہیں اور اس بات کا ادراک نہیں کرتے کہ یہ آنے والے وقت میں ہمیں کس طرح نقصان پہنچائیگی ۔ جب طلب زیادہ ہوجاتی ہے تو ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے اور اگر اس وقت ناکامی ہو تو دماغ کا غلط راہ دکھانا اور دل کا اس پر عمل کر لینا سب سے بڑا نفسیاتی مسئلہ بن جاتا ہے ۔
    اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی خواہشات اور دنیا کی طلب چاہے کسی صورت ہو اس میں اعتدال کا درس دیں تو شاید یہ مسائل کچھ کم ہو سکیں ۔
    معاشرے کی اصلاح کے لئے ہر فرد کی اصلاح ضروری ہے ۔جس پر آج کل توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔
    اللہ ہما ری اچھی باتوں میں اثر دے اور ہم اپنی تحریروں سے کچھ فائدہ پہنچا سکیں انشاء اللہ
    عالم آرا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *