کافر کافر کی صدائیں سنتے یقینا ہم سب بیزار ہو چکے ہیں۔ جس کو جی چاہتا ہے دین فروش ملا کافر قرار دے کر اسکی گردن زنی کر لیتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں یو کے میں ایک فوجی کو بے جرم و خطا اس لئے مار دیا گیا کہ کہ ایک برٹش فوجی تھا۔ سوچ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ بھرے بازار میں کس طرح ایک مہذب شہر میں دو درندوں نے انسانی زندگی کے ساتھ کھیل کھیلا۔ اگر اسکا جواب کہیں ہر گندمی رنگ کے مرد و زن اور بچے کو ملنا شروع ہو جائے تو معاشرے کی کیا صورت ہوگی؟؟؟؟
اسلام کی بات کرتے ہوئے اب ڈر لگتا ہے کیونکہ اسکی نمائندگی اب درندوں سے ارذل قوم کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن مجھے اتنا معلوم ہے کہ میرے مکتبہء فکر میں جسکی بنیاد سرکار رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکھی اور اسکی آبیاری جناب علی علیہ السلام نے اپنے خون سے کی، اس میں کہیں بھی کسی بے گناہ کا قتل روا نہیں ہے۔ ہم اس درندہ صفت روش کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور بنا بر قرآئین اسے سراسر خلاف اسلام قرار دیتے ہیں۔ اس طرح کے تمام گروہ جو سفیانی، خارجی اور دجّالی آئین کے نقباء ہیں، انہیں ہم مکمل طور پر خارج از اسلام بھی قرار دیتے ہیں اور خارج از آدمیت بھی۔
ہماری شدید خواہش ہے کہ ان کافروں کو حکومت برطانیہ قرار واقعی سزا دے تا کہ ایسا ظلم ڈھانے کی کسی کو آئیندہ ہمت نہ ہو۔
ایماندار مسلم علماء و صلحاء پر واجب ہے کہ ان خنزیر صفت قاتلوں سے اپنی مکمل بریت کا بر ملا اظہار کریں تا کہ اسلام کو ان خارجیوں سے الگ پہچانا جا سکے۔ ورنہ آئین قرآن کے تحت جو ان کے جرائم پر چپ رہے گا، وہ بحی انہی کے گروہ میں محشور ہوگا۔
سرکار رسالتمآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی اس امر کی گواہ ہے کہ آپ نے کبھی کسی کافر، مشرک اور منافق کی گردن زنی کا حکم نہیں دیا سوائے اسکے جو خود جنگ پر آمادہ ہوا۔ مکہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے تو اس خاموشی سے کہ اپنے قبیلے کو بھی پتہ نہ چلے تا کہ کہیں انکی مخالفت یا حمایت میں بھی تلواریں نہ نکلیں۔ مدینے میں اہل یمن عیسائیوں سے مباہلہ تو کیا لیکن ان شکست خوردہ راہبوں کو بھی عزت و آبرو سے روانہ کیا۔ الغرض رحمت دو عالم کی زندگی ایسی سینکڑوں مثالوں سے بھری ملتی ہے۔ لیکن ہم کیوں زحمت دو عالم کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ جو قدم قرآن و سنت سے بڑھ کر ہوگا، وہ خارج از اسلام ہے چاہے اللہ کی محبت میں ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ کریم کو اطاعت گزار بندے پسند ہیں نہ کہ انایت پرست بندگی۔
فقہائے سواد اعظم کے ہاں ایک قاعدہ ہے کہ لنا حکم علیٰ الظاہر و ربّنا یتولیٰ علی السرائر۔ کہ ہمارے ذمے صرف ظاہر پر حکم لگانا ہے اور مخفی امور کا فیصلہ ہمارا رب کرتا ہے۔ اب قرآن کہتا ہے کہ جس کسی نے ایک بھی شخص کو بے گناہ قتل کیا وہ تمام انسانیت کا قاتل ہے۔ یہاں اب حکم ظاہر کیا بنتا ہے، ہم سب جانتے ہیں۔

سید مصباح حسین بھائی یہ بہت پر ددر اور وحشی پن ھے کسی بھی انسان کی جان لینا اور ھمارے ملک میں تو یہ کام مزھب کے نام پر کیا جاتا ھے اہل تشیع کا معصؤم جانوں کا ضیاع سب کے سامنے ھے کتنے قابل اور عالم شخصیات اس ظالمانہ رویہ کا شکار ھوئی ھیں اس پر ظلم عدل کا نا ھونا کوئی پوچھنے والا نھیں ، میں نے کافی پاکستانیوں کو کہتے سنا ھے اچھا شیعہ مر رھے ھیں وہ ھیں ھی کافر ، جو خود دین کی الف بے سے واقف نھیں وہ آسانی سے کافر کہہ دیتے ھیں ایک منٹ کے لئے مان لیں کوئی کافر ھے تو کیا اس کی جان لینے کا اختیار کسی کو ھے کوئی مذہب اجازت نھیں دیتا کسی بھی انسان کے قتل کی اسلام تو پھر ھے ھی سلامتی خیر خواہی کا مذہب ، جانور کے حقوق بیان کرنے والا مذہب اسلام جس میں ہر ایک پر رحم کیا جاتا ھے اس کے نام کے مسلمان ایسا کر رھے ھیں یقینا خدا اور رسول صلے اللہ علیہ وسلم کے جواب دہ ھیں اور ان قریب درد ناک عزاب کا مزہ چکھیں گے انشاللہ قتل کھیں بھی ھو کسی کا بھی ھو قاتل کو سزا ضرور ملنی چاھیئے ، آخر میں دعا آپ کے لئے سدا آللہ پنجتن پاک کی امان میں رھئے آمین
اسّلا م علیکم بھیّا مصباح حسین ،
اس مقتول برٹش فوجی کے لئے جب اس نو مسلم نوجوان کو معلوم ہوا کہ یہ افغانستان کی اس مہم سے واپس آیا ہئے جس میں گورے جاکر بے جرم وبے خطا مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں تب
،قاتل کے نزدیک مقتول اس لئے واجب ا لقتل ٹہرا تھا کہ وہ مسلمانوں کی قتل عام کی مہم سے واپس آیا تھا تب اس نے گورے آقاؤں کی پوری قوم کویہ پیغام ایک اس انسان کو قتل کر کے دیا ہئےکہ دیکھو ہم مسلمان بھی انسان ہیں
یہ مقتول کسی کا قاتل تھا یا نہیں ،یہ ان قوموں کے سوچنے کا مقام ہئے کہ بے گناہوں کا جبریہ قتل عام کر کے راج کرنے کا انجام کیا ہوتا ہئے،آج پھر اگر ان کو ہوش نہیں آیا تو وہ دن دور نہیں ہوگا جب 1857ءمیں لڑی جانے والی ہندوستان کی جنگ آزادی افغانستا ن میں نہیں اسی گوروں کی سرزمین پر ہو گی
بے شک دین فروشوں نے پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے لئے زندگی چھین لینے کا درس عام دیا لیکن یہ بد بخت دین فروش گروہ بھی تو اسی سامراج کی پیداوار ہے جو ہر اس جگہ تفرقہ ڈال کر مسلمانوں کو منتشر کر رہا ہئے جہاں سب امن و عافیت سے رہتے ہیں
اللہ پاک ساری دنیا کے مسلمانوں کوشیطان کے فتنے سے محفوظ و مامون رکھّے آمین
اسسلام علیکم ساتھیو
سلامت رہئے بھائی مصباح حسین
ہم سب ہی خوفزدہ ہیں شاید کہ یہ کونسا اسلام اور دین ہے جسکے دعویدار ہمارے مسلمان بھائی بند بن رہے ہیں ۔اتنی شقی القلبی جسکا تصور بھی ناممکن ہے ۔ آپ نے صحیح کہا کہ ہمارے پیارے نبی ہزاروں درود اور لاکھوں سلام کی ذندگی میں تو در گزر ہی در گزر تھا اور یہ ہی قرآن پاک کی تفسیر ہے ۔ تو یہ کیا ہورہا ہے یہ ۔فساد پھیلانا تو بذاتِ خود ایک گناہ ہے ۔لیکن ہم نے یہ تمیز ہی مٹادی ۔
نتیجہ دیکھیں کہ مسجدیں جلائی جا رہی ہیں ۔وہ مسجدیں جو ہزاروں پا پڑ بیل کر چندے جمع کر کے انتہائی مشکل سے زمین حاصل کر کے ان ممالک میں بنائی جاتی ہیں کہ ہم عبادت کر سکیں ۔لیکن ہمارے یہ جزباتی علماء اور اکثر جزباتی مسلمان کتنا بڑا نقصان پہنچاتے ہیں اس کا تصور بھی شاید وہ نہیں کرتے ۔کس طرح عام مسلمان جو ان ممالک میں سکون اور عافیت سے بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہتا ہے اُسے کس طرح زلت دیتے ہیں وہ شاید ہم ان ممالک میں رہنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں ۔
آپ نے جو لکھا وہ سب کے دل کی آواز ہے
کاش ہم اپنے عمل اور طرزِ ذندگی سے لوگوں کو اسلام میں شامل ہونے پر متوجہ کریں ،در گزر اور معافی اختیار کر کے اسوئہ حسنہ کو پھیلانے کی کوشش کریں ،نہ کہ فساد اور نفرت کی طرف قدم بڑھائیں جو کسی صورت بھی ہمارے حق میں نہیں ہے ۔بلکہ انسانیت کی بھی نفی ہے ۔
اللہ ہم سب کو صحیح سمت میں چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے دین اور اسلام کو بچانے کی ہر ممکن کوششوں کی طرف راغب فرمائے تاکہ ہم اُسے پھیلا سکیں محبت اور خلوص کے ساتھ نہ کہ ذور زبر دستی سے جس کے لئے منع فرمایا گیا ۔ جو مجھے علم ہے ۔
ہر سہو کے لئے درگزر کی درخواست ہے ،
آپ کے بلاگ کے لئے جزاک اللہ خیر
عالم آرا
وینکور
پاکستان میں تو مجھے طالبآن نظرنہیںئےکیونکہ وہ گوریلا جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن امریکہ میں انکی کمی نہیں۔
جی بھیّا ،اسلامی ممالک میں ان کے بارود کی جڑوں سے پرورش پانے والے پودے نے اب تناور بن کر شاخین ان کی جڑوں تک پھیلا لی ہیں ،
کافر کافر کردی نی میں آپے کافر ہوئی…..مصباح میں تو یہاں اپنے گورے ساتھیوں کو برابر یہی بتا رہا ہوں کہ یہ اسلام نہیں ہے جسکا مظاہرہ ایسے درندہ صفت لوگ کرتے ہیں لیکن انکو یہ بھی باور کرواتا ہوں کہ حکومت نے دین کے نام پر جاہلوں اور کم علموں کو مولانا بنا کر کو ورکنگ پرمٹ دیئے ہیں اس پالیسی پر بھی غور کی ضرورت ہے. اس ملک میں نوے فیصد ایسے ہی لوگ ہیں مسجدوں،عبادت خانوں اور عزا خانوں پر قابض ہیں. ابھی کل ہی یہاں ایک مسلکی ٹی وی پر ایک عمامہ بردوش کو یہ کہتے ہوئے سن کر میں جیسے کانپ گیا کہ…علما سے اختلاف کرنا کفر ہے……….
ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻠﮏ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﮨﻮﮞ، ﭼﺎﺭﻭﮞ ﮨﺮ ﺳﻤﺖ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ
ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻖ ﺟﺘﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔
ﻭﮦ ﭼﺎﺭ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﯾﮧ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ، ﺍﯾﺮﺍﻥ ، ﺳﻌﻮﺩﯾﮧ ، ﭼﯿﻦ
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻻ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ
ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻭﮦ ﮨﮯ ، ﺑﮭﺎﺭﺕ ۔
ﺍﯾﮏ ﺳﺴﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺁﺋﮯ ﺩﻥ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﮬﻤﺎﮐﮯ ﮐﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﮨﮯ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ
ﺗﻮ ﺍﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﮈﺳﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔
ہاہاہاہاہاہاہا .بھائی زوار قمر عابدی…رشتے دار میں تو دار پہلے ہی لگا ہوا اس لیئے ہمہ وقت بر سر دار
مصباح بھائی بلاگ کا موضوع بہت ہی حسب حال اور پر فکر ہے ۔۔۔ اس موضوع پر ایک نظم لے کر حاضر ہوئی ہوں ۔۔ شاید کہ میں آپ سب سے اپنے دل کی بات کہہ پاؤنگی ۔۔۔
اکیسویں صدی کا سورج ۔۔ نظم
سوچتی ہوں
دنیا سے اچھا جنگل ہی ہو گا
جہاں علم ہوگا نہ جہالت ہو گی
وہاں
شاخیں جب بھی مل کرجھومتی ہونگی
ایک دوسرے کو کافر نہ کہتی ہونگی
یہ دنیا
ایک عجب نگار خانہ ہے
یہاں
جب بھی کوئی کسی سے علم کی بات کرتاہے
سب سے پہلے وہی اسے کافر کہہ دیتا ہے
اف ۔۔۔
اکیسویں صدی میں
عہد نو جیسی جہالت
اے میرے شہر کے لوگو
جہالت تو
کھیتوں پر کہرے جیسی ہوتی ہے
جو
سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ہی
سب سے پہلے تحلیل ہوجا تی ہے
اداس ۔۔ سوچتی رہتی ہوں
کیا
اکیسویں صدی کے نصیب میں
سورج کی ایک بھی کرن نہیں ؟
ڈاکٹر نگہت نسیم
28 مئی 2013
ہاہاہاہاہاہاہاہاہاکافر کافر کردی نی میں آپے کافر ہوئی ہاہاہاہاہا،،،علماء سے اختلاف کرنا بھی کفر ہے
دل خوش ہوگیا ،کہ بیس کروڑ میں ہم کیوں اکیلے رہتے
قمر بیٹے تم سچ کہ رہے پاکستان اپنوں کا ہی ڈسا ہوا ہے
بیٹی نگہت اب تو لگتا ہے کہ واقعی وہ دن قریب ہی آگیا ہے جس کے لئے اللہ کا وعدہ ہے سورج سوا نیزے پر ہوگا اور پہاڑ روئ کے گالوں کی طرح اڑتے ہوں گے )،مگر یہ بد بخت کیسے ہیں کہ اگر کسی غیر مسلم کو دائرہء اسلام لا بھی رہے ہیں تو پہلا درس نفرت کا دے رہے ہیں
اسلام علیکم ساتھیو
میرے عزیز ساتھیو میں تو یہ خوفزدہ ہوں کہ یاجوج ماجوج نکل اآئے ہیں کیا ؟
اللہ ہم سب پر رحم فرمائے آمین
خوفزدہ عالم آرا
وینکور
جو ھم کہتے ہیں یہ بھی کیوں نہیں کہتا یہ کافر ہے
ہمارا جبر یہ ہنس کر نہیں سہتا یہ کافر ہے
یہ انسان کو مذاہب سے پرکھنے کا مُخالف ہے
یہ نفرت کے قبیلوں میں نہیں رہتا یہ کافر ہے
بُہت بے شرم ہے یہ ماں جو مزدوری کو نکلی ہے
یہ بچہ بھوک اک دن کی نہیں سہتا یہ کافر ہے
یہ بادل ایک رستے پر نہیں چلتے یہ باغی ہیں
یہ دریا اس طرف کو کیوں نہیں بہتا یہ کافر ہے
ہیں مُنکر یہ ہوائیں روز ہی قبلہ بدلتی ہیں
گھنا جنگل انہیں کُچھ بھی نہیں کہتا یہ کافر ہے
یہ تتلی فاحشہ ہے پھول کہ بستر پہ سوتی ہے
یہ جُگنوں شب کہ پردے میں نہیں رہتا یہ کافر ہے
شریعیتا” کسی کا گُنگنا بھی نہیں جائیز
یہ بھنورا کیوں بھلا پھر چُپ نیں ہرتا یہ کافر ہے
ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا عظم رکھتا ہے
پہاڑوں اور غاروں میں نہیں رہتا یہ کافر ہے