اطلاع آئی ہے کہ صدرپاکستان جناب آصف علی زرداری نے کراچی کے شہریوں کی تکالیف اور ان کو درپیش مشکلات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ انتیظامیہ کو حکم دیا ہے کہ بلاول ہاؤس کے اطراف سے تمام رکاوٹیں ہٹا دی جائیں اور سڑکیں عام لوگوں کے لیئے کھول دی جائیں اور آئندہ ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جس سے عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ صدرِ پاکستان نے اس بات کا بھی برملہ اظہار کیا کہ عوام کو درپیش مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت کو پانچ سال پورے ہوگئے اور ان پانچ برسوں میں کراچی کے عوام اور خصوصاً بلاول ہاؤس کے اطراف رہائشی افراد کا جینا محال ہوگیا تھا ، بلاول ہاؤس کے سامنے کے فلیٹس تقریباً خالی ہوگئے ہیں اور جو بچے ہیں وہ انتہائی اذیت سے دوچار ہیں بلاول ہاؤس کے دائیں اور بائیں اطراف کے بنگلے پہلے ہی کوڑیوں کے مول خرید کر بلاول ہاؤس میں ضم کرلیے گئے تھے اب رہ گئی بات عوام کی مشکلات کو حل کرنے کی خواہش تو یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ
”اس سادگی پر کون نہ مرجائے اے خدا“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم
بھائی جعفر حسین کہتے ہیں دیر آید درست آید
بس دعا یہ کیجئے کہ درست آید ہو کیونکہ اگلی باری کی بات بھی ہے ۔
اللہ عوام کی تکلیفوں میں کمی کردے آمین
عالم آرا
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
انتخابات میں شکست نے گردن کا سریا کچھ کم کیا ہے
بالکل سھی سریا تو نکل گیا اور ساتھ ھی اقتدار کا نشہ بھی قدرے اترا اور پھر سے عوام کو مرغوب کرنے کا سوچتے سوچتے شاید کچھ اچھا ھی کرنے لگیں ۔کیوں کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ھی سہی نیکی کی ابتدا تو کریں یہ لوگ
جعلی وصیّت نامے کی بنیاد پر کھڑی عمارت باآخر ڈھئے ہی گئ ،
حقیقت یہ ہئے کہ بے نظیر کی موت کے ساتھ ہی ذوالفقار علی بھٹّو کی تخلیق کردہ پیپلز پارٹی کی موت واقع ہو گئ تھی ،،اور یہ تو سراسر ایک بے بنیاد اور جھو ٹے وصیّت نامے کو بنیاد بنا کر حکومت کرنے آئے تھے ،بہت سکون کے ساتھ اپنی سات پشتوں کے لئے مال بنا کر چل دئے ،اب یہ تو اللہ کو ہی معلوم ہو گا کہ وہ مال کون کس طرح برتے گا یا قارون کے خزانے کی طرح زمین کی نذر ہو گا
زرا سا انکھیں کھول کر دیکھیں تو گزرے ہوئے کل میں رومن محلّات تھے بنو امیّہ کے محلّات تھے ،عادو ثمود کی مظبوط بستیاں تھیں آج سب سامان عبرت ہیں ان بستیوں میں سب کے سب بلاول ہاؤسزتھے اور ان میں رہنے والے بھی سارے بلاول تھے یا ان کےاجداد تھے ،آنے والے کل کو کون جانے ،
ان کے چاروں جانب سامان عبرت موجود ہیں مگر مال دنیا کی حرص و ہوس میں ہوش کہاں رہتا ہئے اب ہوش آگیا ہئے تو سدا قائم رہئے تو اگلی بار کے الیکشن پیپلز پارٹی کے نام ہوںگے( اللہ نا کرے)
باقی رہے نام اللہ کا
کیا یہ حکومت اپنی مدّت پوری کرے گی یا پاکستان کو نگل کر رفو چکر ہوجائےگی۔