وہ دوستوں کا دوست اور یاروں کایار تھا. بے حد محبت اور پیار کرنے والا شخص جو کبھی کبھی تو کسی پر ٹوٹی چڑیا کو بھی دیکھ کر رو دیا کرتا تھا.
‘ شاہ جی بڑے ھمٰدانی صاحب نے 14 ،اگست 1947 کی رات کو پاکستان کے قیام کا اعلان کر کے اصل میں میری پیدائش کاا علان کیا تھا اور اب دیکھو ہر سال پوری قوم میری پیدائش کا جشن مناتی ہے”.
پرویز کو شاید یہ علم نہیں تھا کہ اگست کا یہی مہینہ اسکی برسی کا مہینہ بھی ہو گا. وہ لاہور میں اگست کے مہینے میں پیدا ہوا اور اسی اگست کے مہنیے میںلاہور میں ہی وفات پا گیا۔۔۔۔۔مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں

سات سروں کا بہتا دریا تیرے نام
ہر سر میں اِک رنگ دھنک کا تیرے نام
جنگل جنگل اڑنے والے سب موسم
اور ہوا کا سبز دوپٹہ تیرے نام
ہجر کی شام اکیلی رات کے خالی در
صبحِ فراق کا درد اجالا تیرے نام
تیرے بنا جو عمر بتائی بیت گئی
اب اس عمر کا باقی حصہ تیرے نام
جتنے خواب خدا نے میرے نام لکھے
ان خوابوں کا ریشہ ریشہ تیرے نام
(ایوب خاور، پی ٹی وی پروڈیوسر)
اس غزل کو پرویز مہدی کے علاوہ اتنے اچھے طریقے سے اب تک کوئی نہیں گا سکا ۔
اللہ پاک مرحوم کو اپنی رحمتوں کے صدقے اپنی بخشش عطا فرمائے ۔۔آمین — میری خوش قسمتی ھے کہ میں نے پرویز مہدی کولائیو سنا ھوا ھے ۔۔ واہ کیاوہ محفل تھی ۔۔اس کی یاد اب بھی تازہ ہے ۔
پرویز مہدی کی گائی ہوئی احمد ندیم قاسمی کی غزل جس کا مطلع کچھ یوں ہے میری یاد کے خزانہ میں موجود ہے :
گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں
جل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاروں میں
اس غزل کے باقی اشعار مجھے یاد نہیں مگر پرویز مہدی کی آواز اور اسکی ادائیگی اب تک ذہن میں موجود ہے ۔
خدا مغفرت کرے بڑا اچھا موسیقار تھا
۔۔۔۔۔
میں نے بچپن میں والد صاحب کے ساتھ بیٹھے، PTV پر جناب پرویز مہدی صاحب کا ایک گیت، ‘کتنے شہر اجاڑے میں نے، کتنے شہر بسائے ہیں. اب صحرا میں آ بیٹھا ہوں غم میرے ہمسائے ہیں’ سنا تھا جس کا کچھ حصہ والد صاحب نے ٹیپ ریکارڈر پر محفوظ کر لیا تھا. باوجود کوشش کے آج تک یہ گیت ڈھونڈ نہ سکا. اگر کوئی صاحب مدد کر دیں تو مشکور رہوں گا. اس کے ساتھ جناب مجیب عالم کا گایا ہوا فیض احمد فیض کا کلام، مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو’ بھی مجھے کبھی نہیں مل سکا.