جشنِ آزادی!

ابو! یہ آزادی کیا ہوتی ہے؟
pakistan

بیٹے، اس سوال کا جواب تو خود مجھے آج تک نہیں مل سکا۔
پھر بھی، بتائیں نا۔ آخر آزادی ہے کیا؟
آزادی کہتے ہیں رہائی کو، خود مختاری کو۔
رہائی؟ کیا مطلب؟
ہاں بھئی رہائی۔ جیسے کسی پرندے کو پنجرے سے رہائی ملتی ہے۔

اچھا؟ تو یہ جو جشنِ آزادی ہے،
کیا ہم پرندے کی رہائی کا جشن مناتے ہیں؟

ارے نہیں۔

تو پھر؟

اصل میں 14 اگست 1947 کو ہم سب رِہا ہوئے تھے۔
مسلمانوں کو خود مختاری ملی تھی ھمارا اپنا وطن بنا تھا
پاکستان ! پاکستان علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر تھی
قائداعظم اور بہت سے اکابرین کی محنت تھی
———————————————————————————-
66 برس گزر گئے ہیں آج بھی یہ سوال اتنا ہی اھم ہے
درحقیقت کیا ھم آزاد ہیں ؟
نہیں ھم آزاد نہیں ہیں ، ھم غلام بن گئے ہیں نفس کے ، ھم غلام بن گئے ہیں زر کے زمین کے زن کے ، ھم غلام بن گئے ہیں فیشن کے ، ھم غلام بن گئے ہیں عیش و عشرت کے ھم غلام بن گئے ہیں اپنی انا کے ۔
اس خود مختار مملکتِ اسلامی میں کہیں اسلام نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ، یہاں اللہ کا گھر محفوظ نہیں یہاں اسکول محفوظ نہیں یہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے محفوظ نہیں
خود کش حملے ، ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری ، چھنیا جھپٹی بدمعاشی گنڈا گردی اپنے عروج پر ہے
ایسے میں ھم کیا منائیں گے یومِ آزادیِ پاکستان
دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک اس وطنِ عزیز کی حفاظت فرمائے اور اس کے حکمرانوں کو نیک نیتی کے ساتھ اس ملک کی اور اس میں بسنے والے کروڑوں افراد کی خدمت کرنے کا جذبہ عنایت فرمائے آمین ثمہ آمین۔

18 thoughts on “جشنِ آزادی!”

  1. ہم آزاد ہی نہیں بلکہ مادر پدر آزاد ہیں۔ مسلہ اس ملک کے حاکموں یا اشرافیہ کا ہی نہیں بلکہ عام آدمی کا بھی ہے انکی اکثریت بھی اپنے ہی جیسے عام آدمیوں کو،غریبوں اور مفلسوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ آزادی حاصل کرنا کمال ضرور ہے لیکن اسکو قائم ودائم رکھنا اور اسکے ثمرات حاصل کرنا دراصل اقوام کا امتحان ہوتا ہے اور ہم آ ج تک اس امتحان میں ناکام ہیں

  2. میرے ہم وطنوں آیئے اس بار انفرادی سطح پر کچھ ایسا کریں کہ دکھ تکلیف ، جمود اور حبس کے 66 برس آزاد ہو جائیں ۔۔

    چودہ اگست. پاکستان کا یوم آزادی. ذرا سوچیں تو سہی اب یہ عظیم دن جو شب قدر کے مماثل ہے …. کیا بن کر رہ گیا ہے

    1.صبح اکیس توپوں کی سلامی
    2.قائد اعظم اور علامہ اقبال کے مزار پر قرآن خوانی
    3.مزار قائد پر گارڈ کی تبدیلی
    4.ٹی وی اور ریڈیو پر برسوں پرانے گھسے پٹے پروگرام اور قومی و ملی نغمے
    5.آگ اور خون کی روشنی میں نہائے ہوئے اور لوڈ شیڈنگ کے مارے ہوئے شہروں میں چراغاں
    6.وفاق اور صوبوں میں سرکاری سیمینار اور مباحثے
    7.تقسیم اعزازات
    اور
    8.بڑے بڑے سرکاری کھانے اور صدر و وزیر کے وہ پیغامات جن میں برسوں سے صدر اور وزیر اعظم کا نام تبدیل ہوتا ہے
    …..
    میرے ہم وطنوں یہ ہے ہمارا یوم آزادی …. آیئے اس بار انفرادی سطح پر کچھ ایسا کریں کہ دکھ تکلیف ، جمود اور حبس کے 66 برس آزاد ہو جائیں ۔

    ڈاکٹر نگہت نسیم

  3. میں نے سوچا ہے کہ اس بار میں زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پاکستان کا مثبت پہلو اجاگر کرونگی تاکہ ہم پر سے شدت پسندی کے لیبل کو لگاتے ہوئے کوئی تو ہمارے حق میں آواز اٹھا سکے ۔۔۔ انشاللہ

  4. جعفر جب تک آپ جیسے لوگ اٹھ کر شور نہیں مچائیں گے ایسا ہوتا رہے گا ۔۔ آپ اپنے قلم سے ، زبان سے اور عمل سے شور مچایئے ۔۔ پھر کیسے بھلا نہیں سنا جاتا ۔۔ پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد کا مسلہ دراصل پاکستان کو اپنا ملک نہیں سمجھنا ہے ۔ جس دن ہم بحثیت قوم لسانی اور مسلکی فرقہ بندی سے بالا تر ہو کر صرف ” نیشلنسٹ ” یعنی قوم پرست ہو جائیں گے سارے مسلے اسی دن دم توڑ جائیں گے ۔ دیسی اور بدیسی طاقتیں ہم میں فرقہ واریت کا انجکشن لگا کر ختم کر رہی ہے اور ہم خوشی خوشی مر رہے ہیں ۔۔۔ ایسی مردہ قوم کو کیسے جگاوں بس یہی سوچتی رہتی ہوں ۔

    مجھے خوشی ہوئی کہ عالمی اخبار کی بلاگ فیملی اپنے اپنے حصے کی شمع جلا رہی ہے ۔ آپ دیکھئے تبدیلی کے لیئے سو سال چاہیئے ہوتے ہیں اور وہ بھی اس وقت اگر ہر فرد اپنے حصے کی شمع جلاتا چلا جائے ۔۔ بگھت سنگھ سے جھانسی کی رانی تک اور پھر جھانسی کی رانی سے لے کر برٹش سے آزادی تک سو برس کی جدوجہد ہے ۔۔ یہ کام تو بس ایسے ہی ہیں ۔۔ اللہ پاک ہم سب کو اور ہمت عطا کرے ۔ الہی آمین

    ملا نہیں ہے یہ وطن پاک ہم کو تحفے میں
    جو ہزاروں دیپ بجھے تو جاکے یہ چراغ جلا

  5. میرے پیارے وطن پاکستان کو دنیا کا پہلا نظریاتی ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ جس کی قوم کا نعرہ تھا۔پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ قائداعظم محمدعلی جناح،علامہ اقبال ،سرسید احمدخان اور ان جیسے دیگر رہنماوں نے سوئی ہو ئی مسلمان قو م کو جگایا۔علامہ اقبال ایک عظیم مفکر اور مدبر تھے وہ کسی صورت غلامی کو پسند نہیں کرتے تھے اس لئے انھوں نے اپنی شاعری ،تحریروں اور تقریروں کا سہارا لیکر پاک وہند کے مسلمانوں میں زندگی کی نئی روح پھونک دی۔ سرسید ا حمدخان نے مسلمانوں میں تعلیمی میدان میں انقلاب پر پا کیا۔قائد اعظم کی صورت میں مسلمانوں کو ایک عظیم راہنما ملا جنھوں نے مسلمان قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اورآزادی کی تحریکیں چلائی جس میں انھیں کامیابی نصیب ہو ئی بالاآخر14 اگست 1947ءکو مسلمانوں کو ایک آزادمملکت حاصل ہو ا۔ آپ نے اس مختسر سی تاریخ میں دیکھا کہ سب نےاپنے حصے کا کام کیا ۔۔ ملک و قوم کی تقدیر ایک فرد نہیں بلکہ قوم خود بناتی ہے اور وہ صرف اور صرف اپنے حصے کی زمیداری ادا کرنے سے ۔ صدر سے لے کر معمولی فرد تک ہر ایک کو اپنے حصے کی زمیداری ادا کرنی ہے ۔

  6. میرے ہم وطنوں یہ ہے ہمارا یوم آزادی …. آیئے اس بار انفرادی سطح پر کچھ ایسا کریں کہ دکھ تکلیف ، جمود اور حبس کے 66 برس آزاد ہو جائیں ۔

    بالکل صحیح سوچ ہے آپ کی ہر شخص کو انفرادی طور پر کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ 66 برس کی غلامی کا ازالہ ہو جائے
    میرے عزیز ھم وطنوں اس مملکتِ خداداد میں کیا کچھ نہیں ہے
    یہ لہلاتے سر سبز باغات
    اٹکھیلیاں کرتے دریا
    گنگناتی نہریں
    پررونق بازار
    سب ہی تو دم توڑ رہے ہیں
    سب ہی پس مژدہ ہورہے ہیں
    ھمیں اپنے حصے کی شمع جلانی ہو گی ورنہ
    ھماری آنے والی نسلیں اندھیرے میں رہیں گی

  7. 14 اگست آ گیا ، وہ دن لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں اور وہ اپنا الگ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ایک ایسا وطن جہاں وہ اپنی مرضی سے رہ سکتے ہیں ایک ایسا وطن جہاں ہر کوئی اپنا ہو گا جہاں کوئی غیر نہیں ہو گا، وہ وطن جہاں مسلمان آپس میں بھائی چارے سے رہیں گےجہاں کوئی تفرقہ بازی نہیں ہو گی، جہاں کسی مسلمان پر کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی۔اور اس وطن کو حاصل کرنے کے لئے لاکھوں نے اپنی جانیں لٹا دیں لاکھوں نے اپنے سر کے سہاگ خوشی خوشی لٹا دیئے، لاکھوں ماؤں نے اپنی گود اجاڑ ڈالی۔
    اور بلاآخر پاکستان بن گیا، ایک ایسا وطن جو ان لاکھوں کے خون سے سینچا گیا تھا جس سے ان لاکھوں جانوں کےخواب وابستہ تھے، یہاں آنے والی ہر آنکھ اپنوں کے غم میں اشکبار تھی لیکن اپنی مٹی کی تاثیر ہی کچھ ایسی تھی کہ سب کچھ بھول گیا انہیں اپنا وطن مل گیا انہیں اپنے خوابوں کی تعبیر مل گئی۔ یہاں واقعی وہ بھائی چارہ دیکھا گیا جو چودہ سو سال پہلے دنیا میں پہلی باردیکھا گیا اور 14 اگست 1947 میں دوسری بار یہی مناظر دیکھے گئے ۔
    یکایک جیسے تلاطم خیز سمندر کو سکون آ گیا ہو جیسے بپھری موجوں کو قرار آ گیا ہو، ہر کسی کی زندگی میں چین نے بسیرا کر لیا ہر کوئی اپنی مرضی کی زندگی
    جینے لگا، کسی پر کوئی روک ٹوک نہ تھی کوئی تفرقہ بازی نا تھی ہر کوئی اپنے ہر فعل میں آزاد تھا۔

    پھر ایک رات اچانک اس وطن کی طرف ایک بار پھر ہندو بنئے نے لالچی آنکھ اٹھائی، پچھلے زخم تازہ ہو گئے ، زخموں سے خون رسنے لگا، وہ پود جنہوں نے یہ وطن اپنے خون سے سینچا تھا گو بوڑھی ہو گئی تھی لیکن ان کی آنکھوں میں ایک بار پھر خون اتر آیا، اپنے نوجوان بیٹوں کی آنکھوں میں یہ خون اتار کر ان بوڑھوں نے ان سے زندہ واپس نا آنے کی قسمیں لے کر انہیں دشمن کے مقابلے میں بھیج دیا۔ ماؤں نے زخمی شیرنیوں کا روپ دھار لیا اور اپنے شیروں کو اس گیدڑ کی بوٹیاں نوچ لینے کے لئے ایک بار پھر اپنی گود سے اتار دیا۔
    اور پھر سارا عالم گواہ ہے کہ ان اللہ کے شیروں نے ایسے عالم میں لڑائی کی کہ تاریخ کنگ ہو کر رہ گئی ایک ایک کمپنی کے ساتھ چند جوانوں نے لڑائی کی اور انہیں اپنے ہی ملک کی سرحدوں سے بھی پیچھے دھکیل دیا، اپنی زندگی سے زیادہ انہیں اپنے باپ کی وہ خون آشام آنکھیں اور اپنی ماؤں کی وہ قرب بھری راتیں یاد آ رہی تھیں جو آزادی کے قصے سناتے ہوئے گزرا کرتی تھیں۔
    پھر یوں ہوا کہ ان شیروں نے اپنی ماؤں کے سینے ٹھنڈے کر دیئے اپنے باپوں کے چہرے پر اطمینان کی جھلک دیکھنے کے لئے انہوں نے خاکی وردیوں کو لہو لہو کر لیا اور انہیں اپنے کفن میں بدل دیا لیکن اپنے وطن پر اپنے آباء کے خوابوں پر آنچ تک نہ آنے دی اور تاریخ نے دیکھا کہ ہندوبنیا جو راتوں رات انہیں مٹی میں ملانا چاہتا تھا ایک بار پھر اپنے زخم چاٹتا ہوتا بھاگ نکلا۔

    کچھ سال آرام سے گزرے قربانیاں دینے والے گزر گئے بچے جوان ہو گئے جوان بوڑھے ہو گئے، لیکن زخمی بھیڑیے کے زخم تازہ کے تازہ رہے اور وہ کوئی بھی وار کرنے کے لئے تلملاتا رہا، پھر ایک موقع اس کے ہاتھ لگا اپنوں کو اپنوں سے لڑوا کر اپنا مقصد حاصل کرنے کی ایسی انوکھی چال چلی کہ سب دھنگ رہ گئے، ایسے میر جعفر میر صادق پیدا ہو گئے جنہوں نے اپنوں کو اپنوں کا دشمن بنا دیا، ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ بلند ہوا اور اس معصوم قوم کو ایک بار پھر آگ اور خون میں لت پت کر دیا گیا لیکن اس بار دونوں طرف خون اپنا ہی بہا اور زخمی بھیڑیا خاموشی سے اپنا کام کر گیا، بھائی بھائی سے جدا ہو گیا، باپ نے بیٹے کو چھوڑ دیا، عقل تو آئی لیکن بہت دیر ہو گئی بہت کچھ ایسا ہو گیا جس کی تلافی ممکن نہیں تھی۔

    پھر بڑی تیزی سے سب کچھ تبدیل ہونے لگا، وطن تو وہی تھا مٹی کی خوشبو میں بھی کوئی تبدیلی نا آئی تھی، پانی بھی ویسا ہی پاکیزہ تھا لیکن دلوں میں کھوٹ پیدا ہونا شروع ہو گیا، غیروں نے ایسی چال چلی کے بھائی بھائی پر شک کرنے لگا، وقت گزرتا گیا ساتھ ہی ساتھ یہ جذبے بھی پروان چڑھتے گئے، اور پھر میری مٹی نے وہ دن بھی دیکھے جب مسلمان مسلمان کو کافر کہنے لگے، بھائی بھائی کو مارنے لگا، دلوں میں نفرتوں نے ڈیرے ڈال لئے، پنجابی سندھی بلوچی پٹھان آپس میں دست و گریبان ہو گئے، یہ وقت ان کے لئے بڑا زرخیز تھا جن کی آنکھوں میں پہلے دن سے ہی یہ ملک کھٹکتا تھا وہ سب متحد ہو کر ادھر چڑھ دوڑے ، کوئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے آیا تو کوئی پنجابیوں کا خیرخواہ بن کر، کسی نے سندھیوں کی رہنمائی کا بیڑا اٹھایا تو کسی نے بلوچیوں کے حقوق کی آواز بلند کی اور پھر ہم نے وہ دن دیکھے جن ہمارے وہی نوجوان جو اس ہندو بنئے کے آگے ایسے صف آراء تھے جیسے جیسے سیسہ پلائی دیوار آج وہی ان کے بہکاوے میں آ کر اپنے جسم سے بم باندھے کسی مسجد کے دروازے پر کھڑے ہیں تو کبھی کسی مندر کی تباہی کے لئے تیار۔

    خدایا کیسا قہر ٹوٹ پڑا میرے وطن پر کہ خواب بالکل الٹ کر رہ گئے سکون غارت ہو گیا، چین کی نیند قصہِ پارینہ بن گئی۔

    ایک ملک جس کے بنانے والے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے لئے الگ وطن حاصل کرنا چاہتے تھے ان کی اولادوں نے کیا کر دیا انہوں نے اس ملک میں سے چن چن کر اللہ اور اس کے رسول کے نام لیواوں کو ماردیا۔ جو یہاں قرآن و سنت کی بات کرتے تھے انہیں زیرِ زمین پہنچا دیا گیا۔اور وہ جو یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور اسے برا سمجھ بھی رہے تھے اپنے حصے کا کام کرنے سے قاصر رہے اور چپکے بیٹھے رہے۔

    پھر اس خدا کو شاید غصہ آ گیا، ایسا غصہ کہ اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کی بستیاں الٹ کر رکھ دو، اور ہم نے دیکھا کہ آن کی آن میں ہزاروں انسانی بستیوں کے نیچے سے زمین سرک گئی لاکھوں انسان قہرِ خداوندی کا نشانہ بن گئے، زلزلے نے چند منٹوں میں شہروں کے شہر زندہ انسانوں سے خالی کر دیئے۔

    ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم اس عذابِ الہٰی سے ڈرتے اور اللہ تعالٰی سے رجوع کرتے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے استغفار کرتے لیکن بڑی جلدی ہم یہ سب بھول گئے اور ایک بار پھر اسی ڈگر پر رواں دواں ہو گئے جس کی بدولت عذابِ الہٰی کا شکار بنے تھے۔

    اب ایک بار پھر اللہ تعالٰی ہم سے ناراض ہیں اور اس بار اس کا غصہ پانی کی شکل میں ہم پر نازل ہوا، تاریخ کے بد ترین سیلاب نے ارضِ پاک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ایک بار پھر ہزاروں بستیاں پانی میں ڈوب کر اپنا نشان تک کھو بیٹھی ہیں، لاکھوں نہیں کروڑوں انسان کھلے آسمان تلے تپتے سورج کی کرنوں کی لپیٹ میں ہیں، لیکن افسوس ابھی بھی ہم شاید سمجھ نہیں پائے ہیں ابھی بھی ہم اسے اپنے اعمال کا بدلہ ماننے کو تیار نہیں ہیں بلکہ اسے ایک قدرتی آفت کا نام دے رہے ہیں۔

    جشن مناؤ لیکن یہ ضرور بتا دو کس بات کا جشن مناؤ گے،
    کیا اس 14 اگست کو اپنوں کی ہزاروں لاشوں پر کھڑے ہو کر جشن مناؤ گے۔
    یا اپنے کروڑوں بھائیوں کو ڈوبتے دیکھ کر خوشی سے رقص کر گے۔
    یاد رکھو، اللہ تعالٰی کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے اور گمان بھی نہیں ہوتا جس طرف سے اس کا قہر ٹوٹ پڑتا ہے۔

  8. ” آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتاھے۔ ۔ ”
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    سوال : آزادی کیا ھے ؟
    جواب : اچھے اور برے لوگوں کے مشترکہ معاشرے میں سے اچھے لوگوں کا اس قدرصاحب اختیار ہونا کہ برے لوگ معاشرے کے نظم و نسق پر حاوی نہ آ سکیں ، اسی کو آزادی کہتے ھیں ۔

    سوال : 66 برس گذر گۓ کیا ھم آزاد ھوۓ ھیں یا مزید غلاموں جیسی زندگی گذارنے پر مجبور ھیں ؟
    جواب : جی ھاں ، ھم مزید غلاموں جیسی زندگی گذارنے پر مجبور ھیں ۔

    سوال : اس کا ذمہ دار کون ھے ؟
    جواب : ظاہر ھے اس کا ذمہ دارحق حلال کمانے والا طبقہ یا وہ عام شہری تو نہیں ہو سکتا جس کا باپ قیام پاکستان کے وقت موچی ، دھوبی ، مزدور یا کوئ کسان تھا ۔ پھر وہ شخص اپنی محنتوں سے ایک دکان کا مالک ھوا اور اب آگے اس کا بیٹا بی ۔ اے کر کے کہیں کلرک لگا ہوا ھے ۔ ایسے گھرانے تو آزادی سے پہلے بھی اسی رفتار سے ترقی کر رھے تھے ۔ اور آزادی کے بعد بھی شریف شہریوں کی طرح اپنی زندگی کوبسر کر رھے ھیں ۔

    سوال : پھر اس کا اصل ذمہ دار کون ھے ؟
    جواب : اس کے اصل ذمہ داروہ قانون دان ، سیاستدان اور بیوروکریٹ ھیں جو شروع دن سے مفاد پرستی میں کمال کے ژرف نگاہ تھے ۔انہوں نے 61 ھجری کے کوفہ کے حافظوں اور قاریوں کی طرح آئین اور قانون کو امرا اور بادشاہوں کو تحفظ دینے کے لیۓ مخصوص کیا ۔ جس کے نتیجے میں صرف امرا کو شرفا کا درجہ دیا گیا ۔ استادوں کی تنخواہیں اورسکالرز کی آمدنی ہر دور میں ناچنے گانے والوں کی آمدن سے بہت کم رھی ۔ اور شروع دن سے معاشی اور معاشرتی بے عدلی کو امرا کے لیۓ جائزرکھا گیا ھے ۔
    ممتاز ادیب جناب اے۔ حمید کی ڈائری میں ایک واقعہ رقم ھے ۔جسکا لب لباب یہ ھے کہ ایک بار ملکہ ترنم نورجہان نے اپنی ایک گھریلو ملازمہ کی ایک کوتاھی پر اس کی ٹھیک ٹھاک پٹائ کردی ۔ مقدمہ درج ھوا ملکہ ترنم کی عدالت میں پیشی تھی لیکن ممتاز قانون دان ایس ، ایم ، ظفر نے عدالت میں عذر پیش کیا کہ نورجہان صاحبہ اگرچہ مغینہ ھیں لیکن عام جگہوں پر پبلک کا سامنا کرنے سے بچنے کے لیۓ برقعہ استعمال کرتی ھیں ۔ لہذا ان کو پردے میں رکھا جاۓ اورعدالت میں نہ پیش کیا جاۓ ۔ لہذا وہ مقدمہ میڈم کی پیشی کے بغیر ھی ختم کروا دیا کیا ۔ یہ تھی معاشرتی بے عدلی کی فقط ایک مثال ۔ ۔
    اور صرف معاشی و معاشرتی بے عدلی ھی نہیں بلکہ علمی بے بصری کا بھی یہ عالم رھا کہ ھجرت کر کے آنےوالوں میں سے بہت سے اعلی تعلیم یافتہ پروفیسر حضرات آج بھی نوجوان نسل کے اذھان میں یہ نظریہ انڈیلتے نظر آتے ھیں کہ مسلمانوں کو علیحدہ وطن لینے کی ضرورت ھی کیا تھی ۔ بھارت میں تو آج بھی مسلمان آزادی سے رہ رھے ھیں ۔ کیا مل گیا پاکستان لے کر۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔
    المختصر یہی کہ معاشی و معاشرتی بے عدلی اورغیر مساویانہ تقسیم دولت نے 66 سالوں میں امیرکو امیر تر اورغریب کوغریب تر بنا دیا ھے ۔ یہی معاشی نا انصافی چوروں اور لٹیروں کی تعداد بڑھاتی ھے ۔ بھتہ خوری ، بم بلاسٹ ، اور دیگر جرائم کے لیۓ مجرموں کی کھیپ خود بخود تیار ھوتی چلی جاتی ھے ۔ مذھبی طبقہ بھی دو ڈھروں میں بٹ گیا ۔
    ایک تو حقیقی مذھبی خادم ھیں جواپنی کم آمدنی کے باعث آج سے تیس، چالیس سال پہلے تک سائکل پر دکھائ دیتے تھے اب موٹر سائکل پر آمد و رفت رکھتے ھیں ۔
    ایک وہ مذھبی ڈھرا ھے جو ان مولویوں اور ذاکروں پر مشتمل ھے جن کو فرقہ واریت پھیلانے پر ایجنسیوں سے باقاعدہ تنخواہ ملتی ھے ۔ یہ ڈھرا ، راتوں رات پوش ایریا میں گھر بھی خرید لیتا ھے اور پجیرو کے ساتھ پانچ چھ باڈی گارڈ بھی رکھ لیۓ جاتے ھیں ۔
    غیر ملکوں کی امداد سے چلنے والے دینی مدرسے بھی ان ممالک کے سیاسی ایجنڈوں کا پرچار کر کے غربت اور مہنگائ سے پسی ھوئ عوام کومزید وطن سے بیزار بنا رھے ھوتے ھیں ۔ ۔

    ھمیں ان سب مسائل کا حل سوچنا ھے ۔ ھمیں رجائیت پسند بننا پڑے گا ۔ قنوطیت پھیلانے کو غیرملکی ایجنسیاں کافی ھیں ۔

    برادرم جعفر حسین ، یہ جو سوال ھے نا ، کہ کیا ھم آزاد ھیں ؟

    تو اس کا ایک ھی جواب ھے کہ اگر آپ کو آزادی کا شعور ھے تو آپ آزاد ھیں
    اور اگر آزادی کا شعورنہیں ھے تو آپ آزاد نہیں ھیں بلکہ غلام ھیں خود اپنی سوچ کے ۔
    بس یہ یاد رکھنا ھے کہ ھمیشہ انفرادی سوچ ھی اجتماعی سوچ بنتی ھے

    و ما علینا الا البلاغ

  9. ا سلام علیکم
    آپ سب کو آزادی مبارک
    ہم نے اپنی سوچ کو غلامی سے آزاد نہیں کیا ۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی ئباہی کا ادراک نہیں ہورہا ۔کیونکہ ہم دوسروں کی ثقافت دوسروں کی سوچ اور دوسروں کے رنگ ڈھنگ کو اپنانا معزز ہونا سمجھتے ہیں ۔اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ۔
    بس اگر اپنی چال یاد رکھیں اور اسے خوبصورت کر لیں کہ ہم پاکسانی ہیں پاکستان ہمارا ہے ۔ہم برے ہوتے ہیں تو پاکستان برا ہو جاتا ہے ہم اچھے ہوتے ہیں تو پاکستان اچھا ہو جاتا ہے ۔ہم ایماندار ہوں تو پاکستان ایماندار ہو جاتا ہے ۔تو پاکستان تو ہمارا آئینہ ہے ۔اگر اپنی اچھی صورت دیکھنی ہے تو پاکستان کو برائیوں سے پاک کر لو پھر دیکھو کہ کیسا رنگ بکھرتا ہے آزادی کا ۔
    مگر میں خود کو تو زمے دار سمجھتی ہی نہیں میں تو بس سب دوسروں کو اس کا زمے دار سمجھتی ہوں جس دن میں نے یہ زمے داری اُٹھالی کہ ہر برائی پر آواز اُٹھاؤنگی ئو کم از کم ضمیر کی عدالت میں تو سر خرو ہو جاؤنگی ۔
    اور میں کسی حد تک ہوں بھی کہ ہر برائی پر میرا قلم چلئا ہے ۔کوئی پڑھے نہ پڑھے کوئی سنے نہ سنے بس یہ ہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ ہم سب اپنا اپنا حصہ ڈالیں اور اپنے ملک کی اچھائیاں بھی سامنے لائیں جس طرح برائیاں لاتے ہیں ۔
    اللہ ہمارے ملک کو ہر بری نظر اور آفت سے بچائے رکھے آمین

    کچھ دن غیر حاضر ر ہوں گی کچھ نجی مصروفیات ہیں ۔ کہا سنا سب معاف
    دعاؤں میں مجھے ضرور جگہ دیجئے گا۔
    انشاء اللھ جلد دوبارہ حاضر ہونگی
    عالم آرا

  10. جعفر حسین بھائ آپ سبکو پاکستان کا 67 واں جشن آزادی بہت مبارک ھو
    اللہ پاک میرے پیارے وطن پاکستان کو اقوام عالم میں سربلندی عطا فرماۓ آمین ثم آمین
    دل سے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی دعا يئں مانگتے ھیں
    جگ جگ جیوے میرا پیارا وطن

    خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
    یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
    خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لئے
    حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ھو

  11. اے پاک وطن آزاد وطن

    ہم لوگ بُۃت شرمندہ ہیں
    آن بہینوں سے …. اُن ماوں سے
    جو اپنا سب کُچھ ہار گیئں،……
    آن چیخوں سے … اُن آہوں سے ….
    جو دور فلک کے پار گئیں

    ہم لوگ بُہت شرمندہ ہیں

    یہ خلقت تیرے شہروں کی
    خوں روتی اور رولاتی ہے
    ائے دیس تیرے اِن پُھلوں سے
    بارود کی بُو کیوں آتی ہے

    شرمندہ روحِ قائد سے
    اقبال تیرے اُن خوابوں سے
    اِن نھنے مُنھے بچوں سے
    اُن آنے والی ن سلوں سے
    اُں خون میں ڈوبی ل اشوں سے
    جب خواب یہ پُورا دیکھا تھا
    تعبیر ادھوری کیوں نکلی…….

    ہم لوگ بُہت شرمندہ ہیں

    باعث ہیں ہم بربادی کے
    ہم نے یہ گُل آزادی کے
    کُچھ رون د دیے ہیں پیروں میں
    کُچھ بانٹ دیے ہیں غیروں میں

    ہم لوگ بُہت شرمندہ ہیں…….

  12. لوگ آنکھوں میں لیے وعدہء فردہ کے چراغ
    خود کو وقفِ راہِ اُمید کۓ جاتے ہیں
    یومِ آذادی پہ ہر سال ہمارے قائد ;
    جانے کس عہد کی تجدید کیۓ جاتے ہیں

    ————————————————-

    ہم بھول گۓ آزادی کا یہ جشن مناتے کیسے ہیں

    چیخیں اور آہیں سُن سُن کر
    لاشوں ک ٹُکڑے چُن چُن کر
    اشکوں کی لڑیاں بُن بُن کر

    ہم بھول گۓ آزادی کا یہ جشن مناتے کیسے ہیں

    ان بُھوک کے مارے بچوں کے
    اس جھُوٹ کہ آگے سچوں کے
    غمناک سے چہرے تک تک کر

    ہم بھول گۓ آزادی کا یہ جشن مناتے کیسے ہیں

    وہ خوف کی ہیبت سے سہمے
    وہ موت کی ہیبت میں ڈوبے
    بارود کی خوشبو میں رہ کر

    ہم بھول گۓ آزادی کا یہ جشن مناتے کیسے ہیں

  13. او ،،،،، ظُلم سہہ کر خاموش رہنے والو،،،،،،،،،،،،،،،

    نیند کی گولیاں کھا کر سکوں حاصل کرنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    چوروں اور ڈاکوں کو بُرا نہ کہنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    اپنا حق مانگنے سے کترانے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    ہر سرکاری ادارے میں جا کراپنے جائیز کام کہ لیے بھیک مانگنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    ہسپتالوں میں ایک گولی کو ترسنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    گیس اور بجلی کو ترسنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    بس میں لٹک کر سفر کرنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    دہشت گردی برداشت کرنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    ہر چیز پر ایکسٹرا ٹیکس دینے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    سیلاب کا امدادی سامان بازار سے دوبارہ خریدنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    سارے شہر کی سٹریٹ لایٹ کا کا بل اپنی جیب سے دینے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    وزیروں اور اُن کی اولاد کے بیرون مُلک دوروں کا خرچہ ہنس کر اُٹھانے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    ہاتھوں میں ڈگریاں لیے سڑکوں پر مارے مارے پھرنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    اپنی ماں اور بہنوں کا زیور بیچ کر پڑھنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    اپنا خون پسینہ بہا کر کھیتی باڑی کرنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    روز جینے اور روز مرنے والو،،،،،،،،،،،،،،،

    سانیہ مرزا کو بھابی کہنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    پیپسی پر پانچ روپے کم کر کے سارا مہینہ میسج کرنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    انگلش کہ پیپر میں کیلکولیٹر لیے کر جانے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    مُلک کو دولخت کرنے والوں کو اپنا سیاست دان تسلیم کرنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    زرداری کع صدر بنانے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    بس میں لٹک کر سفر کرنے والو ۔۔۔۔۔ ،،،،،،،،،،،،،،،

    اپنی وفاوں کا ثمر بھیک میں مانگنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،،،

    اپنے حصے کی خوشیاں دوسروں میں بانٹنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    اپنی اولاد کو کھانے کی بجائے زہر دینے والو ،،،،،،،،،

    حُکمرانوں ک سیاسی وعدوں پر ا یقین کرنے والو ،،،،،،،

    قاتلوں اور لُٹیروں کو حُکمران بنانے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    مسجد میں عبادت کو جاتے ہوئے ڈرنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    ساری عُمر عدالتوں کہ چکر لگانے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    گھر کہ برتن بیچ کر وکیلوں کی فیس دینے والو،،،،،،،،،،،،،،،

    چیف جسٹس کو اپنا ہمدرد سمجھنے والو،،،،،،،،،،،،،،،

    40 چالیس روپے لیٹر والا پیٹرول 106 روپے لیٹر میں خریدنے والو،،،،،،،،،،،،،،،

    او۔۔۔۔۔۔۔۔ طبقاتی نظام میں ہنس کر جینے والو،،،،،،،،،،،،،،،

    اسلامی مُلک میں سوشلزم اور کیمنزم کی بات کرنے والون کی طرفداری کرنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    غیر مُلکی طاقتوں کو دعوت دینے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    غریبوں ،،، کی ذکوۃٰ کھانے والو،،،،،،،،،،،،،،،

    یتیموں کا حق مارنے والو ،،،،،،،،،،،،،،،

    تمھیں 14 اگست ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کا 67 واں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جشنِ آزادی مُبارک

  14. میں رعناء اکبرآبادی کی 1938 میں لکھی ہوئ نظم بیش کررہا ہوں جب مسلم لیگ اور کانگرس اتحاد کے نغمے گارہے تھے۔ یہ نظم اُسوقت کے حالات میں رعناء صاحب کی چشمِ بینہ کی مظہر ہے۔ سہلِ مطنعہ ملاحظہ ہو

    اتحادِ کفرواسلام

    یہ اہلِ وطن آخر کیا اُٹھے ہیں سمجھانے
    کس طرح کوئ سمجھے کس طرح کوئ مانے

    ہندوو مسلماں میں ہم صلح کرادیں گے
    کیسے یہ دماغوں میں آیا ہے خداجانے

    یہ لیگ کی خواہش ہو یا کانگرسی کوشش
    بیکار ہیں یہ قصے بے سود یہ افسانے

    منزل ہے جدا ان کی جادہ ہے جدا اُنکا
    یہ دیر کے بندے ہیں وہ کعبہ کے دیوانے

    دنیا کی نگاہوں نے گرتے کبھی دیکھے ہیں
    بتخانوں کی شمعوں پر اسلام کے پروانے

    پیمانِ محبت کا امکان نہیں ہوتا
    دل ہوں جو مقدر سے ٹوٹے ہوئے پیمانے

    کیا جانئے لکھا ہے کیا ہند کی قسمت میں
    مشکل ہی سے بستے ہیں اُجڑے ہوئے کاشانے

    یہ درد ہے وہ جس کادرماں ہی نہیں کوئ
    بیٹھے ہیں یہ باتوں سے کیا درد کو بہلانے

    کس وہم میں ہیں لیڈر یہ بھی کہیں مکن ہے
    زنّار کا ہو ڈوراہو تسپیح کے ہوں دانے

  15. وطن فروش

    اہلِ شر اہلِ زر ہوگئے
    چور اُچکّے نڈر ہو گئے

    تھا نہ جن کا کبھی اعتبار
    وہ بھی اب معتبر ہو گئے

    تین میں جو نہ تیرہ میں تھے
    آج وہ مقتدر ہوگئے

    قتل وغارتگری کے امیر
    لیکے زر بے ضرر ہو گئے

    مدتوں کے شتر کینہ لوگ
    پل میں شیروشکر ہوگئے

    منزلوں کے نشاں مٹ گئے
    قافلے دربدر ہو گئے

    کیسے کیسے محبِ وطن
    ہجرتوں کی نظر ہوگئے

    بھاڑ میں جائیں سب جانِ جاں
    تو ملی ہم ظفر ہوگئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *