آتشین مصر ۔۔۔ مسلمانوں کا مصر

آتشین مصر نظم
آتشین مصر

مصر کے بازاروں میں
نا کوئی اب خواب بچا
نا کوئی بکنے کو رہا
ہر آنکھ مضطر
ہر خواب لہوتر
جرم اظہار سے دار تک
آتشین ہو گئے
گلبہار، مرغزار، سمندر

ڈاکٹر نگہت نسیم

20 thoughts on “آتشین مصر ۔۔۔ مسلمانوں کا مصر”

  1. ادخلوا مصر ان شاء الله آمنين
    مصر کے بارے میں قران میں لکھا ھے
    مصر کا بہت تذکرہ ھے قران میں حضرت یوسف علیہ اسلام کے حوالے سے
    حضرت موسی کے حوالے سے
    فرعون
    زلیخا
    عزيز مصر
    مصر کی تہذیب 7 ھزار سال پرانی
    مصر دریاۓ نیل کی سرژمین
    مصر خوش حالی اور تمدن کا وطن
    مصر الانبیاء کی سرسبز سر ژمین
    آج وھی امن وامان کی بستی ایک بار پھر نار نمردو کی زد میں ھے
    مجھے مصر سے قلبی نسبت بھی ھے
    میں نے مصر میں ایک طویل عرصہ گذرا ھے
    مصر جہاں میرے شوھر مدفون ھیں
    مصر جہاں میرے شوھر عادل المناسترلی کے آباواجداد کا دو ھزار سالہ قصر المناسترلی موجود ھے
    جہاں میرے سسرالی بزرک مدفون ھیں
    مصر اج لہو لہان ھے
    مجھے بھی اپنے دیگر اسلامی بھائ بہنوں کی طرح مصر کے حالات پر بہت تشویش ھے
    اللہ اس سر ژمین کو ھر عصر میں ھر عہد میں فرعونوں سے محفوظ رکھے آمین ‘
    یا اللہ سارے مسلمان ممالک کی حفاظت فرماۓ آمین ثم آمین
    مصر کی سرژمین کو نذر آتش ھونے سے بچا آمین

    مصر کے بازاروں میں
    نا کوئی اب خواب بچا
    نا کوئی بکنے کو رہا
    ہر آنکھ مضطر
    ہر خواب لہوتر
    جرم اظہار سے دار تک
    آتشین ہو گئے
    گلبہار، مرغزار، سمندر

  2. اھرام مصر جو ھزاروں سال پہلے تعمیر کیے گیے تھے ٹیکنالوجی اور ترقی کے اس شاندار دور میں بھی انسان اپنی تمام تر ترقی اور ذھانت کے باوجود اس بات کا سراغ نیہں لگا سکتے ھیں کہ اھرام مصر کیسے بناۓ گیے
    ھزاروں سال پہلے کیسے یہ ناقابل تسخیر تمیعرانی شاھکار بناۓ گیے
    وہ کیسا مواد یا تعمیری میٹریل تھا جو اسکی بنیادوں میں بھرا گیا کیسے اتنے بھاری پتھر سوڈان سے لاۓ گیۓ تھے
    مصر بہت پراسرار ملک ھے
    تاریخ سیاحت و جغرافیہ نوادرات فرعون یا فراعنہ سے دلچپسی رکھنے والے مصر ضرور جاتے ھیں
    وہ کون لوگ تھے جہنوں نے اھرام مصر بناۓ
    جنکی پائيداری دیکھہ کر آج بھی انسان دم بخود رہ جاتا ھے

  3. مصر کو ام الدنیا بھی کہا جاتا ھے دینا کی سب سے قدیم تہذیب بھی مصر کی تہذیب و تمدن ھے
    مصر کا ذکر قران کریم میں بھی بہت سارے حوالوں سے آیا ھے
    عصر موسی علیہ اسلام کے زمانے میں فرعون حاکم مصر تھا
    سورہ البقرہ میں
    سورہ یوسف میں میں بھی مصر کا ذکر تفصیل سے آیا ھے
    مصر کو عالم اسلام میں ایک بہت خاص مقام حاصل ھے
    دینا میں سب سے پہلی قوم مصری تھی جس نے پرچم یا جھنڈے کا استمعال کیا
    مصر کو نہر خالد یعنی دریاۓ نیل کی وجہ سے سرسبزی اور غذائ خوش حالی مسیر ھے
    مصر میں بحر احمر
    بحر اسود
    خلیح سوئس
    خلیج العقبہ
    بھی رواں دواں ھیں
    دریاۓ نیل کے بیٹوں کا لہو آج کتنا ارزاں ھوگیا ھے
    آج سارا مصر لہو لہان ھے

  4. مصر کے تعلیمیافہ لوگ بالعموم سیکیولر اور روادری کی سوچ رکھتے ہیں۔ جبکہ اخوالمسلمین علاوہ سلافیوں کے اور مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتی۔ رہے پاستانی تو عرب لاکھ ہمیں کم تر یا چھٹے درجہ کا مسلمان کہتے رہیں ہم اُنکے پھٹے میں پاؤں ڈالتے رہیں گے اورغیر مسلموں سے بھیک مانگتے رہیں گے۔ میرے کافی مصری دوست ہیں ۔ سب کے سب تخلیِقِ پاکستان کی مذمت کرتے ہیں اور انڈیا کے گُن گاتے ہیں۔

  5. یہ شہر کراچی ہو یا وہ مصر کا بازار
    بکنے کو سبھی راضی! غدار ہیں غدار

  6. تسبیح لیے ہاتھوں میں پہنے ہوئے زنہار
    باتوں کے سبھی رسیا مفقود ہے کردار

  7. سبحان اللہ شمس بھائی کیا عمدہ اشعار ہیں .. . پوری دنیا کا نقشہ سمٹ آیا

  8. دریاۓ نیل کے بیٹوں کا لہو آج کتنا ارزاں ھوگیا ھے
    آج سارا مصر لہو لہان ھے

    آہ ……. افسوس صد افسوس

  9. وقت عصر

    قسم ہے عصر کی
    انسان خسارے میں ہے
    آج وہی وقت عصر ہے
    سرزمین انبیا
    لہو رنگ ہے
    اس عہد بے بصرکی
    کوئی
    تو
    نظر اتارے

    ڈاکٹر نگہت نسیم

  10. الاسلام سے الاخوان کا مذاق۔
    تحریر سید مصباح حسین جیلانی
    مصر کی صورت حال بہت تیزی سے بدل رہی ہے اور جو حالات فوج کی دسترس سے نکلتے نظر آ رہے تھے، ایک بارپھر قابو میں آتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ لیکن اخوان المسلمون کی روپوش قیادت نے عوام کو اگلے ھفتے پھر قربانی کا حکم دے رکھا ہے اور دیکھیں اب کی بار کون کس کی بھینٹ چڑھتا ہے۔
    سارا منظر نامہ دنیا کے سامنے ہے کہ کسطرح عوام فوج اور پولیس کے ہاتھوں مولی گاجر کی طرح کٹتے رہے اور اخوان المسلمون کی قیادت انکے دینی جذبات ابھار ابھار کر انہیں سڑکوں پر لاتے رہے۔ پورے تین ہفتوں میں مختلف اطلاعات کے مطابق ایک ہزار سے تین ہزار تک لوگ مارے گئے لیکن حیرت کی بات یہ کہ اخوان المسلمون کا کوئی سرکردہ راہنما نہ مارا گیا۔ لیکن عوام کے جذبات اور اسلام کے ساتھ بھونڈا مذاق کرتے ہوئے الاخوان کے مرشد عام ڈاکٹر بدیع نے خفیہ مقام سے فتویٰ دیا کہ میں اللہ کی قسم کھا کہتا ہوں کہ مرسی کے خلاف بغاوت کعبۃ اللہ تاراج کرنے سے بھی بڑا جرم ہے۔ اس فتوے کا اور کچھ فائدہ ہو نہ ہو، کم از کم ہمیں ڈاکٹر بدیع اور انکے مریدوں کا کعبۃ اللہ کے بارے میں نظریہ معلوم ہو گیا جو انکے کسی سیاسی سربراہ سے بھی کم اہم ہے۔
    دوسری طرف شیخ قرضاوی نے قطر سے فتویٰ دیا کہ مرسی کی حمایت میں نکلنا واجب ہو چکا ہے۔ پتہ نہیں یہ کیسا واجب تھا جو ڈاکٹر بدیع اور شیخ قرضاوی پر واجب نہ ہوا، ورنہ وہ بلوں میں گھس گھس کر نہ بیٹھے رہتے۔ یہ پھر جنکا مرسی کعبۃ اللہ سے بھاری ہو، وہ اللہ جانے خود کو عرش عُلا سے بھاری سمجھتے ہونگے اس لئے دبک کر بیٹھے رہے۔
    یقیناً میری باتیں ان لوگوں کو بری لگی ہونگی جن کی معلومات کا سرچشمہ میڈیا ہے۔ یہ وہی میڈیا ہے جس کی اکثر باتیں ہم تھو تھو کڑوی کر کے رد کر دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ مصر میں معاملہ دین کا آ گیا تھا تو اب ہم سب کو اسی میڈیا پر یقیقن کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
    حقیقت میں لوگوں کا حافظہ اسقدر کمزور ہے کہ انہیں ایک دن پہلے کی بات یاد نہیں رہتی اور اور اپنی عقل کی کسوٹی پر فیصلے کرنے کی بجائے سنی سنائی باتوں پر ایمان لانا ضروری سمجھتے ہیں۔ چند ہفتے پہلے اسی صدر مرسی کے خلاف مصر کے بازاروں میں مظاہرے ہو رہے تھے اور اخوان المسلمون کے جیالے متوالے شیخ قرضاوی کے فتوے پر مصر بھر میں شیعوں کا قتل کر رہے تھے۔ مصر کو طالبانی افغانستان بناتے ہوئے ہر ملا مفتی فتوے دیکر نت نیا شوشہ کھڑا کر رہا تھا۔ دوسری طرف آئینی اصلاحات کر کے مرسی نے عدلیہ کا اختیار محدود تر کر دیا تھا اور خود حاکم اعلیٰ بن بیٹھا تھا۔ ریاست کے چاروں ستون یعنی عدلیہ، فوج، سول انتظامیہ اور سیاست دان مرسی کے اقدامات سے نا خوش تھے۔ ایسے میں صدر مرسی نے شیخ قرضاوی کی اطاعت میں شام کے خلاف جہاد کا بھی اعلان کر دیا۔
    شام میں جہاد سے مراد وہاں بشار الاسد کے خلاف تحریک کو قوت فراھم کرنا تھا۔ بظاہر شام میں لوگ ایک آمر کے خلاف نبرد آزما ہیں لیکن جہاں جہاں انکو اختیار ملا ہے وہاں انہوں نے رسول اللہ کے صحابہ کے مزار اکھاڑ کر انکی لاشیں غیر معلوم جگہوں پر منتقل کر دی ہیں، انبیاء ما سبق کے تبرکات جیسے جناب ابراھیم علیہ السلام کے مکان کو دھماکے سے اڑا دیا ہے اور عورتوں کے پیٹ کاٹ کر بچے ذبح کر دئیے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کس مقصد کے لئے عالمی میڈیا یہ سب کچھ منظر عام پر نہیں لاتا۔ لیکن یہ لوگ طالبان کی نہج پر چلتے ہوئے سنی و شیعہ سبھی کے کفر کے قائل ہیں اور انکے بے دریغ قتل سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہ خدائی فوج نجانے اس وقت کہاں تھی جب حزب اللہ لبنان میں اسرائیل کے خلاف جنگ لڑ رہی تھی۔ اسوقت جہاد جہاد کا بخار کون سے گولی کھانے سے اتر گیا تھا، ہمیں نہیں معلوم۔
    حقیقت میں کس کو نہیں معلوم کہ حسنی مبارک کو بھی بیرونی اشارے پر ناچ روک دینے کی پاداش میں نکالا گیا۔ لیکن حسنی مبارک نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقتدار فوج کے حوالے کیا اور خود نکل گئے۔ حسنی مبارک کو معلوم تھا کہ یہ بند کبھی بھی اپنی بانٹ پوری نہیں کر سکیں گے، اسی لئے انہوں نے انتخابات کا وعدہ کیا۔ لیکن چونکہ انتخابات کے لئے امن کا عرصہ درکار تھا جس میں دھول چھٹ جانے سے حقائق سامنے آ جاتے ہیں، اسی لئے یہ لوگ فوری معزولی اور فوری انتقال اقتدار یا انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے۔ اب بھی فوج نے شفاف انتخابات کا وعدہ کیا ہے اور اسی لئے وہ خود کرسیء اقتدار پر نہیں بیٹھی۔ لیکن چونکہ حالات سنبھلتے ہی لوگ حقائق کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں اور ایسی صورت میں اخوان کے انتخابات ہار جانے کا قوی امکان ہے، اس لئے اتنی شورش برپا کی جا رہی ہے تا کہ ایک طرف مظلومیت کا پرچار کر کے لاشوں پر ووٹ مانگے جاسکیں گے تو دوسری طرف بے وقوف عوام کو یہ بھول جائے گا کہ اصل میں اخوان کو نکالا کیوں گیا تھا۔
    امام علی علیہ السلام نے فر مایا تھا کہ لوگوں کے دل جانوروں کی طرح ہی ہوتے ہیں جو انہیں سدھا لے، اسی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اس وقت یہی صورت حال مصر کی ہے۔ الاخوان نے لوگوں کو کشت و خون کے لئے رام کر لیا ہے ، اور وہ خدا کی بجائے ایک بندے پر مرنے مارنے کو تیار ہیں۔ ظہیر الدین بابر نے کہا تھا کہ لوگوں کے ساتھ مرنے میں بھی ایک مزا ہے اور اسی حقیقت کی عکاسی مصری عوام کر رہے ہیں کہ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اشتعال میں آن کر موت کا زیور پہن رہے ہیں اور خود اپنے ہی گھروں کے دئیے بجھا رہے ہیں۔ اپنا آج نا دیدہ اور مشکوک کل پر قربان کر رہے ہیں تا کہ مصر کو یتیم اور لاوارث بچوں کی ایک فوج میسر ہو سکے۔ ان کی کفالت الاخوان فرمائے گی جو کل کو خود کش حملہ آوروں کی فصل کی صورت میں ہمارے سامنے آئیں گے۔
    عقلمند لوگوں کو اپنی جان بڑی پیاری ہوتی ہے۔ کل جب مسجد کے انخلاء کا وقت آیا تو الاخوان کی قیادت مسجد بند اس لئے ہو گئی کہ ان کو فوج سے گرفتاری کا ڈر تھا۔ بھئی جب جذبہء جہاد اسقدر بلند ہو کہ آٹھ نو سو لاشیں پس قدمی پر مجبور نہ کر سکیں تو پھر گرفتاری کا کیا ڈر؟؟؟ لیکن ان لوگوں نے لال مسجد کی طرح کا ڈرامہ کرنے کی سعی میں عوام کو قربانی کا بکرا بنایا اور خود مسجد میں چھپ بیٹھے۔
    براہ راست مبصرین سے ہم نے خود سنا کہ مسجد کے اندر سے بھی گولیاں باہر برس رہی ہیں۔ جمعے کے دن بھی مظاہرین کے پاس جدید اسلحہ موجود تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہے کہ گولی دونوں طرف سے چلی۔ اب چونکہ الاخوان کی اپنی مرکزی قیادت کا کوئی فرد مجروح تک نہیں ہوا، اس لئے ہمیں تو یہ بھی ڈر ہے کہ فوج کی آڑ میں ان لوگوں نے خود بھی لاشیں گرائیں ہونگی۔
    یہ سارا منظر نامہ پیش کرنے کے بعد سوال یہ بچتا ہے کہ اب مصر کے تنازعے کا حل کیا ہے؟؟؟ پہلی بات تو یہ اگر الاخوان اسقدر عوام میں مقبول ہے کہ ڈھائی تین ہزار بندے اس پر اپنی جان وار دیتے ہیں اور اس سے زیادہ بندے قربانی کو تیار بیٹھے ہیں تو ایسی عوامی قوت کو انتخابات سے ڈر کیسا؟ مصری فوج اور نگراں حکومت کو انتخاب کروانے دیں اور ابو تو لاشوں کے ڈھیر پر کھڑے ہو کر قد اور بھی اونچا کیا جا سکتا ہے۔ سو چند دنوں میں پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ حکومت سنبھالیں اور اپنے مخالفین کی گردن زنی کی مشق شروع کر دیں۔ لیکن اگر الاخوان چند دن انتظار کرتی ہے اور فوج اور انتظامیہ موجودہ یورش پر تحقیقات کرتے ہیں اور حقائق عوام تک پہنچ جاتے ہیں تو ایسی صورت میں الاخوان کا جیت جانا مشکل نظر آتا ہے۔ اس لئے وہ شاید امن سے نہ بیٹھیں گے۔ اس لئے اب فوج کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ آئینی اصلاحات کر کے مصر کو سیکیولر ریاست بنا دیں اور بنگلہ دیش کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہاں الاخوان المسلمون یا اس جیسی سبھی تنظیموں پر پابندی لگا دیں۔ ساتھ ہی ایک قومی حکومت قائم کر کے خود اقتدار سے فی الفور الگ ہو جائے۔ ورنہ یہ ڈھول الاخوان کے گلے سے اترتا نظر آتا ہے نہ فوج کے۔ لیکن مصری حکومت کو اس سارے ہنگامے میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین سے عام معافی مانگتے ہوئے انکی خصوصی خبر گیری کرنا ہوگا اور انکے بچوں کی مہذب تعلیم و ترقی پر توجہ دینا ہوگی تا کہ کل کو وہ لال مسجد کے بچوں کی طرح ایک دہشت گردوں کی فوج میں نہ بدل جائیں جن کے دل میں پوری قوم سے انتقام کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہرو شیما اور ناگی ساکی جاپانیوں کو بھلائے نہیں بھولیں گے۔ لیکن امریکا نے انکے زخموں پر مسلسل مرھم لگاتے لگاتے تین نسلیں گزار دی ہیں۔ انکی تعلیم و ترقی اور تجارت کو حد ممکن فروغ دیا صرف اسی لئے تاکہ یہ مارشل قوم کہیں کل پھر انتقام کے لیئے نہ اٹھ کھڑی ہو۔ مصری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ مصر کا مستقبل اسکے ماضی کی طرح تابناک ہو اور یہ قوم ہماری غلطیوں سے سیکھ کر اپنی سمت سفر طے کر سکے۔

  11. اختصار سے مگر بہت بہترین انداز سے حقیقت نگاری کی ھے نگہت آپی نے۔
    شاھین رضوی جی کے تبصرے سے معلومات میں بہت اضافہ ھوا ۔
    دیگر اراکین کا شعری خراج بھی بہت اس سانحہ کی عمگین عکاسی ہے ۔

    عالم اسلام میں اس بد امنی کے اصل محرکات تو بہت سے ہیں
    لیکن ایک محرک یہ بھی ھے کہ اس حقیقت سے چشم پوشی کر جاتے ہیں
    کہ ہم نہ جانے کیوں اپنی صفوں میں سے مرتد اور منافق کالی بھیڑوں کو منظر عام پر نہیں لاتے
    یہی کالی بھیڑیں ھر عہد میں تاراجی کا باعث بنی ہیں ۔ ۔ ۔
    اللہ تعالی تمام عالم اسلام پر کرم فرمائیں اور اتحاد سے رہنے کی توفیق دے ۔ آمین

  12. شکریہ بہن نگہت ٹیپ کا بند پیش کرہا ہوں
    مومن جسےکہتے ہیں وہ مفقود ہے کردار
    اورشیوہ ہماراہے ، فقط گفتار ہی گفتار
    ملت کرے آخر اب کس کے لیے پیکار !
    مکار ہے مسٹر بھی اورملا بھی ہے فنکار

  13. مصباح صاحب

    ماشاء اللہ آپکا تبصرہ حقیقت پر مبنی ہے۔

    کہتا ہے شہادت ہے بڑی چیز یہ قاضی
    دیتا ہے مثالیں پھی حسین ابنِ علی کی
    خطبات تو دیتا ہے یہ گردن نہں دیتا
    یہ شان ہے اس دور کے ملّا وولی کی

    حضرت علی نے معاویہ کے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جنگ میں ہزاروں مسلمان ہلاک ہونگے۔ جھگڑا میرا اور تیرا ہے۔ کیوں نہ میں اور تو ایک دوسرے کا مقابلہ کرلیں۔ یا تو میں میرا جاؤنگا یا تو یا ہم دونوں۔ ہزاروں مسلمان تو قتل نہیں ہونگے۔

  14. محترم ظفر صاحب ہمت افزائی کا بہت شکریہ۔
    مجھے یقین ہے کہ انکا اللہ اور اسکے رسول پر ایمان ہی نہیں ہے، ورنہ اپنے ایک سیاسی راہنما کو کعبۃ اللہ سے محترم نہ جانتے۔ کعبۃ اللہ کی حقیقت یہ ہے کہ اسکی طرف رخ کئے بنا نماز نہیں ہوتی۔ اسکی طرف پشت کرنا حرام ہے۔ اس میں چیونٹی و مچھر تک کو مارنے کی اجازت نہیں ہے، اور اسکے تقدس میں امام حسین علیہ السلام اپنا احرام توڑ کر شہر سے نکل جاتے ہیں کہ میری خاطر قتال نہ ہو تا کہ اسکی حرمت قائم رہے۔ اب اللہ پر ایمان رکھنے والے بتائیں کہ کیا مرسی اس حرم خدا سے زیادہ محترم ہے؟؟؟؟ ہاں یہ بات الگ کہ یزید ، عبد الملک اور ہشام جیسے لوگوں نے اللہ کے گھر پر آگ برسائی، اسے مسمار کیا، اسکی چھت پر بیٹھ کر شراب پی اور قرآن پاک کوپارہ پارہ کیا۔ جن لوگوں کے نزدیک وہ خلیفہ تھے، ان کے لئے اب بھی خانہ کعبہ گرانا کوئی بڑی بات نہیں ہے

    لیکن ہمارے لئے ایمان کا مسئلہ ہے اور اسکا احترام ہے کہ نجدیوں پر آج تک کسی مسلمان نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔
    لگتا یہ ہے کہ ان لوگوں نے بدر و احد میں مارے گئے مشرکین کا بدلہ چودہ سو برس بعد مسلمانوں سے لینا شروع کر رکھا ہے۔ شام میں بھی فساد فی الملک اللہ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے انہوں نے اب سُنّی کردوں کے خلاف قتل عام کا فتویٰ دیا ہے۔ اس وقت صرف ایک ایک دن میں بیس ہزار کرد ہجرت کر کے شام سے عراق آگئے ہیں۔ UNHCR کے مطابق اس شمالی عراق کے خود مختار کرد علاقوں میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ شامی کرد پناگ گزیں ہیں جو چھت اور کھانے کی تلاش میں ہیں۔ عراقی کردستان کی حکومت نے کل اعلان کیا ہے کہ اگر یہ یلغار بند نہ ہوئی تو کردوں کے تحفظ کے لئے انہیں جنگ میں کودنا پڑا گا۔ گویا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر آتا ہے کہ عراق کا وہ علاقہ جو بظاہر پُر امن ہے اسے بھی خون خرابے کا شکار کیا جائے۔

  15. میں گذشتہ دو دن سے سو ھی نیہں سکی
    میری بے خواب آنکھوں میں بے بسی کی سرخی دیکھہ کر ائینہ شب بھی مجھہ سے یہی سوال کرتا ھے
    کیا میں اب کبھی چین سے سو سونگی

    میں نے جس گھر میں آنکیھں کھولیں
    اور جس عظیم خاتون نے مجھے گھٹی پلائ وہ میری جدہ میری دادی
    جو فارسی کی معلمہ تھیں
    بہترین ذاکرہ اور انیس ودبیر کے مرثیے ّپڑھتی تھیں میری جنت مکانی دادی کو
    عربی اور اردو پر انکو غیر معمولی دسترس حاصل تھی میں نے ان سے ھی انسان دوستی کا ھنر سیکھا میں نے اپنی دادی جان ھی سے
    مسلمانوں کے عروج کے قصے سنتے تھے میرے گمان میں بھی نیہں تھا
    کہ کھبی اباد شہروں کو برباد ھوتے دیکھونگی
    کبھی مٹی میں لعل وگہر کو مٹتے اور رلتے دیکھونگی
    کھبی ترقی وتہذیب وتمدن کی داغ ڈالنے والے مسلمان ممالک کو نذر اتش ھوتے دیکھونگی
    میں نے ان سے ھی قران پڑھنا سیکھا ان سے ھی ترجمہ اور تفسیر شوق سے پڑھنے کی عادت اپنائ
    وہ مصر شام مکہ مدینہ ایران و عراق جاچکی تھیں شايد اسی لیے مجھے مصر کے اھرامات کا ذکر اچھا لگتا تھا
    میں نے بچپن ھی میں ان ممالک کی سیر و سیاحت کا عہد کیا تھا
    اور اپنے مصر ميں قیام کے دوران میں نے مصر کی خوب سیاحت کی
    کھبی کھبی عادل مجھے کہتے تھے کہ تم تو ان مقامات اور جگہوں پر بھی جاچکی ھو جہاں میں بھی نیہں گیا
    میدان تحریر جو ایک مشہور گذر گاہ بھی ھے بعض اوقات دن میں دو تین بار بھی ڈاون ٹاون جاتے ھوۓ وھاں سے گ‍‍ذرتے تھے

    قاھرہ اسکندریہ منصورہ
    پورٹ سیعد
    برکہ السبع
    اسماعلیہ
    بنی سویف
    شرم الشيج
    الغردقہ
    عقبہ
    کرنک

    خرام اے میرے جذبوں کی آتش سیال
    کیسے مجال ترے روبرو ٹہر جاۓ
    اس وقت اللہ جانے رات کا کون سا پہر ھے
    میرے اردگرد اچھی اور بری دونوں طرح کی یادوں کا ھجوم بھی ھے
    بری یادوں کو میں بھی اج نذر اتش کرونگی اور اچھی یادوں کو ھمشیہ اپنے ساتھہ رکھونگی
    اللہ پاک تمام مسلمان ممالک میں امن وامان رھے آمین ثم آمین
    سوچتی ھوں مسلمانوں کا لہو کتنا ازراں ھے
    یورپ و امریکہ میں کوئ کتا بلی مرجاۓ یا کوئ مار ڈالے تو شور مچ جاتا ھے مگر مسلمان ممالک میں ھر روز اتنی کثرت س لاشوں کا بیوپار ھورھا ھے اور سب تماشائ
    میں دعا کرتی ھوں کہ اللہ پاک جتنے بھی ژمین پر آتشی ھتیار ھیں
    ان سبکو ناکارہ بنا دے
    اللہ پاک ھم میں ایمان کی طاقت و قوت بھر دے
    آمین ثم آمیں

  16. عزيز سید مصباح بھا ئ اسلام علیکم
    اپکی چشم کشا تحریر نے مجھے بہت متاثر کیا ھے

    مصر میں ھونے والی تباھی اور قیمتی انسانوں کی جانوں کا نقصان دیکھہ کر بہت دکھہ ھورھا ھے

    مصر کو ام دینا بھی کہتے ھیں
    حضرت ابراھیم علیہ اسلام کی زوجہ متحرمہ حضرت بی بی ھاجرہ ام اسمعاعیل
    جنکو الام الانبیاء بھی کہتے ھیں بی بی ھاجرہ کا تعلق مصر سے تھا
    حضرت ابراھیم عراق میں پیدا ھوۓ
    وہ شام اور مصر کے درمیان تجارتی سفر کیا کرتے تھے
    پھر انھوں نے حضرت ام اسماعیل سے شادی کی اور جزیرہ نماۓ عرب میں بحکم خدا اللہ تعالی کے گھر کی دینا کے محور ومرکز یعنی مکہ المشرفہ کی بنیاد رکھی
    اس سے قبل اس سرژمین پر کسی بشر نے قدم نیہں رکھا تھا
    حضرت بی بی ھاجرہ کی برکت سے یہاں زم زم کا چشمہ جاری ھوا
    مصر اھل دانش وبینش کی سرژمین ھے
    مصر نہر الخالد کی گذر گاہ ھے

  17. عزيز سید مصباح بھا ئ اسلام علیکم
    اپکی چشم کشا تحریر نے مجھے بہت متاثر کیا ھے

    مصر میں ھونے والی تباھی اور قیمتی انسانوں کی جانوں کا نقصان دیکھہ کر بہت دکھہ ھورھا ھے

    مصر کو ام دینا بھی کہتے ھیں
    حضرت ابراھیم علیہ اسلام کی زوجہ متحرمہ حضرت بی بی ھاجرہ ام اسمعاعیل
    جنکو الام الانبیاء بھی کہتے ھیں بی بی ھاجرہ کا تعلق مصر سے تھا
    حضرت ابراھیم عراق میں پیدا ھوۓ
    وہ شام اور مصر کے درمیان تجارتی سفر کیا کرتے تھے
    پھر انھوں نے حضرت ام اسماعیل سے شادی کی اور جزیرہ نماۓ عرب میں بحکم خدا اللہ تعالی کے گھر کی دینا کے محور ومرکز یعنی مکہ المشرفہ کی بنیاد رکھی
    اس سے قبل اس سرژمین پر کسی بشر نے قدم نیہں رکھا تھا
    حضرت بی بی ھاجرہ کی برکت سے یہاں زم زم کا چشمہ جاری ھوا
    مصر اھل دانش وبینش کی سرژمین ھے
    مصر نہر الخالد کی گذر گاہ ھے

  18. ہم بارہا مصر کی فوج اور سیکورٹی فورسز پر زور ديتے رہے ہيں کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کريں اور حکومت کوچاہۓ کہ وہ اپنے شہریوں کے انسانی حقوق کا احترام کرے جيسا کے ہم نے مظاہرین پر زور ديا ہے کہ وہ بھی پرامن طريقے سے احتجاج کريں۔ تشدد مصر کے استحکام اور جمہوريت کے راستے پر سفر کو مزيد کٹھن کر دے گا اور مصالحت کيلۓ عبوری حکومت کی طرف سے کۓ گۓ وعدوں کے بالکل منافی ہے۔ ہم دوبارہ ملک ميں ایمرجنسی قانون کے نفاذ کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ اور حکومت پر زور ديتے ہيں کہ قانون کے مطابق وہ اپنے شہريوں کے پرامن احتجاج، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کو يقينی بناۓ۔ جو کچھہ قاہرہ میں ہو رہا ہے دنيا اسے ديکھہ رہی ہے۔ ہم مصر میں حکومت سميت تمام جماعتوں سے درخواست کرتے ہيں کہ وہ تشدد سے باز رہیں اور اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کريں۔

    http://www.whitehouse.gov/the-press-office/2013/08/14/statement-principal-deputy-press-secretary-josh-earnest-egypt

    سیکرٹری کيری کا يہ بیان مصر کے افسوسناک واقعات پر امریکی سرکاری موقف کی مزید وضاحت کرتا۔

    “آج کے واقعات نہايت افسوسناک ہیں اور امن، اور حقيقی جمہوریت ميں تمام فرقوں کی شموليت کے لئے مصری عوام کی خواہشات کے بالکل منافی ہيں۔ حکومت کے اندر اور باہر مصری لوگوں کو تشدد سے گریز کرنا چاہيۓ۔ صورت حال کو پرسکون رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ قيمتی جانوں کو مزيد نقصان سے بچايا جاسکے۔ امریکی حکومت ایک فوری ، پائیدار، روادار، اور تمام فرقوں کو ایک ساتھہ لے کر چلنے والی سویلین حکومت کی زیر قیادت جمہوریت کے لئے مصری عوام کی امیدوں کی بھرپور حمایت کرتی ہے”، سيکرٹری کيری:

    http://www.state.gov/secretary/remarks/2013/08/213128.htm

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

  19. ضرورت اس بات کی ہے ہم مسلمانیت سے زیادہ انسانیت کی بات کریں۔ مذہبی انتہا پسندی نے اس کرہء ارض پر سب سے زیادہ خون بہایا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *