نعت
مری شان کعبہ، مری جاں مدینہ
وہاں پر مرا دل، وہاں پر سفینہ
خدا کا کرم ہے یہ درسِ محمد
سکھا ہمیں زندگی کا قرینہ
مزہ پھر بھی آیا ہے جنت کا مجھکو
جُھلستی ہوئ دھوپ شہرِ مدینہ
کروڑوں دُرود و سلام اُن کے اوپر
جنہوں نے سکھایا مجھے مر کے جینا
گنہ گار تھا ، ہے یہ ظرفِ محمد
بلایا ظفر کو بھی شہرِ مدینہ

میں سجدہ واں کرتا اگر جانتا میں
جہاں پر گرا آپ کا تھا پسینہ
زلف سلجھائ تو اُلجھ میں گیا
اس سے راہِ فرار کیسے ملے
زلفِ سنوار دوں پل میں
یہ مجھے اختیار کیسے ملے
زلفِ دوارں سنوار دوں پل میں
یہ مجھے اختیار کیسے مل
زیرِ پا میرے آسمان بھی ہو
یہ مجھے اختیار کیسے ملے
چیروں بڑھکر میں ڈھال سورج کی
یہ مجھے اختیار ،کیسے ملے
عمر بھر ڈھو ن ڈتا رہا جسکو
وہ دلِ بیقرار ،کیسے ملے
چیردوں بڑھ کے ڈھال سورج کی
یہ مجھے اختیار ، کیسے ملے
یہی ورد شام وسحر میرے آقا
مدینہ، مدینہ ،مدینہ، مدینہ
نبیوں میں افضل ہیں شاہِ مدینہ
وہی حرفِ آخر ،وہی چشمِ بینہ
میں سجدہ واں کرتا اگر جانتا میں
جہاں بھی گرا آپ کا تھا پسینہ
تو کر میری خواہش یہ پوری خدایا
رہوں میں وہاں پر جہاں ہے مدینہ
وہی میرا ساحل ،وہیں پر سفینہ
نعت
مری شان کعبہ، مری جاں مدینہ
وہاں پر مرا دل، وہاں پر سفینہ
نبیوں میں افضل ہیں شاہِ مدینہ
وہی حرفِ آخر ،وہی چشمِ بینہ
خدا کا کرم ہے یہ درسِ محمد
سکھا ہمیں زندگی کا قرینہ
گنہ گار تھا میں، مگرمیرے آقا
بلاکر مجھے بھی دکھایا مدینہ
مزہ مجھکو ٹھنڈی ہواؤں کا آیا
جُھلستی ہوئ دھوپ تھی اور مدینہ
میں سجدہ واں کرتا اگر جانتا میں
جہاں بھی گرا آپ کا تھا پسینہ
کرو میری خواہش یہ پوری اے آقا
رہوں عمر بھر واں، جہاں ہے مدینہ
پھلیں پھولیں یارب ہمارے یہ بچے
سفارش کرو تاجدارِ مدینہ
کروڑوں دُرود و سلام اُن کے اوپر
جنہوں نے سکھایا مجھے مر کے جینا
یہی ورد شام وسحر ہے ظفر کا
مدینہ، مدینہ ،مدینہ، مدینہ
نذرِ اخگر
ہر شب شبِ برات ہو جشنِ بہار ہو
تقدیر میں اگر نہ غمِ روز گار ہو
شعر و سخن کی بات یا ذکرِ یار ہو
گویا مرے چمن میں ہمیشہ بہار ہو
کہتی ہے آنکھ تابِ نظارہ نہیں مجھے
دل کو یہ ضد کہ ہو تو فقط روئے یار ہو
مسلک ہے حسنِ ظن مرا مذہب ہے پاسِ حسن
وہ حسن چاہے حسنِ تغافل شعار ہو
مجھکو ہجومِ غم بھی گوارہ ہے دوستو
ہاں اس کے ساتھ کوئ مرا غمگسار ہو
شُکرِ خدا کہ گذری ہے عزّت سے زندگی
اب ہے دعا کہ موت مری با وقار ہو
پہنچوں میں اُس کے سامنے جب حشر میں ظفر
”میری جبیں پہ نقشِ کفِ پائے یار ہو”
گلہ اپنوں سے ہوتا ہے شکایت اپنے کرتے ہیں
شکایت جو نہیں کرتے وہ اپنے ہو نہیں سکتے
آپ کا بہت عمدہ بلاگ ہے اس سے قبل میں نے ایک بلاگ sirfurdu.com دیکھا تھا آپ کا بلاگ اس سے زیادہ بہتر ہے