پیغمبرِ اسلام ، نبیء آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں جب بھی کسی نے گستاخانہ حرکت کی ، پورا عالمِ اسلام سراپا احتجاج بن کر باہر نکل آیا ۔ مغرب کی دیکھا دیکھی سامراج کے گماشتوں نے مشرق ، بالخصوص اسلامی ممالک کے اندر بھی ایسی حرکات شروع کردیں ۔
پاکستان وہ پہلا اسلامی ملک ہے جہاں ناموسِ رسالت (ص) بل اسمبلی سے پاس ہوکر قانون بنا ۔ کچھ عرصہ سے مغرب کے انہی گماشتوں نے اپنے آقاؤں کے اشاروں پہ اپنی روشن خیالی کی آڑ میں اس بل کے خلاف ایک باقاعدہ تحریک شروع کر رکھی تھی ۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر ، بلکہ اسے پاکستان کا سلیمان رشدی کہنا زیادہ مناسب ہوگا ، نے سر عام اسے کالا قانون کہہ کر ناموسِ رسالت (ص) پہ حملہ کیا ۔ آج خود اسی کے باڈی گارڈ ایلیٹ فورس کے جوان ملک ممتاز حسین قادری نے اسے جہنم واصل کرکے غازی علم الدین شہید کی یاد تازہ کردی ۔
95 thoughts on “اکیسویں صدی کا ’ غازی علم الدین ‘”
Comments are closed.

محترمہ سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ ،
” ایک شاتمہ رسو ل کا سچّا پشت پنا ہ بن جانے والا شخص بجائے خود ہی شاتم رسول کہلائے جانے کا حقدار ہے “
مرحبا ، محترمہ یہی رائے میں نے محترمہ زرقا مفتی صاحب کے تبصرے کے جواب میں بھی دی ہے ۔ امید ہے مزید صاحبان علم اس پہ کچھ اور روشنی ڈالیں گے ۔
”اگرشاتم رسول جیسے ملعو نوں کو اللہ تعا لیٰ بچانا چاہتا تو آپ نبی اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم کا حکم نہ ہوتا کہ یہ غلاف کعبہ سے چمٹ بھی جائیں تب بھی ان کو قتل کر دو “
کعبہ دارلامان ہے لیکن شاتمین کو وہاں بھی قتل کرنے کا ھکم واضح کرتا ہے کہ ان کے لئے کہیں ، کسی وقت اور کسی حالت میں معافی نہیں ہے ۔ اور ان کے پشت پناہوں کی بات پہلے ہی واضح کر دی گئی ہے ۔
جزاک اللہ ۔
شعیب صفدر صاحب سے درخواست ہے کہ توہینِ ارسالت کے قانون کے مرکزی نکات کو آسان الفاظ میں یہاں نقل کردیں.
میں زرقا مفتی بہن کی تائید کرتے ہوئے شعیب صفدر صاحب سے درخواست کرونگا کہ وہ توہینِ ارسالت کے قانون کے مرکزی نکات کو آسان الفاظ میں یہاں نقل کردیں.
اس میدان میں صفدر صاحب Qualified ہیں۔
محترم جناب منظورقاضی صاحب ،
” تاریخ گواہ ہے کہ سلمان تاثیر کے والد محمد دین تاثیر ہی نے غازی علم الدین شہید کےجنازے کی تیاری اور اس کی تجہیز و تکفین میں نمایاں حصہ لیا تھا ۔ افسو س کہ ایسے باپ کا بیٹا اس قدر اسلام سے بے بہرہ نکلا کہ اس نے ناموسِ رسالت کی حفاظت کے قانون کو کالا قانون کا نام دیا “
قبلہ قاضی صاحب ، یہ بھی عجیب اتفاق دیکھیں کہ محمد دین تاثیر مرحوم اور غازی علم الدین شہید کی بے چین روحوں کو ناموس رسالت کی مخالفت پہ سلمان تاثیر کی عبرت ناک موت کا منظر دیکھنا پڑا ۔
آپ نے جن خدشات کا اظہار کیا ہے وہ بالکل خاج از امکان تو نہیں ہو سکتے لیکن حکومت کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے کسی پر تشدد تحریک یا ری ایکشن کے زیادہ امکانات بھی نہیں ہیں ۔ البتہ اس قتل سے پہلے حکومت کے ارادوں اور مذہبی پارٹیوں کی امکانی تحریک کے نتیجے میں ملکی حالات زیادہ بگڑنے کا احتمال تھا ۔ پی پی پی کے لئے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ اس قتل کو سیاسی رنگ نہ دے اور نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے پھونک پھونک کے قدم رکھتے ہوئے اپنی بقیہ مدت پوری کرنے کی سوچے ، گو اس کے بھی فی الحال امکانات گھٹتے ہی نظر آتے ہیں ۔
” مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلو ں کا ڈر نہیں
مجھے خوف آتش ِ گُل سےہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے “
شنید ہے کہ سلمان تاثیر نے اپنی آخری تقریر یا بی بی سی سے اپنے آخری انٹرویو میں بھی یہی شعر پڑا تھا ۔
آپ کا بہت شکریہ ۔
اسلام علیکم محترم ساتھیو
آپ سب کے تبصرے علم کا خزانہ ہیں جو مجھ جیسی کم علم کو بہت کچھ علم دے رہے ہیں ۔
بہت شکریہ جاوید اقبال کیانی بھائی میرا تو دل رو رہا ہے کہ
اے خا صئہ خاصانِ رُسُل وقتِ دعا ہے
اُمت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
اللہ ہم سب کو اور ہمارے ملک میں رہنے والوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے کہ مجھے بھی بھائی منظور قاضی کی طرح بہت سارے خوف گھیرے ہوئے ہیں ۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو سراطِ مستقیم پر چلنا آسان کر دے اور ہمارے دل اپنے پیارے نبی کی محبت سے سر شار رہیں ۔ آمین
عالم آرا
وینکور
السلام علیکم
ہماری قوم کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ بہت جذباتی ہے. کاش ہم جذبات کی بجائے عمل پر توجہ دیں. دیکھا جائے تو من حیث القوم ہم حُبِ رسول کی کسی کسوٹی پر پورے نہیں اُترتے. عشق کا پہلا اصول تو یہی ہے کہ آپ اپنے محبوب کا پرتو بن جائیں. اپنے قول و فعل میں اُس کی پیروی کریں .مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے قول و فعل سے ہماری محبت یا ہمارے عشق کی گواہی نہیں ملتی.
اگر میں غلطی پر نہیں تو پاکستان شاید دُنیا کاواحد ملک ہے جہاں ناموسِ رسالت کاقانون موجود ہے . اگر ہم غیر جذباتی ہو کر سوچیں تو اس قانون کی موجودگی میں کسی بھی فرد کو کسی شخص کو سزا دینے کا اختیار نہیں ہونا چاہیئے کجا یہ کہ وہ خود قانون کا محافظ ہو.
پاکستان میں موجود علماء کا یہ فرض بنتا تھا کہ وہ سلمان تاثیر کے خلاف ناموس ِ رسالت کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرواتے اور قانون کے تحت اس کے خلاف کاروائی کرتے. ماورائے عدالت اقدامات سے ہمارے ملک کا بین الاقوامی امیج متاثر ہو رہا ہے جو موجودہ حالات کے تناظر میں انتہائی خطرناک بات ہے.
ایک عام مسلمان کی طرح میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ ہمارے رسول پاک صلی للہ علیہ والہ وسلم کی حرمت پر کوئی حرف نہ آئے مگر میں ساتھ ہی یہ بھی چاہتی ہوں کہ تمام عالم میرے نبی صلعم کو رحمت للعالمین کی حیثیت سے یاد رکھے.
والسلام
پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 295B سے لے کر 298Cتک دین سے متعلق جرائم کو بیان کرتے ہیں۔ اس میں سے دفعہ 295-C توہین رسالت سے متعلق قانون کو بیان کرتی ہے۔
قانون کے الفاظ
اس قانون کے الفاظ یہ ہیں
” Use of derogatory remarks, etc; in respect of the Holy Prophet. Whoever by words, either spoken or written or by visible representation, or by any imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the Holy Prophet Mohammed (PBUH) shall be punished with death, or imprisonment for life, and shall also be liable to fine
یعنی پیغمبر اسلام کے خلاف تضحیک آمیز جملے استعمال کرنا، خواہ الفاظ میں، خواہ بول کر، خواہ تحریری، خواہ ظاہری شباہت/پیشکش،یا انکے بارے میں غیر ایماندارنہ براہ راست یا بالواسطہ سٹیٹمنٹ دینا جس سے انکے بارے میں بُرا، خود غرض یا سخت تاثر پیدا ہو، یا انکو نقصان دینے والا تاثر ہو، یا انکے مقدس نام کے بارے میں شکوک و شبہات و تضحیک پیدا کرنا ، ان سب کی سزا عمر قید یا موت اور ساتھ میں جرمانہ بھی ہوگا۔
توہینِ رسالت کے جرم کی سزا قرآن وسنت اور اِجماعِ اُمت کی روشنی میں سزائے موت ہے، اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ۲۹۵-سی میں سزائے موت یا عمرقید تجویز کی گئی۔ اب بھی یہ دفعہ اسلامی قانون کے ہم آہنگ نہیں تھی، اس لئے وفاقی شرعی عدالت نے اکتوبر ۱۹۹۰ء میں اپنے ایک فیصلے میں صدرِ پاکستان کو ہدایت کی کہ ۳۰/اپریل ۱۹۹۱ء تک اس قانون کی اِصلاح کی جائے اور اس دفعہ میں ”یاعمرقید“ کے الفاظ حذف کرکے توہینِ رسالت کی سزا صرف موت مقرّر کردی جائے۔ اگر اس تاریخ تک اس قانون کی اِصلاح نہ کی تو اس تاریخ کے بعد یہ الفاظ خودبخود کالعدم قرار پائیں گے اور صرف سزائے موت ملک کا قانون قرار پائے گا۔ حکومت نے روایتی سستی کا مظاہرہ کیا، اور وہ تاریخ گزرگئی۔ اس لئے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق دفعہ۲۹۵-سی میں ”یاعمرقید“ کے الفاظ کالعدم قرار پائے اور قانون بن گیا کہ توہینِ رسالت کے جرم کی سزا صرف موت ہے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی نے ۲/جون ۱۹۹۲ء کو متفقہ قرارداد منظور کی کہ توہینِ رسالت کے مرتکب کو سزائے موت دی جائے۔ خبر کا متن حسبِ ذیل ہے:
”اسلام آباد (نمائندہ جنگ) قومی اسمبلی نے منگل کے دن متفقہ قرارداد منظور کی کہ توہینِ رسالت کے مرتکب کو پھانسی کی سزا دی جائے اور اس ضمن میں مجریہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ۲۹۵(ج) میں ترمیم کی جائے اور عمرقید کے لفظ حذف کرکے صرف پھانسی کا لفظ رہنے دیا جائے۔ یہ قرارداد آزاد رکن سردار محمد یوسف نے پیش کی اور کہا کہ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ توہینِ رسالت کے مرتکب شخص کو سزائے موت دی جائے، جبکہ قانون میں عمرقید اور پھانسی کی سزا متعین کی گئی ہے۔ مذہبی اُمور کے وفاقی وزیر مولانا عبدالستار خان نیازی نے بتایا کہ وزیراعظم کی صدارت میں ایک اِجلاس ہوا تھا، جس میں تمام مکتبہٴ فکر کے علماء نے شرکت کی تھی، اس اِجلاس میں طے پایا تھا کہ توہینِ رسالت کے مرتکب کو کم تر سزا نہیں دینی چاہئے، اس کی سزا موت ہونی چاہئے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی اُمور چوہدری امیر حسین نے کہا کہ حکومت اس قرارداد کی مخالفت نہیں کرتی، حکومت اس ضمن میں پہلے بھی قانون سازی کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ایک ترمیمی بل سینیٹ میں پیش ہوچکا ہے۔“ (۳/جون ۱۹۹۲ء روزنامہ جنگ کراچی)
السلام علیکم
محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ، میں آپ کی اِس بات سے تو متفق ہوں کہ ملک میں قانون کے ہوتے ہوئے کسی شخص کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی مبینہ ملزم کو قتل کرے ، مگر سلمان تاثیر کے کیس میں یہ بات کسی حد تک ناممکن تھی کہ ہزاروں ( بلکہ شاید لاکھوں ) کے جلوس میں اُن کی بر طرفی کا مطالبہ کیا جاتا رہا مگر جناب صدرکے کان پر جوں تک نہ رینگی ، اور خود سلمان تاثیر نے بھی کبھی اپنے بیانات کی وضاحت نہ کی اور اگر کچھ کی بھی تو نہایت ہی مبہم بلکہ تویٹر پر اپنے پیغامات میں وہ مذید اشتعال پھیلاتے رہے یہ الگ بات کہ اُن کی برطرفی کے مطالبے کے باوجود کسی بھی شخص نے اُن کے اِس فعل کو کسی عدالت میں توہین رسالت کے ایکٹ کے تحت چیلنج نہین کیا تھا ۔
توہین رسالت کے قانون کے بارے میں بتا دون کہ یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے بلکہ دُنیا کے کئی ممالک میں موجود ہے جن میں امریکہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں اِن ممالک مین بھی کسی بھی پیغمبر کی شان میں گستاخی ایک سنگین جرم ہے یہ الگ بات ہے کہ وہاں اِن قوانین پر اتنا فوکس نہیں کیا جاتا ، اور روس میں تو لینن کے بارے میں گستاخانہ بات کہنے والوں کے خلاف بھی ایک قانون موجود ہے ، قانون کوئی بھی غلط نہیں ہوتا ، اور یہ بھی غلط تائثر ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو غلط استعمال کیاجاتا ہے جب سے یہ قانون آیا ہے شاید چند ہی گنے چنے لوگ اِس کی ذد میں آئے ہین جن میں سے بھی اکثریت بری ہو جاتی رہی ہے مگر ہمارے پڑوسی ملک میں ٹاڈا اور پوڈا جیسے کالے قوانین کا جس طرح استعمال ہوا ہے اُس کی شاید ہی کہیں کوئی مثال مل سکتی ہو بلا مبالغہ ہزاروں لوگ بیگناہ اِن قوانین کے بھینٹ چڑھے ہیں مگر کسی نے بھی اُنہیں کالا قانون نہین کہا ؟
آصف احمد بھٹی
محترم ھمدانی صاحب
ناموسِ رسالت کا قانون نقل کرنے کے لئے آپ کی ممنون ہوں۔میں اب بھی یہی کہوں گی کہ ایک واضح قانون کی موجودگی میں ماورائے عدالت اقدام قطعاً غیر ضروری تھا۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے مجھے بھی کسی شاتمِ رسول سے کوئی ہمدردی نہیں ۔ قانون بنانے کا کیا فائدہ جب آپ حسبِ ضرورت اس سے رجوع نہ کرتے ہوں۔ ایسے ماوارائے قانون اقدامات پاکستان اور مسلمانوں کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ ہمارے ملک کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی شدت پسندی کی آگ میں جل رہا ہے۔ باقی ماندہ کو بھی ہم ایک غیر ضروری جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم بحیثیت قوم اپنی اصلاح کریں متشدد رویوں سے گریز کریں اور قانون کی عملداری اور پاسداری کو فروغ دیں۔ تاکہ ہمارا شمار بھی مہذب قوموں کیا جا سکے
والسلام
زرقا
محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ،
” ہماری قوم کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ بہت جذباتی ہے “
محترمہ ، یہ واقعی ہمارا المیہ بھی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ قیمتی اثاثہ بھی ورنہ ہمیں آج تک جیسے حکمران ملے ہم بالکل راکھ کا ڈھیر ہی ہوتے لیکن خدا کا شکر ہے جو اس راکھ میں کچھ چنگاریاں ابھی موجود ہیں ۔ بات حکمرانوں سے خود اپنے گریبانوں تک آجائے گی کہ انہیں لانے والے بھی تو ہم خود ہی ہیں ، یہ ایک علحٰدہ بحث ہے جوکہ موضوع سخن نہیں ہے ۔
” دیکھا جائے تو من حیث القوم ہم حُبِ رسول کی کسی کسوٹی پر پورے نہیں اُترتے. عشق کا پہلا اصول تو یہی ہے کہ آپ اپنے محبوب کا پرتو بن جائیں. اپنے قول و فعل میں اُس کی پیروی کریں .مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے قول و فعل سے ہماری محبت یا ہمارے عشق کی گواہی نہیں ملتی “
محترمہ یہ رونا تو صدیوں سے رہا ہے اور نجانے کب تک ساتھ ہی چلے گا لیکن سارا سماج ایک جیسا تو نہیں ، جہاں ہم جیسے عقل کے پجاری ہیں وہاں لاکھوں کروڑوں مر مٹنے والے پروانے بھی موجود ہیں جو ہر دور میں ایسے کارنامے سرانجام دیتے آئے ہیں اور رہتی دنیا تک ، جب اور جہاں وقت آیا ، اپنے عشق کی حرارت کو ٹھنڈا کرتے رہیں گے ۔
” پاکستان شاید دُنیا کاواحد ملک ہے جہاں ناموسِ رسالت کاقانون موجود ہے “
محترمہ ، اسلام کے علاوہ عیسائیت اور یہودیت میں بھی توہین رسالت پہ واضح طور پر سزائے موت ہے اور جیسا کہ محترم بھائی آصف بھٹی صاحب نے بھی اپنے تبصرے میں تفصیل سے لکھ دیا ہے کہ کن کن ممالک میں اسے قانونی تحفظ بھی حاصل ہے ۔
” ایک واضح قانون کی موجودگی میں ماورائے عدالت اقدام قطعاً غیر ضروری تھا “
آپ کے اس فرمان سے ہم سب کلی اتفاق کریں گے کہ ایسا دلدوز واقعہ ہماری تاریخ کا حصہ بنا لیکن اس کی وجوہات پہ نظر ڈالیں تو ایسے واقعات نظام حکومت میں خامیوں اور کوتاہیوں اور ذاتی پسند و ناپسندیدگیوں کی وجہ سے ہی جنم لیتے ہیں ۔ آپ نے ایک کی طرف اشارہ کیا کہ علماء یا مذہبی سیاسی پارٹیوں کو بر وقت عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ ایک شاتمہ کو سزائے موت بھی تو ایک عدالت نے ہی دی تھی جوکہ سلمان تاثیر ، آصف زرداری اور روشن خیالوں کے ٹولے کی ملی بھگت سے معاف کر دی گئی ۔ اور جب اپنے ہی نافذ کردہ قانون کو کالا قانون کہہ کر اس کا مذاق اڑایا جائے گا تو جہاں ایک طرف شاتمین رُسل کی حوصلہ افزائی ہوگی وہاں معاشرے میں مذہبی اور باغیانہ جذبات کا ابھرنا فطرتی بات ہے ۔
محترمہ عالم آ را صاحبہ ،
آپ کی حوصلہ افزائی اور پُر خلوص دعاؤں کا بہت شکریہ ۔
” مجھے بھی بھائی منظور قاضی کی طرح بہت سارے خوف گھیرے ہوئے ہیں ”۔
محترمہ ، یہ راستہ ہی بہت کٹھن ہے ۔ اسلام شروع سے ہی خطرات سے میں گھرا رہا ہے ۔اور ہمارا ملک جو اسلام کا قلعہ ہے کسی صورت دوسری تہذیبوں کہ نہیں بھاتا ، سو ہمیں خود ہی بیدار رہ کو سب خطرات کا مقابلہ کرنا ہے ۔ کاش ہمارے لیڈر اور حکمران صراطِ مستقیم پہ آجائیں تاکہ عوام میں اتنے باغیانہ جذبات کم سے کم ابھریں ۔
محترم جناب محترم صفدر ھمٰدانی صاحب
قانونِ ناموسِ رسالت کی اردو نقل بلاگ میں پیش کرنے کا بے حد شکریہ ۔ امید ہے یہ کسی بھی دلی گمان یا شک کو دور کرنے میں کافی مددگار ہوگی ۔
کیا ہی اچھا ہو کہ آپ خود بھی اپنے ارشادات سے نہ صرف اس بلاگ بلکہ سوسائیٹی میں جنم لینے والے شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں ، بہت شکریہ ۔
محترم جناب آصف احمد بھٹی صاحب ،
مجھے قوی یقین تھا کہ آپ اپنی مصروفیات میں سے اپنے قیمتی وقت کا کچھ حصہ عشاقِ رسول (ص) کی محفل کو ضرور عنائیت فرمائیں گے ، آپ کا بہت شکریہ ۔
آپ کے مدلل تبصرے نے علمی اضافے کے علاوہ کئی شبہات بھی دور کر دئے جیسے کہ توہین رسالت کا قانون صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دُنیا کے کئی ممالک بشمول امریکہ اور برطانیہ میں موجود ہے ، بلکہ پورے یورپ میں پوپ کی شان میں بھی کوئی لفظ نہیں کہا جا سکتا ۔ اور جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ روس میں تو لینن کے بارے میں گستاخانہ بات کہنے والوں کے خلاف بھی ایک قانون موجود ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں سکھوں نے گولڈن ٹیمپل کی بے حرمتی پہ اندرا گاندھی کے قتل سے ایک مثال قائم کر دی تھی ۔
محترم آصف بھٹی صاحب اور کیانی صاحب
السلام علیکم
میرا خیال ہے کہ قانون سازی اسی لئے کی جاتی ہے کہ اس کی پاسداری کی جائے . پڑھے لکھے اور باشعور افراد کا ماورائے قانون اقدامات کی حمایت کرنا کم از کم میری سمجھ سے بالا تر ہے. انور سادات کا قتل، شاہ فیصل کا قتل، اندرا گاندھی کا قتل سب اپنی اپنی جگہ افسوس ناک واقعات تھے.
کیا صبر و برداشت سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں رہا. سلمان تاثیر نے ناموسِ رسالت کے قانون کو کالا قانون کہہ کر بہت بڑی غلطی کی لیکن. کسی سیاسی جماعت نے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا نہیں دیا. کسی نے اُس کی نااہلی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروایا. کسی تھانے میں توہینِ رسالت کے قانون کے تحت مقدمہ درج نہیں کروایا گیا . سیدھی گولی داغ دی گئی.
ہم سود ترک نہیں کرتے، غیبت سے باز نہیں آتے . رشوت لینے اور دینے کو بھی برا نہیں سمجھتے . بے دریغ جھوٹ بولتے ہیں. کم تولتے ہیں ملاوٹ کرتے ہیں. ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں. کہیں مسجد کی تعمیر شروع ہوتی ہے تو فروعی اختلافات کو لے بیٹھتے ہیں. ہم ایک دوسرے کو بے دریغ کافر بھی قرار دے دیتے ہیں. کیا ہمارا مذہب ہمیں عدم برداشت کی تعلیم دیتا ہے؟
یہ سب اتنی بڑی بُرائیاں ہیں کہ ان میں سے ایک ایک بُرائی کے لئے پچھلی قوموں پر عذاب نازل کر دیا گیا. پھر بھی ہم عشق کا دعویٰ کرتے ہیں. کیا فائدہ ایسے عشق کا جب ہمارے اعمال ہمیں حضور پاک ص کی شفاعت کے قابل نہ بنا سکیں.
عدالت نے اسی قانون کے تحت آسیہ بی بی کو سزا دی تھی تو یہی عدالت سلمان تاثیر کو بھی جرم ثابت ہونے پر سزا سُنا سکتی تھی
ویسے بھی ابھی آسیہ کو معافی نہیں ملی دیکھیے
http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=3149&Cat=13
آپ نے فرمایاکہ امریکہ میں بھی توہینِ رسالت کا قانون موجود ہے. مگر میرا خیال اس کے برعکس ہے دیکھیئے
In some countries, blasphemy – irreverence toward supposed holy personages, religious artifacts, customs, and beliefs – is not a crime. In the United States of America, for example, a prosecution for blasphemy would violate the Constitution according to the decision in Joseph Burstyn, Inc v. Wilson. The United Kingdom abolished its laws in England and Wales against blasphemy in 2008.
مندرجہ بالا اقتباس وکی پیڈیا سے لیا گیا
. کیا تمام مسلم ممالک میں یہ قانون موجود ہے؟ پھر ہمارا میڈیا اسے پاکستان کا افتخار کیوں قرار دیتا ہے؟
والسلام
زرقا
ہمدانی صاحب اور کیانی صاحب
میں ہر شاتمِ رسول و آلِ رسول پر لعنت بھیجتا ہوں اور اُسے موت کا مستحق سمجھتا ہوں۔ اس سلسلہ میں ایک کافر کے ساتھ تو میں رعایت کرسکتا ہوں لیکن کسی مسلمان کے ساتھ نہیں۔
لیکن قانون اور عدالتوں کے ہوتے ہوئے کسی کو شاتمِ رسول قرار دینا اور اُسے سزا دینا عدالت کا کام ہے۔ یہ کام کسی مّلا یا کسی فرد کا نہیں ہے۔ سلمان تاثیر کی لاش سے ایسے تعویذ بھی نکلے ہیں جن پر اللہ اور رسول لکھا ہے۔ جب علم الدین کی لاش لاہور لائ گئ تو اُس کے جنازہ کیلئے چارپائ بھی سلمان تاثیر کے والد نے بھجوائ تھی۔ ملاؤں نے تو قائدِ اعظم، علامہ اقبال اور سر سید کو بھی کافر قرار دیدیا تھا۔ سلمان تا ثیر کے موافق اور مخالف دونوں ہی کی کثیر تعداد ہے۔ ایسے میں کون صحیح ہے اور کون غلط اس کا فیصلہ آزاد عدالتیں کرسکتی ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ممتاز قادری کو سید اکبر کی طرح قتل نہ کردیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو میں سلمان تاثیر کے اس قتل کو سیاسی قتل کہونگا۔
اب ہمدانی صاحب اور کیانی صاحب آپ سے میرا ایک معصومانہ سوال ہے کہ اگر کوئ بڑا مسلمان ببانگِ دہل ہمارے پیارے نبی کی نبوت پر شک کا اظہار کرے تو اُس کے ساتھ ہمارا کیا سلوک ہونا چاہئے۔
محترم جعفری صاحب. آپکے سوال کا بہتر جواب شاید کیانی صاحب ہی دیں گے لیکن آپ نے نہ جانے کیوں مجھے براہ راست مخاطب کیا. میرا کردار تو اس بلاگ میں فقط اتنا ہے کہ کسی نے توہین رسالت قانون کے اہم نکات کا شعیب صفدر سے ایک وکیل ہونے کے ناطے پوچھا تھا اور میں نے نام کی یکسانیت کے چکر میں جو مجھے علم تھا لکھ دیا. رہی بات کسی کو شاتم رسول قرار دینے کی بات کا فیصلہ تو آپ نے خود ایک آزاد عدالت کی شرط عائد کر دی .
آپ نے یہ جو استفسار کیا کہ جو مسلمان نبوت پر شک کرے تو اسکے ساتھ سلوک کیا ہو گا. تو عرض کرؤں کہ توہین رسالت اور تشکیک نبوت دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ظاہر ہے کہ سلوک،سزا اور رد عمل بھی الگ الگ ہے. حضور کے زمانے میں بھی کتنے ہی قبیلے اور لوگ تھے جو اس تشکیک کے مرض میں مبتلا تھے اور یہاں تک کہ قرآن کو کہنا پڑا …لکم دینکم ولی دین….شک ایک الگ مرض ہے اور توہین الگ۔۔۔۔میں نے پہلے بھی کہیں لکھا تھا کہ ہمیں یہ بات بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ توہی رسالت سے مرآد صرف اللہ کے حبیب کی نعوذ باللہ توہین نہیں بلکہ کل انبیا و رسل کی توہین ہے۔
محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ،
” میرا خیال ہے کہ قانون سازی اسی لئے کی جاتی ہے کہ اس کی پاسداری کی جائے . پڑھے لکھے اور باشعور افراد کا ماورائے قانون اقدامات کی حمایت کرنا کم از کم میری سمجھ سے بالا تر ہے “
آپ نے کتنی خوبصورت بات کہی کہ قانون سازی اس لئے کی جاتی ہے کہ اس کی پاسداری کی جائے ۔ لیکن یہ پاسداری کیا صرف عوام پہ ہی فرض ہے ؟ کیا قانون سازی کرنے والے خود اسے مبرا ہیں ؟ جہاں تک آپ کا اعتراض پڑھے لکھے باشعور افراد کا ماورائے قانون اقدامات کی حمایت کا سوال ہے تو بہت ہی اختصار سے عرض کروں گا کہ تمام پڑھے لکھے باشعور افراد کو پھر انقلاب انقلاب کی رٹ سے معصوم لوگوں کے ذہنوں میں باغیانہ خیالات ابھار کر انہیں حقوق چھیننے کا درس دیتے ہوئے حکومتوں کے بارود کا ایندھن بھی ہر گز نہیں بنانا چا ہیئے ۔
” انور سادات کا قتل، شاہ فیصل کا قتل، اندرا گاندھی کا قتل سب اپنی اپنی جگہ افسوس ناک واقعات تھے “
بے شک یہ سب افسوسناک واقعات تھے لیکن ہر ایک کے پیچھے کوئی نہ کوئی داستان ہے ، کہیں سامراج کی سازش تو کہیں کسی کے مذہبی جذبات کی آگ ۔ اور یہ بھی کہہ دوں کہ یہ نہ تو پہلے واقعات تھے اور نہ ہی آخری ۔ دنیا کتنی بھی مہذب ہوجائے جذبات اور سازشیں کہیں نہ کہیں تہذیب کا دامن چھوڑ ہی دیتی ہیں ۔
” سلمان تاثیر نے ناموسِ رسالت کے قانون کو کالا قانون کہہ کر بہت بڑی غلطی کی لیکن. کسی سیاسی جماعت نے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا نہیں دیا. کسی نے اُس کی نااہلی کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروایا. کسی تھانے میں توہینِ رسالت کے قانون کے تحت مقدمہ درج نہیں کروایا گیا . سیدھی گولی داغ دی گئی.“
محترمہ ، یہی تو رونا ہے کہ سوچوں میں انقلابیت اور رویوں میں بغاوت تبھی ابھرتی ہے جب مایوسی غالب آتی ہے اور اس مایوسی کے اسباب آپ نے خود ہی بیان فرما دئیے ہیں ۔
” ہم سود ترک نہیں کرتے، غیبت سے باز نہیں آتے . رشوت لینے اور دینے کو بھی برا نہیں سمجھتے . بے دریغ جھوٹ بولتے ہیں. کم تولتے ہیں ملاوٹ کرتے ہیں. ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں. کہیں مسجد کی تعمیر شروع ہوتی ہے تو فروعی اختلافات کو لے بیٹھتے ہیں. ہم ایک دوسرے کو بے دریغ کافر بھی قرار دے دیتے ہیں. کیا ہمارا مذہب ہمیں عدم برداشت کی تعلیم دیتا ہے؟ “
ان تمام برائیوں کے اسباب بھی قانون سازوں اور قانون کے پاسداروں کی عدم توجہی اور بذاتِ خود قانون شکنی ہے جو بالآخر پھر اسی مایوسی ، انقلابی سوچ اور باغی رویے کو بھڑکاتی ہے ۔
” یہ سب اتنی بڑی بُرائیاں ہیں کہ ان میں سے ایک ایک بُرائی کے لئے پچھلی قوموں پر عذاب نازل کر دیا گیا.“
پچھلی قوموں پہ عذاب کی وجہ ان کے اعمال کے علاوہ ان کے حاکمین کے غلط رویے اور ناانصافیاں بھی رہی ہیں ۔ جب امیر اور غریب کے لئے علحٰدہ علٰحدہ قانون ہو نگے تو یہ لامحالہ خدائی عذاب کو دعوت ہے اور کون اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ ہم خود بھی زیرِ عذاب ہی ہیں ۔ ایک تو ایسے حکمرانوں کے محکوم بن کر ، دوسرے مختلف آسمانی آفات کی شکل میں ۔ کیا سلمان تاثیر اور آصف زرداری کو پورے پاکستان کی جیلوں میں سزائے موت کا ایک ہی مجرم ملا ؟ عدل و انصاف کی دھجیاں پھر کس لئے اڑائی گئیں ؟ وہ کون سی طاقت ہے جو ہمارے حکمرانوں کو اپنے ہی قانون پہ کلہاڑا چلانے کو مجبور کر رہی ہے ؟ اور جب ایسی طاقتوں کے آگے کوئی نہیں آتا تو پھر باغی اور غازی پیدا ہوتے ہیں جو وقت سے تاریخ لکھواتے ہیں ۔
” عدالت نے اسی قانون کے تحت آسیہ بی بی کو سزا دی تھی تو یہی عدالت سلمان تاثیر کو بھی جرم ثابت ہونے پر سزا سُنا سکتی تھی “
میری بہت ہی عزیز ، محترم اور بھولی بہن ، جسطرح عدالت کی آسیہ بی بی کو دی گئی سزائے موت آصف زرداری کے قلم کے آگے بے بس ہوگئی اُسی طرح سلمان تاثیر کو دی جانے والی سزا بھی اس کے قلم کے آگے لرز جاتی اور شاید یہی سوچ ہمیں ایک نیا باغی ، ایک نیا غازی بخش گئی ۔
” کیا تمام مسلم ممالک میں یہ قانون موجود ہے؟ پھر ہمارا میڈیا اسے پاکستان کا افتخار کیوں قرار دیتا ہے؟ “
یہی بات تو ساری دنیا کو کھٹکتی ہے کہ جب باقی مسلم ممالک کو یہ جراءت نہیں ہو سکی تو پاکستان میں یہ قانون کیونکر رہنے دیا جائے ۔ اب ان کی منافقت کا اسی سے اندازہ کرلیں کہ یہ قانون لانے والا ضیاء الحق تو ان کی ناک کا بال تھا تب اسے تو ایسی قانون سازی سے ہر گز نہ روکا لیکن اب کبھی ہمارا اسلامی نصاب انہیں کھٹکتا ہے تو کبھی ہمارے آئین کی اسلامی شقیں ، کیونکہ ان کا ایجنڈا ہے کہ :
وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوح محمد اس کے بدن سے نکال دو
جس کے لئے یہ ایک سلمان تاثیر کے بعد کوئی دوسرا ڈھونڈھ لیں گے لیکن غازیوں کی کمی ہمارے ہاں بھی نہیں ، انشاء اللہ ۔
محترم ظفر جعفری صاحب ،
” میں ہر شاتمِ رسول و آلِ رسول پر لعنت بھیجتا ہوں اور اُسے موت کا مستحق سمجھتا ہوں۔ اس سلسلہ میں ایک کافر کے ساتھ تو میں رعایت کرسکتا ہوں لیکن کسی مسلمان کے ساتھ نہیں “
محترم جب آپ دل سے ایسا ہی سوچتے ہیں تو پھر کفِ افسوس کیسا ؟
” قانون اور عدالتوں کے ہوتے ہوئے کسی کو شاتمِ رسول قرار دینا اور اُسے سزا دینا عدالت کا کام ہے “
جسطرح میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں ، یہاں بھی دہرا دیتا ہوں کہ جسطرح عدالت کی آسیہ بی بی کو دی گئی سزائے موت آصف زرداری کے قلم کے آگے بے بس ہوگئی اُسی طرح سلمان تاثیر کو دی جانے والی سزا بھی اس کے قلم کے آگے لرز جاتی بالکل اسی طرح جسطرح رحمان ملک کی نہ صرف پچھلی سزا معطل کر دی گئی بلکہ اسے اس تمام دور کی سرکاری مراعات بھی لوٹا دی گئیں ۔ چنانچہ جب قانون امیر جان کے لئے علٰحدہ اور غریب خان کے لئے علٰحدہ ہوگا تو باغی اور غازی جنم لیتے ہیں ، اس میں کسی ملا کا کوئی دخل نہیں ۔
” سلمان تاثیر کی لاش سے ایسے تعویذ بھی نکلے ہیں جن پر اللہ اور رسول لکھا ہے “
سلمان تاثیر اپنی جیب میں پورا قرآن بھی رکھ لیتا تو یہ نہ تو اس کے مومن ہونے کا ثبوت ہوتا اور نہ ہی خدا کے لکھے اٹل فیصلے کو ٹل سکتا ۔
” جب علم الدین کی لاش لاہور لائی گئ تو اُس کے جنازہ کیلئے چارپائ بھی سلمان تاثیر کے والد نے بھجوائ تھی “
اسی لئے تو ’ چراغ تلے اندھیرا ‘ یا ’ مکے میں بدو ‘ جیسی ضرب الامثال بنی ہیں ۔
” مجھے ڈر ہے کہ ممتاز قادری کو سید اکبر کی طرح قتل نہ کردیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو میں سلمان تاثیر کے اس قتل کو سیاسی قتل کہونگا ”
اگر ایسا اب ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی کہ غازی ممتاز قادری حکومت کی تحویل میں ہے ۔
” اب ہمدانی صاحب اور کیانی صاحب آپ سے میرا ایک معصومانہ سوال ہے کہ اگر کوئی بڑا مسلمان ببانگِ دہل ہمارے پیارے نبی کی نبوت پر شک کا اظہار کرے تو اُس کے ساتھ ہمارا کیا سلوک ہونا چاہئے “
آپ بھی کتنے بھولے بھالے ہیں ، جب ان مرتدین کو ہمارے آئین نے کافر قرار دے دیا ہے تو مزید کیا چاہتے ہیں ؟ اس ملک میں انہیں جینے کا پورا پورا حق ہے ہاں اگر ان میں سے کوئی گستاخیء رسول (ص) کرتا ہے تو قانونا ً اس کے لئے سزائے موت ہے ۔
اسلام علیکم ساتھیو اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔
زرقا مفتی بہن میں آپ کی باتوں سے بالکل متفق ہوں ۔ یقیناََ قانون کی پاسداری سب کا فرض ہے ۔اور کوئی بھی حادثہ کوئی بھی واقعہ یہ اجازت نہیں دیتا کہ قانون پر عمل نہ کیا جائے ،
بد قسمتی سے من حیث القوم ہم سب ہی خود کو ان تمام باتوں سے مبراء سمجھتے ہیں ۔ہم انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی دوسرا عمل کرے ۔ کیوں ؟ یہ بات آج تک میری سمجھ سے بالا تر ہے ۔
اگر ہم سگنل پر رکیں گے تو پیچھے آنے والا نا چاہتے ہوئے بھی رکے گا اور قانون پر عمل ہوجائےگا لیکن اگر ہم سگنل توڑینگے تو پیچھے والا بھی ہمارے پیچھے آئیگا اور نہ صرف سگنل توڑے گا بلکہ شاید ایکسیڈنٹ بھی کر بیٹھے ۔ تو کیا افضل نہیں ہے کہ ہم سب پہلا قطرہ بن جائیں اور سب ہی کوشش کریں کہ قانون بنیں تو ان پر عمل بھی ہو،اور فیصلے قانون دان کریں۔
ہم نے جہاں اور باتوں پر اجارہ داری حاصل کر لی وہیں آج کل یہ وباء بھی عام ہوگئی ہے کہ جسے چاہے جنتی بنا دو جسے چاہے دوزخی کہہ دو ۔ بس ایک نظر کا سوال ہے ۔
کہ خود پر نظر کرنا سب سے بڑی سعادت ہے ۔ اے کاش کہ ہماری قوم اس خلفشار سے نکل آئے ،
اللہ ہمارے دلوں کو محبتِ رسول صلی اللہ علیہِ وصلم سے معمور رکھے ۔اور ہمیں اُس پیارے نبی کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
کوئی بھی جملہ بار خاطر ہو تو در گزر کیجئے گا ۔
عالم آرا
میں محترمہ زرقا مفتی صاحبہ سے سو فی صد متفق ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری قوم کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ بہت جذباتی ہے. کاش ہم جذبات کی بجائے عمل پر توجہ دیں. دیکھا جائے تو من حیث القوم ہم حُبِ رسول کی کسی کسوٹی پر پورے نہیں اُترتے. عشق کا پہلا اصول تو یہی ہے کہ آپ اپنے محبوب کا پرتو بن جائیں. اپنے قول و فعل میں اُس کی پیروی کریں .مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے قول و فعل سے ہماری محبت یا ہمارے عشق کی گواہی نہیں ملتی.
اگر میں غلطی پر نہیں تو پاکستان شاید دُنیا کاواحد ملک ہے جہاں ناموسِ رسالت کاقانون موجود ہے . اگر ہم غیر جذباتی ہو کر سوچیں تو اس قانون کی موجودگی میں کسی بھی فرد کو کسی شخص کو سزا دینے کا اختیار نہیں ہونا چاہیئے کجا یہ کہ وہ خود قانون کا محافظ ہو.
پاکستان میں موجود علماء کا یہ فرض بنتا تھا کہ وہ سلمان تاثیر کے خلاف ناموس ِ رسالت کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرواتے اور قانون کے تحت اس کے خلاف کاروائی کرتے. ماورائے عدالت اقدامات سے ہمارے ملک کا بین الاقوامی امیج متاثر ہو رہا ہے جو موجودہ حالات کے تناظر میں انتہائی خطرناک بات ہے.
ایک عام مسلمان کی طرح میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ ہمارے رسول پاک صلی للہ علیہ والہ وسلم کی حرمت پر کوئی حرف نہ آئے مگر میں ساتھ ہی یہ بھی چاہتی ہوں کہ تمام عالم میرے نبی صلعم کو رحمت للعالمین کی حیثیت سے یاد رکھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خیال میں ہمارا معاشرہ شدت پسند اور جنونی ہوتا جارہا ہے ۔
امریکہ بھی یہ ہی چاہتا ہے کہ اس طرح کے دو چار حادثے فوج میں بھی ہوجائیں تاکہ پاکستان کے اٹیمی ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھوں میں لگنے کا جواز مل جائے اور امریکہ باآسانی پاکستان کے اٹیمی ہتھیار قبضہ میں کرلے۔امریکہ اور یورپ تو پہلے ہی سےشدت پسندی کے خوف کا واویلا کررہے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں غازی تو بہت ہیں ۔ اگر ہر غازی اسی طرح گولیاں چلا کر خود ہی قتل کرتا پھرے تو ایسے ملک کا پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔؟۔لاقانونیت کی تو ہر گز حمایت نہیں کرنی چاہیے ۔
میں چاہتا ہوں جو بھی گستاخ رسول ہو اس کی سزا پھانسی ہی ہونی چاہیے ۔ جو کوئی جھوٹا الزام لگا کر اپنی دشمنی نکالے تو ایسے جھوٹے
گواہوں کی سزا بھی پھانسی ہی ہونی چاہیے ۔
وسلام ۔ آویز برمنگھم
جاوید اقبال کیانی صاحب
آپ سابق فوجی ہیں اسلئے فوراً بندوق اُٹھالیتے ہیں۔
ٰٰٰٰ ٰٰٰٰ جسطرح میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں ، یہاں بھی دہرا دیتا ہوں کہ جسطرح عدالت کی آسیہ بی بی کو دی گئی سزائے موت آصف زرداری کے قلم کے آگے بے بس ہوگئی اُسی طرح سلمان تاثیر کو دی جانے والی سزا بھی اس کے قلم کے آگے لرز جاتی بالکل اسی طرح جسطرح رحمان ملک کی نہ صرف پچھلی سزا معطل کر دی گئی بلکہ اسے اس تمام دور کی سرکاری مراعات بھی لوٹا دی گئیں ۔ٰٰٰ ٰٰٰ
یہ چیز صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ ہر ملک کے صدر کو اپنے ملک اور ہر گورنر کو اپنے صوبہ میں بڑے سے بڑے مجرم کو معاف کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر ملاؤں یا انکے حامیوں کو آئین کی یہ شق ناپسند ہے ثو انہیں اس شق کو آئین سے نکلوانے کیلئے جدوجہد کرنی چاہئے جو ہمارے ملا کے بس کی بات نہیں
کہتا ہے شہادت ہے بڑی چیز یہ قاضی
دیتا ہے مثالیں بھی حسین ابنِ علی کی
خطبات تو دیتا ہے یہ گردن نہیں دیتا
یہ شان ہے اس دور کے ملاؤ ولی کی
ممتاز قادری ایک غازی ہے یا مجرم یہ فیصلہ کرنے کا اختیار عدالت کو ہے۔ مجھے یا آپکو نہیں۔ فی الحال وہ ایک ملزم ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نائک نے یزید کو رضی اللہ عنہ کہدیا۔ نہ آپ نے اس پر قلم اُٹھایا نہ ملاؤں نے اُدھم مچایا۔ میں اس پر بلاگ لکھ سکتا تھا۔ لیکن میں اختلاف سے زیادہ اتحاد کا قائل ہوں۔
محترم کیانی صاحب
ابھی تک زرداری صاحب نے آسیہ بی بی کو معاف نہیں کیا کیونکہ جسٹس خواجہ شریف صاحب نے ایک حکم امتناعی کے ذریعے انکو ایسا کرنے سے روک دیا تھا. آپ بار بار نہ جانے کیوں یہ لکھ رہے ہیں کہ آسیہ بی بی کو معاف کر دیا گیا. اگر آپ زحمت فرمائیں تو اوپر والے مراسلے میں دئیے گئے دی نیوز کے لنک سے استفادہ کیجئے.
آسیہ بی بی نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے اور اس کی قسمت کا فیصلہ وہیں ہو گا. اگر مذہبی رہنماؤں کو چاہئے کہ اسمبلی سے ایسا قانون منظور کروا لیں کہ کسی شاتمِ رسول کو صدر یا گورنر معافی نہ دے سکے. اسی میں ہم سب کی بہتری ہے. تاکہ ہم میں سے کسی مسلمان کی دل آزاری نہ ہو.
مزید یہ کہ تمام علماء کو اجماع کے ذریعے یہ فتویٰ دینا چاہیئے کہ کیا کسی شاتمَ رسول کا وکیل اس کی قانونی امداد کرنے والا بھی شاتمِ رسول ہی کہلائے گا.
والسلام
زرقا
آپ سب احباب کی آراء کا احترام کرتی ہوں لیکن چند باتیں ایک معالج ہونے کی حثیت سے بھی بیان کرنا چاہتی ہوں کیونکہ عمومی طور انسانی رویئے دوسرے انسانوں کے رویوں کے مرہون منت ہوا کرتے ہیں . آپ سب اس بات پر تو متفق ہیں نا کہ سلمان تاثیر ایک اوباش اور بدکردار انسان تھا . اور اس نے شاتمہ آسیہ بی بی کو بچانے کے لئے ناموس رسالت کے قانون کو کالا بھی کہا تھا اور برملا کہا تھا اور کئی بار کہا تھا … اب چلئے زرا میرے ساتھ ایک اور رخ کی طرف .. سوچئے جو شخص کسی خوف کے بغیر ایسی گھناؤنی حرکتیں اور گھٹیا باتیں کھلم کھلا کر سکتا ہو وہ اپنے گارڈز کے سامنے جب کو ئی میڈیا والے بھی نہ ہو تے ہوں گے تو کیا کیا نہ کہتا ہو گا .. خدا جانے اس معلون نے کیا کیا نہ کہا ہو گا جو ممتاز قادری کی غیرت نے گوارا نہ کیا ہوں اور مرنے اور مار دینے کو اچھا سمجھا ہو گا ….
یہ ہیں انسانی رویئے ہیں جو اشتعال دلوانے کے لئے کافی ہوتے ہیں ..اور ایسا ہی ہوا سلمان تاثیر کی کھلم کھلا تقریروں پر عوام بھڑک اٹھی کیونکہ حکومتی سطح پر حکومت ، اپوزیشن اور ملا برداری اس ایمانی حملے پر سوئی رہی .. اور اللہ کا تو صاف صاف کہنا ہے کہ اگر تم میرے دین کی حفاظت نہیں کرو گے تو ہم کسی اور کولے آئیں گے (مفہوم) اور پھر وہ کسی اور کی شکل میں کس کو لایا یہ میرا یا آپ کا فیصلہ نہیں تھا .. یہ رب کائینات کا فیصلہ تھا اور اس کو ہو کر رہنا تھا …
یہ سب باتیں یوں لکھنے کی نوبت آئی کہ پچھلے سال ایک ایسا شخص ( نام نہیں لکھ سکتی ) میری زیر نگرانی آیا جو عراقی صدر صدام حسین کے بیٹے اودے کا پرائیویٹ وڈیو میکر تھا .. اور وہ اودے کے طوفانی اور شیطانی مظالم کا چشم دید گواہ تھا .. اس نے بتایا اور ثبوت کے ساتھ دکھایاکہ جب بھی اودے کسی لڑکی کی عصمت دری کرتا پھر وہ اسی لڑکی کو اپنے اوباش دوستوں کے حوالے کرتا اور پھر اس کو اپنی پالتو شیروں کے حوالے کردیتا اور پھر نشے میں جھومتا اور اس کے حکم کی تعمیل میں اس سارے وقت کی وڈیو بنتی ..جسے وہ بعد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ فخریہ بتاتا کہ یہ اس نے کیا ہے ..
نتیجتا وڈیو میکر صدمے سے پاگل ہو چکا ہے اور اپنی ابنارمل زندگی کو نارمل کرنے کے لئے اس نے بھاگنے کی پاداش زندان میں کئی مہینے گزارے اور اس نے کس کس نی طریقے سے اپنی عرضداشت حکومت اور ایوان بالا تک پہنچانے کی کوشش کی اور آخر میں وہ خود اودے کا مخبر بن گیا اور امریکیوں نے وادے کو گولیوں سے بھون ڈالا اور اس کی لاش کو شناخت کرنے کے لئے اسے ہی بلایا اور بعد میں انعام کے طور پر اسے آسٹریلیا بھیج دیا … صدام حسین بھی مسلمان تھا .. اس کا بیٹا بھی اور وڈیو میکر بھی … اب اخلاق اور اسلامی تاریخ اور تعلیمات کا کیا ہوا .. کیسے جنازہ نکلا پورے عراق کا کہ گھن کے ساتھ گہیوں بھی گئے … میں جب بھی اس سے پوچھتی کہ اب کیا کریں .. تو وہ حسرت اور یاس سے کہتا کہ کاش اسے میں نے پہلے دن ہی جب اس نے اسے وڈیو بنانے کے لئے کہا تھا تو اسے مار دیا ہوتا .. زیادہ سے زیادہ مجھے مار دیتا لیکن میں آج روز روز مرنے سے بچ جاتا .. بقول اس کے یہ اس کی سزا ہے اللہ اور اس کے قانون کی حفاظت نہ کرنے کی … …
.بابا ( جناب صفدر ہمدانی ) نے کیا اچھا لکھا تھا کہ سزا پہلی غلطی پر نہ دی جائے تو سدھار ممکن نہیں رہتا … سو دوستو خدا جانے ممتاز قادری سلمان تاثیر کے کن کن گناہوں اور توہین آمیز کلمات کا گواہ ہو گا جس کے بدلے اس نے اپنی موت کو آواز دی …
یہاں پر بہت سے احباب یہ بھی کہتے ملے کہ ہمیں کسی مرے ہوئے کو کافر نہیں کہنا چاھئے تو پھر آج سے فرعون اور نمرود کو بھی کوئی کافر نہ کہے اور بھول جائے کہ رب کریم نے انہیں کیوں ملعون کہا اور شیطان کو کیوں اپنے بے دخل کیا … مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر ہم انسانی قانون کو اللہ اور اس کے رسول کے قانون سے بڑا کیوں سمجھ رہے ہیں .. اور بقول بابا کے رب کی رحمانیت کا امتحان کیوں لے رہے ہیں … جس واقعات کی طرف آپ توجہ کر رہے ہیں کہ حضور اکرم نے اپنے گستاخ کو معاف کیا … جی بلکل کیا اور یہ سب مکی دور میں ہوا کیونکہ اس وقت تک ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے پر قتل کا حکم نہیں آیا تھا .. لیکن آپ زرا آگے چلیں تو مدنی دور میں قتل کا حکم آتا ہے اور ہمارے حضور نے اپنی شان میں گستاخی کرنے والے کے لئے قتل کی سزا رکھی اور سنائی .. اور آپ سب جانتے ہیں کہ رسول پاک کوئی ایسی بات نہیں کہتے تھے جو اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی تھی .. اسی بات پر تمام علماء کا اتفاق بھی ہے ..
آخر سلمان تاثیر کا قتل ہی شدت پسندی کے کھاتے میں کیوں ڈالا جا رہا ہے .. اس سے پہلے بھی کئی لوگ قتل ہوئے ہیں .. حتی کہ عظیم طارق کا قتل لندن جیسے شہر میں ہو جاتا ہے .. اور لوگ ایک رونا رو کر اپنے کاموں میں لگ گئے .. لندن کی حکومت کو شدت پسندی کا کوئی طعنہ نہیں ملتا .. قاتل کہاں ہیں کچھ پتہ نہیں .. کوئی پوچھنے والا نہیں .. ڈرون حملوں میں اپنے ہی مارے جا رہے ہیں کو ئی پرسان حال نہیں .. ارے زخم بھی لگیں اور کوئی دہائی بھی نہ دے .. انصاف بھی نہ ملے اور فغاں کی اجزت بھی نہیں .. ہمیں یہ بات کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ ہر عمل میں ایک رد عمل آتا ہے .. اور یقین کیجئے کہ شدت پسندی نا انصافی . لاقانونیت اور معاشیات کی غلط تقسیم پر عروج پر پہنچتی ہے .. اور شدت پسندی کون لایا ہمارے ملک میں مجھے اس کی تفصیل میں نہیں جانا …
سوچتی ہوں یورپ میں کوئی کوئین کے لئے گستاخ نہیں ہو سکتا .. کوئی لینن کو روس میں کچھ نہیں بول سکتا .. پورے مغربی ملکوں میں حضرت عیسی پر کلام نہیں کر سکتا ،، کئی مسلمان ملکوں میں شان رسالت پر قانون ہیں .. لیکن انہیں کوئی شدت پسندی کا طعنہ نہیں دیتا .. یہی سلمان تاثیر ایسی بات اگر سعودی عرب میں کہتا تو اس کا سر قلم ہو چکا ہوتا لیکن یہ روشن خیال پاکستان ہے جہاں لوگ مہذب دنیا میں شمولیت کے لئے مذہب کو خود بیچ چوراہے پر لے آئیں ہیں .. کیوں نہ اس لنگڑی لولی اپاہج حکومت نے سلمان تاثیر کے ایک ہی بیان پر اسے عہدے سے برطرف کیا .. چلو ناموس رسالت کو ایک طرف رکھئے اس نے آئین کو بھی کالا کہہ کر توہین آئین کی تھی .. پاکستان کے حکمران ، اپوزیشن اور ملا تک سب چادر اوڑھ کر سوتے رہے اس وقت بھی عوام ہی نے شور مچایا اور واویلا کیا .. سو ابھی بھی یہی ہوا …اور اسی معمولی سی عوام میں سے ایک معمولی سے انسان نے ایک طاقتور انسان کو بھون کر رکھ دیا .. اور یقین جانئے یہ اس وقت تک ایسا ہی ہوتا رے گا جب تک حکمران ، ملاء اور علماء اپنے اپنے حصے کی زمیداری بروقت ادا نہیں کریں گے .. ہر شخص کسی نہ کسی بات پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا رہے گا …
مجھے ایک بات اور کبھی سمجھ نہیں آئی کہ میں سڈنی میں گزشتہ 15 برسوں سے مقیم ہوں .. مختلف مذاہب اور مختلف تہذیبوں میں پلے بڑھے لوگوں سے دن رات ملاقات رہتی ہے لیکن انہوں نے کبھی ہمارے اسلام اور ہمارے رسول کی شان میں کبھی گستاخی نہیں کی اور نہ ہی کسی اور مذہب کو تضحیک کا نشانہ بنایا .. آخر مسلمان ہی اسلام کا دشمن کیوں ہے .. کیوں آخر مسلمان ہی ایک ” غیر مسلم ” کو بچانا انسانیت سمجھتا ہے اور اس کے لئے اپنے ہی مذہب کی روشنی میں بنے ملکی آئین کو کالا تک کہہ جاتا ہے .. یقین کریں اگر کسی مسلمان نے کسی مغربی ملک تو کیا انڈیا تک میں اگر ان کے قانون اور آئین کی توہین کی ہوتی تو اسے بچانے کے لئے کوئی غیر مسلم تو کیا وہاں کا مسلمان بھی ” انسانیت ” کے نام پر ان کے ساتھ کبھی نہیں آتا .. بلکہ ہر شخص اسے سزا دلوانے کے لئے ریلیا ں نکالتا .. سڑکوں پر آجاتا .. میڈیا دیوانہ ہو کر ان کے پیچھے پڑ جاتا .. اور آخر میں وہ گونتاموبے جیسی جیلوں کا رزق ہو جاتا ..
شاتم رسول کی عدالتی پرچی کٹوانے کے لئے کیا عدالت کا درواز بجانا صرف ممتاز قادری کا ہی کام تھا .. کیا سلمان تاثیر کو عدالت کے فیصلوں کے انتظار سے پہلے اپنا فیصلہ سنانے کا حق تھا .. کیا اس کے لئے عدالت کا دروازہ بجانا بجا نہیں تھا .. کیا سلمان تاثیر قانون سے بالا تر تھا ….اسے ایک مسلمان ہوتے ہوئے کڑوڑں مسلمانوں کی دل آزاری کا حق کس نے دیا تھا … اسے کوئی حق نہیں تھا جو یوں کھلم کھلا مسلمانوں کا مذاق بناتا …اور قانون رسالت کے قانون کو کالا کہتا .. سو قانون قدرت کے تحت اس نا انصافی اور اس عمل کا ردعمل تو ہونا ہی تھا ..جلد یا بدیر ایسا ہی ہونا تھا .. میر ایقین کیجئے ایسا ہوتا ہی رہے گا جب تک بروقت غلطی کی سزا بلا تفریق نہیں دی جائے گی ..
دوستو ناموس رسالت کے قانون سے رسول کریم کو( نعوزبلاللہ ) کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا نا ان کی ذات اقدس کو ہم گنہگار کوئی تحفظ دے سکتے ہیں .. یہ قانون تو رسول پاک نے بنایا تھا تاکہ ہمیں اچھے برے .. اپنے پرائے کی پہنچان ہو سکے .. اور ہمیں اپنے دین پر چلنا آسان ہو سکے .. یہ تو اللہ کی بنائی ہوئی حدود ہیں اور اسے کالا کہنے والا اس کے عذاب سے کیسے بچ سکتا ہے .
ہمیں نہیں بھولنا چاھئے کہ ہمیں اللہ اور اس کے آخری رسول کی صورت نہ صرف دنیا بلکہ دین بھی عطا ہوئی ہے اور اب ہم اگر اپنے محسن کی ہی عزت اور ناموس کو نہ بچا سکیں تو ہمیں اپنے ایمانوں کا جائزہ لینا ہو گا اور اپنے سجدوں کی پڑتال کرنی ہوگی … کیونکہ گنہگار وہ بھی ہے جو گناہ کو گناہ نہ کہہ سکے .. روکنا .. لڑنا اور مرنا تو دور کی بات ہے .. یعنی ہمارے ایمان یہاں تک آ گئے ہیں کہ ہم کسی برائی کو دل میں بھی بر انہیں کہہ پارہے ….
میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنی بحث یہی ختم کر دینی چاہئے اور اپنی اپنی راہ لگ جانا چاہئے … جو جس کا ایمان کہتا ہے وہ اس پر جائے .. میرا ایمان یہی کہتا ہے کہ ایک ظالم اور شاتمہ کی پشت پناہی کرنے والا اپنے منطقی انجام کو پہنچا .. اور اس کی تمام تر زمہ داری پاکستان کی حکوت اور اپوزیشن پر عائد ہوتی ہے جو ایک اوباش اور بدکردار انسان کو توہین رسالت تو کیا توہین آئین کی سزا تک نہ دے سکے .. بلکہ اس کی روشن خیالی پر ہمیشہ کی طرح پی پی پی نے جشن منائے .اور اب اپنی ناکامی کو “جمہوری قتل ” کے کھاتے میں ڈال کر ہمدردی کے ووٹ لے رہی ہے .. انہیں اسلام اور اس کے قانون سے کیا لینا دینا ..
. اللہ کا فیصلہ یہی ہے کہ جو اس کی حدود سے تجاوز کرتا وہ اپنا کیا دیکھ لیتا ہے .. دوستو .. میرے عزیز اور محترم ساتھیو مجھے اپنے ایمان کی فکر ہو رہی ہے کہ اللہ کا قانون ہم سب کے لئے ایک ہے اور آج ہم نے اس واقعے سے سبق حاصل نہ کیا یعنی پہلی غلطی پر سزا اٹھانی اور دینی نہ شروع کی تو کہی اللہ ہم پر کسی اور کو نہ لے آئیں اور ہمارا ٹھکانہ وہی ہو جس کی پناہ دوزخ بھی مانگتی ہے …
میری لکھی ہوئی ہر سطر سے آپ کو اختلاف رائے کا حق ہے اور میں آپ کی اختلاف رائے کا دل سے احترام کرتی ہوں .. لیکن محترم احباب اس بلاگ پر میرے اس تبصرے کو آخری سمجھا جائے .. شکریہ )
السلام علیکم
عالم آراء بہن ظفر جعفری صاحب اور آویز صاحب میں آپ سب کی ممنون ہوں کہ آپ نے ایک مشکل موضوع پر اصولی بات کی تائید کی.
ناموسِ رسالت کے حوالے سے سخت ترین قوانین ہمارے ملک میں موجود ہیں اور ہم سب ان قوانین کے حامی ہیں . ان قوانین میں اگر کوئی سقم ہے تو مذہبی رہنما اس کی نشاندہی کر سکتے ہیں انہیں مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے.
والسلام
زرقا
محترمہ عالم آ را صاحبہ ،
” اگر ہم سگنل پر رکیں گے تو پیچھے آنے والا نا چاہتے ہوئے بھی رکے گا اور قانون پر عمل ہوجائےگا لیکن اگر ہم سگنل توڑینگے تو پیچھے والا بھی ہمارے پیچھے آئیگا اور نہ صرف سگنل توڑے گا بلکہ شاید ایکسیڈنٹ بھی کر بیٹھے ۔ تو کیا افضل نہیں ہے کہ ہم سب پہلا قطرہ بن جائیں اور سب ہی کوشش کریں کہ قانون بنیں تو ان پر عمل بھی ہو،اور فیصلے قانون دان کریں “
محترمہ ، جب میں سگنل پہ کھڑا ہونگا ، کوئی وزیر یا اس کا کوئی چہیتا سگنل توڑ کر نکل جائے گا اور پولیس کھڑی تماشہ دیکھتی رہ جائے گی اور یہ تماشہ میں بار بار دیکھوں گا تو ایک دن میں بھی کہوں گا کہ جہنم میں جاؤ ،یہ میں گیا روک سکتے ہو تو روک لو اور میری پیروی میں دو چار اور پیدا ہو جائیں گے تو یہ سارا قصور پھر کس کا ہوا ؟ اس وزیر یا اس کے چہیتے کا جس نے قانون کو مذاق بنایا اور پھر قانون کے رکھوالے کا جس نے ’ امیر جان ‘ کو تو کچھ نہ کہا لیکن ’ غریب خان ‘ کا چالان کر دیا ۔
معاشرتی خرابیاں اس طرح ہی جنم لیتی ہیں جب امیر اور غریب کے لئے قانون میں بھی تفریق کردی جائے ۔ اور قانون کے پاسدار ہی قانون کا مزاق شروع کر دیں ۔
میری مسیحا بیٹی ،سدا سہاگن رہو ،جگ جگ جیو ،پاکستان میں ممتاز قادری کے بوسے وہاں کی با وصف، با غیرت اور باحمیّت قوم نے لئے ہیں تو میں نے تمہارے قلم کے ہزار غائبانہ بوسے لئے ہیں کہ حق اور سچ کی روداد لکھ کردل میں ٹھنڈ ک ڈ ال دی ہے
شفاعت کا مزدہ ہمیں تم سنا دو
ہم آ ئیں پیا سے جام کوثر پلادو
محشر کی گرمی ہمیں نا ستا ئے
دامن کی اپنے ٹھنڈی ہوا دو
شافع محشر آپ کا نام
خاتم الا نبیا ء اسّلا م ،سیّد لاصفیا ء اسّلام
،انت بد رادّ جیٰ اسّلام ،انت شمس الضّحیٰ اسّلام
سلامن علیکم ،سلامن علیکم ،سلامن علیکم،سلامن علیکم
میں اپنے بیا ن کا اختتام اپنی پوری خوش بخت پاکستانی قوم کو سلام کرتے ہوئے تمام کرتی ہوں ،میری پوری قوم کی نمائندگی کے لئے ممتاز حسین قادری ہے اور اس کا استقبال پھو لون کے ڈھیراور اپنے گرم بوسے ممتاز حسین قادری پر نچھاور کرنے والی قوم ہے
اور میری قوم کی دیار غیر میں بیٹھ کر سچّی نمائندہ ء وطن ڈاکٹر نگہت نسیم ہے جس نے ببا نگ دہل لگی لپٹی کے بغیر برے کو برا ہی کہا ہے اور جہاد بالقلم کا پورا حق ادا کیا ہے
محترم آویز صاحب ،
” میرے خیال میں ہمارا معاشرہ شدت پسند اور جنونی ہوتا جارہا ہے “
استاد محترم ، آپ نے بالکل صحیح فرمایا کہ معاشرہ شدت پسند اور جنونی ہوتا جارہا ہے لیکن آپ اسباب پہ تو غور کرٰیں ۔ معاشرتی ناانصافیاں ، ریاستی ظلم و جبر اور حکمرانوں کا قانون سے کھلواڑ ہی باغیان رویوں کا موجب ہے ۔
” امریکہ بھی یہ ہی چاہتا ہے کہ اس طرح کے دو چار حادثے فوج میں بھی ہوجائیں تاکہ پاکستان کے اٹیمی ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھوں میں لگنے کا جواز مل جائے اور امریکہ باآسانی پاکستان کے اٹیمی ہتھیار قبضہ میں کرلے۔امریکہ اور یورپ تو پہلے ہی سےشدت پسندی کے خوف کا واویلا کررہے ہیں “
جب ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ کیا چاہتا ہے تو پھر اس کے سدباب کی کیوں نہیں سوچتے ؟ کیا امریکہ ، برطانیہ یا ان کی طفیلی این جی اوز کو پاکستان کی جیلوں میں سزائے موت کے اور مجرم نظر نہیں آتے جو انہیں ایک آسیہ بی بی ہی ملی انتشار پیدا کرنے کے لئے ۔ آپ ذرا اس پہلو پہ بھی سوچیں اور اپنی رائے سے نوازیں ۔
” اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں غازی تو بہت ہیں ۔ اگر ہر غازی اسی طرح گولیاں چلا کر خود ہی قتل کرتا پھرے تو ایسے ملک کا پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔؟۔لاقانونیت کی تو ہر گز حمایت نہیں کرنی چاہیے “
آپ لاقانونیت کے اسباب اور سدباب پہ بھی تو غور فرمائیں ۔ جب حکومتیں عادل اور منصف ہو جائیں تو لاقانونیت کے بے شمار دروازے خود بخود بند ہوجاتے ہیں ۔ آپ اور میں جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اپنی آنکھوں سے ہر چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ یہاں کوئی ٹریفک سگنل کیوں نہیں توڑتا ؟ وہ اس لئے کہ یہاں ملکہ کے بیٹے کا بھی چالان ہو جاتا جبکہ اپنے آپ محض ملک رحمان کا وزٹنگ کارڈ ہی دکھا گذر جائیں ۔
” میں چاہتا ہوں جو بھی گستاخ رسول ہو اس کی سزا پھانسی ہی ہونی چاہیے ۔ جو کوئی جھوٹا الزام لگا کر اپنی دشمنی نکالے تو ایسے جھوٹے گواہوں کی سزا بھی پھانسی ہی ہونی چاہیے “
میں آپ سے حرف بحرف اتفاق کرتا ہوں اور یہی چاہتا ہوں کہ حکومت اور ریاستی ادارے اپنا کام دیانتداری سے کریں ۔ معاشرے میں عدل و انصاف کو عام کریں اور شدت پسندی یا باغیانہ رویوں کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں نہ کہ اسے اپنے ہی غلط رویوں سے مزید ہوا دیں ۔
آپ کی آمد کا بے حد ممنون
آپ کا شاگردِ عزیز
جاوید کیانی
نسیم بیٹی تم نے عرا قی عوا م کی تباہی کی جو داستان سنائ تو مجھ کو بھی ایک، محض چند برس پیشتر کی پاکستان کے شمالی علاقے کی تباہی یاد آ گئی
یہ رمضان کا آخری ہفتہ تھا اور میں حسب معمول دن کے تین بجے جب گھر آئ تو میرے شوہر نے مجھ کو بتایا کہ ابھی ابھی جیو سے ایک خبر نشر ہوئ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقے بالاکوٹ میں ایک آ دمی نے اپنے علاقے کے ایک شخص سے اس کا سولہ سالہ بیٹا تیس ہزار روپئے میں خرید کر اس سے شادی کی ہے،سنا یہ گیا کہ یہ شادی بہت دھوم دھام سے ہوئ تھی اور علاقے کے کافی لوگ اس میں شریک تھے
اب ایک تو روزہ اس پر سے راستے کی گرمی اور گھر آ کر یہ خبر ،بس لگتا تھا جیسے آگ تلوؤںسے لگی اور سر میں بجھی نہیں ،،بلکہ بھڑکنے لگی
اس سے اگلی صبح بی بی سی نے یہ خبر ہوری دنیا میں نشر کی
اور پھر ماہ رمضان تمام بھی نہیں ہوا تھا کہ پاکستان کا شما لی علاقہ زلزلے سے زمیں بوس ہو گیا ،اور بالا کوٹ کا علاقہ اس طرح برباد ہوا کہ اس کو رہنے لئے نا قا بل قرار دیا گیا جس کےلئے اس وقت کے صدر پرویز مشرّف نے تین ارب روپئے سے دوسری جگہ بسانے کے لئےاحکامات بھی دئے ،آج تک وہ علاقہ اجڑے دیار کا نقشہ پیش کر رہا ہے
تو یہ اللہ کا قانون ہے برائ کو، جہاں سے شروع ہو وہیں سے پکڑلو ،ورنہ میں سب تماشائیو ں کو بھی پکڑوں گا
زندگی کے ہر ہر پہلو میں اللہ کے اس قانون کو مدّنظر رکھّا جائے تو گناہ کی جانب قدم اٹھیں گے ہی نہیں
محترم ظفر جعفری صاحب ،
” آپ سابق فوجی ہیں اسلئے فوراً بندوق اُٹھالیتے ہیں “
محترم پتہ نہیں میری سیدھی سادی باتوں میں آپ کو بندوق کہاں نظر آگئی ؟ بہرحال اگر آ ہی گئی تو کسی نے اسی لئے تو کہا ہے ناں کہ ، ” مردِ ناداں پہ کلامِ نرم و نازک ہے بے اثر“
” ہر ملک کے صدر کو اپنے ملک اور ہر گورنر کو اپنے صوبہ میں بڑے سے بڑے مجرم کو معاف کرنے کا اختیار ہوتا ہے “
آپ کا یہ انکشاف میرے لئے بہت بڑا لطیفہ یا اس صدی کی انتہائی اہم خبر ہے ۔ کم از کم جس ملک میں میں سانسیں لے رہا ہوں یہاں تو ایسا نہیں ہوتا ، البتہ ’ الکیمونیا ‘ میں ایسا ہوتا ہو تو میرے علم میں نہیں ۔
” اگر ملاؤں یا انکے حامیوں کو آئین کی یہ شق ناپسند ہے ثو انہیں اس شق کو آئین سے نکلوانے کیلئے جدوجہد کرنی چاہئے جو ہمارے ملا کے بس کی بات نہیں “
آپ ملاؤن کو چھوڑیں ، اس بلاگ میں ریکارڈ کے لئے صرف اپنی بات کردیں کہ کیا آپ کے خیال میں ناموس رسالت کی شق قانون میں رہنی چاہیئے اور اس پہ عمل ہونا چاہیئے کہ نہیں ؟
” ممتاز قادری ایک غازی ہے یا مجرم یہ فیصلہ کرنے کا اختیار عدالت کو ہے۔ مجھے یا آپکو نہیں۔ فی الحال وہ ایک ملزم ہے “
قانون کی نظر میں ممتاز قادری مجرم ہی ہے لیکن تمام عشاقِ رسول (ص) اسے غازی ہی کہیں گے ۔ آپ کو اختیار ہے دیوار کے جس طرف چائیں بیٹھ جائیں ۔
” ڈاکٹر ذاکر نائک نے یزید کو رضی اللہ عنہ کہدیا۔ نہ آپ نے اس پر قلم اُٹھایا نہ ملاؤں نے اُدھم مچایا “
یہ تو سوال گندم ، جواب چنا والی بات ہوئی ۔ میں نے جس موضوع پہ بلاگ شروع کیا ہے اسی پہ ہی بات کروں گا ناں ۔
آپ کوئی سا بھی بلاگ شروع کردیں ، اگر میں اس پہ کوئی رائے دے سکا تو ضرور دوں گا ۔
محترمہ زرقا مفتی صاحبہ ،
” ابھی تک زرداری صاحب نے آسیہ بی بی کو معاف نہیں کیا کیونکہ جسٹس خواجہ شریف صاحب نے ایک حکم امتناعی کے ذریعے انکو ایسا کرنے سے روک دیا تھا. آپ بار بار نہ جانے کیوں یہ لکھ رہے ہیں کہ آسیہ بی بی کو معاف کر دیا گیا.“
محترمہ ، اگر ایسا ہے تو میری لاعلمی کا سبب آپ کا میڈیا ہے جس نے سنسنی پھیلائی ۔ میں یہاں میڈیا کے رول پہ کچھ نہیں لکھوں گا ۔ اتنا ہی علم میں آیا کہ سلمان تاثیر بذاتِ خود جیل میں آسیہ بی بی سے رحم کی اپیل پہ دستخط کروا کر لایا اور اسے ایوان صدر اپنے بگ باس کے پاس لے کر گیا ۔ اور اگر آپ کے بقول ” آسیہ بی بی نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے اور اس کی قسمت کا فیصلہ وہیں ہو گا.“ تو پھر ہائی کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی سلمان تاثیر یا آصف زرداری کو کس بات کی جلدی تھی ؟
” مذہبی رہنماؤں کو چاہئے کہ اسمبلی سے ایسا قانون منظور کروا لیں کہ کسی شاتمِ رسول کو صدر یا گورنر معافی نہ دے سکے. اسی میں ہم سب کی بہتری ہے. تاکہ ہم میں سے کسی مسلمان کی دل آزاری نہ ہو “
میرا پھر یہی احتجاج ہوگا کہ کیا صدر یا گورنر .کو پورے ملک کی جیلوں میں ایک شاتم ہی نظر آیا جو سزائے موت کا منتظر ہے ؟
” مزید یہ کہ تمام علماء کو اجماع کے ذریعے یہ فتویٰ دینا چاہیئے کہ کیا کسی شاتمَ رسول کا وکیل اس کی قانونی امداد کرنے والا بھی شاتمِ رسول ہی کہلائے گا“
میرے خیال میں کوئی شاتم رسول اگر خود ہی اپنی غلطی تسلیم کر لے اور معافی کا خواستگار ہو تو وہ معافی یا کم از کم سزا کا حقدار ہونا چاہیئے اور اگر وہ اپنے جرم پہ قائم رہے اور اس کا وکیل بھی تمام حقائق کو جانتے ہوئے اسے مخبوط الحواس ثابت کرتے ہوئے بےگناہ ثابت کرنا شروع کردے تو کم از کم میں تو اس پہ لعنت ہی بھیجوں گا ۔ باقی بحث علماء کے لئے ہے کہ شریعت کا اس پہ کیا فتوٰی ہونا چاہیئے ۔ ویسے آپ کا سوال اپنی جگہہ انتہائی اہم ہے جسے آپ کو کسی ٹی وی مناظرے میں کسی عالم کے سامنے ضرور اٹھانا چاہیئے ۔
محترمہ ڈاکٹر نگھت نسیم صاحبہ ،
سبحان اللہ ، ماشاء اللہ ، جزاک اللہ
آپ کا بے حد شکریہ ۔ جو بات میں کئی طریقوں سے کہنے کی کوشش کر رہا تھا آپ نے کس شان ، کس بیباکی اور کس خوبصورت انداز میں پیش کی ، ماشاء اللہ :
….
” یہ انسانی رویئے ہیں جو اشتعال دلوانے کے لئے کافی ہوتے ہیں ..اور ایسا ہی ہوا سلمان تاثیر کی کھلم کھلا تقریروں پر عوام بھڑک اٹھی کیونکہ حکومتی سطح پر حکومت ، اپوزیشن اور ملا برداری اس ایمانی حملے پر سوئی رہی .. اور اللہ کا تو صاف صاف کہنا ہے کہ اگر تم میرے دین کی حفاظت نہیں کرو گے تو ہم کسی اور کولے آئیں گے (مفہوم) اور پھر وہ کسی اور کی شکل میں کس کو لایا یہ میرا یا آپ کا فیصلہ نہیں تھا .. یہ رب کائینات کا فیصلہ تھا اور اس کو ہو کر رہنا تھا“
”.بابا ( جناب صفدر ہمدانی ) نے کیا اچھا لکھا تھا کہ سزا پہلی غلطی پر نہ دی جائے تو سدھار ممکن نہیں رہتا “
.
” اور یقین کیجئے کہ شدت پسندی نا انصافی . لاقانونیت اور معاشیات کی غلط تقسیم سے عروج پر پہنچتی ہے “
” یورپ میں کوئی کوئین کے لئے گستاخ نہیں ہو سکتا .. کوئی لینن کو روس میں کچھ نہیں بول سکتا .. پورے مغربی ملکوں میں حضرت عیسی پر کلام نہیں کر سکتا ،، کئی مسلمان ملکوں میں شان رسالت پر قانون ہیں .. لیکن انہیں کوئی شدت پسندی کا طعنہ نہیں دیتا “
” یہی سلمان تاثیر اگر ایسی بات سعودی عرب میں کہتا تو اس کا سر قلم ہو چکا ہوتا لیکن یہ روشن خیال پاکستان ہے جہاں لوگ مہذب دنیا میں شمولیت کے لئے مذہب کو خود بیچ چوراہے پر لے آئیں ہیں “
” کیوں نہ اس لنگڑی لولی اپاہج حکومت نے سلمان تاثیر کے ایک ہی بیان پر اسے عہدے سے برطرف کیا“
” ناموس رسالت کو ایک طرف رکھئے اس نے آئین کو بھی کالا کہہ کر توہین آئین کی تھی .. پاکستان کے حکمران ، اپوزیشن اور ملا تک سب چادر اوڑھ کر سوتے رہے اس وقت بھی عوام ہی نے شور مچایا اور واویلا کیا .. سو ابھی بھی یہی ہوا …اور اسی معمولی سی عوام میں سے ایک معمولی سے انسان نے ایک طاقتور انسان کو بھون کر رکھ دیا “
” اور یقین جانئے یہ اس وقت تک ایسا ہی ہوتا رے گا جب تک حکمران ، ملاء اور علماء اپنے اپنے حصے کی زمیداری بروقت ادا نہیں کریں گے .. ہر شخص کسی نہ کسی بات پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا رہے گا “
” دوستو ناموس رسالت کے قانون سے رسول کریم کو( نعوزبلاللہ ) کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا نا ان کی ذات اقدس کو ہم گنہگار کوئی تحفظ دے سکتے ہیں .. یہ قانون تو رسول پاک نے بنایا تھا تاکہ ہمیں اچھے برے .. اپنے پرائے کی پہنچان ہو سکے .. اور ہمیں اپنے دین پر چلنا آسان ہو سکے .. یہ تو اللہ کی بنائی ہوئی حدود ہیں اور اسے کالا کہنے والا اس کے عذاب سے کیسے بچ سکتا ہے “
” اگر اپنے محسن کی ہی عزت اور ناموس کو نہ بچا سکیں تو ہمیں اپنے ایمانوں کا جائزہ لینا ہو گا اور اپنے سجدوں کی پڑتال کرنی ہوگی“
” میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنی بحث یہی ختم کر دینی چاہئے اور اپنی اپنی راہ لگ جانا چاہئے … جو جس کا ایمان کہتا ہے وہ اس پر جائے .. میرا ایمان یہی کہتا ہے کہ ایک ظالم اور شاتمہ کی پشت پناہی کرنے والا اپنے منطقی انجام کو پہنچا .. اور اس کی تمام تر زمہ داری پاکستان کی حکوت اور اپوزیشن پر عائد ہوتی ہے جو ایک اوباش اور بدکردار انسان کو توہین رسالت تو کیا توہین آئین کی سزا تک نہ دے سکے
” اللہ کا فیصلہ یہی ہے کہ جو اس کی حدود سے تجاوز کرتا وہ اپنا کیا دیکھ لیتا ہے “
” اللہ کا قانون ہم سب کے لئے ایک ہے اور آج ہم نے اس واقعے سے سبق حاصل نہ کیا یعنی پہلی غلطی پر سزا اٹھانی اور دینی نہ شروع کی تو کہی اللہ ہم پر کسی اور کو نہ لے آئیں اور ہمارا ٹھکانہ وہی ہو جس کی پناہ دوزخ بھی مانگتی ہے “
مرحبا ڈاکٹر صاحبہ ، اللہ اور اس کا رسول (ص) آپ کو ایک ایک لفظ پہ نیکیوں کے خزانے عطا فرمائے ۔
میں بھی چیخ چیخ کر یہی کہ رہا ہوں کہ سوچوں میں انقلابیت اور رویوں میں باغیانہ پن ہی باغیوں اور غازیوں کو جنم دیتا ہے جس کی وجوہات آپ نے بھی نہایت تفصیل سے بیان کر دی ہیں ۔
لیکن خدا را یہ نہ کہیں کہ ” اس بلاگ پر میرے اس تبصرے کو آخری سمجھا جائے “ ، کیا پتہ ابھی آپ کی کتنی دفعہ اور ضرورت پیش آئے ۔
آپ کا بہت شکریہ
محترمہ سّیدہ زائرہ عا بدی صاحبہ ،
” پاکستان میں ممتاز قادری کے بوسے وہاں کی با وصف، با غیرت اور باحمیّت قوم نے لئے ہیں تو میں نے تمہارے قلم کے ہزار غائبانہ بوسے لئے ہیں کہ حق اور سچ کی روداد لکھ کردل میں ٹھنڈ ک ڈ ال دی ہے “
بالکل صحیح فرمایا محترمہ ، قوم اپنی بیباک بیٹیوں کے قلم کے یوں ہی بوسے لیا کرتی ہے ۔ ایسی مائیں ہی قوم کو غازی علم الدین شہید اور غازی ممتاز قادری جیسے نڈر سپوت پیش کیا کرتی ہیں ، ماشاء اللہ ۔
” میری قوم کی دیار غیر میں بیٹھ کر سچّی نمائندہ ء وطن ڈاکٹر نگہت نسیم ہے جس نے ببا نگ دہل لگی لپٹی کے بغیر برے کو برا ہی کہا ہے اور جہاد بالقلم کا پورا حق ادا کیا ہے “
کیا خوب فرمایا آپ نے محترمہ ، اس میں رتی بھر شک نہیں ، آپ کا کہا پتھر پہ لکیر ہے ۔
السلام علیکم
کیانی صاحب اور ایسے اصحاب کے لئے جو میڈیا کے اپ ڈیٹس پر نظر نہیں رکھ سکے ۔ پاکستان کے موقر انگریزی روزنامے دی نیوز سے ایک تراشہ نقل کر رہی ہوں۔
LAHORE: The fate of Aasia Bibi, a 45-year-old Christian woman, already condemned to death by the district and sessions court of Sheikhupura on November 9, 2010 for allegedly committing blasphemy, hangs in balance, especially after the assassination of the Punjab Governor Salman Taseer, who was vigorously seeking a presidential pardon for her.
The murder of Aasia’s chief supporter, Salman Taseer has left her simply terrified in the Sheikhupura district jail where she is simply at the mercy of prison guards, amidst renewed fears that some other person in police uniform could kill her anytime, as had happened with the Punjab governor. Aasia’s husband, Ashiq Masih says his wife feels extremely insecure after the murder of Salman Taseer and fears for her life.
Although, Salman Taseer had forwarded Aasia’s clemency appeal to the Presidency shortly after his meeting with the accused at the Sheikhupura district jail on November 20, 2010, no action could be taken because of a restraining order issued by the former chief justice of the Lahore High Court (LHC) Khawaja Muhammad Sharif, directing the Presidency on November 29, 2010 to abstain from pardoning the Christian woman before the court ruled on her appeal.
The interim orders were issued on a petition filed by Allah Bukhsh Advocate, praying to stall any possible attempt to grant presidential pardon to the Christian woman. The petitioner pleaded that although the accused has already approached the high court, challenging her death sentence, it seems that the president of Pakistan tends to pardon her, which he cannot do according to the constitution because her appeal is still pending.
Khawaja Sharif had retired a few days after issuing these restraining orders and Aasia as well as her backers, including the Punjab governor, had been waiting since then for the LHC to set the date to hear the appeal.
However, before the court could set a hearing date, the governor was killed by one of his security guards, saying he had committed blasphemy by siding with Aasia. As things stand, Aasia’s only hope is Asma Jahangir, the president of the Supreme Court Bar Association (SCBA), who denounced the court decision, saying that a stay had been granted on an action that was yet to take place.
“If the judges want to get popular, there are other ways to do it. Do not twist the laws as court verdicts become precedence,” she remarked, while speaking at a seminar on the blasphemy laws, organised by Jinnah Institute, a think-tank launched by former Information Minister Sherry Rehman.
Aasia, mother of five children, was sentenced to death for blasphemy on November 7, 2009 when an ATC ruled that the woman, a farm worker, had offended Prophet Muhammad (Peace Be Upon Him).
Aasia Bibi denies having committed the crime and maintains that she was implicated falsely after she refused to convert to Islam. She told the court that women in her village were trying to get her to convert to Islam for some time.
She held out and chose not to debate it but would only say she wouldn’t because she was comfortable with her faith. As she defended herself and her religious choice, she was accused of using derogatory remarks against Prophet Muhammad (PBUH) and thus having committed blasphemy. Aasia’s husband Ashiq Masih then decided to approach the LHC to overturn the ruling.
آخر میں کیانی صاحب کے دو معتدل جملے نقل کرتی ہوں جن کی میں بھی تائید کرتی ہوں
میرے خیال میں کوئی شاتم رسول اگر خود ہی اپنی غلطی تسلیم کر لے اور معافی کا خواستگار ہو تو وہ معافی یا کم از کم سزا کا حقدار ہونا چاہیئے ۔
باقی بحث علماء کے لئے ہے کہ شریعت کا اس پہ کیا فتوٰی ہونا چاہیئے ۔ ویسے آپ کا سوال اپنی جگہہ انتہائی اہم ہے جسے آپ کو کسی ٹی وی مناظرے میں کسی عالم کے سامنے ضرور اٹھانا چاہیئے ۔
کسی کی برائیوں کا اس کے مرنے کے بعد تزکرہ برائ سے مت کرو ،،، برے کو مرنے کے بعد برا مت کہنا ورنہ گناہ ہو گا ،،یہ فلسفہ کب وجود میں آیا ،یعنی (نمرود ،فرعون )اور ان جیسوں کو،،کیوں نہیں کہو ،،سوچا آپ نے یہ زہنی تربیت مسلمانو ں کی بعد سانحہ کربلا کی گئ تاکہ جرائم کربلا کا ارتکاب کرنے والوں کی سیاہ کاریاں زبان زد عام نہیں ہو سکیں
،ان ظالمین کو بھی تو سلمان تاثیر کی طرح مقتدر ایوانوں میں بیٹھنے کی کرسیاں اور اسی طرح کے دولت کے ڈھیر درکار تھے جسطرح اس ملعون کے ہیں جسکے دنیاوی سرمائے کی حصّہ داری دنیا کے اونچے ترین درجوں پر فائز اپنے بیرونی آقاؤں اور ان کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتہ ہے جو آجکل اپنا سرمایہ ناجانے کس خوف سے بیرون ملک منتقل کر رہا تھا ،وائے افسوس وہ دنیا کے فانی سرمائے میں اس طرح گم ہواکہ دین کے سرمائے کو بھول گیا اور اس کے جنازہ کو بھی مخفی طریقے سے فوجیوں کے قبرستان میں جہنّم واصل اس لئے کیا گیا کہ غیض میں ڈوبے عوام اس کی لاش نا نکال کر گلیوں میں گھسیٹیں،،اس کی قبر تیّار کرنے والے گورکنوں تک کو معلوم نہیں تھا کہ اس گڑھے میں پاکستان کا چوٹی کا دولتمند ملعون جہنّم واصل ہو نے جا رہا ہے
تو آؤ میرے بلاگی ساتھیو ں جہاد با لقلم کرو برے کو برا ہی کہو تاکہ اللہ کے سانے کل کہ سکو ہم نے تو تیرے قران کریم میں لکھے ہوئے فرمان کے مطابق کام کیا کہ برے کو برا ہی کہا اور برائ کے پشت پناہ نہیں بنے
اسلام علیکم ساتھیو
اقبال کیانی بھائی محترم مسئلہ یہ ہی تو ہے کہ ہم جزباتی بہت ہیں ،اگر ہم مثبت روئے رکھیں تو ہر بات ممکن ہے ہم ہر بات میں حکومت اور اسکے اداروں کو دیکھتے ہیں ،جب کہ یہ لوگ بھی ہم خود ہی مسلط کرتے ہیں ۔بات صرف اتنی ہے کہ حق کو حق کہو اور برائی کے خاتمے کی تدبیریں سوچو ، اگر میں بروں کی پیروی صرف اس لئے کرنے لگوں کہ ہر کوئی برا کر رہا ہے تو پھر میں کہاں گئی ؟
میری سوچ تو یہ ہے کہ اگر میں اچھا کرونگی تو اچھائی ضرور پنپے گی لیکن اس کے لئے بےحد صبر اور ہمت کی ضرورت ہے جو ہم سب آہستہ آہستہ ختم کرتے جارہے ہیں ،نقصان صرف ہمارا ہے کسی کا نہیں ،
ہم وہ امت ہیں جسے صبر کا درس دیا گیا ،ہم وہ امت ہیں جسے نیکی کرنے کا درس دیا گیا ۔ہم وہ امت ہیں جسے ہر بات میں انصاف کرنے کا درس دیا گیا بلا امتیاز مزہب ،ہم وہ امت ہیں جسے درس دیا گیا بھائی چارے کا ،ہم وہ امت ہیں جسے در گزر کا درس دیا گیا ہم وہ امت ہیں جسے کمزوروں کا ساتھ دینے کا درس دیا گیا ،ہم وہ امت ہیں جس کے نبی صلم کی اخلاقیات کی پوری دنیا گواہ ہے ،ہم اس نبی کی امت ہیں جس نے صرف دعا ہی دعا کی ۔ہم وہ امت ہیں جن کے پاس الہامی کتاب موجود ہے جس کے ایک شوشے کو بدلنے کی جرائت کسی میں نہیں جو قیامت تک کے لئے اللہ رب العزت نے محفوظ کردیا پورا قانون ۔
لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں ؟
ہر غلط بات پر آواز اُٹھنی چاہئے اور اچھی بات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ،بغیر یہ سوچے کہ دوسرے کیا کرتے ہیں ،تب تو ہم شاید کوئی راہ ضرور نکال لینگے بھلائی کی ،
آپ سب کے تبصرے بہت دقیق اور عمیق ہیں ، بس دعا ہے کہ اللہ ہم سب پر فضل و کرم کرے آمین
عالم آرا
آخر میں کیانی صاحب کے دو معتدل جملے نقل کرتی ہوں جن کی میں بھی تائید کرتی ہوں’’میرے خیال میں کوئی شاتم رسول اگر خود ہی اپنی غلطی تسلیم کر لے اور معافی کا خواستگار ہو تو وہ معافی یا کم از کم سزا کا حقدار ہونا چاہیئے ۔‘‘
محترمہ بہن ذرقا مفتی صاحبہ اور ہمارے محترم بھائی جاوید کیانی صاحب
یہ خادم ابتدا میں بلاگ میں شامل ہوا اور پھر غائب ہوگیا اس دوران اس موضوع پر ایک مضمون لکھا لیکن بلاگ کا مطالعہ جاری رکھا
اس وقت ہم اوپر لکھے گئے جملے کے حوالے سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر اہل علم کی رائے یہ ہے کہ شاتم رسول کا توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے اگرچہ وہ پکڑے جانے کے بعد توبہ کا اظہار کرے ،
امام احمد حنبل کی روایت کے مطابق
’جو شخص بھی رسول کریم کو گالی دے اور آپ کی تحقیر کرے وہ مسلم یا کافر ہو اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ،فرماتے ہیں کہ جو شخص عہد توڑے اور اسلام میںنئی بات ایجاد کرے اسے قتل کیا جانا چاہیے ،ان سے عہدوپیمان اس لیے نہیں کیا گیا تھا کہ ایسے کام کریں‘“
اصل میں یہ ایک طویل بحث ہے ہم یہاں صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس نازک معاملے پر اپنی عقل سے قیاس کرنے بجائے ان کتابوں کا مطالعہ کیا جائے جو اس موضوع پر ہیں
میں درخواست کروں گا کہ یہ بحث اس سے قبل نازک موڑ اختیار کرلے آپ تمام حضرات ’’قانون توہین رسالت اور قانون توہین رسالت ‘‘محمد اسماعیل قریشی کی کتاب کا مطالعہ ضرور کریں
معاف کیجے کتاب کا درست نام ہے ’ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت ‘محمداسماعیل قریشی
زرقاء بہن
آپ جیسے لوگوں کے ہوتے ہوئے میں کہ سکتا ہوں۔
There is hope for humanity
اللہ مسلمانوں کو علم کی دولت سے مالا مال کرے اور اُنکا وقار بلند کرے۔
نگہت بہن
ٰٰٰ ٰٰٰ آپ سب اس بات پر تو متفق ہیں نا کہ سلمان تاثیر ایک اوباش اور بدکردار انسان تھا ٰٰٰٰ ٰٰٰٰٰ
کم از کم میں آپ کی اس بات سے متفق نہیں۔ یہ آپ کا مفروضہ ہے جسے آپ ثبوت سمجھ کر پیش کررہی ہیں۔
وہ ایک تعلیم یافتہ، ایماندار، خداترس اور نڈر انسان تھا۔ اسکا ثبوت یہ ہے کہ شہباز شریف حکومت نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا لیکن وہ سلمان تاثیر کے خلاف ایک بھی کرپشن کا کیس نہیں لاپائے۔ پاکسان جہاں سارا معاشرہ کرپٹ ہے وہاں سلمان تاثیر جیسے لوگ گوہرِ نایاب ہیں۔ میری نا تو اسِ شہید سے کوئ مراسم تھے نہ پپلز پارٹی کا میں ہمدرد ہوں۔ لیکن حدیث ہے کہ
ٰٰٰ اگر کسی کا ایمان پرکھنا ہے تو اس کی عبادت مت دیکھو اس کا لین دین دیکھوٰٰٰٰ
اس حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو جو آدمی کرپٹ نہ ہو وہ مومن ہے۔ اگر کوئ انسان حافظِ قرآن، مبلغِ اسلامِ محبِ خدا و زسول ، نمازی، متقی پرہیزگار ہے مگر اسکا لین دین صحیح نہیں ہے تو وہ مومن نہیں ہے۔ کرپٹ نہ ہونا ہی انسان کو Credibility دیتا ہے۔ دھواں دار تقریریں، زہرآلود تحریریں ایک ایسے معاشرہ میں جہاں نصف سے زیادہ لوگ بے پڑھے لکھے ہوں کافی موثر ثابت ہوتی ہیں لیکن اللہ اور رسول اسُ سے محبت کرتے ہیںجسکا لین دین صاف ہو۔ انسان کی اصل شخصیت کا پتہ اسکی دھواں دار تقریر وں، زہرآلود تحریر وں نماز روزہ سے نہیں چلتا، اُس کے لین دین سے چلتا ہے۔ سلمان تاثیر ایک ایماندار اور خدا ترس انسان تھا۔ اس ہی لئے اُسے شہادت نصیب ہوئ۔
،ہمارے ہا ں تلخ حقیقت یہ ہےکہ قانون صرف غریبوں اور کمزوروں کےخلاف استعمال ہونےکیلئے رہ گیا ہے اور اس بات کو تمام قانون نافذکرنےوالوں اداروں نے سمجھ اور سرآنکھوں پر رکھ لیاہے یہی وجہ ہے ہرجگہ غریب کو تختہ مشق بنایاجاتاہے، نتیجہ یہ نکلا ہےکہ عوام نے اب چوروں ڈاکوؤں یا مجرموں کوخودہی سزادینا شروع کردی ہے
گزشتہ کچھ عرصے سے چوروں کو جلاکرمارنےکےواقعات سامنے ہیں ، سلمان تاثیرنے بڑبولے پن کی وجہ سے انتہائی غلط باتیں کیں اس کوسب تسلیم کرتےہیں اور عطاجی اس بات کو میڈیا نےبھرپورطریقے سے لکھاہےکہ تاثیرصاحب کو اس حد تک نہیں جاناچاہئے تھا پی پی کےاندرونی حلقےبھی یہی کہتےتھےبلکہ اس کی موت کےبعد تو سب کا کہناتھایہی ہوناتھا۔۔۔ناموس رسالت کےمعاملےمیں برصغیرکےمسلمانوں کا عشق دنیا کے کسی بھی مسلم خطے سے نمایاں ہے۔۔۔۔اورپھراوپرسے قانون کی بےوقعتی ۔۔۔۔ممتازقادری نے اپنی سوچ سمجھ اور زہینی کیفیت کےمطابق فیصلہ کیا۔۔۔۔۔اس کے پیچھے ایک دو نہیں سوبرس کا قصہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میراصرف یہی کہناہےکہ سلمان تاثیرصاحب اپنی جڑسے تو دورہوہی چکے تھے شاہ کو خوش کرنےکےچکروں میں اتنے آگے چلے گئے ۔۔۔کہ کروڑوں راسخ العقیدہ مسلمانوں کےجذبات کو نہ سمجھ سکے۔۔۔ساتھ لےکرچلتے توشاید اس کومسئلہ سمجھ کرکئی علما اور مذہبی طبقے تاثیرصاحب کا ساتھ دیتے۔۔
ظفر جعفری صاحب. سلمان تاثیر اسکی بارگاہ میں جا چکے جہاں جلد یا بدیر ہم سب نے جانا ہے اور جہاں اعمال اور میزان ہی معیار ہو گا
مجھے یہاں کسی بحث کو جنم نہیں دینا لیکن اتنا بتانا ہے کہ مقتول کے بارے میں آپ کے ذاتی خیالات بھی یا تو مفروضے پر مبنی ہیں یا سنی سنائی باتوں پر. جیسا آپ نے انکا عکس بنایا ہے ایسا نہیں ہے اور بہت محتاط انداز میں بھی کہوں تو نوے فیصد ایسا نہیں ہے. میرا نشریات اور صحافت کا ایک طویل تجربہ ہے اور میں انکے کاروبار اور انکی ذات کو بہت قریب سے جانتا ہوں. لیکن مناسب یہ سمجھتا ہوں کہ اب ستار العیوب کے واسطے کچھ نہ کہوں کہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں اور اپنے حق میں جواب نہیں دے سکتے.
گوہر نایاب جیسے الفاظ ذرا میں سمجھتا ہوں کہ بڑے الفاظ ہیں. کفایت شعاری الفاظ کے استعمال میں بھی لازم ہے.
ِسلام صاحبان….
میں سلمان تاثیر مرحوم کے لیئےصرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ انہوں نے کبھی توہین ِ رسالت نہیں کی….
اور کچھ کہنے اورلکھنے سے پہلےقرآن کی اس آیت پر غور کیا جائے،
” اے ایمان والو جب کوئی خبر تمہارے پاس آئے تو پہلے اچھی طرح اس کی تصدیق کرلیا کرو “…..
فیصلہ ابھی ہوا نہیں ہونا باقی ہے…محشر کا دن بہی دور نہیں کہ جب صرف انصاف ہوگا….
ا ِس امت کی جہالت پر ماتم کرنے کادل کرتا ھے… اُس امت سے کوئی بعید نہیں کہ جس نے
یزید لعنہ کے پالے ہوئے علمائے شام کے فتووں کو بنیاد بنا کر……
رسول (ص ع وو) کے نواسے کا گلا نعرہ تکبیر لگا کر عین ِ اسلام سمجھ کر کاٹا ہو…..
ہائے رے امت وائے رے امت…
والسلام
ہمدانی صاحب
میرے بغیر کسی بحت میں پڑے آپ سے ادب کے ساتھ ایک سوال ہے۔
کیا یہ بلاگ اس قابل ہے کہ اسکا انگریزی میں ترجمہ کسی مہذب بین الاقوانی بالخصوص آسٹریلیا یا انگلستان کے آن لائن فورم پرچسپاں
کردیا جائے۔
دنیا بالخصوص امریکہ میں اس و فت Judo-Muslim،Christian Muslim Unity Groups, بن رہے ہیں، New York Judo Muslim Women Council بن رہی ہے۔ امریکہ جہاں نوّے فیصد گورے آباد ہیں وہاں ایک سیاہ فام صدر منتخب ہورہا ہے۔ اور ہماری عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ مسلمان ہی نوے فیصد مسلمانوں کو کافر اور مشرک قرار دے رہے ہیں کیونکہ وہ مزاروں پر جاتے ہیں، یہ کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں۔ مجھے تو ہر طرف مفتی ہی مفتی نظر آرہے ہیں اور ماشاء انکے دم بھرنے والے ان سے زیادہ موجود ہیں۔
دعا یہ مانگی جو دیکھی سیاستِ دوراں
خدا کرے کہ رہے دور اہرمن مجھ سے
ظفر بھائی ہم اس دنیا میں امریکہ کو خوش کرنے نہیں آئے ہیں اور نہ ان کی سرکار کو سرکار آخر ماننے کے لئے پیدا ہوئے ہیں .. اور نہ ہی یہ سوچنے کے لئے کہ امریکہ مسلمان اور اس کے رویوں کو کیا کہے گا .. اور یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ ہمارے ہاں مذہبی عدم برداشت ہے .. ہمارے ہاں مذہبی برداشت ہے جھبی ہم سب اس پلیٹ فارم ایک ساتھ نظر آ رہے ہیں .. اور یہ وہی خوبی ہے جو مغرب کی آنکھ میں بال کی طرح چھبتی ہے ..اور وہ ہمیشہ ہی ایسی کوئی چال چلتا ہے جس سے ہمارے قدرتی اتحاد کو نقصان پہنچے ..
ظفر بھائ ہمارے ہاں عمومی رویوں میں عدم برداشت کا رجحان زیادہ بڑھ رہا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے شرمندہ کرنے لئے پوچھا کہ کیا اس بلاگ کو انگریزی میں ترجمہ کر کے انگلستان اور آسٹریلیا کے آن لائن فارم پر چسپاں کیا جا سکتا ہے … تو ظفر بھائی کیوں نہیں بلکہ میں اسے فخریہ طور پر چسپاں کر سکتی ہوں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ ہم کتنے غیور اور نڈر ہیں .. ارے اپنے خیال اور مذہبی عقائد کے پرچار میں ڈر کیسا .. کیسی شرم .. کیسی حیا .. کس سے خوف ..
ہم ان سے خوف کیوں کریں جو اعلانیہ اپنی بے حیائی کے قصے آن لائن سناتے ہیں اور یو ٹیوب پر دکھاتے ہیں .. میں اس قوم کو کیسے برداشت کا نمونہ مان لوں جہاں آج بھی گوروں کو کالے کھٹکتے ہیں اور موقع ملتے ہی ایک دوسرے کی جانیں لے لیتے ہیں .. جن میں باپ کوبیٹی سے حیا نہیں اور ماں کو بیٹے سے نہیں .. جن کے مذہب صرف اتوار کو شروع ہوتا ہے اور دوپہر کو ختم ہو جاتا ہے ..میں ان منافقوں کوخوش کروں جو اسرائیل کے ایک گیلات کے بدلے پورے فلسطین کو خون میں نہلانا چاہتے ہیں .. ان سے حیا کروں جن کی دورخی پالیسی ایک طرف آسیہ بی بی کو “انسانیت ” کے نام پر شاتمہ نہیں کہنے دیتی اور دوسری طرف سلمان تاثیر جیسے بدمعاشوں کو ڈھونڈ کر اس شاتمہ کی پشت پناہی بھی ” انسانیت ” کے نام پر کرواتی ہے اور ناموس رسالت کے قانون کو کالا کہلواتی ہے ..
اگر سلمان تاثیر بقول آپ کے انتہائی پاکباز انسان تھا تو اسے ایسا کرتے ہوئے خود سے نفرت کیوں محسوس نہیں ہوئی .. کیا آسیہ بی بی کی رہائی آئین کی پاسداری سے بڑھ کر تھی .. اگر وہ اتنا ہی نیک تھا تو اسے اپنے مسلمان بہن بھایئوں کا دل کیوں دکھایا اور حد یہ کہ بدزبانی اور بدتمیزی پر اتر آیا ..اس نے کیوں آئین اپنے ہاتھ میں لیا .. یہ کونسا اسلام ہے جس میں رسول اقدس کی ناموس اور شان سے بڑھ کر یک طرفہ انسانیت کا پرچار ہے ..
مجھے ہر گز نہیں چاہئے یہ بیچارہ اسلام اور ایسی اسلامی ریاست جس کے قانون امریکہ کی ایما پر بنائے جائیں یاانہیں خوش کرنے کے لئے توڑے جائیں .. خدا جانے آپ امریکہ کی کس عدم برداشت کا زکر کرتے ہیں .. اس امریکہ کی جو اٹیمی ہتھیاروں کی خرید و فروخت کے لئے عراق سے افغانستان تک خون کی ندیاں بہا دیتا ہے .. ایران اور پاکستان میں اپنے مفاد کی خاطر ڈیرے ڈالنا چاہتا ہے ..اس کا اپنا ایک فوجی مرتا ہے تو دہائی ڈال دیتا ہے اور پاک فوج کے ہزاروں جوان شہید ہو جاتے ہیں تو رونے بھی نہیں دیتا …آپ اس سیاہ فارم صدر کی بات کر رہے ہیں نا جس کی پشت پر اسرائیل رہتا ہے اور ہاتھ میں انڈیا کا چابک .. آپ سمجھے کہ یہ امریکی کشادگی اور برداشت کا رویہ تھا کہ انہوں نے سیاہ فارم صدر کو چنا .. نہیں ظفر بھائی در پردہ اسے چن کر یا چنوا کر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچایا گیا ہے .. ورنہ فارن پالیسی سے لے کر اندرونی خلفشار تک کیا بدلا ہے امریکہ میں ..یا کیا بدلنے دیا ہے اس نے امریکہ میں ..
میں امریکہ ، انگلستان یا آسٹریلیا کو خوش کرنے کے لئے اور ان سے شاباشی لینے کے لئے کسی برے کام کو اچھا نہیں کہہ سکونگی .. میرا مذہب ہی میری پہچان ہے اور میری شان ہے .. میں اسے کسی قیمت پر قربان نہیں کر سکتی چاہے میری یہ شدت پسندی آپ کی نظر میں کتنا بڑا جرم ہی کیوں نہ ہو .. مجھے عزیز تر ہے ..
جی ہاں آپ نے صحیح کہا تھا کہ یہاں ہر طرف مفتی ہی مفتی نظر آرہے ہیں .. درست سو فیصد درست کہ آپ کا ملعون سلمان تاثیر کے بارے میں مفتیانہ خیالات پڑھ کر مجھے بھی یہی لگا تھا …لیکن کہا نہیں …
کیانی بھائی اس نہ سمٹنے والی بحث کو ختم کرتے ہیں .. اور اپنی اپنی راہ لگتے ہیں اور پھر کسی اور عنوان پر مزید بات کرتے ہیں ..
میری بات جس کسی کو ناگوار گزرے ان سے التجا ہے کہ وہ اپنے احسن اخلاق اور برداشت کے صدقے مجھے معاف فرما دیں .. جزاک اللہ
نگہت آپی سلام مسنون۔
مجھے معلوم ہے کہ میری بات سے بہت سے نازک و حساس دل بدک جائیں گے، لیکن کہنے کو مجبور ہوں کہ اس بھری بزم میں کسی کو بھی بد اخلاقی سے بات کر کے دیکھ لیں، اگر فتوؤں کا جمعہ بازار نہ لگ جائے تو پھر کہیئے گا۔ ۔۔۔اس وقت میں پوچھوں گا کہ تحمل اور عدم برداشت میں کیا فرق ہے۔ یہ صرف رسول اللہ کی ذات ہی اس قدر مظلوم ہے کہ جو کچھ بھی کہ دے، ہم اپنے اپنے رزق رساوں کی خوشنودی میں الٹے سیدھے دلائل لے کر آن دھمکتے ہیں۔
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی توہین ہے، رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے۔
مصیبت یہی کہ علم و ادب کا جام ِ قلم و قرطاس آج ہر کس و ناکس کی دسترس میں ہے اور جو جی میں آتا ہے فرما دیا جاتا ہے۔ کبھی کوئی کربلائے معلیٰ کے سانحے کی غلط تلمیحات پیش کرہا ہے اور کوئی اور نیا ہی راگ آلاپ رہا ہے۔ میڈیا کا زور اتنا ہے کہ ایک مسلمان باپ اپنے گھر میں بگ باس جیسے پروگرام بچوں سمیت مل کر دیکھنا تو روشن خیالی جانتا ہے لیکن یہی بزرگ رسول اللہ کی اہانت کو اہانت جانتے ہی نہیں۔
جن یہودیوں کو قرآن نے کہا کہ تم کیوں انبیاء کا قتل کرتے تھے، وہ حیران تھے کہ ہم نے کب کوئی نبی قتل کیا، لیکن قرآن انکے متقدمین قاتلین کی حمایت کے سبب ان کو انہی کے گروہ میں گن رہا تھا۔ اسی آئینے میں ہم سب بھی اپنی اپنی تصویر دیکھ لیں۔
میں نے جان بوجھ کر اس موضوع پر اب تک زیادہ بحث اسی لئے نہیں کی کہ اپنی اپنی کھال بچانے کو ہم لوگ نجانے کیا کیا ترانے سنانے لگ جائیں گے، اور بلا وجہ بحث کھنچتی چلی جائے گی۔ اس لئے اذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاما کے مصداق چپ ہی بھی ہے۔
میں اس بلاگ کو جناب جاوید اقبال کیانی کو اس کی شروعات کے سبب خراج تحسین کے ساتھ مزید بحث کے لئے بند کر رہا ہوں۔ آئیندہ کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوگا۔
والسلام علی من اتبع الھدیٰ