اُس رزق سے موت اچھی۔۔۔۔۔

عالمی اخبار کے ہی کسی بلاگ میں میں نے یہ عہد کیا تھا کہ جس دن امریکہ ہماری امداد روک دے گا میں سو نوافل شکرانے کے ادا کروں گا اور اب کشکول کی مخالف پوری غیرت مند پاکستانی قوم کو امریکی امداد معطل ہونے کی خوشخبری سنائے جانے کے بعد میں روزانہ دو نفل صلاۃ شکرانہ تب تک ادا کرتا رہوں گا جب تک یہ معطل شدہ بھیک ہمیشہ کے لئے بند نہیں ہو جاتی ۔ آئیے میرے ساتھ آپ بھی شکرانے کے نوافل ادا کریں اور یہ بھیک ہمیشہ کے لئے بند ہونے کی دعا فرمائیں ۔ Continue reading اُس رزق سے موت اچھی۔۔۔۔۔

دُم لوٹا دو ورنہ۔۔۔۔

کسی شخصیت کی تصویر کشی میں اس کی ’ ناک ‘ کا بڑا نام اور مقام ہوتا ہے جو کہ ناک سے وابسطہ مختلف محاوروں کی مدد سے بیان کیا جاتا ہے جیسے ناک کی خاطر ، ناک کا بال ہونا ، ناک پہ مکھی نہ بیٹھنے دینا ، ناک کے نیچے وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن کیا ’ ناک ‘ کی طرح ’ دُم ‘ بھی کسی کی تصویر کشی میں اتنی ہی اہم ہے ؟ Continue reading دُم لوٹا دو ورنہ۔۔۔۔

’ وہ کنول جو مرجھا گیا ‘۔۔۔۔ کس کی گردن پہ ہوگا اس بے گناہ کا خون ؟

امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مقتول فہیم کی بیوہ شمائلہ کنول نے اپنے شوہر کے قاتل کی رہائی کے خدشے پر زہریلی گولیاں کھا کر خود کشی کرلی ۔ Continue reading ’ وہ کنول جو مرجھا گیا ‘۔۔۔۔ کس کی گردن پہ ہوگا اس بے گناہ کا خون ؟

قانونِ توہینِ رسالت کا غلط استعمال ؟

میرا یہ بلاگ ریاستی قانون پہ بحث کی بجائے ایک مخصوص قانون ” قانونِ ناموسِ رسالت “ پہ ہے جو فی الوقت پوری دنیا کا موضوعِ بحث بنا ہوا ہے ۔ Continue reading قانونِ توہینِ رسالت کا غلط استعمال ؟

اکیسویں صدی کا ’ غازی علم الدین ‘

پیغمبرِ اسلام ، نبیء آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں جب بھی کسی نے گستاخانہ حرکت کی ، پورا عالمِ اسلام سراپا احتجاج بن کر باہر نکل آیا ۔ مغرب کی دیکھا دیکھی سامراج کے گماشتوں نے مشرق ، بالخصوص اسلامی ممالک کے اندر بھی ایسی حرکات شروع کردیں ۔ Continue reading اکیسویں صدی کا ’ غازی علم الدین ‘

” آتے ہوئے آذاں ہوئی جاتے ہوئے نماز “

کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے :
آتے ہوئے آذاں ہوئی جاتے ہوئے نماز
اتنے قلیل وقت میں آئے اور چلے گئے
مجھے یہ شعر امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے افغانسان و پاکستان جناب ہالبروک صاحب کے اس بیان ، ” سابق صدر جنرل ریٹائر پرویز مشرف کے دوبارہ اقتدار میں آنےکے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں “ کے بعد بار بار ستا رہا ہے ۔ Continue reading ” آتے ہوئے آذاں ہوئی جاتے ہوئے نماز “

” سرخ فیتے سے بچا مولا ۔۔۔۔۔“

ہوش و حواس کی دنیا میں قدم رکھنے سے لے کر اب تک سرخ فیتے کا نام سنتے آئے تھے مگر اُس دافع البلیات نے ہمیشہ اس بلا کے شر سے بچائے ہی رکھا ، لیکن تابکہ ! بالآخر یہ ’ سعادت ‘ بھی ہمارے ’ نامہ و نالہء دنیا ‘ میں شامل ہوکے رہی ۔ Continue reading ” سرخ فیتے سے بچا مولا ۔۔۔۔۔“

سیاسی ’ پہانڈے ‘ و سیاسی ’ ڈنگر ‘

bander
آپ مجھے غلط نہ سمجھیں ۔ میں نہ تو سیاسی پارٹیوں کو اور نہ ہی سیاستدانوں کو پہانڈے (برتن) یا ڈنگر (جانور) کہہ رہا ہوں بلکہ میں ان ’ پہانڈوں ‘ اور ’ ڈنگروں ‘ کا ذکر کر رہا ہوں کہ جو دن بدن سیاست میں نام اور مقام بنا رہے ہیں ۔ Continue reading سیاسی ’ پہانڈے ‘ و سیاسی ’ ڈنگر ‘

” اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں “

آخر ہم کب تک سو سو جوتے اور سو سو پیاز کھاتے رہیں گے ؟ Continue reading ” اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں “

’ اُٹھ غافل دِلا ‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ارشاد عرشی ملک

لیلتہ القدر کے بابرکت موقع پر ارشاد عرشی ملک کا ایمان افروز کلام۔ Continue reading ’ اُٹھ غافل دِلا ‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ارشاد عرشی ملک

’ ڈُو مور ‘

پاکستان کی تاریخ میں کسی وزیر اعظم کا مختصر ترین ، دو منٹ اکاون سیکنڈ ، خطاب جس میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرو یز کیانی کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا اعلان کیا Continue reading ’ ڈُو مور ‘

’ وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا ‘

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا Continue reading ’ وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا ‘

ایک غزل کے چند اشعار

بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر

کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
سو ہر کسی کو ہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش
Continue reading ایک غزل کے چند اشعار

غزل کے چند اشعار

چند تازہ اشعار آپ کی نذر

وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے

تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار

’ ہزاروں خواہشیں ایسی ۔ ۔ ۔ ۔ ‘

خواہشات کی اس دنیا میں میری بھی ہزاروں خواہشیں ایسی ہیں کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ سب سے اولین خواہش تو یہ ہے کہ کاش تھوڑا لکھنے پڑھنے کے قابل ہوجائوں ، کبھی کوئی اچھا سا کالم لکھ سکوں، کوئی ڈھنگ کا بلاگ لکھ سکوں یا تھوڑی بہت شاعری بھی کر سکوں۔ لیکن الٹے سیدھے تبصروں سے بڑھ کر جب کافی عرصہ سعی بسیار کے باوجود بھی کچھ لکھنے کے قابل نہ ہو سکا تو شک یقین میں بدل گیا کہ اس بنجر زمین میں اب کچھ نہیں اگنے والا۔ لیکن جیوے ماموں کھپے، جو مارے ایسے چھکے جسے فورا ماتھا ٹھنکے ! Continue reading ’ ہزاروں خواہشیں ایسی ۔ ۔ ۔ ۔ ‘

معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم

یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔

معصوم مشکیزے

پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے Continue reading معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم

کراچی کے ایک نواحی علاقے ٹھٹہ کی ایک چھوٹی سی بچی کے نام

یہ سن 2003ء میں لکھی گئی نظم ہے، مجھے ٹھٹہ میں ایک چھوٹی سی بچی ایک بس میں نظر آئی تھی۔ اس کا نام مجھے ظاہر ہے معلوم نہیں مگر میں اب تک وہ آنکھیں نہیں بھول پایا، جن کی معصومیت کو ایک خوف اور ایک بے بسی مل کر جھنجھوڑ رہے تھے۔ یہ نظم اس لڑکی کی اٖذیت میں کسی کمی کا اعلان نہیں بلکہ ایک شاعر کے طور پر میری بھی تکلیف اور بے بسی کا اعتراف ہے۔ Continue reading کراچی کے ایک نواحی علاقے ٹھٹہ کی ایک چھوٹی سی بچی کے نام

حضور کے خاکے، درست کیا ہے؟ میں پریشان ہوں، میری مدد کیجئے

پیغبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خاکے اور آزادی اظہار، ہم پریشان ہیں، میری مدد کیجئے

چند روز قبل میں دفتر میں بیٹھا خبروں کی تلاش میں سرگرداں تھا Continue reading حضور کے خاکے، درست کیا ہے؟ میں پریشان ہوں، میری مدد کیجئے

’بریکر‘ اینڈ بیگم

بریکر اینڈ بیگم : ایک ٹیکسی ڈرائیور اور اس کی بیگم کے درمیان مکالمہ ( جناب زاہد فخری کی مزاحیہ نظم ’کدی تے پیکے جاء نی بیگم ‘ سے متاثر ہو کر) Continue reading ’بریکر‘ اینڈ بیگم